Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • آٹھ سالہ بچے سے بد فعلی کرنیوالے ملزمان گرفتار

    آٹھ سالہ بچے سے بد فعلی کرنیوالے ملزمان گرفتار

    آٹھ سالہ بچے سے بد فعلی کرنیوالے ملزمان گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انویسٹی گیشن پولیس صدر ڈویژن لاہور نے نقب زن گینگ، بد فعلی کے ملزمان گرفتارکر لئے جبکہ ایک خاتون کو ریکورکر لیا

    ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شارق جمال خان کی ہدایات پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں ایس پی انویسٹی گیشن صدر محمد عیسیٰ خان کے مطابق نقب زنی کے متعدد مقدمات میں ملوث 3ملزمان وکرم، صابر اور شہزاد گرفتار کئے گئے ہیں،ملزمان سے ایک لاکھ 35 ہزار نقدی،6 موبائل فونز اور ناجائز اسلحہ برآمد کیا گیا ہے، 8 سال کے بچے سے بدفعلی کرنیوالے ملزم نبیل کو بھی گرفتارکر لیا گیا گھر والوں کو بتائے بغیر شوہر کے ساتھ جانیوالی27سال کی حمیرا کو تلاش کر لیا گیا ہے انچارج انویسٹی گیشن مانگا منڈی رشید سلیم نے ہمراہ ٹیم ملزمان کو گرفتار کیا،شہریوں کے جان و مال کی حفاظت پولیس کی اولین ترجیح ہے،

    لاہور پولیس کی اشتہاری ملزمان کے خلاف بھر پور مہم جاری ہے، ترجمان پولیس کے مطابق ہنجروال پولیس نے ڈکیتی کے مقدمہ میں مطلوب اشتہاری ملزم گرفتار کر لیا اشتہاری ملزم فرمان عرف فرحان ڈکیتی کے میں 5سال سے مطلوب تھا ملزم فرمان نے 5سال قبل تھانہ صدر جہلم کے علاقہ میں گن پوائنٹ پرلاکھوں روپے چھینے اور فرار ہو گیا تھا۔ملزمان کو مزید تحقیقات کے لیے متعلقہ پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ایس پی صدر نے ملزم کی گرفتاری پر پولیس ٹیم کو شاباش اور تعریفی سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا۔

    پنجاب کے شہر میں دو خواجہ سراؤں کو گھر میں گھس کر گولیاں مار دی گئیں

    دو خواجہ سراؤں کا قتل،پولیس نے خواجہ سراؤں کو دھکے مار کر تھانے سے نکال دیا

    پشاور میں پہلی بار خواجہ سراء کو منتخب کر لیا گیا، آخر کس عہدے کیلئے؟

    خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزمان گرفتار

    دوستی نہ کرنے کا جرم، خواجہ سراؤں پر گولیاں چلا دی گئیں

    مردان میں خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے ملزما ن گرفتار

  • قانون کی آڑ میں لا قانونیت  تحریر  : راجہ ارشد

    قانون کی آڑ میں لا قانونیت تحریر : راجہ ارشد

    ۔

     موجودہ حکومت کو پاکستان کی بھاگ ڈور ایک ایسے وقت میں سنبھالنی پڑی جب ملک میں مسلہ ،مسائل نہیں بلکہ مسائلستان بنا ہوا تھا۔ سب سے بڑا مسلہ قانون کی بے بسی تھا۔

    یہ تو ایک حقیقت ہے کہ جس معاشرے میں قانون کی ناانصافی ہو وہاں معاشرے کی مکمل بگاڑ کا سبب بنتی ہے اور یہ واحد بندہ ہے عمران خان جو مسلسل اس امر کو یقینی بنانے کے لئے کوشاں ہے۔کہ قانون سے بالاتر کوئی بھی نہ ہو۔سب کے لیے قانون برابر ہو۔

    ہمارے ہاں مجرموں کی بھی اقسام پائی جاتی ہیں ۔پہلی قسم کے مجرم گلی محلے کے چھوٹے موٹے چور اچکے ہیں جن کو پکڑنے کے لئے قانون فورن حرکت میں آتا ہے۔فوری طور پر قانون ان چوروں کو پابند سلاسل کرتا ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق جیلیں لاکھوں کی تعداد میں اس قسم کے مجرموں سے بھری پڑی ہیں۔

