Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • کرونا نے دنیا کوکچھ تو کرو ناں پرلگا دیا، کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ٹشو پیپر متعارف

    کرونا نے دنیا کوکچھ تو کرو ناں پرلگا دیا، کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ٹشو پیپر متعارف

    لاہور:کرونا نے دنیا کوکچھ تو کرو ناں پرلگا دیا، کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ٹشو پیپر متعارف ،اطلاعات کےمطابق پاکستان میں کوروناوائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ میدان میں آگئی، پنجاب یونیورسٹی کے کیمیکل انجینئرز نے الکوحل سمیت مختلف فارمولاز کے استعمال سے ٹشو پیپرز تیار کرلیے، انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ ان ٹشو پیپرز کے باقاعدہ استعمال سے کورونا وائرس سے بچا سکتا ہے۔

    جہاں مفاد پرست عناصر نے مشکل وقت میں ہینڈ سینی ٹائزر کی قیمتوں میں اضافہ کیا تو وہیں یونیورسٹی کے پروفیسرز اور طلبا نے سستے ہینڈ سینی ٹائزرز بھی متعارف کرادیئے۔یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اگرحکومت ٹشو پیپر اور سینیٹائزر کی تیاری میں استعمال ہونے والی اشیاء فراہم کرے تو وہ سستے داموں بنا کر انہیں مارکیٹ تک بھی پہنچا سکتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق کورونا وائرس بخار سے شروع ہوتا ہے جس کے بعد خشک کھانسی آتی ہے، یہ وائرس سانس کے ذریعے ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، کورونا وائرس کی علامات میں سانس لینے میں دشواری، بخار، کھانسی اور نظام تنفس سے جڑی دیگر بیماریاں شامل ہیں۔

    اس جان لیوا وائرس سے بچنے کیلئے طبی ماہرین کی جانب سے لوگوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ لوگوں سے ہاتھ ملانے ، میل جول اور خاص طور پر انجان لوگوں سے دور رہیں۔

  • کرونا وائرس،خدشہ اور ہماری ذمہ داری—از—جویرہ چوہدری

    کرونا وائرس،خدشہ اور ہماری ذمہ داری—از—جویرہ چوہدری

    تاریخِ انسانی کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ انسانوں کا مختلف ادوار میں مختلف وباؤں،اور ارضی و سماوی آفات سے واسطہ پڑتا رہا ہے…
    قدرت کے ان مظاہر کے سامنے انسان بے بس بھی نظر آیا اور ہزاروں،لاکھوں بلکہ کروڑوں افراد ان بیماریوں اور وباؤں کا شکار ہو گئے…

    آج کی جدید اور سائنس کی صدی میں بھی ان وباؤں اور آفات کے سامنے انسان اتنا ہی بے بس نظر آتا ہے جتنا پہلے تھا…
    ،حالیہ کرونا وائرس کی مثال ہی لیجیئے کہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور ہر طرف ایک ہی بازگشت سنائی دے رہی ہے اور وہ ہے کرونا وائرس سے بچاؤ کے اقدامات…
    انسان چونکہ اشرف المخلوقات ہے اور اس کا کردار بھی سب سے ممتاز ہے۔

    سابقہ اقوام کے حالات کا ہی جائزہ لیا جائے تو وہ بھی انسان تھے مگر جب انسانیت سے تہی دست ہو گئے اور اللّٰہ تعالٰی اور اس کے بھیجے گئے انبیاء و رسل علیھم السلام کی تعلیمات سے یکسر انکار کر دیا تو ان کے حالات سے آگہی ہمیں قرآن اس انداز میں دیتا ہے کہ ہم نے انہیں کس انداز میں بے بس کر دیا کہ کسی پر تو چنگھاڑ بھیجی،کسی کو غرق کر دیا،کسی پر پتھر برسائے تو کسی کو گھن جیسے کیڑے کے آگے بے بس کر دیا
    ان کے کھانے پینے،اوڑھنے،بچھونے پر مینڈک ڈال دیئے،ٹڈیوں اور لہو کے عذاب سے دوچار اور بے چین و بے قرار ہو گئے…
    کسی پر آسمانی بجلی کی کڑک گری تو کئی زلزلوں سے ہلا دیئے گئے…

    غرض تاریخِ انسانی کی یہ ہلکی سی جھلک قرآن کریم کے آئینے میں ہمیں دکھائی دیتی ہے…
    پھر مختلف وبائی امراض میں انسانوں کی تنبیہہ اور آزمائش جاری رہی جو آج تک جاری ہے…

    تو جب ایسی صورتحال میں ہم اسلامی تعلیمات پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون جیسی بیماری کو اللّٰہ کا عذاب کہا ہے اور پھر ایسے حالات میں جو نیکو کار اس سے متاثر ہو جاتے ہیں اور صبر کرتے ہیں تو ان کے لیئے شہید کا لفظ استعمال فرمایا…(صحیح بخاری ،کتاب الطب)۔

    وبائیں جب پھوٹ پڑتی ہیں تو ان کا شکار کوئی بھی ہو سکتا ہے چنانچہ حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی تعلیم دیتے ہوئے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    جہاں طاعون پھیل جائے وہاں سے نکلو نہیں اور جہاں پھیلا ہوا ہو وہاں جاؤ نہیں…(صحیح بخاری)۔

