Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • میہڑ: فائرنگ کا واقعہ، ایک شخص جاں بحق دوسرا زخمی

    میہڑ: فائرنگ کا واقعہ، ایک شخص جاں بحق دوسرا زخمی

    میہڑ،باغی ٹی وی (نامہ نگار منظور علی جوئیہ)میہڑ کے نواحی علاقے متھی عالیوال میں دیرینہ تنازعہ پر چانڈیہ برادری کے دو گروہوں میں پرتشدد جھگڑا اور فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔ اس افسوسناک واقعے میں دلبر علی چانڈیو موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ ان کے بھائی سینگار علی چانڈیو شدید زخمی ہو گئے۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی دونوں افراد کو فوری طور پر تحصیل ہسپتال میہڑ منتقل کیا گیا۔ سینگار علی کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث انہیں مزید علاج کے لیے لاڑکانہ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    آخری اطلاعات آنے تک پولیس اطلاع کے باوجود موقع پر نہ پہنچ سکی اور نہ ہی دلبر علی چانڈیو کی لاش کو قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے پولیس کے غیرذمہ دارانہ رویہ اور تساہل پر ورثاء اضطراب کی کیفیت میں مبتلا ہیں .

  • طورخم بارڈر پر تاجروں کی چیخ پکار، کسٹم کلیئرنس میں بے پناہ مشکلات

    طورخم بارڈر پر تاجروں کی چیخ پکار، کسٹم کلیئرنس میں بے پناہ مشکلات

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ)طورخم بارڈر پر تاجروں کی چیخ پکار، کسٹم کلیئرنس میں بے پناہ مشکلات، کسٹم کلئیرنگ ایجنٹس کی پریس کانفرنس

    لنڈی کوتل پریس کلب ( رجسٹرڈ) میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تورخم کسٹم کلئیرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر ایمل شینواری، سینئر نائب صدر شاہجہان شینواری، نائب صدر عامر شینواری اور ٹرانسپورٹ صدر عظیم اللہ ودیگر نے کہا کہ طورخم بارڈر پر ٹیڈ( TAD) اور ویزہ پالیسی نے تجارت کو بری طرح متاثر کیا ہے حالانکہ دونوں ممالک کی ایکسپورٹ اور امپورٹ میں اضافے کا انحصار تجارت دوست پالیسی پر منحصر ہے ضلع خیبر میں پاک افغان شاہراہ پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں اور بارڈر کے دونوں طرف گاڑیوں کے کھڑے ہونے سے دونوں ممالک کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے،

    انہوں نے کہا کہ ہم دونوں ممالک کے حکام کو تجاویز دیتے ہیں کہ تجارت کی بہتری کیلئے طورخم میں جائنٹ دفتر بنایا جائے اور مشترکہ طور پر اس کیلئے میکنزم تیار کیا جائے اور کاغذات تیار ہونے تک گاڑیوں کو ٹوکن پر اس کو اجازت دی جائے، پاکستان و افغانستان کے وہ تمام ڈرائیورز جنہیں ویزہ ایشو کیا گیا ہے ان کو ویزہ پر اجازت دی جائے اور جس نے ٹیڈ کاغذات بنائی ہیں انہیں ٹیڈ پر اجازت دی جائے اور اس سے تھرڈ پارٹی کو ختم کیا جائے اور سو ڈالر سے زائد فیس نہ لی جائے۔

    عظیم اللہ شینواری نے کہا کہ ہمارے ساتھ مذاکرات میں ٹیڈ کاغذات ایک ہفتہ میں بنانے کے وعدے کئے گئے تھے لیکن افسوس اب اس پر کئی کئی ہفتے لگ رہے ہیں جو گاڑیاں کھڑی ہیں انہیں اجازت دی جائے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے فروٹ پر جو ظالمانہ ٹیکس لاگو کیا گیا ہے کاروبار تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے ٹیڈ پالیسی چونکہ ٹرانزٹ ٹریڈ کے پاس ہے ہم ڈائریکٹر ٹرانزٹ ٹریڈ ودیگر حکام سے مطالبہ کرتے ہیں

