Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • احتیاط نہ کی گئی تو ملک میں کورونا کی چوتھی لہر آ سکتی ہے    ڈاکٹر قیصر

    احتیاط نہ کی گئی تو ملک میں کورونا کی چوتھی لہر آ سکتی ہے ڈاکٹر قیصر

    پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سیکریٹر ی جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا ہے ملک میں کورونا کیسز دوبارہ بڑھ رہے ہیں ا-گر احتیاط نہ کی گئی تو انڈیا جیسے کورونا وائرس کا خطرہ ہے

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا تھا کہ شہریوں نے ایس او پیز پر عمل چھوڑ دیا ہے، احتیاط نہ کی گئی تو جولائی کے آخر یا اگست کے آغاز میں کورونا کی چوتھی لہر آسکتی ہے، انڈیا جیسے کورونا وائرس کا خطرہ ہے۔

    انہوں نے شہریوں سے ایس او پیز پر عمل درآمد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عید پر گلے ملنے اور ہاتھ ملانے سے گریز کریں، عوام بلا تاخیر ویکسین لگوائیں۔

    دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے کے اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔

  • کورونا وائرس کی نئی اقسام کا پھیلاؤ تیزی سے جاری، ڈبلیو ایچ او نے دنیا کو خبردار کر دیا

    کورونا وائرس کی نئی اقسام کا پھیلاؤ تیزی سے جاری، ڈبلیو ایچ او نے دنیا کو خبردار کر دیا

    ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کی مختلف اقسام عالمی ویکسین رول آؤٹ سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں ، اور رہنماؤں پر زور دیتے ہیں کہ وہ ویکسین لگانے کی رفتار میں اضافہ کریں یا خطرے سے دوچار ہوں۔

    باغی ٹی وی : بزنس انسائیڈر نے گارجئین کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ، ڈاکٹر ٹیڈروس اذانوم گریبیسس نے نوٹ کیا کہ انتہائی متعدی ڈیلٹا مختلف قسم ، جس کی ہندوستان میں پہلی بار نشاندہی کی گئی تھی ، اسکے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ویکسین لگائی گئی-

    گریبیس نے کہا ، "ڈیلٹا کی مختلف حالت خطرناک ہے اور اس کا ارتقاء اور تغیر بدستور جاری ہے ، جس کے لئے صحت عامہ کے ردعمل میں مستقل جانچ پڑتال اور محتاط ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت ہے "کم از کم 98 ممالک میں ڈیلٹا کا پتہ چلا ہے اور وہ ان ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے جو کم اور زیادہ ٹیکے لگانے کی کوریج رکھتے ہیں۔”

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ جولائی 2022 تک ہر ملک میں 70٪ لوگوں کو اس سے بچاؤ کی ویکیسین لگائی جائے گی-

    کچھ ترقی یافتہ ممالک پہلے ہی اس شرح کے نزدیک ہیں ، لیکن دنیا کا بیشتر حصے میں ابھی تک ویکسین لگائی جانے کی شرح کہیں کم ہے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر لوگوں کو جلد اور وقت پر ویکسین نہیں لگائی تو ، اس وائرس کے بدتر بدلے جانے کا زیادہ امکان ہے۔

    گیبریبیسس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وسیع پیمانے پر ویکسی نیشن "وبائی امراض کو سست کرنے ، زندگیوں کو بچانے اور واقعی عالمی معاشی بحالی کا بہترین طریقہ ہے ، اور اس راستے میں مزید خطرناک شکلوں کو بالائی دستی حاصل ہونے سے روکنا ہے –

    ڈبلیو ایچ او نے اس وقت خبردار کیا جب ڈیلٹا کی مختلف حالت پوری دنیا میں تیزی سے پھیل رہی ہے پرتگال ، روس ، اور برطانیہ جیسے ممالک میں روزانہ نئی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    بزنس انسائیڈر نے نے اپنی رپورٹ میں اسکائی نیوز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ، برطانوی محکمہ صحت کے عہدیداروں نے رواں ہفتے کہا تھا کہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں ڈیلٹا کے مختلف معاملوں میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ ہفتے جمعہ کے روز تصدیق شدہ معاملات 46 فیصد بڑھ گئے تھے۔

