Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • مریدشاخ اور نواحی علاقوں میں بدامنی میں خطرناک اضافہ

    مریدشاخ اور نواحی علاقوں میں بدامنی میں خطرناک اضافہ

    گھوٹکی (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)گھوٹکی کے شہر مریدشاخ اور اس کے نواحی علاقوں میں بدامنی میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں ڈکیتی اور دیگر سنگین وارداتوں کا سلسلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے جبکہ کنبھڑا پولیس عملی کارروائی کے بجائے دفتر تک محدود دکھائی دے رہی ہے۔

    تازہ واقعہ دن دہاڑے اس وقت پیش آیا جب دو موٹر سائیکل سوار نامعلوم مسلح ملزمان نے اسلحے کے زور پر لوہے کے دکاندار محمود میمن سے 20 لاکھ روپے نقدی اور دو اے ٹی ایم کارڈ چھین لیے۔ واردات کے دوران مزاحمت پر ملزمان نے محمود میمن اور ان کے بھائی لیاقت میمن پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں دونوں بھائی زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    عینی شاہدین اور اہلِ علاقہ کے مطابق واردات کی اطلاع فوراً کنبھڑا پولیس کو دی گئی، مگر پولیس اہلکار طویل انتظار کے باوجود موقع پر نہ پہنچے، جس سے عوام میں شدید غم و غصے اور خوف و ہراس کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی عدم دلچسپی کے باعث علاقہ جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

    شہریوں نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی گھوٹکی سے مطالبہ کیا ہے کہ کنبھڑا تھانے کے ایس ایچ او کو فوری طور پر ہٹایا جائے، لوٹی گئی رقم کی برآمدگی کو یقینی بنایا جائے اور واردات میں ملوث ملزمان کی فی الفور گرفتاری عمل میں لائی جائے۔

    علاقہ مکینوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر پولیس نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو وہ احتجاجی مظاہروں پر مجبور ہو جائیں گے۔

  • کندھ کوٹ :کچے میں راکٹ گولہ پھٹنے سے 4 بچے جاں بحق

    کندھ کوٹ :کچے میں راکٹ گولہ پھٹنے سے 4 بچے جاں بحق

    کندھ کوٹ (نامہ نگار)سندھ کے ضلع کشمور کے علاقے کندھ کوٹ میں انڈس ہائی وے کے قریب کچے کے گاؤں میں زنگ آلود راکٹ لانچر کا گولہ پھٹنے سے چار کم عمر بچے جاں بحق ہو گئے۔ یہ افسوسناک واقعہ آج 24 نومبر 2025 کی دوپہر پیش آیا، جس نے پورے علاقے کو غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا۔

    واقعے کے مطابق 8 سے 10 سال کی عمروں کے چار بچے مویشی چرانے کے لیے قریبی جنگل کی جانب گئے ہوئے تھے۔ جنگل کے ایک حصے میں جھاڑیوں کے پاس انہیں ایک زنگ آلود اور پرانا راکٹ گولہ ملا، جسے بچوں نے لاعلمی میں کھلونا سمجھ کر اٹھا لیا اور اس کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا۔ کچھ ہی دیر بعد گولہ اچانک زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں چاروں بچے موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ دھماکے کی آواز دور دراز تک سنائی دی، جس پر اہل علاقہ جائے وقوعہ کی طرف دوڑ پڑے، مگر بچے جاں بحق ہو چکے تھے۔

    تمام بچے ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے جس کے باعث گاؤں میں کہرام مچ گیا۔ لواحقین اور اہل علاقہ نے انتظامیہ سے کچے میں موجود پرانے اسلحے اور دھماکہ خیز مواد کی مکمل صفائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    اطلاع ملتے ہی ایس ایس پی کشمور ایاز علی بھاری نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد جمع کیے۔ ایس ایس پی کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ راکٹ گولہ ممکنہ طور پر ماضی کے کسی پولیس یا فوجی آپریشن، یا جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیوں کے دوران یہاں آ کر پڑا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ کچے کے علاقے میں اسلحے کی باقیات ملنے کے واقعات افسوسناک طور پر عام ہیں، جس کے لیے جامع حکمت عملی ضروری ہے۔

    لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی کشمور اور کندھ کوٹ کے علاقوں میں راکٹ شیل اور بارودی مواد پھٹنے کے سنگین واقعات رونما ہو چکے ہیں، جن میں 2023 کے سانحے میں آٹھ افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ مقامی آبادی نے ایک بار پھر انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کچے کے علاقوں میں غیر پھٹے بارودی مواد کی تلاش اور تلفی کے لیے فوری مہم چلائی جائے تاکہ مزید قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بچ سکیں۔

  • گھوٹکی: گاؤں بدھو خان گھوٹو میں مویشی چوری کی واردات، فائرنگ کا تبادلہ ،چوربھینسیں چھوڑ کرفرار

    گھوٹکی: گاؤں بدھو خان گھوٹو میں مویشی چوری کی واردات، فائرنگ کا تبادلہ ،چوربھینسیں چھوڑ کرفرار

    گھوٹکی (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ضلع گھوٹکی میں امن و امان کی صورتحال ایک بار پھر سوالات کی زد میں آ گئی ہے، جہاں گزشتہ رات گاؤں بدھو خان گھوٹو میں چور گھر میں داخل ہو کر مویشی چوری کر کے فرار ہوگئے۔ واقعہ کے بعد مقامی لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

    گھر والوں کے مطابق تقریباً آدھے گھنٹے بعد ان کی آنکھ کھلی تو انہوں نے فوری طور پر چوروں کے چھوڑے ہوئے نشاناتِ قدم کا پیچھا شروع کر دیا۔ اطلاع ملنے پر گھوٹا برادری کے نوجوان بھی جمع ہوگئے اور قریبی علاقوں میں چوروں کا تعاقب کیا۔

    مقامی نوجوانوں نے بتایا کہ تعاقب کے دوران فائرنگ بھی ہوئی، جس کے بعد چوری شدہ بھینیسں چوروں سے واپس لے لی گئیں۔ تاہم چور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

    عوام نے گھوٹکی کچے بندھی پولیس کی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے میں دو اہم تھانے موجود ہونے کے باوجود چور اس قدر آسانی سے واردات کر کے فرار ہوجاتے ہیں، جو پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔

    علاقہ مکینوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ چوروں کے گروہ کو گرفتار کر کے سخت کارروائی کی جائے اور علاقے میں گشت بڑھا کر امن و امان کی صورتحال بہتر بنائی جائے۔

  • اوکاڑہ: ناپ تول میں کمی اور اوورچارجنگ کے خلاف ڈسٹرکٹ آفیسر انڈسٹریز کی کارروائیاں، متعدد دکاندار جرمانہ

    اوکاڑہ: ناپ تول میں کمی اور اوورچارجنگ کے خلاف ڈسٹرکٹ آفیسر انڈسٹریز کی کارروائیاں، متعدد دکاندار جرمانہ

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) ناپ تول میں کمی اور اوورچارجنگ کے خلاف ڈائریکٹر جنرل انڈسٹریز پنجاب ذیشان شبیر رانا کی خصوصی ہدایات پر ضلع بھر میں مہم تیزی سے جاری ہے۔ اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ آفیسر انڈسٹریز خالد جاوید بھٹی نے اپنی ٹیم کے ہمراہ شہر بھر کے پیٹرول پمپس، کریانہ اسٹورز، ہوٹلوں، تندوروں، دودھ دہی شاپس اور دیگر کاروباری مراکز کا معائنہ کیا۔

    معائنہ کے دوران متعدد دکانداروں کو اوورچارجنگ پر موقع پر ہی جرمانے کیے گئے، جبکہ کم وزن اور غلط پیمائش ثابت ہونے پر مختلف دکانوں کے چالان عدالت بھجوا دیے گئے۔ کارروائی کے دوران ایک پیٹرول پمپ کی غیر معیاری نوزل کو بھی موقع پر سیل کر دیا گیا اور متعلقہ پمپ کے خلاف چالان عدالت میں جمع کرا دیا گیا۔

