Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • کراچی:گھریلو جھگڑے پر بھائی نے بھائی کو قتل کر دیا

    کراچی:گھریلو جھگڑے پر بھائی نے بھائی کو قتل کر دیا

    کراچی:بلدیہ ٹاؤن میں جھگڑے کے دوران تیز دھار آلے کے وار سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا ،پولیس نے مقتول کے بھائی کو گرفتار کر لیا۔

    تفصیلات کے مطابق اتحادٹاؤن کے علاقے بلدیہ ٹاؤن قائم خانی نواب کالونی سیکٹر 13 روٹ نمبر 20 بس اسٹاپ کے قریب تیز دھار آلے کے وار سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا ، مقتول کی لاش ایدھی ایمبولینس کے ذریعے سول اسپتال منتقل کی گئی۔

    عینی شاہدین کے مطابق واقعے کے فوری بعد سعیدآباد اور اتحاد ٹاؤن پولیس موقع پر پہنچ گئی تھی، تاہم دونوں تھانوں کی پولیس نے لاش کو ہاتھ نہیں لگایا اور حدود کے تنازعے میں ایک دوسرے سے لڑتی رہی ، پولیس کی اس لڑائی کی وجہ سے لاش کی کئی گھنٹوں تک بےحرمتی ہوتی رہی، بعدازاں ، ایس ایچ او اتحاد ٹاؤن سب انسپکٹر اسد الہی نے اپنے تھانے کی حدود مانتے ہوئے لاش ایدھی ایمبو لینس کے ذریعے سول اسپتال منتقل کرائی ، مقتول کی شناخت 25 سالہ خالد ولد اسلام کے نام سے کی گئی۔

    پی ٹی وی میں مالی کو پروڈیوسر لگائے جانے کا انکشاف

    ایس ایچ او کے مطابق شبہ ہے کہ مقتول کو اس کے بھائی وسیم نے قتل کیا ہے ، عینی شاہدین نے پولیس کو بتایا تھا کہ مقتول کا بھائی اسد واقعے کے فوری بعد جائے وقوعہ سے چلا گیا اور اس کے کپڑے خون آلود تھے ، کچھ دیر بعد وہ کپڑے تبدیل کر کے واپس آگیا تھا۔

    مقتول کا آبائی تعلق وزیرستان سے تھا وہ ایک بچے کا باپ تھا جبکہ مقتول اور اس کے بھائی وسیم کا لنڈے کے کپڑوں کا کام ہے ، واقعے سے متعلق مقتول والدین کو وزیرستان میں اطلاع کر دی گئی ہے جو کراچی آنے کے لیے روانہ ہو گئے ہیں ، مقتول کا بھائی مبینہ قاتل پولیس کی حراست میں ہے۔

    پاپوانیو گنی میں زلزلے کے شدید جھٹکے

    پولیس ذرائع کے مطابق وسیم نے اپنے بھائی کے قتل کا اعتراف کر لیا ، مقتول کی اہلیہ واقعے سے چند گھنٹوں قبل ہی اپنے بیٹے کو لیکر اپنے والدین کے گھر چلی گئی تھی جبکہ وہ جاتے ہوئے گھر سے طلائی زیورات ، نقدی اور دیگر قیمتی سامان بھی اپنے ہمراہ لے گئی تھی، پولیس واقعے کی تحقیقیات کر رہی ہے۔

  • کراچی: پی این ایس سی کے جہاز میں حادثہ، کریو ممبر جاں بحق

    کراچی: پی این ایس سی کے جہاز میں حادثہ، کریو ممبر جاں بحق

    متحدہ عرب امارات کے فجیرا پورٹ سے پیٹرول لے کر آنے والے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے جہاز میں حادثہ پیش آیا ہے۔

    پی این ایس سی ذرائع کے مطابق متحدہ عرب امارات کے فجیرا پورٹ سے پیٹرول لے کر آنے والے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے جہاز میں حادثہ پیش آیا ہے، حادثہ جہاز کے ایک ٹینک کی صفائی کے دوران پیش آیا، جہاں بے احتیاطی کے باعث ایک کریو ممبر جاں بحق ہوگیا، واقعے میں جہاز کا پمپ مین بھی زخمی ہوا، تاہم اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے،جاں بحق ہونے والے کریو ممبر کی میت گوادر پورٹ سے اس کے آبائی علاقے بھکر روانہ کر دی گئی ہے۔

