Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • محسن، غریب لوگ بھی تنکوں کا ڈھیر ہیں …ملبے میں دب گئے، کبھی پانی میں بہہ گئے

    محسن، غریب لوگ بھی تنکوں کا ڈھیر ہیں …ملبے میں دب گئے، کبھی پانی میں بہہ گئے

    محسن، غریب لوگ بھی تنکوں کا ڈھیر ہیں… ملبے میں دب گئے، کبھی پانی میں بہہ گئے

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی،بیوروچیف شاہد ریاض کی خصوصی رپورٹ)دریائے سوات کے کنارے آج پھر لہریں خاموش نہیں۔ وہ کسی بین کرتی ماں کی طرح چیخ رہی ہیں۔ آج پھر پانی کا شور نہیں بلکہ معصوم جانوں کی سسکیوں کا ماتم سنائی دے رہا ہے۔ سیالکوٹ، ڈسکہ سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کی 12 زندگیاں لمحوں میں بہہ گئیں۔ نہ کوئی جنگ تھی، نہ دہشت گرد حملہ، صرف ریاستی غفلت تھی۔ یہ واقعہ قدرت کا عذاب نہیں بلکہ انسانوں، اور درحقیقت حکومتوں کے پیدا کردہ ظلم کا نتیجہ ہے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ جب حکمران اپنے محلوں کے آرام میں مدہوش ہوں اور ریاست کا وجود صرف پروٹوکول تک محدود رہ جائے، تو پھر حادثے نہیں بلکہ سانحے جنم لیتے ہیں — وہ سانحے جو خون رلاتے ہیں۔ دریائے سوات کے کنارے وہ لمحہ تاریخ کے ماتھے پر سیاہ دھبے کی صورت نقش ہو چکا ہے، جب ایک خاندان خوشی خوشی آیا اور واپسی پر لاشوں میں تبدیل ہو چکا تھا۔

    بارہ زندگیاں ، جن میں معصوم بچے، خواتین، والدین، بہن بھائی، اور ایک چار سالہ بچی شامل تھی، جو شاید آخری بار صرف اتنا بولی ہو گی:
    "بابا، مجھے بچا لو!”
    اور اپنے بابا کے کندھوں پر چڑھ گئی۔
    مگر وہ نہ جانتی تھی کہ یہ پاکستان ہے . یہاں عوام کے بچوں کے لیے نہ کندھے محفوظ ہیں اور نہ میسر۔

    کیا یہ اٹھارہ افراد، بشمول اس معصوم بچی کے، غیر ملکی سیاح ہوتے تو ہیلی کاپٹر آ جاتا؟
    کیا وہ کسی وزیر، مشیر یا اشرافیہ کے رشتہ دار ہوتے تو ریسکیو ٹیمیں پلک جھپکتے پہنچ جاتیں؟
    مگر افسوس! وہ صرف "عام پاکستانی” تھے۔
    نہ ہیلی کاپٹر آیا، نہ ریاست جاگی، نہ کوئی بچانے والا پہنچا۔

    یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ سوات انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے۔ خیبر پختونخواہ کی حکومت جو "سیاحت کے فروغ” کے خواب دکھاتی رہی، جو بل بورڈز پر پہاڑ، دریا، اور جنگلات کی خوبصورتی دکھا کر فخریہ دعوے کرتی رہی . وہ حکومت ایک سادہ سا انتباہی بورڈ بھی نہ لگا سکی، نہ کوئی حفاظتی انتظامات کیے، نہ کوئی واچ ٹیم تعینات کی۔

    حضرت عمرؓ کا قول آج بھی تاریخ کی دیواروں پر گونجتا ہے:
    "اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی کتا بھی پیاسا مر جائے تو روزِ قیامت عمرؓ سے اس کی بازپرس ہو گی!”
    لیکن یہاں؟ دریائے سوات کے کنارے بارہ انسان ڈوب گئے اور نہ کوئی پوچھنے والا، نہ کوئی شرمندگی سے سر جھکانے والا۔

    یہ جانیں اگر کسی دہشت گردی یا دشمن کے حملے میں نہ بھی گئیں، تو حکومتی نااہلی اور بےحسی کی وجہ سے ضرور قتل ہوئیں۔
    تاریخ بتاتی ہے کہ بغداد کے زوال سے قبل دریا بہتے تھے، مگر انصاف اور غیرت مر چکے تھے۔
    آج سوات میں بھی دریا بہہ رہا تھا مگر ساتھ ہی ریاستی شعور، انسانی ہمدردی، اور حکومتی ذمہ داری بھی بہہ گئی۔