    افغانستان کی طرف سے سیزن شروع ہوا ہے جس کیلئے منسٹری فنانس، ایف بی آر چئیرمین اور دیگر حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان کی طرف سے ام، کیلا ودیگر آئٹمز اور افغانستان کی طرف سے خوبانی، ٹماٹر ودیگر اشیاء کیلئے حالیہ ایس آر او پر نظر ثانی کی جائے اور جو چار گناہ زیادہ ٹیکس لاگو کیا گیا ہے ان کو فی الفور واپس لیا جائے اور اگر واپس نہیں لیا گیا تو چمن، غلام خان، خرلاچی ودیگر کسٹم ایجنٹس کے ساتھ مل کر پہیہ جام ہڑتال کرینگے قاری نظیم گل شینواری نے کہا کہ ایران افغانستان کے ساتھ تجارت میں آسانیاں پیدا کرتے ہیں جبکہ ہماری طرف سے آئے روز تجارت دشمن پالیسی لاگو کرتے ہیں جو کہ سراسر زیادتی ہے۔

  • ننکانہ : نوزائیدہ بچوں کی جان خطرے میں پڑگئی ،ڈی ایچ کیوہسپتال کا نرسری وارڈ  انتہائی زبوں حالی کا شکار

    ننکانہ : نوزائیدہ بچوں کی جان خطرے میں پڑگئی ،ڈی ایچ کیوہسپتال کا نرسری وارڈ انتہائی زبوں حالی کا شکار

    ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی (نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) نوزائیدہ بچوں کی جان خطرے میں پڑگئی ،ڈی ایچ کیوہسپتال کا نرسری وارڈ انتہائی زبوں حالی کا شکار ،ہر بیڈ پر اوسطاً تین نوزائیدہ بچے رکھے جا رہے ہیں جو کہ ایک خطرناک صورتحال ہے،ایک مقامی چائیلڈسپیشلسٹ ڈاکٹرکاکہنا ہے کہ اس طرح کی صورتحال میں نوزائیدہ بچوں میں انفیکشن پھیلنے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے.

    تفصیلات کے مطابق ننکانہ صاحب میں نوزائیدہ بچوں کی جان خطرے میں ہے کیونکہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کی نرسری وارڈ کی حالت انتہائی زبوں حالی کا شکار ہے۔ ہر بیڈ پر اوسطاً تین نوزائیدہ بچے رکھے جا رہے ہیں جو کہ ایک خطرناک صورتحال ہے۔ ایک مقامی اطفال کے ماہر کے مطابق، ‘اس طرح کی صورتحال میں نوزائیدہ بچوں میں انفیکشن پھیلنے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔’

    شہر کے لوگ اور طبی ماہرین اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اس طرح کی بھیڑ میں نوزائیدہ بچوں کو مناسب دیکھ بھال نہیں مل پاتی اور وہ مختلف بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔

    شہریوں نے ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب چوہدری محمد ارشد اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے کو اپنی توجہ کا مرکز بنائیں اور نوزائیدہ بچوں کی جان بچانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ہسپتال میں نرسری وارڈ کے لیے مزید بیڈز اور سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ نوزائیدہ بچوں کو محفوظ ماحول میں رکھا جا سکے۔”

  • تونسہ: لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے خودکشی کرنے والے کی جان گئی

    تونسہ: لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے خودکشی کرنے والے کی جان گئی

    تونسہ شریف(باغی ٹی وی رپورٹ)وہواکے علاقہ میں لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے خودکشی کرنے والے کی جان گئی، حیران کن واقعہ میں ایک شخص کی خودکشی کی کوشش لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے جو ناکام ہو گئی۔

    تفصیلات کے مطابق تونسہ علاقہ وہوا میں ایک شخص 11 ہزار وولٹ کی بجلی کی لائن پر چڑھ گیا تھا تاکہ خود کو نقصان پہنچا سکے۔ مگر اسی دوران اچانک لوڈ شیڈنگ ہو گئی اور بجلی بند ہو گئی، اس طرح اس شخص کی جان بال بال بچ گئی۔

    یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے اور لوگ اسے ایک معجزہ قرار دے رہے ہیں، اس واقعے نے لوگوں کو لوڈ شیڈنگ کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔

