Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • راولپنڈی: گرلز سیکنڈری اسکول میں آئس کے استعمال کا انکشاف

    راولپنڈی کے ایک گرلز سیکنڈری اسکول میں آئس کے استعمال کاانکشاف ہوا ہے۔

    راولپنڈی میں صادق آباد کے علاقے میں گرلز سیکنڈری اسکول میں آئس کے استعمال کا انکشاف ہوا اور اس حوالے سے اسکول انتظامیہ نے منشیات کے استعمال سے متعلق پولیس کو آگاہ کردیا اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ساتویں کلاس کی طالبہ کے بیگ سے بوتل برآمد کی گئی، نشہ آورچیز کلاس میں بچیوں کو پلائی گئی جس سےوہ بے ہوش ہوگئیں جس کے بعد اسکول انتظامیہ نے متعلقہ بچی کے والدین کو بلاکر سارا واقعہ بتایا 20 مئی کو بچی کے والدین اور کچھ دیگر افراد نے اسکول انتظامیہ پرحملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی جب کہ حملے میں ایک ٹیچر بھی زخمی ہوئی، پولیس نے اسکول انتظامیہ کی درخواست پر تحقیقات شروع کردی ہیں۔

    بانی پی ٹی آئی کا تیسری بار پولی گرافک ٹیسٹ کرانے سے انکار

    نئی بابا وانگا’ کی جاپان میں بڑی تباہی کی پیشگوئی

    26 نومبر احتجاج : گرفتار پی ٹی آئی کے 86 کارکنان کی ضمانتیں منظور

  • پیر عادل: موٹرسائیکل اور پھٹہ رکشہ میں تصادم،طالب شدید زخمی

    پیر عادل: موٹرسائیکل اور پھٹہ رکشہ میں تصادم،طالب شدید زخمی

    پیر عادل (باغی ٹی وی، نامہ نگار باسط علی گاڈی) تھانہ شاہصدر دین کی حدود میں واقع دربار پیر عادل کے قریب موٹرسائیکل اور پھٹہ رکشہ کے درمیان خوفناک تصادم کے نتیجے میں سکول سے چھٹی کے بعد گھر جانے والا ایک بچہ شدید زخمی ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق حادثہ اُس وقت پیش آیا جب ایک موٹرسائیکل، جو تیز رفتاری کے باعث بے قابو ہو گیا، دربار پیر عادل کے قریب ٹی آراور گاڈر سے لوڈ پھٹہ رکشہ سے جا ٹکرایا۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ موٹرسائیکل سوارطالب علم بچہ بری طرح زخمی ہو گیا۔

    حادثے کی اطلاع پر ریسکیو 1122 کی ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی اور زخمی بچے کو طبی امداد کے لیے علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق بچے کی حالت تشویشناک ہے۔

    پولیس نے حادثے کی ابتدائی رپورٹ درج کر لی ہے اور مزید کارروائی جاری ہے۔ مقامی افراد نے سڑک پر ٹریفک کی بدانتظامی اور تیز رفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: کچہری میں فائرنگ ، ایک شخص زخمی، ملزم موقع پر گرفتار

    ڈیرہ غازی خان: کچہری میں فائرنگ ، ایک شخص زخمی، ملزم موقع پر گرفتار

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹرجواداکبر) ڈسٹرکٹ کورٹ ڈیرہ غازی خان میں پیشی کے دوران فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔ تھانہ سول لائن پولیس کو اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور ملزم کو موقع پر گرفتار کر لیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ عامر ولد افضل قوم کشانی، سکنہ موضع مندوس دراہمہ، نے عدالت کے احاطے میں دلاور ولد سلطان قوم کشانی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں دلاور زخمی ہو گیا۔ پولیس نے زخمی کو فوری طبی امداد کے لیے ٹراما سینٹر منتقل کیا۔

    واقعے کے فوراً بعد ڈی ایس پی سٹی رانا اقبال، سب انسپکٹر سیف اللہ ارشد اور تھانہ سول لائن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف جائے وقوعہ کا کنٹرول سنبھالا بلکہ ملزم عامر کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا۔

