Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • غم ہی غم ، ماں باپ جانبحق ، بچیاں یتیم ہوگئیں

    غم ہی غم ، ماں باپ جانبحق ، بچیاں یتیم ہوگئیں

    کراچی:مکان کی چھت کیا گری کہ ماں باپ کی جان لے گئی اور بچیاں یتیم ہوگئے، اطلاعات کے مطابق کھارادر میں پرانی عمارت کی چھت گرنے سے میاں بیوی جاں بحق ہوگئے ہیں جب کہ ان کی بچیاں زخمی ہیں۔ذرائع کے مطابق کھارادر باغیچہ مچھی میانی میں واقع دیوی بائی نامی پرانی عمارت کی رات گئے اچانک چھت گر گئی جس کے نتیجے میں سوئے ہوئے میاں بیوی جاں بحق اور ان کی دو بچیاں زخمی ہوگئی ہیں۔

    ریسکیو حکام کے مطابق زخمی بچیوں کو فوری طور پر طبی امدا کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے جب کہ امدادی ٹیموں کے رضاکاروں نے نعشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا ہے۔جاں بحق افراد کی شناخت 35 سالہ محمد اکرم اور نازیہ کے نام سے ہوئی ہے۔ زخمیوں میں بچیاں دس سالہ ثانیہ اور آٹھ سالہ زینب شامل ہیں۔اسپتال میں زخمی بچی نے سانحہ کے متعلق بتایا کہ سوتے میں اچانک رات کو چھت اور الماری ان کے اوپر گرگئی۔ بچی کے مطابق ان کی امی بھی ساتھ ہی سو رہی تھیں۔

    کھارادر سے اطلاعات کے مطابق حادثے کی اطلاع ملتے ہی پہنچنے والے رضاکاروں اور پولیس اہلکاروں نے جب اہل محلہ کی مدد سے ملبے تلے دبے اکرم اور نازیہ کو نکالا تو ان کی حالت انتہائی تشویشناک تھی۔

  • "صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ

    "صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ

    عمران خان صاحب آپ نے سانحہ ساہیوال پر کہا کہ میں بیرون ملک سے واپس آکر اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچاؤں گا اگر آپ واپس آچکے تو آپ کو خبر ہو کہ اب اک اور بے گناہ اور معصوم نوجوان صلاح الدین ان پولیس والوں کی درندگی کی بھینٹ چڑھ گیا. ہنسنے مسکرانے والا صلاح الدین جو خود تو چلا گیا لیکن اس نظام پولیس پر ایک ایسا زناٹے دار تھپڑ رسید کرگیا جو شاید اس کی موت کی ہی وجہ بن گیا. چہرے پر بچوں کی سی معصومیت لیے بھولے لہجے میں اپنے تفتیشی افسران سے کہنے لگا کہ جان کی امان پاؤں تو اک بات عرض کروں. اذن سوال ملنے پر جو بولا تو اس نظام پولیس اور درندگی کو عیاں کرگیا کہنے لگا کہ آپ نے انسانوں کو مارنا کہاں سے سیکھ لیا. اور پھر مبینہ طور پر جان کی امان نہ مل سکی اور سفید ریش بوڑھے باپ کو صلاح الدین کی میت ہی ملی جس پر مبینہ طور پر غیر انسانی تشدد کے آثار واضح ہیں. پولیس کی زیر حراست یہ موت پورے نظام پولیس اور ریاست کے سر پر ہے. اس مبینہ قتل کی ذمہ دار ریاست پاکستان ہے، یہ نظام تفتیش اور نظام پولیس ہے جو نہ جانے کتنی ماؤں کے لعل کھاگیا، کتنی بیویوں کے سہاگ اجڑ گئے، کتنی بہنیں اپنے بھائیوں کی راہ تکتی رہ گئیں اور کتنے ہی باپ اپنے بڑھاپے کے سہارے کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوئے.
    عمران خان صاحب، جناب قمر جاوید باجوہ صاحب، چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ صاحب، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی صاحب، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر صاحب ، عثمان بزدار صاحب، آئی جی پنجاب پولیس، مکمل پارلمینٹ، تمام قومی اداروں کے سربراہان صلاح الدین کا مبینہ قتل یہ ریاست پاکستان پر ہے آپ سب کے سر ہے اور پوری قوم کے سر پر ہے. آخر کب تک اس قوم کے بیٹے تفتیش کی اس درندگی کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے. پولیس کے سپاہی اور افسران کب تک ترقیوں کے چکر میں بے گناہوں کو بہیمانہ طریقے سے قتل کرتے رہیں گے؟ ذہنی معذور صلاح الدین کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے..
    اپنے دوستوں سے جو معصوم صلاح الدین کو ملک چوروں اور ڈکیتوں سے ملا رہے ہیں یا موازنہ کر رہے ہیں چھوٹا اور بڑا چور کہہ کر میں ان سے گزارش کرتا ہوں صلاح الدین چور نہیں تھا. وہ تو اس کیفیت میں تھا جس میں شریعت اسلامی بھی فرائض تک میں درگزر کرجاتی ہے. خدارا صلاح الدین کو چور کہہ کر اس کے والدین اور ورثاء کے دلوں پر چھریاں نہ چلائیں جو صلاح الدین سے پہلے ہی دو جواں سال بیٹے اس دھرتی کے لیے قربان کرچکے ہیں.

