Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • پاکستان میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 8 فیصد سے متجاوز

    پاکستان میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 8 فیصد سے متجاوز

    پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وبا کے باعث مزید 65 افراد جاں بحق ہوئے ہیں-

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے میں کورونا کے 58 ہزار 479 کورونا ٹیسٹ کیے گئے 4 ہزار 950 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ گزشتہ 24 گھنٹے میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 8.46 فیصد رہی۔

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے میں ملک بھر میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 10 لاکھ 29 ہزار 811 جبکہ ملک بھر میں کورونا کے باعث ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 23 ہزار 360 ہو گئی۔

    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد تین لاکھ 80 ہزار 93، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 43 ہزار 673، پنجاب میں تین لاکھ 56 ہزار 211، اسلام آباد میں 87 ہزار 304، بلوچستان میں 30 ہزار 289، آزاد کشمیر میں 24 ہزار 145 اور گلگت بلتستان میں 8 ہزار 96 ہو گئی ہے۔

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 11 ہزار 41 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 5 ہزار 971، خیبرپختونخوا 4 ہزار 456، اسلام آباد 801، گلگت بلتستان 141، بلوچستان میں 328 اور آزاد کشمیر میں 622 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں

    ملک میں کورونا کی بھارتی قسم کے بعد کیلیفورنیا وائرس کے کیسز بھی رپورٹ

  • ملک میں کورونا کی بھارتی قسم کے بعد کیلیفورنیا وائرس کے کیسز بھی رپورٹ

    ملک میں کورونا کی بھارتی قسم کے بعد کیلیفورنیا وائرس کے کیسز بھی رپورٹ

    لاہور: بھارتی قسم کے بعد کیلی فورنیا وائرس کے کیسز بھی سامنے آگئے-

    باغی ٹی وی : سیکریٹری صحت پنجاب کا کہنا ہےکہ پنجاب کے دارالحکومت میں 70فیصد کیسز ڈیلٹا وائرس کے بھی ہیں جبکہ پنجاب میں کورونا وائرس کی نئی قسم ’ اِپسلون ‘ کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں-

    سیکرٹری صحت پنجاب سارہ اسلم کا کہنا ہے کہ پنجاب میں اب تک 23 سیمپلز میں سے 5 میں کیلیفورنیا ایپسیلون کی تشخیص ہوئی ہے۔

    سیکریٹری صحت پنجاب کا کہنا تھا کہ ’ اِ پسلون ِ قسم کا تعلق کیلیفورنیا سے ہے ، جولائی 2020 میں اپسلون کیلیفورنیا میں رپورٹ ہوا ، یہ وائرس ویکسین نہ لگوانے والوں میں زیادہ رپورٹ ہوتا ہے ۔

    اس سے قبل امریکہ ، میکسیکو اور کینیڈا میں بھی اپسلون کے کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

    خیال رہے کہ ملک میں کورونا کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جبکہ صوبہ سندھ نے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج سٹاف سمیت کرونا کا شکار

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج سٹاف سمیت کرونا کا شکار

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج سٹاف سمیت کرونا کا شکار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری ہے، کرونا کی چوتھی لہر نے ایک بار پھر تیزی پکڑ لی ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی بھی کرونا کا شکار ہو گئے ہیں، نجی ٹی وی کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی کو کرونا ہو گیا ہے جس کے بعد انہوں نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے ، نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالہ سے بتایا کہ جسٹس محسن اختر کیانی کا سٹاف بھی کرونا کا شکار ہو گیا ہے، جسٹس بابر ستار کے سٹاف میں بھی کرونا کی تشخیص ہوئی ہے،کرونا ہونے کے بعد جسٹس محسن اختر کیانی کے تمام کیسز کی کاز لسٹ منسوخ کر دی گئی ہے

    قبل ازیں سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی کرونا کا شکار ہو چکے ہیں جس پر انہوں نے قرنطینہ کر لیا تھا،

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    دہلی میں ہیلتھ ورکر کرونا کا شکار ہوئی تو بیڈ ملا نہ شمشان گھاٹ میں آخری رسومات کیلئے جگہ