    خیبر پختونخواہ کی انتظامیہ میٹنگز میں "تصویری سیاحت” کی منصوبہ بندی میں مصروف تھی،
    مگر دریا کی لہروں میں ڈوبتی انسانیت کی آہیں کسی وزیر، مشیر، یا افسر کی سماعت تک نہ پہنچ سکیں۔

    یہ تحریر ایک سوال ہے…
    ایک سوال اُس معصوم بچی کی طرف سے…
    جس نے بس اتنا چاہا تھا کہ:
    "بابا، بچا لیں مجھے”
    مگر ریاستی سستی نے اس کا بابا بھی اس سے چھین لیا۔

    کب تک ہم لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟
    کب تک صرف فاتحہ پڑھ کر آگے بڑھ جائیں گے؟
    کب تک حکمرانوں کے محل روشن اور عوام کی قبریں تاریک رہیں گی؟

    یہ صرف ایک خاندان کی موت نہیں،
    یہ خیبر پختونخواہ کی ناکام حکمرانی کا نوحہ ہے….
    جہاں سیاحت کے نام پر اشتہار تو لگائے گئے، وائرل ویڈیوز تو بنائی گئیں،
    مگر دریا کنارے عوام کے تحفظ کے لیے نہ کوئی سیفٹی پلان، نہ ریگولیشن، نہ تربیت، نہ جان کی قدر کی گئی۔

    یہ وہ سوالات ہیں جو ہر ذی شعور پاکستانی کے ذہن میں گردش کر رہے ہیں:
    ریسکیو کہاں تھا؟ سول ڈیفنس کہاں تھا؟ پولیس؟ وارننگ دینے والا کوئی عملہ؟
    اگر پانی کا بہاؤ بڑھ رہا تھا تو پیشگی اطلاع کیوں نہ دی گئی؟
    اگر دریا کنارے ناجائز تجاوزات تھیں تو ان کے خاتمے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟

    خدارا!
    سیاحت صرف خوبصورت وادیوں، پہاڑوں، اور پوسٹروں کا نام نہیں ….
    سیاحت تحفظ مانگتی ہے، سہولتیں مانگتی ہے اور ذمہ داری مانگتی ہے۔

    یہ جاگنے کا وقت ہے۔
    ورنہ ایک دن یہ دریا ہمیں بھی نگل جائیں گے۔

  • گوجرانوالہ: بیٹیوں کے قتل کیس میں والدین ہی قاتل نکلے

    گوجرانوالہ: بیٹیوں کے قتل کیس میں والدین ہی قاتل نکلے

    گوجرانوالہ کے علاقے نوشہرہ ورکاں میں قتل کی جانے والی دو بہنوں کے کیس میں نیا موڑ سامنے آگیا، پولیس نے مقتولہ لڑکیوں کے والدین کو ہی گرفتار کر لیا۔

    ابتدائی طور پر یہ مقدمہ 19 مئی کو نامعلوم افراد کے خلاف ڈکیتی اور قتل کے الزامات کے تحت والد کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ڈاکو 9 لاکھ روپے لے گئے اور دو بیٹیوں کو قتل کر دیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران والدین ہی اصل قاتل نکلے۔ قتل کا آلہ اور وہ رقم بھی برآمد کر لی گئی ہے جس کے متعلق والد نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈاکو لے گئے۔

    عدالت نے والدہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر سینٹرل جیل گوجرانوالہ منتقل کر دیا جبکہ والد کو جسمانی ریمانڈ پر تحقیقاتی ٹیم کے سپرد کیا گیا۔ عدالت نے 26 جون کو دوبارہ جسمانی ریمانڈ میں توسیع کرتے ہوئے 30 جون تک ریمانڈ منظور کر لیا۔

    تفتیشی افسر کا بیان
    ڈی ایس پی کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ انصر موہل کے مطابق، تفتیش سے اب تک یہ بات سامنے آئی ہے کہ صرف دونوں میاں بیوی اس قتل میں ملوث ہیں، اور کوئی تیسرا شخص اس کیس میں شامل نہیں۔

