Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • غیرت کے نام پر ملزم نے بیوی اور بہن کی جان لے لی

    غیرت کے نام پر ملزم نے بیوی اور بہن کی جان لے لی

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، غیرت کے نام پر دو خواتین کی جان لے لی گئی

    واقعہ لاہور کے علاقے ستوکتلہ میں پیش آیا ،جہاں ملزم نے گھر میں‌موجود اپنی ہی بیوی اور بہن کو قتل کر دیا، ملزم جائے وقوعہ سے فرار ہو گیا، اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی، پولیس حکام کے مطابق جاں بحق خواتین کی شناخت 25 سالہ حنا اور 24 سالہ سحرش کے طور پر ہوئی، شان نامی ملزم نے دونوں خواتین کو گولیاں مار کر قتل کیا، حنا شان کی بیوی اور سحرش شان کی بہن تھی

    پولیس کے مطابق اہل محلہ کا کہنا ہے کہ ملزم شان کو اپنی بیوی اور بہن کے کردار پر شبہہ تھا، ممکنہ طور پر اسی وجہ سے اس نے انہیں قتل کیا،پولیس نے لاشیں پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کر دی ہیں،ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے نوٹس لیتے ہوئے ایس پی صدر سے رپورٹ طلب کرلی ہے،پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دوہرے قتل کی واردات میں تمام پہلوؤں پر تفتیش کی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی دو خواتین کے قتل پر آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی اور کہا کہ ملزم کو گرفتار کیا جائے،

    آپریشن گولڈ سمتھ، اسرائیلی اخبار نے عمران خان کا "حقیقی چہرہ” دکھا دیا

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

  • لیہ: تیز رفتار بس کی ٹریکٹر ٹرالی کوٹکر، 3 افراد جاں بحق، 15 زخمی

    لیہ: تیز رفتار بس کی ٹریکٹر ٹرالی کوٹکر، 3 افراد جاں بحق، 15 زخمی

    لیہ (باغی ٹی وی ،نامہ نگار) تیز رفتار بس ٹریکٹر ٹرالی کوٹکر، 3 افراد جاں بحق، 15 زخمی

    تفصیل کے مطابق راولپنڈی سے ڈیرہ غازی خان جانے والی رانا جہانزیب ٹرانسپورٹ کی بس کو لیہ میں خوفناک حادثہ پیش آیا۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب تیز رفتار بس کوٹ ادو روڈ پر کوٹھی قریشی کے نزدیک ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا گئی۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق، حادثے میں 3 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ 15 افراد شدید زخمی ہوئے۔ ریسکیو 1122 لیہ کی ٹیموں نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی اور انہیں قریبی ہسپتال منتقل کر دیا۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    پولیس نے حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

  • ادویات پر 18 فیصد  سیلز ٹیکس، قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، مریض پریشان

    ادویات پر 18 فیصد سیلز ٹیکس، قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، مریض پریشان

    لاہور(باغی ٹی وی رپورٹ)حکومت کا ادویات پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ مریضوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ مریضوں کو اپنی دوائیں خریدنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ادویات پر 18 فیصد تک جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) لگانے کے بعد متعدد ضروری ادویات کی قیمتوں میں حیرت انگیز اضافہ ہو گیا ہے، جس نے عام عوام اور خاص طور پر مریضوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ مریضوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو کم از کم ادویات جیسی بنیادی ضروریات پر ٹیکس عائد نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس کا براہِ راست اثر ان کی صحت اور زندگیوں پر پڑ رہا ہے۔

    لاہور کے میڈیکل اسٹور مالکان کے مطابق، حکومت نے جِلدی بیماریوں کی ادویات، طاقت بڑھانے والی دوائیں، ملٹی وٹامنز، کیلشیم سپلیمنٹس، ملک پاوڈر، شوگر کی تشخیصی اسٹرپس اور ہربل ادویات پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس لگا دیا ہے۔ ان ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر بوڑھے افراد، شوگر کے مریض، بچوں اور کمزور افراد ہو رہے ہیں۔

