Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • ہر ماہ کی یکم تاریخ کو کھلی کچہری لگانے کا آئی جی پنجاب کا حکم نامہ جاری

    ہر ماہ کی یکم تاریخ کو کھلی کچہری لگانے کا آئی جی پنجاب کا حکم نامہ جاری

    آئی جی پنجاب کا عوامی مسائل کے بلا تاخیر اور باآسانی حل یقینی بنانے کیلئے احسن اقدام۔ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو ضلعی اور تحصیل لیول پر کھلی کچہریوں کے انعقاد کا حکم دے دیا۔

    سی سی پی لاہور سمیت تمام آرپی اوز, سی پی اوز اور ڈی پی اوز کو مراسلہ بھجوا دیا۔ آئی جی پنجاب نے حکم کیا کہ کھلی کچہریوں کے انعقاد سے قبل لوگوں کی آگاہی کیلئے ضلعی پولیس مقامی میڈیا اور کیبل نیٹ ورک کے ذریعے بھرپور آگاہی مہم چلائی جائے۔ افسران ذاتی طور پر کھلی کچہریوں کا انعقاد کرکے لوگوں کے مسائل کا حل یقینی بنا کر انہیں انصاف فراہم کریں۔

    آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ سب ڈویڑن لیول پر تمام سرکل افسران / ایس ڈی پی اوز کھلی کچہری کا انعقاد یقینی بنائیں۔ پسماندہ اور دودراز علاقوں میں کھلی کچہریوں کے بروقت اور بلا تعطل انعقاد پر بطور خاص توجہ مرکوز رکھی جائے۔ پولیس کے تمام متعلقہ یونٹس کے افسران و سٹاف کی کھلی کچہریوں میں موجودگی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ کھلی کچہریوں میں پیش ہونے والے تمام لوگوں کے کوائف اور انکی درخواستوں کا مکمل ریکارڈ باقاعدگی سے محفوظ کیا جائے۔ کھلی کچہریوں میں ہونے والے فیصلوں اور اعلانات پر من و عن عمل درآمد افسران ذاتی نگرانی میں یقینی بنائیں۔ ڈی پی اوز ماہانہ کچہری کے انعقاد سے قبل فالواپ میٹنگ میں پچھلی کچہری کی پراگریس رپورٹ کا جائزہ ضرور لیں۔ شہریوں کے مسائل کے بلا تاخیر حل کیلئے مندرجہ بالا ہدایات پر عمل در آمد ہر صورت یقینی بناتے ہوئے ماہانہ پراگرس رپورٹس سنٹرل پولیس آفس بھجوائی جائیں۔

  • کوہاٹ:فائرنگ سے4 افراد جاں بحق:فائرنگ کرنے والاکون اہم خبرآگئی

    کوہاٹ:فائرنگ سے4 افراد جاں بحق:فائرنگ کرنے والاکون اہم خبرآگئی

    کوہاٹ:کوہاٹ:فائرنگ سے4 افراد جاں بحق:فائرنگ کرنے والاکون اہم خبرآگئی،اطلاعات کے مطابق گمبٹ کے نواحی علاقے ناکبند میں مسلح افراد کی کار پر فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ مخالفین گروہ کی جانب سے کار پر کی گئی فائرنگ سے 4 افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔

    پولیس کے مطابق لاشوں کو سول اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جب کہ ملزمان کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے دشمنی کا شاخسانہ لگتا ہے، تفتیش جاری ہے۔

    گزشتہ روز نوشہرہ کی ایک مقامی عدالت کے باہر خاتون کی جانب سے فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا تھا۔ خاتون نے احاطہ کچہری میں اپنے مخالفین پر فائرنگ کردی تھی۔ واقعے میں دو افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

    بعدازاں پولیس نے خاتون کو ہتھیار سمیت گرفتار کرلیا تھا۔ پولیس کے مطابق مقتول عدالت میں پیشی کے لیے آیا تھا، سماعت کے بعد فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔

  • لاہور میں گلی میں موٹر سائیکل کھڑی کرنے پر جھگڑا۔ سات افراد زخمی ہو گئے۔

    لاہور میں گلی میں موٹر سائیکل کھڑی کرنے پر جھگڑا۔ سات افراد زخمی ہو گئے۔

    گلی میں موٹر سائیکل کھڑی کرنے پر جھگڑے کا واقعہ تھانہ جنوبی چھاونی کے علاقے میں پیش آیا۔

    پولیس کے مطابق موٹر سائیکل کھڑی کرنے پر جھگڑا ہوا۔ جس پر محمد علی اور اس کے ساتھی نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ ملزمان کی فائرنگ سے خاتون سمیت 7 افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے ۔ جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لئے کوشیشیں جاری ہیں ۔

  • نواز شریف کے خلاف بغاوت کے مقدمے کی تفتیش کا آغاز۔ پولیس نے اہم فیصلہ کر لیا۔

    نواز شریف کے خلاف بغاوت کے مقدمے کی تفتیش کا آغاز۔ پولیس نے اہم فیصلہ کر لیا۔

    نواز شریف کے خلاف درج مقدمے کی تحقیقات شروع کردی گئیں۔ مقدمہ میں نامزد دیگر لیگی قیادت کے خلاف کاروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ایف آئی آر میں سے چار اہم دفعات کو بھی حذف کردیا گیا۔

    ترجمان انوسٹی گیشن پولیس شیخ عمران انوار کے مطابق
    انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب کے حکم سے قائم شدہ سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم نے بدر رشید نامی شہری کی جانب سے تھانہ شاہدرہ میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے خلاف درج مقدمہ نمبر 3033/20کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم نے اپنے TORsکے مطابق تفتیش کرتے ہوئے سب سے پہلے مقدمہ میں مدعی مقدمہ کا بیان قلم بند کیا ہے۔ اس کے بعد ایف آئی آر اور مدعی کے بیان کو مدِنظر رکھتے ہوئے سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم نے 4 دفعات جو کہ ایف آئی آر کی تحریر سے مطابقت نہ رکھنے کی وجہ سے حذف کر دی ہیں۔ حذف ہونے والی دفعات کی تفصیل میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا یا سازش کرنا ، ملکی سالمیت کے فیصلوں کی مذمت یا انکار کرنا ، برسراقتدارحکومتی قیادت پر دباو ڈالنا اور دو گروپوں کے درمیان تصادم کروانے کی کوشش کرنے کی دفعات شامل ہیں۔ سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم ایف آئی آر، مدعی مقدمہ کا بیان اور دونوں ویڈیو بیانات کو دیکھنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ مقدمے میں جن مبینہ ملزمان کے خلاف جن دو تقاریر کی تائید کرنے پر پرچے میں نامزد کیاگیا تھا۔

    ان میں راجہ ظفر الحق، سردار ایاز صادق، شاہد خاقان عباسی، خرم دستگیر، سینٹر جنرل ریٹارڈ عبوالقیوم، سلیم ضیاء سندھ، اقبال ظفر جھگڑا، صلاح الدین ترمذی، مریم نواز شریف، احسن اقبال، شیخ آفتاب احمد، پرویز رشید، خواجہ آصف، رانا ثناء اللہ، بیگم نجمہ حمید، بیگم ذکیہ شاہ نواز، طارق رزاق چوہدری، سردار یعقوب نثار، نوابزادہ چنگیز مری، مفتاح اسماعیل، طارق فزاق چوہدری، محمد زبیر، عبدالقادر بلوچ، شزا فاطمہ خواجہ، مرتضیٰ جاوید عباسی، مہتاب عباسی، میاں جاوید لطیف، مریم اورنگزیب، عطااللہ تارڑ، چوہدری برجیس طاہر، چوہدری محمد جعفر اقبال، عظمیٰ بخاری، شائستہ پرویز ملک، سائرہ افضل تارڑ، بیگم عشرت اشرف، وحید عالم، راحیلہ دورانی بلوچستان، دانیال عزیز،راجہ فاروق حیدر، خواجہ سعدرفیق، امیر مقام اور عرفان صدیقی وغیرہ کے خلاف تائید کے مکمل شواہد نہ ہونے کے باعث ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
    مقدمے میں ابھی بھی آٹھ مزید دفعات تاحال موجود ہیں جن میں سازش کرنے ملک کے خلاف انتشار کا ماحول پیدا کرنا ، اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے اپنے قریبی افراد اور عوام کو بلوے پر اکسانے کی دفعات شامل ہیں۔
    یاد رہے کہ نواز شریف اور دیگر لیگی قیادت کے خلاف بغاوت کا مقدمہ لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں درج ہے۔

