Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • رکنی بارکھان میں موٹر سائیکل بم دھماکہ، 2 افراد جاں بحق، 9 زخمی

    رکنی بارکھان میں موٹر سائیکل بم دھماکہ، 2 افراد جاں بحق، 9 زخمی

    رکنی (باغی ٹی وی رپورٹ) بلوچستان کے ضلع بارکھان کے مرکزی شہر رکنی میں ایک افسوسناک بم دھماکے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور نو افراد زخمی ہو گئے۔ دھماکہ شہر کی مرکزی شاہراہ بارکھان روڈ پر اس وقت پیش آیا جب موٹر سائیکل میں نصب بم زور دار دھماکے سے پھٹ گیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق بم موٹر سائیکل میں نصب تھا جسے غالباً ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اڑایا گیا۔ دھماکے کے نتیجے میں جائے وقوعہ پر موجود دو افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ زخمیوں کی حالت بھی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ قریبی دکانوں اور عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ سڑک کنارے کھڑی ایک پک اپ گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

    جاں بحق ہونے والوں میں ایک 12 سالہ بچہ لقمان شامل ہے جو سخی سرور کا رہائشی تھا اور اپنے والد سے ملاقات کے لیے بارکھان روڈ پر آیا ہوا تھا۔ دوسرا جاں بحق ہونے والا نوجوان محمد مراد سندھی کے نام سے شناخت ہوا ہے جو رکنی بازار میں آم کی ریڑھی لگاتا تھا اور محنت مزدوری کے لیے شہر میں موجود تھا۔

    زخمیوں میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے عاطف تنویر ولد عبدالحمید بھٹی، محمد زاہد، علی داد (سکنہ کھر)حنیف ولد کمالان، لعل خان گورچانی، اسماعیل ولد حکیم خان، لعلو ولد دراہی، نور بخش ولد قادر بخش (سکنہ راڑہ شم) اور کریم بخش ولد مراد بخش (سکنہ رکنی) شامل ہیں۔ تمام زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور لیویز فورس موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سیکیورٹی اداروں نے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ جائے وقوعہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور فرانزک ٹیمیں شواہد اکٹھے کرنے میں مصروف ہیں۔

    پولیس حکام کے مطابق دھماکے کی نوعیت اور اس میں ملوث عناصر کی نشاندہی کے لیے تفتیش جاری ہے۔ ابتدائی شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دھماکہ دہشت گردی کی کارروائی ہو سکتا ہے تاہم مکمل تحقیقات کے بعد ہی حتمی موقف اختیار کیا جائے گا۔ رکنی اور اس کے اطراف میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

  • گھوٹکی: ٹرالر سے ہزاروں گولیاں برآمد، 3 اسلحہ اسمگلر گرفتار

    گھوٹکی: ٹرالر سے ہزاروں گولیاں برآمد، 3 اسلحہ اسمگلر گرفتار

    میر پور ماتھیلو (باغی ٹی وی نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کی ہدایت پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ تھانہ بی سیکشن پولیس نے حساس ادارے کی اطلاع پر نیشنل ہائی وے پر کندھ کوٹ-کشمور روڈ کے قریب کامیاب کارروائی کرتے ہوئے 3 خطرناک ملزمان کو اسلحے کے بھاری ذخیرے سمیت گرفتار کر لیا۔

    ڈی ایس پی گھوٹکی زاہد حسین میرانی، ایس ایچ او رفیق احمد سومرو اور ان کی ٹیم نے کارروائی کے دوران ناکہ بندی کر کے میاں والی کے رہائشی تین افراد محمد عمران ولد محمد اسلم نیازی، مزمل حسین ولد محمد حنیف شاہ، اور ظفر اقبال ولد احمد یار کلیار کو ایک ٹرالر (TLV 549) سمیت گرفتار کر لیا۔ ٹرالر سے دو ہزار کلاشنکوف اور جی تھری رائفلز کی گولیاں برآمد ہوئیں، جنہیں ملزمان پنجاب سے کراچی اسمگل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    پولیس نے ملزمان کو اسلحہ سمیت تھانے منتقل کر کے ان کے خلاف مقدمہ نمبر 50/2025 بجرم دفعہ 23 سندھ آرمز ایکٹ درج کر لیا ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اسلحہ اسمگلنگ کے پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے۔

    ایس ایس پی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو نے کامیاب کارروائی پر پولیس ٹیم کو شاباش دی اور تعریفی سرٹیفکیٹس دینے کا اعلان کیا۔ پولیس کی یہ کارروائی گھوٹکی میں اسلحہ کی غیر قانونی نقل و حمل کے خلاف ایک بڑی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

