Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • اوچ شریف: باپ کی بیٹی سے درندگی، مقدمہ درج، ملزم گرفتار

    اوچ شریف: باپ کی بیٹی سے درندگی، مقدمہ درج، ملزم گرفتار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے محلہ اکبر ٹاؤن میں ایک لرزہ خیز واقعے نے انسانیت، شرافت اور باپ جیسے مقدس رشتے کو شرمسار کر دیا۔ پولیس نے اپنی ہی سگی 18 سالہ بیٹی سے مبینہ زیادتی کرنے والے ملزم محمد ندیم ولد محمد یعقوب قوم وارن کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، متاثرہ لڑکی کی والدہ نور بی بی زوجہ محمد ندیم نے تھانہ سٹی اوچ شریف میں دی گئی تحریری درخواست میں بیان کیا کہ وہ 8 جولائی 2025 کو گھریلو کام کے سلسلے میں گھر سے باہر گئی تھی۔ واپس آ کر اس نے اپنے شوہر کو بیٹی کے ساتھ نازیبا حالت میں دیکھا، جس پر اس کا دل دہل گیا۔ تاہم رشتہ داروں نے “بدنامی” کے خوف سے خاتون کو خاموش رہنے پر مجبور کیا۔

    متاثرہ خاتون نے بالآخر ہمت کر کے پولیس کو اطلاع دی، جس پر تھانہ سٹی اوچ شریف نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ نمبر 1063/25 بجرم 376 تعزیرات پاکستان کے تحت اندراج کیا اور ملزم محمد ندیم کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا۔ پولیس حکام کے مطابق ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں، اور تفتیش کا عمل جاری ہے۔

    علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو عبرتناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی شخص اس قسم کی درندگی کا تصور بھی نہ کر سکے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پورے معاشرے کے منہ پر طمانچہ ہے، اور اس میں انصاف کی بروقت فراہمی ہی متاثرہ خاندان کے دکھ کا مداوا بن سکتی ہے۔

  • ماں نے بچے کو بس میں جنم دے کر کھڑکی سے باہر پھینک دیا

    ماں نے بچے کو بس میں جنم دے کر کھڑکی سے باہر پھینک دیا

    بھارت میں سنگ دل ماں نے بچے کو بس میں جنم دے کر کھڑکی سے باہر پھینک دیا-

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ مہارا شٹر کے شہر پربھانی میں پیش آیا، جس میں ایک نوجوان عورت نے ایک بس میں بچے کو جنم دیا، مگر اس کے بعد اس معصوم کو بس کی کھڑکی سے باہر پھینک دیا جوان سالہ ریتیکا نامی عورت اوراس کے ساتھ ایک شخص، پونے سے پربھانی جا رہے تھے دوران سفر اس نے بس میں ہی بچے کو جنم دیا۔ مگر اس کے بعد دونوں نے بے دردی سے بچے کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر بس کی کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔

    پولیس کے مطابق بس کے ڈرائیور نے جب دیکھا کہ کچھ باہر پھینکا گیا ہے تو اس نے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص سے اس بارے میں پوچھا اس نے بتایا کہ اس کی بیوی ریتیکا کو سفر کے دوران الٹیاں ہو رہی تھیں اور اس نے بچے کو باہر پھینکنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی تاہم، اس دوران ایک شہری نے جو سڑک پر تھا، بچے کو دیکھ لیا اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔

    اسٹاک ایکسچینج میں آج پھر زبردست تیزی

    پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے بس کو روکا اور بس کے اندر تفتیش کی ابتدائی تحقیقات کے دوران، دونوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے بچے کو اس لیے پھینکا کیونکہ وہ اس کی پرورش کرنے کے قابل نہیں تھے پولیس نے دونوں کو حراست میں لے لیا اور ریتیکا کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا۔

    پولیس نے دونوں کے درمیان ازدواجی تعلقات کی کوئی مستند دستاویزات نہ ہونے کے باوجود انہیں گرفتار کرکے، بچے کو پوشیدہ طریقے سے قتل کرنے اور لاش کو چھپانے کا کیس درج کرلیا۔