    Muhammad Abdullah
  • پنجاب پولیس میں اصلاحات کی اشد ضرورت : علی چاند

    پنجاب پولیس میں اصلاحات کی اشد ضرورت : علی چاند

    کسی بھی ملک میں پولیس کا محکمہ صرف اور صرف اس لیے بنایا جاتا ہے تاکہ عوام کے جان و مال کو تحفظ دیا جا سکے ۔ لوگوں کا جان و مال چوروں ، ڈاکوٶں اور لٹیروں سے محفوظ رکھا جا سکے ۔ لیکن پاکستان میں بد قسمتی سے پولیس کا محکمہ ایک ایسا محکمہ ہے جہاں انسان سب سے زیادہ بے تحفظ ہے ۔ خاص طور پر پنجاب پولیس کی صورتحال بہت ہی زیادہ خراب ہے ۔ پنجاب پولیس نا صرف عوام میں اپنا اعتماد بری طرح کھو چکی ہے بلکہ لوگوں کے دلوں میں اپنے لیے بیشمار نفرت بھی ڈال چکی ہے ۔ پنجاب پولیس کی وجہ سے جہاں پنجاب کے شہری اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں وہیں پنجاب پولیس کے جوان بھی انتہاٸی لاچارگی کی زندگی گزار رہے ہیں جہاں نا تو پنجاب پولیس کے جوانوں کے پاس نوکری کا مکمل تحفظ موجود ہے اور نا ہی ان کے پاس کوٸی ذاتی طاقت ۔ پنجاب پولیس میں زیادہ تر سیاسی اثر ورسوخ ہی دیکھنے کو ملتا ہے ۔ اگر کوٸی مجرم طاقت ور ہے تو وہ اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے پولیس پر دباٶ ڈال کر لوگوں کا جینا حرام کیے رکھتا ہے ۔ اگر کوٸی شریف اور ایمان دار پولیس والا ایسے مجرم پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو یا تو وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے یا پھر نوکری سے ۔ بعض اوقات ایسا بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ ایسے پولیس والے کا تبادلہ کہیں دور دراز ایسے علاقوں میں کر دیا جاتا ہے جہاں دوسرے پولیس والے اس سے سبق سیکھ سکیں کہ انہیں صرف اور صرف سیاسی نماٸندوں کی ہی خدمت کرنی ہے ۔ لیکن انہی پولیس والوں کے نزدیک ایک عام انسان جس کے پاس نا دولت ہے ، نا سیاسی اثر و رسوخ ، نا عدالتوں میں چکر کاٹنے کا وقت اور نا ہی مقدمہ لڑنے کے لیے مہنگا وکیل کرنے کے لیے پیسہ تو یہی پولیس والے عام عوام کا جینا حرام کر دیتے ہیں ۔ بعض اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک عام شہری بغیر جرم کے شامل تفتیش کر دیا جاتا ہے اور وہ بیچارہ پھر دوران تفتیش ہی خالق حقیقی سے جا ملتا ہے ۔ ایسا عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب اس مظلوم پر کسی سیاسی شخصیت نے مقدمہ کروایا ہوتا ہے یا پھر کسی نے اپنی خاندانی دشمنی نکالنے کے لیے پولیس کو بھاری رقم دی ہوتی ہے ۔ دوسری اہم وجہ یہ کہ جب یہی پولیس والے بھرتی ہوتے ہیں تو انہیں نوکری کے حصول کے لیے بھاری رشوت دینی پڑتی ہے