    تو ایسے حالات میں متاثرہ لوگوں کا علاج اور آئسولیشن کے اقدامات باقی افراد کی حفاظت کی خاطر کیئے جائیں تو اس پہ تنقید برائے تنقید کی ضرورت نہیں رہتی اور پھر اگر حکومت وقت اس سے بچاؤ کے اقدامات اٹھاتی ہے تو ہمیں بھی چاہیئے کہ ان قوانین پر عمل درآمد کریں…

    اگر ہماری دعوتیں،پارٹیاں اور خوشی کے مواقع پر لمبی چوڑی رسومات کچھ وقت کے لیئے معطل ہو جاتی ہیں تو قومی مفاد و سلامتی کے لیئے یہ کوئی مہنگا سودا نہیں ہے…
    اسی طرح تعلیمی اداروں کی بندش اگر پندرہ دن، ایک ماہ کے لیئے کر دی گئی ہے تو یہ بھی کوئی سنگین صورتحال نہیں ہے…!!!

    اور وہ لوگ جو کام کے بغیر بھی تنخواہ لے لیں گے ان کے لیئے تو سونے پر سہاگہ والی بات ہے…
    آرام بھی اور دام بھی…

    ہاں ایسی صورتحال میں وہ طبقہ ضرور پستا ہے جو دیہاڑی دار ہے تو بحیثیت مسلمان قوم کے اہل خیر ایسے لوگوں کے ساتھ بھر پور تعاون کرتے ہوئے ان کے نفسیاتی دباؤ میں کمی لا سکتے ہیں۔
    حفاظتی اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ایسے ہی ہے جیسے ہم شوگر،کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کنٹرول کرنے کے لیئے احتیاط کرتے ہیں۔

    اگر ہم اس چیز پر عمل نہیں کرتے تو اس کی مشکلات کو بھی خود ہی فیس کرتے ہیں…
    ڈاکٹرز کے مشوروں پر عمل ہی دوا کا اثر دکھاتا ہے۔

    آپ سب جانتے ہیں کہ دوا تب ہی اثر انداز ہوتی ہے جب ڈاکٹر کے مشورے سے لی جائے اور پھر ان چیزوں سے پرہیز اور اجتناب بھی کیا جائے جو دوا کے اثرات میں رکاوٹ بنتی ہیں…
    اسی طرح مختلف میڈیا پلیٹ فارم بھی آگہی کے نام پر قوم میں نفسیاتی دباؤ،خوف اور ہیجانی کیفیت پیدا کرنے کی بجائے اُمید افزا انداز میں رائے عامہ ہموار کرتے رہیں۔

    ان تمام ظاہری تدابیر کے ساتھ ساتھ ہمیں توکل اور یقین کو بھی مستحکم کرنے کے ساتھ باطنی اصلاح پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے…
    بدیانتی،ظلم و زیادتی،نا انصافی،دھوکہ دہی،فحاشی و بے حیائی،ملاوٹ،جھوٹ،ناپ تول میں کمی،گراں فروشی،ذخیرہ اندوزی اور دیگر اخلاقی برائیوں کا سدباب کرنے اور اپنے معاملات درست کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے…
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    "جب کسی قوم میں بے حیائی پھیل جاتی ہے اور اعلانیہ اس کا ارتکاب کیا جانے لگتا ہے تو وہ طاعون اور ایسی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتی ہے جو ان کے آباؤ اجداد میں نہ تھیں…”
    (ابن ماجہ)۔

    آج دنیا نت نئی بیماریوں کا شکار کیوں ہو رہی ہے؟
    کہ اس نے خالق کائنات کے احکامات اور حدود سے تجاوز شروع کر دیا ہے…!!!
    حلال اور حرام کے رستوں کی پہچان مٹا دی ہے

    تو ایسے اعمال کی وجہ سے یہ انسان پھر بے بس کر دینے والی بلاؤں اور وباؤں کے حصار میں جکڑ لیا جاتا ہے…
    انفرادی اور اجتماعی طور پر کثرت استغفار اور نیکی کی طرف پلٹنے کا جذبہ ایمان پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہم پر سے یہ مشکل گھڑیاں ٹل اور کٹ جائیں۔۔۔
    صبح و شام نبوی دعاؤں کا التزام کریں…!!!

    ہمارا رب ہمارے گناہوں سے درگزر فرما کر اپنی رحمت واسعہ سے ان وباؤں سے نجات دے دے کیونکہ قدرت افراد کی کوتاہیوں سے درگزر کر دیتی ہے مگر جب قومیں غلط راہوں کا انتخاب کرتی ہیں تو صفحۂ ہستی سے بھی مٹ جایا کرتی ہیں…!!!