  • چاغی :آئل ٹینکر اور گاڑی کے درمیان خوفناک تصادم، 10 افراد جاں بحق 6 زخمی

    چاغی :آئل ٹینکر اور گاڑی کے درمیان خوفناک تصادم، 10 افراد جاں بحق 6 زخمی

    بلوچستان کے ضلع چاغی میں تیل بردار آئل ٹینکر اور مسافر بردار گاڑی کے درمیان خوفناک تصادم کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق جب کہ 6 زخمی ہو گئے،3 زخمیوں کی حالت تشویشناک-

    پولیس ذرائع کے مطابق حادثہ تحصیل نوکنڈی کے قریب ریکوڈک سائٹ روڈ پر پیش آیا، جہاں پی ایس او کے آئل ٹینکر اور گاڑی آپس میں ٹکرا گئے حادثے میں گاڑی کے ڈرائیور سمیت 10 افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے گاڑی کے ڈرائیور کی شناخت خدائے نظر کے نام سے ہوئی ہے، جو تفتان کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔

    جاں بحق ہونے والے دیگر افراد کے بارے میں پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق افغانستان سے ہو سکتا ہے، جو غیر قانونی طور پر پاکستان کے راستے ایران جانا چاہتے تھےحادثے کے بعد زخمیوں اور جاں بحق افراد کی لاشوں کو نوکنڈی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں 3 زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جب کہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

  • اوکاڑہ: منشیات فروش کو 20 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا

    اوکاڑہ: منشیات فروش کو 20 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا

    اوکاڑہ(نامہ نگارملک ظفر) ایڈیشنل سیشن جج عشرت عباس کی عدالت نے منشیات فروشی کے مقدمے میں ملوث ملزم کو جرم ثابت ہونے پر 20 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا حکم سنا دیا ہے۔ استغاثہ کے مطابق تھانہ ستگھرہ پولیس نے جون 2024 میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے چک نمبر 10 ون آر کے قریب سے ایک بڑے ڈرگ ڈیلر ناصر علی ولد اللہ بخش کو گرفتار کیا تھا، جس کے قبضے سے 5 کلو 260 گرام چرس برآمد ہوئی تھی۔ پولیس نے ملزم کے خلاف فوری طور پر تھانہ ستگھرہ میں مقدمہ نمبر 359/24 درج کر کے تفتیش کا آغاز کیا اور تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد چالان عدالت میں پیش کیا۔

    دورانِ سماعت پولیس کی لیگل ٹیم نے عدالت میں ٹھوس شواہد اور دستاویزی ثبوت پیش کیے، جس پر استغاثہ نے ملزم کے خلاف مقدمے کا بھرپور دفاع کیا۔ عدالت نے ملزم کو بھی اپنے دفاع کا پورا حق فراہم کیا، تاہم استغاثہ کی جانب سے فراہم کردہ شواہد اور گواہیوں کی روشنی میں جرم مکمل طور پر ثابت ہونے کی بناء پر فاضل جج نے ملزم ناصر علی کو 20 سال قید بامشقت اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں ملزم کو مزید قید بھگتنا ہوگی۔

    ڈی پی او اوکاڑہ راشد ہدایت نے منشیات فروش کو کیفرِ کردار تک پہنچانے پر لیگل ٹیم کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہا اور انہیں بہترین تفتیش و پیروی پر شاباش دی۔ انہوں نے اس موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ ضلع بھر میں منشیات کے زہر کو پھیلانے والے عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رہے گا اور پولیس ایسے جرائم پیشہ افراد کو عدالتوں سے سخت سزائیں دلوانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لاتی رہے گی تاکہ معاشرے کو اس لعنت سے پاک کیا جا سکے۔