    اور جب انہیں نوکری مل جاتی ہے تو یہ پولیس والے اپنی رشوت کے پیسے لوگوں سے وصول کرنے کے چکروں میں عام پبلک کے خون پسینے کی کماٸی کا ایک ایک سو روپیہ تک اپنی جیبوں میں ڈالنا شروع کر دیتے ہیں ۔

    پنجاب پولیس میں آج تک مقدمہ سے لے کر تفتیش تک وہی سسٹم چلا آرہا ہے جو انگریزوں نے برصغیر میں راٸج کیا تھا ۔ انگیریزوں کا پولیس بنانے کا مقصد تو یہی تھا کہ وہ یہاں کے مظلوم اور غلام لوگوں پر اپنا اثر و رسوخ بٹھاٸے رکھیں ، لوگوں پر بلاوجہ ظلم و تشدد کرتے رہیں تا کہ کوٸی آزادی کا نام نا لے ۔ انگریزوں کو گے تقریبا ایک صدی ہونے کو ہے مگر ہمارا پولیس کا نظام آج بھی وہی کا وہی ہے جو آج سے ایک صدی پہلے تھا ۔ ہمارے ہاں پولیس کا آج بھی یہی مقصد ہے کہ عام عوام پر سیاسی لوگوں اور امیر کبیر چوروں ڈاکوٶں کا خوف جماٸے رکھا جاٸے تاکہ یہ لوگ کبھی بھی کسی سیاسی نماٸیندے کے سامنے حق بات نا کر سکیں ۔ بعض اوقات تو یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ چور ، ڈاکو اور بھتہ لینے والے خود اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کی لوٹ مار سے ملنے والی چیزوں میں سے پولیس والوں کو بھی حصہ دیتے ہیں ۔

    کوٸی بھی محکمہ مکمل طور پر برا نہیں ہوتا نا ہی اس محکمے کے سبھی لوگ برے ہوتے ہیں جہاں پولیس والوں میں بہت سے درندے نظر آتے ہیں وہیں چند ایک پولیس والے عوام کی خاطر جانیں بھی لٹا دیتے ہیں ۔ بہت سے پولیس والے اسی عوام کی خاطر اپنی بیوی کو بیوہ ، بچوں کو یتیم ، ماں باپ اور چھوٹے بہن بھاٸیوں کو بے سہارا چھوڑ کر شہادت پا لیتے ہیں ۔ لیکن ایسے اچھے پولیس والوں کو بھی ہمارے پاکستانی بھاٸی قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے اور ان کے جذبے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔

    پنجاب پولیس میں جب تک نٸی اصلاحات نہیں آٸیں گی تب تک یہ محکمہ کبھی بھی درست نہیں ہو سکتا۔ اس محکمے کو عوام دوست بنانے کے لیے حکومت کو اس محکمے میں نٸی اصلاحات کرنی چاہیے جو کہ امید تھی کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خاں اپنی حکومت بناتے ہی کر دیں گے مگر اس سلسلے میں ابھی تک کوٸی پیش رفت نہیں ہوسکی ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب پولیس سے سیاسی اثر و رسوخ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جاٸے ۔تا کہ پولیس کسی دباٶ میں آٸے بغیر عوام کی جان و مال کو تحفظ دے اور عوام کی زندگیاں آسان بناٸے ۔