    دوسری قسم کے مجرم وہ ہوتے ہیں جن کے پوچھے علاقے کے بااثر لوگوں کے ہاتھ ہیں۔ ان مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے قانون ان کے پشت پناہی کرنے والے بااثر لوگوں سے پوچھ کر حرکت میں آتی ہے گرین سگنل نہ ملے تو قانون اور اس کے رکھوالے چپ سادھ لیتے ہیں ۔

    تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو خود تھانے سنبھالتے ہیں مجرم بھی خود وکیل بھی خود اور خود ہی جج بھی ہیں۔
    آچھا یہ مجرم ہمارے معاشرے میں معزز بھی کہلاتے ہیں۔

    اس قسم کے مجرموں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے جاو تو پورا پولیس سٹیشن والے آپ کو اس ایف آئی آر کے فوائد اور نقصانات کے بارے میں آگاہ کرنے لگ جاتے ہیں۔

    ان مجرموں کے خلاف ایف آئی آر درج کرتے وقت محرر کے ہاتھ کانپتے ہیں۔ پولیس افسران اور اہلکاروں کو ان پر چھاپے مارنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ وکلا صاحبان ان کا نام سن کر کیس نہیں لیتے۔ منصف  ان کے خلاف فیصلہ نہیں لکھ سکتے۔

    مطلب ان مخصوص مجرموں نے ملک اور ریاستی اداروں کے ناک میں دم کر رکھا ہے اور حیرت انگیز طور پر ان کی تعداد بھی کم ہے۔
    ان حالات میں معاشرہ خاک آگے بڑھے گا۔
    ملک کیسے ترقی کرے گا۔
    اللہ کا کرم ہے اب عمران خان تیسری قسم کے مجرموں کو پابند سلاسل کئے جا رہا ہے تو اے پی ڈی ایم والو
    کیوں روڑے اٹکانے کی ناکام کوشش میں لگے ہو۔

    کب تک لاقانونیت اور دہشت پھیلانے والوں کی پشت پناہی کرو گے۔اب مزید یہ ملک ان حالات کا متحمل نہیں ہو سکتاہمیں اقوام عالم میں اپنا کھویا ہوا مقام واپس چاہیئے جس کی کوشش عمران خان کر رہا ہے۔

    @RajaArshad56

  • جرم،انصاف اور معاشرہ  تحریر:فرح خان

    جرم،انصاف اور معاشرہ تحریر:فرح خان

    "اس عہد ظلم میں میں بھی شریک ہوں جیسے
    مرا سکوت مجھے سخت مجرمانہ لگا”

    ہم سب دوسروں پر تنقید کرنے کے عادی ہیں مگر اپنی اصلاح کی جانب توجہ نہیں دیتے یہ ایک بنیادی خرابی ہے جو ہمارے معاشرے میں ہر برائی کو جنم دے رہی ہے۔
    اگر انسان میں خوف خدا کی صفت پیدا ہوجائے تو ہم برائیوں سے خود بھاگے گے۔

    آئیے دن ہم ایک نئی ظلم کی داستان سن رہے ہوتے ہیں،در حقیقت انصاف اور گرفتاری کے تمام ہیش ٹیگز ہمارے قانونی نظام پر سوالیہ نشان ہیں ،اور اب ان مجرموں کا حوصلہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ خود کو ظاہر کرتے ہوئے وڈیو آپ لوڈ کرتے ہیں، گرفتاری کا خوف ہی نہیں ، سزا کا ڈر نہیں ، شرمندگی کا کوئی احساس نہیں ۔

    فرسودہ تباہ شدہ قانون پہ ان کو مکمل یقین ہے کہ ان کا بال بھیگا نا ہوگا،شوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فورم پہ آواز بلند ہوتی ہے وہ گرفتار ہوتے ہیں اور خود کو ایک سلیبرٹی سمجھ کر فخر سے دھندھناتےہوئے نظر آتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ وہ جوڑ توڑ کریں گے اور انہیں آزاد کردیا جائے گا۔ کچھ دن بعد لوگ بھی بھول جائیں گے اور مخصوص تاریخوں پہ کسی چوک پہ موم بتیاں جلاتے ہوئے نظر آئیں گے۔

