Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • ڈسکہ: سانحہ سوات، ایک ہی خاندان کے 10 افراد جاں بحق، 8 کی نمازِ جنازہ ادا

    ڈسکہ: سانحہ سوات، ایک ہی خاندان کے 10 افراد جاں بحق، 8 کی نمازِ جنازہ ادا

    ڈسکہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک عمران) سانحہ سوات، ایک ہی خاندان کے 10 افراد جاں بحق، 8 کی نمازِ جنازہ ادا

    تفصیلات کے مطابق ڈسکہ سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے افراد کے ساتھ سیر و تفریح کا سفر قیامت بن کر ٹوٹ پڑا، جب دریائے سوات کی بے رحم موجوں نے خوشیوں کو غم میں بدل دیا۔ سوات کے مقام پر پیش آنے والے سانحہ میں خاندان کے 15 میں سے 10 افراد دریا میں ڈوب گئے، جن میں سے آٹھ کی لاشیں نکال لی گئیں۔ ان آٹھ افراد کی نماز جنازہ آج ڈسکہ میں ادا کر دی گئی جس میں شہر کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور پورا شہر سوگ میں ڈوبا رہا۔

    سانحہ گزشتہ روز اُس وقت پیش آیا جب سیالکوٹ کے نواحی شہر ڈسکہ سے تعلق رکھنے والا خاندان سیر کے لیے سوات گیا ہوا تھا۔ سوات بائی پاس کے مقام پر خاندان کے افراد ایک ہوٹل کے قریب دریا کے کنارے ناشتہ کر رہے تھے کہ اچانک دریا میں تیز ریلا آ گیا اور دریا کے خشک حصے میں اتری تمام فیملیز کو اپنی لپیٹ میں لے گیا۔ اس واقعے میں ایک ہی خاندان کے دس افراد پانی کی نذر ہو گئے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کی گئیں، جن کے دوران دریا سے آٹھ لاشیں نکال لی گئیں جبکہ مزید دو افراد کی تلاش جاری تھی۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق دریائے سوات میں ریلے کے باعث مختلف مقامات پر 70 افراد پھنس گئے تھے جن میں سے 55 کو بحفاظت نکال لیا گیا، باقی کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

    آج تازہ پیش رفت میں مزید ایک سیاح کی لاش نکال لی گئی ہے، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 10 ہو چکی ہے جبکہ اب بھی تین افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    خوفناک حادثے نے جہاں سیاحت کے خوشنما خواب کو المیے میں بدلا، وہیں ڈسکہ شہر میں غم و اندوہ کی لہر دوڑا دی۔ جنازوں کے موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر دل دکھی۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دریا کنارے ہوٹلوں اور تفریحی مقامات پر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔

  • کراچی میں کار شوروم مالک کے گھر 13 کروڑ کی ڈکیتی

    کراچی میں کار شوروم مالک کے گھر 13 کروڑ کی ڈکیتی

    کراچی کے پوش علاقے پی ای سی ایچ ایس میں کار شوروم کے مالک کے گھر میں ڈکیتی کی بڑی واردات سامنے آئی ہے، جس میں ڈاکوؤں نے 13 کروڑ روپے نقدی، قیمتی موبائل فونز، گھڑیاں، لیپ ٹاپس اور دیگر سامان لوٹ لیا۔

    پولیس کے مطابق یہ واردات فیروزآباد تھانے کی حدود میں واقع بلاک 2 میں ہوئی، جہاں نامعلوم مسلح افراد اور برقعہ پوش خواتین نے ایف آئی اے جیسا یونیفارم پہن کر کار شوروم مالک محمد سالک کے گھر دھاوا بولا۔مدعی محمد سالک کے بیان کے مطابق وہ 25 اور 26 جون کی درمیانی شب ساڑھے 3 بجے گھر پہنچے تو ایک سیاہ گاڑی ان کی گاڑی کے سامنے آ کر رکی، جس میں سے 2 مرد اور 3 برقعہ پوش خواتین باہر نکلیں۔ ایک شخص نے ایف آئی اے کی وردی سے ملتی جلتی شرٹ پہن رکھی تھی جس پر ایف آئی اے کا مونوگرام بھی لگا تھا۔

