Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • میرپور ماتھیلو: گھوٹکی پولیس کی منشیات و جوئے کے خلاف کارروائیاں، ایک گرفتار، 10 فرار

    میرپور ماتھیلو: گھوٹکی پولیس کی منشیات و جوئے کے خلاف کارروائیاں، ایک گرفتار، 10 فرار

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران کی ہدایت پر گھوٹکی پولیس نے منشیات فروشوں اور جواریوں کے خلاف فیصلہ کن کریک ڈاؤن کا آغاز کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

    تھانہ میرپور ماتھیلو پولیس نے دورانِ گشت خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے لعل شاہ کے میخانے پر چھاپہ مارا اور منشیات فروش اختیار ولد رحیم بخش بوزدار سکنہ بوزدار کالونی میرپور ماتھیلو کو 400 گرام چرس سمیت گرفتار کر لیا۔
    گرفتار ملزم کے خلاف کرائم نمبر 137/2025، دفعہ 9(i) Sr 3(A) CNS (Amendment) 2022 کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

    دوسری کارروائی میں تھانہ یارو لنڈ پولیس نے خفیہ اطلاع پر جوئے کے اڈے پر چھاپہ مارا جہاں سے امجد ولد اصغر عرف اکرو لنڈ کو 2 تاش کے پتے اور 1400 روپے نقد رقم سمیت گرفتار کیا گیا، جبکہ اس کے 10 ساتھی ملزمان جن میں علی دوست، علی محمد ممدانی، کرم پتافی، سھیل لنڈ، اخلاق لنڈ، غضنفر لنڈ، حاجی منگنھار، عیدن کوری اور دو نامعلوم افراد شامل ہیں، موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
    پولیس نے گرفتار ملزم کے خلاف کرائم نمبر 30/2025، دفعہ 5 سندھ جواء ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے، جبکہ فرار ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

    ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران نے ان کامیاب کارروائیوں پر پولیس پارٹی کو شاباش دیتے ہوئے کہا ہے کہ منشیات اور جوئے جیسے سماجی جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے تحفظ کے لیے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

    گھوٹکی پولیس کی یہ کارروائیاں علاقے میں امن و امان کے قیام کی جانب مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہیں، جنہیں مقامی حلقوں کی جانب سے سراہا گیا ہے۔

  • اوکاڑہ: بارشوں کے دوران 57 حادثات، 90 افراد متاثر، 8 جاں بحق

    اوکاڑہ: بارشوں کے دوران 57 حادثات، 90 افراد متاثر، 8 جاں بحق

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) گزشتہ تین دنوں کی مسلسل بارشوں کے دوران ضلع اوکاڑہ میں مختلف نوعیت کے 57 حادثات پیش آئے، جن میں مجموعی طور پر 90 افراد کو ریسکیو سروسز فراہم کی گئیں۔ ریسکیو 1122 کے مطابق ان حادثات میں 51 واقعات چھتیں، چھپر یا دیواریں گرنے کے تھے، جب کہ کرنٹ لگنے کے 3، درخت گرنے کے 2 اور ایک واقعہ آسمانی بجلی گرنے کا رپورٹ ہوا۔

    ان تمام حادثات میں 27 افراد کو موقع پر ہی ابتدائی طبی امداد دی گئی، جب کہ 55 زخمیوں کو مزید علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ بدقسمتی سے، ان واقعات میں 8 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ شدید بارشوں کے باوجود سروس نے اپنی معمول کی ایمرجنسی خدمات جاری رکھتے ہوئے 104 روڈ ٹریفک حادثات، 454 میڈیکل ایمرجنسیز، 9 آتشزدگی کے واقعات اور 224 متفرق نوعیت کی ایمرجنسیز پر بروقت ریسپانس کرتے ہوئے مجموعی طور پر 820 شہریوں کو امداد فراہم کی۔

    ریسکیو 1122 نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ برسات کے موسم میں الیکٹرک پولز، ہورڈنگ بورڈز اور نشیبی علاقوں سے اجتناب کریں، اور خاص طور پر بچوں کو کھڑے پانی کی جانب نہ جانے دیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوراً 1122 پر رابطہ کریں۔

