Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • اوکاڑہ: 15 گینگز کا خاتمہ، 425 اشتہاری گرفتار، کروڑوں کا مال برآمد

    اوکاڑہ: 15 گینگز کا خاتمہ، 425 اشتہاری گرفتار، کروڑوں کا مال برآمد

    اوکاڑہ (نامہ نگار، ملک ظفر)اوکاڑہ پولیس نے ماہ جون 2025 کے دوران جرائم کے خلاف کارروائیوں کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ضلع بھر میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق جون کے مہینے میں پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے 15 خطرناک گینگز کو ختم کیا، جن کے 41 ارکان کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار ملزمان سے 2 کروڑ 10 لاکھ 8 ہزار روپے مالیت کا مال مسروقہ برآمد کیا گیا۔

    کارروائیوں کے دوران ملزمان سے 79 پسٹل، 13 بندوقیں، 7 رائفلیں، 2 ریوالور، ایک کاربین اور 315 گولیاں بھی برآمد ہوئیں۔ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی میں 132 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن سے 139 کلو چرس، 1787 لیٹر شراب، 741 لیٹر لہن اور 11 چالو بھٹیاں برآمد کی گئیں۔

    اشتہاری اور عادی مجرموں کے خلاف بھی موثر کارروائیاں جاری رہیں۔ پولیس نے 425 اشتہاری ملزمان، 53 ٹارگیٹڈ آفینڈرز اور 42 عدالتی مفروران کو گرفتار کیا، جب کہ سنگین مقدمات میں ملوث اے کیٹیگری کے 110 اور بی کیٹیگری کے 315 اشتہاری مجرموں کو بھی حراست میں لیا گیا۔

    شہر میں ایس او ایس ناکے، سرچ و کومبنگ آپریشنز، اور کرائم پاکٹس میں گشت کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز اور کریک ڈاؤن میں مزید تیزی لائی جائے گی تاکہ جرائم کا مکمل قلع قمع کیا جا سکے۔

  • تنگوانی: مسلح ڈاکوؤں کی فائرنگ، مزاحمت پر دو نوجوان شدید زخمی، ایک کی حالت تشویشناک

    تنگوانی: مسلح ڈاکوؤں کی فائرنگ، مزاحمت پر دو نوجوان شدید زخمی، ایک کی حالت تشویشناک

    تنگوانی(باغی ٹی وی،نامہ نگارمنصور بلوچ) مسلح ڈاکوؤں کی فائرنگ، مزاحمت پر دو نوجوان شدید زخمی، ایک کی حالت تشویشناک

    تنگوانی کے نواحی علاقے سلیم کھوسہ فاٹک کے قریب پولیس چوکی کے سامنے مسلح ڈاکوؤں نے دو نوجوانوں سے موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش کی۔ مزاحمت پر ڈاکوؤں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں وقاص احمد باجکانی اور لالو گولو شدید زخمی ہو گئے۔

    زخمی نوجوانوں کو فوری طور پر کندھ کوٹ سول اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وقاص احمد باجکانی کی حالت تشویشناک ہونے پر اُسے سکھر کے ہرا اسپتال ریفر کر دیا گیا ہے۔

    واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ مقامی افراد نے پولیس چوکی کے سامنے اس سنگین واردات پر سیکیورٹی کی ناکامی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

  • احمد پور شرقیہ: ٹرین سے اترنے کی کوشش میں بزرگ شہری کی ٹانگ کٹ گئی،ہسپتال منتقل

    احمد پور شرقیہ: ٹرین سے اترنے کی کوشش میں بزرگ شہری کی ٹانگ کٹ گئی،ہسپتال منتقل

    اوچ شریف(باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان) ڈیرہ نواب ریلوے اسٹیشن پر افسوسناک حادثہ پیش آیا جس میں ایک 60 سالہ بزرگ شہری ٹرین سے اترتے ہوئے زخمی ہو گیا۔ ریسکیو 1122 بہاولپور کے کنٹرول روم سے موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ صبح 4 بج کر 30 منٹ پر پیش آیا، جب لاہور سے کراچی جانے والی پاک بزنس ٹرین جیسے ہی ڈیرہ نواب اسٹیشن پر آہستہ ہوئی تو ایک مسافر اسلم شاہ ولد امام شاہ ٹرین سے اترنے کی کوشش کے دوران پھسل کر نیچے آ گیا۔