    بھارت میں کرونا بحران کا مودی ذمہ دار،عالمی میڈیا بھی برس پڑا

    بھارت میں کرونا سے سڑکوں پر اموات، پاکستان نے بھی بڑا اعلان کر دیا

    بھارت میں کرونا کیسز ، بھارتی سائنسدانوں نے ہی بھارتی قوم کو ڈرانا شروع کر دیا

    کرونا کیسز، بھارت میں نیا ریکارڈ بن گیا،شمشان گھاٹ میں طویل قطاریں

    دوسری جانب این سی او سی نے کرونا کیسز کے حوالہ سے تازہ ترین اعدادوشمار جاری کیے ہیں جس کے مطابق گزشتہ چو بیس گھنٹوں میں کورونا وائرس سے 86 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 23 ہزار 295 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 10 لاکھ 24 ہزار 861 ہوگئی۔ پاکستان بھر میں کورونا وائرس کے اب تک 23 ہزار 295 مریض انتقال کر چکے ہیں جبکہ اس موذی وائرس کے کُل مریضوں کی تعداد 10 لاکھ 24 ہزار 861 ہو چکی ہے۔

  • کرونا وائرس اور پاکستان میں پڑھائی کی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے چیلینجز  تحریر: زاہد کبدانی

    کرونا وائرس اور پاکستان میں پڑھائی کی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے چیلینجز تحریر: زاہد کبدانی

    ہر جگہ تعلیمی خلل پیدا کرنا ، کرونا وائرس وبائی بیماری نے طلباء کی زندگیوں میں رکاوٹ ڈالی ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ شاید ان کی آئندہ کی تعلیمی زندگی پر دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔ نسبتا کسی کا دھیان یہ نہیں رہا ہے کہ اس نے ترقی پذیر ممالک میں کہیں زیادہ مشکلات پیدا کردی ہیں۔ اس حقیقت کی وجہ یہ ہے کہ ان ممالک میں پہلے سے ہی انٹرنیٹ تک رسائی ، ای لرننگ حل فراہم کرنے والے ، اور مقامی سطح پر تعلیم کی ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کے لئے حکومتی پالیسیاں نیز طالب علموں میں ذاتی وسائل کی کمی تھی۔کرونا وائرس بحران کو بہت سے ممالک سے بہتر طریقے سے نپٹانے میں ، پاکستان نے مکمل لاک ڈاؤن کی ضرورت سے گریز کیا اور دنیا کے لئے ایک مثال قائم کی۔ اس کی سمجھدار پالیسیاں یہاں تک کہ معیشت کو چلتی رہیں۔ ہمسایہ ممالک چین (جہاں پہلا کرونا وائرس انفیکشن پایا گیا تھا) اور بھارت (دوسرا سب سے زیادہ متاثرہ ملک) سے قربت کے باوجود ، پاکستان حیرت انگیز طور پر محفوظ ہے جب یورپ اور امریکہ کے ساتھ مقابلے میں 98 فیصد بحالی کی شرح ہے۔

    تعلیمی ٹکنالوجی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے — اسمارٹ فونز ، ٹیبلٹس ، بڑھا ہوا اور ورچوئل ریئلٹی ، اور تیز رفتار انٹرنیٹ ، 4 جی ، اور 5 جی کنیکٹوٹی۔ یہ سب آن لائن تعلیم کو زیادہ پیداواری ، انکولی اور قابل رسائی بناتا ہے۔ در حقیقت ، ای لرننگ انڈسٹری کی فی الحال قیمت 200 بلین ڈالر سے بھی زیادہ ہے اور اس کی توقع ہے کہ 2026 تک اس میں 375 بلین ڈالر کا اضافہ ہوجائے گا۔ اس کے باوجود ، پاکستان کے دنیا کے کچھ بدترین تعلیمی نتائج بھی ہیں۔ مثال کے طور پر ، اس میں دنیا کی دوسری بڑی تعداد بچوں کی ہے جو اسکول میں نہیں ہیں: 22.8 ملین بچوں کی عمر 5 سے 16 سال ہے ، جو پاکستان کے اسکول جانے والے بچوں کا 40 فیصد ہے۔ بدقسمتی سے ، اس وبائی امراض کا آغاز پاکستان کی تمام صوبوں میں یکساں نصاب کو عملی جامہ پہنانے کی جدوجہد سے ہم آہنگ ہے۔ چونکہ جنوبی ایشیا میں کورونا وائرس کے کنٹرول کے اقدامات پھیل رہے ہیں ، محکمہ تعلیم اور اعلی سطحی یونیورسٹیوں نے خود کو ناقص سمجھا یا ، زیادہ تر معاملات میں ، آن لائن سیکھنے اور فاصلاتی تعلیم کی فراہمی کے لئے بالکل تیار نہیں ہے۔ ماضی میں ، پاکستان نے دہشت گردی کے حملوں اور سیاسی خطرات کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند کردیئے تھے ، لیکن آن لائن تعلیم کے آس پاس ابھی تک کوئی سرکاری پالیسی موجود نہیں تھی۔ پاکستان میں ابھرتا ہوا موبائل فون استعمال کنندہ مارکیٹ ہے۔ اس وقت آبادی کا 75 فیصد موبائل ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے۔ لیکن 220 ملین آبادی میں – جو دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے ، وہاں صرف 76.38 ملین انٹرنیٹ استعمال کنندہ ہیں۔ یہی آبادی کا صرف 35 فیصد ہے ، جس میں صرف 17 فیصد سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔ زمینی حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ انٹرنیٹ تک رسائی ای-لرننگ سسٹم کو اپنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ آن لائن سیکھنے کی پالیسی کے خلاف مزاحمت میں ٹکنالوجی یا نئی پڑھنے کی تدریسی تعلیم کو اپنانے اور کلاس روم کے ماحول میں استعمال ہونے کی مزاحمت بھی منفی کردار ادا کرتی ہے۔