    ایک میڈیکل اسٹور مالک کا کہنا تھا: "پہلے مریض ہفتوں کی دوا خریدنے آتے تھے، مگر اب وہ چند دنوں کی ادویات ہی خریدنے پر مجبور ہیں، کیونکہ قیمتوں میں اتنا اضافہ ہو چکا ہے کہ مریضوں کے لیے تمام مہینے کی ادویات لینا ممکن نہیں رہا۔” خاص طور پر شوگر کے مریض، جو اپنی حالت کو برقرار رکھنے کے لیے مستقل دوا اور شوگر اسٹرپس پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے اس نئے ٹیکس نے مزید مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔

    ڈرگ پاکستان لائرز فورم کے صدر نور مہر کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ہربل، ہومیوپیتھک ادویات، وٹامنز اور فوڈ سپلیمنٹس پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس لگانا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ ڈرگ ایکٹ کے تحت یہ اقدام غیر قانونی بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ ادویات بنیادی صحت کی ضروریات میں شامل ہیں اور ان پر ٹیکس عائد کرنا عوام کے ساتھ ظلم ہے۔ ڈرگ ایکٹ کے مطابق ان ادویات پر ٹیکس نہیں لگ سکتا، حکومت کو فوری طور پر اس فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔”

    ادویات پر بڑھتے ہوئے ٹیکس اور قیمتوں میں اضافے نے مریضوں اور ان کے لواحقین کو سخت غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ بہت سے مریض جو اپنی بیماریوں کی وجہ سے پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار تھے، اب ان کے لیے ادویات خریدنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔ ایک مریض کے لواحقین نے کہا: "حکومت کو صحت جیسی بنیادی ضروریات پر ٹیکس نہیں لگانا چاہیے، اس کا بوجھ ہم جیسے عام لوگوں پر پڑتا ہے جو پہلے ہی مہنگائی سے پریشان ہیں۔”

    مریضوں، میڈیکل اسٹور مالکان اور ماہرین کا متفقہ مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر ادویات پر عائد کیے گئے 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ صحت اور علاج معالجہ عوام کا بنیادی حق ہے، اور ادویات پر ٹیکس عائد کر کے حکومت عوام کو مزید مشکلات میں مبتلا کر رہی ہے۔ عوام کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے جلد از جلد اس ٹیکس کو ختم کرے تاکہ مریضوں کو مزید پریشانی سے بچایا جا سکے۔

  • میرپورخاص:ناموس رسالتﷺ پر حملے، تاجر برادری کا شدید احتجاج،وزیر تعلیم کی برطرفی  کامطالبہ

    میرپورخاص:ناموس رسالتﷺ پر حملے، تاجر برادری کا شدید احتجاج،وزیر تعلیم کی برطرفی کامطالبہ

    میرپورخاص (باغی ٹی وی،نامہ نگار سید شاہزیب شاہ کی رپورٹ )ناموس رسالتﷺ پر حملے، تاجر برادری کا شدید احتجاج،وزیر تعلیم کو برطرف کرنے کامطالبہ

    تفصیل کے مطابق مرکزی انجمن تاجران میرپورخاص سندھ کے صدر عبدالجبار خان نے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ناموس رسالتﷺ کے تحفظ کے حوالے سے میرپورخاص پولیس کی شاندار کارروائی کی تعریف کی اور سندھ حکومت کے فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اجلاس میں تاجروں، وکلاء اور مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل عمرکوٹ کے ایک مقامی شہری نے مبینہ طور پر ناموس رسالتﷺ کی توہین کی، جس پر میرپورخاص پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ شخص کو گرفتار کیا۔ یہ کارروائی علاقے کے عوام اور تاجروں کی جانب سے قابل تعریف قرار دی گئی۔ پولیس کی اس اقدام کو ایک قابل فخر عمل سمجھا جا رہا تھا، جس نے عوام کے جذبات کی ترجمانی کی۔

