ننکانہ صاحب: نمائندہ باغی ٹی وی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ننکانہ سٹی نزد نالی والا گاؤں خاوند نے گھریلو ناچاقی کی بنا پر پر بیوی، بیوی کے بھائی اور ساس پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں دو خاتون سمیت تین افراد شدید زخمی ہو گئے ریسکیو 1122 کا عملہ اطلاع پا کر بروقت وہاں پہنچا اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ننکانہ صاحب منتقل کر دیا۔زخمیوں میں اسماءوائف آف نصیر احمد،
وحید سن آف حبیب احمد،ریحانہ کوثر وائف آف حبیب احمد شامل ہیں۔
Category: جرائم و حادثات
-

ننکانہ سٹی گاؤں نالی والا،گھریلو ناچاقی پر خاوند کی فائرنگ،
-

بنی گالہ کی حدود میں صحافیوں پر تشدد، مقدمے کے اندراج میں سیاسی اثرورسوخ حائل ہوگیا
بنی گالہ کی حدود میں صحافیوں پر تشدد، مقدمے کے اندراج میں سیاسی اثرورسوخ حائل ہوگیا
باغی ٹی وی : اسلام آبادتھانہ بنی گالہ کی حدود ملوٹ کے علاقے میں صحافیوں پر سوسائیٹیز کے غنڈوں کے حملےکا معاملہباغی ٹی وی : صحافیوں پر حملے میں ملوث عناصر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا .مقدمہ اسلام آباد ماڈل پراجیکٹ کے سی ای او ملک طاہر ،مرزا نوید کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا.ایف آئی آر کے متن میں لکھا گیا کہ نامعلوم مسلحہ افراد کا صحافیوں کو اسلام آباد ماڈل پراجیکٹ کے مالکان کی ایما پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں . ملوٹ میں واقعہ اسلام آباد پراجیکٹ اور پارک ویو سے متلق حقیقت پر مبنی خبر اخبار میں شائع کی گئی تھی جس وجہ سے یہ واقعات پیش آئے .
ملک طاہر اور مرزا نوید ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں درج کیئے جانے والے مقدمات میں بھی نامزد ہیں.مقدمے میں اسلحے کی نوک پر جان سے مارنے اور زدوکوب کرنے کی دفعہ درج کر دی گئی .سیاسی اور محکمانہ اثرورسوخ کے باعث دیگر دفعات شامل نہی کی گئی
مسلحہ افراد نے اسلحے کے زور پر صحافی سے کیمرہ بھی چھینا تھا . راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ کے اعلی عہدیدار اور کثیر تعداد میں ممبران نے ایس ایچ او بنی گالہ سے ملاقات کی تھی . ملاقات میں صحافیوں کی تنظیم نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا .ڈیوٹی افیسر نصیر احمد نے موقع کا ملاحظہ بھی کیاتھا . وقوعہ کے موقع ملاحظہ کے دوران مسلح افراد کی موجودگی پائی گئی
وقوعہ کی نشاندہی کرنے والے صحافی ملک احتشام نےجائے وقوعہ پر مسلح افراد کی موجودگی کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لیا
پولیس نے تاحال مسلح افراد کو گرفتار کرنے کے لیئے کوئی کاروائی نہی کی . وزیر اعظم عمران خان کی رہائش گاہ کے قریب مسلح افراد کی موجودگی نے پولیس کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھا دیے . صحافتی تنظیم کی جانب سے درخواست کے مطابق مزید دفعات درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے .
صدرآر آئی یو جے شکیل احمد نے کہا کہ مزید دفعات اور ملزمان کر جلد گرفتار نا کیاگیا تو احتجاج پر مجبور ہونگے، آزادی صحافت پر بڑھتے ہوئے حملوں پر صحافیوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے، صحافیوں پر حملوں میں گزشتہ چند ماہ سے غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے،
صحافیوں کو نشانہ بنانے کا مقصد آزادی صحافت کو صلب کرنا ہے، حکومت صحافیوں پر بڑھتے حملوں کا نوٹس لے،
-

وکیل نے جج کے سامنے سائل کو تشدد کا نشانہ بنادیا
وکیل نے جج کے سامنے سائل کو تشدد کا نشانہ بنادیا
باغی ٹی وی : کراچی میں وکیل نے سائل کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا . وکیل نے سائل کو کراچی کے ضلع شرقی کی عدالت نمبر 23 میں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا ، اس سلسلے میں سائل پائلٹ خرم کا کہنا ہے کہ ایڈووکیٹ کلیم احمد نے کہا کہ وکیل نے سول جچ سومرو کے سامنے چیمبر میںتشدد کا نشانہ بنیایا.
سائل کا کہنا ہے کہ بچوں کی کسٹڈی کے کیس میں عدالت گیا گیا. وکیل کے تشدد کے باعث کان میں شدید تکلیف ہے .

واضح رہے کہ وکلا کی اس قسم کے تشدد کا ہونا اب ایک عام سی بات بن چکی ہے . وکلا کے ہاتھوں کبھی سائل پٹتے ہیںاور کبھی وکلا جج کو تششد کا نشانہ بناتے نظر آتے ہیں. اسطرح پی آئی سی سانحہ سب کے سامنے ہے کہ جس میں وکلا نے کیسے ہسپتال پر حملہ کیا تھا اور وہاں ڈکٹروں سمیت کئی مریضوں کو بھی گھائل کی گیا تھا .
-

کراچی ساؤتھ پولیس کا بڑا سرچ آپریشن ، کون کون سے ملزم بنے نشانہ
کراچی ساؤتھ پولیس کا بڑا سرچ آپریشن ، کون کون سے ملزم بنے نشانہ
باغی ٹی وی : کراچی ساؤتھ پولیس کا شریں جناح کالونی میں سرچ آپریشن، سرچ آپریشن میں پولیس کے سو سے زائد اہلکاروں نے حصہ لیا ۔
علاقے کےداخلی خارجی راستوں کو سیل کرکے علاقے کے ایک سو پچاس گھروں کی تلاشی لی گئی۔ایس ایس پی ساوتھ کے مطابق سرچ آپریشن کے دوران ایک سو پچاس مشتبہ افراد سے تفتیش بھی کی گئی ۔
ایس ایس پی زبیر نزیر شیخ کے مطابق چار افراد کو کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا ۔ایک گھر سے غیر قانونی اسلحہ برآمد ہوا ۔
سرچ آپریشن کے دوران ایک منشیات فروش کو گرفتار کر لیا گیا ۔
-

مفرور مجرم پولیس مقابلے میں ہلاک
شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی) موٹروے کے کنارے گاؤں فتح پوری میں غریب گھرانے کی لڑکی کومل سے اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں ملوث دو ڈاکو بھائی پرویز اور جنید رات گئے سرگودھا روڈ پر مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے دونوں ملزمان 24 گھنٹے قبل پولیس کی حراست سے فرار ہو گئے تھے جبکہ ان کا ایک بھائی ابھی تک پولیس کی حراست میں ہے جس نے بارات کو لوٹنے کی واردات کے دوران کومل سے اجتماعی زیادتی کی تھی