    وبائی مرض سے سیکھا گیا اسباق پڑھنے کی جگہوں کو دوبارہ ڈیزائن کرنے اور نصاب کی تشکیل نو کے موقع کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے ، جیسا کہ شکل 1 میں دکھایا گیا ہے۔ اس ملک میں تعلیم کا مستقبل۔ پاکستانی انسٹی ٹیوٹ میں ، تکنیکی طور پر تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی ہے کہ آن لائن کلاس آسانی سے چلائیں۔ ملاوٹ ، فاصلہ ، اور آن لائن تعلیم کو تقویت دینے کے لئے،MOOCs ، Corseera اور EdX کو زیادہ سے زیادہ آگاہی اور رسائ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ ورچوئل ، بڑھا ہوا ، اور مخلوط حقیقت والی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے جدید ، عمیق سیکھنے کی ٹکنالوجیوں اور جدید تعلیم کی جگہوں کو بھی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ٹیکنالوجیز ، مصنوعی ذہانت (AI) اور مشین لرننگ (ML) کے استعمال کے ساتھ ، مزید انٹرایکٹو ، شخصی اور نتیجہ خیز سیکھنے کے حل کی تعمیر میں ہماری مدد کرکے سیکھنے کے مستقبل کو تبدیل کرسکتی ہیں۔ مزید خاص طور پر ، جب ہم اسٹیم میں عملی ، عملی طور پر سیکھنے کے بارے میں بات کرتے ہیں ، جہاں سیکھنے کے مواد کی اشد ضرورت ہوتی ہے ، تو بڑھتی ہوئی حقیقت نسبتا سیکھنے کے نقطہ نظر کے ساتھ تعلیم دینے میں مجازی مواد فراہم کرسکتی ہے, تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں ای لرننگ کے لئے جدید اور جدید نظام موجود ہیں ، جس کی وجہ سے وہ اس تعلیمی سال کے دوران سیکھنے کے بہاؤ کو متحرک رکھیں۔ لیکن پاکستان میں ، آن لائن سیکھنا ایک نوزائیدہ مرحلے پر ہے۔ ایمرجنسی ریموٹ پڑھنے کے طور پر شروع کرنے کے بعد ، اس کو مزید اپنانے اور حدود کو دور کرنے کے لئے مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ دور دراز کے علاقوں میں انٹرنیٹ کے قیام کے ساتھ ساتھ ، تصنیف کے خصوصی اوزار تیار کرنا ، اور آن لائن سیکھنے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لئے آگاہی

    @Z_Kubdani

  • پاکستان فلم انڈسٹری کی معروف شخصیت ناموراداکارمصطفیٰ‌ قریشی بھی کورونا کا شکارہوگئے

    پاکستان فلم انڈسٹری کی معروف شخصیت ناموراداکارمصطفیٰ‌ قریشی بھی کورونا کا شکارہوگئے