  • خاتون کو ہراساں کرنے پر سی سی پی او لاہور نے تھانیدار پر مقدمہ درج کر کے حوالات میں بند کر دیا

    خاتون کو ہراساں کرنے پر سی سی پی او لاہور نے تھانیدار پر مقدمہ درج کر کے حوالات میں بند کر دیا

    سی سی پی او لاہور محمد عمر شیخ نے غفلت برتنے پر ایک اور تھانیدار کو گرفتار کروا دیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق چوکی انچارج طارق شہید کمبوہ سب انسپکٹر ارشد کےخلاف تھانہ نواب ٹاؤن میں مقدمہ درج کر کے حوالات میں بند کروا دیا گیا ہے۔ سب انسپکٹر ارشد علی نے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نجی ہوٹل میں ریڈ کیا تھا۔

    سب انسپکٹر ارشد علی پر ہوٹل چیکنگ کے دوران طالبہ کو ہراساں کرنے کا بھی الزام تھا۔ واقعہ پر سی سی پی او لاہور نے نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کو حکم دیا تھا۔ ایس پی صدر نے چوکی انچارج طارق شہید کمبوہ سب انسپکٹر ارشد کو انکوائری میں قصور وار ٹھہرایا۔ انکوائری آفیسر کی رپورٹ کی روشنی میں سب انسپکٹر کےخلاف 155 سی کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ سی سی پی او لاہور کا کہنا ہے کہ کسی بھی اہلکار کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔ پولیس اپنے قانونی دائرہ میں رہ کر فرائض سرانجام دے۔

    یاد رہے کہ دو روز قبل پولیس کے سب انسپکٹر نے اہلکاروں سمیت ہوٹل چیکنگ کے دوران لڑکی کو ہراساں کیا تھا۔ جس کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی منظر عام پر آئی اور خاتون نے بھی اپنے ساتھ ہونے والے واقعے پر ویڈیو بیان جاری کیا تھا۔

  • لاہور میں چلتی گاڑی سے خاتون کو پھینکنے والا ملزم پولیس کی گرفت میں آ گیا

    لاہور میں چلتی گاڑی سے خاتون کو پھینکنے والا ملزم پولیس کی گرفت میں آ گیا

    لاہور کے علاقے کاہنہ میں لڑکی کو تیزدھار آلے سے زخمی کرنے والا ملزم گرفتار کر لیا گیا ،ملزم نے شادی سے انکار پر کزن کو زخمی کر کے سڑک پر پھینک دیا تھا۔

    پولیس کےمطابق عشرت نامی لڑکی اپنے کزن علی کےساتھ لاہورسے واپس قصور جاری تھی کہ کاہنہ کے علاقے میں دونوں کا شادی کے معاملے پر جھگڑاہوا توعلی نے بلیڈ مار کر عشرت کو زخمی کردیا اوراسے سڑک پر چھوڑ کرفرار ہوگیا ۔۔ دوسری طرف عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لڑکی درواز کھول کر چلتی گاڑی سے اتری تھی ،ملزم علی کیخلاف اقدام قتل اغواء اور چوری کی دفعات کے تحت مقدمہ درج تھا۔ یاد رہے کہ دو روز قبل کاہنہ میں خاتون شدید زخمی حالت میں پائی گئی۔ جس کے بعد پولیس نے خاتون کے بیان پر مقدمہ درج کیا تھا۔

  • ریلوے پولیس کی لاپروائی ایک اور شخص کی جان نگل گئی

    ریلوے پولیس کی لاپروائی ایک اور شخص کی جان نگل گئی

    شاہدرہ: ریلوے پولیس کی لاپروائی ایک اور شخص کی جان نگل گئی-

    باغی ٹی وی : شاہدرہ ریلوے پولیس کی لاپروائی کسی بڑے حادثہ کا سبب بن سکتی ہے پولیس نے آنکھوں پر پٹی باندھ لی شاہدرہ ٹاون کالا خطائی پھاٹک کے قریب جمیل پارک کے ساتھ نارووال ریلوے ٹریک پر سے پھٹے رکھ کر گاڑیاں گزرنے کی فوٹیج منظر عام پر آگئیں-


    فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ریلوے ٹریک پر پھٹے رکھ کر رکشہ ریڑھیاں موٹرسائیکلیں گزاری جارہی ہیں۔

    شاہدرہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ریلوے پولیس کو اطلاع دینے کے باوجو بھی ریلوے پولیس کے کان تک جوں تک نہیں رینگی۔

    جبکہ دوسری جانب ریلوے ٹریک سے رکشہ گاڈیاں گزار کر ریلوے لائینوں کے ساتھ ہفتہ بازار بھی سجالیا ہے اس پر بھی ریلوے پولیس نے لاعلمی کا اظہار کیا ہے-

    شاہدرہ ہفتہ بار انتظامیہ نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہم ریلوے پولیس کو بازار لگانے کے ہفتہ وار پیسے دیتے ہیں۔

  • پولیس خفیہ ڈیٹے کی بنیادپرشہریوں کوبلیک میل کرنے لگی، موبائل فون کے کال ڈیٹیل ریکارڈ کی چھان بین شروع

    پولیس خفیہ ڈیٹے کی بنیادپرشہریوں کوبلیک میل کرنے لگی، موبائل فون کے کال ڈیٹیل ریکارڈ کی چھان بین شروع

    لاہور: پولیس کے ہاتھوں شہری رسوا اورپریشان: پولیس کیخلاف شکایات، موبائل فون کے کال ڈیٹیل ریکارڈ کی چھان بین شروع،اطلاعات کےمطابق سی آر ڈی انچارجز کی طرف سے غیر قانونی طور پر موبائل فون کے کال ڈیٹیل ریکارڈ چیک کرنے کی شکایات پر چھان بین شروع کر دی گئی اس سلسلے میں آڈٹ ٹیمیں تشکیل دیدی گئی ہیں جو لاہورسمیت صوبہ بھر میں غیر قانونی طور پر موبائل فونز کا ریکارڈز چیک کرنے والے افسروں کا سراغ لگا ئیں گی۔

    لاہورپولیس 1 ماہ میں اوسطاً 12 ہزارافراد کی کالز کا ریکارڈ نکلواتی ہے جبکہ چھوٹے شہروں میں 3500 ملزموں اورشہریوں کا کال ریکارڈ چیک کیا جاتا ہے، پولیس کی جانب سے حاصل کردہ فون کالزکا ڈیٹا کیس کے متعلقہ کسی فرد کا ہے تو پھر تو ٹھیک اگر بغیر کسی وجہ کے ذاتی مقصد کیلئے حاصل کیا گیا تو ایسا کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔

    متعلقہ برانچ نے موبائل فون کی کالز کی سی ڈی آرز ریکارڈ کا آڈٹ کرانے کافیصلہ کیا ہے کیونکہ پولیس کیخلاف شکایات موصول ہورہی تھیں کہ بلاوجہ موبائل کا ڈیٹا چیک کیا جارہا ہے جس پر انویسٹی گیشن ونگ کی جانب سے لاہور سمیت پنجاب بھر میں چیکنگ کیلئے خصوصی آڈٹ ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، ٹیمیں سی ڈی آرز کے ریکارڈ کی چیکنگ میں ایس اوپیز کے مطابق دیکھیں گی کہ کیا افسروں نے بغیر ایف آئی آر کے کسی عام شہری کا ریکارڈ تو چیک نہیں کیا۔

    سی ڈی آر حاصل کرنے والے انچارج تبادلے کے بعد پاسورڈ استعمال تو نہیں کر رہے، ٹیمیں سی ڈی آرز انچارج کی جانب سے ریکارڈ چیک کرنے کی چھان بین کریں گی، پولیس بغیر ایف آئی آرکسی شہری کا کال ریکارڈ چیک نہیں کرسکتی نہ ہی ذاتی زندگی میں بلاوجہ مداخلت کرسکتی ہے، آڈٹ ٹیمیں پہلے 6 ماہ کا ریکارڈ چیک کر کے رواں ماہ میں رپورٹ پیش کریں گی۔