    "امجدؔ در نگار پہ دستک ہی دیجئے
    اس بے کراں سکوت میں کچھ غلغلہ رہے”

    وزیر اعظم عمران خان سے درخواست ہے کہ وہ اس شیطانی کھیل کو ختم کرنے کے لئے سخت اقدام کروائیں ،اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی فتنہ اس کھیل کو بڑھاوا دے رہے ہیں تاکہ لاپروائی اور معاشی برائیوں کا الزام حکومت پہ ڈال سکیں۔
    اس میں لبرلز اور غیر ملکی فنڈنگ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    عدلیہ نظام امن،خوشحال معاشرے کی تخلیق کی بنیاد ہوتا ہے پر یہاں کرپٹ اور مسلسل مجرموں کو آزاد کیا جا رہا ہے اور اسی وجہ سے ایک ناسور کی حیثیت اختیار کرتا جارہا ہے۔
    اس نظام پہ جلد توجہ کی ضرورت ہے۔

    تمام انسانوں کو کسی رنگ و نسل ، ذات پات کی تمیز رکھے بغیر انصاف مہیا کیا جائے اور معاشی نظام میں کسی تفریق کے بغیر سب کو برابر سے حقوق ملیں تو اس معاشرے سے برائیوں کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔

    مثبت نتائج کے لیے اپنی ذات سے اصلاح کا کام شورع کریں تو برائیوں پر اچھائیاں حاوی ہو جائیں گی ۔عمدہ مثالی معاشرے کے لیے؛

    ●معاشرے میں انصاف کے لئے اقدامات کیے جائیں۔
    ●افراد کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔
    ●سزاؤں کا نفاذ کیا جائے تاکہ دوسرے افراد عبرت حاصل کریں اور برائی جڑ نہ پکڑ سکے۔
    ●اسکول،نصاب اور والدین پر سخت ذمہ داری ہے اس لیے وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں غفلت نا کریں۔
    ●معاشرہ کو خلوص، محبت،انسانیت اور خدمت سے سنوارا جائے۔

    قرآن مجید میں حکم دیا گیا ہے کہ
    "برائی سے روکو اور نیکی کا حکم دو۔”

    #JusticeForNaseemBibi #JusticeForNoormukadam #JusticeForQuratulainAnnie #JusticeforSaima #JusticeForWishah #JusticeforAndaleeb
    #JusticeForKhadija
    #JusticeForAsifa
    #JusticeForZainab
    #ArrestAbdulSalamDawood
    #ArrestUsmanMirza

    اور اس طرح کئی کیس ہمارے سامنے ہیں،ہمارا معاشرہ خاکی کشکول لیے کھڑا ہے جس میں اچھائیوں،نیکی،انصاف اور حقوق کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ان سب واقعات سے بچنے کے لیے اللہ کرے ہم جلد منظم فضا قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔آمین

    @MastaniFarah

  • کرونا وائرس ایک عالمی وباء ہے     تحریر:  سلمان الیاس

    کرونا وائرس ایک عالمی وباء ہے تحریر: سلمان الیاس

    اور یہ وباء آج کل پھر دنیا بھر میں سر اٹھا رہی ہے۔خاص کر پاکستان میں چھوتا لہر شروع ہو چکا ہے جو پہلے والے سے انتہائی خطرناک ہے ۔اور پریشان کن بات یہ ہے پاکستان میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے

    اس سے پہلے تیسرا لہر بھی انتہائی خطرناک تھا ۔جس نے دنیا میں تباہی مچائی تھی پر الحمد للہ پاکستانی عوام نے ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے ۔احتیاط سے کام لیا اور اس وباء پر قابو پالیا گیا تھا۔تیسری لہر کا دنیا کے کچھ ترقی یافتہ ممالک پر اثرات کے کچھ مناظر میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔

    ‎کینیڈا نے باہر سے آنے اور جانے والی پروازوں پر پابندی عائد کردی تھی ، اور اس کے باوجود روزانہ اموات کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر جاتی تھی

    ‎ تنزانیہ مکمل طور پر بند تھا۔

    ‎ برازیل ایک مشکل ترین وقت میں پڑ گیا تھا، جہاں ایک دن میں 4،100 سے زیادہ اموات ہوتی تھی۔