  • گھوٹکی: اوباڑو پولیس کی بڑی کارروائی، ایرانی اسمگل شدہ تیل سے بھرا ٹینکر برآمد، 2 ملزمان گرفتار

    گھوٹکی: اوباڑو پولیس کی بڑی کارروائی، ایرانی اسمگل شدہ تیل سے بھرا ٹینکر برآمد، 2 ملزمان گرفتار

    میر پور ماتھیلو (باغی ٹی وی نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کی قیادت میں جرائم کی روک تھام کے لیے گھوٹکی پولیس نے بڑی کامیابی حاصل کر لی۔ حساس ادارے کی نشاندہی پر تھانہ اوباڑو پولیس نے نیشنل ہائی وے پر رینی کینال پل کے قریب کامیاب کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی ایرانی تیل سے بھرا ٹینکر قبضے میں لے لیا اور دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    پنجاب سے سندھ آنے والے آئل ٹینکر نمبر 3145 MNS کو تحویل میں لیا گیا، جس میں 5000 لیٹر اسمگل شدہ ایرانی تیل موجود تھا۔ اس غیر قانونی تیل کی مالیت لاکھوں روپے بتائی جا رہی ہے، جسے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جانا تھا۔

    گرفتار ملزمان کی شناخت غازی خان ولد حاجی خان سرکی (سکنہ سنجرپور، تحصیل صادق آباد، ضلع رحیم یار خان) اور صُفیان ولد محمد یاسین آرائیں (سکنہ صادق آباد، ضلع رحیم یار خان) کے طور پر ہوئی ہے۔ ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 97/2025 بجرم دفعہ 279، 285، 286 ت پ درج کر لیا گیا ہے۔

    ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو نے کامیاب کارروائی پر پولیس پارٹی کو شاباش دی اور تعریفی سرٹیفکیٹ دینے کا اعلان کیا۔ پولیس کی اس کارروائی کو علاقے میں اسمگلنگ کے خلاف اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • اوچ شریف: ترنڈ بشارت میں خستہ حال بجلی کا کھمبا انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن گیا

    اوچ شریف: ترنڈ بشارت میں خستہ حال بجلی کا کھمبا انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن گیا

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف کے نواحی علاقے ترنڈ بشارت میں واقع ضلع کونسل ہیلتھ ڈسپنسری کے قریب نصب بجلی کا خستہ حال کھمبا اہلِ علاقہ کے لیے ایک مستقل جان لیوا خطرہ بن چکا ہے۔ سیمنٹ اور بجری سے بنا یہ کھمبا بری طرح شکست و ریخت کا شکار ہے، جس کے اندر سے آہنی سریے ظاہر ہو چکے ہیں۔ یہ نہ صرف بجلی کی ترسیل میں رکاوٹ بن سکتا ہے بلکہ انسانی جانوں کے لیے بھی شدید خطرہ ہے۔

    مقامی شہریوں کے مطابق کھمبا طویل عرصے سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، مگر محکمہ واپڈا اور متعلقہ اداروں نے تاحال کوئی مرمتی کارروائی نہیں کی۔ درجنوں خواتین، بچے اور بزرگ روزانہ اس خطرناک کھمبے کے قریب سے گزرتے ہیں، اور کسی بھی لمحے بڑا سانحہ رونما ہو سکتا ہے۔

    علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام، ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لیتے ہوئے اس خستہ حال کھمبے کو تبدیل کیا جائے یا مرمت کی جائے، تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی حادثہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری واپڈا اور ضلعی انتظامیہ پر عائد ہو گی۔

  • سیالکوٹ، بہاولپور: سوئمنگ پول اور کرنٹ لگنے کے واقعات میں 3 بچے جاں بحق

    سیالکوٹ، بہاولپور: سوئمنگ پول اور کرنٹ لگنے کے واقعات میں 3 بچے جاں بحق

    سیالکوٹ، بہاولپور (بیوروچیف شاہدریاض+نامہ نگارحبیب خان ) بچوں کی ہلاکت کے دلخراش واقعات سامنے آئے ہیں جنہوں نے والدین اور عوام کو شدید دکھ اور غم میں مبتلا کر دیا ہے۔

    سیالکوٹ میں سوئمنگ پول میں نہاتے ہوئے دو کمسن بچے ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔ واقعہ محلہ حیات پورہ، بلو مہر والی گلی میں پیش آیا، جہاں ایک ہی گھر کے 9 سالہ محمد حسین اور 10 سالہ محمد حنان ایمن آباد روڈ فروٹ منڈی کے قریب واقع ایک سوئمنگ پول میں نہاتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اطلاع ملنے پر تھانہ صدر کے ایس ایچ او میاں رزاق فوری موقع پر پہنچے اور انکوائری شروع کی، جبکہ سوئمنگ پول کا مالک موقع سے فرار ہو گیا۔

    ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ ملزم کو جلد گرفتار کیا جائے گا۔ بچوں کے والدین اور علاقہ مکینوں نے ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد سے مطالبہ کیا ہے کہ غیرقانونی سوئمنگ پولز کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے تاکہ بچوں کی زندگیاں محفوظ رہ سکیں۔

    دوسری جانب بہاولپور کی تحصیل اوچ شریف کے علاقے خانقاہ شریف میں 6 سالہ معصوم بچہ محمد عمر کھیلتے ہوئے پیڈسٹل فین سے کرنٹ لگنے کے باعث جاں بحق ہو گیا۔ ریسکیو 1122 ذرائع کے مطابق، واقعہ کے وقت بچہ گھر میں کھیل رہا تھا جب وہ پنکھے کی زد میں آ گیا۔ ریسکیو ٹیم ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشن شکیل حسن کی قیادت میں موقع پر پہنچی، تاہم بچہ موقع پر ہی دم توڑ چکا تھا۔ غمزدہ اہل خانہ نے لاش کو اسپتال منتقل کرنے سے انکار کر دیا۔

    ان دل دہلا دینے والے واقعات نے متعلقہ حکام کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں، اور شہریوں کا مطالبہ ہے کہ بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔

  • علی پور: پولیس چوکی پر بوسن گینگ کا حملہ، بدنام ڈکیت اختر علوڑ زخمی حالت میں گرفتار

    علی پور: پولیس چوکی پر بوسن گینگ کا حملہ، بدنام ڈکیت اختر علوڑ زخمی حالت میں گرفتار

    اوچ شریف(باغی ٹی وی ،نامہ نگارحبیب خان) تحصیل علی پور میں پولیس کو دو مختلف محاذوں پر سنگین مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک جانب پولیس چوکی شاہ پور پر بوسن گینگ کے درجنوں مسلح افراد نے تعمیرات کے دوران حملہ کر دیا، جبکہ دوسری جانب علی پور سٹی میں بدنام زمانہ ڈکیت اختر علوڑ کو چھڑانے کی کوشش میں پولیس پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ملزم زخمی حالت میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ دونوں واقعات میں پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے اور دو گاڑیوں کے تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق تھانہ خیرپور سادات کی حدود میں دریائی علاقے میں قائم کی جا رہی نئی پولیس چوکی شاہ پور پر اس وقت قیامت صغریٰ برپا ہو گئی جب بوسن گینگ کے تقریباً بیس سے زائد مسلح افراد، جن میں فیاض، ریاض، امتیاز، رفیق، غضنفر، جنید، محبوب، شہباز عرف صوبہ، ظفر عرف جھبیل، سکندر، یاسر، ناظم، ارشاد، صدام و دیگر شامل تھے، نے انچارج چوکی اے ایس آئی مصطفی منظور اور پولیس نفری پر حملہ کر دیا۔ ملزمان نے پولیس چوکی پر سیدھی فائرنگ کی، دو سرکاری گاڑیاں تباہ کر دیں جبکہ اہلکار عمارت کی آڑ لے کر جانیں بچاتے رہے۔

    واقعے کی اطلاع پر سرکل علی پور تھانہ خیرپور سادات، سیت پور اور صدر تھانہ کی نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور کئی گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ بالآخر ڈاکو اندھیرے اور دریائی راستوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس نے انچارج چوکی کی مدعیت میں بوسن گینگ کے خلاف دہشت گردی، حملہ، املاک کی تباہی اور اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایس ایچ او خیرپور سادات نے میڈیا کو تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا تاہم حملے اور مقدمہ درج ہونے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

    دوسری جانب تھانہ سٹی علی پور کی پولیس نے بدنام ڈکیت اختر علوڑ کو، جو کہ سنگین ڈکیتی کی وارداتوں میں مطلوب تھا، گرفتار کر کے برآمدگی و نشاندہی کے لیے فتح پور روڈ پر لے جا رہی تھی کہ جنگلی کے مقام پر اس کے ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر اچانک فائرنگ کر دی۔ پولیس نے فوری طور پر مورچہ زن ہو کر جوابی فائرنگ کی جو وقفے وقفے سے آدھ گھنٹے تک جاری رہی۔ اس دوران حملہ آور رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گئے تاہم اختر علوڑ اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے بائیں گھٹنے میں زخمی ہو گیا جسے دوبارہ گرفتار کر کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال علی پور منتقل کر دیا گیا۔