  • کروڑوں روپے کی مبینہ چوری کا ڈراپ سین، مدعی خود ہی واردات میں ملوث نکلا

    کروڑوں روپے کی مبینہ چوری کا ڈراپ سین، مدعی خود ہی واردات میں ملوث نکلا

    کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں ہونے والی مبینہ کروڑوں روپے کی چوری کی واردات کا ڈراپ سین ہوگیا۔ پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ مدعی اور اس کے منہ بولے چچا خود ہی واردات میں ملوث نکلے، جنہوں نے چالاکی سے رقم، موبائل فون اور طلائی زیورات کو غائب کر کے چوری کا ڈرامہ رچایا تھا۔

    پولیس کے مطابق 16 جولائی کو سرجانی ٹاؤن سیکٹر 4 میں واقع ایک گھر میں بڑی مالیت کی چوری کی اطلاع موصول ہوئی۔ ابتدائی شکایت میں مدعی نے دعویٰ کیا تھا کہ نامعلوم چور اس کے گھر سے تقریباً 4 سے 5 کروڑ روپے مالیت کی رقم اور زیورات لوٹ کر فرار ہو گئے ہیں۔مدعی کے مطابق واردات میں چور 15 تولے کے 15 طلائی بسکٹ، بھاری نقدی، اور قیمتی موبائل فون لے گئے۔ تاہم تفتیش کے دوران پولیس کو شک ہوا کہ واردات میں اندرونی افراد کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔

    مزید تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ اصل میں صرف 25 لاکھ روپے کی رقم خردبرد کی گئی تھی، جسے مدعی کے منہ بولے چچا نے بڑھا چڑھا کر 4 سے 5 کروڑ روپے ظاہر کیا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ طلائی بسکٹ کا دعویٰ بھی جھوٹ پر مبنی تھا۔پولیس کے مطابق مدعی اور اس کے منہ بولے چچا نے خود ہی رقم اور دیگر قیمتی اشیاء کو چھپا کر جھوٹی ایف آئی آر درج کروائی تھی تاکہ کسی اور کو مورد الزام ٹھہرایا جا سکے یا کوئی ذاتی مفاد حاصل کیا جا سکے۔

    پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مدعی اور اس کے شریک سازشی چچا کو گرفتار کر لیا ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیس میں مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں اور واردات کے تمام پہلوؤں کی گہرائی سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

  • ناراض شوہر نے بیوی، بچوں اور سسر کو زہریلا مشروب پلا دیا، سسر جاں بحق

    ناراض شوہر نے بیوی، بچوں اور سسر کو زہریلا مشروب پلا دیا، سسر جاں بحق

    کنڈیارو: کنڈیارو میں گھریلو ناچاقی کے باعث ایک دلخراش واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ایک ناراض شوہر نے اپنی بیوی، بچوں اور سسر کو زہریلا مشروب پلا کر ہلاکت کی کوشش کی۔ افسوسناک طور پر اس واقعے میں بیوی کا والد جان کی بازی ہار گیا، جبکہ بیوی اور بچے انتہائی تشویشناک حالت میں اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی بیوی اپنے شوہر کے ناروا سلوک سے تنگ آکر عدالت سے طلاق لینے کے لیے رجوع کر چکی تھی، جس پر شوہر شدید غصے میں تھا۔ پولیس نے بتایا کہ ملزم نے اپنے پڑوسی کے کم عمر بچے کے ذریعے زہریلا مشروب اپنی بیوی کے میکے بھیجا، جہاں وہ اپنے والد کے گھر رہائش پذیر تھی۔پولیس کے مطابق زہریلا مشروب پینے کے بعد بیوی کے والد کی حالت بگڑ گئی جس پر اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، مگر وہ جانبر نہ ہو سکا اور دم توڑ گیا۔ بیوی اور بچے بھی زہر کے اثر سے شدید متاثر ہوئے جنہیں پہلے کنڈیارو اسپتال لے جایا گیا، بعد ازاں حالت تشویشناک ہونے پر انہیں گمبٹ کے بڑے اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کی حالت اب بھی نازک بتائی جارہی ہے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد ملزم موقع سے فرار ہوگیا ہے، جس کی تلاش کیلئے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