    لاہور:پاکستان فلم انڈسٹری کا نام سب کی جان مصطفیٰ‌ قریشی بھی کورونا کا شکارہوگئے،اطلاعات کے مطابق پاکستان میں‌ کورونا کی چوتھی لہرنے جس طرح پھر سے بڑے خطرناک حملے شروع کردئیے ہیں‌، اس کے بعد ایسی خبریں آرہی ہیں کہ پاکستان کی بڑی بڑی شخصیات کورونا کا شکارہونے لگی ہیں‌

    ذرائع کے مطابق پاکستانی فلمی صنعت کے لیجنڈ اداکار مصطفے قریشی بھی کورونا کے شکار ہو گئے ہیں جبکہ ان کی اہلیہ بلبل مہران روبینہ قریشی بھی کرونا کا شکار ہیں

    ادھر خاندانی ذرائع کے مطابق دونوں میاں بیوی نے زخود کو گھر میں قرنطینہ کرلیا ہے مصطفے قریشی نے اپنے پر ستاروں اور اہل وطن سے کی ہے دعائے صحت کی درخواست بھی کی

    یاد رہے کہ 81 سالہ مصطفیٰ‌ قریشی 1957 سے فلم انڈسٹری سے وابستہ ہیں اوران کی کئی فلمیں دنیا بھرمیں مقبول ہوچکی ہیں‌، ان کی سب سے زیادہ مقبول ہونے والی فلم مولا جٹ تھی

  • امریکہ کی جانب سے پاکستان کو موڈرنا ویکسین کی تیس لاکھ اضافی خوراکوں کا عطیہ

    امریکہ کی جانب سے پاکستان کو موڈرنا ویکسین کی تیس لاکھ اضافی خوراکوں کا عطیہ

    اسلام آباد:امریکہ کی جانب سے پاکستان کو موڈرنا ویکسین کی تیس لاکھ اضافی خوراکوں کا عطیہ،اطلاعات کے مطابق امریکی  حکومت نے جان بچانے والی انسداد کووڈ۔۱۹ ویکسین کی تیس لاکھ خوراکوں پر مشتمل کھیپ پاکستانیعوام میں تقسیم کرنے کے لیے آج حُکومت پاکستان کے حوالے کردی ہے۔ ٹیکوں کی یہ کھیپ کوویکس  اور یونیسیف کے اشتراک سے پہنچائی گئی ہیں۔

     

    ذرائع کے مطابق یہ عطیہ امریکہ کی جانب سے کرونا وائرس وبا کے خاتمہ کے لیے محفوظ اور موثر ویکسین تک مساوی رسائی یقینی بنانے کے مقصد کے تحت دنیا بھر میں آٹھ کروڑ ٹیکوں کی تقسیم کے سلسلہ کی کڑی ہے۔ جیسا کہ صدر بائیڈن کہہ چکے ہیں کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ بیرونی ممالک میں انسداد کرونا وائرس ٹیکوں کی فوری ترسیل یقینی بنانے کے لیے اُتنا ہی پُرعزم ہے جتنا وہ اپنے عوام کے لیے فکرمند ہے۔

    اس موقع پرایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  امریکی سفارتخانہ کی ناظم الامور اینجیلا ایگلر نے کہا کہ آج ہم اس لیے اکھٹے ہوئے ہیں کیونکہ ہم  سب سے زیادہ ضرورتمند آبادیوں تک کووڈ۔۱۹ ویکسین کی رسائی ممکن بنانے کے مشترکہ مقصد  پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین کی یہ تیس لاکھ خوراکیں اُن پچیس لاکھ ٹیکوں کے علاوہ ہیں جو اس مہینے کے اوائل میں امریکہ نے  پاکستانی عوام کو دیئے تھے ۔

    انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکےجو   امریکہ کی اپنی داخلی فراہمی سے حاصل کیئے گئے ہیں امریکی صدر بائیڈن  اور امریکی مشن کے ان وعدوں کی پاسداری کے عکاس ہیں کہ ہم کووڈ-۱۹وبا کے خلاف جنگ میں پاکستان کے عوام کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکی حکومت نے  حکومت پاکستان کے ساتھ اشتراک کار کے تحت  پانچ کروڑ ڈالر کووڈ 19کے سَدِباب کے لیے بطور امداد دیئے ہیں۔ وباء کے آغاز سے لیکر ہی امریکہ نے بیماری کی روک تھام اور قابو پانے، مریضوں کی نگہداشت میں بہتری، لیبارٹری تشخیص میں وسعت، مرض کی نگرانی، تمام اضلاع میں متاثرین کی جانچ پڑتال اور صَفِ اوّل کے صحت کارکنوں کی مدد کی خاطر حکومت پاکستان کے ساتھ مِل جُل کر اقدامات اُٹھائے ہیں۔