    📌 مقدمے کی ابتدائی تفصیل
    والد نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ 22 سال سے اٹلی میں مقیم تھے اور واقعے سے چند روز قبل پاکستان آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بینک سے 12 لاکھ روپے نکالے جن میں سے 9 لاکھ روپے بڑی بیٹی کے حوالے کیے، اور ڈاکو ان کی آنکھوں کے سامنے بیٹیوں کو قتل کرکے رقم لے گئے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران والد کے بیان میں تضادات سامنے آئے، جس پر شک کی بنیاد پر والدین کو گرفتار کیا گیا اور سچائی سامنے آ گئی۔پولیس نے عدالت کو ہدایت دی ہے کہ کیس کا چالان جلد مکمل کر کے پیش کیا جائے تاکہ باقاعدہ ٹرائل شروع ہو سکے۔

    Ask ChatGPT

  • اوچ شریف: سگے بیٹے کا جائیداد کے لیے ماں پر بہیمانہ تشدد، پولیس بےحس تماشائی

    اوچ شریف: سگے بیٹے کا جائیداد کے لیے ماں پر بہیمانہ تشدد، پولیس بےحس تماشائی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)تھانہ اوچ شریف کی حدود بستی پہلوان والی میں انسانیت کو شرما دینے والا واقعہ سامنے آیا، جہاں جائیداد کی لالچ میں ایک بیٹے نے ماں جیسے مقدس رشتے کو داغدار کر دیا۔ مقامی شخص عطا حسین نے اپنی بیوی شہناز اور سالی شاریہ کے ساتھ مل کر اپنی ضعیف ماں پٹھانی مائی پر وحشیانہ تشدد کیا، ان کے سر کے بال نوچ ڈالے اور بہنوں کی زمین پر قبضہ کرنے کے لیے ماں کو بدترین بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔

    ذرائع کے مطابق، جب پٹھانی مائی نے اس ظلم کے خلاف مزاحمت کی تو اُسے مزید مارا پیٹا گیا۔ دکھ اور بے بسی کی تصویر بنی ضعیف ماں تھانہ اوچ شریف پہنچی، مگر پولیس نے نہ کوئی کارروائی کی نہ شنوائی کی زحمت گوارا کی۔

    پٹھانی مائی نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے ہاتھ جوڑ کر فریاد کی ہے کہ وہ اس ظلم سے بچائیں۔ روتے ہوئے اس نے کہا، "بی بی جی! میرا بیٹا درندہ بن چکا ہے، اور پولیس بھی اُس کی پشت پر ہے۔ اگر میری داد رسی نہ ہوئی تو میں خودکشی کر لوں گی۔”

    علاقہ مکینوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ مظلوم ماں کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے اور ظالم بیٹے و اس کے ساتھیوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اس دلخراش واقعے نے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے حسی کو بے نقاب کیا ہے بلکہ معاشرتی اقدار کی پستی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

  • تنگوانی: ایک دن میں پانچ ڈکیتیاں، ڈاکو پولیس کے سامنے دندناتے رہے، عوام بے یار و مددگار

    تنگوانی: ایک دن میں پانچ ڈکیتیاں، ڈاکو پولیس کے سامنے دندناتے رہے، عوام بے یار و مددگار

    تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ)تنگوانی اور گردونواح میں ڈاکوؤں کا راج برقرار، پولیس رٹ مکمل طور پر کمزور پڑ گئی۔ ایک ہی دن میں پانچ ڈکیتیوں کی وارداتیں رونما ہو گئیں، جن میں بیشتر وارداتیں دن دہاڑے اور بعض پولیس چوکی کے سامنے ہوئیں، مگر قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی بنے رہے۔

    پہلی واردات میں ڈاکوؤں نے ہیبت خان باجکانی کے قریب گڈو نہر پر ارشاد احمد باجکانی کا دو بھینسوں سے بھرا ہوا ڈاٹسن اس وقت لوٹ لیا جب وہ ڈرائیور سمیت گھر جا رہا تھا۔ ڈاکو ڈرائیور اور مالک کو رسیوں سے باندھ کر گاڑی اور مویشی لے اُڑے۔

    دوسری واردات مانجھی پل کے قریب غلام یاسین لاشاری کے ساتھ پیش آئی، جہاں ڈاکوؤں نے اسلحہ کے زور پر اس سے موٹر سائیکل، نقدی اور موبائل فون چھین لیا۔