    ایس پی انویسٹی گیشن بختیار احمد خان بھی اطلاع ملنے پر موقع پر پہنچے اور تفتیشی کارروائی کی براہِ راست نگرانی کی۔ پولیس کے مطابق دونوں افراد مقدمہ نمبر 299/23 بجرم 302 تھانہ دراہمہ کے سلسلے میں عدالت میں پیش ہوئے تھے اور ان کے درمیان پرانی دشمنی چلی آ رہی تھی۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تفتیش جاری ہے اور ملزم کے خلاف قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ عدالتوں میں سیکیورٹی انتظامات پر بھی نظرثانی کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔

  • ڈی جی خان:خاتون سے تعلق، پنچایت کے حکم پر پانی میں ڈبویا گیا نوجوان بیان سے مکر گیا

    ڈی جی خان:خاتون سے تعلق، پنچایت کے حکم پر پانی میں ڈبویا گیا نوجوان بیان سے مکر گیا

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ) ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے زین جو کوہ سلیمان کے دامن میں واقع ہے، میں 17 مئی 2025 کو ایک واقعہ پیش آیا جس نے قومی اور بین الاقوامی توجہ حاصل کی۔ ایک نوجوان جمال خان ولد رحیم بخش پر خاتون سے مبینہ تعلقات کے الزام کے تحت غیر قانونی جرگے کے حکم پر "آف پانی” کی رسم ادا کی گئی۔ اس واقعے نے قبائلی رسومات، غیر قانونی جرگوں کے فیصلوں اور ان کے سماجی و قانونی مضمرات پر بحث کو جنم دیا۔ معاملہ اس وقت پیچیدہ ہو گیا جب جمال خان نے اپنے ابتدائی بیان سے مکرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسے کسی نے پانی میں نہیں ڈبویا بلکہ وہ اپنی مرضی سے نہانے گیا تھا۔ یہ رپورٹ واقعے کی مکمل تفصیلات اور اس سے جڑے قانونی و سماجی پہلوؤں کا جائزہ پیش کرتی ہے۔

    واقعہ زین میں پیش آیا، جہاں زیادہ تر بلوچ قبائل آباد ہیں۔ جمال خان پر اس کے چچا نے اپنی بیٹی (جمال کی کزن) کے ساتھ مبینہ جنسی تعلقات کا الزام عائد کیا۔ چچا کا دعویٰ تھا کہ جمال اس کی بیٹی پر "بری نظر” رکھتا ہے۔ اس الزام کی بنیاد پر غیر قانونی جرگہ منعقد کیا گیا، جس نے روایتی رسم "آف پانی” کے ذریعے بے گناہی یا قصور واری ثابت کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس رسم میں ملزم کو رسی سے باندھ کر 200 فٹ گہرے تالاب میں چھلانگ لگانے کا حکم دیا جاتا ہے۔ ملزم کو تقریباً چار منٹ تک پانی کے اندر سر ڈبو کر رہنا ہوتا ہے۔ اگر وہ زندہ باہر نکلے، تو بے گناہ سمجھا جاتا ہے اگر ڈوب جائے تو قصوروار قرار دیا جاتا ہے۔ رسی کا مقصد ڈوبنے کی صورت میں لاش نکالنا ہوتا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق تالاب کی گہرائی 200 فٹ سے زیادہ تھی جو رسم کی خطرناک نوعیت کو ظاہر کرتی ہے۔

    جمال خان نے جرگے کے حکم پر تالاب میں چھلانگ لگائی اور مقررہ وقت کے بعد زندہ باہر نکل آیا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں اس کی کمر پر رسی بندھی دکھائی دی ،18 مئی 2025 کو جمال خان نے بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی) کے تھانہ زین میں ایف آئی آر درج کروائی، جس میں دعویٰ کیا کہ اسے زبردستی تالاب تک لے جایا گیا اور پانی میں ڈبویا گیا۔ ایف آئی آر میں پانچ افراد، جن میں جرگے کا سرپنچ بھی شامل تھا، کو نامزد کیا گیا۔ بی ایم پی نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا اور گرفتاری کے لیے چھاپے مارے، لیکن ملزمان نے مقامی عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی اور تفتیش میں شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کی۔