ڈی پی او غلام مبشر میکن نے بتایا ہے کہ 5اور 6 جنوری کی درمیانی شب کو ایک غریب گھرانے کی بارات قصبہ خانقاہ ڈوگراں سے واپس اپنے گاؤں ککڑ گل جا رہی تھی جس میں شامل کومل بی بی کا خاندان ایک رکشہ پر سوار تھا جس کو گاؤں فتح پوری کے قریب روک کر تینوں بھائیوں نے لوٹ لیا اور منت سماجت کرنے اور پاؤں پڑنے کے باوجود دونوں ڈاکوؤں نے کومل کو گھنے درختوں میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا اور اسکے والد اور بڑی بہن سمیت خاندان کے 7 افراد کو رسیوں میں جکڑ دیا اور ان کے سامنے بیٹی کومل کے ساتھ کئی گھنٹے تک منہ کالا کرتے رہے جسکے پانچ روز بعد پولیس نے تینوں بھائیوں کو پکڑ لیا جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ ان تینوں بھائیوں نے شیخوپورہ ، گوجرانوالہ ، حافظ آباد سمیت پنجاب کے کئی اضلاع میں ڈکیتی اور راہزنی کی درجنوں وارداتیں کی ہیں اور ایک ملزم جنید چند روز قبل ہی ڈکیتی کیسوں میں ضمانت پر رہا ہو کر آیا تھاگزشتہ روز پولیس دونوں بھائیوں کو ڈکیتی کی واردات میں لوٹے جانے والے سامان کے برآمدگی کے لیے گاؤں اشیر کے لے جا رہی تھی کہ راستے میں ان کا چار ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر حملہ کر کے ان دونوں کو ہتھکڑیوں سمیت چھین لیا اور موٹرسائیکلوں پر بٹھا کر نامعلوم مقام پر لے گے رات گئے یہ دونوں ڈاکو بھائی پرویز اور جنید اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ خانقاہ ڈوگراں کے قریب گاڑیوں کو لوٹ رہے تھے جہاں لوگوں کے اکھٹے ہو جانے پر شیخوپورہ کی طرف موٹر سایئکل پر بھاگ آئے جس کا راستے میںگاؤں اعوان بھٹیاں پرناکہ لگا کر کوئی پولیس پارٹی نے انھیں روکنے کی کوشش کی تو اس دوران انکا پولیس سے فائرنگ کا تبادلہ ہو گیا جس میں دونوں ملزمان بھائی اپنے 3ساتھیوں کی فائرنگ کی زد میں آکر مارے گئے۔
ڈی پی او غلام مبشر میکن کے مطابق فائرنگ کرنے والے تینوں ڈاکوؤں کی تلاش جاری ہے ۔ مرنے والے دونوں بھائیوں کی نعشیں ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچا دی گئ ہیں۔ جو گاؤں اشیر کے کے رہائشی تھے ۔ انھوں نے بتایا کہ ڈاکوؤں کی اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی 16 سالہ لڑکی گاؤں ککڑگل کے محنت کش گلزار مسیح کی بیٹی تھی جس سے زیادتی کے واقع کا بعد پاکستان کے علاوہ کئی یورپی ممالک کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے کومل بی بی سے زیادتی پر احتجاج کیا تھا۔ -

گوادرمیں پولیس نے کارروائی کے دوران کیا اہم چیزیں پکڑلیں ، رپورٹ آگئی
گوادر: گوادرمیں پولیس نے کارروائی کے دوران کیا اہم چیزیں پکڑلیں ، رپورٹ آگئی ا،طلاعات کے مطابق کلانچ کے ایریا میں پولیس نے بہت بڑی کاروائی کرتے ہوئے بڑی کامیابی سے بہت قیمتی اشیاکی کھیپ پکڑ لی ہے
ذرائع کے مطابق اس علاقے مٰیں پندرہ اونٹوں پر لدے منشیات کی بڑی کھیپ پکڑ لی گئی. منشیات کو اونٹوں کے زریئع ساحلی علاقے میں منتقل کیا جاریا تھا.
پولیس کے مطابق برامد کردہ منشیات کو کلانچ سے گوادر منتقل کیا جارہا ہے پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس واقعہ مین ملوث کردارون سے تفتیش جاری ہے
-

پولیس کو جھوٹی اطلاع دینا شہری کو مہنگا پڑ گیا
ایس پی ملیر نے بتایا کہ گلشن حدید میں 17 لاکھ 50 ہزار ڈکیتی کا ڈراپ سین ہوا ہے. ملک سنگھار نے کہا کہ ملزم نے اپنے آفس کی رقم خرد برد کر کے 15 لاکھ لوٹنے کی اطلاع دی ہے.