    ملزمان نے پستول نکال کر سالک کو یرغمال بنایا اور ان کے ساتھ گھر میں داخل ہوگئے۔ گھر کی تلاشی کے دوران 13 کروڑ روپے نقدی، 9 قیمتی موبائل فونز (جن میں آئی فون اور گوگل پکسل بھی شامل)، 20 گھڑیاں، ایک اسمارٹ واچ، 2 لیپ ٹاپس، اور 25 قیمتی پرفیومز لوٹ کر لے گئے۔پولیس نے متاثرہ شخص کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 25/678 فیروزآباد تھانے میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر لیا ہے۔ واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واردات میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ واردات کا طریقہ واردات ظاہر کرتا ہے کہ یہ منظم اور پیشہ ور گروہ ہے، جس میں خواتین کی شمولیت غیرمعمولی ہے۔

    ٹرمپ کا ایران سے ایٹمی تنصیبات کے معائنے کا مطالبہ، دوبارہ حملوں کا عندیہ

    سندھ میں مون سون بارشوں سے فضائی آپریشن متاثر، پروازوں کے روٹس تبدیل

    حویلیاں ندی میں 3 بچے ڈوب گئے، 2 کی لاشیں مل گئیں

    غیرقانونی تارکین وطن کے بچوں کو پیدائشی شہریت نہیں ملے گی،امریکی سپریم کورٹ

  • اوکاڑہ: کھڑے پانی سے ماں بیٹے کی لاشیں برآمد، حادثہ یا قتل؟

    اوکاڑہ: کھڑے پانی سے ماں بیٹے کی لاشیں برآمد، حادثہ یا قتل؟

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) رینالہ خورد بائی پاس کے قریب واقع کھڑے پانی سے ماں اور بیٹے کی لاشیں ملنے پر علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق متوفیہ کی شناخت چک امیر سنگھ، پاکپتن کی رہائشی معافیہ بی بی اور اس کے بیٹے کے طور پر ہوئی ہے، جن کی لاشیں کھڑے پانی سے برآمد کی گئیں۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور سرچ آپریشن کے بعد دونوں لاشیں نکال کر ابتدائی کارروائی مکمل کی۔ نعشیں مقامی پولیس کی موجودگی میں ٹی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر دی گئیں۔

    پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور سائنسی بنیادوں پر شواہد جمع کیے جا رہے ہیں تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ یہ حادثہ ہے یا کسی جرم کا نتیجہ۔ حتمی حقائق پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔

    علاقہ مکینوں نے واقعے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اصل محرکات جلد از جلد سامنے لائے جائیں اور اگر کسی نے یہ سانحہ جان بوجھ کر کیا ہے تو اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔

  • اوچ شریف: گٹکا فروشوں کے خلاف پنجاب فوڈ اتھارٹی کا  کریک ڈاؤن، دو ہزار ساشے تلف، دکانداروں پر جرمانے

    اوچ شریف: گٹکا فروشوں کے خلاف پنجاب فوڈ اتھارٹی کا کریک ڈاؤن، دو ہزار ساشے تلف، دکانداروں پر جرمانے

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) پنجاب فوڈ اتھارٹی بہاولپور کی فوڈ سیفٹی ٹیم نے اوچ شریف میں مضر صحت اور ممنوعہ گٹکا فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کرتے ہوئے دو ہزار سے زائد ساشے موقع پر ضبط کر کے تلف کر دیے۔ کارروائی کے دوران کئی دکانداروں پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے اور متعدد کو وارننگ نوٹس جاری کیے گئے۔

    ترجمان پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق گٹکا محض ممنوعہ نہیں بلکہ زہریلا مواد ہے جو نوجوان نسل کو کینسر جیسی مہلک بیماریوں میں مبتلا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا: "اوچ شریف میں اب کوئی گٹکا فروش محفوظ نہیں، جہاں گٹکا ہوگا وہاں فوڈ اتھارٹی کا چھاپہ ہوگا!”

