Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • سیالکوٹ: عید پر شراب سپلائی کی کوشش ناکام، 150 بوتلیں برآمد، ملزم گرفتار

    سیالکوٹ: عید پر شراب سپلائی کی کوشش ناکام، 150 بوتلیں برآمد، ملزم گرفتار

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر مدثر رتو) سیالکوٹ پولیس نے ڈی پی او سیالکوٹ کے خصوصی احکامات پر مؤثر کارروائی کرتے ہوئے لاہور سے شراب کی بڑی کھیپ لا کر عید پر فروخت کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔ تھانہ صدر کے ایس ایچ او میاں عبدالرزاق کی سربراہی میں ہونے والی کارروائی میں ملزم راہول مسیح کو گرفتار کر لیا گیا۔

    پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزم عید کے موقع پر سیالکوٹ میں قیمتی شراب فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ دورانِ تلاشی ملزم کے قبضے سے 150 بوتلیں ولایتی شراب برآمد کی گئیں، جب کہ شراب کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی گاڑی کو بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

    پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔ ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ عید جیسے مذہبی تہواروں پر ناقص یا زہریلی شراب کے استعمال سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا خدشہ رہتا ہے، جس کے پیش نظر ڈی پی او سیالکوٹ نے تمام تھانوں کو منشیات فروشوں اور شراب سپلائرز کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایات جاری کر رکھی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت ایکشن جاری رہے گا۔

  • حافظ آباد: تھانہ سٹی پولیس کی منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی، 2 گرفتار

    حافظ آباد: تھانہ سٹی پولیس کی منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی، 2 گرفتار

    حافظ آباد(باغی ٹی وی،خبر نگارشمائلہ) تھانہ سٹی پولیس کی منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی، 2 گرفتار، 50 لیٹر دیسی، 11 بوتلیں ولایتی شراب برآمد

    تفصیل کے مطابق تھانہ سٹی حافظ آباد کی منشیات فروشوں کے خلاف کامیاب کارروائی، ایس ایچ او انسپکٹر مذمل عباس اور انچارج چوکی اے ڈویژن سب انسپکٹر محمد عمران کی قیادت میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران دو منشیات فروشوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار ملزمان میں عظمت مسیح ولد اکبر مسیح اور آقاش ولد یونس مسیح ساکنان محلہ خانپورہ شامل ہیں۔

    کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے 50 لیٹر دیسی شراب اور 11 بوتلیں ولایتی شراب برآمد کی گئیں۔ پولیس نے دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 1050/25 درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

    حافظ آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق منشیات فروشوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ معاشرے کو منشیات جیسے مہلک ناسور سے محفوظ رکھا جا سکے اور نوجوان نسل کا مستقبل بچایا جا سکے۔

  • اوچ شریف:دریائے ستلج،بیٹ لنگاہ پل ٹوٹ پھوٹ کا شکار، آمدورفت معطل، فوری مرمت کا مطالبہ

    اوچ شریف:دریائے ستلج،بیٹ لنگاہ پل ٹوٹ پھوٹ کا شکار، آمدورفت معطل، فوری مرمت کا مطالبہ

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) دریائے ستلج پر واقع تاریخی بیٹ لنگاہ پل شدید خستہ حالی کا شکار ہو چکا ہے، جس کے باعث علاقے کے ہزاروں مکین آمد و رفت کے بنیادی حق سے محروم ہو چکے ہیں۔ عوامی شکایات کے باوجود کئی برسوں سے اس پل کی مرمت یا ازسر نو تعمیر کی جانب کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا، جس پر شہریوں اور دیہی علاقوں کے رہائشیوں نے شدید احتجاج اور فوری نوٹس کا مطالبہ کیا ہے۔

    پل کے متعدد تختے اور لکڑیاں ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں، جبکہ مقامی افراد کے مطابق حالیہ دنوں میں نامعلوم افراد کی جانب سے پل کے بعض حصے چرا لیے گئے، جس سے پیدل چلنے والوں تک کے لیے گزرنا جان جوکھوں کا کام بن گیا ہے۔ نہ صرف موٹر سائیکل، رکشہ یا ٹریکٹر جیسی سواریوں کا گزرنا ممکن نہیں رہا بلکہ اسکول جانے والے بچے، بزرگ، مریض اور خواتین سب شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