    ‎ برطانیہ نے ایک ماہ کےلئے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔

    ‎ فرانس 2 ہفتے کے لئے بند تھا۔ جرمنی 4 ہفتوں کے لئے سیل کر دی گئی تھی۔

    ‎ ان تمام ممالک نے تصدیق کی تھی کہ تیسری لہر پہلی اور دوسری لہر سے کہیں زیادہ مہلک ہے۔ لیکن اس کے باوجود الحمدللہ پاکستان میں نہ لاک ڈاؤن لگا دیا تھا اور نہ ہی دوسرے ممالک کی طرح پابندیاں لگائی گئی تھی پھر بھی ہم نے قابو پالیا تھا

    ‎ اس خطرناک وباء پر قابو پانے پر پوری دنیا نے ہماری تعریف بھی کی تھی اور "ڈبلیو ایچ او ” نے کئی ممالک کو ہماری مثال دیکر ہماری پیروی کرنے کو بھی کہاں تھا جو کہ ہمارے لئے اعزاز اور فخر کی بات ہے
    ‎ وہ اسلئے کہ ہم نے احتیاطی تدابیر اختیار کی تھی ۔

    اب بھی ہم لوگوں کو ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے ۔حکومتی احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا چاہے اور ویکسینیشن جتنی جلدی ہوسکتا ہو کروالے کیونکہ ویکسین کے بارے میں جو افواہے گردش کر رہی ہے سراسر غلط ہے۔اس میں کوئی سچائی نہیں ہے میں خود پہلا ڈوز لگواچکا ہو اور دوسرا بھی انشاءاللہ کچھ دنوں تک لگ جائے گی

    اور جو لوگ یہ افواہے پھیلا رہے ہے انکے بارے میں معلوم کرے تو وہ بھی آپ کو ویکسینیشن سنٹر کے باہر قطار میں کھڑے ملیں گے۔کیونکہ انکو بھی پتہ ہے اس وباء کی سنگینی کا پر عادت سے مجبور ہے انہی لوگوں نے پہلے بھی افواہ پھیلائی تھی کہتے تھے کرونا جھوٹ ہے اور موت اپنی مقررہ وقت پر اتا ہے اور ابھی کہتے ہے ویکسین لگوانے سے مر جاؤگے ۔یہ لوگ خود شش وپنج میں ہے انکو خود بھی پتا نہیں ہم کیا بول رہے ہیں۔

    اس لئے اپنے آپ پر اور اپنے پیاروں پر رحم کرکے تمام حکومتی احتیاطی تدابیر پر سختی سےعمل کرے ۔خود کو بھی تکلیف سے بچائے اور دوسروں کو بھی جو کہ ہمارا دینی فریضہ بھی ہے

    اللہُ تعالیٰ ہمیں اور ہمارے پیارے ملک پاکستان کو ہر شر سے اپنی حفظ و امان میں رکھے "آمین ”