    ۔ دوسری بات جو بہت ضروری ہے کہ ایک پولیس والے کو اس کی نوکری کا تحفظ دیا جاٸے ، جان کا تحفظ دیا جاٸے ۔ یہ نا ہو کہ اگر کوٸی پولیس والا کسی سیاسی شخصیت کے دباٶ میں آنے سے انکار کرے تو سیاسی شخصیت یا تو اسے نوکری سے فارغ کر دے یا پھر اس پولیس والے کو جان سے ہاتھ دھونا پڑیں۔ تیسری اور اہم بات یہ کہ پولیس کے محکمے سے رشوت کا خاتمہ کیا جاٸے تاکہ کوٸی بھی جوان رشوت دے کر نوکری حاصل نا کرے ۔ اس سے امید ہے کہ یہ پولیس والے عوام کو لوٹنا بند کر دیں گے ۔ پولیس کو عوام دوست بنانے کے لیے پولیس کی اعلی سطح پر اخلاقی تربیت کی جاٸے اور انصاف کے حوالے سے اسلامی تعلیمات سیکھنا لازمی قرار دیا جاٸے ۔ اس کے علاوہ تفتیشی عمل میں جو غیر انسانی رویہ اپنایا جاتا ہے اس کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جاٸے ۔ مقدمہ درج کرنے کے عمل میں آسانیاں فراہم کی جاٸیں تاکہ کوٸی بھی مظلوم بلاجھجک انصاف کے حصول کے لیے پولیس کے پاس آسکے ۔ روایتی تھانہ کلچر ختم کیا جاٸے اور پولیس کو عوام کے دروازے پر انصاف کے فراہمی کے لیے جانا چاہیے ۔ جو پولیس والے چوروں ، ڈاکوٶں اور بھتہ خوروں کے ساتھ مل کر عوام کا جینا حرام کیے ہوٸے ہیں انہیں سر عام سزاٸیں دی جاٸیں تاکہ باقی پولیس والے ان لوگوں سے عبرت حاصل کر کے اپنا قبلہ درست کر لیں۔

    اللہ پاک ہمارے پیارے وطن کو امن کا گہوارا بناٸے اور ہماری پولیس کو انسانیت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ آمین

  • ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نےمظفرگڑھ میں مضرصحت دودھ پینےسے 2بچوں کی ہلاکت کانوٹس لے لیا

    مظفرگڑھ میں مضر صحت دودھ پینے سے دو بچوں کی ہلاکت کا معاملہ،ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی کیپٹن (ر) محمد عثمان نے واقعہ کا نوٹس لےلیا۔ابتدائی تحقیقات کیلئے فوڈ سیفٹی ٹیموں کو ہسپتال پہنچنے کےاحکامات جاری کردیئے۔ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نےٹیم کو واقعہ سےمتعلق ابتدائی رپورٹ جلد پیش کرنے کی ہدایت دی۔ترجمان پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق واقعہ کی تہہ تک پہنچنے کے لئےہسپتال میں ڈاکٹرز ،مریضوں اور اہلخانہ سے مکمل معلومات حاصل کرکے اصل حقائق کا تعین کیا جائے گا اورمتعلقہ دکان سے دودھ کے نمونے لے کر لیبارٹری بھجوائے جائیں گے۔ابتدائی تحقیقات کے بعد حقائق کی روشنی میں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • تیز رفتاری خطرہ جان ، تیز رفتار مزدہ نے ٹکر مار نوجوان کو ماردیا

    تیز رفتاری خطرہ جان ، تیز رفتار مزدہ نے ٹکر مار نوجوان کو ماردیا

    لاہور: تیزرفتاری خطرہ جان ، اور پھر ایسے ہی ہوا کلمہ چوک فلائی اوور پر افسوسناک ٹریفک حادثہ پیش آیا جہاں تیز رفتار مزدے نے موٹر سائیکل سوار کو کچل ڈالا۔نوجوان موقع پر ہی دم توڑگیا

    پولیس حکام کے مطابق کلمہ چوک فلائی اوور پر تیز رفتار مزدے نے موٹر سائیکل کو ٹکر ماردی جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل سوار نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گیا، حادثے کی اطلاع ملنے پر پولیس جائے حادثہ پر پہنچ گئی اور نعش قبضہ میں لے کر ضروری کارروائی کیلئے مردہ خانے منتقل کردی۔ پولیس نے ٹکر مارنے والے مزدے کے ڈرائیور کو حراست میں لےلیا۔

  • تھانوں میں ملزمان پر جانوروں کی طرح تشدد، اسمبلی میں قرارداد جمع

    تھانوں میں ملزمان پر جانوروں کی طرح تشدد، اسمبلی میں قرارداد جمع

    پنجاب کے تھانوں میں ملزمان کو بہمانہ تشدد کا نشانہ بنانے پر پابندی لگانے کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قرارداد مسلم لیگ (ن) کے رکن ملک ظہیر اقبال کی جانب سے جمع کرائی گئی ،قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ پنجاب میں دوران حراست ملزمان کی ہلاکتوں کے واقعات میںمسلسل اضافہ ہو رہا ہے ،ایک سال کے دوران پنجاب میں 7شہری پولیس تھانوں میں دوران حراست ہلاک ہو چکے ہیں ،پنجاب پولیس نے اپنی نجی ٹارچر سیل بھی بنائے ہیں،نجی ٹارچر سیل میں ملزمان پر بہمانہ تشدد کیا جاتا ہے.

    قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ  پولیس تھانوں میں ملزمان کو جانوروں کی طرح تشدد کا نشانہ بنانے پر پابندی لگائی جائے ،پولیس تھانوں میں ملزمان سے تفتیش کا طریقہ بھی تبدیل کیا جائے ،ملزمان سے تفتیش متعلقہ پولیس اسٹیشن کے سینئر زافسران کی موجودگی میں کی جائے ،پولیس اسٹیشن میں گالم گلوچ اور تضحیک آمیز انداز میں گفتگو پر مکمل پابندی لگائی جائے ،پنجاب کے تمام پولیس افسران اور اہلکاروں کی تربیتی ورکشاپ منعقد کی جائیں .

     

    پنجاب میں پولیس نہ بدل سکی، دوران تفتیش پولیس کی جانب سے ملزمان پر تشدد کیا جاتا ہے جس سے ان کی موت ہو جاتی ہے، آئی جی پنجاب انکوائری کا حکم دیتے ہیں لیکن انکوائری کی رپورٹ نہیں آتی،

    پنجاب میں گزشتہ 3 ماہ کے دوران پولیس حراست میں 5 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، تھانہ اکبری گیٹ سے ملزم کی پھندہ لگی لاش ملی تھی ، ٹارچرسیل میں گجرپورہ پولیس تشدد سےایک ملزم ہلاک ہوا ،شمالی چھاؤنی میں بھی پولیس کےمبینہ تشدد سےایک ملزم ہلاک ہوا ،

    اے ٹی ایم کارڈ چوری کرنے والا صلاح الدین بھی دوران تفتیش جاں بحق ہوا،صلاح الدین کے والد کی درخواست پر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے.

    آئی جی پنجاب کی جانب سے صوبے کے تمام 722پولیس اسٹیشنز کی حوالات میں چوبیس گھنٹوں کے اندر سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا حکم دیا گیا تھا اس کے باوجود ملزمان پر تشدد کے واقعات سامنے آ رہے ہیں.

    معاون خصوصی اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت تھانے کے کلچر کو تبدیل کرنے کے لئے تمام تر کوششیں بروئے کار لا رہی ہے۔ تھانہ کلچر کو بہتر بنانے کے لئے قانون میں سقم ختم کئے جا رہے ہیں۔ انوسٹی گیشن شفاف بنانے کے لئے انوسٹی گیشن کے کمروں میں کیمرا لگائے جائیں گے۔ پولیس کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے پنجاب حکومت تمام وسائل فراہم کرے گی۔

  • مضرصحت دودھ پینے سے 2 ننھے پھول مرجھاگئے،4کی حالت تشویشناک

    مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور میں بازار سے خریدا گیا مبینہ مضرصحت دودھ پینے کے بعد 2 بچے جاں بحق ہوگئے،4 بچوں کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کردیا گیا.مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور کے علاقے موضع گھلواں میں مبینہ طور پر مضرصحت دودھ پینے سے 2 بچے جاں بحق ہوگئے.پولیس ذرائع کیمطابق دودھ پینے کے بعد 4 بچوں کی حالت غیر بھی ہوئی۔متاثرہ بچوں کو تشویشناک حالت میں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال علی پور منتقل کیا گیا.پولیس ذرائع کیمطابق جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں 3 اور 5 سال کے درمیان ہیں.بچوں کے اہلخانہ کیمطابق بچوں نے گزشتہ شام چاول کھائے تھے،چاول کھانے کے بعد بچوں نے مبینہ طور پر بازار سے خریدا جانے والا مضرصحت دودھ پیاتھا۔اہلخانہ کیمطابق دودھ پینے کے بعد تمام بچوں کی حالت غیر ہوگئی.دوسری جانب پولیس کیمطابق واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں.