  • چکوال: کلاؤڈ برسٹ سے تباہی، 423 ملی میٹر بارش، سیلابی ایمرجنسی نافذ، 2 افراد جاں بحق

    چکوال: کلاؤڈ برسٹ سے تباہی، 423 ملی میٹر بارش، سیلابی ایمرجنسی نافذ، 2 افراد جاں بحق

    چکوال (باغی ٹی وی)چکوال میں گزشتہ روز ہونے والی طوفانی بارش نے تباہی مچادی۔ کلاؤڈ برسٹ کے باعث شہر اور نواحی علاقوں میں 400 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں درجنوں نشیبی علاقے زیر آب آگئے اور متعدد گھروں میں پانی داخل ہوگیا۔ ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر سیلابی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور شہریوں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق چکوال کے نواحی علاقہ للیاندی میں سب سے زیادہ 423 ملی میٹر، وہالی زیر میں 351 ملی میٹر، جبکہ چوآسیدن شاہ میں 330 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو اس علاقے میں گزشتہ دہائی کا بلند ترین ریکارڈ ہے۔ کلر کہار اور دیگر علاقوں میں بھی شدید بارش ہوئی، جس کے نتیجے میں نشیبی علاقوں، خاص طور پر ڈھوک مستانی، پادشہان اور قریبی بستیوں میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

    بارش کے دوران کھیوال کے علاقے میں ایک گھر کی چھت گر گئی، جس کے نتیجے میں ایک مرد اور ایک بچہ جاں بحق ہوگئے، جبکہ جاں بحق شخص کی بیوی اور بیٹی شدید زخمی ہوگئیں جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بلال بن حفیظ کے مطابق کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں ضلع بھر میں اوسطاً 370 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، اور اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلعی سول انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے متحرک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حالات مزید بگڑے تو پاک فوج کی مدد بھی حاصل کی جائے گی۔

    ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں گھر گھر جا کر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں، جب کہ کئی علاقوں میں نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ نشیبی علاقوں میں سیلابی ریلوں نے گلیوں کو ندی نالوں میں بدل دیا ہے، جس سے معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے ضلعی و صوبائی حکومتوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    واضح رہے کہ پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی موسلادھار بارشوں کے باعث جانی نقصان ہوا ہے۔ لاہور، فیصل آباد، جہلم، شیخوپورہ، اوکاڑہ اور دیگر علاقوں میں چھتیں اور دیواریں گرنے کے واقعات میں اب تک 28 افراد جاں بحق اور 90 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں 12 افراد کا تعلق لاہور، 8 فیصل آباد، 3 شیخوپورہ اور 2 اوکاڑہ سے ہے۔

    چکوال اور دیگر متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم شہریوں نے حکومت سے فوری ریلیف اور محفوظ رہائش کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • ڈیرہ غازیخان: آر پی او کے چھاپے اور کھلی کچہریاں، فوری ایکشن کے احکامات

    ڈیرہ غازیخان: آر پی او کے چھاپے اور کھلی کچہریاں، فوری ایکشن کے احکامات

    ڈیرہ غازی خان / مظفرگڑھ ( باغی ٹی وی،سٹی رپورٹر+نامہ نگار)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے احکامات کی روشنی میں ریجنل پولیس آفیسر ڈیرہ غازی خان، کیپٹن (ر) سجاد حسن خان نے ضلع ڈیرہ غازی خان اور مظفرگڑھ کے ہنگامی دورے کیے۔ ان دوروں کا مقصد عوامی شکایات کا فوری ازالہ اور پولیس اسٹیشنز کی کارکردگی کا جائزہ لینا تھا۔ آر پی او نے کھلی کچہریوں کا انعقاد تھانہ دراہمہ (ڈی جی خان) اور تھانہ قریشی (مظفرگڑھ) میں کیا، جہاں انہوں نے شہریوں کے مسائل سنے اور موقع پر متعلقہ افسران کو فوری کارروائی کے احکامات جاری کیے۔