    بیٹ لنگاہ پل، احمدپور شرقیہ کے ساتھ ساتھ قریبی دیہات کو اوچ شریف اور دیگر شہری مراکز سے ملانے والا واحد اور اہم ذریعہ ہے۔ پل کے غیر فعال ہونے کی وجہ سے اب لوگوں کو دریائے ستلج کے پار جانے کے لیے طویل راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں، جس سے وقت اور پیسے دونوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔

    مقامی دیہاتیوں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ بیٹ لنگاہ پل صرف لکڑی کے تختوں سے تعمیر کردہ ایک عارضی ڈھانچہ رہ گیا ہے جو کسی بھی وقت بڑے حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔ عوامی حلقے حکومتِ پنجاب، محکمہ ہائی وے، محکمہ انہار اور ضلعی انتظامیہ بہاولپور سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر پل کی حالت کا نوٹس لیں اور اس کی فوری مرمت یا ازسرنو تعمیر کا کام شروع کریں۔

    شہریوں نے منتخب نمائندوں، بالخصوص ایم این اے، ایم پی اے، اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ زمینی حقائق کا خود مشاہدہ کریں اور اس اہم پل کو علاقائی ترقی اور عوامی فلاح کے تناظر میں ترجیحی بنیادوں پر بحال کریں۔ یہ پل صرف ایک گزرگاہ نہیں بلکہ ہزاروں لوگوں کے روزمرہ کے مسائل، تعلیم، صحت اور تجارت سے جڑی معاشی زندگی کا بنیادی سہارا ہے۔

    اگر بیٹ لنگاہ پل کی فوری بحالی نہ کی گئی تو عوام شدید احتجاج پر مجبور ہوں گے۔

  • ڈیرہ غازی خان: اے سی ہیڈکوارٹر کا مختلف بازاروں پر چھاپہ، گرانفروشی پر مرغی فروش گرفتار

    ڈیرہ غازی خان: اے سی ہیڈکوارٹر کا مختلف بازاروں پر چھاپہ، گرانفروشی پر مرغی فروش گرفتار

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹر شاہد خان)ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر ہیڈ کوارٹر نذر حسین کورائی نے شہر کے مختلف علاقوں اور بازاروں کا اچانک معائنہ کیا۔ معائنے کے دوران گرانفروشی ثابت ہونے پر ایک مرغی فروش کو گرفتار کروا دیا گیا۔

    اسسٹنٹ کمشنر نذر حسین کورائی نے خیابان سرور، سمینہ چوک، چورہٹہ، گولائی کمیٹی اور دیگر مقامات کا دورہ کیا جہاں پھل، سبزیوں، گوشت کے معیار اور نرخوں کی جانچ پڑتال کی گئی، جبکہ ہوٹلوں کا بھی معائنہ کیا گیا۔

    انہوں نے دکانوں میں سرکاری نرخ نامے کی دستیابی، پرائس کنٹرول ایکٹ پر عمل درآمد اور دیگر متعلقہ معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر اے سی ہیڈ کوارٹر کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کی ہدایت پر پرائس کنٹرول ایکٹ پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔

    انہوں نے تمام دکانداروں کو ہدایت کی کہ وہ سرکاری نرخ نامے نمایاں جگہوں پر آویزاں کریں اور مقررہ نرخوں پر ہی پھل، سبزی، گوشت اور دیگر اشیائے خوردونوش فروخت کریں تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

  • سیالکوٹ: پولیس حراست سے فرار ہونے والا ملزم نسیم اختر دوبارہ گرفتار

    سیالکوٹ: پولیس حراست سے فرار ہونے والا ملزم نسیم اختر دوبارہ گرفتار

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف: شاہد ریاض) ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد کی بروقت نگرانی، مؤثر حکمت عملی اور ہدایات کی روشنی میں پولیس کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے، تھانہ کوٹلی سید امیر کی پولیس حراست سے عدالت میں پیشی کے دوران فرار ہونے والا ملزم نسیم اختر دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ملزم نسیم اختر، جو مقدمہ نمبر 106/25 بجرم 379 (چوری) اور مقدمہ نمبر 187/25 بجرم 380 (رہائشی یا نجی جگہ سے چوری) میں زیرِ تفتیش تھا، گزشتہ روز عدالت میں پیشی کے دوران پولیس کی گرفت سے فرار ہوگیا تھا۔ واقعہ کے فوری بعد ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد نے سخت نوٹس لیتے ہوئے فرائض میں غفلت برتنے والے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کروایا اور ملزم کی فوری گرفتاری کے لیے ڈی ایس پی صدر کی سربراہی میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔

    پولیس ٹیموں نے جدید ٹیکنالوجی، ہیومن انٹیلیجنس اور پیشہ ورانہ مہارت کا استعمال کرتے ہوئے مسلسل چھاپے مارے اور بالآخر فرار ہونے والے ملزم کو دوبارہ گرفتار کر لیا۔ ذرائع کے مطابق ملزم اس وقت پولیس کی حراست میں ہے، اور اس سے مزید تفتیش جاری ہے۔

    ڈی پی او فیصل شہزاد نے پولیس ٹیم کی اس کامیاب کارروائی کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ جرائم پیشہ عناصر کو کسی صورت قانون سے فرار کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیالکوٹ پولیس اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں اور ہر قیمت پر قانون کی عملداری کو یقینی بنائے گی۔

  • اوکاڑہ: جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ بنانے کے لیے قائم نجی آپریشن تھیٹر بے نقاب، ملزمان گرفتار

    اوکاڑہ: جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ بنانے کے لیے قائم نجی آپریشن تھیٹر بے نقاب، ملزمان گرفتار

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) تھانہ سٹی دیپالپور پولیس نے اہم کارروائی کرتے ہوئے جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ بنانے کے لیے استعمال ہونے والا نجی آپریشن تھیٹر بے نقاب کر دیا ہے۔ ایس ایچ او فخر وٹو نے ٹیم کے ہمراہ چھاپہ مار کر مرکزی ملزم سمیت دو افراد کو گرفتار کر کے سازو سامان بھی تحویل میں لے لیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق پولیس کو اطلاع ملی کہ ایک شہری اپنے مخالفین کو پھنسانے کی نیت سے جھوٹے میڈیکل سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے خودساختہ زخم لگوا رہا ہے۔ ایس ایچ او فخر وٹو نے فوری کارروائی کرتے ہوئے رتہ کھنہ روڈ پر واقع ایک رہائشی مکان پر قائم جعلی آپریشن تھیٹر پر چھاپہ مارا۔ پولیس کے مطابق مرکزی ملزم ندیم خان نے اپنے ڈرائیور کو جان بوجھ کر زخمی کروایا تاکہ سرکاری اسپتال سے جعلی میڈیکل حاصل کیا جا سکے۔ ملزم نے اپنے ڈرائیور کو علاج کے بہانے نجی مقام پر لے جا کر بازو پر گہرا زخم لگایا۔ یہ کام سرکاری اسپتال کے درجہ چہارم ملازم آصف کی مدد سے انجام دیا گیا۔

    پولیس نے جعلی آپریشن تھیٹر میں موجود طبی آلات، پٹیاں، سرنجیں اور دیگر مواد قبضے میں لے کر دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر راشد ہدایت نے اس کامیاب کارروائی پر ایس ایچ او فخر وٹو اور ان کی پوری ٹیم کو سراہتے ہوئے تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا ہے۔

    یاد رہے کہ ضلع اوکاڑہ میں محکمہ صحت کے کئی درجہ چہارم ملازمین اپنے طور پر غیر قانونی کلینکس چلا رہے ہیں، جہاں نہ صرف علاج کے نام پر جعلسازی کی جاتی ہے بلکہ قانون اور اخلاقیات کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ اس کارروائی نے ایسے عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے، جسے شہریوں نے خوش آئند قرار دیا ہے۔

  • حافظ آباد: ٹریفک پولیس کا دہرا معیار، عام شہری چالانوں کی زد میں، امراء کو کھلی چھوٹ

    حافظ آباد: ٹریفک پولیس کا دہرا معیار، عام شہری چالانوں کی زد میں، امراء کو کھلی چھوٹ