ایس پی ملیر نے کہا کہ دوران تفیش ڈکیتی کے شواہد نہیں ملے ہیں، ملزم پر تاب کے گھر سے 17 لاکھ 50 ہزار روپے مل گئے ہیں. انہوں نے کہا کہ ملزم کیخلاف کمپنی کے مالک اظہر کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے تفیش جاری ہے.ملزم نے کمپنی انتظامیہ کو بتایا تھا کہ 5 سے 6 ملزمان کیش چھین کر فرار ہوگئے ہیں،ملزمان نے صرف کمپنی کا کیشن چھینا جبکہ اس کے 6 لاکھہ بچ گئے ہیں.
-

کورنگی انڈسٹریل ایریا کی فوڈ فیکٹری میں آتشزدگی، لاکھوں روپےکا نقصان
کورنگی انڈسٹریل ایریا کی فوڈ فیکٹری میں آتشزدگی ، کراچی کےعلاقےکورنگی انڈسٹریل ایریا کی فوڈ فیکٹری میں آتشزدگی کے باعث لاکھوں روپےکا نقصان ہوگیا۔ایم ڈی واٹربورڈ اسداللہ خان نے کہا کہ واٹربورڈ کے لانڈھی ہائیڈرنٹ پر ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، پانی سے بھرے متعدد ٹینکر حادثہ کے مقام کی جانب روانہ کردیئے گئے ہیں،
اایم ڈی واٹربورڈ اسداللہ خان نے کہا کہ حتیاطا”دیگر ہائیڈرنٹس کو بھی الرٹ کردیا گیا ہے ، فوکل پرسن ہائیڈرنٹس سیل عملےسمیت جائے وقوعہ پر پہنچ رہے ہیں ،
آگ پر قابو پائے جانے تک فائربریگیڈ کو بلامعاوضہ پانی کی فراہمی جاری رہے گی،ایم ڈی واٹربورڈ اسد اللہ خان نے بتایا کہ آگ لگنےکی اطلاع ملتےہی واٹربورڈ کےلانڈھی ہائیڈرنٹ پرایمرجنسی نافذ کردی گئی اورپانی سےبھرے متعدد ٹینکر آگ سے متاثرہ مقام کی جانب روانہ کردیئے گئے۔اسداللہ خان نےبتایا کہ احتیاطا دیگرہائیڈرنٹس کوبھی الرٹ کردیا گیا ہےجبکہ فوکل پرسن ہائیڈرنٹس سیل کو عملےسمیت جائےوقوعہ پرپہنچنےکی ہدایت کی گئی ہے۔
-

قصور جنسی اسکینڈل:انکوائری رپورٹ میں دل دہلا دینے والے انکشافات
زینب انسٹی ٹیوٹ نرسنگ کالج موضع بنگلہ کمبوہاں قصور شہر میں جنسی استحصال کا واقعہ رونما ہوا ہے جس میں سو سے زائد بچیوں کا جنسی استحصال کیا گیا ہے اور ان کو پیپرز میں پاس کرنے کے نام پر زیادتی کی گئی ہے اور معصوم بچیوں کے مستقبل کو داﺅ پر لگایا گیا ہے۔
باغی ٹی وی : جس بچی نے آواز بلند کرنے کی کوشش کی اسے عبرت کا نشان بنایا گیا ہے۔پنجاب پولیس نے تاحال صرف دو ایف آئی آر دو معصوم بچیوں کے ساتھ پیش آنیوالے واقعات کی درج کی ہیں جب کہ حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں 100 سے زائد بچیوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا گیا ہے اور اب پنجاب حکومت پپو نلکا نامی اس جنسی درندے کیخلاف ایف آئی آر درج نہیں کررہی کیونکہ اس بہروپیے نے ایک جعلی صحافی کا بھی روپ دھار رکھا ہے قصو ر کا مقامی میڈیا پپو نلکا جیسے درندے کو سپورٹ کررہا ہے جس میں پولیس بھی سرفہرست ہے۔