  • ڈاکٹر شاہد صدیق قتل کیس، ملزم کی گرل فرینڈ تحقیقات میں کلیئر قرار

    ڈاکٹر شاہد صدیق قتل کیس، ملزم کی گرل فرینڈ تحقیقات میں کلیئر قرار

    تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر شاہد صدیق کے قتل کیس میں پولیس نے مقتول کے بیٹے، ملزم قیوم کی گرل فرینڈ کو تفتیش میں کلیئر قرار دے دیا ہے

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم قیوم کی گرل فرینڈ کا ڈاکٹر شاہد صدیق کے قتل میں کوئی کردار تاحال سامنے نہیں آ سکا، لڑکی کا تفیصلی بیان ریکارڈ کیا گیا ہے، لڑکی نے پولیس کو اپنے بیان میں بتا یا کہ اسکی قیوم سے دوستی تھی تا ہم اس نے کبھی بھی قیوم سے بھاری رقم نہیں مانگی، قیوم نے دو بیگز، ایک انگوٹھی اپنے مرضی سے تحفے میں دی تھی،

    دوسری جانب ڈاکٹر شاہد کے قتل کی سپاری کا ایڈوانس اور ریکی کرنے والے مزید تین افراد گرفتار کئے گئےہیں، ڈاکٹر شاہد کے قتل کی ایڈوانس رقم سولہ لاکھ روپے ایک حجام نے وصول کی تھی، ڈاکٹر شاہد صدیق قتل کیس میں بیٹے قیوم سمیت ملزمان کی تعداد پانچ ہوگئی ہے، شوٹر اور مزید ایک سہولت کار کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں

    واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی وہاڑی سے رینٹ پر لی گئی تھی،ڈاکٹر شاہد صدیق کو قتل کرنے سے پہلے شوٹر نے گاڑی کی نمبر پلیٹ تبدیل کی ، واردات کے بعد شہر سے باہر نکلتے ہوئے گاڑی کی اصل نمبر پلیٹ لگائی گئی ،ملزم قیوم اور شہریار گزشتہ 8 سال سے دوست ہیں،شہریار ویلنشیاء ٹاؤن میں کسی دوست کے پاس رہائش پذیر تھا ملزم قیوم شامل تفتیش کی جانے والی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا ،

    بیٹے نے اپنی گرل فرینڈ کو گاڑی گفٹ کرنے کے لیے 13 کروڑ روپے مانگے تھے۔ قاتل بیٹا آئس کا نشہ کرتا تھا اور والد سے 30 لاکھ ماہانہ جیب خرچ کا تقاضا کرتا تھا لیکن والد 5 لاکھ روپے دیا کرتے تھے۔ ملزم نے چند ماہ پہلے اپنے گھر ہی چوری بھی کروائی تھی۔ ڈاکٹر شاہد اپنے بیٹے کو بری صحبت سے دور رہنے کا کہتے تھے،ڈاکٹر شاہد کیس میں تینوں اجرتی قاتل آپس میں رشتہ دار ہیں، مفرور ملزمان آپس میں باپ، بیٹا اور بھتیجا ہیں، ملزمان چوری کی متعدد وارداتوں میں پولیس کو مطلوب ہیں، ملزمان گاڑی چوری کے متعدد کیسز میں اسلام آباد اور لاہور میں چالان ہوچکے ہیں، ڈاکٹر شاہد صدیق پر پہلا قاتلانہ حملہ بھی انہی ملزمان نے کیا تھا، ملزمان چوری کے مقدمات میں ریکارڈ یافتہ ہیں۔

    واضح رہے کہ ڈاکٹر شاہد صدیقی قتل کیس میں پولیس نے مقتول کے بیٹے کو گرفتار کر لیا تھا،میڈیا رپورٹس کے مطابق او سی یو ٹیم نے ڈاکٹر شاہد صدیق کے بیٹے قیوم شاہد کو ٹھوس شواہد پر حراست میں لیا، قیوم نے مبینہ طور پر شوٹر کی مدد سے اپنے والد کو قتل کروایا،ڈاکٹر شاہد کے قتل کا مقدمہ ان کے دوسرے بیٹے تیمور کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا، پولیس حکا کے مطابق ڈاکٹر شاہد کی نماز جنازہ بھی قیوم شاہد نے پڑھائی تھی جس کو گرفتار کیا گیا ہے