    وباؤں کی لپیٹ میں آ جاتی ہیں…
    بلاؤں کی زد میں گھِر جاتی اور آفات کے سامنے بے بس ہو جایا کرتی ہیں…

    اللّٰہ ہمیں اپنے عذاب سے وہ جس صورت میں بھی ہو اپنی مہربان پناہوں میں لے لے، اور ہم سے راضی ہو جائے ایسی رضا جس کے بعد ناراضگی نہ ہو اور ہم سے ایسے اعمال حسنہ سرزد ہوں جن کے بعد برائیوں کے سمندر نہ اُبلنے پائیں…آمین__!!!
    کہ قدرت کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف…

    ہمیں اجتماعی اصلاح کی طرف قدم بڑھانے کی ضرورت ہے…
    کہ جس نے یہ جسم و جاں عطا کیئے ہیں اسی کی مرضی کے تابع ہو کر ہم جسمانی و روحانی طور پر برکت،عافیت اور رحمت کے مستحق بن سکتے ہیں

    یہی اس کا وعدہ ہے جس میں کچھ شک نہیں__!!!
    اَللّٰھُمَّ احفظنا مِمَّا نخاف وَ نحذر__!!!آمین یا ارحم الراحمین…!!!

    کرونا وائرس،خدشہ اور ہماری ذمہ داری_!!!
    تحریر✍🏻:(جویریہ چوہدری)۔

  • تعلیمی ادارے، پارک اور گراؤنڈز بند، بچے سارا دن گھر پر، والدین کی اک بڑی مشکل کا حل کہ بچوں کو کیسے مصروف کیا جائے

    تعلیمی ادارے، پارک اور گراؤنڈز بند، بچے سارا دن گھر پر، والدین کی اک بڑی مشکل کا حل کہ بچوں کو کیسے مصروف کیا جائے

    کرونا وائرس اس وقت اپنی شدت کے ساتھ حملہ آور ہوچکا ہے. اس وقت دنیا کے 188 ممالک میں کرونا وائرس کے تین لاکھ آٹھ ہزار چار سو تریسٹھ کیسز ہیں اور یہ تعداد لمحہ با لمحہ بڑھتی چلی جارہی ہے. اس خطرناک وائرس سے اب تک تیرہ ہزار انہتر لوگ وفات پاچکے ہیں صرف اٹلی میں ایک دن میں مرنے والوں کی تعداد آٹھ سو سے زیادہ ہے اٹلی میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوچکی ہے اب تک چار ہزار آٹھ سو پچیس لوگ کرونا وائرس کی وجہ سے موت کے منہ میں جاچکے ہیں. جبکہ چین میں مرنے والوں کی تعداد تین ہزار دو سو اکسٹھ تھی.
    وطن عزیز پاکستان میں بھی صورتحال لمحہ با لمحہ بگڑتی چلی جا رہی ہے لوگوں کی لاپرواہی کی وجہ سے یہ موذی وائرس بڑی تعداد میں پھیلتا چلا جا رہا ہے کہاں پانچ چھ دن قبل پاکستان میں پچیس تیس کیسز تھے اور اب تعداد ساڑھے سات سو سے اوپر ہوچکی ہے. سماجی تنہائی کے لیے بنائے سینٹرز کی حالت نہایت تباہ کن ہے اور وہ بجائے کرونا وائرس کو روکنے کے کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں نرسریز کا کردار ادا کررہے ہیں دوسری طرف پاکستان میں بعض علماء کا کردار بھی نہایت ہی منفی ہے علماء کا یہ طبقہ بجائے لوگوں کو احتیاط اور سماجی تنہائی پر قائل کرنے کے ان کو گھل مل کر رہنے اوف اجتماعات وغیرہ منعقد کرنے پر اکسا رہا ہے ان علماء کے نزدیک یہ وائرس فقط میڈیا کی پیدا کردہ ہائپ ہے.
    اسی طرح کرونا وائرس کے مریض بھی خاص احتیاط نہیں برت رہے کوئی اسلام آباد پمز سے چھپ چھپا کر بھاگ رہا ہے تو کوئی ائرپورٹ پر رشوت دے کر چھپ کر نکل کر بیسیوں اپنے ہی رشتہ داروں میں کرونا وائرس کو پھیلا رہا ہے. سکھر سے بڑی تعداد میں لوگ جن میں کرونا وائرس کے کنفرم مریض بھی تھے وہ نکل کر بھاگ گئے ہیں. انتظامیہ بھی ان معاملات کو سنجیدہ نہیں لے رہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے اور صورتحال خطرناک حد تک سنجیدہ ہورہی ہے. لوگوں کے ان رویوں کو لے کر پاکستان بھر میں جزوی طور پر لاک ڈاؤن ہوچکا ہے تعلیمی ادارے ، مارکیٹس، پبلک ٹرانسپورٹ، ریلوے وغیرہ بند کو بند کرنے کا اعلان ہوچکا ہے.
    تعلیمی اداروں میں چھٹیوں اور ٹیویشن سینٹرز کے بند ہونے کی وجہ سے بچے سارا دن فارغ ہیں. پہلے گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی تھیں تو بچے پارکس، گراؤنڈز ،رشتہ داروں کے ہاں اور مختلف علاقوں کی سیر و تفریح کو جاتے تھے مگر موجودہ صورتحال میں سبھی آپشنز ختم ہوچکے ہیں بچے سارا دن گھر ہیں اور مائیں اپنے بچوں سے سخت عاجز آچکی ہیں اور بچے بھی سارا دن والدین اور بالخصوص ماؤں کی ڈانٹ ڈپٹ سے چڑچڑے اور ضدی ہورہے ہیں جو کہ ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے نہایت نقصان دہ ہے یہ کوئی اتنا بڑا ایشو نہیں ہے جس کو حل نہ کیا جاسکے ہم آپ کو کچھ ٹپس دیتے ہیں جن کے مطابق آپ بچوں کی جسمانی اور ذہنی تربیت کرسکتے ہیں اور ان کی تعلیمی ضروریات کو بھی ان چھٹیوں میں باآسانی پورا کرسکتے ہیں.