    تاہم سندھ حکومت نے اس واقعے کے بعد میرپورخاص پولیس کے اعلیٰ افسران اور اہلکاروں کو برطرف کرنے کا فیصلہ کیا جس پر تاجروں، مقامی رہنماؤں اور عوام نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے عبدالجبار خان نے کہا کہ”ناموس رسالتﷺ ہمارے ایمان کا حصہ ہے، اس پر ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ سندھ حکومت کا فیصلہ غیر منصفانہ اور عوامی جذبات کے منافی ہے۔ ہم پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہیں، جنہوں نے ناموس رسالتﷺ کی حفاظت کے لیے فوری کارروائی کی، لیکن حکومت کے اس فیصلے سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔”

    عبدالجبار خان نے واضح کیا کہ "اگر ہمارے ایمان سے کھیلنے کی کوشش کی گئی تو ہمیں حضرت عمر فاروقؓ کا انصاف اور قانون یاد ہے۔ ہم کسی بھی قیمت پر ناموس رسالتﷺ پر سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اس معاملے میں ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔”

    اپنی تقریر کے دوران عبدالجبار خان نے ذوالفقار علی بھٹو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھٹو صاحب نے ناموس رسالتﷺ کا پرچم بلند کیا تھا، مگر آج کے حکمرانوں نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ "بدقسمتی سے آج ایسے لوگ اقتدار میں آ چکے ہیں جو مسلمانوں کے جذبات سے کھیل رہے ہیں،

    عبدالجبار خان نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وزیر تعلیم کو فوری طور پر وزارت سے برطرف کیا جائے اور پولیس افسران کی برطرفی کا فیصلہ واپس لیا جائے، تاکہ انصاف کی بالادستی قائم رہے۔

    اس موقع پر مرکزی انجمن تاجران کی لیگل ایڈ کمیٹی کے صدر ایڈووکیٹ دلاور حسین پنھور نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا”یہ واقعہ کسی خاص مسلک یا جماعت کا نہیں ہے، یہ ایمان کا معاملہ ہے۔ سندھ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر اپنے فیصلے کو واپس لے کر ایک نئی تاریخ رقم کرے۔ ہم مختلف مسالک اور تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن ناموس رسالتﷺ کے معاملے میں ہم سب ایک قوم ہیں۔”

    رنگ روڈ کے صدر محبوب الہی کھوکھر اور شعبہ تعلیم کے صدر روشن عالم سموں نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی تاجروں نے اپنے حقوق کے لیے ہڑتالیں کی ہیں، تو انہوں نے اپنے کاروبار بند کیے ہیں، مگر ناموس رسالتﷺ کے لیے ہم اپنی جان، مال اور روزگار سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    اس موقع پر تاجر برادری کی مختلف ذیلی ایسوسی ایشنز کے نمائندے بھی موجود تھے جنہوں نے سندھ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف اتحاد اور یکجہتی کا اظہار کیا۔

    اجلاس کے اختتام پر تمام شرکاء نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت فوراً اپنے فیصلے کو واپس لے، پولیس افسران کو بحال کرے اور ناموس رسالتﷺ کی حرمت کو یقینی بنائے۔ اس معاملے پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اور اگر حکومت نے اپنے فیصلے پر نظرثانی نہ کی تو سخت احتجاج کیا جائے گا۔

  • فیصل آباد : اسپتال  کے ملازم کی مریضہ کو نشہ آور انجیکشن لگاکر زیادتی،وزیراعلیٰ پنجاب کا نوٹس

    فیصل آباد : اسپتال کے ملازم کی مریضہ کو نشہ آور انجیکشن لگاکر زیادتی،وزیراعلیٰ پنجاب کا نوٹس