    🌷خوش رہے اور خوشیاں بانٹھے یہی اصل زندگی ہے🌷

    ٹویٹر
    ‏ @Salmanjani12

  • قدرتی آفات اور پاکستان  تحریر : حنا

    قدرتی آفات اور پاکستان تحریر : حنا

    آپ سب جانتے ہیں ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں کا سلسلہ کئ روز سے جاری ہے ۔۔جس سے بلوچستان کراچی اسلام آباد کے کچھ علاقے شدید متاثر ہورہے ہیں.قدرتی آفات خاص کر بارشوں سے تباہی صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا کے ہر ملک میں جب بارشوں کا موسم ہوتا ہے تو شدید بارشوں کی وجہ سے نقصانات بھی ہوتے ہیں ۔پھر وہ ملک امریکہ جیسی سپرپاور ہو یا دنیا کا سب سے ترقی یافتہ جاپان.طوفانی بارشوں کی وجہ سے جتنا نقصان تقریبا ہر سال جاپان میں ہوتا شاید ہی کسی اور ملک ہو ۔۔اور پاکستان سمیت دنیا بھر کی نظر میں جاپان دنیا کا ترقی یافتہ ملک ہے ۔۔کہنے کا مقصد ہے کہ قدرتی آفات سے اتنا ترقی یافتہ ملک بھی نہی بچ پاتا ۔۔وہ بھی اپنے مرتے لوگوں کو بہتے پانی سے زندہ نکال نہیں سکتا ۔۔کیونکہ موت کے آگے اس کی ترقی اس کی ٹیکنالوجی بھی نہیں چلتی ۔۔لیکن ہمارے پاکستان میں یہ معمول بن چکا ہے۔۔حکومت آج کی ہو یا پچھلی ۔۔ہم قدرتی آفات پر بھی انسانوں کو زمہ دار ٹھہرانے لگ جاتے ہیں ۔کہ فلاں کی وجہ سے عذاب ہے فلاں برا تھا اس وجہ سے عذاب آگیا ۔ ہمیں اپنے سماجی رویوں میں بھی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے کہ ہم قدرتی آفات کے متاثرین کو ان کے گناہوں کے نتیجے میں عذاب قرار دینے کی بجائے عملی امداد کی فراہمی یقینی بنائیں، میری نظر میں یہ درحقیقت قدرت کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی کاہم خود کیسے سامنا کرتے ہیں اور انسانی ہمدردیوں کی بنیاد پردوسرے متاثرین کی کیسے مدد کرتے ہیں، انسان زمانہ قدیم سے قدرتی آفات کا سامنا کرتا آرہا ہے انسان تمام تر ترقی کے باوجود قدرتی آفات کے آگے بے بس ہے ۔۔پاکستان عوام قیام ِ پاکستان کے بعد سے ہی آفات کا حادثات کا شکار ہوتا آرہا ہے 2010ء کا سیلاب اپنی نوعیت کا خطرناک ترین تھا جس کے نقصانات کا تخمینہ ایک محتاط اندازے کے مطابق 43ارب ڈالرز کا لگایا گیا تھا ایسے ہی قدرتی آفات سے متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان سمیت بھارت، بنگلہ دیش، چین، انڈونیشیا، جاپان، فلپائن، میکسیکو، سوڈان، افغانستان اور امریکہ وغیرہ شامل ہیں،لیکن ہم بطور پاکستانی یا ہماری حکومت ان آفات سے بچنے کی کوشش تو کر سکتے ہیں نہ ۔ہمیں اس حوالے سے حقیقت پسندانہ رویے کا مظاہرہ کرنا چاہئے کہ انسان قدرت کے کاموں میں مداخلت کے قابل تو نہیں لیکن قدرتی آفات کے نتیجے میں نقصانات کی شدت کم ضرور کرسکتا ہے۔قدرتی آفات کے نتیجے میں تباہ کاری کے بعد چندے اور امداد کی اپیل کی بجائے ہمیں پانی کے عظیم ذخیرے کو محفوظ کرکے قومی ترقی کیلئے استعمال کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ ہمیں ان قدرتی آفات میں پوشیدہ قدرت کے اس پیغام کو سمجھنا چاہئے کہ زلزلے اور سیلاب سے مکمل چھٹکارہ حاصل کرنا کسی ملک کے بس کی بات نہیں لیکن انسانی تاریخ میں سرخرو وہی ممالک قرار پاتے ہیں
    دوسری اہم بات ایک دوسرے کو پارسا ثابت کرنے کے لیے قدرتی آفات پر ایک دوسرے کو گنہگار کے طعنے دینے سے بہتر ہے کہ ہم قرآن پاک کھول کر پڑھیں کہ قدرتی آفات آزمائش ہے۔آزمائش اور سزا میں فرق ہوتا ہے اللہ اپنے بندوں کو آزمائش میں اس لیے ڈالتا ہے تاکہ وہ بندوں کی برداشت کی انتہا دیکھیں اور بندوں کی اپنے رب سے محبت کو دیکھیں ۔سورہ بقرہ کی آیت 155، 156 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ”اور البتہ یقینا ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف ، کچھ بھوک ، کچھ مالی وجانی اور پھلوں کے نقصان کے ذریعے اور بشارت دو صبر کرنے والوں کو ، کہ جب ان کو مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں بے شک ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہم نے اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے
    تو ثابت ہوا ۔آزمائش میں صبر کرنے والے ہی جیت جاتے ہیں ۔صبر کرنے والے ہی صبر کا صلہ پاتے ہیں اور صبر کرنے والے بڑی سے بڑی مشکل کو بھی ہنس کر برداشت کر لیتے ہیں ۔۔برداشت کرنا سیکھیے ۔۔کیونکہ رب اپنے بندوں کو اس کی طاقت سے زیادہ دکھ نہیں دیتا..