    آپ کو کرنا یہ ہے کہ بچوں کا چوبیس گھنٹے کا ٹائم ٹیبل بنائیں. کس ٹائم اٹھیں گے کس ٹائم سوئیں گے کیا کھائیں گے کیا پیئیں گے مطلب ہر چیز آپ کے چارٹ میں لکھی ہونی چاہیے. یہ زندگی کا سب سے مشکل کام ہوتا ہے کہ آپ اپنی ہر چیز کو کیلکولیٹ کریں لیکن موجودہ دنوں میں اس پر عمل درآمد کرنا بہت آسان ہے اور یہ آپ کی اور آپکے بچوں کی ساری زندگی کے لیے بہت کارآمد اور منافع بخش ثابت ہوسکتا ہے. جن والدین اپنے بچوں کی بری صحبت اور بری عادات کی شکایت رہتی ہے وہ ان دنوں میں وہ سب عادات اور بری صحبتیں چھڑوا کر اپنے بچوں کی بہترین روحانی اور جسمانی تربیت کرسکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر ہمارے معاشرے میں بچوں اور والدین کے درمیان بہت بڑا ذہنی فرق ہوتا ہے اس کو ان دنوں میں دور کرکے آپ اپنے بچوں کو اپنا دوست بنا سکتے ہیں.
    آپ نے ان کا چوبیس گھنٹے کا شیڈول اور ٹائم ٹیبل بنا لیا ہے، ان کی ڈائٹ کا چارٹ بھی تشکیل دے دیا ہے تو اب آپ ایکٹیویٹز ، گیمز، لرننگ اور ایکسرسائز وغیرہ پر آجائیں.
    ایکسرسائز
    سب سے پہلے تو آپ اپنے بچوں کو ایکسرسائز کی عادت ڈالیں اس کے لیے کسی پارک جم یا کلب کو جوائن کرنا ضروری نہیں ہے ان دنوں میں ویسے بھی کہیں بھی جانے یا بچوں کو بھیجنے سے احتیاط برتیں کہ گھر رہنے میں ہی آپ کی بقاء ہے. اس کے لیے یوٹیوب پر بےشمار چینلز ہیں جو آپ کو بچوں اور بڑوں کی انڈور ایکسرسائز کروا سکتے ہیں آپ ان ویڈیوز کو دیکھ کر خود بھی اور بچوں کو بھی ایکسرسائز کروائیے. اسی طرح آپ اپنے بچوں کو حفاظت کی غرض سے سیلف ڈیفینس تیکنیکس لازمی سکھائیے.
    ایکٹیویٹیز
    آپ گھر میں چھوٹے بچے ہیں تو آپ گھر کے کسی کمرے یا کونے کو پارٹیشن کرکے بچوں کا ایکٹیویٹی روم بناسکتے ہیں اس میں بچوں کی دلچسپی کے لیے وال پیپرز، غبارے، لائٹس وغیرہ کا اہتمام کیا جاسکتا ہے اور اس ایکٹیویٹی روم میں آپ بچوں کو ڈرائنگ، ایلفابیٹک گیمز، پینٹنگ وغیرہ کی صورت بہترین ایکٹیویٹز میں مصروف کرسکتے ہیں بچوں کو رنگوں سے کھیلنا سکھائیے.
    گیمز
    آپ گھر کی چھت یا صحن میں بچوں کے ساتھ فٹ بال، کرکٹ، بیڈمنٹن کھیل سکتے ہیں. لیکن ایک بات یاد رکھیے کہ اس کے لیے محلے بھر کے بچوں کو ہرگز جمع نہ کیا جائے بلکہ ہر گھر والے اپنے اپنے بچوں کے ساتھ یہ گیمز کریں.
    تیراکی یا نہانا
    مارکیٹ سے بچوں کے لیے انڈور پولز باآسانی میسر ہوتے ہیں ویسے بھی موسم کی حدت میں اضافہ ہورہا ہے اور گرم موسم میں بچہ پانی کے ساتھ کھیلنے کو ترجیح دیتا ہے تو آپ گھر کے صحن میں یا کسی کونے میں اس پول میں پانی ڈال کر اپنے بچے کو گھنٹوں تک مصروف کرسکتے ہیں پانی میں جراثیم کش ڈیٹول کو بھی ملایا جاسکتا ہے لیکن اس بات کا خیال آپ نے رکھنا ہے کہ بچہ نہانے کے دوران پول سے پانی نہ پیئے.
    دینی تربیت
    گھر میں آپ بچوں کو خود سے قران سکھا سکتے ہیں اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے واقعات سنا کر ان کی دینی تربیت بہترین انداز سے کرسکتے ہیں. الرحیق المختوم سے روزانہ ایک دو پیجز بچوں کو پڑھ کر سنائے جاسکتے ہیں اگر آپ نہیں بھی پڑھ سکتے تو انٹرنیٹ پر آڈیو بکس میسر ہیں یہ اسٹوریز کی صورت بچوں کو اسلامی واقعات سناتے ہیں جن میں بچے خاصی دلچسپی لیتے ہیں.
    ڈاکیومینٹریز
    بچوں کی ذہنی بلوغت اور جنرل نالج میں اضافے کے لیے مختلف موضوعات پر ڈاکیومینٹریز انٹرنیٹ سے دکھا سکتے ہیں جن میں اسلامی ڈاکیومینٹریز، قیام پاکستان، نظریہ پاکستان، انسانی تاریخ وغیرہ
    کارٹونز
    شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں بچے کارٹونز نہ دیکھتے ہوں اور بچے پھر ہر طرح کے کارٹونز دیکھتے ہیں جن کی وجہ سے ان کے عقائد اور اخلاقیات متاثر ہوتے ہیں آپ اپنے بچوں کے لیے کارٹونز کی سلیکشن خود کریں بے شمار صحیح العقیدہ اور اسلامی اور اخلاقی تربیت کرنے والے کارٹونز بھی ہیں مثال کے طور پر عمر اینڈ ہنہ کی سیریز ہے عبدالباری کی سیریز ہے اسی طرح کچھ ایسی کارٹونز کی سیریز ہیں جو بچوں کو قران سکھاتے ہیں تو آپ بچوں کو خود سے کارٹونز سلیکٹ کرکے دیں.
    لرننگ اور تعلیمی ضروریات
    اسکولز اور ٹیویشن سینٹرز بند ہوجانے کی وجہ سے بچوں کا تعلیمی سلسلہ مکمل رک گیا ہے لیکن اس معاملے میں بھی پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے بے شمار تعلیمی ویب سائٹس ہیں جن پر بچوں کا سارا تعلیمی نصاب میسر ہے اور آپ اپنے بچوں کے تعلیمی سلسلے کو ان ویب سائٹس کی مدد سے جاری رکھ سکتے ہیں مثال کے طور پر
    سبق ڈاٹ پی کے
    ای لرن پنجاب
    خان اکیڈمی
    بی بی سی لرننگ
    فیوچر لرن
    وغیرہ وغیرہ
    ہم امید کرتے ہیں ان ٹپس پر عمل کرکے آپ بچوں کو بہترین انداز میں مصروف بھی کرسکتے ہیں اور ان کی بہتر تعلیمی، روحانی اور جسمانی تربیت بھی کرسکتے ہیں.