    رواں ماہ کے اوائل میں امریکی حکومت نے پاکستان کو موڈرنا ویکسین کی پچیس لاکھ خوراکیں فراہم کی تھیں، لہٰذا امریکہ کی اپنی  ویکسین فراہمی میں سے مجموعی عطیہ کردہ خوراکوں کی تعداد  پچپن لاکھ ہو گئی ہے۔

    اُس کے علاہ امریکہ نے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی  (یو ایس ایڈ) کے ذریعہ کوویکس کے لیے دو ارب ڈالر کی امداد فراہم کی ہے اور وہ عالمی سطح  پر انسداد کووڈ19 ویکسین تک رسائی دینے والا  سب سے بڑا واحد ملک بن گیا ہے۔  پاکستان نے کوویکس کے تحت مئی میں اسٹرازینیکا ٹیکوں کی چوبیس لاکھ خوراکیں بھی وصول کی ہیں

  • شہروں کو ہفتوں بند کرنا مسئلے کا حل نہیں:اسد عمرنے لاک ڈاون حکمت عملی کوناپسند قراردیا

    شہروں کو ہفتوں بند کرنا مسئلے کا حل نہیں:اسد عمرنے لاک ڈاون حکمت عملی کوناپسند قراردیا

    اسلام آباد: شہروں کو ہفتوں بند کرنا مسئلے کا حل نہیں، مکمل لاک ڈاون کے بعد کورونا وبا بہت تیزی سے پھیلتی ہے، این سی او سی کے سربراہ اسد عمرنے اس حوالے سے اپنے تحفظات سے سب کو آگاہ کردیا

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے معاون خصوصی صحت ڈاکٹرفیصل سلطان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کیسزکی شرح میں اضافہ ہوا، ملک بھرمیں کورونامثبت کیسزکی شرح7.5 فیصد ہے، تشویشناک مریضوں کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔

    معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ کراچی سمیت بڑے شہروں میں دبائو بڑھ رہا ہے، بالخصوص کراچی میں کوروناکیسزمیں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، کراچی میں 50 فیصد بیڈز پر کورونا مریض موجود ہیں۔

    سربراہ این سی اوسی اسد عمر کا کہنا تھا کہ کئی لوگ اب بھی کورونا کو سنجیدہ نہیں سمجھ رہے، سندھ حکومت کورونا کے پھیلاؤ کوروکنے کیلئے اقدامات کو دیکھ رہی ہے، لیکن شہروں کو ہفتوں بند کرنا یا مکمل لاک ڈاؤن مسئلے کا حل نہیں ہے، مکمل لاک ڈاون کے بعد کورونا وبا بہت تیزی سے پھیلتی ہے۔

    اسد عمر کا کہنا تھا کہ کوروناسےبچنےکاواحدحل صرف احتیاط ہے، ایس اوپیز پر عمل درآمد سے ہی کورونا کو کنٹرول کیا جاسکتاہے، سندھ اور بلوچستان میں ایس اوپیز پرعملدرآمد سب سے کم نظر آتا ہے، کورونا روکنے کے لئے سندھ حکومت سے ہر ممکن تعاون کریں گے، اگر وہ ایس او پیز پر عملدرآمد کے لئے فورسز کی مدد چاہتے ہیں تو ہم فوج سمیت تمام فورسز دینے کے لئے تیار ہیں۔

    سربراہ این سی اوسی نے کہا کہ شہر بند کرنا اس وبا کا علاج نہیں، ویکسینیشن موجودہ حالات سے نکلنے کا واحد حل ہے، اور یہ خوش آئند بات ہے کہ لوگ ویکسینیشن کرارہے ہیں، گزشتہ روز ساڑھے آٹھ لاکھ سے زائد افراد کی ویکسینیشن ہوئی جو نیا ریکارڈ ہے، صرف پنجاب میں پانچ لاکھ سے زائد ویکسین لگائی گئی، اسی طرح دیگر صوبوں میں بھی ویکسینیشن میں خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے، دس لاکھ ویکسی نیشن روزانہ کو کراس کرنا ہمارا ہدف ہے۔