  • کامونکی: 13 سالہ بچی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا نے والے ملزم گرفتار

    کامونکی: 13 سالہ بچی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا نے والے ملزم گرفتار

    کامونکی کے علاقہ بوپڑا کلاں میں 13سالہ بچی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا –

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق بوپڑا کلاں کی 13سالہ رہائشی بچی گھر سے دکان پر سودا سلف لینے کی غرض سے گئی تو موٹر سائیکل سوار دو ملزمان نے بچی کو اغواءکر لیا –

    ملزمان نے نہر رتہ جھال پر لے جا کر لڑکی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا ، بعد ازاں ملزمان بچی کو نہر کنارے چھوڑ کر فرار ہو گئے ۔

    پولیس نے بچی کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے بچی کا میڈیکل کرایا جس میں بچی سے اجتماعی زیادتی ثابت ہو گئی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا-

    پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے جرم کا اعتراف کرلیا ہے ۔

  • مرادن :موسلادھار بارش کے باعث مختلف حادثات میں دو بچے جاں بحق جبکہ ایک خاتون اور بچہ زخمی

    مرادن :موسلادھار بارش کے باعث مختلف حادثات میں دو بچے جاں بحق جبکہ ایک خاتون اور بچہ زخمی

    مردان: ریسکیو1122 کے مطابق بارش کے باعث ضلع مردان میں مختلف جگہوں سے حادثات کی کالز کنٹرول روم کو موصول ہوئیں-

    باغی ٹی وی : کاٹلنگ کے علاقے تازہ گرام بجلی گھر قاسمی میں گھر گرنے کے کی اطلاع کی گئی جس پر ریسکیو ڈیزاسٹر ،میڈیکل ٹیمیں پہنچ گئیں اور امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں-

    ریسکیو1122 کے مطابق گھر گرنے کے باعث2 بچے جانبحق جبکہ ایک بچہ شدید زخمی ہوا-

    راولپنڈی: نالہ لئی میری زندگی کا مشن ہے ، شیخ رشید کا نالہ لئی کا دورہ

    ادھر تخت بھائی کے علاقے ٹکر میں نکاسی آب بند ہونے کے باعث پانی پورے گاؤں میں جمع ہوگیا کبکہ تخت بھائی کے علاقے گنجئی میں گھروں کے اندر پانی داخل ہو گیا ریسکیو ٹیمیں فوراً پہنچ کر امدادی کاروائیوں میں مصروف عمل ہیں-

    دوسری جانب شمسی روڈ پر پانی جمع ہو گیا ہے تخت بھائی کے علاقے جلالہ اتفاق کالونی میں دیوار گرنے سے خاتون شدید زخمی ریسکیو 1122 میڈیکل ٹیم اور ایمبولینس موقع پر پہنچ گئی متاثرہ خاتون کو طبی امداد فراہم کرتے ہوئے ایم ایم سی منتقل کر دیا۔