    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پرھیے

  • پاکستان کرونا الرٹ : پنجاب میں کورونا وائرس کے مزید 70 کیسز، ملک میں مجموعی تعداد 757 ہوگئی

    پاکستان کرونا الرٹ : پنجاب میں کورونا وائرس کے مزید 70 کیسز، ملک میں مجموعی تعداد 757 ہوگئی

    اسلام آباد :پنجاب میں کورونا وائرس کے مزید 70 کیسز، ملک میں مجموعی تعداد 757 ہوگئی،اطلاعات کے مطابق پنجاب میں کرونا وائرس کے 70 نئے مریضوں کا انکشاف ہوا ہے،پنجاب کے پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ اور کورونا مانیٹرنگ روم کے ترجمان کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس کے 222 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔

    اعداد وشمار کے مطابق 153 زائرین، 36 لاہور، ایک ملتان، 2 راولپنڈی، 3 گجرات، 3 جہلم اور گوجرانوالہ میں 4 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 20 مریضوں کو ٹیسٹ کے رزلٹ موصول ہوتے ہی ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے اور متاثرہ افراد آئسولیشن وارڈز میں داخل ہیں۔

    ذرائع کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس سے مزید ایک فرد دم توڑ گیا جس کے بعد صوبے میں اموات کی تعداد 3 اور ملک میں مجموعی اموات 4 تک پہنچ گئی ہیں جبکہ متاثرین کی مجموعی تعداد بڑھ کر757 ہوگئی ہے۔

    دوسری جانب محمکہ صحت سندھ کے مطابق نئے 41 کیسز میں سے کراچی میں 18 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے 4 بیرون ملک سفر کرکے آئے تھے، 2 متاثرین برطانیہ اور 2 ترکی سے واپس آئے تھے۔

    تازہ اعداد وشمار کے مطابق کراچی سے رپورٹ ہونے والے دیگر 14 کیسز مقامی افراد ہیں جن کا بیرون ملک کا سفری ریکارڈ نہیں ہے۔رپورٹ ہونے والے دیگر 23 کیسز سکھر سے ہیں جو ایران سے آنے والے زائرین ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز ملک میں تصدیق ہونے والے کورونا وائرس کے کیسز میں صوبہ سندھ سے 39، پنجاب سے 56، بلوچستان سے 12، خیبرپختونخوا سے 8 جبکہ گلگت بلستان سے 34 نئے کیسز شامل ہوئے تھے جس کے بعد ملک میں متاثرین کی تعداد 646 ہوگئی تھی۔

    اگر صوبوں کے بات کی جائے تو کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد صوبہ سندھ میں 333، پنجاب میں 152، بلوچستان میں 104، خیبرپختونخوا میں 31، اسلام آباد میں 11، گلگت بلتستان میں 55 اور آزاد کشمیر میں بھی ایک شخص متاثر ہوا ہے جبکہ 4 اموات بھی ہوچکی ہیں۔