    لاہور ائیرپورٹ کے کارگو ایریا میں خوفناک آتشزدگی

  • احمد پور شرقیہ:سمیرا قتل کیس، 12 گھنٹے میں قاتل گرفتار، ساتھیوں کی فائرنگ سے مبینہ ہلاکت

    احمد پور شرقیہ:سمیرا قتل کیس، 12 گھنٹے میں قاتل گرفتار، ساتھیوں کی فائرنگ سے مبینہ ہلاکت

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) احمدپور شرقیہ ،تھانہ سٹی پولیس نے نواحی بستی غریب آباد کی 6 سالہ معصوم بچی سمیرا بی بی کے اندھے قتل کی گتھی صرف 12 گھنٹوں میں سلجھا لی اور مرکزی ملزم عمران کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزم عمران کو جائے وقوعہ پر نشاندہی اور برآمدگی کے لیے لے جایا گیا، جہاں پہلے سے گھات لگائے اس کے مسلح ساتھیوں نے اچانک پولیس پارٹی پر حملہ کر دیا۔ جوابی فائرنگ کے تبادلے میں ملزم عمران اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر موقع پر ہلاک ہو گیا۔

    یاد رہے کہ مقتولہ سمیرا، امیرآباد اوچشریف کے رہائشی شاہنواز کی بیٹی تھی، جس کی نعش گزشتہ روز بستی غریب آباد موضع محمد بخش مہر میں فصل جنتر سے ملی تھی، جس پر علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق سمیرا اپنے والد سے علیحدگی کے بعد ماں کے ساتھ غریب آباد میں مقیم تھی، جہاں ملزم عمران نے اسے بہیمانہ انداز میں قتل کر دیا۔

    پولیس نے بچی کی نعش کو اپنی تحویل میں لے کر تحقیقات کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں مرکزی ملزم تک رسائی حاصل ہوئی۔ ڈی ایس پی احمد پور شرقیہ، محمود اکبر بزدار نے میڈیا سے گفتگو میں واضح کیا کہ بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے اور قانون شکن عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

  • اوچ شریف: رکشے پر موت سوار، کارروائی لاش کے بعد ہی ہوگی؟

    اوچ شریف: رکشے پر موت سوار، کارروائی لاش کے بعد ہی ہوگی؟

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگار حبیب خان)کیا اوچ شریف کی سڑکوں پر انسانوں کی جان کی کوئی قیمت نہیں؟ کیا ٹریفک پولیس صرف وی آئی پی ڈیوٹی کے لیے رہ گئی ہے؟ کون ذمہ دار ہے اُس لمحے کا جب ایک لوڈر رکشہ، ڈرائیور سمیت تین جانوں کو لے کر یوں رواں دواں نظر آتا ہے جیسے زندگی کی نہیں، موت کی سواری ہو؟ یہ وہ سوالات ہیں جو شہریوں کے ذہنوں میں طوفان بن کر اٹھ رہے ہیں۔

    خوفناک اوورلوڈنگ کے ساتھ چلتا ہوا ایک لوڈر رکشہ اوچ شریف کی سڑکوں پر دیکھا گیا، جس میں ڈرائیور سمیت تین افراد انتہائی خطرناک انداز میں بیٹھے ہوئے تھے۔ رکشہ سامان سے اس قدر بھرا ہوا تھا کہ ایک جھٹکے یا موڑ پر یہ جان لیوا سواری موت کا سبب بن سکتی تھی۔ مگر حیرت انگیز طور پر قانون، ضابطہ اور ٹریفک اہلکار سب خاموش تماشائی بنے رہے۔

    نہ کسی وارڈن کی سیٹی بجی، نہ کسی افسر کی آنکھ کھلی — گویا حادثہ ہو، لاشیں گریں، تب ہی کوئی حرکت ہوگی۔ کیا قانون کا اطلاق صرف عوامی اجتماعات یا وی آئی پی گزرگاہوں تک محدود ہے؟ کیا اندرون شہر ہر خلاف ورزی کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے؟