    جڑواں شہروں میں موسلادھار بارش ،ندی نالے بپھر گئے ، ریڈ الرٹ جاری

  • انسانی سمگلنگ  تحریر۔محسن ریاض

    انسانی سمگلنگ تحریر۔محسن ریاض

    پنجاب کے چند اضلاع میں انسانی سمگلنگ اس وقت اپنےعروج پر ہے ان اضلاع میں گجرات ، گوجرانوالہ ،منڈی بہاؤالدین اور جہلم شامل ہیں – دور حاضر میں ایک ملک سے دوسرے ملک میں جا کر سکونت اختیار کرنا بہت مشکل ہو چکا ہے جنگ زدہ اور غریب ممالک کے شہریوں کی اکثر یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہاں کسی خوشحال ملک کی طرف ہجرت کر جائیں اس کے لیے وہ غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرتے ہیں-پاکستان میں غیر قانونی طور پر سرحدوں کو عبور کرنے جنون دیکھنے میں آیا ہے خاص کر دیہاتوں کے لوگوں کو ایجنٹ ورغلا کر اس بات لر آمادہ کرتے ہیں کہ آپ کو بیرون ملک بھیجا جا رہا ہے وہاں آپ ایک پر آسائش زندگی گزار سکتے ہیں جبکہ ان سادہ لوح لوگوں کو اس بات کا اندازہ بالکل نہیں ہوتا کہ راسے میں کس طرح کے حالات گزرتے ہیں ایران تک تو راستہ آسانی سے طے ہو جاتا ہے کیونکہ زیادہ تر لوگوں کو زائرین کی شکل میں ایران کی حدود میں داخل کر دیا جاتاہے اس کے بعد ایک مشکل امتحان شروع ہو جاتا ہے کیونکہ وہاں سے غیر قانونی طور پر ترکی کا بارڈر کراس کرنا ہوتا ہے اور ظاہری بات ہے بارڈر پر بہت سختی ہوتی ہے زیادہ تر تو بارڈر کراس کرتے وقت پکڑے جاتے ہیں ہیں مگر کچھ خوش قسمت کراس کر جاتے ہیں یہیں امتحان ختم نہیں ہوتا بلکہ بارڈر کراس کرنے کے بعد بھی اگر آپ بارڈر کے نزدیک پکڑے جاتے ہیں تو آپ کو واپس ایران بھیج دیا جاتاہے اور اگر آپ ترکی پہنچ گئے ہیں تو پھر آپ محفوظ ہیں اور آپ کو براستہ پانی ایک کشتی میں یونان اور پھر یونان سے اٹلی کی طرف روانہ کیا جاتا ہے اور چھوٹی سی کشتی کے سمندر میں ڈوبنے کے واضح امکانات موجود ہوتے ہیں اگر آپ یہاں سے بچ گئے تو پھر آپ اٹلی پہنچ جائیں گے -اس حوالے سے میں نے منڈی بہاؤالدین کے عدنان گوندل سے بات کی تو اس نے بتایا کہ شروع میں تو یہ سب آسان لگ رہا تھا مگر جب ہم ایران پہنچے تو اس کے بعد مشکل دور شروع ہوا کیونکہ چار دفعہ بارڈر کراس کرنے کی کوشش کی گئی مگر ہر بار ناکامی کا سامنا ہوا کیونکہ ان دنوں بارڈر پر بہت سختی تھی پانچویں بارہم بارڈر کراس کرنے میں کامیاب تو ہو گئے مگر ایک نئی مصیبت میں مبتلا ہو گئے ہمیں کردوں نے پکڑ لیا تھا اور پیسوں کا مطالبہ کرنے لگے ہمارے پاس جو کچھ تھا سب لینے کے بعد انہوں نے کہا کہ جو بندہ گھر سے دو ہزار ڈالر منگوا کر دے گا صرف اس کو رہائی ملے گی چند دنوں کے بعد ان کا رویہ بدل گیا اور انہوں نے ہم پر وحشیانہ تشدد شروع کر دیا جس کے بعد مجبوراً ہمیں گھر سے دو ہزار ڈالر منگوانے پڑے اور اس طرح انہوں نے ہمیں زخمی حالت میں فوج کی ایک چوکی کے پاس اس حالت میں چھوڑا کہ ہمارے جسم پر صرف ایک پینٹ تھی اس کے بعد ہمارا پاکستان واپسی کا سفر آسان ہی رہا-میرے لیے یہ ایک رونگٹے کھڑے کر دینے والا واقعہ تھا-اس طرح کہ واقعات آئے دن سننے کو ملتے ہیں کہ تارکین وطن کی کشتی الٹ گئی اور اس ہیں مرنے والے زیادہ تر پاکستانی ہی ہوتے ہیں-میری ان تمام نوجوانوں سے گزارش ہے جو اس بات کا ارادہ کیے بیٹھے ہیں کہ یورپ ہی جانا ہے کہ ان ایجنٹوں کے جھانسے میں ہر گز نہ آئیں کیونکہ ان کو آپ کی سلامتی سے کوئی سروکار نہیں بلکہ ان کو صرف پیسہ چاہیے جو ان کو مل رہا ہے-حکومت کو بھی چاہیے کہ نوجوانوں کو سکلز سکھانے کے ادارے قائم کیے جائیں تاکہ وہ جان کا رسک لے کر بیرون ملک جانے کی بجائے اپنے ملک میں رہ کر باعزت طریقے سے زندگی گزاریں-اس کے علاوہ حکومت کو ایجنٹ مافیا کہ خلاف بھی ایکشن لینا چاہیے جو لوگوں کو موت کے راستے سے گزارتے ہیں-