  • نواز شریف پر بغاوت کے مقدمے کی تفتیش کے لیے آئی جی پنجاب نے جے آئی ٹی تشکیل دے دی

    نواز شریف پر بغاوت کے مقدمے کی تفتیش کے لیے آئی جی پنجاب نے جے آئی ٹی تشکیل دے دی

    میاں نواز شریف سمیت دیگر مسلم لیگ ن رہنمائوں کے خلاف تھانہ شاہدرہ میں غداری اور بغاوت کے مقدمے کا معاملہ
    ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب انعام غنی کے حکم پر مقدمہ کی تفتیش کے لیے ایس پی سی آئی اے لاہور کی سربراہی میں 4 افسران پر مشتمل جوائنٹ انوسیٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ ایس پی سی آئی اے لاہور عاصم افتخار کمبوہ ہوں گے۔ جبکہ ڈی ایس پی شفیق آباد محمد غیاث ۔ انچارج سی آئی اے اقبال ٹائون انسپکٹر طارق الیاس کیانی اور انچارج انویسٹی گیشن شاہدرہ سب انسپکٹر شبیر اعوان شامل جے آئی ٹی میں شامل ہوں گے۔ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے مقدمہ کی تفتیش کا باقائدہ آغاز کردیا ہے۔
    تھانہ شاہدرہ میں درج غداری اور بغاوت کے مقدمہ میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی۔ ملزمان کی گرفتاریوں کے حوالے سے سی سی پی او محمد عمر شیخ کی جانب سے لائحہ عمل دیا جائے گا۔ مقدمہ میں ملزمان کو شامل تفتیش بھی کیا جائے گا۔ جے آئی ٹی کی جانب سے ملزمان کی گرفتاریوں کے لیے کوئی چھاپے نہیں مارے گئے۔

  • سی سی پی او لاہور کا آئی جی پنجاب کو خط۔ کورٹ مارشل کا قانون لانے کی درخواست

    سی سی پی او لاہور کا آئی جی پنجاب کو خط۔ کورٹ مارشل کا قانون لانے کی درخواست

    پولیس میں بھی اب آرمڈ فورسز کی طرز پر کورٹ مارشل ہوگا۔
    سی سی پی او لاہور کا پالیسنگ آف پولیس کےلئے بڑا فیصلہ، پولیس میں کورٹ مارشل کےلئے آئی جی پنجاب کو درخواست دے دی۔ سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے آئی جی پنجاب کو پولیس میں کورٹ مارشل کےلئے درخواست کر دی۔ باغی ٹی وی کو ملنے والی تفصیلات کے مطابق خط میں آرمڈ فورسز میں کورٹ مارشل کی طرز پر پولیس میں بھی سزاء جزاء کا نظام متعارف کروانے کی درخواست کی گئی۔ خط میں لکھا گیا کہ پولیس میں بہترین ڈسپلن اور موثر سروس ڈلیوری کیلئے سخت سے سخت قوانین بنانا ہونگے۔ سی سی پی او لاہور نے خط میں آئی جی پنجاب سے درخواست کی کہ پچھلے پانچ سالوں کے ریکارڈ کے مطابق 25 سے 30 فیصد سے زائد نفری کو سزائیں دی گئی پولیس میں سزاؤں کے باوجود جوڈیشری، میڈیا، این جی اوز اور عوام الناس پولیس کے رویوں کی شکایات کرتے دیکھائی دیتے ہیں۔ سی سی پی او لاہور کا کہنا تھا کہ موجودہ قوانین کے تحت سزائیں دینے سے کوئی بہتری نہیں آرہی، پولیس کورٹ مارشل متعارف کروانے کا مقصد غفلت اور کوتاہی پر کوئی اہلکار و افسر دوبارہ نوکری پر کوئی بحال نہ ہو سکے۔ انصاف کی فراہمی اور سسٹم میں شفافیت کےلئے موجودہ قوانین میں کورٹ مارشل طرز کی ترامیم وقت کی اہم ضرورت ہے، پولیس کورٹ مارشل کو جلد از جلد نافذالعمل کیا جائے۔