Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • سیشن کورٹ لاہور سے مسلح شخص گرفتار

    سیشن کورٹ لاہور سے مسلح شخص گرفتار

    سیشن کورٹ لاہور سے مسلح شخص گرفتار
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سیشن کورٹ لاہور سے مسلح شخص گرفتارکر لیا گیا

    سیشن کورٹ میں پیشی پر ساتھ آنے والے شخص سے اسلحہ برآمد کیا گیا ہے، انسپکٹر مبشر اعوان کا کہنا تھا کہ ظفر نامی شہری کو مشکوک حرکات و سکنات پر چیک کیا گیا، ملزم سے نائن ایم ایم پسٹل، 02 عدد میگزین اور 65 زندہ گولیاں برآمد کی گئی ہیں،ملزم کو مزید کارروائی کے لئے تھانہ اسلام پورہ منتقل کر دیا گیا، غلام محمود ڈوگر نے انسپکٹر مبشر اعوان کو شاباشدی اور تعریفی سند کا بھی اعلان کیا

    رواں سال کے دوران سیشن کورٹ کے باہر اسلحہ کی نمائش پر متعدد ملزمان کو گرفتار کیا گیا، رواں سال کے دوران ناجائز اسلحہ اور نمائش پر 04 ہزار 139 مقدمات درج کئے گئے، آپریشن کے دوران 04 ہزار 497 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، ملزمان کے قبضہ سے 56 جدید کلاشنکوفیں، 416 بڑی رائفلیں قبضہ میں لی گئیں، کریک ڈاؤن کے دوران 29 بندوقیں، 03 ہزار 717 پسٹل برآمد کئے گئے، ملزمان سے 29 ریوالورز اور 44 ہزار 654 زندہ گولیاں برآمد کی گئی ہیں

    غلام محمود ڈوگر کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر اسلحہ کی نمائش کرنےوالوں کےخلاف بھی کریک ڈاون کیا گیا، شہر بھر میں اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی ہے، نقص امن اور شریف شہریوں کےلئے خوف و ہراس کا باعث بننے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے، سی سی پی او لاہورنے تمام ڈویژنل افسران کو کلاشنکوف کلچر کے خاتمے کیلئے کریک ڈاؤن تیز کرنے کا حکم دیا

    نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم، تشہیری مہم پر کتنے کروڑ خرچ کیے گئے؟

    ہم کسی پر احسان نہیں کررہے، یہ محنت کشوں کا حق ہے، وزیراعظم

    سات سال میں مکمل نہ ہونیوالے منصوبے دو ماہ میں مکمل کر دیتا ہوں، زلفی بخاری کا سندھ حکومت کو چیلنج

    رنگ روڈ تحقیقات جاری جبکہ دبئی پہنچ گئے زلفی بخاری

    چیف جسٹس نے قانون میں کون کونسی ترامیم کا کہہ دیا؟ فروغ نسیم نے عدالت میں کیا کہا؟

    آرمی چیف سے متعلق قانون میں ترمیم،بابر اعوان نے ایسا دعویٰ کیا کہ اپوزیشن پریشان

  • پولیس اہلکار کو ڈاکوؤں نے گن پوائنٹ پر لوٹ لیا

    پولیس اہلکار کو ڈاکوؤں نے گن پوائنٹ پر لوٹ لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈاکوؤں نے پولیس اہلکار کو لوٹ لیا

    واقعہ بھارت میں پیش آیا جہاں راجھستان کے علاقے تھانہ رانولی میں تعینات پولیس ہیڈ کانسٹیبل کو ڈاکوؤں نے لوٹ لیا، واقعہ اس وقت پیش آیا جب ملزمان نے گاڑی کو روکا اور سول کپڑوں میں سفر کرنے والے پولیس اہلکار کو گن پوائنٹ پر لوٹ لیا اور گاڑی پر فائرنگ بھی کی ،واقعہ کے بعد پولیس کو الرٹ کیا گیا، ایک ہفتے بعد پولیس نے ملزمان کو گرفتار کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ وہی ملزمان ہیں جنہون نے پولیس اہلکار کو لوٹا تھا

    ملزمان کی شناخت ہریانہ کے ضلع فریدآباد سے تعلق رکھنے والے وکرم بشنوئی اور پنجاب فاضلکا میں بھاؤلا کے رہائشی سوم دت کاکڑ کے طور پر سامنے آئی ہے،پولیس نے ملزمان سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے،پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کو گرفتار کیا