    بزنس انسائیڈر کے مطابق سی این این کے مطابق ، ڈیلٹا کے مختلف حصے امریکہ میں بھی بڑے پیمانے پر پھیل چکے ہیں اور تمام 50 ریاستوں میں اس کے کیسز سامنے آئے ہیں ۔ خبروں کے مطابق ، آرکنساس ، کولوراڈو ، میسوری ، نیواڈا اور یوٹا وہ ریاستیں ہیں جو مختلف حالتوں کا سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔

    جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق ، وبائی امراض کے آغاز سے ہی 6 لاکھ 5 ہزار سے زیادہ امریکی وبا مر چکے ہیں۔ جے ایچ یو کے اعداد و شمار میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکی ریاست کی کل آبادی کا تقریبا 47 فیصد مکمل طور پر ویکسین سے بچایا گیا ہے۔

    دوسری جانب بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق کسفورڈ یونیورسٹی میں وائرل ارتقا کا مطالعہ کرنے والے ڈاکٹر ایریس کتزوراکس کہتے ہیں ’اس وائرس نے ہمیں بہت حیرت میں ڈالا ہے۔ یہ ہمارے کسی بھی خوف سے بڑھ کر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ 18 مہینوں میں دو بار ہوا ہے، اس کی دو اقسام (الفا اور پھر ڈیلٹا) جو ہر ایک دوسری سے 50 فیصد زیادہ منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے جو انتہائی غیر معمولی ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ یہ وائرس کس حد تک بڑھ سکتا ہے، اس کی پیشگوئی کرنے کا خیال ’احمقانہ‘ ہے لیکن ان کا اندازہ ہے اگلے دو سالوں میں یہ باآسانی بہت بڑی چھلانگ لگا سکتا ہے یعنی اس کی کچھ اور مختلف خطرناک قسمیں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔

    تاہم کچھ وائرس ایسے ہیں جن کے انفیکشن کی شرح کووڈ وائرس سے کہیں زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر خسرہ یا چیچک کا وائرس اس معاملے میں ’ریکارڈ ہولڈر‘ ہے جس کے انفیکشن کی شرح بڑھ کر سنگین صورتحال اختیار کر سکتی ہے۔

    پروفیسر بارکلے کا کہنا ہے ’خسرہ میں پھیلنے کی شرح 14 سے 30 کے درمیان ہے لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ’کورونا وائرس میں مزید اضافہ (خطرناک ہونے) کی گنجائش موجود ہے لیکن اس کے بارے میں واضح طور پر کچھ کہنا درست نہیں ہو گا۔‘

    کورونا وائرس میں ہم نے جس طرح کی تبدیلی ‘الفا’ سے لے کر ‘ڈیلٹا’ میں دیکھی ہے، کیا ہمیں اسی طرح اومیگا یا دیگر مختلف حالتوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور کیا یہ مختلف حالتیں بد سے بدتر ہوتی جائیں گی؟

    اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر ایرس کتزوراکیس کہتے ہیں ’آخرکار اس کی بھی ایک حد ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ایک انتہائی الٹرا وائرس ہو گا جس میں تغیر پزیر ہونے کے تمام برے امتزاج شامل ہوں گے اور یہ ایسا وائرس ہو گا جس پر قابو نہ پایا جا سکے۔‘

    انھوں نے اس سیاق و سباق میں ایک مشہور تصور کا بھی حوالہ دیا کہ ’جب آپ کچھ چیزوں میں بہتر ہو رہے ہوں تب آپ کچھ چیزوں میں بری کارکردگی بھی دکھانے لگتے ہیں۔اسی کے ساتھ، کچھ ماہرین کی رائے ہے کہ تاریخ میں سب سے تیز رفتار ویکسینیشن مہم اس وائرس کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے۔