    حادثے کے نتیجے میں اسلم شاہ کی بائیں ٹانگ گھٹنے کے نیچے سے کٹ گئی۔ ریسکیو ٹیم (BPA-32) نے چھ منٹ میں جائے وقوعہ پر پہنچ کر فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور زخمی کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمی کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔

    زخمی کا تعلق موضع ٹبی تکوان، احمد پور شرقیہ سے ہے۔

  • واربرٹن: پولیس کی کارروائی، 4 منشیات فروش گرفتار، 6 کلو سے زائد منشیات برآمد

    واربرٹن: پولیس کی کارروائی، 4 منشیات فروش گرفتار، 6 کلو سے زائد منشیات برآمد

    واربرٹن(باغی ٹی وی،نامہ نگار عبدالغفار چوہدری)منشیات فروشوں کے خلاف واربرٹن پولیس کی کامیاب کارروائیاں، 6 کلو سے زائد منشیات برآمد، 4 ملزمان گرفتار

    تھانہ واربرٹن پولیس کی منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔ حالیہ آپریشن کے دوران پولیس نے 4 منشیات فروشوں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے مجموعی طور پر 6 کلو 490 گرام منشیات برآمد کر لیں، جب کہ ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق، پولیس نے مختلف کارروائیوں میں ملزم شجاع الرحمن سے 2100 گرام، فلک شیر سے 650 گرام، سلامت سے 2640 گرام اور شعبان سے 1100 گرام منشیات برآمد کی۔ برآمدہ منشیات میں چرس اور دیگر نشہ آور مواد شامل ہے، جو مختلف مقامات پر فروخت کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔

    پولیس حکام نے تمام ملزمان کے خلاف منشیات ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ ڈی پی او ننکانہ سید ندیم عباس نے ایس ایچ او تھانہ واربرٹن مجاہد عباس ملہی اور ان کی ہمراہی ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ منشیات کے خلاف بلا امتیاز اور بھرپور کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

    ڈی پی او نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ضلع ننکانہ کو منشیات کی لعنت سے پاک کرنا پولیس کی اولین ترجیح ہے، اور منشیات فروش کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ منشیات فروشوں کی نشاندہی کر کے پولیس سے تعاون کریں تاکہ نوجوان نسل کو تباہی سے بچایا جا سکے۔

  • گھر میں چوری کی واردات میں ملوث خاتون ملزمہ گرفتار

    گھر میں چوری کی واردات میں ملوث خاتون ملزمہ گرفتار

    لاہور پولیس نے شہر میں بڑھتے ہوئے چوری اور ڈکیتی کے واقعات پر قابو پانے کے لیے مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد چوروں اور گینگز کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان گرفتاریوں سے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

    ڈیفنس سی پولیس نے ایک گھر میں چوری کی واردات میں ملوث خاتون ملزمہ کو فوری کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے۔ایس پی کینٹ کیپٹن (ر) قاضی علی رضا کے مطابق، زاہد محمود قریشی نامی شہری کی درخواست پر ڈیفنس سی پولیس نے فوری رسپانس کیا اور ملزمہ مہوش کو لاکھوں روپے مالیت کے طلائی زیورات اور نقدی سمیت گرفتار کر لیا۔ایس پی کینٹ نے میڈیا کو بتایا کہ ملزمہ پولیس کو زیادہ دیر تک چکمہ نہ دے سکی اور دورانِ تفتیش اس نے اپنا جرم تسلیم کر لیا۔ ملزمہ کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشنز کے حوالے کر دیا گیا ہے۔متاثرہ شہری زاہد محمود نے اپنے طلائی زیورات اور نقدی کی واپسی پر پولیس کا شکریہ ادا کیا اور ڈھیروں دعائیں دیں۔ ایس پی کینٹ نے ایس ایچ او ڈیفنس سی سید رضا عباس اور پولیس ٹیم کو اس کامیاب کارروائی پر شاباش دی۔ایس پی کینٹ کیپٹن (ر) قاضی علی رضا نے مزید کہا کہ "پولیس عوام کے جان و مال کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت الرٹ ہے۔”