    حافظ آباد (باغی ٹی وی،خبر نگارشمائلہ) ضلعی ہیڈ کوارٹر حافظ آباد میں ٹریفک پولیس کی کارروائیوں نے عام شہریوں بالخصوص موٹر سائیکل سواروں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ چالانوں کی بھرمار نے نہ صرف عوام کے اوسان خطا کر دیے ہیں بلکہ امیر طبقے کی من مانیوں نے قانون کی بالادستی پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    شہریوں کے مطابق موٹر سائیکل جو عوام کی بنیادی سواری ہے، اسی پر سخت ترین قوانین لاگو کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب شہر میں بڑی گاڑیاں بلا نمبر پلیٹ، برادریوں کے ناموں کے ساتھ آزادانہ گھومتی ہیں جنہیں ٹریفک پولیس روکنے کی زحمت تک نہیں کرتی۔ ایک شہری نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ "شہر میں کئی گاڑیاں دیکھی ہیں جن پر نمبر پلیٹس کی جگہ برادری کے نام درج ہیں اور وہ کھلے عام شاہراہوں پر دندناتی پھرتی ہیں”۔

    شہر کے مختلف حصوں میں پارکنگ کا بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ سرکاری زمینیں جو عوامی پارکنگ کے لیے استعمال کی جا سکتی تھیں، انہیں خود سرکاری اداروں نے غیر مؤثر بنا دیا ہے۔ تحصیل احاطہ اور پٹوارخانہ کے سامنے خالی جگہوں پر بااثر افراد کی پشت پناہی سے غیر قانونی پارکنگ اسٹینڈ قائم کر دیے گئے ہیں جہاں مبینہ طور پر فیس بھی وصول کی جا رہی ہے۔ شہریوں نے اس غیر قانونی فیس پر آواز اٹھائی تو ہر طرف سے خاموشی دیکھنے میں آئی۔

    ڈی ایس پی رائے ملازم حسین نے اعتراف کیا کہ پارکنگ غیر قانونی ہے اور ایف آئی آر درج کرنے کی بات کی، تاہم جب ٹریفک انچارج نے وضاحت دی کہ "یہ پارکنگ انجمن تاجران کے زیرِ نگرانی ہے” اور وہاں تعینات شخص موٹر سائیکل چوری روکنے کے لیے بٹھایا گیا ہے، تو پولیس حکام نے خاموشی اختیار کر لی۔

    شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر پارکنگ کو فیس پارکنگ میں تبدیل کرنا ہے تو حکومت کو ٹھیکے پر دے تاکہ عوام کو سہولت اور حکومت کو آمدن حاصل ہو۔ شہر میں موجود کئی سرکاری جگہیں مثلاً دانہ منڈیاں، اسلامیہ گرلز کالج کے قریب میدان، جلالپور روڈ اور ریلوے کی زمین اس مقصد کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں، مگر ترجیحات کچھ اور نظر آتی ہیں۔

    اسی طرح روزانہ ہزاروں کی تعداد میں غیر قانونی بھاری گاڑیاں، جن میں 80 ٹن وزنی ڈمپر شامل ہیں، سرگودھا، چنیوٹ اور ونیکے تارڑ سے پتھر اور ریت لے کر شہر میں داخل ہوتی ہیں۔ یہ گاڑیاں اکثر بغیر لائسنس، بغیر کاغذات اور کم عمر بچوں کے زیرِ استعمال ہوتی ہیں۔ جب اس حوالے سے ٹریفک پولیس سے سوال کیا گیا تو یہ کہہ کر جان چھڑائی گئی کہ "ایکسل لوڈ کی ذمہ داری ڈی آر ٹی اے سیکرٹری کی ہے” اور جب کاغذات کے متعلق پوچھا گیا تو حکام نے خاموشی اختیار کر لی۔ وجہ واضح ہے: یہ گاڑیاں بڑے ٹرانسپورٹرز، سرکاری افسران اور سیاسی بااثر افراد کی ملکیت ہیں۔

    شہر کے مرکزی علاقوں جیسے کچہری روڈ، ڈاکخانہ چوک، فوارہ چوک، مدنی بازار، کلمہ چوک وغیرہ میں نو پارکنگ زونز میں کھڑی بڑی گاڑیوں کو کوئی ہاتھ نہیں لگاتا، لیکن موٹر سائیکل سواروں کو موقع پر ہی پکڑ کر دو ہزار روپے کے چالان تھما دیے جاتے ہیں۔