پپو نلکا نرسنگ کی طالبات کو واٹس ایپ پرمیسیج کرکے اپنے کمرے میں بلاتا تھا اور اپنی جنسی ہوس پوری کرتا تھا لڑکیوں کی طرف سے منتیں اور واسطے دینے پر انہیں مغلظات بکتا ہے اور انکی بات نہ ماننے پرانہیں کالج سے نکالنے اور پیپر میں فیل کرنے کی دھمکی دیتا ہے پپو نلکا نے جعلی نرسنگ سکول بھی قائم کررکھا ہے-
تاہم اس ساری تحقیقات کے لیے مندرجہ ذیل افسران پر مشتمل ایک مشترکہ انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔جن میں یہ افسران شامل ہیں-
1. ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل (چیئرمین)
2. ایڈیشنل ایس پی ، قصور
3۔ڈاکٹر حفیظ الرحمن ، ڈی ایچ او قصور
مسز بشری انور ، پرنسپل اسکول آف نرسنگ ، ڈی ایچ کیو ، قصوراب اس 3 رکنی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے وہ رپورٹ ڈی سی قصور نے ہیلتھ کئیر کمیشن کو بھیجی ہیں ان میں کہا گیا کہ زینب انسٹیٹیوٹ جس قانون کے تحت بنایا گیا اس قانون کے تحت کاروائی کریں-
اور لوکل گورنمنٹ جس میں ٹی ایم اے اور ضلع کونسلر شامل ہیں کو زینب انسٹیٹیوٹ کو فوری طور پر سیل کرنے کی ہدایت کی گئی ڈی سی قصور نے اس بلڈنگ کو غیر قانونی قرار دیا۔
اور انہوں نے جو پی این سی (پاکستان نرسنگ کونسل ) کا جو لیٹر لگایا ہوا ہے کہ ہمارے پاس پی این سی کا اجازت نامہ ہے اس کا بھی ہیلتھ کئیر کمیشن کو کہا گیا کہ اس کے بارے میں انکوائری کریں کہ کیا یہ جعلی ہے یا اصلی ہے- تاہم کمیٹی نے خیال کیا کہ یہ جعلی ہے اور کوئی حتمی رائے نہیں دی اس کے لئے مزید انکوائری کرنے کی ہدایت کی-
اور یہ انسٹیٹیوٹ 3 سال پہلے بنا تھا جہاں نرسنگ کروائی جاتی تھی اور پپو نلکا نرسنگ کی جعلی ڈگریاں بیچتا تھا اس پر ایک کمیٹی بنائی گئی ہے اور انتظامیہ نے نرسنگ کونسل والوں کا بھی موقف جاننے کی کوشش کی ہے کہ آپ نے کس قانون کے تحت اس کی رجسٹریشن کی ہے تو پتہ چلا ہے کہ رجسٹریشن کی صرف انہوں نے درخواست دی تھی دی تھی لیکن اس کے بعد ان کا کوئی بھی وفد یہاں پر وزٹ کے لئے نہیں آیا اور کسی نے اس نرسنگ سکول کو پاس نہیں کیا تھا-
قصور کی ہیلتھ کئیر کی رپورٹ بھی سامنے آئی ہے انہوں نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ان کا گائنی سنٹر اس کا بھی ان کے پاس کوئی اجازت نامی نہیں ہے ان کے پاس کوئی کوالیفائیڈ ڈاکٹر نہیں ہے اور جعلی طریقے سے چل رہا ہے۔