    لڑکی سے شادی کی خواہش،باپ انکاری،بیٹے نے دو کروڑ دے کر باپ قتل کروا دیا
    پولیس نے کہا کہ مقتول ڈاکٹر کی نماز جنازہ بھی بیٹے قیوم شاہد نے پڑھائی تھی،دوران تحقیقات انکشاف ہوا کہ ڈاکٹر شاہد صدیق کے بیٹے قیوم نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر والد کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی، قیوم ایک لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا مگر والد انکاری تھے، قیوم نے جنوری میں بھی اپنے والد پر قاتلانہ حملہ کروایا تھا،ملزم قیوم نے جنوری میں اپنے والد کے قتل کی ڈیل 50 لاکھ روپے میں کی اور ڈاکٹر شاہد صدیق پر دوسرا حملہ 2 کروڑ روپے میں کروایا گیا،جس روز واقعہ ہوا اسی دن سفید کارنے صبح 9 بج کر 50 منٹ پر ڈاکٹر شاہد کی ریکی کی تھی، اسی کار میں ڈاکٹر شاہد کا بیٹا قیوم بھی موجود تھا، جمعہ کے روز مقتول نے بینک سے رقم نکلوا کر مستحق افراد میں تقسیم کی اس دوران بھی مشکوک کار ڈاکٹر شاہد کا تعاقب کرتی رہی،

    ڈاکٹر شاہد صدیق کے قتل کا مقدمہ تھانہ کاہنہ میں مقتول کے بیٹے تیمور صدیق کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے،درج مقدمے کے مطابق مدعی مقدمہ تیمور صدیق کا کہنا ہے کہ میں اپنے والد، بھائی اور چچا کےہمراہ جامع مسجد خضریٰ سے جمعہ کی نماز ادا کر کے مسجد سے باہر آ کر اپنی گاڑیوں میں بیٹھنے لگے،ہماری گاڑیاں مسجد کے گیٹ سے کچھ فاصلے پر تھیں،جونہی میں اور میرے والد اپنی گاڑی کے پاس آئے تو گاڑی سے پیچھے چند قدموں پر تین چار نامعلوم افراد کھڑے تھے،ان میں سے ایک ہماری گاڑی کی طرف آیا میرے والد نے گاڑی میں بیٹھنے کے لئے دروازہ کھولا ہی تھا کہ اس نے 30 بور پسٹل سے میرے والد پر فائرنگ کر دی،فائر میرے والد کے جسم کے بائیں طرف کے حصوں پر لگا،وہ گولی لگنے کے بعد گرپڑے،ملزم کا حلیہ رنگ گندمی،جسم بھاری،قد تقریبا پانچ فٹ، عمر 30سے 35 برس،شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی،ان تمام ملزمان کو سامنے آنے پر ہم شناخت کر سکتے ہیں،ہم اپنے والد کو ہسپتال لے کر جا رہے تھے کہ راستے میں انکی موت ہو گئی،میرے والد پر چھ سات ماہ قبل بھی قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے،

    میں نے خلیل الرحمان قمر کو ہنی ٹریپ نہیں کیا،آمنہ کی درخواست ضمانت دائر

    خلیل الرحما ن قمر کیس،آمنہ عروج کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، جیل بھجوا دیا گیا

    نازیبا ویڈیو”لیک” ہونے سے میری ساکھ کو نقصان پہنچا،خلیل الرحمان قمر کا دعویٰ

    خلیل الرحمان قمر کو زنا کے جرم میں کیوں نہیں پکڑا جارہا؟صارفین برہم

    خلیل الرحمان قمر کی ایک اور "ویڈیو "آنے والی ہے

    تھانے میں آمنہ کو کرنٹ لگایا گیا،خلیل سے معافی مانگو

    خلیل قمر اور آمنہ کی انتہائی شرمناک ویڈیو،اس رات ہوا کیا تھا؟

    میری ویڈیو وائرل ہو گئی،دل کرتا ہے عدالت کے باہر خود کشی کر لوں،آمنہ عروج

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد کرنیوالے ریکارڈ یافتہ ملزم نکلے

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو لیک ہو گئیں

    خلیل الرحمان قمر کیس،مرکزی ملزم حسن شاہ گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کی کہانی،مکمل حقائق،ڈرامہ نگاری سے ڈرامائی بیان