    تیسری واردات انتہائی حیران کن اور خوفناک تھی، جب ڈاکو کرم پور کے قریب پولیس چوکی کے عین سامنے لقمان گولو کی مچھلی سے بھری ہوئی ڈاٹسن لوٹ کر فرار ہو گئے۔ اس واقعے پر مشتعل گولا برادری نے احتجاجاً سڑک بلاک کر دی، جس کے باعث دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، تاہم تاحال پولیس کی جانب سے کوئی ایکشن سامنے نہیں آیا۔

    چوتھی واردات میں سبزل باجکانی کے قریب ایک شہری سے موٹر سائیکل، موبائل اور نقد رقم چھینی گئی، جبکہ پانچویں واردات تھانہ ڈیرہ سرکی کی حدود میں پیش آئی، جہاں ڈاکووں نے دیدہ دلیری سے لوٹ مار کر کے فرار ہو گئے۔

    مسلسل وارداتوں اور پولیس کی مجرمانہ خاموشی سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈاکو سرعام دندناتے پھر رہے ہیں جبکہ پولیس کی رٹ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ عوام نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لے کر ڈاکوؤں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

  • طلاق سے غصہ شخص نے چلتی ٹرین کو آگ لگا دی

    طلاق سے غصہ شخص نے چلتی ٹرین کو آگ لگا دی

    ایک شخص نے طلاق کے فیصلے پر غصے میں آ کر میٹرو ٹرین میں پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی جس سے ٹرین میں بھگدڑ مچ گئی اور چھ افراد زخمی ہو گئے۔

    یہ افسوسناک واقعہ جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیؤل میں پیش آیا،67 سالہ ملزم جس کی شناخت ”وون“ کے نام سے ہوئی ہے، اس پر الزام ہے کہ اس نے 31 مئی کو صبح کے اوقات میں چلتی ٹرین میں آگ لگا کر مسافروں کی جان خطرے میں ڈالی، واقعے کی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ سفید ٹوپی پہنے شخص نے مصروف میٹرو کوچ میں اچانک فرش پر پٹرول چھڑک دیا جس سے مسافروں میں کھلبلی مچ گئی۔

    جیسے ہی پٹرول زمین پر پھیلا مسافر گھبرا کر بھاگنے لگے۔ ایک خاتون جلدی میں پھسل کر گر گئیں اور اس کے جوتے وہیں رہ گئے۔ چند لمحوں بعد مذکورہ شخص کو گھٹنے ٹیک کر آگ لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔

    ملزم کو گرفتار کر کے اس پر قتل کی کوشش اور آتشزدگی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے پولیس کے مطابق وون نے تفتیش میں بتایا کہ وہ طلاق کے فیصلے سے شدید دلبرداشتہ تھا اور اس نے کئی ہفتے قبل ہی پٹرول خرید لیا تھاابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا اس کی سابقہ بیوی بھی ٹرین میں موجود تھی یا نہیں۔

    استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس فعل کے ذریعے نہ صرف آگ بھڑکائی گئی بلکہ زہریلی گیسوں کے اخراج سے مسافروں کی جانیں بھی خطرے میں پڑ گئیں جو ایک دہشت گردی کے مترادف جرم ہے۔ اگر انخلاء میں دیر ہو جاتی تو جانی نقصان بہت زیادہ ہو سکتا تھا،حکام کے مطابق چھ افراد زخمی ہوئے، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان کو جلنے کی چوٹیں آئیں یا نہیں۔

  • ڈسکہ سانحہ سوات: ڈپٹی کمشنر صبا اصغر کا لواحقین سے اظہارِ تعزیت، شہر کی فضا سوگوار

    ڈسکہ سانحہ سوات: ڈپٹی کمشنر صبا اصغر کا لواحقین سے اظہارِ تعزیت، شہر کی فضا سوگوار

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض) تحصیل بابوزئی، ضلع سوات میں پیش آنے والے المناک حادثے کے بعد ڈسکہ میں سوگ کی فضا چھا گئی۔ جی قربان ریسٹورنٹ بائی پاس روڈ کے قریب دریائے سوات میں ڈوبنے والے ایک ہی خاندان کے 10 افراد کی ہلاکت پر ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ محترمہ صبا اصغر علی نے متاثرہ خاندان سے ان کے گھر جا کر تعزیت کی اور اس دل دہلا دینے والے سانحہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہاکہ”یہ سانحہ پوری قوم کے لیے ایک صدمہ ہے۔ ہم دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحومین کو جوارِ رحمت میں جگہ دے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔”

    اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد اقبال سنگھیڑا اور اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ عثمان غنی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ضلعی انتظامیہ نے سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کی میتیں گزشتہ شب وصول کیں اور تدفین سمیت تمام تر انتظامی امور کی نگرانی کی۔

    یاد رہے کہ یہ سانحہ اُس وقت پیش آیا جب ڈسکہ سے تعلق رکھنے والا خاندان سیر و تفریح کے لیے سوات گیا ہوا تھا۔ سوات بائی پاس کے مقام پر ایک ہوٹل کے قریب دریا کنارے ناشتہ کرتے ہوئے اچانک دریا میں تیز ریلا آ گیا جس نے فیملی کو دریا کے خشک حصے میں بیٹھے ہوئے اچانک اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ریسکیو آپریشن کے دوران آٹھ لاشیں نکال لی گئیں جبکہ مزید دو افراد لاپتہ تھے۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق دریائے سوات میں اچانک ریلے کے باعث مختلف مقامات پر 70 افراد پھنس گئے تھے، جن میں سے 55 کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ آج ہونے والی تازہ پیش رفت میں مزید ایک سیاح کی لاش دریا سے نکال لی گئی ہے، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 10 ہو چکی ہے جبکہ 3 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

    آج ڈسکہ میں آٹھ جاں بحق افراد کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس میں شہر بھر سے لوگوں نے شرکت کی۔ جنازوں کے موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی اور غم کی کیفیت چھائی رہی۔

    شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سیاحتی مقامات اور دریا کنارے ہوٹلوں پر حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے ہولناک سانحات سے بچا جا سکے۔ اس افسوسناک واقعے نے نہ صرف ایک خاندان کو غم میں مبتلا کیا بلکہ پوری قوم کو سوگوار کر دیا ہے۔

  • واربرٹن: پولیس کی بڑی کارروائی، ڈکیت گینگ سرغنہ سمیت گرفتار، لاکھوں کی نقدی و موٹرسائیکلیں برآمد

    واربرٹن: پولیس کی بڑی کارروائی، ڈکیت گینگ سرغنہ سمیت گرفتار، لاکھوں کی نقدی و موٹرسائیکلیں برآمد

    واربرٹن (نامہ نگارعبدالغفار چوہدری)پولیس کی بڑی کارروائی، ڈکیت گینگ سرغنہ سمیت گرفتار، لاکھوں کی نقدی و موٹرسائیکلیں برآمد

    تھانہ واربرٹن پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے ڈکیت گینگ کے سرغنہ اعجاز عرف ججی اور اس کے ساتھی رضوان کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے لاکھوں روپے نقدی، شہریوں سے چھینی گئی چار موٹرسائیکلیں اور ناجائز اسلحہ برآمد کر لیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق ڈی پی او ننکانہ صاحب سید ندیم عباس کی ہدایت پر واربرٹن پولیس نے انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی کی، جس کے دوران ملزمان کو حراست میں لے کر ان کے خلاف رابری اور موٹرسائیکل چوری سمیت 15 وارداتوں کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کا عمل جاری ہے اور مزید انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے۔

    ڈی پی او سید ندیم عباس نے پولیس ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈکیت گینگ کی گرفتاری پولیس کی پیشہ وارانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سماج دشمن عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

  • اوکاڑہ: پولیس کی کارروائی، 11 کلو چرس برآمد، ڈرگ ڈیلر گرفتار

    اوکاڑہ: پولیس کی کارروائی، 11 کلو چرس برآمد، ڈرگ ڈیلر گرفتار

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) تھانہ گوگیرہ پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے بدنامِ زمانہ ریکارڈ یافتہ ڈرگ ڈیلر محسن سرفراز کو گرفتار کر لیا۔ پولیس ترجمان کے مطابق ملزم کے قبضے سے 11 کلوگرام اعلیٰ کوالٹی کی چرس برآمد کی گئی ہے۔

    ایس ایچ او سعید احمد بھٹی اور انچارج انویسٹی گیشن عظمت علی نے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران جھٹیانہ پل کے قریب چھاپہ مار کر ملزم کو گرفتار کیا۔ ملزم کے خلاف امتناعِ منشیات ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ تفتیش جاری ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ محسن سرفراز ماضی میں بھی منشیات کے کئی مقدمات میں ملوث رہ چکا ہے۔ اس کامیاب کارروائی پر عوامی حلقوں نے پولیس کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ منشیات کے خلاف جاری مہم مزید شدت سے جاری رہے گی۔