    فیصل آباد کے الائیڈ اسپتال کے ملازم نے 14 سالہ مریضہ کو مبینہ طور پر نشہ آور انجکشن لگا کر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق واقعہ 3 روز قبل پیش آیا جب افغان آباد کی رہائشی خاتون کی 14 سالہ بیٹی بیمار تھی جس کے ٹیسٹ کروانے کے بہانے اسپتال کے ملازم احسان عرف احسن نے انہیں ہسپتال بلایا، ملزم احسان والدہ کو وارڈ کے باہر بٹھا کر اس کی 14 سالہ بیمار بیٹی کو ٹیسٹ کروانے کے بہانے لیبر روم کی طرف لے گیا اور مبینہ طور پر اسے نشہ آور انجکشن لگا کر بے ہوش کر کے زیادتی کا نشانہ بنادیا اور لڑکی کو چھوڑ کر خود فرار ہو گیا،متاثرہ لڑکی کی والدہ کی درخواست پر مقدمہ درج کر کے مزید قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔

    دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے فیصل آبادالائیڈ ہسپتال میں 14 سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی کے واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے، وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    حکومت کا اضافی قرضوں پر ملک کے انحصار کو کم کرنے کا فیصلہ

    تونسہ: 10 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا نایاب نسل کا عقاب برآمد ،ملزم …

    حزب اللہ کا جوابی وار،اسرائیل پر میزائل حملے،فوجی اڈہ نشانہ،یہودی چھپنے پر مجبور

  • ڈاکو اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک

    ڈاکو اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک

    لاہور: سندر کے علاقہ میں کریانہ اسٹور کے اندر ڈکیتی واردات کے دوران مزاحمت پر ایک ڈاکو اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق دو موٹرسائیکلوں پر سوار چار مسلح ڈاکوؤں نے شہری کے کریانہ اسٹور میں ڈکیتی کی واردات کی جس میں چھ لاکھ نقدی لوٹ کر فرار ہونے والے ڈاکو کو اسٹور کے مالک نے دبوچ لیا جس پر ساتھی ڈکیتوں نے فائرنگ شروع کر دی، ڈاکوؤں کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک ڈاکو موقع پر ہلاک ہوگیا جبکہ تین فرار ہونے میں کامیاب ہو گئےپولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا۔

    دوسری جانب مردان رستم میں پیسے نہ دینے پر سفاک ملزم نے بلیڈ سے بچے کی زبان کاٹ دی۔

    جعلی میڈیکل ویزوں پرپاکستان آنے والے 9 افغان شہری گرفتار

    مشیر صحت خیبرپختونخوا ڈاکٹر احتشام علی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او مردان سے رپورٹ طلب کرلی،انہوں نے ڈی ایچ او مردان ڈاکٹر جاوید اور مردان میڈیکل کمپلیکس کے طبی ماہرین کو بچے کی بہترین نگہداشت کی ہدایت کی کہا کہ قانونی اداروں کی موجودگی میں ایسی درندگی کیسے برداشت ہوسکتی ہے؟۔

    لانچوں کے ذریعہ ایرانی ڈیزل اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

  • اوچ شریف:پٹرولنگ پولیس کی شاندار کارروائی، اشتہاری ملزم گرفتار

    اوچ شریف:پٹرولنگ پولیس کی شاندار کارروائی، اشتہاری ملزم گرفتار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان) پٹرولنگ پولیس خیر پور ڈاھا نے ایک کامیاب کارروائی کے دوران مطلوب بی کیٹگری کے اشتہاری ملزم محمد جنید کو گرفتار کر لیا۔ سب انسپکٹر محمد جاوید اور اے ایس آئی محمد ساجد کی سربراہی میں ناکہ بندی کے دوران ملزم کی شناخت ہوئی اور اسے فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق، محمد جنید کئی سنگین جرائم میں ملوث تھا اور اس کی گرفتاری علاقے میں موجود دیگر جرائم پیشہ افراد کے لیے انتباہ ہے۔ سب انسپکٹر محمد جاوید نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد علاقے میں امن و امان برقرار رکھنا اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔

    علاقے کے عوام نے پولیس کی اس کارروائی کو سراہا اور کہا کہ اس سے ان کی حفاظت میں مزید بہتری آئے گی۔ پولیس نے شہریوں کو بھی تاکید کی ہے کہ وہ اپنے ارد گرد کی مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور فوری طور پر متعلقہ حکام کو آگاہ کریں۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ بھی ایسی ناکہ بندیاں جاری رہیں گی تاکہ جرائم کا سدباب کیا جا سکے اور عوام کو ایک محفوظ معاشرہ فراہم کیا جا سکے۔