    ڈاکٹر کتزوراکیس کہتے ہیں ’یہ بالکل ممکن ہے کہ وائرس میں وہ تبدیلیاں جو ویکسین سے بچنے کے عمل کو بہتر بناتی ہیں، بالآخر اس کی منتقلی کی صلاحیت کو بالکل ہی کم کر دے گی۔‘

    انھوں نے اس کے لیے بیٹا اور ڈیلٹا ایڈیشن کے مابین ہونے والی تبدیلی کا حوالہ دیا۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’ڈیلٹا کی مختلف حالتوں (جن میں E484K بھی شامل ہے) میں ہم نے دیکھا کہ نہ صرف یہ تیزی سے پھیلتا ہے، بلکہ یہ قوتِ مدافعت کو بھی دھوکہ دے سکتا ہے۔‘

    ایسی صورتحال میں ابھی یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ کووڈ سے نمٹنے کے لیے بہترین حکمت عملی کیا ہے۔ مختلف وائرس مختلف طریقے سے لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔ جیسے چیچک (خسرہ) وائرس انتہائی خطرناک ہے لیکن یہ زندگی بھر کے لیے قوتِ مدافعت چھوڑ جاتا ہے لہذا اسے ہر بار ایک نیا ہدف ڈھونڈنا پڑتا ہے۔

    امپیریل کالج لندن میں بیماری کے ماہر ماڈل کے مطابق جب ووہان میں وبائی بیماری شروع ہوئی تھی تب یہ کووڈ کی یہ صلاحیت 2.5 کے آس پاس تھی اور ڈیلٹا اقسام کے لیے یہ 8.0 تک جا سکتی ہے۔

    لیکن اس غیر متوقع مرحلے میں ویکسینیشن کی تیز رفتار مہمات امید کی کرن ہیں سائنس دانوں کو امید ہے کہ امیر اور ترقی یافتہ ممالک میں جہاں ویکسینیشن مہم تیزی سے چلائی جا رہی ہے کورونا وائرس کی اگلی شکل مدافعت کی وجہ سے اتنی پریشانی کا باعث نہیں ہو گی۔

    لیکن یہ مختلف حالتیں زیادہ متعدی ہونے والی ہیں اور ان کا خطرناک رجحان باقی دنیا کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہے۔

  • کرونا کی ایک اور نئی خطرناک قسم سامنے آ گئی

    کرونا کی ایک اور نئی خطرناک قسم سامنے آ گئی

    کرونا کی ایک اور نئی خطرناک قسم سامنے آ گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین سے پھیلنے والے خطرناک کرونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچا رکھی ہے، کرونا کی نئی لہروں کے بعد اب کرونا کی ایک اورقسم سامنے آئی ہے جس کو خطرناک ترین کہا جا رہا ہے،

    خبر رساں ادارے کے مطابق کرونا وائرس کی نئی اور خطرناک قسم لیمبڈا سامنے آئی ہے، لیمبڈا ویرینٹ اصل کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی نسبت کئی گنا زیادہ صلاحیت رکھتا ہے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کورونا کی نئی خطرناک قسم لیمبڈا دیگر قسموں ایلفا ڈیلٹا اور گاما سے زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے اوریہ کورونا ویکسین کے خلاف بھی زیادہ مزاحمت کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ کورونا کا لیمبڈا ویرینٹ سب سے پہلے پیرو میں دسمبر میں پایا گیا کورونا کی نئی خطرناک قسم لیمبڈا برطانیہ چلی سمیت 27 ملکوں میں پھیل چکی ہے گزشتہ 6 ماہ کے دوران برطانیہ میں وائرس لیمبڈا کے 6 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں ،سائنسدان اس پر مزید تحقیق کر رہے ہیں

    واضح رہے کہ اس سے قبل کورونا کی ڈیلٹا قسم کو زیادہ خطرناک قرار دیا جا رہا تھا جو بھارت سے دیگر ممالک میں پھیلا دنیا بھر میں کورونا وائرس اور اس سے چھٹکارے کے لیے ماہرین مختلف تجربات کر رہے ہیں تا ہم ہر کچھ عرصے ماہ کورونا کی ایک نئی قسم سامنے آ جاتی ہے ،پاکستان میں کرونا کی تیسری لہر میں کمی آ رہی ہےتا ہم اسد عمر کہہ چکے ہیں کہ کرونا کی چوتھی لہر کا بھی خدشہ ہے