  • مظفرگڑھ پولیس شراب فروشوں کے خلاف بڑی کاروائی،3ملزمان گرفتار865لٹرشراب اوراسلحہ برآمد

    مظفرگڑھ میں تھانہ جتوئی پولیس کی حدود سے 3شراب فروش گرفتار کر لئے گئےملزمان سے600 لٹر لہن سمیت 865 لٹر شراب اورناجائز اسلحہ برآمد کر لیا گیا۔تفصیل کے مطابق مظفرگڑھ میں تھانہ جتوئی کی حدود میں ایس ایچ او تھانہ جتوئی زاہد محمود لغاری نے مخبر کی اطلاع پر اپنی ٹیم کے ہمراہ کاروائی کرتے ہوئے موضع بستی عارف، وینس، جھگی والا اور جناح کالونی میں شراب فروشوں کے اڈوں پر چھاپے مارے اس دوران پولیس نے 3 ملزمان یاسین، کلیم اللہ اور شاہد کو گرفتار کرلیا جبکہ ملزمان سے 600 لٹر لہن سمیت کل 865 لٹر شراب اور 1 عدد پستول 30 بور برآمد کرلیا گیا۔

  • مظفرگڑھ میں پولیس نے قتل کے ملزم کو 8 سال بعد گرفتار کرلیا

    مظفرگڑھ کے تھانہ خانگڑھ کی حدود میں8سال قبل مخالفین سےخوفزدہ ہوکر اپنی جان بچانے کے لئے جان بوجھ کر جرم کرکے جیل جانے والے قیدی کو مخالفین نے ضمانت پر رہائی دلوا کر قتل کر دیاتھا۔ قاتل 8 سال بعد بلآخر تھانہ شہر سلطان پولیس نے گرفتار کر لیا۔تفصیل کے مطابق مظفرگڑھ کےتھانہ شہر سلطان کے علاقہ بلو سندیلہ کے رہائشی شخص محمد نعیم پر ملزمان کو شک تھا کہ وہ ان کی عزیزہ خاتون کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھتاہے جسکی بنا پر ملزمان نے محمد نعیم کوقتل کی دھمکیاں دیں ۔دھمکیوں سے خوفزدہ ہو کر مقتول نے جان بوجھ کر اپنے اوپر چیک ڈس آنر کا پرچہ کروایا اورجیل چلا گیا تاکہ ملزمان اس کو قتل نہ کر سکیں۔ تاہم ڈرامائی طور پر ملزمان نے خود ضمانتی ڈھونڈ کر عدالت میں مقتول کی ضمانت کی درخواست دائر کردی اور کیس لڑنے کے بعد اپنے دشمن کی خود ہی ضمانت کرا لی۔ بعدازاں رہائی ملتے ہی مقتول کو تھانہ خانگڑھ کے علاقے میں لے جا کر قتل کردیا۔ قتل کی اس واردات کے باقی تمام ملزمان پہلے سے ہی گرفتار ہو چکے تھے۔ تاہم ملزم علمدار 8 سال سے فرار تھابالاخر تھانہ شہر سلطان کے رہائشی ہونے پر ایس ایچ او تھانہ شہر سلطان فرحان کریم نے اپنی ٹیم کے ہمراہ جدید ذرائع استعمال کرتے ہوئے ملزم کو ٹریس کر لیا۔

  • بیٹوں کے ہاتھوں باپ اور ماں قتل

    بیٹوں کے ہاتھوں باپ اور ماں قتل

    قصور
    منڈی عثمانوالہ میاں بیوی قتل کا معاملہ حل

    تفصیلات کے مطابق بیٹوں نے باپ اور سوتیلی ماں کو قتل کرکے نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ کا ڈرامہ رچایا تھا
    پولیس نے چار گھنٹے میں ملزمان کا پتہ لگوا کر گرفتار کر لیا
    بیٹے باپ کی جائیداد کےاکلوتے وارث بننا چاہتے تھے
    قتل سے پہلے سوتیلی ماں اور باپ سے جھگڑا بھی ہوا تھا
    بتایا جا رہا ہے کہ باپ نے چوتھی شادی کی تھی
    سوتیلی ماں حاملہ تھی جس سے جھگڑا ہوا

    بیس سالہ عزیفہ امین اور اسامہ کا اقبال جرم آلہ قتل برآمد ملزم گرفتار
    پولیس تھانہ منڈی عثمانوالا نے دوہرے قتل کا مقدمہ درج کرکے مزید تحقیقات شروع کردی ڈی پی او قصور کا ایس ایچ او کو فوری کاروائی پر خراج تحسین