  • ڈیرہ غازی خان:4 ماہ سے پریس کلب سیل، صحافیوں پر جھوٹے مقدمات، ظلم کا سلسلہ جاری

    ڈیرہ غازی خان:4 ماہ سے پریس کلب سیل، صحافیوں پر جھوٹے مقدمات، ظلم کا سلسلہ جاری

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹرجواداکبر)4 ماہ سے پریس کلب سیل، صحافیوں پر جھوٹے مقدمات، ظلم کا سلسلہ جاری

    تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازی خان پریس کلب کے صدر، شیر افگن بزدار نے کہا ہے کہ ضلع میں صحافیوں کو سنگین حالات کا سامنا ہے، جہاں ضلعی پریس کلب گزشتہ چار ماہ سے سیل ہے اور ورکنگ جرنلسٹس کو جھوٹے مقدمات اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے یہ بات ہفتہ کو ٹرسٹ فار ڈیموکریٹک ایجوکیشن اینڈ اکاؤنٹبیلیٹی (ٹی ڈی ای اے) کے تعاون سے ہونے والی ایک اہم نشست میں کہی، جس کا مقصد صحافیوں کی حفاظت اور حقوق کے حوالے سے درپیش مسائل پر بات چیت کرنا تھا۔

    شیر افگن بزدار نے کہا کہ صحافیوں کے پاس ڈائیلاگ اور پیشہ ورانہ تبادلہ خیال کے لیے پریس کلب کا پلیٹ فارم ہوتا ہے، لیکن اس کے تقدس کو پامال کیا گیا ہے، اور صحافیوں کو ریاست مخالف الزامات کے تحت مقدمات میں پھنسایا گیا، گرفتار کیا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ صحافیوں کو نہ صرف یہ کہ سرکاری اداروں کی طرف سے دباؤ کا سامنا ہے بلکہ میڈیا ہاؤسز بھی صحافیوں کو کوئی تنخواہ یا اعزازیہ نہیں دیتے، جس سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ "صحافی مار کھاتے ہیں، جیل جاتے ہیں، لیکن کوئی ادارہ یا تنظیم ان کی مدد کے لیے آواز نہیں اٹھاتی،” انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔

    نشست کے دوران سوال و جواب کے سیشن میں سینئر صحافی سید ریاض نے حکومت اور صحافتی اداروں کے درمیان بہتر رابطے نہ ہونے کو صحافیوں کی مشکلات کی بنیادی وجہ قرار دیا۔

    سینئر صحافی بشیر احمد چوہان نے کہا کہ صحافیوں کی آپس کی تقسیم کی ایک بڑی وجہ ان کی سیاسی وابستگیاں یا کاروباری مفادات ہیں، جو ان کے اتحاد کو متاثر کرتے ہیں۔

    ایک اور صحافی نے کہا کہ علاقائی صحافیوں کی حفاظت کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے اور ریجنل سطح پر ایک نیٹ ورک بنانے کی تجویز دی تاکہ ہر علاقے کے صحافیوں کی نمائندگی ہو اور ان کے مسائل کو مقامی سطح پر ہی حل کیا جا سکے۔

    اس تقریب کا انعقاد ٹی ڈی ای اے کے سیف میڈیا پروگرام کا حصہ تھا، جس کا مقصد مقامی پریس کلبز اور صحافی یونینز کے تعاون سے صحافیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور ان کی سکیورٹی و پروٹیکشن کے مسائل کو حل کرنا ہے۔ اس پروگرام کے تحت صحافیوں کی اجتماعی ایڈووکیسی کو مضبوط بنانے اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے سیمینار، ورکشاپس، اور کانفرنسز منعقد کی جائیں گی۔