    کمانڈنٹ بی ایم پی محمد اسد چانڈیا نے بتایا کہ ایف آئی آر میں جرگے کے انعقاد کی تفصیلات نہیں تھیں۔ تفتیش سے پتا چلا کہ جمال اور الزام لگانے والے چچا کے خاندان سمیت قبیلے کے 10 خاندان ایک ہی جگہ رہتے ہیں۔ جمال کو گواہ پیش کرنے کا کہا گیا لیکن وہ کوئی گواہ پیش نہیں کر سکا۔

    جیونیوز کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں جرگے کے فیصلے پرگہرے پانی میں ڈالےگئے نوجوان نے پولیٹیکل انتظامیہ کوبیان حلفی جمع کرا تے ہوئے درج مقدمہ خارج کرنے کا کہہ دیا۔بیان حلفی اور ویڈیو بیان میں نوجوان نے کہا کہ اسے کسی نے پانی میں نہیں ڈبویا، اپنے رشتے داروں کے ساتھ تالاب میں نہانےگیا تھا، پانی میں جانےکی ویڈیو کسی نامعلوم شخص نے بنا کر وائرل کی۔

    پولیٹیکل اسسٹنٹ کے مطابق یہ بیان عدالت میں پیش کیا جائے گا اور جمال کے خلاف غلط بیانی پر مقدمہ درج کیا جائے گا۔ اس سے سوال اٹھتا ہے کہ کیا جمال پر دباؤ ڈالا گیا یا اس نے اپنی مرضی سے بیان تبدیل کیا۔

    کوہ سلیمان کے قبائلی علاقوں میں غیر قانونی جرگے مقامی مسائل کے حل کے لیے منعقد ہوتے ہیں۔ ان کے فیصلوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، لیکن قبائلی دباؤ کی وجہ سے عملدرآمد ہوتا ہے۔ ایک مقامی رہائشی شخص کے مطابق جرگے کے فیصلے سے اختلاف کرنے والے کو باغی قرار دے کر قبیلے سے نکال دیا جاتا ہے اور بعض اوقات اسے قتل بھی کیا جا سکتا ہے۔ "آف پانی” کی رسم میں ملزم کو چار منٹ تک گہرے پانی میں سر ڈبو کر رہنا ہوتا ہے۔ ایک اور رسم میں ملزم کو گرم لوہے کا راڈ پکڑنے اور اس پر تین بار زبان لگانے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اگر ہاتھ یا زبان جل جائے تو قصوروار سمجھا جاتا ہے۔ چھوٹے جرائم کے لیے لوہے کے راڈ کی رسم اور سنگین جرائم کے لیے "آف پانی” کی رسم رائج ہے۔ ایک شخص کا کہنا تھاکہ ہ "ونی” کی رسم بھی عام ہے، جس میں تنازعات کے حل کے لیے لڑکیوں کی شادیاں کی جاتی ہیں۔ اسد چانڈیا کا کہنا ہے کہ ڈیرہ غازی خان میں یہ رسومات تقریباً ختم ہو چکی ہیں، لیکن بلوچستان کے کچھ علاقوں میں اب بھی موجود ہیں۔

    یہ واقعہ قبائلی رسومات اور قانونی نظام کے درمیان تصادم کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان کے قانون کے تحت غیر قانونی جرگوں کا انعقاد اور ان کے فیصلوں پر عملدرآمد ممنوع ہے، لیکن قبائلی دباؤ کی وجہ سے ان کا اثر و رسوخ برقرار ہے۔ وائرل ویڈیو نے رسم کی خطرناک نوعیت اور قانونی نظام کے نفاذ کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ واقعے کے بعد جمال کے بھائیوں اور قبیلے کے ارکان نے کلمہ چوک تونسہ پر احتجاج کیا اور جرگے کے ارکان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ مقامی صحافیوں اور رہائشیوں نے بھی انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ بی ایم پی تفتیش کر رہی ہے، لیکن ملزمان کی ضمانت اور جمال کے تبدیل شدہ بیان نے معاملے کو پیچیدہ کر دیا ہے۔ پولیٹیکل انتظامیہ جمال کے حلفیہ بیان کو عدالت میں پیش کرے گی اور اس کے خلاف غلط بیانی کا مقدمہ درج کرے گی۔