    لاری اڈہ: موٹر سائیکل و موبائل چور گینگ گرفتار
    لاری اڈہ پولیس نے موٹر سائیکل اور موبائل چوری کی وارداتوں میں ملوث ایک متحرک گینگ کے سرغنہ سمیت دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ایس پی سٹی بلال احمد کے مطابق، لاری اڈہ پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے علی رضا عرف چٹا اور اس کے ساتھی آصف کو حراست میں لیا۔ ملزمان کے قبضے سے ایک موٹر سائیکل، چار موبائل فون اور غیر قانونی اسلحہ برآمد کیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ملزمان لاری اڈہ کے گرد و نواح سمیت لاہور کے مختلف مقامات پر شہریوں کے ساتھ وارداتیں کرتے تھے۔ ان کا طریقہ واردات یہ تھا کہ وہ مسافروں کے موبائل فون چھینتے اور گلی محلوں میں کھڑی موٹر سائیکلیں لے کر فرار ہو جاتے۔گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے مزید تفتیش جاری ہے۔ ایس پی سٹی بلال احمد نے لاری اڈہ پولیس کو اس متحرک گینگ کی گرفتاری پر شاباش دی اور کہا کہ "واردات کرنے والے متحرک اسٹریٹ کریمنلز کی گرفتاری کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔”

    گجر پورہ: دو رکنی موٹر سائیکل چور گینگ گرفتار
    گجر پورہ پولیس نے بھی خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ایک دو رکنی موٹر سائیکل چور گینگ کو گرفتار کر لیا ہے۔ایس ایچ او گجر پورہ ذکا کے مطابق، گرفتار ملزمان کی شناخت عمران اور بلال کے طور پر ہوئی ہے۔ ان کے قبضے سے چار چوری شدہ موٹر سائیکلیں اور دو غیر قانونی پسٹل برآمد کیے گئے ہیں۔پولیس نے بتایا کہ یہ ملزمان گجر پورہ سمیت لاہور کے مختلف مقامات پر وارداتیں کرتے تھے۔ ان کا نشانہ گلی محلوں، مارکیٹ بازاروں اور رش والے مقامات پر کھڑی ایسی موٹر سائیکلیں ہوتی تھیں جنہیں لاک نہیں کیا گیا ہوتا تھا۔ ملزمان بغیر لاک کے کھڑی موٹر سائیکلیں لے کر موقع سے فرار ہو جاتے۔گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے تفتیش جاری ہے۔ ایس پی سول لائنز چوہدری اثر علی نے گجر پورہ پولیس کو اس متحرک گینگ کی گرفتاری پر شاباش دیتے ہوئے کہا کہ "اسٹریٹ کریمنلز کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔”

  • کولکتہ میں قانون کی طالبہ سے مبینہ زیادتی،بنائی گئی ویڈیو،منت سماجت بھی کام نہ آئی

    کولکتہ میں قانون کی طالبہ سے مبینہ زیادتی،بنائی گئی ویڈیو،منت سماجت بھی کام نہ آئی

    کولکتہ: مغربی بنگال میں ایک 24 سالہ قانون کی طالبہ نے کالج کیمپس میں اپنے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کا الزام عائد کیا ہے، جس نے ریاست میں ایک بار پھر خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ طالبہ نے اپنی شکایت میں بتایا ہے کہ زیادتی سے قبل اسے دل کا دورہ پڑا تھا اور مرکزی ملزم منوجیت مشرا نے اپنے ساتھی ملزم کو اس کے لیے انہیلر لانے کو کہا تھا۔