    تقریب میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کے سینئر رہنما ناصر زیدی نے صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے حکومتی اقدامات اور ٹی ڈی ای اے کے کردار کو سراہا، اور زور دیا کہ تمام صحافتی تنظیموں کو مل کر اس مقصد کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی تیار کرنی ہوگی۔

  • سیالکوٹ: ایک سال سے لاپتہ 23 سالہ لڑکی لائبہ لاہور سے بازیاب

    سیالکوٹ: ایک سال سے لاپتہ 23 سالہ لڑکی لائبہ لاہور سے بازیاب

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیورو چیف شاہد ریاض)بڈیانہ پولیس نے ایک سال سے لاپتہ 23 سالہ لڑکی لائبہ کو لاہور کے علاقے ساندہ سے بازیاب کر لیا۔ لائبہ، جو تھانہ بڈیانہ کے علاقے کالووالی کی رہائشی تھی، 8 اکتوبر 2023 کو اچانک غائب ہو گئی تھی۔ اس کے اغوا کا مقدمہ اس کی دادی کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج ہوا تھا، تاہم ابتدائی تفتیش میں لڑکی کی بازیابی ممکن نہ ہوسکی۔

    پولیس کے سابق ایس ایچ او لڑکی کو بازیاب کرانے میں ناکام رہے، جس کے بعد ڈی پی او سیالکوٹ رانا عمر فاروق نے ایس پی انوسٹی گیشن غلام عباس اور ڈی ایس پی پسرور سرفراز رانجھا کی نگرانی میں تھانہ بڈیانہ کے ایس ایچ او انسپکٹر غازی عرفان اشرف کو اس کیس کی ذمہ داری سونپی۔

    پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے لائبہ کی تلاش کا آغاز کیا۔ پہلے اس کا پتہ فیصل آباد کے علاقے جڑانوالہ سے چلا، تاہم جب پولیس وہاں پہنچی تو مزید تفتیش سے معلوم ہوا کہ لائبہ لاہور کے علاقے ساندہ میں موجود ہے۔ پولیس ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ساندہ میں چھاپہ مارا اور لائبہ کو بازیاب کر لیا۔

    پولیس کے ترجمان کے مطابق لائبہ کے والدین وفات پا چکے تھے، جس کے بعد وہ یہاں سے فرار ہو گئی تھی۔ پولیس کی کامیاب کارروائی کے بعد لائبہ کو بازیاب کر کے تحفظ میں لے لیا گیا ہے۔

  • میہڑ:دیرینہ تنازع پر مسلح افراد کا حملہ، 4 افراد شدید زخمی، ہسپتال منتقل

    میہڑ:دیرینہ تنازع پر مسلح افراد کا حملہ، 4 افراد شدید زخمی، ہسپتال منتقل

    میہڑ (باغی ٹی وی نامہ نگارمنظورعلی جوئیہ)اے سیکشن تھانہ کی حدود میں دیرینہ تنازعے کے باعث مسلح افراد کی فائرنگ سے 4 افراد شدید زخمی ہوگئے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کھوسہ برادری کے دو گروپ عدالت سے واپسی پر ایک دوسرے سے الجھ پڑے۔

    تفصیل کے مطابق اےسیکشن تھانہ کی حدود میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے میں گاؤں نثار کھوسہ کے مکین، محمد نواز کھوسو، مختیار کھوسو، امتیاز کھوسو اور محمد حسن کھوسو کو فائرنگ کے نتیجے میں گولیاں لگیں، جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد کے لئے تحصیل ہسپتال میہڑ منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں طبی امداد فراہم کرنے کے بعد دادوہسپتال ریفر کر دیا۔

    پولیس نے واقعے کی ابتدائی رپورٹ درج کر کے حملہ آوروں کی گرفتاری کے لئے کارروائی شروع کر دی ہے۔ حملہ آوروں کی تعداد 8 بتائی جارہی ہے، جن کے خلاف اے سیکشن تھانہ میہڑ میں ابتدائی رپورٹ درج کرلی گئی ہے۔

    پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے اور علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ مزید کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