    کرونا ویکسین کی تیاری کے لئے امریکہ مسلمان سائنسدانوں کا محتاج

    پاکستان میں کرونا ویکسین کہاں تک پہنچ گئی، مبشر لقمان کے ساتھ ڈاکٹر جاوید اکرم کے تہلکہ خیز انکشافات

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    دہلی میں ہیلتھ ورکر کرونا کا شکار ہوئی تو بیڈ ملا نہ شمشان گھاٹ میں آخری رسومات کیلئے جگہ

    بھارت میں کرونا بحران کا مودی ذمہ دار،عالمی میڈیا بھی برس پڑا

    بھارت میں کرونا سے سڑکوں پر اموات، پاکستان نے بھی بڑا اعلان کر دیا

    بھارت میں کرونا کیسز ، بھارتی سائنسدانوں نے ہی بھارتی قوم کو ڈرانا شروع کر دیا

    کرونا کیسز، بھارت میں نیا ریکارڈ بن گیا،شمشان گھاٹ میں طویل قطاریں

  • چین سے سائنو فارم کی 14 لاکھ خوراکیں پاکستان میں پہنچ گئیں ،مزید خوراکیں آج لائی جائیں گی

    چین سے سائنو فارم کی 14 لاکھ خوراکیں پاکستان میں پہنچ گئیں ،مزید خوراکیں آج لائی جائیں گی

    چین سے سائنو فارم ویکسین کی 14 لاکھ خوراکیں پاکستان پہنچا دی گئیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق چین سے چوبیس گھنٹوں میں 14 لاکھ سائنوفارم کی خوراکیں پاکستان میں پہنچا دی گئیں مزید 6 لاکھ خوراکیں آج لائی جائیں گی۔

    سائنو ویک کی 20 لاکھ خوراکیں دو روز میں پاکستان پہنچائی جائیں گی۔

    ادھر این سی او سی کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے تمام سیاحتی مقامات پر رجسٹرڈ آبادیوں کی سو فیصد ویکسی نیشن کی جائے گی۔

    کورونا وائرس کی صورتِ حال اور ویکسینیشن کا جائزہ لینے کیلئے ڈی جی این سی او سی نے گلگت بلتستان کا دورہ کیا تھا ان کے ساتھ جانے والے وفد نے گلگت، شگر اور ہنزہ کے ویکسینیشن سینٹرز کا معائنہ کیا۔

    اس موقع پر این سی او سی کی جانب سے تمام سیاحتی مقامات پر رجسٹرڈ آبادیوں کی 100 فیصد ویکسینیشن کا فیصلہ کیا گیا تھا اور گلگت بلتستان میں ویکسینیشن کا عمل بہتر کرنے کیلئے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے-

    این سی او سی نے عید قربان کے لئے ہدایات جاری کردیں

  • پاکستان میں کورونا سے مزید 19 اموات مثبت کیسز کی شرح میں اضافہ

    پاکستان میں کورونا سے مزید 19 اموات مثبت کیسز کی شرح میں اضافہ

    پاکستان میں کورونا کی لہر کی شرح میں ایک بار پھر کمی 24 گھنٹوں میں 19 اموات-

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی تیسری لہر جاری ہے، کورونا مریضوں اور اموات میں کی شرح میں کمی ہو رہی ہے-

    نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی وبا کورونا وائرس پر پاکستان میں کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے اور ملک بھر میں کورونا سے اموات اور مثبت کیسز کی شرح میں کسی حد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا سے مزید 19 اموات ہوئی ہیں-


    این سی او سی کے مطابق گزشتہ روز کورونا کے 45 ہزار245 نئے ٹیسٹ کئے گئے1 ہزار 347 نئے کیسز سامنے آ گئے۔ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح تقریباً 2.97 فی صد رہی۔

    پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 22 ہزار427 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 9 لاکھ63 ہزار660 ہو چکی ہے۔

  • امریکی سائنسدان چھا گئے:پہنتے ہی کووڈ کی نشاندہی کرنے والا ماسک تیارکردکھایا

    امریکی سائنسدان چھا گئے:پہنتے ہی کووڈ کی نشاندہی کرنے والا ماسک تیارکردکھایا

    واشنگٹن :امریکی سائنسدان چھا گئے:پہنتے ہی کووڈ کی نشاندہی کرنے والا ماسک تیارکردکھایا،اطلاعات کے مطابق سائنسدانوں نے ایسا فیس ماسک تیار کرلیا ہے جس میں ان دونوں کو اکٹھا کردیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق امریکا کے ہارورڈ یونیورسٹی اور میساچوسٹس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے محققین نے ایسا منفرد فیس ماسک تیار کیا ہے جو کسی فرد میں کووڈ 19 کی تشخیص بھی کرسکتا ہے۔انہوں نے ایک ویئرایبل بائیو سنسر تیار کیا ہے جو کسی مکمل لیبارٹری جتنا کام کرسکتا ہے مگر اتنا چھوٹا ہے کہ اسے کسی بھی فیس ماسک کے ساتھ منسلک کیا جاسکتا ہے۔

    اس ماسک کو پہننے والا جب اس میں 15 سے 30 منٹ تک سانس لیتا ہے، سنسر کا بٹن کلک کرتا ہے اور مزید 90 منٹ میں اس کے کووڈ ٹیسٹ کا نتیجہ ایک ریڈ آؤٹ پٹی میں شو جاتا ہے۔یہ طریقہ حمل کے ٹیسٹ کے لیے بازاروں میں عام ملنے والی پٹیوں جیسا ہے۔اس منفرد ایجاد کے بارے میں تفصیلات طبی جریدے جرنل نیچر بائیو ٹیکنالوجی میں شائع ہوئیں۔

    محققین نے بتایا کہ ہر وہ فرد جس کے پاس تشخیص کرنے والا یہ فیس ماسک ہوگا، وہ نہ صرف وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کرسکے گا بلکہ یہ بھی جان کسے گا کہ یہ تیزی سے تو نہیں پھیل رہا۔یہ سنسر ماضی میں وائس کور کے ماہرین نے اس ویئرایبل فریز ڈرائیڈ کال فری ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔

    سنسر کی تیاری کے لیے ماہرین نے مالیکیولر مشینری کی مدد لی تاکہ خلیات کو استعمال کرکے جینیاتی میٹریل جیسے ڈی این اے اور آر این اے کو شناخت کرسکے۔

    یہ تفصیلات ایک فنگرپرنٹ کی طرح کام کرتی ہیں جس سے سنسر وائرس کو شناخت کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔یہ سنسر ایک بٹن کو دبانے سے متحرک ہوجاتا ہے اور معمولی مقدار میں پانی کو خارج کرکے فریز ڈرائیڈ اجزا کو نمی فراہم کرتا ہے۔

    محققین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کو دیگر جراثیم جیسے انفلوائنزا کی شناخت کےل یے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی ڈیوائس سے فیس ماسک رئیل ٹائم ٹیسٹنگ کی متعدد رکاوٹوں کو دور کرسکتا ہے۔

    ان کا دعویٰ تھا کہ ٹیسٹنگ کی حساسیت کا موازنہ پی سی آر ٹیسٹوں سے کیا جاسکتا ہے اور نتائج اس کے مقابلے میں جلد حاصل کیے جاسکتتے ہیں۔ان کے بقول یہ ڈیوائس سستی ہے اور اس کے پروٹوٹائپ کی قیمت 5 ڈالرز رکھی گئی ہے جبکہ فائنل پراڈکٹ کی قیمت اس سے بھی کم ہوگی۔تاہم یہ کب تک عام صارفین کو دستیاب ہوسکے گا ابھی کچھ کہنا مشکل ہے کیونکہ پہلے محققین کو کمرشل پارٹنرز کو تلاش کرنا ہوگا۔