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

  • میہڑ :مقدمہ قتل، انصاف نہ ملنے پر  متاثرین کاپریس کلب کے باہر احتجاج

    میہڑ :مقدمہ قتل، انصاف نہ ملنے پر متاثرین کاپریس کلب کے باہر احتجاج

    میہڑ ،باغی ٹی وی(نامہ نگارمنظورعلی جوئیہ)مقدمہ قتل میں پولیس کی جانب سے انصاف نہ ملنے پر متاثرین کابھٹائی پریس کلب کے باہر احتجاج

    دولتپور میں 6 ماہ قبل قتل ہونے والے نزاکت علی ٹھوڑو کے خاندان نے قاتلوں کی گرفتاری نہ ہونے پر شدید احتجاج کیا۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ پولیس بااثر ملزمان کو بچا رہی ہے۔

    احتجاجی مظاہرے میں محمد رمضان ٹھوڑو، ارباب خاتون، حمیدہ خاتون، اور حضوراں خاتون سمیت دیگر افراد نے شرکت کی۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ نزاکت علی کو اس کی بیوی ضمیراں نے نوشہر فیروز کے قریب گل چانڈیو گاؤں میں بلایا تھا جہاں اس کے بھائی اور دیگر ملزمان نے مل کر اس کا قتل کردیا۔

    متاثرین کا الزام ہے کہ مقتول کی بیوی اور اس کے بھائی ہی اس قتل کے اصل مجرم ہیں۔ تاہم، مقتول کی بیٹی بلقیس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کی شادی اس کے والدین کی رضامندی سے ہوئی تھی اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہے۔

    مظاہرین نے ہائی کورٹ سندھ، وزیر اعلیٰ سندھ، گھر و معاملات کے صوبائی وزیر، آئی جی سندھ، اور ڈی آئی جی حیدرآباد سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے کا نوٹس لیں اور قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کرکے انصاف فراہم کریں۔

  • بچی کیوں روئی؟ سفاک باپ نے تلہ گنگ میں آٹھ  ماہ کی بیٹی کومار دیا

    بچی کیوں روئی؟ سفاک باپ نے تلہ گنگ میں آٹھ ماہ کی بیٹی کومار دیا

    تلہ گنگ کے علاقے بلال آباد میں سفاک باپ نے آٹھ ماہ کی بچی کی جان لے لی

    اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی، تلہ گنگ کے نواحی علاقے بلال آباد میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، کم سن بچی کے رونے پر سفاک باپ نے بچی کو قتل کر دیا،واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، درج مقدمے کے مطابق بارش ہو رہی تھی اور اس دوران صحن سے کمرے میں جاتے ہوئے آٹھ ماہ کی بچی نے رونا شروع کر دیا جس پر بچی کا باپ طیش میں آ گیا اور اپنی ہی کمسن بیٹی کا گلا دبا دیا،واقعہ کے بعد ملزم جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے،بچی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے

    قبل ازیں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اور آر پی او راولپنڈی بابر سرفراز الپا کے احکامات پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چکوال کیپٹن(ر)واحد محمود نے تھانہ ڈوہمن کے علاقہ سیگل آباد میں دوہرے قتل کی لرزہ خیز واردات پر فوری نوٹس لیا،ابتدائی اطلاع کے مطابق نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے چوہدری شیراز علی اورذیشان حیدر کو سہگل آباد کے قریب فائرنگ کرکے قتل کر دیا اور شمریز علی ساکن کھیوال زخمی ہوگیا جسکو فوری طور پر ڈی ایچ کیوھسپتال پہنچا دیا گیا ہےوقوعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او چکوال فوری موقع پر پہنچ گئے اور کرائم سین کا جائزہ لیا

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    لاہور میں کئی علاقوں میں بجلی غائب،لیسکو حکام لمبی تان کر سو گئے

    ایک مکان کابجلی بل 10 ہزار،ادائیگی کیلیے بھائی لڑ پڑے،ایک قتل

    مہنگی بجلی، زیادہ تر آئی پی پیز پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملکیت نکلیں

    4 آئی پی پیز کو بجلی کی پیداوار کے بغیر ماہانہ 10 ارب روپے دیے جا رہے ، گوہر اعجاز