    متاثرہ طالبہ نے اپنی شکایت میں بتایا کہ 25 جون کو وہ ایک سیاسی میٹنگ کے لیے کیمپس میں موجود تھی۔ جب وہ جانے لگی تو منوجیت نے اسے روک لیا۔ بعد میں، اس نے اسے جنسی تعلقات پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ طالبہ نے اپنی شکایت میں کہا، "میں نے انکار کیا اور لڑتی رہی، اسے کچھ بھی کرنے سے روکا اور اسے پیچھے دھکیلا۔ میں مسلسل روتی رہی اور اسے مجھے جانے دینے کے لیے کہتی رہی۔” اس نے مزید کہا کہ اس نے منوجیت کو بتایا کہ اس کا بوائے فرینڈ ہے اور وہ اس سے محبت کرتی ہے۔طالبہ نے بتایا کہ "لیکن وہ نہیں مانا۔ وہ مجھے مجبور کرتا رہا۔ اور اس کے بعد اس سب کی وجہ سے مجھے گھبراہٹ کا دورہ پڑا اور سانس لینے میں دشواری ہونے لگی۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے روبی جنرل ہسپتال لے جاؤ۔ پھر میں نے ان سے کہا کہ کم از کم میرے لیے انہیلر لے آؤ۔ وہ لے آیا۔” اس نے لکھا، "میں نے اسے لیا اور بہتر محسوس کیا اور میں نے اپنی چیزیں پیک کیں اور فرار ہونے کے لیے باہر گئی اور دیکھا کہ انہوں نے مرکزی گیٹ بند کر دیا ہے اور گارڈ بے بس تھا اور اس نے میری مدد نہیں کی۔”

    متاثرہ نے بتایا کہ ساتھی ملزمان ذیب احمد اور پرمیت مکھرجی نے اسے زبردستی یونین روم میں گھسیٹا۔ اس نے کہا کہ اس نے منوجیت کے پاؤں چھو کر اسے جانے دینے کی بھیک مانگی۔ منوجیت نے ساتھی ملزمان کو اسے گارڈ کے کمرے میں لے جانے اور گارڈ کو باہر بٹھانے کو کہا – یہ حقیقت سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ متاثرہ نے بتایا کہ اس کے بعد منوجیت نے اس کے کپڑے اتارے اور اس کے ساتھ زیادتی کی۔ اس نے لکھا، "جب میں نے مقابلہ کیا تو اس نے مجھے بلیک میل کیا، دھمکیاں دیں جو وہ پہلے سے کر رہا تھا۔ اس نے مجھے دھمکی دی کہ وہ میرے بوائے فرینڈ کو مار ڈالے گا اور میرے والدین کو گرفتار کروا دے گا۔”

    متاثرہ نے اپنی ہولناک کہانی میں مزید لکھا، "میں اب بھی لڑتی رہی اور پھر اس نے مجھے میری برہنہ حالت میں دو ویڈیوز دکھائیں جب اس نے میرے ساتھ زیادتی کی۔ اس نے مجھے دھمکی دی کہ اگر میں تعاون نہیں کروں گی اور جب بھی وہ مجھے بلائے گا میں نہیں آؤں گی تو وہ یہ ویڈیوز سب کو دکھا دے گا۔”ایک موقع پر، اس نے لکھا کہ اس کے سر پر چوٹ لگی، لیکن حملہ جاری رہا۔ "میں اپنی زندگی کے لیے لڑ رہی تھی۔ اس نے مجھے ہاکی اسٹک سے مارنے کی بھی کوشش کی۔ میں نے خود کو ایک مردہ جسم کی طرح چھوڑ دیا۔”حملے کے بعد، اس نے بتایا کہ منوجیت نے اسے خاموش رہنے کی دھمکی دی۔ پھر وہ کالج سے نکلی، اپنے والد کو بلایا اور انہیں اسے لینے کو کہا۔

    متاثرہ کے بیان کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے تصدیق ہوئی ہے جس میں ملزمان اسے جرم کی جگہ تک گھسیٹتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ مقامی میڈیا نے اس میڈیکل اسٹور کو بھی تلاش کیا ہے جہاں سے ذیب نے انہیلر خریدا تھا۔ اسٹور کے عملے نے تصدیق کی کہ وہ اس وقت انہیلر خریدنے آیا تھا جس کا ذکر متاثرہ نے اپنی شکایت میں کیا ہے۔

    اس ہولناک جرم نے، جو ریاستی سطح پر چلنے والے آر جی کار میڈیکل کالج اور ہسپتال میں ایک ڈاکٹر کے ساتھ ہونے والے سنگین ریپ اور قتل کے ایک سال سے بھی کم عرصے بعد پیش آیا ہے، ترنمول کانگریس حکومت کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ خاص طور پر مرکزی ملزم منوجیت مشرا کے حکمران جماعت سے تعلقات کی وجہ سے۔ جہاں ترنمول کانگریس کا کہنا ہے کہ ملزمان کو ان کے سیاسی روابط سے قطع نظر سخت سزا دی جائے گی، وہیں اپوزیشن کا الزام ہے کہ یہ حکمران جماعت کی حمایت ہے جو منوجیت جیسے لوگوں کو ایسے جرائم کے ارتکاب کے قابل بناتی ہے۔