    آر پی او سجاد حسن نے کھلی کچہریوں میں انجمن تاجران، بار نمائندگان، گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن، سول سوسائٹی، میڈیا اور شہریوں کی کثیر تعداد سے خطاب کیا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ اوپن ڈور پالیسی وزیراعلیٰ کی عوام دوست پالیسیوں کا عملی مظہر ہے، اور اس کا مقصد ان دور دراز علاقوں کے شہریوں کو براہ راست انصاف کی فراہمی ہے جو پولیس دفاتر تک نہیں پہنچ سکتے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عوامی شکایات کے حل میں تاخیر یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

    آر پی او نے ڈی جی خان کے تھانہ دراہمہ، سٹی، بی ڈویژن اور مظفرگڑھ کے تھانہ کرم داد قریشی کے سرپرائز وزٹ بھی کیے۔ انہوں نے انسپکشن کے دوران اسپیشل انیشیٹو پولیس اسٹیشنز کی ایس او پیز، زیرِ تفتیش مقدمات، پینڈنگ درخواستوں، اشتہاری مجرمان کی گرفتاری، حوالات، مال خانہ، فرنٹ ڈیسک اور اسلحہ خانہ کا تفصیلی جائزہ لیا۔ آر پی او نے حوالات میں موجود ملزمان سے براہِ راست گفتگو کی اور تھانہ جات میں آنے والے شہریوں سے مسائل دریافت کیے۔

    اس موقع پر انہوں نے متعلقہ افسران کو ایف آئی آر کے بروقت اندراج، سروس ڈلیوری کے معیار میں بہتری، اور تھانہ کلچر میں عوام دوست تبدیلی کے لیے واضح ہدایات جاری کیں۔ تھانہ کرم داد قریشی میں ڈی پی او مظفرگڑھ کے ہمراہ منعقدہ اجلاس میں انہوں نے سرکل آفیسران اور تمام ایس ایچ اوز کی کارکردگی کا جائزہ لیا، اور ان کو جرائم کی روک تھام، تفتیش میں شفافیت، اور کرپٹ اہلکاروں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی ہدایت کی۔

    آر پی او نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو میں کہا کہ پولیس ریفارمز اور انصاف کی فراہمی وزیراعلیٰ کی اولین ترجیح ہے، اور ہم اس مشن پر بلا امتیاز اور میرٹ کی بنیاد پر عمل پیرا ہیں۔ ان دوروں سے نہ صرف پولیس اہلکاروں کی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔

  • احمدپور شرقیہ: قانون صرف کتابوں میں بند، 18 سال سے کم عمر لڑکے کا نکاح

    احمدپور شرقیہ: قانون صرف کتابوں میں بند، 18 سال سے کم عمر لڑکے کا نکاح

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) احمدپور شرقیہ کے نواحی گاؤں اسماعیل پور میں کم عمری کی شادی کا ایک افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں 18 سال سے کم عمر لڑکے محمد اسامہ گھلو کا نکاح کروا دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ نکاح باقاعدہ تقریب کے ساتھ انجام پایا، جہاں نکاح خواں نے نکاح پڑھایا، دلہے کو ہار پہنائے گئے اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب کچھ باشعور شہریوں نے میڈیا اور متعلقہ اداروں کو مطلع کیا، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ نہ پولیس حرکت میں آئی، نہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے نوٹس لیا اور نہ ہی تحصیل یا ضلعی انتظامیہ نے اس پر کوئی ردعمل ظاہر کیا۔