    عوامی سطح پر مطالبہ ہے کہ اگر چالان کیے جائیں تو ساتھ شعور بھی دیا جائے۔ شہری مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے اخراجات کی وجہ سے پہلے ہی پریشان ہیں۔ ایسے میں دو ہزار روپے کے چالان ان کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ بن چکے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ اگر عام شہریوں پر سختی ہے تو طاقتور اور امیر افراد کو بھی قانون کے دائرے میں لایا جائے۔ شہریوں کو بھی چاہیے کہ وہ قانون پر عمل کریں، لائسنس، رجسٹریشن اور ہیلمٹ کا استعمال یقینی بنائیں، چھوٹے بچوں کو موٹر سائیکل چلانے نہ دیں اور غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔

    قانون کی بالادستی، عوامی شعور اور محکموں کی غیر جانب داری ہی ایک بہتر معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ جب تک قانون کا اطلاق سب پر برابر نہ ہوگا، حافظ آباد جیسے شہروں میں شہری پریشانی کا شکار رہیں گے اور اداروں کی ساکھ پر سوالیہ نشان قائم رہیں گے۔

  • بولان بس حادثہ: ڈرائیور کی غفلت سے 4 افراد جاں بحق، 28 مسافر زخمی

    بولان بس حادثہ: ڈرائیور کی غفلت سے 4 افراد جاں بحق، 28 مسافر زخمی

    بولان/تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ) بلوچستان کے ضلع بولان میں قومی شاہراہ پر افسوسناک ٹریفک حادثہ پیش آیا جس میں صادق آباد سے کوئٹہ جانے والی "سدا بہار” مسافر کوچ دوسا چوکی کے قریب بے قابو ہو کر الٹ گئی۔ حادثے میں چار مسافر موقع پر جاں بحق جبکہ 28 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی علاقہ سوگ میں ڈوب گیا، خاص طور پر تنگوانی میں اس وقت کہرام مچ گیا جب معلوم ہوا کہ جاں بحق ہونے والوں میں مقامی نوجوان نظام الدین ولد غلام سرور بھی شامل ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ کوچ صادق آباد سے کوئٹہ جا رہی تھی، جس کے دوران ڈرائیور کی غفلت، تیز رفتاری اور ممکنہ طور پر نیند کی حالت میں گاڑی چلانے کے باعث دوسا چوکی کے قریب گاڑی بے قابو ہو کر اُلٹ گئی۔ حادثے کے بعد جائے وقوعہ پر چیخ و پکار مچ گئی اور ہر طرف انسانی لاشیں، زخمی مسافر اور تباہ شدہ سامان بکھرا ہوا تھا۔

    حادثے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں، ایف سی اہلکار، لیویز فورس اور ہائی وے پولیس موقع پر پہنچ گئیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر سول ہسپتال سبی منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ سول ہسپتال کے ایم ایس کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جنہیں کوئٹہ ریفر کیا جا سکتا ہے۔

    اس حادثے میں اب تک چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں امداد علی ولد غوث بخش (ٹھل سے کوئٹہ جانے والا)، نظام الدین ولد غلام سرور (کشمور کے علاقے تنگوانی کا رہائشی) شامل ہیں جبکہ دو دیگر جاں بحق افراد کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔ تنگوانی میں جب نظام الدین کی ہلاکت کی خبر پہنچی تو گھر میں کہرام مچ گیا، والدین پر غشی کے دورے پڑے اور اہلِ محلہ سوگ میں ڈوب گئے۔

    حادثے میں زخمی ہونے والے 28 مسافروں کا تعلق سندھ اور جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہے۔ صادق آباد سے خیر احمد، عبداللہ اور امتیاز زخمی ہوئے. ٹھل سے شیر احمد، گل میر، غلام مصطفی، گلزار، نیاز احمد، غفار، خادم حسین، انور، ابوبکر اور منیر شامل ہیں. کندھ کوٹ سے سلیمان، کشمور سے یاسر، سکھر سے نعمان، گمبٹ سے محمد عامر اور عنایت اللہ، رحیم یار خان سے روحیل، محمد عارف اور ماجد جبکہ علی آباد سے ثناء اللہ، سجاد علی، حبیب خان، گنج بخش، انور اور محمد اکرم زخمی ہوئے۔ ایک مسافر مینگل ولد عمر دین کا علاقہ درج نہیں ہو سکا۔ زخمیوں میں بعض کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

    انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ لیویز فورس بالاناڑی اس حادثے کی تمام تفصیلات جمع کر رہی ہے اور قانونی کارروائی بھی جاری ہے۔ مقامی حکام نے ڈرائیور کی غفلت کو ابتدائی وجہ قرار دیا ہے، تاہم کوچ کی فٹنس، کمپنی کی نگرانی اور ممکنہ تکنیکی خرابی کے پہلوؤں پر بھی تحقیقات ہو رہی ہیں۔

    حادثے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے علاقے میں پھیل گئی۔ متاثرہ خاندانوں نے حکومت سے فوری مالی امداد، زخمیوں کے بہتر علاج اور جاں بحق افراد کے لواحقین کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہری حلقوں نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور مسافر کوچز کی ناقص نگرانی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر کچھ عرصے بعد ایسے حادثات معمول بن چکے ہیں، جن پر حکومت اور متعلقہ ادارے فوری توجہ دیں۔

    یہ حادثہ ایک بار پھر بین الصوبائی شاہراہوں پر جاری ٹریفک نظم و ضبط کی بدترین صورتحال، غیر ذمہ دار ڈرائیونگ اور سڑکوں کی حالتِ زار کو عیاں کرتا ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ایسے سانحات روز کا معمول بن جائیں گے اور معصوم جانوں کا ضیاع جاری رہے گا۔

  • تنگوانی: کرم پور کے قریب ڈاکوؤں نے پٹرول فروش کو لوٹ لیا، کاروکاری تنازع پر دو افراد زخمی

    تنگوانی: کرم پور کے قریب ڈاکوؤں نے پٹرول فروش کو لوٹ لیا، کاروکاری تنازع پر دو افراد زخمی

    تنگوانی (نامہ نگار منصور بلوچ) کرم پور کے نزدیک ڈاکوؤں نے ایک پٹرول فروش سے لوٹ مار کی، جبکہ تنگوانی کے قریب کاروکاری کے پرانے تنازع پر ہونے والے جھگڑے میں دو افراد زخمی ہو گئے۔

    تنگوانی کے قریب پولیس تھانے کی حدود میں ہائی وے روڈ، شکارپور کندہ کوٹ روڈ پر واقع بیگاری پل پر ایک لوکل پٹرول بیچنے والے نوجوان رمضان بجارانی سے ڈاکوؤں نے چار بھری ہوئی پٹرول کی بوتلیں اور 1500 روپے نقدی چھین لی اور باآسانی فرار ہو گئے۔ یہ واقعہ علاقے میں بڑھتی ہوئی لوٹ مار کی وارداتوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

    دوسری جانب تنگوانی کے قریب نظر واہ گاؤں ساجد خان بنگلانی میں بنگلانی قبیلے کے دو فریقین کے درمیان کاروکاری کے پرانے تنازع پر جھگڑا ہو گیا۔ جھگڑے میں لاٹھیوں اور کلہاڑیوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں بنگلانی برادری کے دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ علاقے میں خاندانی تنازعات کے دیرینہ مسائل اور ان کے پرتشدد نتائج کی عکاسی کرتا ہے۔

  • تنگوانی: بندر کے حملے میں ایک شخص زخمی، گاؤں والوں نے بندر کو ہلاک کر دیا

    تنگوانی: بندر کے حملے میں ایک شخص زخمی، گاؤں والوں نے بندر کو ہلاک کر دیا

    تنگوانی (نامہ نگار منصور بلوچ)بندر کے حملے میں ایک شخص زخمی، گاؤں والوں نے بندر کو ہلاک کر دیا

    : تنگوانی کے قریب گاؤں ملوک ڈاہانی میں ایک بندر کے حملے میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔ گاؤں والوں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور بندر کو ہلاک کر دیا۔

    خبر کے مطابق گاؤں ملوک ڈاہانی میں ایک بندر نے اچانک بستی کے رہائشی عبدالجبار ڈاہانی پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ بری طرح زخمی ہو گئے۔ گاؤں کے افراد نے فوری طور پر جمع ہو کر زخمی شخص کو بچانے کی کوشش کی اور مشترکہ طور پر حملہ آور بندر کو ہلاک کر دیا۔

    یہ واقعہ علاقے میں جنگلی جانوروں کے انسانی آبادی میں داخل ہونے اور حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کو نمایاں کرتا ہے۔