    اسد عمر نے کہا کہ یکم اگست سے ہوائی سفر کرنے والوں کے لئے کورونا ویکسین لازمی قرار دے دی گئی ہے اور اس حوالے سے پہلے بتایا جاچکا ہے، لیکن اب 31 اگست تک 18 سال سے زائد عمر کے افراد کے لئے کورونا ویکسینیشن لازمی ہوگی، وہ اساتذہ جنہوں نے کورونا ویکسین نہیں لگوائی وہ 31 جولائی تک ویکسینیشن کرالیں ورنہ اسے کے بعد وہ اسکولوں میں نہیں جا سکیں گے، کیوں کہ ہم بچوں کی صحت خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔

    سربراہ این سی او سی نے بتایا کہ 31 اگست سے ڈرائیور ہیلپر، اسٹاف بسس چلانے والے وہ افراد جنہوں نے ویکسینیشن نہیں کرائی انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، پبلک سیکٹرز اور دفاتر میں جانے والے، میرج ہال، ہوٹل میں کام کرنے والے، بسز، ٹرین، کوسٹرز چلانے والے اور ان کا عملہ، چائے خانے، بینکس نادرا آفس، مارکیٹس اور دکانوں میں کام کرنے والوں کے لئے بھی 31 اگست آخری تاریخ ہے۔

  • کورونا کا شکارہونا کے بعد مریم نوازنے عدالت سے استدعا کردی

    کورونا کا شکارہونا کے بعد مریم نوازنے عدالت سے استدعا کردی

    لاہور:کورونا کا شکارہونا کے بعد مریم نوازنے عدالت سے استدعا کردی ،اطلاعات کے مطابق ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے کورونا کے شکارہونے کےبعد عدالت سے درخواست کردی ہے

    ذرائع کے مطابق مریم نواز نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کیخلاف حاضری سے استثنیٰ کے لئے متفرق درخواست دائر کر دی،

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مریم نوازکی متفرق درخواست کے ساتھ میڈیکل رپورٹ بھی منسلک کردی ہے

    اپنی درخواست میں مریم نواز نے استدلال پیش کیا ہے کہ مریم نواز کورٹ میں پیش ہونا چاہتی تھیں مگر قرنطینہ میں ہیں،لٰہذا عدالت مریم نواز کی متفرق درخواست کو منظور کرے،

    مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے درخواست رجسٹرار آفس میں دائر کی،رجسٹرار آفس متفرق درخواست کو اپیل کے ساتھ منسلک کر دے، عدالت اپیل پر سماعت 3 ہفتوں کے لئے ملتوی کر دے،

    اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ مریم نواز کی کووڈ کی رپورٹ مثبت آئی ہے جس کے باعث وہ قرنطینہ اختیار کر چکی ہیں،مریم نواز آج کے سماعت کے دوران عدالت میں پیش نہیں ہو سکتیں، عدالت مریم نواز کی حاضری سے استثنیٰ منظور کرے،عدالت مریم نواز کی صحتیابی تک کیس کو تین ہفتے تک کیلئے ملتوی کرے،