    یہ واقعہ غیر قانونی جرگوں اور ان کے خطرناک فیصلوں کے مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔ اگرچہ جمال زندہ بچ گیا، لیکن اس واقعے نے قبائلی رسومات کے خطرناک نتائج اور ان کے خاتمے کی ضرورت کو عیاں کیا۔ قانونی اداروں کو شفاف تفتیش کے ذریعے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔ قبائلی علاقوں میں تعلیم، شعور، اور قانونی نظام کے نفاذ سے ایسی غیر انسانی رسومات کا خاتمہ ممکن ہے۔

  • گوجرانوالہ: یونان کشتی حادثے میں ملوث انسانی اسمگلر سعید سنیارہ گرفتار

    گوجرانوالہ: یونان کشتی حادثے میں ملوث انسانی اسمگلر سعید سنیارہ گرفتار

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی) ایف آئی اے نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث انتہائی مطلوب اشتہاریوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے یونان کشتی حادثے کے مرکزی کردار سعید سنیارہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار ملزم سعید سنیارہ ریڈ بک میں شامل انسانی اسمگلرز کی فہرست میں شامل انتہائی مطلوب ملزم تھا، جس کے خلاف شہریوں کو غیر قانونی طور پر لیبیا کے راستے اٹلی بھجوانے کے 12 مقدمات درج ہیں۔

    حکام نے بتایا کہ ملزم کی گرفتاری یونان کشتی حادثے کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ یاد رہے کہ جون 2023ء میں پیش آنے والے لیبیا کشتی حادثے میں 296 پاکستانیوں سمیت درجنوں افراد جاں بحق ہو گئے تھے، جس کے بعد انسانی اسمگلنگ کے اس خطرناک نیٹ ورک کے خلاف تحقیقات تیز کر دی گئی تھیں۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ سعید سنیارہ کو مزید تفتیش کے لیے متعلقہ تفتیشی ٹیم کے حوالے کر دیا گیا ہے اور اس کے بین الاقوامی روابط اور نیٹ ورک کے بارے میں اہم انکشافات متوقع ہیں۔

  • راولپنڈی: سوتیلی بہن سے زیادتی اور قتل، ملزم کو دو بار سزائے موت کی سزا

    راولپنڈی: سوتیلی بہن سے زیادتی اور قتل، ملزم کو دو بار سزائے موت کی سزا

    راولپنڈی میں سوتیلی بہن سے زیادتی اور سفاکانہ قتل کے جرم میں عدالت نے سوتیلے بھائی اظہر کو دو مرتبہ سزائے موت اور سات سال قید کی سزا سنائی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج افشاں اعجاز صوفی نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ ملزم کو پھانسی دی جائے اور اسے اس وقت تک پھندے پر لٹکایا جائے جب تک اس کی موت واقع نہ ہو۔عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم کو قتل کے جرم پر 2 لاکھ روپے جرمانہ، زیادتی پر 1 لاکھ روپے جرمانہ جبکہ شواہد مٹانے کے جرم میں 7 سال قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

    پراسیکیوشن کے مطابق، مجرم اظہر نے اپنی سوتیلی بہن نمرہ کو پہلے زیادتی کا نشانہ بنایا، اور بعد ازاں انتہائی بے رحمی سے قتل کر دیا۔واضح رہے کہ یہ افسوسناک واقعہ تھانہ روات کے علاقے میں 25 اگست 2023 کو پیش آیا، جس کے بعد پولیس نے فوری مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کیا۔عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد مجرم کو جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

    پاکستان میں خواتین پر تشدد ، ایک سال میں 5 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ

    قطر کا 400 ملین ڈالر کا تحفہ، پینٹاگون نے ٹرمپ کے لیے لگژری جیٹ قبول کر لیا

    نکسل باغیوں کی آڑ،بھارتی فورسز نے چھتیس گڑھ میں مزید 36 افراد کوقتل کردیا

    پنجاب اسمبلی میں سانحہ خضدار پر متفقہ مذمتی قرارداد سمیت 14 مسودہ قوانین منظور

  • سیالکوٹ: کار سے مرد و خاتون کی برہنہ لاشیں برآمد

    سیالکوٹ: کار سے مرد و خاتون کی برہنہ لاشیں برآمد

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی سٹی رپورٹر مدثر رتو) کوٹلی لوہاراں کے علاقے مغربی محلہ بلووال روڈ پر کھڑی ایک کار سے مرد و خاتون کی برہنہ لاشیں برآمد ہونے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اطلاع ملتے ہی مقامی ایس ایچ او پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے جبکہ فرانزک ٹیم نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔

    پولیس کے مطابق مشتبہ گاڑی سوزوکی سوفٹ (برنگ گرے) ہے جس کا نمبر LHA 8348 ہے۔ دونوں لاشیں کار کی پچھلی سیٹ سے برآمد ہوئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک لاش مرد جبکہ دوسری عورت کی ہے، تاہم تاحال ان کی شناخت نہیں ہو سکی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور شواہد کی روشنی میں جلد حقائق سامنے لائے جائیں گے۔ واقعے کی نوعیت اور محرکات جاننے کے لیے فرانزک رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے، جبکہ نعشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    علاقہ مکینوں نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اصل حقائق جلد سامنے لائے جائیں اور اگر یہ قتل کا واقعہ ہے تو ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔

  • ڈی جی خان: سرور والی، بجلی کے کھمبے پر کام کے دوران کرنٹ لگنے سے نوجوان جاں بحق، عوام کااحتجاج

    ڈی جی خان: سرور والی، بجلی کے کھمبے پر کام کے دوران کرنٹ لگنے سے نوجوان جاں بحق، عوام کااحتجاج

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی رپورٹ) سرور والی میں الیکٹرک پول پر کام کے دوران کرنٹ لگنے سے نوجوان جاں بحق، شہریوں کا واپڈا کیخلاف احتجاج

    ڈیرہ غازی خان میں سرور والی، ملتان روڈ پر افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں بجلی کے کھمبے پر بجلی کا کام کرتے ہوئے کرنٹ لگنے سے ایک نوجوان جاں بحق ہو گیا۔ جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت امین عرف مینا قریشی کے نام سے ہوئی ہے۔

    ریسکیو 1122 کنٹرول روم کو موصول ہونے والی ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی کہ ایک شخص بجلی کے پول پر کام کرتے ہوئے کرنٹ لگنے کے بعد تاروں پر لٹک گیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی قریبی دستیاب موٹر بائیک ایمبولینس، ایک ایمبولینس اور سنٹرل اسٹیشن سے دو ریسکیو وہیکلز جائے حادثہ کی طرف روانہ کر دی گئیں۔ ساتھ ہی اسٹیشن کوآرڈینیٹر کو بھی جائے حادثہ پر بھیجا گیا۔

    واقعے کی اطلاع فوری طور پر پولیس کنٹرول روم (عبدالستار)، ڈی ای او سی اور واپڈا کے متعلقہ ایس ڈی او (سید وجاہت حسین) کو بھی فراہم کر دی گئی۔ جائے حادثہ پر پہنچنے کے بعد معلوم ہوا کہ واپڈا کی ٹیم کے ساتھ آیا ہوا شخص ایک تکنیکی خرابی کو ٹھیک کرنے کے لیے بجلی کے پول پر چڑھا تھا جہاں اسے کرنٹ لگ گیا اور وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا۔

    کنٹرول روم نے واپڈا سے مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے بجلی کی مکمل بندش کی تصدیق کی، جس کے بعد ریسکیو ٹیم نے ایکسٹینڈایبل سیڑھی (Extendable Ladder) کے ذریعے پول پر لٹکے ہوئے متوفی شخص تک رسائی حاصل کی اور لاش کو نیچے اتار کر سی پی آر بھی دی، تاہم وہ پہلے ہی فوت ہوچکا تھا۔