    دوسری جانب مدھیہ پردیش کے شہر نرسنگھ پور میں 27 جون کو ایک 19 سالہ لڑکی سندھیا چودھری کو سرکاری ضلع اسپتال کے اندر دن دہاڑے سفاکانہ طریقے سے قتل کر دیا گیا، جس نے عوامی تحفظ اور اسپتالوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب لڑکی کو ایک جنونی شخص نے نشانہ بنایا، اور سب سے زیادہ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ اس دوران کوئی بھی مدد کے لیے آگے نہیں آیا۔پیر کو منظر عام پر آنے والی چونکا دینے والی فوٹیج میں ملزم ابھیشیک کوشتی کو سندھیا کا گلا کاٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جبکہ آس پاس موجود افراد – جن میں اسپتال کا عملہ بھی شامل تھا – حیرت زدہ اور بے حرکت کھڑے رہے، اور کسی نے بھی مداخلت نہیں کی۔ کچھ لوگ تو لڑکی کے اسپتال کے فرش پر خون بہنے کے دوران وہاں سے گزرتے ہوئے بھی نظر آئے۔جس جگہ کو شفا کا مرکز ہونا چاہیے تھا، وہ ایک قتل گاہ بن گئی۔ موبائل کیمرے کی فوٹیج میں ابھیشیک، کالی شرٹ پہنے، سندھیا کو تھپڑ مارتے، اسے زمین پر گراتے، اس کے سینے پر بیٹھ کر اسے جکڑتے اور پھر چاقو سے اس کا گلا کاٹتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔یہ سب کچھ دن کی روشنی میں، ایمرجنسی ونگ کے اندر، ڈاکٹروں اور محافظوں سے چند میٹر کے فاصلے پر ہوا۔ یہ حملہ تقریباً 10 منٹ تک جاری رہا۔ حملہ آور نے اس کے بعد اپنا گلا کاٹنے کی کوشش کی، لیکن ناکام رہا، اسپتال سے فرار ہوا، باہر کھڑی بائیک سٹارٹ کی اور غائب ہو گیا۔

    قتل کے وقت ٹراما سینٹر کے باہر دو سیکیورٹی گارڈ تعینات تھے۔ اندر، اسپتال کے متعدد عملے کے ارکان موجود تھے، جن میں ایک ڈاکٹر، نرسیں اور وارڈ بوائے شامل تھے۔ کسی نے بھی حملہ آور کو نہیں روکا۔سیکیورٹی کی مکمل ناکامی نے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو خوفزدہ کر دیا۔ ٹراما وارڈ میں داخل 11 مریضوں میں سے آٹھ نے اسی دن چھٹی لے لی، اور باقی اگلے دن صبح چلے گئے۔سندھیا اس دن تقریباً 2 بجے اپنے گھر سے نکلی تھی، اور اپنے خاندان کو بتایا تھا کہ وہ زچہ و بچہ وارڈ میں ایک دوست کی بھابھی سے ملنے جا رہی ہے۔ ابھیشیک کوشتی مبینہ طور پر دوپہر سے ہی اسپتال کے آس پاس گھوم رہا تھا – غالباً اس کا انتظار کر رہا تھا۔ دونوں نے کمرہ نمبر 22 کے باہر مختصر بات کی اس سے پہلے کہ یہ تصادم جان لیوا ثابت ہو۔قتل تیزی سے ہوا، خون بہنے سے موت واقع ہو گئی۔ سندھیا موقع پر ہی دم توڑ گئی۔لڑکی کے خاندان کو تقریباً 3:30 بجے مطلع کیا گیا۔ جب تک وہ اسپتال پہنچے، اس کی لاش ابھی تک جائے وقوعہ پر پڑی تھی۔غصے میں آ کر اہل خانہ نے اسپتال کے باہر سڑک کو بلاک کر دیا۔ یہ احتجاج رات 10:30 بجے تک پرسکون ہو گیا، لیکن رات 2 بجے تک دوبارہ ماحول کشیدہ رہا، جب حکام نے غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔ یہ واقعہ مدھیہ پردیش میں اسپتال سیکیورٹی اور عوامی مقامات پر بڑھتی ہوئی بے حسی کے بارے میں تشویشناک سوالات اٹھا رہا ہے۔