    کریک ڈاؤن کے دوران صرف گٹکا ہی نہیں بلکہ ناقص صفائی، زائدالمیعاد اشیاء، ملاوٹ شدہ مصالحہ جات اور غیر معیاری خوردنی سامان کی بھی نشاندہی کی گئی، جن پر فوری جرمانے اور انتباہی نوٹس جاری کیے گئے۔

    فوڈ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ گٹکا فروخت اب "سرعام جرم” تصور کیا جائے گا اور ملوث افراد کے خلاف FIR درج کر کے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ترجمان نے کہا کہ یہ پیغام نہ صرف گٹکا فروشوں بلکہ ان کے سہولت کاروں اور ذخیرہ اندوزوں کے لیے بھی ہے کہ اب قانون حرکت میں آ چکا ہے۔

    پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اوچ شریف کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ممنوعہ اشیاء کی فروخت کی اطلاع فوری طور پر ہیلپ لائن 1223 یا فوڈ اتھارٹی کی موبائل ایپ کے ذریعے دیں، تاکہ صحت دشمن عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کی جا سکے۔

  • سوات: دریائے سوات میں سیلابی ریلے سے سیالکوٹ کا خاندان بہہ گیا، 7 جاں بحق، 8 لاپتہ

    سوات: دریائے سوات میں سیلابی ریلے سے سیالکوٹ کا خاندان بہہ گیا، 7 جاں بحق، 8 لاپتہ

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی ،بیوروچیف شاہدریاض)سوات میں سیلابی ریلے سے ایک ہی خاندان کے 18 افراد دریا میں بہہ گئے، 3 زندہ بچا لیے گئے، 7 کی لاشیں برآمد

    سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والا ایک ہی خاندان سیر کے لیے سوات گیا جہاں دریائے سوات پر افسوسناک سانحہ پیش آیا۔ دریا کے کنارے ناشتہ کرتے ہوئے اچانک آئے سیلابی ریلے میں خاندان کے 18 افراد بہہ گئے۔ ریسکیو اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 3 افراد کو زندہ بچا لیا جبکہ اب تک 7 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ باقی 8 افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثہ صبح 8 بجے کے قریب پیش آیا، جب سیاح ناشتہ کر رہے تھے اور کچھ بچے دریا کے قریب تصویریں بنا رہے تھے۔ اسی دوران بارش کے باعث دریا میں اچانک پانی کا بہاؤ تیز ہو گیا، جس نے سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ریسکیو کے پہنچنے میں تاخیر پر متاثرہ خاندان نے افسوس اور غم کا اظہار کیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر سوات کے مطابق دریا کے قریب جانے پر پہلے ہی دفعہ 144 نافذ ہے، تاہم سیاحوں کی جانب سے اس پابندی کی خلاف ورزی جاری ہے۔ متاثرہ سیاح کا کہنا ہے کہ بچے سیلفی لے رہے تھے، دریا میں اچانک پانی آیا اور ان کی موجودگی میں بچے ڈوب گئے، ریسکیو ٹیم تاخیر سے پہنچی اور بروقت مدد نہ دے سکی۔

    سیر و تفریح کی غرض سے سوات جانے والا سیالکوٹ کے علاقے ڈسکہ سے تعلق رکھنے والا ایک ہی خاندان دریاۓ سوات کے بے رحم سیلابی ریلے کی نذر ہو گیا۔ المناک سانحہ اس وقت پیش آیا جب خاندان کے 18 افراد دریا کے کنارے ناشتہ کررہے تھے کہ اچانک دریا میں طغیانی آ گئی اور تمام افراد پانی میں بہہ گئے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق واقعہ صبح آٹھ بجے کے قریب پیش آیا، جب اہلِ خانہ بائی پاس کے قریب دریا کے کنارے بیٹھے تھے اور موسم خوشگوار ہونے کے باعث ناشتہ کررہے تھے۔ اس دوران اچانک پانی کے بہاؤ میں غیرمعمولی تیزی آئی جس کے نتیجے میں 18 افراد دریا میں بہہ گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور آپریشن کا آغاز کیا گیا۔