    ٹویٹر-mohsenwrites@

  • ایک سال سے کمرے میں بند زنجیروں میں قید خاتون بازیاب

    ایک سال سے کمرے میں بند زنجیروں میں قید خاتون بازیاب

    ایک سال سے کمرے میں بند زنجیروں میں قید خاتون بازیاب

    ‏صوابی کے گاؤں درہ میں درندگی کی انتہا صوابی میں ایک سال سے کمرے میں بند زنجیروں میں قید خاتون کو پولیس نے بازیاب کرلیا

    خاتون کو سگے بھائیوں ایک سال سے زنجیروں میں جکڑ کر کمرے میں قید کیا تھا بھائیوں نے بہن کو نوکری سے روکنے اور خاوند کےخلاف کیس لڑنے کی وجہ سے قید کیا تھا ‏خاتون کی طلاق ہو چکی ہیں شوھر سے بچوں کے اخراجات کے سلسلے میں فیملی کورٹ سے رجوع کیا تھا ،پولیس نے ایکشن لیا اور ملزمان کو گرفتار کر لیا، ڈی پی او کا کہنا تھا کہ تین ملزمان گرفتار ہیں جبکہ ایک کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا خاتونِ کے گلے ٹانگ میں زنجیر ڈآلی گئی تھی اور زنجیر کو روشن دان کے ساتھ باندھا گیا تھا پولیس نے خاتون کو بازیاب کروا لیا ہے،

    پنجاب کے شہر میں دو خواجہ سراؤں کو گھر میں گھس کر گولیاں مار دی گئیں

    دو خواجہ سراؤں کا قتل،پولیس نے خواجہ سراؤں کو دھکے مار کر تھانے سے نکال دیا

    پشاور میں پہلی بار خواجہ سراء کو منتخب کر لیا گیا، آخر کس عہدے کیلئے؟

    خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزمان گرفتار

    دوستی نہ کرنے کا جرم، خواجہ سراؤں پر گولیاں چلا دی گئیں

    مردان میں خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے ملزما ن گرفتار

  • راولپنڈی: مبینہ زیادتی کے بعد ماں بچے کو قتل کرنے والے مبینہ ملزم نے گرفتاری دیدی

    راولپنڈی: مبینہ زیادتی کے بعد ماں بچے کو قتل کرنے والے مبینہ ملزم نے گرفتاری دیدی

    راولپنڈی: ماں بچے کے مبینہ قاتل نے گرفتاری دے دی-

    باغی ٹی وی : تھانہ چونترہ کے علاقے میں خاتون سے مبینہ زیادتی کے بعد ماں بچے کو قتل کرنے والے مبینہ ملزم نے گرفتاری دے دی ہے نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق سفاک ملزم واجد نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ 14 ماہ کے بچے کو ملزم نے 24 جولائی کو تیز دھار آلے سے قتل اور اس کی ماں کو زخمی کردیا تھا ملزم کی تلاش کے لیے پولیس نے عوام سے بھی مدد طلب کی تھی۔


    نسیم بی بی کا تعلق وہاڑی سے تھا اور راولپنڈی میں رہائش پذیر تھی۔ پیشے کے اعتبار سے گداگر اور ایک 14 ماہ کے بچے کی ماں تھیں ملزم نے خنجر کے وار کیے اور نسیم بی بی کو مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بھی بنایا تھا۔

    اسپتال پہنچنے سے قبل بچہ ہلاک ہو گیا تھا جبکہ اتوار کو راولپنڈی ڈی ایچ کیو اسپتال میں نسیم بی بی کا بھی انتقال ہوگیا تھاواقعے کی ایف آئی آر تھانہ چونترہ راولپنڈی میں درج ہے۔