  • خریدار بن کر قیمتی موبائل اور موٹرسائیکلیں ہتھیانے والا گروہ بے نقاب

    خریدار بن کر قیمتی موبائل اور موٹرسائیکلیں ہتھیانے والا گروہ بے نقاب

    لاہور میں شہریوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے دھوکہ دینے والا گروہ آخرکار قانون کی گرفت میں آ گیا۔ پولیس نے گروہ کے سرغنہ شہباز کو گرفتار کر لیا ہے، جو خود کو خریدار ظاہر کرکے لوگوں کو قیمتی اشیاء سے محروم کر دیتا تھا۔

    ملزم شہباز سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر قیمتی موبائل فونز، موٹرسائیکلوں اور دیگر اشیاء کے فروخت سے متعلق اشتہارات تلاش کرتا تھا۔ وہ مالک سے رابطہ کرکے خود کو سنجیدہ خریدار ظاہر کرتا، اور چیز چیک کرنے کے بہانے ملاقات طے کرکے موقع سے اشیاء لے کر فرار ہو جاتا تھا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہباز کو سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ٹریس کرکے گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کے وقت ملزم کے قبضے سے جعلی نمبر پلیٹ والی لگژری گاڑی، چار قیمتی موبائل فونز اور اسلحہ برآمد ہوا۔ابتدائی تفتیش میں ملزم نے لاہور، فیصل آباد اور اسلام آباد میں متعدد وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔ پولیس کے مطابق وہ اپنی وارداتوں میں جعلی نمبر پلیٹس والی گاڑیوں کا استعمال کرتا تھا تاکہ شناخت نہ ہو سکے۔

    حکام کے مطابق، گرفتار ملزم کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور توقع ہے کہ جلد باقی ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا جائے گا۔پولیس کا کہنا ہے کہ شہری سوشل میڈیا پر کسی بھی قسم کی خرید و فروخت کے دوران احتیاط برتیں اور ذاتی ملاقات میں اشیاء دکھانے یا دینے سے گریز کریں، خاص طور پر تنہائی میں۔ اس قسم کی وارداتوں سے بچنے کے لیے پولیس سے مدد لینے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔

  • احمدپورشرقیہ:امتحان دینے آنیوالی طالبات کی وین میں آگ لگ گئی، ایک طالبہ جاں بحق اور 10 زخمی

    احمدپورشرقیہ:امتحان دینے آنیوالی طالبات کی وین میں آگ لگ گئی، ایک طالبہ جاں بحق اور 10 زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) احمد پور شرقیہ ٹول پلازہ کے قریب ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں طالبات سے بھری ہائی ایس وین میں ناقص ایل پی جی سلنڈر کے پھٹنے سے خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔ حادثے کے نتیجے میں ایک نوجوان طالبہ جاں بحق جبکہ 10 دیگر طالبات بری طرح جھلس گئیں اور زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

    ذرائع کے مطابق، ہائی ایس وین میں سوار 19 طالبات لیاقت پور سے احمد پور شرقیہ میں امتحان دے کر واپس جا رہی تھیں۔ جیسے ہی گاڑی ٹول پلازہ کے قریب پہنچی، اچانک زور دار دھماکے سے سلنڈر پھٹ گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے شعلوں نے پوری وین کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ طالبات چیختی چلاتی باہر نکلنے کی کوشش کرتی رہیں، مگر خوفناک آگ نے کئی کو بری طرح جھلسا دیا۔ مقامی افراد نے فوراً امدادی کارروائیاں شروع کیں اور ریسکیو 1122 کو اطلاع دی۔ ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا اور شدید زخمی طالبات کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا۔

    حادثے میں ایک طالبہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئی جبکہ دیگر 10 طالبات کی حالت بدستور نازک بتائی جا رہی ہے۔ جھلسنے والی طالبات میں ثنا بنت اللہ دتہ، ثنا بنت رمضان، تانیا بنت محمد بخش، ماریا بنت محمد اسلم، مشعل بنت ظفر، امِ حبیبہ بنت طاہر، اجالا بنت سلیم، عائشہ بنت الٰہی بخش، راحت بی بی بنت غلام مرتضیٰ اور منازہ عرف طیبہ عباس شامل ہیں جن کی عمریں 17 سے 25 سال کے درمیان ہیں۔