    ڈی او انڈسٹریز خالد جاوید بھٹی نے کہا کہ عوام کو درست ناپ تول فراہم کرنا حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے تمام کاروباری حضرات کو ہدایت کی کہ وہ صرف منظور شدہ اوزان و پیمائش کے آلات استعمال کریں، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • ٹھٹھہ: سول ہسپتال مکلی میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت، حاملہ خاتون نے فٹ پاتھ پر بچے کو جنم دے دیا

    ٹھٹھہ: سول ہسپتال مکلی میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت، حاملہ خاتون نے فٹ پاتھ پر بچے کو جنم دے دیا

    ٹھٹھہ (بلاول سموں) سول ہسپتال مکلی میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت کا سنگین واقعہ سامنے آگیا، جہاں سجاول کے علاقے دڑو کی رہائشی حاملہ خاتون حلیماں ماچھی نے ہسپتال کے گائنی وارڈ میں توجہ نہ ملنے پر ہسپتال کے باہر فٹ پاتھ پر بچے کو جنم دے دیا۔ ماں اور نوزائیدہ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    ورثا کے مطابق حلیماں ماچھی کو فوری طبی امداد کی ضرورت تھی مگر گائنی وارڈ میں موجود ڈاکٹر نے مبینہ طور پر غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا اور مریضہ کے اہل خانہ کو یہ کہہ کر وارڈ سے باہر نکال دیا کہ سٹاف موجود نہیں، باہر جائیں۔ ورثا کے مطابق زچگی کی تکلیف بڑھنے پر خاتون کو مناسب دیکھ بھال نہ مل سکی، جس کے باعث اسے فٹ پاتھ پر ہی بچے کو جنم دینا پڑا۔

    اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ سول ہسپتال مکلی جو ٹھٹھہ اور سجاول اضلاع کا سب سے بڑا سرکاری ہسپتال ہے،غریب مریضوں کو مناسب سہولیات دینے میں ناکام ہے۔ واضع رہے کہ جب سے سرکاری ہسپتالوں کا نظام مرف انتظامیہ کے حوالے کیا گیا ہےہسپتالوں میں ادویات کی کمی، ڈاکٹرز کی عدم دستیابی اور بنیادی سہولیات کا فقدان بڑھتا جا رہا ہے۔

    علاقہ مکینوں اور ورثا نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ حکام سے واقعے کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • صنعتی غفلت: فیصل آباد میں بوائلر پھٹنے کا سانحہ اور ہماری ذمہ داریاں

    صنعتی غفلت: فیصل آباد میں بوائلر پھٹنے کا سانحہ اور ہماری ذمہ داریاں

    صنعتی غفلت: فیصل آباد میں بوائلر پھٹنے کا سانحہ اور ہماری ذمہ داریاں
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    سب سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ سانحہ صرف کسی ایک انڈسٹری یا صنعتی شعبے کا نہیں بلکہ ان اداروں کی غفلت کا نتیجہ ہے جو فیلڈ میں عملی نگرانی کے بجائے کاغذی کارروائی کو ترجیح دیتے ہیں اور معمولی فائدے کے لیے سرکاری ایس او پیز پر سمجھوتا کر لیتے ہیں۔ آج ہم اس دل خراش واقعے کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہیں۔

    فیصل آباد کے علاقے ملک پور میں کیمیکل فیکٹری کا بوائلر دھماکے سے پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 37 قیمتی جانیں موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔ پورا علاقہ لرز اٹھا، درجنوں گھر اُجڑ گئے اور ایک بار پھر ہماری صنعتی دنیا میں غفلت، لاپرواہی اور ناقص حفاظتی نظام کی سنگین حقیقت سامنے آگئی۔ ایک انڈسٹریل کی گرفتاری بظاہر قانونی کارروائی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایک گرفتاری سے اس نظامی خرابی کو درست کیا جا سکتا ہے؟