متاثرہ لڑکیوں نے پہلے تو کہا کہ وہ کاروائی کروانا چاہتی ہیں اوراس کے بعد جتنی بھی طالبات جن کو انتظامیہ ڈھونڈ سکی ان سے یہ لوگ ملے ہیں تو کچھ لوگ کاروائی کرانا چاہتے تھے کچھ لوگ کاروائی نہیں کرانا چاہتے تھے تو یہ ملا جلا رحجان ہے لیکن اس سے پہلے جو لڑکیاں ڈگریاں لے کر جا چکی ہیں اور ان سے انتظامیہ کا کوئی رابطہ نہیں ان کو ڈگریاں مل چکی ہیں ان کا کوئی ریکارڈ ان کو نہیں ملا اور انتظامیہ کل تک اس نرسنگ کالج جو سیل کر دے گی اور ایک بڑی تعداد کو جعلی ڈگریاں جاری کی جا چکی ہیں-
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جیسے ہی ضمانت ہوئی تھی پپو نلکا کی وہ دو لڑکیوں کے کیسز کے اندر تب اس نے اپنے ساتھ ملے دو مقامی صحافیوں کے ذریعے ان کو پریشرائز کرنے کی کوشش کی اور حقائق چھپانے کی بھی کوشش کی گئی تھی اسی لئے اس کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کر کے ایک مہینے کے لئے جیل میں بند کیا گیا ہے-
اس کے علاوہ یہ شخص شہر کے اندر چُپ شاہ کا گدی نشین بھی بنا ہوا ہے اس میں بھتہ خوری کرتا ہے لوگوں سے پیسے لیتا ہے ہیئروئن کے کاروبار میں بھی ملوث ہے اس کا ایک بھائی ہئروئن بیچتا اس کا ایک بھائی سرکاری بس ٹرمینل پر ایک سٹینڈ پر قبضہ کیا ہوا وہاں سے گاڑی نکلنے کے پیسے چارج کرتا ہے-
اور گزشتہ کئی سالوں سے چُپ شاہ دربار کا غلہ جہاں پر لوگ پیسے ڈالتے ہیں زیارتیں دیتے ہیں اس پر بھی اس کا قبضہ ہے وہاں پر اس نے اپنے بندے بٹھائے ہوئے ہیں اور لوکل پولیس اسٹیشن اے ڈویژن سب کو اس کی وارداتوں کا پتہ تھا اور اس کے ساتھ ایک منظم گروہ ہے جو اس کے ساتھ یہاں پر دربار کے پیسے کھاتے ہیں-
اور لڑکیوں کو جنسی ہراساں کرنے والی بات تو کوئی بھی لڑکی اب میڈیا کے سامنے نہیں آنا چاہتی لیکن انتظامیہ نے بتایا ہے کہ یہ دو تین سال سے اسی دھندے میں ہے اور پاکستان نرسنگ کونسل قصور کے دائرہ کار میں نہیں آتی ہے تو اگر کوئی اس پر سوال اٹھاتا بھی تھا تو کہتا تھا میں نے پی این سی سے لائسنس لیا ہوا ہے پی این سی اسلام آباد سے کوئی بھی ادھر نہیں آتا تھا تو اسی لئے اسے چھوٹ ملی ہوئی تھی-
اور گائنی کے سسٹم میں اس کے ساتھ قصور کی مقامی ہیلتھ کئیر کمیشن ملی ہوئی ہے اور بچوں کے ناجائز حمل گرائے جاتے ہیں اور ساراایک باقاعدہ سسٹم بنا ہوا ہے اور اس کی بلڈنگ بھی غیر قانونی قرار دی گئی ہے اس کو انتظامیہ سیل کرنے جا رہی ہے-علاوہ ازیں یہ بھی چیک کیا جا رہا ہے کہ اس کو کس نے اجازت دی ہر محمکے کو ڈی سی قصور نے ہدایات جاری کر دی ہیں-
اب اس پر دیکھتے ہیں یہ کیس کیا رُخ اختیار کرتا ہے لیکن اطلاعات یہی مل رہی ہیں کہ یہ بندہ پپو نلکا نرسنگ کی ہزاروں ڈگریاں جعلی سیل کرتا تھا اور ہزاروں نرسنگ کی جعلی ڈگریاں فروخت کر چکا ہے جس کی اماؤنٹ کروڑوں روپے کی بنتی ہے-