    پولیس کا کہنا تھا کہ پولیس ٹیم نے مشتہ شخص سے تحقیقات کی یہ مشتبہ شخص ملزم سوم دت کا چچا تھا۔ تحقیقات میں چچا نے بھتیجے سوم دت اور اس کے ایک ساتھی کے یہاں آنے کی توثیق کی۔ پتہ چلا کہ دونوں ملزم کار سمیت ناچنا گاؤں میں چھپے پھر رہے ہیں۔ پولیس نے ناچنا میں ملزموں کو ڈھونڈنا شروع کر دیا، اور دونوں کو گرفتار کر لیا

    خواجہ سرا کا یہ کام دوسروں کیلئے مشعل راہ ہے،لاہور ہائیکورٹ

    پنجاب کے شہر میں دو خواجہ سراؤں کو گھر میں گھس کر گولیاں مار دی گئیں

    دو خواجہ سراؤں کا قتل،پولیس نے خواجہ سراؤں کو دھکے مار کر تھانے سے نکال دیا

    پشاور میں پہلی بار خواجہ سراء کو منتخب کر لیا گیا، آخر کس عہدے کیلئے؟

    خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزمان گرفتار

    دوستی نہ کرنے کا جرم، خواجہ سراؤں پر گولیاں چلا دی گئیں

    مردان میں خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے ملزما ن گرفتار

  • خواجہ سرا کے ساتھ ڈکیتی، مزاحمت پر بال کاٹ دیئے گئے

    خواجہ سرا کے ساتھ ڈکیتی، مزاحمت پر بال کاٹ دیئے گئے

    خواجہ سرا کے ساتھ ڈکیتی، مزاحمت پر بال کاٹ دیئے گئے

    منڈی بہاوالدین میں شادی کی تقریب سے واپس آنے والے خواجہ سراء کی کار روک کر کے دو لاکھ روپے کی بیلیں چھین لی،

    مزاحمت پر خواجہ سراء انمول پر عثمان سمیت 7 افراد کا تشدد سر کے بال کاٹ دیئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ساجد حسین کھوکھر نے نوٹس لے لیا ،منڈی بہاءالدین میں خواجہ سراء کو تشدد کا نشانہ بنانے اور دو لاکھ نقدی چھیننے کا واقعہ سامنے آیا ہے، پولیس تھانہ سول لائن نے خواجہ سراء جنید عرف انمول کی تحریری درخواست پر عثمان نامی شخص سمیت پانچ نامزد اور دو نامعلوم افراد سمیت 7 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا یے،

    ڈسڑکٹ پولیس آفیسر ساجد حسین کھوکھر کا کہنا ہے کہ خواجہ سراء معاشرے کا مظلوم فرد ہیں اور انہیں مکمل تحفظ فراہم کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے، انکا کہنا تھا کہ ملزم عثمان کو پولیس نے فوری گرفتار کر لیا یے اور انصاف میرٹ پر کیا جائے گا

    دوسری جانب خواجہ سراء انمول نے تھانہ سول لائن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اس موقع پر انکا کہنا تھا کہ وہ شادی کا پروگرام کر کے واپس ا رہے تھے کہ انکی کار کو عثمان نامی شخص نے اپنے  ساتھیوں کی مدد سے روک لیا اور انہیں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا، اوراسکے بال کاٹ دیئے ہیں

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    خواجہ سرا کے روٹھنے پر خود کو آگ لگانے والا پریمی ہسپتال منتقل

    خواجہ سرا پر تشدد کرنے والے ملزمان گرفتار

    خواجہ سراؤں کو ملازمتوں میں کوٹہ مقرر کرنے کا مطالبہ سامنے آ گی

    خواجہ سرا کا یہ کام دوسروں کیلئے مشعل راہ ہے،لاہور ہائیکورٹ

    پنجاب کے شہر میں دو خواجہ سراؤں کو گھر میں گھس کر گولیاں مار دی گئیں

    دو خواجہ سراؤں کا قتل،پولیس نے خواجہ سراؤں کو دھکے مار کر تھانے سے نکال دیا

    پشاور میں پہلی بار خواجہ سراء کو منتخب کر لیا گیا، آخر کس عہدے کیلئے؟

    خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزمان گرفتار

    دوستی نہ کرنے کا جرم، خواجہ سراؤں پر گولیاں چلا دی گئیں

    مردان میں خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے ملزما ن گرفتار

    خواجہ سرا بھی اب سکول جائیں گے، مراد راس

     

  • پنڈی میں ملزم کا حملہ.خاتون زخمی،14 ماہ کا بچہ قتل.