  • اوکاڑہ: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم میں کٹوتی، چھاپہ مار ٹیم پر حملہ، مقدمہ درج

    اوکاڑہ: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم میں کٹوتی، چھاپہ مار ٹیم پر حملہ، مقدمہ درج

    اوکاڑہ (نامہ نگار، ملک ظفر)اوکاڑہ کے نواحی گاؤں چک نمبر 4/1 اے آر میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقوم میں غیر قانونی کٹوتی اور چھاپہ مار ٹیم پر حملے کا سنسنی خیز واقعہ پیش آیا۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر میڈم شرمین ناز کی سربراہی میں ٹیم نے باوثوق اطلاع پر چھاپہ مارا تو مزاحمت، حملہ اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق میڈم شرمین ناز کو اطلاع ملی کہ مذکورہ گاؤں میں خواتین سے دو، دو ہزار روپے کٹوتی کر کے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم تقسیم کی جا رہی ہے۔ اطلاع کی تصدیق کے بعد جب وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ موقع پر پہنچیں تو شکیلہ نامی خاتون، پرویز اور وقار نے چار نامعلوم افراد کے ساتھ مل کر مزاحمت کی۔ حملہ آوروں نے سرکاری ڈرائیور کو گریبان سے پکڑ کر یرغمال بنایا، تشدد کا نشانہ بنایا اور گاڑی پر پتھراؤ بھی کیا۔

    ذرائع کے مطابق موقع پر موجود کئی خواتین کے ویڈیو بیانات بھی ریکارڈ کر لیے گئے ہیں جن میں کٹوتی اور رقم کی تقسیم کی تفصیلات شامل ہیں۔

    پولیس تھانہ صدر رینالہ خورد نے اس واقعے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ نمبر 450/25 درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر میں تین نامزد اور چار نامعلوم افراد کو سنگین دفعات کے تحت شاملِ تفتیش کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور جلد ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    اہل علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ غریب خواتین سے رقم کی کٹوتی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔

  • بہاولپور: کھیلتے ہوئے کرنٹ لگنے سے دو سالہ بچہ جاں بحق

    بہاولپور: کھیلتے ہوئے کرنٹ لگنے سے دو سالہ بچہ جاں بحق

    بہاولپور(باغی ٹی وی،نامہ نگار حبیب خان) کھیلتے ہوئے کرنٹ لگنے سے دو سالہ بچہ جاں بحق، علاقے میں کہرام

    بہاولپور کے علاقے بندرا پُل، امام بارگاہ والی گلی میں ایک المناک واقعہ پیش آیا جہاں کھیلتے ہوئے دو سالہ معصوم بچہ کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گیا۔ جاں بحق ہونے والے بچے کی شناخت شہزاد ولد سہیل کے نام سے ہوئی ہے، جو کھیل کے دوران گھر کے باہر رکھے چلتے پیڈسٹل فین سے ٹکرا گیا، اور زوردار جھٹکے سے موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

    ریسکیو 1122 ذرائع کے مطابق اہل علاقہ نے فوراً اطلاع دی، مگر جب ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچی تو بچہ زندگی کی آخری سانسیں لے چکا تھا۔ ابتدائی معائنے میں تصدیق ہوئی کہ کرنٹ کی شدت سے بچے کی موت واقع ہو چکی ہے۔

    واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا پھیل گئی، ہر آنکھ اشکبار اور دل غمزدہ تھا۔ بچے کے لواحقین شدید صدمے کی حالت میں ہیں اور انہوں نے میت کو اسپتال منتقل کرنے سے انکار کر دیا۔ اہلِ علاقہ کے مطابق بچہ گھر کے باہر کھیل رہا تھا جہاں ایک کھلا پنکھا بغیر کسی حفاظتی انتظام کے چل رہا تھا۔ وہی پنکھا معصوم جان کے لیے جان لیوا بن گیا۔

    یہ افسوسناک واقعہ علاقے میں حفاظتی تدابیر کی شدید کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ والدین اور محلے دار ایسے آلات کو کھلے عام رکھنے سے گریز کریں تاکہ بچوں کی قیمتی جانوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