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ رکشہ ایک موڑ پر جھول کھا گیا، اور اگر چند لمحے مزید بے قابو رہتا تو شاید آج تین لاشیں اٹھتی۔ شہریوں نے سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سراسر غفلت نہیں بلکہ انسانی جانوں سے کھلا مذاق ہے۔

    شہریوں کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ڈرائیور کے خلاف کارروائی کی جائے، ٹریفک پولیس کی کارکردگی کا آڈٹ ہو، اور ایسے خطرناک ٹرانسپورٹ مافیا کو لگام دی جائے جو سڑکوں پر موت بانٹ رہے ہیں۔

    لیکن سوال پھر وہی ہےکہ کیا کوئی جاگے گا؟ یا ہم کسی لاش کا انتظار کر رہے ہیں؟

  • اوکاڑہ: خاتون منشیات فروش کو 9 سال قید، 80 ہزار روپے جرمانہ

    اوکاڑہ: خاتون منشیات فروش کو 9 سال قید، 80 ہزار روپے جرمانہ

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی،نامہ نگار ملک ظفر) ایڈیشنل سیشن جج خالد رحمان کی عدالت نے تھانہ صدر اوکاڑہ کی کارروائی پر خاتون منشیات فروش عذرا کو 9 سال قید اور 80 ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنادی۔

    استغاثہ کے مطابق پولیس تھانہ صدر نے نومبر 2024 میں محبوب ٹاؤن کے قریب کارروائی کرتے ہوئے خاتون عذرا کے قبضے سے 2400 گرام چرس برآمد کی تھی۔ مقدمہ نمبر 3360/24 درج کیا گیا اور مکمل شواہد کے ساتھ چالان عدالت میں جمع کرایا گیا۔

    عدالت نے استغاثہ کے شواہد کو سچ قرار دیتے ہوئے مجرمہ کو سخت سزا سنائی۔ ڈی پی او محمد راشد ہدایت نے کیس میں بہتر تفتیشی و قانونی کارکردگی پر متعلقہ ٹیم کو شاباش دی اور کہا کہ منشیات فروشوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی۔

  • اوکاڑہ بائی پاس پر مزدا ٹرک کی ٹریلر سے ٹکر، 2 افراد زخمی

    اوکاڑہ بائی پاس پر مزدا ٹرک کی ٹریلر سے ٹکر، 2 افراد زخمی

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی،نامہ نگار ملک ظفر)اوکاڑہ بائی پاس کے قریب اذان گارڈن، نزد 52 ٹو ایل کے مقام پر ایک تیز رفتار مزدا ٹرک نمبری LES-3426 نے آگے جانے والے ٹریلر Z-1237 کو پیچھے سے ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں مزدا میں سوار دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے میں 25 سالہ راشد ولد منظور سکنہ وہاڑی اور 26 سالہ بلال ولد بشیر سکنہ پتوکی کو شدید چوٹیں آئیں۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں راشد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    حادثے کی وجہ تاحال تیز رفتاری یا ممکنہ بریک فیل ہونا قرار دی جا رہی ہے، تاہم پولیس نے بھی موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ واقعہ کے بعد ٹریفک کی روانی کچھ دیر کے لیے متاثر ہوئی، جسے بعد ازاں بحال کر دیا گیا۔

  • اوچ شریف: دریائے چناب کے کنارے نامعلوم شخص کی لاش برآمد

    اوچ شریف: دریائے چناب کے کنارے نامعلوم شخص کی لاش برآمد

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)دریائے چناب کے کنارے واقع موضع شکرانی، بستی رسول پور کے قریب ایک نامعلوم شخص کی تیرتی ہوئی لاش برآمد ہوئی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی شہری کی اطلاع پر ریسکیو 1122 کی ٹیم موقع پر پہنچی اور فوری کارروائی کرتے ہوئے لاش کو دریا سے نکالا۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق متوفی کی عمر تقریباً 35 سال لگتی ہے اور اس کی جیب سے ایک بند موبائل فون بھی برآمد ہوا ہے۔ ابتدائی طور پر موت کی وجوہات سامنے نہیں آ سکیں۔ ریسکیو ٹیم نے لاش کو پولیس کے حوالے کر دیا، جبکہ فرانزک ٹیم کے پہنچنے کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔

    پولیس کے مطابق لاش کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی اور مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔ واقعہ نے مقامی آبادی میں تشویش اور خوف کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ پولیس نے اہل علاقہ سے لاش کی شناخت کے لیے تعاون کی اپیل کی ہے۔

  • سیالکوٹ: بارش کے باعث کچے مکان کی چھت گرنے سے تین کمسن بہنیں زخمی

    سیالکوٹ: بارش کے باعث کچے مکان کی چھت گرنے سے تین کمسن بہنیں زخمی

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی،بیوروچیف خرم میر)تحصیل پسرور کے گاؤں پریل میں بارش کے باعث ایک کچے مکان کی چھت گرنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں تین کمسن بہنیں ملبے تلے دب گئیں۔ واقعے نے علاقے میں کہرام برپا کر دیا جبکہ مقامی آبادی نے اپنی مدد آپ کے تحت فوری امدادی کارروائیاں کیں۔

    تفصیلات کے مطابق پریل گاؤں چونڈہ روڈ پسرور میں واقع ایک غریب گھرانے کے کچے مکان کی ایک کمرے کی چھت گزشتہ رات شدید بارشوں کے باعث گر گئی۔ چھت مٹی، لکڑی کے بانسوں اور گھاس پھوس سے بنی ہوئی تھی، جو بارش کا پانی جذب کر کے بھاری ہو چکی تھی اور اچانک زوردار آواز کے ساتھ منہدم ہو گئی۔

    حادثے کے وقت کمرے میں گھر کے تین کمسن بچیاں 14 سالہ نور فاطمہ، 13 سالہ ایمان فاطمہ، اور 12 سالہ عریب فاطمہ سورہی تھیں، جو ملبے تلے دب گئیں۔ واقعہ کی آواز سن کر اہلِ محلہ فوراً مدد کو پہنچے اور ہاتھوں سے ملبہ ہٹانا شروع کیا۔ اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق 14 سالہ نور اور 12 سالہ عریب کو زخمی حالت میں نکال کر فوری طور پر علامہ اقبال میموریل ہسپتال سیالکوٹ منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ 13 سالہ ایمان کو معمولی چوٹیں آئی تھیں، جسے موقع پر ہی ابتدائی طبی امداد دی گئی۔ خوش قسمتی سے تینوں بچیاں زندہ بچ گئیں، تاہم انہیں شدید جسمانی اور ذہنی صدمہ پہنچا ہے۔

    اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ کئی ماہ سے اس چھت کی مرمت کرانے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن مالی وسائل نہ ہونے کے باعث ایسا نہ کر سکے۔ متاثرہ خاندان نے حکومت سے فوری امداد اور کچے مکانات کی مرمت کے لیے مالی تعاون کی اپیل کی ہے۔

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ گاؤں پریل میں متعدد کچے گھر ایسے ہیں جن کی چھتیں پرانی اور بوسیدہ ہیں اور مون سون کی بارشوں میں کسی بھی وقت خطرناک حادثات کا باعث بن سکتی ہیں۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے گھروں کا سروے کر کے مرمت یا امدادی اقدامات کرے۔

  • ڈیرہ غازی خان: سپربند آر-2 میں شگاف، انتظامیہ غائب، زمینداروں نے سیلابی تباہی روک لی

    ڈیرہ غازی خان: سپربند آر-2 میں شگاف، انتظامیہ غائب، زمینداروں نے سیلابی تباہی روک لی

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ) دریائے سندھ میں طغیانی کے نتیجے میں ڈیرہ غازی خان کے نواحی علاقے دراہمہ کے قریب واقع سپربند آر-2 شدید دباؤ برداشت نہ کرتے ہوئے شگاف کا شکار ہو گیا، جس سے سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ متاثرہ علاقوں میں کپاس، دھان، کماد اور سبزیاں پانی میں بہہ گئیں، جب کہ درجنوں مکانات میں پانی داخل ہونے سے مقامی آبادی نقل مکانی پر مجبور ہو گئی۔ انتظامیہ کی غیر موجودگی کے باعث مقامی زمینداروں نے اپنی مدد آپ کے تحت شگاف پر قابو پایا۔