    اس کے علاوہ ملک بھر میں 5 افراد کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد صحتیاب بھی ہوچکے ہیں۔ادھر ملک میں کرونا سے مرنے والوں کے بارے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر نے اتوار کے روز تصدیق کی کہ صوبے میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد 3 ہوگئی ہے جس کے بعد ملک میں اموات کی مجموعی تعداد 4 تک پہنچ گئی۔

  • کرونا وائرس سے بچنے اوراپنے گھروالوں کوبچانے کا واحد حل احتیاطی تدابیراورمیل جول سے مکمل پرہیزہے، نادیہ جمیل

    کرونا وائرس سے بچنے اوراپنے گھروالوں کوبچانے کا واحد حل احتیاطی تدابیراورمیل جول سے مکمل پرہیزہے، نادیہ جمیل

    لاہور:اے میرے اہل وطن کرونا وائرس سے بچنے اوراپنے گھروالوں کوبچانے کا واحد حل احتیاطی تدابیراورمیل جول سے مکمل پرہیزہے، باغی ٹی وی کےمطابق پاکستان شوبز کی معروف شخصیات نے معروف نشریاتی چینل باغی ٹی وی کےذریعے لوگوں کی خیرخواہی کا ایک زبردست سلسلہ شروع کردیا ہے،

     

    باغی ٹی وی کے مطابق معروف اداکارہ نادیہ جمیل نے اپنے اہل وطن شہریوں کے نام پیغام میں کہا ہےکہ کرونا وائرس بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے، اوریہ بہت خطرناک ہے، اس سے بچنے کا واحد حل معاشرتی میل جول سے پرہیز ہے ، تمام سننے والے اپنے آپ کوزیادہ باہرجانے سے روکیں ،

    نادیہ جمیل نے کہا ہےکہ کرونا وائرس لوگوں کے آپس میں ملنے سے پھیل رہی ہے، اس لیے ہمیں اپنے آپ کو اپنے گھروں تک محدود کرلیں ،جب کبھی بھی باہرجانا پڑے توواپس آکراپنے ہاتھ وغیرہ دھولینے چاہیں ، یہ بیماری دنیا میں آگ کی طرح پھیل رہی ہے، اس کا واح حل اپنے آپ کومحدود کرنا ہے، برائے مہربانی اپنااوراپنے گردرہنے والوں کا ضرور خیال رکھیئے

  • کرونا سے کیسے لڑنا ہے 1122 نے بتا دیا ، مختصرپیغام ،جامع بیان،دیں گے دیہان تو نہیں ہوں گے پریشان

    کرونا سے کیسے لڑنا ہے 1122 نے بتا دیا ، مختصرپیغام ،جامع بیان،دیں گے دیہان تو نہیں ہوں گے پریشان

    لاہور:کرونا سے کیسے لڑنا ہے 1122 نے بتا دیا ، مختصرپیغام ،جامع بیان،دیں گے دیہان تو نہیں ہوں گے پریشان ،باغی ٹی وی کے مطابق ملک بھر میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظرپنجاب گورنمنٹ نے کرونا سے نبٹنے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی اپنائی ہے،

     

    باغی ٹی وی کے مطابق اس سلسلے میں 1122 اور مقامی حکومتوں نے مقامی سطح پرعلاقوں میں کلورین ملے ہوئے پانی سے چھڑکاو کرکے کرونا سے نجات حاصل کرنے کے کوششیں جاری رکھیں ،1122 کے اہکاروں نے جس طرح محنت اورخلوص سے کرونا سے لڑنے کا مشن جاری رکھا ہوا ہے یہ قابل تعریف ہے

    باغی ٹی وی کےمطابق ریسکیو1122 کی ٹیموں نے راجن پور،سرگودہا،جہلم ، نارووال ،سیالکوٹ،خانیوال سمیت پنجاب کےدیگرعلاقوں میں پبلک مقامات پرکلورین ملے پانی کا چھڑکاوکرکے اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے

  • کرونا سے بچاو اورحفاظتی اقدامات کی مانیٹرنگ : محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے میں کرائسس مینجمنٹ سیل فعال کردیا۔

    کرونا سے بچاو اورحفاظتی اقدامات کی مانیٹرنگ : محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے میں کرائسس مینجمنٹ سیل فعال کردیا۔

    لاہور:محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے میں کرائسس مینجمنٹ سیل فعال کردیا۔ باغی ٹی وی کےمطابق محکمہ داخلہ پنجاب نے کرونا وائرس سے بچاو کے لیے کئے گئے اقدامات کی مانیٹرنگ کےلیے ایک باقاعدہ ونگ قائم کردیا ہے ،


    باغی ٹی وی کےمطابق محکمہ داخلہ پنجاب کی طرف سے قائم یہ سیل کرونا وائرس کے پھیلاو اور اقدامات کی مانیٹرنگ کرے گا، اس حوالے سے باقاعدہ ایک میکنزم قائم کرکے سیل کو فی الفور کام کرنے کا حکم جاری کردیا ہے تاکہ کرونا کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہا جاسکے