    اب تک 3 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے جبکہ 9 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ باقی 6 افراد کی تلاش تاحال جاری ہے۔ ریسکیو ٹیموں کے مطابق پانی کا بہاؤ شدید ہے جس کی وجہ سے تلاش میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

    حادثے کا شکار ہونے والے افراد میں ڈسکہ کے رہائشی محسن غوری کی چار کمسن بیٹیاں بھی شامل ہیں۔ میرب (17 سالہ، سیکنڈ ایئر کی طالبہ)، عجوہ (15 سالہ، میٹرک کی طالبہ)، شال (12 سالہ، ساتویں جماعت) اور انفال (7 سالہ، تیسری جماعت)۔ ان میں سے عجوہ اور میرب کی لاشیں مل چکی ہیں جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔

    متاثرین میں محسن غوری کی بیوی، سالی توبینہ اسلام، ایک خالہ زاد بہن، ایک ڈاکٹر، اور چھ سالہ بچہ ایان شبباز بھی شامل ہیں جن کی لاشیں بھی شناخت ہو چکی ہیں۔ محسن اپنے سسرالی رشتہ داروں، دوستوں کی فیملیوں اور عزیزوں سمیت ایک ہی کوسٹر میں سیر کے لیے گئے تھے۔ گاڑی میں کل 35 افراد سوار تھے جن میں بیشتر کا تعلق محلہ لالاریاں اور پرانا ڈسکہ سے تھا۔

    واقعہ چشم زدن میں خوشیوں بھرے سفر کو المیے میں تبدیل کر گیا۔ ایک متاثرہ سیاح نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم ناشتہ کرکے چائے پی رہے تھے اور بچے دریا کنارے سیلفی لینے گئے۔ پانی کم تھا، لیکن اچانک ریلہ آیا اور سب کو بہا لے گیا۔ ریسکیو کو فوری اطلاع دی گئی لیکن وہ ڈیڑھ سے دو گھنٹے بعد پہنچے، ان کی موجودگی میں ہی کئی بچے ڈوبے اور بچائے نہ جا سکے۔

    ڈپٹی کمشنر سوات کے مطابق دریا کے قریب جانے اور نہانے پر دفعہ 144 نافذ ہے، مگر سیاح احتیاط نہیں کرتے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ضابطوں کی پابندی کریں تاکہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

    دوسری جانب ڈسکہ شہر میں واقعے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی، پورا شہر سوگوار ہے، ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل افسردہ ہے۔ اہل علاقہ اور سوشل میڈیا صارفین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دریا کنارے سیرگاہوں میں سخت حفاظتی اقدامات کیے جائیں اور سیاحوں کی حفاظت کے لیے مستقل سیکیورٹی اور نگرانی کا بندوبست کیا جائے۔

  • سیالکوٹ: مبینہ پولیس مقابلہ، ساتھی کی گولی سے خطرناک ڈاکو ہلاک، دوسرا فرار

    سیالکوٹ: مبینہ پولیس مقابلہ، ساتھی کی گولی سے خطرناک ڈاکو ہلاک، دوسرا فرار

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض) تھانہ نیکاپورہ پولیس کی جانب سے ایمن آباد روڈ، رام گڑھا چوک کے قریب ڈاکوؤں کے ساتھ مقابلے کے دوران ایک خطرناک ڈاکو اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا جبکہ دوسرا ملزم اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گیا۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق پولیس نے مشتبہ موٹر سائیکل سوار دو مسلح افراد کو ناکہ بندی کے دوران رکنے کا اشارہ کیا، جس پر انہوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی اور نالہ ایک کی جانب فرار ہونے لگے۔ پولیس نے فوری جوابی حکمتِ عملی اپناتے ہوئے دفاعی پوزیشن سے فائرنگ کا جواب دیا اور ملزمان کا تعاقب شروع کیا۔