    بجلی کا بل کوئی بھی ادا نہیں کرسکتا، ہر ایک کے لئے مصیبت بن چکا،نواز شریف

    حکومت ایمرجنسی ڈکلیئر کر کے بجلی کے بحران کو حل کرے۔مصطفیٰ کمال

    سرکاری بجلی گھر بھی کیپسٹی چارجز سے فائدہ اٹھا رہے ہیں،سابق وزیر تجارت کا انکشاف

    عوام پاکستان پارٹی کے جنرل سیکرٹری مفتاح اسماعیل کا وزیرا عظم سے بجلی کے معاملے پر نوٹس لینے کی اپیل

    لاہور ہائیکورٹ کی مداخلت پربجلی صارفین کےلئے سب سے اچھی خبر

    1لاکھ90ہزار سرکاری ملازمین کو 15ارب روپے کی سالانہ بجلی مفت ملتی ہے

    لاہور دا پاوا، اختر لاوا طویل لوڈ شیڈنگ اور مہنگے بجلی بلوں پر پھٹ پڑا

  • پنکھا چلانے پر لڑائی،سیکورٹی گارڈ نے اپنے ساتھی کی جان لے لی

    پنکھا چلانے پر لڑائی،سیکورٹی گارڈ نے اپنے ساتھی کی جان لے لی

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، پنکھا چلانے پر لڑائی ہوئی اور سیکورٹی گارڈ نے اپنے ساتھی کو قتل کر دیا

    واقعہ تھانہ ڈیفنس بی کی حدود میں پیش آیا، گھر کے ایک سکیورٹی گارڈ نے دوسرے کی جان لے لی،اطلاع پرپولیس موقع پر پہنچ گئی،پولیس حکام کے مطابق مقتول اور ملزم دونوں ایک ہی گھر کی سکیورٹی پر تعینات تھے، دونوں سیکیورٹی گارڈز میں پنکھا چلانے پر جھگڑا ہوا تھا جس پر مالک مکان نے دونوں میں صلح کروادی تھی تا ہم علی نامی سیکورٹی گارڈ نے اپنے ساتھی خرم کو موقع ملنے پر قتل کر دیا، ملزم موقع سے فرار ہو گیا ہے جس کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا

  • جعلی پاکستانی شناختی کارڈ بنوانے میں ملوث 6 افغان شہری گرفتار

    جعلی پاکستانی شناختی کارڈ بنوانے میں ملوث 6 افغان شہری گرفتار

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)پشاورزون نے جعلی پاکستانی شناختی کارڈ بنوانے میں ملوث 6 افغان شہری گرفتار کر لئے

    نجیب اللہ نامی افغان شہری کو طورخم بارڈر پر گرفتار کیا گیا ملزم کے پاس جعلی پاکستانی شناختی کارڈ اور افغان تذکرہ برآمد کیا گیا،ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم چمن بارڈر کے راستے پاکستان داخل ہواملزم نے کوئٹہ میں مقیم قاری حافظ کے ذریعے پاکستانی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ حاصل کئے ،ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزم کی نشاندہی پر جعلی پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے حامل 5 مزید افغان شہریوں کو عثمانیہ ہاسٹل پشاور سے گرفتار کر لیا گیا ،ملزمان کے قبضے سے مختلف پاکستانی شناختی کارڈز، پاکستانی پاسپورٹ اور افغان تذکرے بھی برآمد کئے گئے

    ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمان پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ استعمال کر کے سعودی عرب براستہ کابل جانے کا ارادہ رکھتے تھے ،نادرااور پاسپورٹ آفس کے ملازمین کے ملوث ہونے کا تعین دوران تفتیش کیا جائے گا،

    عبوری ضمانت "معصوم” فرد کا حق ہے،نومئی مقدمے،عمران کی ضمانت مسترد ہونے کا فیصلہ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

  • قصور: ڈپٹی کمشنر کا آمرانہ رویہ،شریف سوہڈل ایڈووکیٹ پولیس کے ذریعے اغواء، جھوٹا مقدمہ درج

    قصور: ڈپٹی کمشنر کا آمرانہ رویہ،شریف سوہڈل ایڈووکیٹ پولیس کے ذریعے اغواء، جھوٹا مقدمہ درج

    قصور،باغی ٹی وی (بیوروچیف غنی محمود) ڈپٹی کمشنر کا آمرانہ رویہ،شریف سوہڈل ایڈووکیٹ پولیس کے ذریعے اغواء، جھوٹا مقدمہ درج