    سیل ایران کے زائرین کا ڈیٹا،مشتبہ مریضوں اور قرنطینہ سینٹرز میں سہولیات کا روزانہ کی بنیاد پر ڈیٹا اکٹھا کرے گا۔ کرائسس مینجمنٹ سیل دفعہ 144کے موثر نفاذ کا بھی جائزہ لے گا۔

  • کرونا کا خوف ، لاہور ریلوے سٹیشن سنسان ، ریلوے حکام کی طرف سے ہدایات جاری کردی گئیں

    کرونا کا خوف ، لاہور ریلوے سٹیشن سنسان ، ریلوے حکام کی طرف سے ہدایات جاری کردی گئیں

    لاہور:کرونا کا خوف ، لاہور ریلوے سٹیشن سنسان ، ریلوے حکام کی طرف سے ہدایات جاری کردی گئیں،اطلاعات کےمطابق کروناوائرس، ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ ریلوے لاہور کی جانب سے مسافروں کو ریلوے اسٹیشن کی حدود میں داخل ہونے سے پہلے منہ پر ماسک پہننے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ڈی ایس ریلوے لاہور کا کہنا تھا کہ مسافروں کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ ریلوے اسٹیشن کی حدود میں داخل ہونے سے پہلے منہ پر ماسک ضرور پہن لیں، انٹری پوائنٹ پر چیک کیا جائے گا، اسٹیشن پر ہیلتھ ڈیسک بنائے گئے ہیں جس پر مسافروں کےلئے سینیٹائزر لیکورڈ موجود ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مسافر وں کی حفاظت ہمیں عزیز ہے، ریلوے اسٹیشن اور گاڑیوں میں مسلسل سپرے کیا جا رہا ہے اور مسلسل صفائی کی جا رہی ہے، اسٹیشن پر ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف 24 گھنٹے موجود ہے، جوہر آنے اور جانیوالے مسافر کی اسکریننگ کررہا ہے ۔

    ریلوے اسٹیشن پر ویٹنگ رومز میں سینیٹائزر لیکورڈ اورہاتھ دھونے کےلئے صابن موجود ہے، ڈی ایس ریلوے عامر نثار چودھری کا کہنا تھا کہ مسافروں سے التماس ہے کہ غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔

  • وبائی امرض میں احتیاط سنت نبوی کیساتھ!!!  تحریر :غنی محمود قصوری

    وبائی امرض میں احتیاط سنت نبوی کیساتھ!!! تحریر :غنی محمود قصوری

    آجکل ایک وبائی مرض کرونا وائرس کا بہت زور اور شور ہے یہ مرض چین کے شہر ووہان سے شروع ہوئی اور پھیلتے پھیلتے ابتک دنیا کے 188 ممالک تک جا پہنچی ہے جس میں ابتک 308463 افراد متاثر ہوئے ہیں اور ابتک 13069 افراد اس بیماری کی بدولت مر چکے ہیں اور بہت سے متاثرہ مریض صحت یاب بھی ہو چکے ہیں
    پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 645 ہے جن میں سے 3 افراد جانبحق اور 13 صحت یاب ہو چکے ہیں
    سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں چین ,ایران اور اٹلی ہیں اور سںب سے زیادہ اموات بھی اٹلی میں ہوئی ہیں جس کی وجہ اٹلی کی عوام کا اپنی گورنمنٹ کی طرف سے جاری کردہ ہدایات پر عمل نا کرنا اور اس وباء کا بہت تیزی کیساتھ پھیلنا ہے جس کی بدولت اٹلی میں اب تک 4825 اموات اس وبائی مرض کی بدولت ہو چکی ہیں
    اس وقت پوری دنیا میں اس وبائی مرض کرونا کی بدولت خوف و ہراس کا سما ہے
    دنیا بھر کی طرح پاکستان گورنمنٹ نے بھی احتیاطا دفعہ 144 کا نفاذ کر رکھا ہے مزارات و پبلک مقامات کو لوگوں کیلئے بند کر رکھا ہے اور لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ بغیر انتہائی ضرورت کے گھر سے نا نکلیں زیادہ ہجوم والی جگہوں پر جانے سے پرہیز کریں ہاتھ صابن سے بار بار دھوئیں ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال کریں ہاتھ ملانے سے گریز کریں اور مسجد میں زیادہ تعداد میں اکھٹے نا ہو وغیرہ
    یہ سب احتیاطی تدابیر کروانے کا مقصد اس بیماری کو پھیلنے سے روکنا ہے جو کہ ہمارے اپنے حق میں ہی بہتر ہے مگر کچھ کم عقل لوگ نا تو خود احتیاط کر رہے بلکہ دوسروں کو بھی احتیاط نا کرنے کا کہہ رہے ہیں اور بطور مثال یہ بات کہہ رہے ہیں کہ موت کا وقت مقرر ہے جو کہ آ کر ہی رہنی ہے مگر ایسے لوگ یہ نہیں سوچتے کہ اگر بجلی کی ننگی تاروں کو بغیر احتیاطی تدابیر کے چھوا جائے تو یقینا کرنٹ لگتا ہے اور کرنٹ لگنے سے بعض مرتبہ موت بھی واقع ہو جاتی ہے مگر اسی ننگی تاروں کو جب احتیاط کرتے ہوئے بچاؤ کے دستانے پہن کر اور احتیاطی اوزاروں سے چھوا جائے تو کرنٹ نہیں لگتا مطلوبہ کام بھی ہو جاتا ہے اور جان بھی بچ جاتی ہے
    ہم مسلمان ہیں اور ہماری زندگی اسلام کی محتاج ہے اگر ہم نے دنیا و آخرت میں کامیاب ہونا ہے تو ہمیں اسلام و اپنے نبی جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے گئے طریقوں پر عمل پیرا ہونا پڑے گا کیونکہ نبی کریم نے فرمایا کہ کامیاب وہ ہے جو میرے اور میرے صحابہ کے بتائے ہوئے رستے پر چلے گا لہذہ اب چونکہ کرونا کی شکل میں ایک وبائی مرض پوری دنیا کو اپنی لپٹ میں لے چکی ہے تو ہمیں اس کیلئے نبی کریم کے فرامین کو دیکھنا پڑے گا تاکہ ہماری دنیاوی و اخروی کامیابی ہو اس لئے اس حدیث کو دیکھتے ہیں کہ کس طرح ایک جزام کے مریض سے میرے نبی نے احتیاط کرتے ہوئے ہاتھ نہیں ملایا تھا اور بیعت بھی لے لی تھی
    وبائی (وائرس) بیماری کے شکار انسان سے پرہیز کرنا سنت ہے
    سنن ابن ماجه
    كتاب الطب
    ٤٣. بَابُ : الْجُذَامِ
    شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وفد ثقیف میں ایک جذامی شخص تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہلا بھیجا: ”تم لوٹ جاؤ ہم نے تمہاری بیعت لے لی“۔
    حالانکہ دوسرے صحابہ کرام جن کو جزام کا مرض لاحق نا تھا ان کے ہاتھ پر نبی کریم نے بیعت لی
    حکم: تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/السلام 36 (2231)، سنن النسائی/البیعة 19 (4187)، (تحفة الأشراف: 4837)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/389، 390) (صحیح)» ‏‏‏‏
    درج بالا حدیث سے ثابت ہوا کہ وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ہم بھی صرف زبانی السلام و علیکم و رحمتہ اللہ کہیں کیونکہ یہ معلوم نہیں کہ کون شحض اس وقت اس وبائی مرض کرونا میں مبتلا ہے اور رہی بات ایک ہی جگہ یعنی اپنے گھروں میں رہنا جیسا کہ دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے اور مزارات و پبلک مقامات کو بند رکھا گیا ہے تو اس کے لئے اس حدیث کو دیکھتے ہیں
    امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ بسند صحیح روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون کے بارے میں فرمایا:
    (( جو آدمی طاعون کے حالات میں صبر کے ساتھ اور اجر و ثواب کی نیت سے اپنے گھر میں ٹھہرا رہے یہ جانتے ہوئے کہ اسے جو کچھ بھی ہو گا صرف وہی ہوگا جو اللہ نے اس کے مقدر میں لکھا ہے تو ایسے شخص کیلئے شہید کے اجر کے برابر ثواب ہے )
    حكم الحديث: إسناده صحيح على شرط البخاري.
    شیخ سلیمان الرحیلی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اللہ تعالی پر توکل کے ساتھ ساتھ حسبی اسباب کو بروئے کار لانے کے بارے میں بنیادی قاعدے کا درجہ رکھتی ہے ۔
    اس حدیث سے ثابت ہوا کہ وباء سے بچنے کے لیے گھر میں ٹھہرے رہنے کے بارے میں یہ حدیث بنیادی اصول ہے اور رہی بات بار بار ہاتھ کی تو نبی کریم کی مشہور حدیث الطہارت نصف الایمان یعنی صفائی نصف ایمان ہے پر عمل کیجئے تاکہ ہم اس وبائی مرض سے محفوظ رہ سکیں اور ہمارا ملک پاکستان اس سے بچ سکے تو حکومت پاکستان کی جاری کردہ ہدایات پر عمل کرکے اس وبائی مرض کو پھیلنے سے روکئیے

  • اسرائیل میں کرونا سے پہلی ہلاکت، مریضوں کی تعداد 833 ہوگئی

    اسرائیل میں کرونا سے پہلی ہلاکت، مریضوں کی تعداد 833 ہوگئی

    مقبوضہ بیت المقدس:اسرائیل میں کرونا سے پہلی ہلاکت، مریضوں کی تعداد 833 ہوگئی،اطلاعات کے مطابق قابض صہیونی ریاست (اسرائیل) میں کرونا وائرس کے باعث پہلے مریض کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ دوسری طرف 15 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ 18 افراد صحت یاب ہوگئے ہیں۔

    مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی ریاست میں 274 افراد کو کرونا کے علاج کے لیے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے جب کہ 233 افراد کا گھروں میں علاج جاری ہے۔ اسرائیل میں کرونا سے متاثر ہونے والےمریضوں کی تعداد 833 ہوگئی ہے۔

    اسرائیلی ریاست کی وزارت صحت کی طرف سے جاری ایک بیان میں شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ضروری کام کے علاوہ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں اور اپنی اقتصادی، سماجی اور دیگر سرگرمیوں کو محدود رکھیں۔