    پولیس کے مطابق اختر علوڑ کا تعلق سنانواں سے ہے اور اس پر ڈکیتی، اقدام قتل اور دیگر سنگین نوعیت کے سولہ مقدمات درج ہیں۔ پولیس نے اس واقعے کے بعد بھی نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    پے در پے ان دونوں واقعات نے علی پور سرکل میں پولیس کی سیکیورٹی صورتحال پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں جبکہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ دریائی علاقوں میں فعال جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن فوری شروع کیا جائے۔

  • بہاولپور: ایس ایچ او کی مبینہ غنڈہ گردی، خاتون اور بچوں پر تشدد، مکان پر قبضے کی کوشش

    بہاولپور: ایس ایچ او کی مبینہ غنڈہ گردی، خاتون اور بچوں پر تشدد، مکان پر قبضے کی کوشش

    بہاولپور (باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان) تھانہ مسافر خانہ کے ایس ایچ او محمد آصف پر انور کالونی کی ایک بے سہارا خاتون اور اس کے بچوں پر مبینہ تشدد، زبردستی مکان پر قبضے کی کوشش اور موبائل فون چھیننے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ متاثرہ خاتون ناہید بی بی نے صحافیوں سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ گزشتہ شب وہ اپنے بچوں کے ہمراہ گھر کے صحن میں سو رہی تھیں کہ اچانک ایس ایچ او محمد آصف پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہوا، کمروں کے تالے توڑے اور زبردستی مکان پر قبضے کی کوشش کی۔

    ناہید بی بی کے مطابق جب انہوں نے مزاحمت کی تو پولیس اہلکاروں نے ان پر اور ان کے کمسن بچوں پر تشدد کیا، بالوں سے پکڑ کر زمین پر گھسیٹا گیا اور ان کی چیخ و پکار پر کوئی رحم نہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی بہن نے جب اس ظلم کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی تو ایس ایچ او نے اسے بھی مارا پیٹا اور موبائل فون چھین لیا، ساتھ ہی سنگین نتائج کی دھمکیاں دے کر موقع سے چلا گیا۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی اہلِ علاقہ کی بڑی تعداد متاثرہ خاندان کے گھر کے باہر جمع ہوگئی اور پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، آئی جی پنجاب اور ڈی پی او بہاولپور سے مطالبہ کیا کہ ایس ایچ او محمد آصف کو فوری طور پر معطل کر کے اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

    اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او محمد آصف کے خلاف پہلے بھی اختیارات کے ناجائز استعمال کی شکایات سامنے آ چکی ہیں، مگر پولیس افسران نے ہمیشہ چشم پوشی سے کام لیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر متاثرہ خاتون کو انصاف نہ ملا اور ایس ایچ او کو قانون کے کٹہرے میں نہ لایا گیا تو وہ احتجاج کا دائرہ وسیع کر کے ضلعی اور صوبائی سطح پر عوامی تحریک شروع کریں گے۔

    ناہید بی بی نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کے اور ان کے بچوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، ورنہ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس اور لاہور ہائی کورٹ کے باہر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گی۔

  • تنگوانی: ڈی آئی جی ناصر آفتاب کی امن و امان پر ہنگامی میٹنگ، ابرار لاشاری کے قاتلوں کی گرفتاری کا عزم

    تنگوانی: ڈی آئی جی ناصر آفتاب کی امن و امان پر ہنگامی میٹنگ، ابرار لاشاری کے قاتلوں کی گرفتاری کا عزم

    تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ)ابرار لاشاری قتل کیس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر قابو پانے کے لیے ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب پٹھان نے ایس ایس پی کشمور زبیر نظیر شیخ اور ڈی سی کشمور آغا شیر زمان کے ہمراہ تنگوانی کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران مقتول کے ورثاء، اسپتال انتظامیہ، اور پولیس افسران کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی ناصر آفتاب نے انکشاف کیا کہ اس وقت ضلع کشمور میں صرف دو مغوی ڈاکوؤں کی قید میں ہیں جن کے بارے میں اب تک کسی قسم کی کوئی کال یا مطالبہ موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹریٹ کرائم پر قابو پانے کے لیے وہ خود تنگوانی آئے ہیں اور اس مسئلے پر جلد کنٹرول کر لیا جائے گا۔