  • این سی او سی نے عید قربان کے لئے ہدایات جاری کردیں

    این سی او سی نے عید قربان کے لئے ہدایات جاری کردیں

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نےعیدِ قرباں کے حوالے سے ہدایات جاری کر دی ہیں۔

    باغی ٹی وی : این سی او سی نے ملک میں کورونا وائرس کی موجودہ صورتِ حال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے عیدِ قرباں کے حوالے سے ہدایات جاری کر دی ہیں۔

    این سی او سی نے تمام اکائیوں کو عیدالاضحی کیلئے مفصل ہدایات جاری کی ہیں جن کی روشنی میں مویشی منڈیاں شہر سے باہر لگائی جائیں گی۔

    مویشی منڈیوں میں کورونا ایس او پیز پر عمل کیا جائے گا، تمام اسٹاف اور تاجروں کا ویکسین لگوانا لازمی قرار دیا گیا ہے، انتظامیہ کو داخلے پر ہینڈ سینیٹائزر، ماسک اور ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹ کی تاکید کی گئی ہے۔

    این سی او سی کی جانب سے عیدالاضحیٰ کے لیے اندرونِ شہر جانوروں کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے وزارت قومی صحت کی خدمات نے یہ کہا ہے کہ جانوروں کی منڈیوں کو شہر سے باہر قائم کیا جانا چاہئے اور انہیں معاشرتی دوری اور دیگر حفاظتی اقدامات کے رہنما اصولوں پر عمل کرنا ہوگا۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان بھر میں اب تک لگائی گئی ویکسین کی تعداد 1 کروڑ 67 لاکھ سے زائد ہے، گزشتہ ماہ جون میں 8 لاکھ 30 ہزار سے زائد ویکسین لگائی گئی-

    دوسری جانب کورونا وائرس کی صورتِ حال اور ویکسینیشن کا جائزہ لینے کیلئے ڈی جی این سی او سی نے گلگت بلتستان کا دورہ کیا ہے ان کے ساتھ جانے والے وفد نے گلگت، شگر اور ہنزہ کے ویکسینیشن سینٹرز کا معائنہ کیا۔

    اس موقع پر این سی او سی کی جانب سے تمام سیاحتی مقامات پر رجسٹرڈ آبادیوں کی 100 فیصد ویکسینیشن کا فیصلہ کیا گیا اور گلگت بلتستان میں ویکسینیشن کا عمل بہتر کرنے کیلئے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔

  • ملک بھر میں‌کتنے افراد کو ویکسین لگائی گئی ، اعداد و شمار جاری

    ملک بھر میں‌کتنے افراد کو ویکسین لگائی گئی ، اعداد و شمار جاری

    ملک بھر میں‌کتنے افراد کو ویکسین لگائی گئی

    باغی ٹی وی :این سی او سی کے مطابق پاکستان میں لگائی جانےوالی ویکسین کی تعدادایک کروڑ67لاکھ سےتجاوزکرگئی،جون کےمہینے میں8 لاکھ 30 ہزارسےزائدویکسین لگائی گئیں.تمام اکائیوں کواین سی اوسی کی جانب سےعیدالاضحیٰ کیلئےہدایات جاری دی گئیں.

    این سی او سی نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ مویشی منڈیاں شہرسےباہرلگائی جائیں گی.تمام اسٹاف اورتاجروں کاویکسین لگانالازمی قراردیاگیاہے.انتظامیہ کوداخلے پرہینڈسینی ٹائزر،ماسک اورریپڈاینٹی جن ٹیسٹ کی سہولیات میسرکرنےکی تاکید کی گئی ہے. اندرون شہرجانوروں کی خریدوفروخت پرپابندی عائد کر دی.

    گلگت بلتستان میں ویکسی نیشن کےعمل کاجائزہ لینےکیلئےڈی جی این سی اوسی نے دورہ کیا. وفدنےگلگت شگر اورہنزہ کےویکسین سنٹرزکامعائنہ کیا.