واضح رہے کہ اس معاملے میں دو ایف آئی آر درج ہوئیں جس میں عام سی دفعات لگائی گئیں تاکہ اس کی ضمانت ہو جائے حالانکہ اس اخلاقیات سے گری ہوئی آڈیوز چیٹس ساری سنی گئی تھیں ڈی پی او قصور سمیت پوری کمیٹی نے سنا تھا سارا کچھ سننے کے بعد دو ایف آئی آر کی گئیں اور بالکل عام سے دفعات لگائی گئیں جب اس کی ضمانت ہو گئی تو اس بندے پپو نلکا نے صحافیوں کو ساتھ لے کر ان لڑکیوں کے گھروں میں جا کر ان کو بلیک میل کیا تو وہ لڑکیاں مکر گئیں الڑکیوں نے انتظامیہ جس میں ڈی پی او اور ڈی سی کے سامنے تو بیان دے دیا تھا لیکن اس کے بعد وہ مُکر گئیں کیونکہ یہاں کا سارا میڈیا اس کو سپورٹ کرتا ہے-
-

دہشت گردوں کا سہولت کار گرفتار،کونسے گھناؤنے کام کرتا تھا، سب بتا دیا
دہشت گردوں کا سہولت کار گرفتار،کونسے گھناؤنے کام کرتا تھا، سب بتا دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے ضلع ملیر سے کالعدم قوم پرست جماعت کے دہشتگردوں کا سہولتکار گرفتارکر لیا گیا
اسٹیل ٹاؤن پولیس نے انٹیلیجنس اطلاعات پر سومار جوکھیوگوٹھ کے قریب کارروائی کی۔گرفتار ملزم نے 05 اگست 2020 کو کراچی کے علاقے چکرہ گوٹھ، ناصر کالونی میں ہونے والے کریکر حملے میں ملوث دہشتگرد کو گرنیڈ فراہم کرنے کا اعتراف کیا۔دہشتگرد امام بخش عرف ادو نے ناصر کالونی میں ریٹائرڈ نیول آفیسر کی اسٹیٹ ایجنسی کو دستی بم سے نشانہ بنایا تھا۔
05 اگست کو ہونے والے کریکر بلاسٹ میں تین شہری شدید زخمی ہو گئے تھے۔ گرفتار سہولتکار علی رضا ولد عبدالرزاق جتوئی نے واقعے کے بعد جائے وقوعہ کی تصاویر اور وڈیوز بھی لیں جنہیں بعد میں سندھو ریولوشنری آرمی نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کر کے واقعے کی ذمہ داری قبول کی ۔ گرفتار ملزم نے قوم پرست جماعت کے دہشتگرد امام بخش عرف ادو عرف حنیف عرف دودو عرف بلو بادشاہ کو مختلف اوقات میں دستی بم اور غیر قانونی اسلحہ فراہم کرنے کا انکشاف کیا۔
گرفتار ملزم کی نشاندہی پر دیگر ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں ۔ پولیس نے ملزم کے قبضے سے دستی بم اور غیر قانونی اسلحہ بمعہ ایمونیشن برآمد کر لیا گیا۔گرفتار ملزم کیخلاف ضابطے کی کارروائی جاری ہے،ملزم علی رضا کو مزید پوچھ گچھ کیلئے تفتیشی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ملزم سے برآمد اسلحہ فارنزک کیلئے روانہ کر دیا گیا۔
دستی بم حملوں میں ملوث گروہ کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے والا سہولت کار گرفتار