  • فلائٹس بندش، کرونا کی چوتھی لہر اور بےروزگاری تحریر :صائم ابراہیم ملک

    فلائٹس بندش، کرونا کی چوتھی لہر اور بےروزگاری تحریر :صائم ابراہیم ملک

    جیسا کے ہم سب جانتے ہیں اس وقت پوری دنیا سمیت پاکستان بھی کرونا وائرس جیسی وبا کا شکار بن چکا ہے اور اس وبا نے جہاں ترقی یافتہ ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے وہیں ترقی پذیر ممالک کو بھی اس وبا نے بے حد متاثر کیا ہے لیکن اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے پاکستانی کے حالات باقی ترقی یافتہ ممالک سے قدرے بہتر رہے ہیں اور اس سب کا کریڈٹ حکومت وقت کو جاتا ہے کیوں کے بروقت اقدامات کیے جانے کی وجہ سے پاکستان کو دیگر ممالک جیسی صورتحال سے ہمکنار نہیں ہونا پڑا چائنہ کے شہر وہان سے شروں ہونے والا کرونا وائرس
    پاکستان میں 26 فروری 2020 کو کراچی کے طالب علم سے رپورٹ ہوا جس کے بعد اس طالبعلم کی تشخیص کی گئی تو اس میں کرونا وائرس پایا گیا اس کے بعد پنجاب اور باقی صوبوں میں کرونا کیسز سامنے آنے لگے جس کے بعد حکومت پاکستان نے کرونا وائرس کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے پورے پاکستان میں اس وبا کی روک تھام کے لیے لاک ڈاون لگا دیا اسکے بعد سال 2020 اسی کشمکش میں گزرا کبھی لاک ڈاون شروع ادارے بند سکول کالج اور یونیورسٹیاں بند تو کبھی لاک ڈاون ختم ۔ کرونا کی پہلی لہراللہ اللہ کرکے ختم ہوئی تو دوسری نے جنم لے لیا اسکے بعد پھر سے وہی سلسلہ شروع ہوگیا اورجسکے بعد حکومت وقت نے دیگر شہروں اور صوبوں میں سمارٹ لاک ڈاوں متعاوف کروایا کاروباری مراکز کے لیے ٹائم ٹیبل ترتیب دیا اور تمام وزرائے اعلی اور شہروں میں موجود تمام ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنزز کو ہدایات جاری کی کے وہ سختی اسے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درامد کرائیں

    کبھی شادی ہالز بند تو کبھی سیمنا ہالز بند کبھی ہوٹلز اور ریسٹورنٹس بند تو کبھی کاروباری مراکز اور شاپنگ مالز بند یہ سلسلہ پچھلے برس سے شروع ہوا اور موجودہ سال تک جاری ہے اب ہم کرونا کی تیسری لہر کے بعد چوتھی لہر کی نوید سن چکے ہیں لیکن اس میں حکومت کو دوش دینا قطعی غلط ہوگاکیوں کے حکومت نے ہر صورت عوام دوست بروقت اقدامات پہلے بھی کیے اور اب بھی کررہے ہیں لیکن یہاں یہ بات کرنا غلط نا ہوگی اورسیز پاکستانی جن کا ملکی ترقی میں خاطر خواہ حصہ ہے جنہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو اس وقت زرمبادلہ بھیج کو سہارا دیا جب عمران خان حکومت پست حالی اور معاشی تنزلی کا شکار تھی

    تب ایسے مشکل وقت میں جہاں ایک طرف عمران خان دوست ممالک سے قرض کی درخواست کر رہا تھا وہیں محب وطن اوورسیز پاکستانی اپنے لیڈر اور ملک کے لیے شب و روز محنت کرکے پاکستان زرمبادلہ بھیج رہے تھے ایسے مشکل وقت میں تمام اوورسیز پاکستانیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تاکہ انکے لیڈر اور ملک کو کہیں شرمندہ نا ہونا پڑے کروناوائرس جیسی وبا کے باوجود پاکستانی کی معاشی حالت باقی ممالک سے بہتر رہی ہے اور الحمد اللہ مزید بہتری کی طرف گامزن ہے بہرین اقدامات اور پالیسوں کی وجہ سے پاکستان کرونا وبا کو کنٹرول کرنے میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو بھی پیچھے چھوڑ چکا

    کرونا کی تیسری لہر کے دوران لگنے والے لاک ڈون کا سلسلہ تو البتہ تھم چکا ہے لیکن اس لاک ڈاون کے دوران ہونے والی فلائٹس بندش نے 4 لاکھ پاکستان آئے اوورسیز پاکستانیوں کو بے روزگار کر کھا ہے خاص طور پر سعودی عرب سے چھٹی گزانے واپس آئے ہوئے تمام پاکستانی حکومت پاکستان سے امیدیں وابستہ کرکے بیٹھے ہیں کے خدا جانے کب فلائٹس سروس بحال ہوگی اور کب وہ لوگ واپس اپنے کام کاج کو جائیں گے ایک روز قبل سعودی وزیر خارجہ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی صاحب سے ملاقات کرنے پاکستان تشریف لائے تھے تو دیگر پلیٹ فارم پر کوشش کی ان تک اپنا پیغام پہنچایا جا سکے تاکہ پاکستان میں پریشان حال اوورسیز پاکستانی اپنےاپنے کاموں پر جا سکیں۔

    جو لوگ چھٹیوں پر پاکستان آئے تھے انکے ویزے اور اکامے کی مدت ختم ہونے کو ہے اکثر کے ویزے ختم ہوچکے لوگ بے روزگار ہو رہے