    پنڈی میں ملزم کا حملہ.خاتون زخمی،14 ماہ کا بچہ قتل.

    تھانہ چونترہ کے علاقہ مہوٹہ موہڑہ کے قریب خاتون کو زخمی اور 14 ماہ کے بچے کو قتل کرنے کے معاملہ پر سی پی او نے نوٹس لے لیا

    واقعہ میں ملوث ملزم کی جلد از جلد گرفتاری کی ہدایت کر دی،واقعہ کی اطلاع پر ایس ایس پی انویسٹی گیشن، ایس پی صدر، اے ایس پی صدر،ایس ایچ او چونترہ اور ایس ایچ او وومن موقعہ پر پہنچے،ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم واجد نے تیز دھار آلے سے خاتون اور اس کے 14 ماہ کے بچے کو زخمی کیا،14 ماہ کا بچہ یوسف زخموں کی تاب نہ لاتے ہوۓ موقعہ پر جاں بحق ہو گیا،

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملزم واجد نے متاثرہ خاتون کو مہوٹہ موہڑہ کے قریب بلایا تھا، بچے کی نعش کو پوسٹ مارٹم جبکہ خاتون کو علاج معالجہ کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، ایس ایس پی انویسٹی گیشن کا کہنا ہے کہ موقعہ سے شواہد اکٹھے کئے جا رہے ہیں، واقعہ کی تمام زاویوں پر تحقیقات کرتے ہوۓ حقائق کو سامنے لایا جائے گا،واقعہ کا مقدمہ درج کر کے ملزم کی گرفتاری کو یقینی بنایا جائے گا، ملزم کی گرفتاری کے لئے ٹیمیں تشکیل دے کر ریڈز کئے جا رہے ہیں،

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

  • کرپشن کا بڑھتا ہوا رجحان   تحریر : اقصیٰ صدیق

    کرپشن کا بڑھتا ہوا رجحان تحریر : اقصیٰ صدیق

    کرپشن کا لفظ خراب، بوسیدہ اور عیبی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے، دوسرے لفظوں میں اسے بدعنوانی کے معنوں میں بھی لیا گیا ہے۔
    یعنی اپنے اختیارات کا نا جائز استعمال کرتے ہوۓ کسی دوسرے کا وہ کام کرنا جس کا وہ اہل نہیں ہے۔ اور بدلے میں بھاری معاوضہ طلب کرنا۔
    موجودہ سیاست کرپشن کی مرہون منت ہے۔
    بد عنوانی کے سبب کسی بھی ملک کے وسائل کا صحیح استعمال ممکن نہیں اس میں کئی بار اہل لوگوں کی جگہ پر نااہل لوگ تعنیات کر دیۓ جاتے ہیں۔ اور اس طرح رشوت اور دولت کی تقسیم میں عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔
    ماہرین کے مطابق بد عنوانی حکومت کو معاشی بحران کا شکار کردیتی ہے اور عوام کی بنیادی وسائل اور خدمات تک رسائی کی صلاحیت کو کم کردیتی ہے۔

    بڑھتی ہوئی کرپشن کی ایک بڑی وجہ ہمارے ہاں ریاستی، انتظامی اور قانونی اداروں میں بے جا سیاسی مداخلت ہے۔
    ہمارے ملک میں سرکاری افسران کرپشن کی ایک بڑی وجہ ہیں, یہ لوگ معاشرے کے اہل لوگوں کی حق تلفی کرتے ہوۓ اپنے خاندان کے لوگوں کو ترجیح دیتے ہیں۔

    موجودہ دور میں کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان خود اس بحران سے دو چار ہے۔ اس کا اندازہ پاکستان کی موجودہ سیاسی، انتظامی، قانونی، معاشرتی اور معاشی نظام میں عدم شفافیت کی بنا پر لگایا جایا سکتا ہے۔ کوئی بھی معاشرہ یا ریاست اس وقت تک نہیں ترقی نہیں کر سکتی ہے جب تک اس کی تمام تر پالیسیاں ٹھوس منصوبہ بندی کی بنیاد پر منظم نہ ہوں اور اس کا اپنا داخلی نظام شفافیت پر مبنی نہ ہو۔ ٹرانسپریسنی انٹرنیشنل2020 کی کرپشن سے متعلق سی پی آئی انڈیکس رپورٹ کے مطابق پاکستان کرپشن سے نمٹنے میں مسلسل ناکامی سے دوچار ہے، اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ 180 ممالک کی فہرست میں پاکستان 31 پوائنٹس کی بنیاد پر 124 نمبر پر کھڑا ہے۔ جبکہ اس سے قبل سال 2019 میں پاکستان 120 ویں نمبر پر تھا۔
    پاکستان میں آۓ دن کرپشن میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اور ملکی صورت حال انتہائی مایوس کن ہے،
    ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی مسائل اس قدر زیادہ ہیں،کہ ان کا شمار ناممکن ہے۔ ان میں دو اہم مسائل ایک بڑھتی ہوئی آبادی اور دوسری بڑھتی ہو ئی کرپشن ہے۔
    گزشتہ کئی سالوں کی نسبت پاکستان آج بہت زیادہ کرپٹ ملک تصور کیا جارہا ہے،
    علاوہ ازیں حکومتی اختیارات کے حوالے سے پاکستان کا نمبر 97 میں سے 69 ویں نمبر پر ہے۔
    بدعنوانی کی شکلیں بہت مختلف ہیں ، ان میں سے کچھ یہ ہیں:

    بدعنوانی کی ایک بڑی شکل رشوت کا لین دین ہے،

    جرائم کے وقوع ہونے کی سب سے بڑی وجہ سے رشوت خوری ہے ، اور یہ ٹیکس چوری کے بدلے بڑی رقم کی پیش کش سے شروع ہو کر جرمانے سے بچنے کے لئے کسی سیکیورٹی آفیسر کو معمولی رقم کی رسائی تک ہوتی ہے۔ رشوت جرائم کی جڑ ہے۔
    رشوت کی تعریف کچھ ان الفاظ میں بیان کی جاتی ہے کہ کسی سرکاری افسر یا کسی عوامی یا قانونی امور کے مجاز سے اپنا کام نکلوانے کے عمل کو متاثر کرنے کے لیے پیسے کی پیشکش، دینا، وصولی یا مانگنا رشوت کہلاتا ہے۔
    جب کسی قوم میں عدل و انصاف ختم ہو جائے اور لوگوں کو ان کے حقوق جائز طریقے سے نہ مل رہے ہوں تو اس صورت میں رشوت کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔

    دنیا کے مختلف حصوں میں رشوت خوری کو مقبولیت حاصل ہے۔
    رشوت دینے والے اور لینے والوں دونوں کو جہنمی کہا گیا ہے۔

    ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے دونوں پر رشوت لینے اور دینے والے پر لعنت فرمائی ہے,

    سیاسی جماعتوں کے نظام میں کرپٹ اراکین کو حکومت نہ صرف تحفظ دیتی ہے بلکہ ان کو سیاسی جماعتوں کے داخلی نظام میں بہت بڑی حیثیت حاصل ہے۔
    یہاں مسئلہ صرف سیاست یا سیاست دانوں کا نہیں بلکہ معاشرے کا ہر طاقت رکھنے والا فرد کرپشن کے زمرے میں آتا ہے ۔
    موجودہ حکومت اور عمران خان کی سیاست کاب بنیادی مقصد احتساب اور کرپشن کی سیاست کا خاتمہ کرنا ہے۔
    وزیر اعظم عمران خان کو سمجھنا ہوگا کہ کرپشن کا خاتمہ کوئی معمولی کام نہیں, معاشرے میں کرپشن کی گرفت بہت مضبوط ہے۔ کرپشن کا خاتمہ ملک کے سیاسی، انتظامی، قانونی اور معاشی نظام میں ایک بڑی اصلاحات کا منتظر ہے۔