    فائرنگ کے تبادلے کے بعد جب علاقہ میں سرچ آپریشن کیا گیا تو نالہ ایک کے قریب ایک ملزم کی لاش ملی جو اپنے ہی ساتھی کی گولی کا نشانہ بن کر موقع پر ہی ہلاک ہو چکا تھا۔ ہلاک ملزم کی شناخت معصوم عرف موما کے نام سے ہوئی ہے جو اقدام قتل، ڈکیتی، راہزنی اور پولیس مقابلوں سمیت 17 سنگین مقدمات میں ملوث اور پولیس کو انتہائی مطلوب تھا۔ فرار ہونے والے دوسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے علاقہ بھر میں ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور پولیس ٹیمیں متحرک ہیں۔

    پولیس نے بتایا کہ واقعہ کی مزید قانونی کارروائی جاری ہے اور ملزم کے مجرمانہ ریکارڈ کی روشنی میں تفتیش کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔

  • بہاولپور: سسرالیوں سے تنگ خاتون کی بچیوں سمیت نہر میں چھلانگ، ایک بچی  حالت نازک

    بہاولپور: سسرالیوں سے تنگ خاتون کی بچیوں سمیت نہر میں چھلانگ، ایک بچی حالت نازک

    بہاولپور (باغی ٹی وی) تحصیل خیرپور ٹامیوالی میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں گھریلو جھگڑوں سے تنگ آ کر ایک خاتون نے اپنی تین کمسن بچیوں کے ساتھ نہر میں کود کر خودکشی کی کوشش کی۔ پولیس کے مطابق خاتون کو سسرال میں روزانہ کے جھگڑوں اور ناروا سلوک کا سامنا تھا، جس پر وہ ذہنی دباؤ میں آ گئی اور انتہائی اقدام اٹھا لیا۔

    واقعے کے وقت اہل علاقہ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے خاتون اور تینوں بچیوں کو نہر سے زندہ نکال لیا۔ مقامی افراد کے مطابق خاتون اپنے دیور اور سسرالی رشتہ داروں کے رویے سے شدید پریشان تھی۔ بچیوں میں سے ایک کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے جسے فوری طور پر تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال خیرپور ٹامیوالی منتقل کر دیا گیا ہے۔

    پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ متاثرہ خاتون اور بچیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات پر بھی غور جاری ہے۔

  • اوچ شریف: ستلج میں نہاتے ہوئے نوجوان ڈوب گیا، ساتھی موقع سے فرار

    اوچ شریف: ستلج میں نہاتے ہوئے نوجوان ڈوب گیا، ساتھی موقع سے فرار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے بستی چاکر خان کے مقام پر دریائے ستلج میں نہاتے ہوئے ایک نوجوان ڈوب گیا جبکہ اس کا ساتھی موقع سے فرار ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق دونوں نوجوان کشتی کے ذریعے دریا عبور کر کے نہانے کے لیے پانی میں اترے، مگر حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے باعث ایک نوجوان تیز لہروں کی نذر ہو کر ڈوب گیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب دونوں افراد نے بغیر کسی حفاظتی جیکٹ یا تیراک کی مدد کے دریا میں چھلانگ لگا دی۔ حادثے کے بعد مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت تلاش شروع کر دی، جب کہ ریسکیو 1122 کی ٹیم کو بھی اطلاع دے دی گئی۔

    تاہم ڈوبنے والے نوجوان کی لاش تاحال برآمد نہیں ہو سکی۔واقعے کے بعد علاقہ مکینوں میں افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ دریا کے کنارے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔

  • ٹھٹھہ: پولیس کا منشیات فروشوں اور گٹکا ڈیلرز کے خلاف کریک ڈاؤن، 24 ملزمان گرفتار