    متاثرہ طالبات کو تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ اسپتال میں رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے جب والدین اور عزیز و اقارب غم سے نڈھال ہو گئے۔

    علاقہ مکینوں اور سوشل ورکرز نے ناقص سلنڈرز کے استعمال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے فوری کارروائی اور مؤثر نگرانی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ آئندہ اس قسم کے دلخراش سانحات سے بچا جا سکے۔

  • اوکاڑہ: ٹریکٹر ٹرالی کھائی میں الٹ گئی، 25 سالہ نوجوان جاں بحق

    اوکاڑہ: ٹریکٹر ٹرالی کھائی میں الٹ گئی، 25 سالہ نوجوان جاں بحق

    اوکاڑہ (نامہ نگار، ملک ظفر) اوکاڑہ کے نواحی علاقے 36 جوڑے روڈ پر افسوسناک حادثے میں ایک نوجوان جاں بحق ہو گیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق مٹی سے بھری ٹریکٹر ٹرالی کا ٹائر اچانک برسٹ ہو گیا جس کے باعث وہ بے قابو ہو کر کھائی میں جا گری۔

    حادثہ چک نمبر 6 سے چک 9 فارم والا کے قریب پیش آیا، جہاں ٹرالی پر سوار 25 سالہ نوجوان شاہد ولد اسلم سکنہ چک نمبر 11 فور ایل، ٹرالی کے نیچے دب گیا۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور نوجوان کو بیہوشی کی حالت میں ٹرالی کے نیچے سے نکالا۔

    ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر ہی نوجوان کو سی پی آر دینے کی کوشش کی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔ حادثے کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر قانونی کارروائی مکمل کی، جس کے بعد متوفی کی لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔

    عینی شاہدین کے مطابق حادثہ تیز رفتاری اور بوسیدہ ٹائر کے باعث پیش آیا۔ علاقہ مکینوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ پرانی اور خراب ٹرالیوں کی فٹنس کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ ایسے جان لیوا حادثات سے بچا جا سکے۔

  • اوکاڑہ: جبوکہ روڈ پر پولیس مقابلہ، 2 خطرناک ڈاکو ہلاک، 2 فرار

    اوکاڑہ: جبوکہ روڈ پر پولیس مقابلہ، 2 خطرناک ڈاکو ہلاک، 2 فرار

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)اوکاڑہ کے علاقے جبوکہ روڈ پر پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان ہونے والے مقابلے میں دو خطرناک ملزمان ہلاک جبکہ ان کے دو ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ ہلاک ہونے والے دونوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔ پولیس کے مطابق یہ ملزمان علاقے میں خوف کی علامت سمجھے جاتے تھے۔

    ڈسٹرکٹ آفیسر کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) مہر محمد یوسف کے مطابق ہلاک ہونے والے ڈاکوؤں کی شناخت صدی مراثی اور علی شیر وٹو کے ناموں سے ہوئی ہے۔ صدی مراثی پر ڈکیتی، موٹر سائیکل چوری، نقب زنی سمیت 32 سنگین مقدمات درج تھے جبکہ علی شیر وٹو کے خلاف ڈکیتی، گاڑی چوری اور نقب زنی سمیت 72 مقدمات زیرِ تفتیش تھے۔

    واقعے کے بعد سی سی ڈی پر حملہ، مزاحمت، قتل اور اسلحہ برآمدگی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ جائے وقوعہ سے دو پسٹل اور متعدد گولیاں بھی برآمد ہوئیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے دونوں ڈاکوؤں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور وہ جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے۔

    ریجنل آفیسر سی سی ڈی ساہیوال ریجن ساجد کھوکھر اور ڈی او اوکاڑہ مہر محمد یوسف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ اور امن و امان کا قیام ہماری اولین ترجیح ہے۔ عوام نے خطرناک ڈاکوؤں کی ہلاکت پر سکھ کا سانس لیا ہے۔ پولیس کی جانب سے مزید کارروائیاں جاری ہیں۔