    یہ حادثہ ایک فیکٹری کی ناکامی نہیں بلکہ ہمارے ناکام صنعتی ڈھانچے کی عکاسی بھی ہے۔ بوائلر صنعت کا بنیادی جزو ہوتا ہے، لیکن جب اس کی مینٹیننس نظر انداز ہو جائے تو اسی سے بڑے سانحات جنم لیتے ہیں—کل کی یہ فیکٹری، آج کا حادثہ اور کل کسی اور شہر میں نیا سانحہ۔

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو ناگہانی آزمائشوں سے محفوظ رکھے، مگر صرف دعائیں کافی نہیں ہوتیں، وہاں جہاں احتیاط ترک کر دی جائے۔

    بوائلر حادثات کیوں ہوتے ہیں؟
    ہمارے ہاں بوائلر چیکنگ، سرٹیفیکیشن، ٹیسٹنگ، واٹر ٹریٹمنٹ یا آپریشنل کنٹرول—اکثر محض کاغذوں میں ہوتے ہیں۔ انجینئرنگ اصول، حفاظتی پروٹوکول اور قوانین فائلوں میں دفن رہتے ہیں۔ نتائج ہمیشہ ایک جیسے ہوتے ہیں:
    ایک لمحے کی غفلت، درجنوں زندگیاں ختم۔

    حفاظتی اقداماتجو ہر فیکٹری کے لیے لازم ہیں
    1. پریونٹیو مینٹیننس ریجیم (Preventive Maintenance)
    بوائلر کی حفاظت مشینوں سے نہیں، نظام سے قائم رہتی ہے۔
    ضروری اقدامات:

    سالانہ NDT ٹیسٹنگ (Ultrasonic, Radiographic, Hydrostatic)
    شیل، ڈرم، ٹیوبرز اور سیفٹی والو کی Integrity Assessment
    برنر، پریشر سسٹم اور فیڈ واٹر پمپ کی Quarterly سروسنگ
    سنکنائی اور اسکیلنگ سے بچاؤ کے لیے ڈی اسکیلنگ اور واٹر ٹریٹمنٹ پروگرام
    یہ سب فیکٹری کی لگژری نہیں، بقاء ہیں۔

    2. پریشر کنٹرول اور آٹومیشن
    بوائلر میں بڑھتا ہوا پریشر سب سے بڑا دشمن ہے۔
    ڈبل سیفٹی والو اور چھ ماہ بعد لازمی کیلیبریشن
    تمام پریشر، ٹیمپریچر اور واٹر لیول گیجز فنکشنل
    جدید پلانٹس کے لیے PLC-Based Interlocks
    بوائلر خطرے کی حد پر ہو تو سسٹم خود بند ہو جائے—لیکن ہمارے ہاں مشین چلتی رہتی ہے… حتیٰ کہ وہ پھٹ جائے۔

    3. واٹر لیول مینجمنٹ
    بوائلر عموماً کم پانی کی وجہ سے پھٹتا ہے۔
    Low-water cutoff switches فعال
    Trip alarms مکمل فعال
    فیڈ واٹر کے TDS، Hardness اور pH کی مسلسل مانیٹرنگ
    کم پانی = زیادہ حرارت = بوائلر بلاسٹ۔

    4. آپریشنل ڈسپلن
    بوائلر کوئی دیگچی نہیں کہ کوئی بھی چلا لے۔
    صرف لائسنس یافتہ بوائلر انجینئر یا فائر مین آپریٹ کرے
    شفٹ لاگ بک مکمل
    ہر غیر معمولی آواز یا بھاپ کے اخراج کی فوری رپورٹ
    حادثہ ہمیشہ چھوٹے سگنل دیتا ہے، مگر ہم انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔

    5. اسٹرکچر اور انسٹالیشن انٹیگریٹی
    PSQCA اور PED اسٹینڈرڈ کے مطابق انسٹالیشن
    فاؤنڈیشن، انکر بولٹس اور ریلیف لائن کی میکانیکل انٹیگریٹی
    ریلیف لائن ہمیشہ کھلی فضا میں ہونا ضروری
    بند کمرے میں دباؤ جمع ہو تو دھماکہ یقینی ہوتا ہے۔

    6. ایمرجنسی ریسپانس پروٹوکول
    حادثہ ہو یا نہ ہو، تیاری ہر وقت ضروری ہے۔
    ایمرجنسی شٹ آف سوئچ
    Fire Suppression System
    Heat Resistant PPE
    صاف، کھلا اور قابل رسائی فرار راستہ
    افسوس کہ زیادہ تر فیکٹریوں میں ایمرجنسی راستوں پر بھی تالے لگے ہوتے ہیں۔

    7. سالانہ تھرڈ پارٹی سرکاری انسپیکشن
    یہ رسمی کارروائی نہیں، بوائلر کی زندگی کا فیصلہ ہوتا ہے۔
    Boiler Fitness Certificate
    Safety Valve blow-off test
    Burner trial run
    Visual inspection
    ان ٹیسٹس کے بغیر بوائلر فٹ قرار دینا خود ایک جرم ہے۔

    8. سیفٹی کلچر،اصل بنیاد
    کسی بھی فیکٹری میں سب سے بڑا مسئلہ مشین نہیں، سوچ ہوتی ہے۔
    مستقل HSE ٹریننگ
    Near-Miss رپورٹنگ
    Toolbox Talks
    قیادت کا Safety First رویہ
    جہاں سیفٹی صرف دستخطوں تک محدود ہو، وہاں بوائلر نہیں، انسان پھٹتے ہیں۔

    فیصل آباد کا یہ سانحہ یاد دہانی ہے کہ صنعتی غفلت کے نتائج صرف حادثہ نہیں ہوتے—یہ اجڑے گھر، یتیم بچے اور ماؤں کی پوری زندگی کا ماتم بن جاتے ہیں۔ اگر ہم آج بھی نہ جاگے تو کل کسی اور فیکٹری میں یہی داستان دہرائی جائے گی۔

    حکومت، فیکٹری مالکان، انجینئرز اور ورکر،سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ایسے واقعات کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کیے جائیں۔
    اللہ پاک ہمیں عقل، شعور اور ذمہ داری کے ساتھ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

  • ٹھٹھہ: عدالت میں پیش قیدی کی فرار کی کوشش، چھلانگ لگا کر زخمی

    ٹھٹھہ: عدالت میں پیش قیدی کی فرار کی کوشش، چھلانگ لگا کر زخمی

    ٹھٹھہ (بلاول سموں) عدالت کی تحویل میں موجود قیدی بشیر عرف دیو گندرو نے پہلی منزل سے چھلانگ لگا کر فرار ہونے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگیا۔ پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے اسے شدید زخمی حالت میں سول اسپتال مکلی منتقل کیا۔

    پولیس کے مطابق قیدی بشیر عرف دیو ولد عثمان گندرو، جس کے خلاف تھانہ ٹھٹھہ میں مقدمہ نمبر 122/2025 دفعہ 3/4 منشیات آرڈیننس کے تحت چالان کیا گیا تھا، بدین جیل سے قیدی پارٹی کے ہمراہ پیشی کے لیے لایا گیا تھا۔ پیشی کے دوران اس نے فرار ہونے کی نیت سے پہلی منزل سے چھلانگ لگائی۔

    ترجمان پولیس نے بتایا کہ فرار کی کوشش ناکام بناتے ہوئے قیدی کو دوبارہ حراست میں لے لیا گیا، جب کہ ڈاکٹرز کے مطابق اسے معمولی چوٹیں آئی ہیں اور ہڈیوں کو کوئی سنگین نقصان نہیں پہنچا۔