    @_aqsasiddique

  • پاکستان اور ٹریفک حادثات تحریر: احسان الحق

    پاکستان اور ٹریفک حادثات تحریر: احسان الحق

    کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے سڑکیں اہم ترین اور بنیادی کردار ادا کرتی ہیں. دراصل پختہ سڑکیں یا لمبی چوڑی شاہراہیں اہم کردار ادا نہیں کرتیں، ان کے اوپر زرائع آمد ورفت اور اشیاء کی نقل وحمل کے لئے چلنے والی گاڑیاں اہم کردار ادا کرتی ہیں. ان گاڑیوں سے زیادہ ان گاڑیوں کو چلانے والے لوگ زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں.
    ہم تیزی سے عمدہ اور پختہ سڑکوں کے جال بچھا رہے ہیں. خطے میں موٹر وے، ہائی وے سمیت سڑکوں کی تعمیر کے حوالے سے ہم سب سے آگے ہیں. اسی طرح ان سڑکوں پر حادثات اور قانون شکنی میں بھی شاید سب سے آگے ہیں. سڑکیں مناسب ہیں مطلب ان حادثات کے پیچھے سڑکیں وجہ نہیں. مسافروں اور اشیاء کی ترسیل کے لئے استعمال ہونے والی گاڑیاں بھی اتنی بری نہیں جتنے برے ان گاڑیوں کو چلانے والے لوگ ہیں اور ان لوگوں سے زیادہ موٹر وے یا ٹریفک پولیس کے اہلکار برے ہیں جو معمولی سی رقم یا سفارش یا غفلت کی وجہ سے بڑے حادثے کی وجہ بن جاتے ہیں.
    پاکستان خطے میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں روڈ یا ٹریفک حادثات میں اگر پہلے نمبر پر نہیں تو چند پہلے آنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں سالانہ سب سے زیادہ ٹریفک حادثات میں اموات ہوتی ہیں. ان اموات کے پیچھے غیر تربیت یافتہ ڈرائیور یا نشے کے عادی ڈرائیور ہیں. موٹر وے یا ہائی وے پر تعینات پولیس اہلکاروں کی کرپشن بھی ایک وجہ ہے جو اوور اسپیڈنگ، اوور لوڈنگ، لائسنس کی عدم موجودگی، یا ڈرائیور کا نشے میں ہونا اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر سزاء اور جرمانہ نہیں کرتے. ہماری دوہری بدقسمتی کہ حادثے کی صورت میں ہنگامی حالت کو ڈیل کرنے اور زخمیوں کو بروقت ہسپتال پہنچانے کے لئے وسائل نہیں اور ہسپتال بہت دور ہوتے ہیں. بعض اوقات زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کے لئے گھنٹوں انتظار اور سینکڑوں کلومیٹرز کا سفر کرنا پڑتا ہے جس سے زخمیوں کی حالت اور بگڑ جاتی ہے.
    اب چند دن پہلے ایک بس سیالکوٹ سے راجن پور کے لئے نکلی. بس کی 46 نشستوں پر 46 مسافروں کو بٹھانے کی گنجائش تھی مگر بس انتظامیہ نے 75 لوگوں کو بس کے اندر بٹھایا، 16 لوگوں کو چھت پر بٹھایا. 46 سواریوں کی جگہ تقریباً 91 لوگوں کو سوار کیا گیا. بس کی باڈی میں، بس کے اندر اور بس کی چھت پر ان مسافروں کا سامان بھی لادا گیا تھا. بس سیالکوٹ سے ڈیرہ غازی خان پہنچ گئی مگر کسی پولیس یا ادارے والے نے بس کو روکا اور نہ ہی جرمانہ کیا. بس ڈرائیور کی غلطی یا ٹینکر ڈرائیور کی غلطی، یا اوور لوڈنگ کی وجہ سے یا پولیس کی غلفت یا کرپشن کی وجہ سے 3 درجن لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے.
    ٹریفک حادثات روزانہ کی بنیاد پاکستان کے ہر علاقے میں ہوتے ہیں. ان حادثات میں اکثر جان لیوا ہوتے ہیں مطلب روزانہ کی بنیاد پر پاکستانی ٹریفک حادثات میں ہلاک ہو رہے ہیں. تحقیق کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ڈرائیور کی غفلت سے حادثہ ہوا ہے. ڈرائیور غیر لائسنس یافتہ ہوتا ہے، یا شراب میں دھت ہوتا ہے یا موبائل کا استعمال کر رہا ہوتا ہے یا ڈرائیور کی نیند پوری نہیں ہوتی. کبھی کبھی اوور سپیڈ یا ساتھ والی بس سے ریس لگاتے ہوئے بھی حادثات ہو چکے ہیں.
    ٹریفک کے نظام کو ٹھیک کرنا ہو گا، ان فٹ گاڑیوں اور ان فٹ ڈرائیوروں کو سخت سزائیں اور جرمانے کرنے ہونگے. گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ڈرائیوروں کا معائنہ بھی ہونا چاہئے. نشے کے عادی افراد کو کسی بھی صورت میں کسی بھی گاڑی پر نہیں بیٹھنے دینا چاہئے. ٹرانسپورٹ شعبے میں اکثریت ڈرائیور باقاعدگی سے شراب نوشی کرتے ہیں. آپکو یاد ہوگا کہ علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر شاہیںن ائیرلائن کا طیارہ خوفناک حادثے میں بال بال بچا اور بعد میں پتہ چلا کہ پائلٹ شراب کے نشے میں دھت تھا. پاکستان میں جب تک کوئی ڈرائیور کسی حادثے میں کسی کی جان نہ لے چکا ہو اس وقت تک اسکو ڈرائیور ہی تسلیم نہیں کیا جاتا. سڑک حادثات کو کم سے کم کرنے کے لئے ٹرانسپورٹرز، حکومت اور اداروں کو سنجیدگی اور ایمانداری سے کام کرنا ہوگا تاکہ سالانہ سینکڑوں لوگوں کو ہلاک ہونے سے بچایا جا سکے.
    @mian_ihsaan