    ابرار لاشاری کے قتل کو پولیس پر ڈاکوؤں کا حملہ قرار دیتے ہوئے ڈی آئی جی نے کہا کہ اس افسوسناک واقعے میں ملوث مجرموں کو جلد گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی ڈاکو خود کو قانون کے حوالے کرنا چاہے تو پولیس اس کا خیرمقدم کرے گی۔ خودسپردگی ان کے لیے بہتر راستہ ہے تاکہ وہ جرم کی زندگی چھوڑ کر ایک نئی اور بہتر زندگی کا آغاز کر سکیں۔

    ڈی آئی جی ناصر آفتاب نے واضح کیا کہ امن و امان کو برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے اور پولیس مکمل عزم و سنجیدگی کے ساتھ مجرموں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی۔

  • سیالکوٹ: پولیس تشدد کا واقعہ، ڈی پی او کا نوٹس، دو اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج

    سیالکوٹ: پولیس تشدد کا واقعہ، ڈی پی او کا نوٹس، دو اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد نے تھانہ سٹی پسرور میں شہری پر مبینہ پولیس تشدد کے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ملوث اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دے دیا۔

    محلہ رحمان پورہ پسرور کے رہائشی شہری شاہد عمران نے الزام عائد کیا کہ کانسٹیبل محمد آصف مصطفیٰ اور حامد نے اُسے ناجائز طور پر تھانہ سٹی پسرور لے جا کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ ڈی پی او کے فوری احکامات پر دونوں پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ نمبر 480/25 تھانہ سٹی پسرور میں درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    ڈی پی او فیصل شہزاد نے اپنے بیان میں کہا کہ پولیس کی جانب سے شہریوں پر تشدد اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ قانون سب کے لیے یکساں ہے، اور جو اہلکار قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں گے، ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ڈی پی او نے بتایا کہ ملوث اہلکاروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، جبکہ معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات جاری ہیں تاکہ انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

  • اوکاڑہ: گھر سے بھاگنے والی 15 سالہ لڑکی بازیاب، والدین کے حوالے

    اوکاڑہ: گھر سے بھاگنے والی 15 سالہ لڑکی بازیاب، والدین کے حوالے

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)پیٹرولنگ پولیس کی انسانیت نواز کارروائی، گھریلو ناچاکی کے باعث گھر سے بھاگنے والی 15 سالہ لڑکی بازیاب، والدین کے حوالے

    دکھی، بے سہارا اور لاپتہ انسانیت کی مدد کا جذبہ لیے پیٹرولنگ پولیس ضلع اوکاڑہ نے ایک اور قابلِ فخر کارنامہ سرانجام دے دیا۔ گھریلو ناچاکی کے باعث گھر سے بھاگ کر ساہیوال جانے والی 15 سالہ جواں سال لڑکی کو بازیاب کر کے عزت و احترام کے ساتھ والدین کے سپرد کر دیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق پیٹرولنگ چوکی چک نمبر 48 تھری-آر کے اے ایس آئی محمد نوید نے اپنی ٹیم کے ہمراہ LBDC پل کے مقام پر دورانِ سنیپ چیکنگ ایک مشکوک رکشہ کو روکا۔ رکشے میں موجود 15 سالہ لڑکی (ص) کو حفاظتی تحویل میں لے کر تحقیقات کی گئیں۔ انکوائری کے دوران معلوم ہوا کہ لڑکی میٹرک کی طالبہ اور لاہور کی رہائشی ہے، جس کا والد کچھ عرصہ قبل قتل ہو چکا ہے۔ لڑکی اپنی والدہ کے مبینہ ناروا سلوک سے دلبرداشتہ ہو کر ساہیوال میں مقیم رشتہ داروں کے ہاں جا رہی تھی۔

    پیٹرولنگ پولیس نے فوری طور پر لڑکی کے اہلِ خانہ سے رابطہ کیا، جنہوں نے تصدیق کی کہ ان کی بیٹی گزشتہ صبح سے لاپتہ ہے۔ بعدازاں لڑکی کی والدہ، بھائی اور علاقہ معززین کی موجودگی میں صلح کروائی گئی اور لڑکی کو عزت و احترام کے ساتھ حقیقی ورثاء کے سپرد کر دیا گیا۔

    اس کامیاب، انسانیت دوست اور عزت بچانے والی کارروائی پر ریجنل آفیسر پیٹرولنگ پولیس فتح احمد اور ڈسٹرکٹ آفیسر اصغر علی نے پیٹرولنگ ٹیم کو بھرپور شاباش اور حوصلہ افزائی سے نوازا۔ عوامی حلقوں نے بھی پولیس کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے خراجِ تحسین پیش کیا۔