    ادھر این سی او سی کے مطابق ملک بھر میں کورونا کے فعال کیسز کی تعداد 32 ہزار 621 تک پہنچ گئی ہے جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 22 ہزار 408 بتائی گئی ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 47 ہزار 832 ٹیسٹ کئے گئے جبکہ اب تک ملک بھر میں 1 کروڑ 47 لاکھ 33 ہزار 30 کورونا ٹیسٹ کئے جا چکے ہیں۔ وائرس سے متاثرہ 4 افراد کی حالت گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تشویشناک ہو گئی، موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا مریضوں کی تعداد 1 ہزار 875 ہے

  • جان لیوا وبا نے مزید  29 جانیں‌ لے لیں‌

    جان لیوا وبا نے مزید 29 جانیں‌ لے لیں‌

    جان لیوا وبا نے مزید 29 جانیں‌ لے لیں‌
    باغی ٹی وی : کورونا کی تیسری لہر کے اثرات جاری ہیں ، جان لیوا وبا نے مزید 29 جانیں‌ لے لیں‌، چوبیس گھنٹے کے دوران 1 ہزار 228 نئے مریضوں کا اضافہ ہوا۔

    این سی او سی کے مطابق ملک بھر میں کورونا کے فعال کیسز کی تعداد 32 ہزار 621 تک پہنچ گئی ہے جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 22 ہزار 408 بتائی گئی ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 47 ہزار 832 ٹیسٹ کئے گئے جبکہ اب تک ملک بھر میں 1 کروڑ 47 لاکھ 33 ہزار 30 کورونا ٹیسٹ کئے جا چکے ہیں۔ وائرس سے متاثرہ 4 افراد کی حالت گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تشویشناک ہو گئی، موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا مریضوں کی تعداد 1 ہزار 875 ہے.

    اعدادو شمار کے مطابق پنجاب میں 3لاکھ 46ہزار 728، سندھ میں 3لاکھ 39ہزار 962، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 38ہزار 421 اور اسلام آباد میں 82 ہزار 916 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ بلوچستان میں 27ہزار 387، آزاد کشمیر میں 20ہزار 505 اور گلگت بلتستان میں 6ہزار 394 افراد کورونا سے متاثر ہوئے ہیں۔

    دنیا بھرمیں کورونا سے 18 کروڑ 42 لاکھ 33 ہزار 949 افراد متاثر ہیں جبکہ کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 39 لاکھ 87 ہزار 322 ہو گئی ہے۔ دوسری جانب دنیا بھر میں 16 کروڑ 86 لاکھ 9 ہزار 914 مریض کورونا کے پنجے سے نکل کر صحت یاب ہو چکے ہیں

  • اگلے48 گھنٹوں میں ملک میں کیا آ نے والا ہے:وزارت صحت نے بتادیا

    اگلے48 گھنٹوں میں ملک میں کیا آ نے والا ہے:وزارت صحت نے بتادیا

    اسلام آباد:اگلے48 گھنٹوں میں ملک میں کیا آ نے والا ہے:وزارت صحت نے بتادیا ،اطلاعات کے مطابق اس وقت پاکستان میں کورونا ویکیسن کی قلت دور کرنے کے لیے بڑی مقدار میں کورونا ویکسین منگوائی جارہی ہے ،

    ادھر ذرائع کے حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پاکستان نے 20لاکھ سائینو فارم خوراکیں چینی کمپنی سے خریدی ہیں، پی آئی اے کے ذریعے چین سے سائینو فارم ویکسین لائی جائے گی، سائینو فارم ویکسین کی 13 لاکھ خوراکوں کی 2 کھیپ کل پہنچیں گی،

    وزارت صحت کی طرف سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ سائینو فارم ویکسین کی 7 لاکھ خوراکیں آج اسلام آباد پہنچے گی، جس کے بعد ملک میں کورونا ویکسین کی قلت میں‌کافی حد کمی آجائے گی