    واقعے کی سنگینی کے باعث مقامی افراد جائے حادثہ پر جمع ہو گئے۔ جب ریسکیو ٹیم نے میت کو ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی تو مشتعل شہریوں نے لاش ایمبولینس سے اتار کر واپڈا کیخلاف شدید احتجاج شروع کر دیا اور ملتان روڈ کو 15 سے 20 منٹ تک بند کیے رکھا۔ پولیس کی نفری موقع پر پہنچنے پر احتجاج ختم ہوا اور متوفی کی لاش کو علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    عینی شاہدین اور شہریوں کا کہنا تھا کہ واپڈا کی غفلت اور حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے قیمتی جان ضائع ہوئی، لہٰذا ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔

  • احمد پورشرقیہ: سابقہ رنجش پر فائرنگ، 50 سالہ شخص زخمی

    احمد پورشرقیہ: سابقہ رنجش پر فائرنگ، 50 سالہ شخص زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) احمد پور شرقیہ میں واقع کچہری روڈ پر ریسٹ ہاؤس گیٹ کے بالمقابل فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 50 سالہ طالب حسین شدید زخمی ہو گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ سابقہ دشمنی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق احمد پور کھوہنہ کے رہائشی طالب حسین موٹر سائیکل پر سوار کہیں جا رہے تھے کہ اسی دوران حافظ فیاض کے بیٹے محمد کیف، محمد اسامہ اور ان کے تین دیگر ساتھیوں نے ان کا راستہ روک لیا۔ محمد کیف نے اس موقع پر طالب حسین پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں دو گولیاں ان کی دائیں ٹانگ پر لگیں اور وہ بری طرح زخمی ہو گئے۔

    واقعے کی اطلاع پر تھانہ سٹی پولیس موقع پر پہنچی اور زخمی طالب حسین کو فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال (ٹی ایچ کیو) احمد پور ایسٹ منتقل کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان رنجش اُس وقت شروع ہوئی جب حافظ فیاض ایک مذہبی اجتماع کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہو گئے تھے، جس پر ان کے بیٹوں نے طالب حسین سمیت دیگر افراد پر الزامات لگا کر مقدمہ درج کرایا تھا، تاہم عدالت نے طالب حسین کو طبی بنیادوں پر بری کر دیا تھا۔

    پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ فائرنگ کے اس واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

  • اوکاڑہ:مبینہ پولیس مقابلہ ،ایک ڈاکو ہلاک

    اوکاڑہ:مبینہ پولیس مقابلہ ،ایک ڈاکو ہلاک

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) تھانہ گوگیرہ کی حدود میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان ہونے والے مقابلے میں ایک ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کا نشانہ بن کر ہلاک ہوگیا جبکہ دو ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس نے نعش کو تحویل میں لے کر ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔

    پولیس ترجمان کے مطابق تھانہ گوگیرہ کی پولیس معمول کے گشت پر تھی کہ جھٹیانہ پل کے قریب تین مسلح ڈاکوؤں نے پولیس کو دیکھتے ہی اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس نے بھی حفاظت خود اختیاری کے تحت جوابی فائرنگ کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر موقع پر ہلاک ہوگیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے ڈاکو کی شناخت عدنان عرف دانی کے نام سے ہوئی ہے، جو 19 سنگین جرائم میں مطلوب تھا اور دو مقدمات میں عدالت سے سزا یافتہ بھی قرار پایا تھا۔ واقعے کے بعد پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ فرار ہونے والے ملزمان کو گرفتار کیا جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ہی دونوں ڈاکوؤں کو قانون کی گرفت میں لے لیا جائے گا۔

    ڈی پی او محمد راشد نے تھانہ گوگیرہ کی پولیس ٹیم کو بروقت کارروائی اور جرأت مندانہ اقدام پر شاباش دی ہے، اور ہدایت کی ہے کہ فرار ہونے والے ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں۔