  • گھوٹکی: شوگر ملوں کی بندش پر آبادگار و ہاریوں کا شدید احتجاج

    گھوٹکی: شوگر ملوں کی بندش پر آبادگار و ہاریوں کا شدید احتجاج

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) گھوٹکی ضلع میں آبادگاروں، ہاریوں اور مزدوروں نے گنے کے سرکاری نرخ نہ ملنے اور شوگر ملوں کی بندش کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔ سینکڑوں افراد بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے سڑکوں پر نکل آئے اور شوگر مافیا کے خلاف نعرے بازی کی۔

    مظاہرین نے کہا کہ ضلع میں پانچ شوگر ملیں موجود ہونے کے باوجود نہ سرکاری ریٹ دیا جا رہا ہے اور نہ ہی کوئی مل مکمل طور پر چل رہی ہے، جس کے باعث ہزاروں ہاری شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ بھر کے آبادگار اور مزدور شوگر ملز مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے ہیں، اور ملوں کی جانب سے جان بوجھ کر تاخیر کر کے کسانوں کو کم ریٹ پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

    احتجاجی شرکا نے بتایا کہ گنے کی تیار فصل کھڑی ہے مگر شوگر ملوں کی بندش کے باعث فصل ضائع ہونے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر شوگر ملیں بحال کی جائیں، سرکاری نرخ جاری کیا جائے اور ہاریوں کے معاشی استحصال کو روکا جائے۔

  • لاہور میں جائیداد کے تنازع پر دو افراد قتل،ملزم گرفتار

    لاہور میں جائیداد کے تنازع پر دو افراد قتل،ملزم گرفتار

    مصری شاہ میں جائیداد کے تنازع پر 2 افرادکی جان لے لی گئی ہے

    پراپرٹی کے تنازع پر ہونے والے اقبال گجر قتل کیس میں لاہور پولیس نے انتہائی تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے صرف 12 گھنٹوں میں ملزم فیاض کو گرفتار کر لیا۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس پی صدر رانا حسین طاہر کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی۔

    ایس ایچ او تھانہ چوھنگ اور ان کی ٹیم نے ملزم فیاض کو چند گھنٹوں میں گرفتار کر لیا۔پولیس نے آلۂ قتل بھی برآمد کر لیا۔تھانہ چوھنگ میں مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق مقتول اقبال گجر امن کمیٹی کے سابق چیئرمین تھے، جنہیں ملزم نے زمین کے تنازع پر فائرنگ کر کے قتل کیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واضح کیا "قتل جیسے سنگین جرم میں ملوث افراد کی جگہ صرف جیل ہے، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔”

  • میرپورخاص: 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف یومِ سیاہ ، احتجاجی ریلی پر پولیس کا دھاوا، متعدد رہنما و کارکن گرفتار

    میرپورخاص: 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف یومِ سیاہ ، احتجاجی ریلی پر پولیس کا دھاوا، متعدد رہنما و کارکن گرفتار

    میرپورخاص (سید شاہزیب شاہ) سندھ یونائیٹڈ پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف یومِ سیاہ منایا گیا، جس کے سلسلے میں پوسٹ آفس چوک سے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں بڑی تعداد میں رہنماؤں اور کارکنان نے شرکت کی، جو بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے نعرے لگاتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔

    ریلی کے مرکزی مقام پر پہنچتے ہی پولیس کی بھاری نفری نے اچانک دھاوا بول دیا، جس سے بھگدڑ مچ گئی۔ پولیس نے متعدد رہنماؤں اور کارکنان کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار افراد میں آفتاب قریشی، لالا اظہر پٹھان، محمد خان مری سمیت دیگر کارکن شامل ہیں۔

    اس دوران کارکنان کی جانب سے پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج ان کا آئینی حق ہے، جبکہ پولیس کی کارروائی غیر جمہوری اور غیر قانونی ہے۔

    پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ ریلی کی اجازت نہیں تھی، جس کے باعث کارروائی عمل میں لائی گئی۔ تاہم سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گرفتاریاں احتجاج کو دبانے کی کوشش ہیں۔

    شہر میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے جبکہ مزید گرفتاریوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