    ٹھٹھہ: پولیس کا منشیات فروشوں اور گٹکا ڈیلرز کے خلاف کریک ڈاؤن، 24 ملزمان گرفتار

    ٹھٹھہ (ڈسٹرکٹ رپورٹر بلاول سموں) ٹھٹھہ پولیس نے منشیات فروشوں اور گٹکا مافیا کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے 24 ملزمان کو گرفتار کرلیا، جن میں 19 گٹکا فروش اور 5 منشیات فروش شامل ہیں۔ کارروائیوں کے دوران 2850 پیکٹ گٹکا ماوا، 56 بیگز دیسی شراب، 115 گرام چرس، 1 موٹر سائیکل اور 2 موبائل فونز برآمد کیے گئے۔

    تفصیلات کے مطابق آئی جی سندھ غلام نبی میمن اور ڈی آئی جی حیدرآباد رینج طارق رزاق دہاریجو کی ہدایات پر ایس ایس پی ٹھٹھہ ڈاکٹر محمد عمران خان کی قیادت میں پولیس نے مختلف علاقوں میں منظم کریک ڈاؤن کیا۔ تھانہ ٹھٹھہ کے ایس ایچ او سب انسپیکٹر مظفر علی خالدی نے کارروائی کرتے ہوئے خطرناک گٹکا ڈیلر شاھنواز ولد حاجی خان بروہی کو گرفتار کرلیا۔

    دیگر کارروائیاں ٹھٹھہ، مکلی، گھارو، ساکرو، دہابیجی، جھرک، گھوڑاباڑی اور سی آئی اے پولیس کی جانب سے عمل میں آئیں، جن میں عبدالقادر گھرانو، عبدالعزیز قمبرانی، امان اللہ سمیجو، گل حسن کلمتی، عبدالرشید ملاح، محمد ارمان انصاری، بلاول سمیجو، توقیر سومرو، عبدالستار عرف چھوٹو پٹھان، اللہ واریو میربحر، ارشد ملاح، فیصل منگنھار، مجیب شاہ، افضل شیخ، اشوک کمال، عظیم عمرانی، ذوالفقار ببر، نیاز جاکھرو سمیت دیگر کو گرفتار کیا گیا۔

    منشیات فروشوں میں فیاض چانڈیو، دلبر علی عرف ببی، گلزار علی بابلی، حسین خاصخیلی اور کرامت جھویو شامل ہیں۔ پولیس نے تمام گرفتار ملزمان کے خلاف گٹکا ایکٹ، منشیات آرڈیننس اور نارکوٹکس ایکٹ کے تحت الگ الگ مقدمات درج کر لیے ہیں۔ ایس ایس پی ٹھٹھہ کا کہنا ہے کہ سماج دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔

  • اوکاڑہ: خاتون قتل کیس کا فیصلہ، مجرم محمد آصف کو عمر قید اور 3 لاکھ روپے جرمانہ

    اوکاڑہ: خاتون قتل کیس کا فیصلہ، مجرم محمد آصف کو عمر قید اور 3 لاکھ روپے جرمانہ

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) سیشن جج اوکاڑہ راجہ قمر الزمان کی عدالت نے خاتون قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے مجرم محمد آصف کو عمر قید اور 3 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی، جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید 6 ماہ قید کاٹنا ہوگی۔

    استغاثہ کے مطابق نومبر 2022 میں چک نمبر 2 فور ایل، عامر کالونی اوکاڑہ میں گھریلو تنازعے پر محمد آصف نے فائرنگ کر کے رانیہ بی بی نامی خاتون کو قتل کر دیا تھا۔ واقعہ کا مقدمہ نمبر 1796/25 تھانہ صدر اوکاڑہ میں درج کیا گیا تھا۔ سیشن عدالت میں مکمل ٹرائل کے بعد جرم ثابت ہونے پر عدالت نے سزا کا فیصلہ سنایا۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) اوکاڑہ نے کیس کی مؤثر تفتیش پر تفتیشی افسر اور لیگل ٹیم کو شاباش دی اور کہا کہ کسی بے گناہ کو قتل کرنے والا کسی رعایت کا مستحق نہیں۔