    ‏خدارہ ایسے لوگوں کے حال پر رحم کریں تقریباً 4 لاکھ کے قریب پاکستانی اس وقت پریشان ہیں جو سعودی عرب میں محنت مزدوری اور مختلف کمپنیوں میں نوکری کرکے پاکستان زر-مبادلہ بھیجتے ہیں اور اپنے خاندان کی کفالت کرتے ہیں لیکن 6 ماہ سے بے روزگار ہوکر فلائٹس کھلنے کے انتظار میں

    ‏حکومت وقت سے امیدیں وابستہ کرکے بیٹھے ہیں اگراب سعودیہ کی فلائٹ سروس بحال ب نہیں کی جاتی توآگے ایسے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا ملک میں بے روزگاری
    مزید بڑھ جائے گی کرونا کی چوتھی لہر سر پر ہے اب فلائٹس نہیں کھلتی تو پھر کئی ماہ انتظار لوگوں کی جان پر وبال ہوگا
    اس لیے میری حکومت پاکستان سے گزارش ہے فوری طور پر پاکستان سے سعودیہ عربیہ کے لیے فلائٹس سروس جو کچھ عرصہ سے بندش کا شکار ہے شروع کی جائے تاکہ محب وطن پاکستانی واپس جا سکیں اور جیسے پہلے مشکل وقت میں حکومت پاکستان کا ساتھ دیتے رہے ویسے آگے بھی ملک اور قوم کے حق میں بہتر کرتے رہیں اپنے ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے بیوی بچوں اور خاندان کی کفالت کر سکیں

    ‎@saimladla786

  • صرف کے پی میں‌27 لاکھ 70ہزار سیاحوں کی آمد،معیشت کو27ارب سے زائد کا فائدہ

    صرف کے پی میں‌27 لاکھ 70ہزار سیاحوں کی آمد،معیشت کو27ارب سے زائد کا فائدہ

    پشاور:کپتان کے خوابوں کی تعبیرہونے لگی:عید پر27 لاکھ 70ہزار سیاحوں کی آمد، مقامی معیشت کو 27ارب سے زائد کا فائدہ ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سیاحتی علاقوں میں عید کے دوران 27 لاکھ70ہزار سیاحوں کی آمد سے مقامی معیشت کو 27ارب سے زائد کا فائدہ ہوا۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان میں عید پرسیاحوں کی آمد کے حوالے سے رپورٹ اور اعدادوشمارجاری کردیئے گئے اور اس حوالے سے وزیراعلیٰ ٰخیبرپختونخوا نے رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو پیش کردی۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیاحتی علاقوں میں عیدکےدنوں میں27لاکھ70ہزارسیاحوں کی آمد ہوئی، کثیرتعداد میں سیاحوں کی آمد سے 66ارب سے زائد کا کاروبار ہوا۔

    دستاویز میں کہا گیا ہے کہ سیاحوں کی آمدسے مقامی معیشت کو27ارب سےزائدکافائدہ ہوا، عید کے دنوں میں 10 لاکھ50سے زائدسیاحوں نےسوات کارخ کیا جبکہ گلیات میں 10لاکھ،کمراٹ میں ایک لاکھ20ہزار سیاحوں کی آمد ہوئی۔

    اسی طرح کاغان میں7 لاکھ سےزائد جبکہ چترال50ہزارسیاحوں کی آمدہوئی، عیدچھیٹوں میں7لاکھ20ہزارگاڑیاں سیاحتی علاقوں میں داخل ہوئیں، اس دوران دنوں میں مقامی لوگوں کےروزگاروآمدن میں اضافہ ہوا۔

    ادھرذرائع کےمطابق وزیراعظم عمران خان نے شمالی علاقہ جات ، گلگت بلتستان ، آزادکشمیر،مری سمیت دیگرعلاقوں میں پہنچنے والے سیاحوں کی تعداد اوران کی آمد سے معیشت کوہونے والے فائدے کی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے

    وزیراعظم کواس موقع پربتایاگیاہےکہ 27 ارب روپے سے زائد آمدنی صرف کے پی حکومت کے زیرکنٹرول علاقوں میں ہوئی ہے باقی دیگرپاکستان سے اگراعدادوشماراکٹھے جائیں تومعیشت کو پہنچنے والا فائدہ ایک کھرب سے زائد ہوسکتا ہے