    یہ امر باعث تشویش ہے کہ حکومت کی جانب سے کم عمری کی شادیوں کے خلاف منظور کیے گئے سخت قوانین محض کاغذی کارروائی بن کر رہ گئے ہیں۔ ان قوانین کے مطابق اگر کوئی والدین اپنے کم عمر بچوں کی شادی کرواتے ہیں یا نکاح خواں، گواہ یا سہولت کار اس عمل میں شریک ہو تو ان سب کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے، مگر یہاں قانون کا عملی نفاذ کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ یہ صورتحال نہ صرف قانون کی کمزوری کو بے نقاب کرتی ہے بلکہ معاشرے میں موجود عمومی بے حسی کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

    اس واقعے پر علاقے کے شہری حلقوں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے محض ایک شادی نہیں بلکہ قانون کی صریحاً خلاف ورزی اور انتظامیہ کی ناکامی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو حکومت بین الاقوامی دباؤ کے تحت کم عمری کی شادیوں کے خلاف قانون سازی کرتی ہے، مگر دوسری جانب ضلعی، تحصیل اور یونین سطح پر موجود ادارے ایسے واقعات پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو متزلزل کرتا ہے بلکہ آئندہ کے لیے خطرناک مثال بھی بن سکتا ہے۔

    شہریوں نے ڈی پی او بہاولپور، ڈپٹی کمشنر بہاولپور، اسسٹنٹ کمشنر احمدپور شرقیہ، چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو اور وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور محمد اسامہ گھلو کے نکاح میں ملوث تمام افراد، جن میں والدین، نکاح خواں، گواہان اور تقریب کے سہولت کار شامل ہیں، ان سب کے خلاف فوری اور موثر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ قانون کی بالا دستی ثابت ہو اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

    یہ واقعہ ہمارے معاشرے کے لیے محض ایک کم عمر لڑکے کا نکاح نہیں بلکہ ایک ایسا سوال ہے جو ریاستی ذمہ داری، قانونی نفاذ اور اجتماعی ضمیر کی بیداری پر اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اگر ایسے واقعات پر بھی خاموشی اختیار کی گئی تو یہ طرز عمل آئندہ کئی بچوں کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل دے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون کو صرف کتابوں کی زینت بنانے کے بجائے اسے عملی شکل دی جائے اور ان افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے جو کمزور بچوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔

  • ڈیرہ غازی خان: مہنگائی اور ناقص اشیاء فروخت کرنیوالوں کیخلاف کریک ڈاؤن، سات گرفتار، کریانہ سٹور سیل

    ڈیرہ غازی خان: مہنگائی اور ناقص اشیاء فروخت کرنیوالوں کیخلاف کریک ڈاؤن، سات گرفتار، کریانہ سٹور سیل

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹر شاہد خان)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر ضلع ڈیرہ غازی خان میں گراں فروشی، ذخیرہ اندوزی اور غیر معیاری اشیاء کی فروخت کے خلاف ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں جاری ہیں۔

    اسسٹنٹ کمشنر ہیڈکوارٹر نذر حسین کورائی نے پاکستان چوک کا اچانک دورہ کیا جہاں انہوں نے سبزی، پھل، گوشت اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں اور معیار کا جائزہ لیا۔ ریٹ لسٹ آویزاں نہ کرنے، زائد قیمتیں وصول کرنے اور زائد المیعاد اشیاء فروخت کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔

    کارروائی کے دوران چار پھل فروش، ایک بیف پلاؤ فروش اور ایک کریانہ سٹور مالک سمیت سات افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ ناغہ کے روز پلاؤ فروخت کرنے والے دکاندار کو بھی موقع پر حراست میں لیا گیا جبکہ زائد المعیاد بسکٹ اور اشیاء خورد و نوش برآمد ہونے پر کریانہ سٹور سیل کر دیا گیا۔ تمام گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ تھانوں میں استغاثے جمع کرا دیے گئے ہیں۔

    اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نذر حسین کورائی کا کہنا تھا کہ گراں فروش کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ پنجاب حکومت کی واضح ہدایات کے مطابق عوام کو ریلیف فراہم کرنا اولین ترجیح ہے اور ریٹ لسٹ کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ اگر کوئی دکاندار زائد قیمت وصول کرے یا غیر معیاری اشیاء فروخت کرے تو فوری طور پر انتظامیہ یا متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔

  • ڈسکہ: سانحہ سوات متاثرین کو خیبرپختونخوا حکومت کے 2 کروڑ کے امدادی چیک

    ڈسکہ: سانحہ سوات متاثرین کو خیبرپختونخوا حکومت کے 2 کروڑ کے امدادی چیک

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی، ڈویژنل بیوروچیف شاہد ریاض سے)ڈسکہ میں سانحہ سوات کے متاثرہ خاندانوں کو خیبر پختونخواہ حکومت کی جانب سے 2 کروڑ روپے کے امدادی چیکس تقسیم کیے گئے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل امین گنڈاپور، معروف وکیل سلمان اکرم راجہ، ریحانہ ڈار اور دیگر شخصیات نے چیکس متاثرہ خاندانوں کے حوالے کیے۔

    اس موقع پر جاں بحق ہونے والوں کے ایصالِ ثواب کے لیے دعائے مغفرت اور فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ فیصل امین گنڈاپور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ خود ڈسکہ آنا چاہتے تھے، تاہم موجودہ حالات کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا۔

    فیصل امین گنڈاپور نے کہا کہ "ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے، اور ہماری حکومت صرف ایک صوبے تک محدود ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جو نقصان ہوا، اس کی مکمل تلافی ممکن نہیں، مگر ہم دکھ کی اس گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔”

    اس موقع پر وکیل اور رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ "عمران خان اس وقت جیل میں ہیں کیونکہ وہ عوام کے درد کو سمجھتے ہیں۔ وہ پاکستان کو صرف اشرافیہ کا نہیں، بلکہ عوام کا پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا مشن عوام کی خدمت ہے اور ہم اسی پر عمل پیرا ہیں۔”

    پی ٹی آئی قیادت نے متاثرین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان کے غم میں شریک ہونے کا اعادہ کیا اور حکومت خیبر پختونخواہ کی جانب سے تعاون کا یقین دلایا۔

  • پسرور: جعلی رجسٹری کیس، تحصیلدار شوکت چوہان گرفتار، لاہور ہائیکورٹ سے عبوری ضمانت منسوخ

    پسرور: جعلی رجسٹری کیس، تحصیلدار شوکت چوہان گرفتار، لاہور ہائیکورٹ سے عبوری ضمانت منسوخ

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی، ڈویژنل بیوروچیف شاہد ریاض سے)تحصیلدار پسرور شوکت چوہان کو اینٹی کرپشن پولیس سیالکوٹ نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے عبوری ضمانت منسوخ کیے جانے کے بعد گرفتار کر لیا۔ محترمہ جسٹس ابر گل خان نے ضمانت منسوخ کرنے کے احکامات جاری کیے، جس کے بعد اینٹی کرپشن ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تحصیلدار کو حراست میں لے لیا۔

    ذرائع کے مطابق شوکت چوہان پر الزام ہے کہ انہوں نے پسرور شہر میں واقع ایک پلاٹ کی رجسٹری محمد اسلم ساکن چھچریالی کے نام منتقل کی، حالانکہ پلاٹ کے فروخت کنندگان احسان اور عرفان کے پاس ملکیت کا کوئی قانونی ثبوت موجود نہیں تھا۔ پلاٹ کے اصل مالکان رفاقت شاہ اور وحید شاہ نے اینٹی کرپشن پولیس کو تحریری درخواست دی، جس پر مقدمہ نمبر 07/2024 درج کیا گیا۔

    متاثرہ فریق نے عدالت میں رجسٹری منسوخی کی درخواست بھی دائر کر رکھی تھی۔ مقدمے میں تحصیلدار شوکت چوہان کے علاوہ رجسٹری محرر اور گرداور کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔ رجسٹری محرر کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ گرداور غلام باری کچھ عرصہ قبل انتقال کر چکے ہیں۔

    اینٹی کرپشن پولیس نے تمام شواہد کی روشنی میں تحصیلدار کی گرفتاری عمل میں لائی اور معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