  • لڑکی سے ناجائزتعلقات کاشبہ ، بااثر ملزمان نے غریب کاشتکار کے جسم  کے اہم حصے کاٹ دیئے

    لڑکی سے ناجائزتعلقات کاشبہ ، بااثر ملزمان نے غریب کاشتکار کے جسم کے اہم حصے کاٹ دیئے

    مظفر گڑھ کے تھانہ محمود کوٹ کے علاقے بستی کھنڈویا میں ظلم اور بربریت کی انتہا ہو گئی تعلقات کے شبہ میں غریب کاشتکار کے دونوں کان اور ناک کاٹ دی۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق تھانہ محمود کوٹ کے علاقے بستی کھنڈویہ میں 6 با اثر ملزمان فاروق، قیوم، روف، مظہر، سجاد وغیرہ نے عید کے دوسرے روز زمینوں پر کھیتی باڑی کرتے ہوئے کاشتکار اکرم کو رسیوں سے باندھ کر اس کے دونوں کان اور ناک کاٹ دی۔

    ملزمان کو شک تھا کہ اکرم کے ان کی برادری کی لڑکی سے ناجائز تعلقات ہیں، پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تمام 6 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    8 سالہ بچی کے ساتھ گلی میں نازیبا حرکات کرنے والا فحش شخص گرفتار

  • بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات  تحریر : ام سلمیٰ

    بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات تحریر : ام سلمیٰ

    ٹریفک حادثات کے دن با دن بڑھتے ہوئے واقعات یقیناً ٹریفک قوا نین کی سہی طرح آگہی نہ ہونے ظاہر کرتا ہے.

    پاکستان میں بڑے شہر ہوں یہ چھوٹے ٹریفک قوانین کی شاذ و نادر ہی پیروی کی جاتی ہے ٹریفک کے بڑھتے ہوئے حادثات کوئی کنٹرول کرنے کا طریقہ سختی سے ٹریفک کے قوانین کی پیروی کرنا ہے۔

    صوبہ پنجاب میں پیر کی صبح ایک مسافر بس اور ٹرک کے تصادم میں 30 افراد ہلاک اور 74 زخمی ہوگئے۔

    ریسکیو عہدیداروں نے بتایا کہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب لاہور کے جنوب مشرق میں (289 میل) جنوب میں ضلع ڈیرہ غازیخان میں الصبح ایک بس کنٹینر ٹرک سے ٹکرا گئی اور یہ خوفناک حادثہ رونما ہوا اور 30 کے قریب افراد جان کی بازی ہار گئے اور 70 سے زیادہ زخمی ہوئے جن میں سے کافی کی حالت تشویش ناک تھی.

    ریسکیو سروس کے ذریعہ زخمی اور جاں بحق افراد کو قریبی اسپتال لے جایا گیا۔

    ڈیرہ غازی خان ٹیچنگ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نجیب الرحمٰن نے بتایا ہلاکتوں کی تعداد بہت بڑھ سکتی ہے کیونکہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ہر سال دنیا بھر میں سڑک حادثات میں 1.2 ملین افراد کی موت واقع ہوتی ہے۔
    اسی وجہ سے موٹر وے پولیس سڑک استعمال کرنے والوں کے ذریعہ ٹریفک قوانین پر عمل پیرا ہونے کو یقینی بناتے ہوئے ایسی اموات کی روک تھام کے لئے پوری کوشش کر رہی ہوتی ہے.

    اس بات کی اشد ضرورت ہے کے ملک میں مختلف پلیٹ فارم پے میں ٹریفک قوانین کے بارے میں شعور بیدار کرنے کے لئے اجلاس منعقد کروانے چائیے تاکہ لوگوں میں ٹریفک قوانین کو فالو کرنے کا شعور بیدار ہو اور مستقبل میں خطرناک ترین ٹریفک حادثات سے بچا جا سکے.

    اعدادوشمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سڑک حادثات میں ہر سال دنیا بھر میں 12 لاکھ افراد کی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔اگر ڈرائیوروں اور موٹرسائیکل سواروں میں سڑک کے نشانوں اور ٹریفک قوانین کے احترام کا احساس پیدا کیا جائے تو موت کے واقعات میں کافی حد تک کمی واقع ہوگی۔

    پاکستان میں اس معاملے میں موٹر وے پولیس نے بلا تفریق ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی اور بھاری جرمانے عائد کرکے ڈرائیوروں کے ذریعہ موبائل فون ، ہینڈ فری فری ڈیوائس اور ہیڈ فون کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی ہمیشہ لیکن سب سے اہم ہے کے ڈرائیور حضرات یہ وہ کمپنیز جو اس کاروبار سے جُڑے ہیں وہ اپنے عملے میں آگا ھی پیدا کریں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے خطرناک ترین حادثوں سے بچا کا سکے جو اتنے زیادہ جانی نقصان کا باعث بنے.

    عام شہری احتیاط سے ٹریفک کے قوانین کو فالو کرتے ہوئے گاڑیاں چلائیں ، اور سڑکیں عبور کرتے ہوئے بھی احتیاط کریں.

    @umesalma_

  • ن لیگی ایم پی اے کے خلاف قتل کا مقدمہ درج

    ن لیگی ایم پی اے کے خلاف قتل کا مقدمہ درج

    پسرور سبز پیر میں قتل ۔ ایم پی اے رانا لیاقت علی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا

    تھانہ سبزپیر کی حدودمیں ن لیگی ایم پی اے رانالیاقت علی کے بہنوئی فائرنگ حملہ میں قتل .بیوہ بہن نے بھائیوں پرمقدمہ درج کروادیا، تھانہ سبرپیرنے بیوہ کی درخواست پرمقتول کئ بیوہ اوربہن ایم پی اے رانا لیاقت علی اسکے بھائی رانا شوکت علی سمیت ساتھیوں پرمقدمہ درج کرلیا

    ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ن لیگی ایم پی اے رانا لیاقت,رانا شوکت نے فائرنگ کرواکر اپنا بہنوئی کوقتل کروادیا۔ ۔کنگرہ روڈپرہرپال سٹاپ کے قریب نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے فائرنگ کی۔۔ مقتول کے بیٹے کا کہنا ہے کہ رانا لیاقت ایم پی اےاوراسکے بھائی راناشوکت علی نے شُوٹرز کے زریعے فائرنگ کرواکر والد کو قتل کروایا۔ بیوہ نے الزام عائد کیا کہ مقتول کا ن لیگی ایم پی اے رانالیاقت علی کے بہنوئی کیساتھ تنازعہ چل رہا تھا۔اطلاع پرتھانہ سبزپیرپولیس نے مقتول کی نعش کوسول ہسپتال منتقل کردیا ہے

  • سانحہ  ، بائی پاس  ڈی جی خان  تحریر:  محمد ابراہیم

    سانحہ ، بائی پاس ڈی جی خان تحریر: محمد ابراہیم

    اکرم نے اسلم سےکہا کہ بھائی ماں کے لیےاس عید پر دو سوٹ لیتے ہیں۔ امجد نے بھی ان سے اتفاق کیا۔ لیکن تینوں تھوڑی دیر تک خاموش ہو گئے۔ پھر اسلم نے کہ ہم ایسا کرتے ہیں کہ ابو جان کے لیے بھی دو سوٹ لیتے ہیں۔ سب نے اتفاق کیا۔ تھوڑے توقف کے بعد امجد بولا ، اپنی تین بہنیں کیا سوچیں گی؟ ان کے لیے بھی دو دو سوٹ لیتے ہیں۔

    سب نے اتفاق کیا۔ ماں اور بہنوں کے لیے چوڑیاں بھی خریدنی ہیں۔ سب نے اتفاق کیا۔ جوتے بھی خریدے گئے۔ لیکن جب حساب ہونے لگا تو قربانی اورکرائے کا خرچہ نکال کر ان کے پاس اپنے سوٹوں کی رقم نا ہونے کے برابر تھی۔ تینوں نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنے لیے لنڈے کے دو دو سوٹ لے لیتے ہیں۔ اس کو صحیح دھلوا کر استری کر لیں گے اور یوں ہم اپنوں کے لیے سب چیزیں اچھی والی خرید سکیں گے۔ تینوں بھائیوں نے اتفاق کیا۔ عید سے دو دن پہلے یہ سب چیزیں شاپنگز کر کے ایک بیگ میں رکھ لی گئی۔ ان میں سے ایک کی شادی بھی ہونے والی تھی۔ گھر میں ان تینوں بھائیوں کا بڑی بے صبری سے انتظارہو رہا تھا۔ تینوں بہنوں کی بے چینی انتہاء پر تھی کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ ان کے تین ویر 6 ماہ بعد گھر آ رہے ہیں تو ان کے لیے بہت کچھ لائیں گے۔ ابو نے ان تینوں سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ

    سیالکوٹ سے راجن پور براستہ ڈیرہ غازی خان بس آ رہی ہے ہم کل بیٹھ جائیں گے۔ پھر اگلے دن وہ روانہ ہوئے۔ تینوں بہنیں ہر گھنٹہ بعد اپنے ابو سے کہتیں کہ رابطہ کریں کہ وہ کہاں پہنچ گئے ہیں۔ رات بارہ بجے تک انھوں نے رابطہ رکھا۔ پھر کچھ دیر کے لیے نیند آ گئی۔ صبح کی نماز کے وقت جلدی بیدار ہوئیں۔ ابو سے کہا کہ رابطہ کریں۔ پتہ چلا کہ پل قمبر کراس کر لی ہے۔ انتظار بڑھتا جا رہا تھا۔ کوئی ایک گھنٹے بعد ابو کا موبائل بجنے لگا، تو تینوں بہنیں چہک کر والد کے پاس آ بیٹھیں کہ شاید ان کے بھائی قریب پہنچ گئے ہیں۔ لیکن والد صاحب بس سن رہے تھے ، کوئی جواب نہیں دے رہے تھے۔ باپ کے چہرے پر سنجیدگی بہت گہری ہوئی۔ تو تینوں بہنوں نے اپنے ابو سے کہا کہ کیا ہوا ابو، کیا ہوا ابو۔ ابو سے اور کچھ نا بولا گیا، بس یہی کہا "میں بوڑھا ہو گیا ہوں دعا کرو اللہ پاک اس امتحان میں کامیاب کرے”۔ پھر چند لمحہ بعد مزید کالز آتی رہیں۔ ایک کالز پر ابا جی گر پڑے۔ بہنوں کو معلوم ہوا کہ بس کو حادثہ ہو گیا ہے۔ ماں صدمہ سے نڈھال ہوئی۔ بہنوں نے رو رو کر اپنا حال برا کیا۔

    چند گھنٹوں بعد ایمبولینس کی آواز آئی۔ سب رشتہ دار آ چکے تھے۔ تھوڑی دیر میں ان تینوں شہزادوں کی لاشوں کو الگ الگ چار پائی پر لایا گیا۔ ہر آنکھ اشک بار تھی۔ در و دیوار رو رہے تھے۔ آسمان غم میں تھا۔ ماں باپ اور بہنیں ہوش میں نا تھیں۔ وہ شاپنگ بیگ جس میں چھ ماہ کی مزدوری تھی۔ کھولا گیا تو کیا شاندار کپڑے، جوتے اور چوڑیاں تھیں۔ اپنے لیے لنڈے کے وہ سوٹ لائے تھے لیکن ماں باپ اور بہنوں کے لیے بہترین کوالٹی کی چیزیں۔ اللہ اکبر۔

    یہ کہانی میرے وسیب کے بیرون شہر و ملک رہنے والے مزدور شہزادوں کی ہے۔ جو اسلام آباد،راولپنڈی سے اپنا خون پسینہ ایک کر کے پتہ نہیں کس طرح اپنوں کو خوش کرتے ہیں۔ خود کڑی دھوپ اور گرمیوں میں کام کرتے ہیں لیکن اپنوں کو ہر سکون دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ خود لنڈے کے کپڑے پہن کر دنیا کو اچھا دکھاتے ہیں لیکن اپنوں کے لیے اصلی کپڑے اور جوتے لاتے ہیں۔

    اس سانحہ عظیم پر بھی حکومت وقت نا جاگی تو کب جاگے گی؟؟ یہ قاتل انڈس ہائی وے تونسہ روڈ کب ڈبل کرے گی؟ یہ تیز رفتاری کو کب چیک کرے گی؟ یہ رشوت دے کر لائسنس بنانے اور بنوانے والوں کو کب سخت سے سخت سزا دے گی؟ ہم کب تک اپنے وسیب کے گھروں کو اجڑتا دیکھتے رہیں گے؟
    اللہ پاک شہداء سانحہ بائی پاس ڈیرہ غازی خان کے تمام افراد کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ امین

    نوٹ: یہ میری تحریر سانحہ بائی پاس ڈیرہ غازی خان کے حوالے سے تخیلاتی ہے جس میں ایک گھر کے حقیقی درد کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے اور حکومت وقت سے چند سخت سوالات پوچھنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں فرضی نام ڈالے گئے ہیں۔.