    تفصیلات کے مطابق صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور شریف سوہڈل ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ ڈی سی قصور کے کہنے پر مقامی پولیس نے مجھے اغوا کیا اور بعد ازاں ایک جھوٹا مقدمہ درج کر کے اس میں گرفتاری ڈال دی گئی جو کسی بھی ایماندار اور جرات مند پولیس آفیسر کو زیب نہیں دیتا ڈی پی او قصور پارٹی بننے کی بجائے جلد بازی میں کی گئی زیادتی کو ختم کرنے کے لئے اپنا فرض ادا کریں اور انصاف کا ساتھ دیتے ہوئے۔میری درخواست پر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کریں اور خود ساختہ میڈیکل پر جھوٹ پر مبنی مقدمہ خارج کریں

    شریف سوہڈل ایڈووکیٹ نے ضلع بھر کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ وہ ایک فرض شناس صحافی ہونے کے ناطے ضلعی انتظامیہ کے دفاتر میں ہونے والی کرپشن کے سلسلہ میں متعدد بار آواز بلند کر چکے ہیں اور ڈی سی کے رشتہ دار اکرام انصاری جو لوگوں کو ویزوں کا جھانسہ دیکر کروڑوں روپے ہتھیا چکا ہے کے خلاف بھی متعدد بار آواز بلند کر چکا ہے، جس کی وجہ سے ڈی سی قصور عرصہ دراز سے انہیں ہراساں کرنے کے لئےان کے خلاف جھوٹا مقدمہ کروانا چاہتا تھا اور اس بات کا اقرار ڈی سی قصور نے سابق ایم این اے وسیم اختر شیخ اور مقامی ایم پی اے نعیم صفدر انصاری کے والد حاجی صفدر انصاری سمیت متعدد لوگوں سے کیا ہے

    انہوں نے بتایا کہ وہ 31جولائی کو جب میں دفتر اینٹی کرپشن میں موجود تھا کہ ڈی سی قصور کے رشتہ داروں اور ان کے ساتھ موجود کچھ غنڈوں نے مجھ پر جان لیوا حملہ کیا جس میں میں زخمی ہوا اور میڈیکل لیکر اسی دن تھانہ اے ڈویژن درخواست دی اس پر آج تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی،

    مورخہ2 اگست 4بجکر 45منٹ پر میں اپنے گھر موجود تھا کہ 25/30کس پولیس اہلکاران ایس ایچ او تھانہ اے ڈویژن فہد خاں کی قیادت میں بلا اجازت گھر میں داخل ہو کر زبردستی مجھے اغوا کر کے تھانہ اے ڈویژن لے آئے میں نے بار بار وجہ پوچھی مگر انہوں نے کہا کہ ڈی پی او قصور کے کہنے پر لائے ہیں اور کہا کہ تھوڑی دیر تک آپکے خلاف ایک مقدمہ درج ہو جائے گا اور بعد ازاں تقریباً دو گھنٹے بعد جب میرا بھائی حافظ سعید اور سائل کا بیٹا اور دیگر دوست احباب تھانہ میں موجود تھے توڈی سی قصور کے رشتہ دار آئے اور ایک درخواست اور ایک خود ساختہ رزلٹ ایس ایچ او کو دیا جس پر میرے خلاف مقدمہ درج ہوا جس میں 506/337A/147/149 ت پ دفعات درج کی گئیں

    قانون کے مطابق ان دفعات میں پولیس بغیر وارنٹ گرفتار نہیں کر سکتی مگر قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مجھ اغوا شدہ کی گرفتاری ڈال دی گئی چونکہ تمام دفعات ناقابل دست اندازی پولیس تھیں

    عدالت نے مجھے ریمانڈ پیپر پر آرڈر کر کے رہا کر دیا اور ان جعلسازوں کا خود ساختہ رزلٹ بھی متعلقہ ڈاکٹر نے خود ساختہ قرار دے دیاانہوں نے مزید کہا کہااگر ایک صحافی اور ایڈووکیٹ کے ساتھ اس طرح غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال ہو سکتے ہیں تو عام شہریوں کا کیا حال ہوگا انہوں نے ڈی پی او قصور کو سچے وقوعہ کا مقدمہ درج کرنے اور جھوٹے مقدمہ کو خارج کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