    عینی شاہدین کے مطابق بند پر کئی روز سے پانی کا دباؤ بڑھتا جا رہا تھا اور مقامی زمینداروں نے محکمہ انہار و ضلعی انتظامیہ کو متعدد بار آگاہ بھی کیا، مگر بروقت کوئی اقدام نہ کیا گیا۔

    صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب ضلعی انتظامیہ اور محکمہ انہار کے افسران جائے وقوعہ پر نہ پہنچے۔ ذرائع کے مطابق کمشنر اشفاق چوہدری اور ڈپٹی کمشنر عثمان خالد اس دوران شہر میں نکاسی آب کی نگرانی کے نام پر فوٹو سیشنز میں مصروف رہے، جبکہ دریا کنارے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔

    دوسری جانب مقامی زمینداروں جن میں اللہ ڈتہ سکھانی، خدا بخش سکھانی، غلام عباس کارلو، طالب کارلو، منظور حسین کلر، خادم حسین کلر اور کھول برادری کے دیگر افراد شامل تھے، نے اپنے وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ٹریکٹر ٹرالیاں، مٹی، بوریاں اور انسانی قوت استعمال کر کے سپربند کے شگاف کو بھرنے کی کامیاب کوشش کی، جس سے پانی کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکا۔

    مقامی افراد نے انتظامیہ کی غفلت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ اگر مزید تاخیر ہوئی تو نہ صرف فصلیں، بلکہ قیمتی جانیں بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

    دوسری طرف بارشوں کے باعث دریائے سندھ کے مغربی کنارے واقع علاقے جن میں شاہ صدر دین، پیر عادل، جکھڑ امام شاہ، غوث آباد، دری میرو، بستی بھائی، لاڈن، سمینہ سادات اور دراہمہ سمیت کئی نشیبی علاقے زیرآب آچکے ہیں۔
    سیلابی پانی سے متاثرہ علاقوں میں فوری ریلیف، راشن، ادویات، عارضی رہائش اور طبی سہولیات کی فراہمی وقت کی اشد ضرورت ہے، تاہم اب تک نہ تو کوئی امدادی ٹیم پہنچی ہے اور نہ ہی ضلعی یا صوبائی حکومت کا کوئی نمائندہ متاثرہ دیہاتوں میں آیا ہے، جس سے مقامی افراد میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    متاثرہ علاقوں میں اب بھی پانی جمع ہے اور خدشہ ہے کہ اگر مزید بارشیں ہوئیں یا دریا میں پانی کی سطح بڑھی تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ مقامی سماجی تنظیموں نے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ انسانی و زرعی نقصان کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔

  • ماں اور دو بچے تالاب میں ڈوب کر جاں بحق

    ماں اور دو بچے تالاب میں ڈوب کر جاں بحق

    پنجاب کے شہر پنڈی گھیب سے ایک افسوسناک خبر سامنے آئی ہے جہاں ایک ماں اور اس کے دو بچے تالاب میں ڈوب کر زندگی کی بازی ہار گئے۔ یہ دلخراش واقعہ ضلع اٹک کے پنڈی گھیب کے پرانے علاقے میں پیش آیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق، ایک خاتون نے اپنے دو بچوں کو تالاب میں ڈوبتے ہوئے دیکھا تو انہیں بچانے کے لیے خود بھی تالاب میں چھلانگ لگا دی۔ بدقسمتی سے تالاب کا پانی گہرا تھا جس کی وجہ سے تینوں افراد پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔عینی شاہدین نے بتایا کہ ماں اور بچوں کی جان بچانے کی کوشش انتہائی دلیرانہ تھی، تاہم پانی کی گہرائی اور حالات نے ان کی جان نہ بچائی۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور تینوں لاشوں کو تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔مقامی افراد اور اہل خانہ غمزدہ ہیں اور یہ واقعہ پورے علاقے میں شدید افسوس اور صدمے کا باعث بنا ہوا ہے۔