  • اوچ شریف: ٹرانسفارمر چور مافیا سرگرم، درجنوں بستیاں اندھیرے میں ڈوب گئیں

    اوچ شریف: ٹرانسفارمر چور مافیا سرگرم، درجنوں بستیاں اندھیرے میں ڈوب گئیں

    اوچ شریف(باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان)اوچ شریف کے نواحی اور دیہی علاقوں میں بجلی کے ٹرانسفارمرز کی چوری کی وارداتوں نے ایک منظم اور خطرناک مافیا کی شکل اختیار کر لی ہے، جس کے باعث سرکاری رٹ غیر مؤثر دکھائی دے رہی ہے اور جرائم پیشہ عناصر بلا خوف و خطر قومی اثاثے لوٹنے میں مصروف ہیں۔ پولیس اور واپڈا حکام کی مبینہ لاپرواہی اور نگرانی کے فقدان نے صورتحال کو انتہائی ابتر بنا دیا ہے، جس کا تازہ ترین نشانہ ترنڈ بشارت کے ملحقہ دیہی علاقے، بستی نائچ اور بستی محمد بخش بوہڑ بنے ہیں۔ رات کے اندھیرے میں نامعلوم پیشہ ور ملزمان نے نہایت مہارت کے ساتھ واپڈا کے نصب شدہ ٹرانسفارمرز اتار کر ان میں سے قیمتی کاپر کوائلیں نکال لیں اور لوہے کی خالی باڈیاں قریبی کھیتوں اور ویران مقامات پر پھینک کر فرار ہو گئے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ بھاری ٹرانسفارمرز کو پول سے اتارنا اور انہیں کاٹ کر قیمتی پرزہ جات نکالنا عام چوروں کے بس کی بات نہیں بلکہ اس کے لیے مخصوص آلات اور تکنیکی مہارت درکار ہوتی ہے، جو اس واردات کے پیچھے کسی منظم گروہ کی موجودگی کی نشاندہی کرتی ہے۔ صبح کے وقت جب بجلی کی طویل بندش پر مکینوں نے صورتحال کا جائزہ لیا تو ٹرانسفارمرز غائب تھے اور ان کے ڈھانچے فاصلے پر پڑے پائے گئے، جس کے باعث مذکورہ بستیاں مکمل طور پر اندھیرے میں ڈوب گئیں۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے پورے علاقے میں پینے کے پانی کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے، جس سے گھریلو خواتین اور بزرگ شدید مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ طلبہ کی تعلیم اور کاروباری سرگرمیاں بھی مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں۔

    علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ چوروں کو مخصوص ٹرانسفارمرز کے بارے میں اندرونی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے وہ آسانی سے ان کیمتی اثاثوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام، پولیس اور واپڈا انتظامیہ سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ بستی نائچ اور بستی محمد بخش بوہڑ میں فوری طور پر نئے ٹرانسفارمرز نصب کر کے بجلی کی فراہمی بحال کی جائے تاکہ عوام کی اذیت ختم ہو سکے۔ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر ملوث ملزمان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کیا جائے اور انہیں گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسی وارداتوں کا سدِباب ہو سکے۔

  • گھوٹکی: سیاہ کاری کے غیر قانونی جرگے پر پولیس کی بڑی کارروائی، ایک ملزم گرفتار

    گھوٹکی: سیاہ کاری کے غیر قانونی جرگے پر پولیس کی بڑی کارروائی، ایک ملزم گرفتار

    میرپور ماتھیلو(باغی ٹی وی ،نامہ نگارمشتاق علی لغاری)ڈی آئی جی سکھر رینج کی جانب سے سیاہ کاری کے نام پر منعقدہ غیر قانونی جرگے کا نوٹس لیے جانے کے بعد ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران کی ہدایت پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ میرپور ماتھیلو کی حدود میں واقع گاؤں سمندر بھیو میں وڈیرے شاہنواز بھیو، جانب بھیو، معشوق بھیو، احمد بھیو، محمد علی بھیو اور غلام حسین بھیو کی جانب سے ایک غیر قانونی جرگہ منعقد کیا گیا تھا، جس کا مقصد مبینہ طور پر سیاہ کاری کے معاملے کا فیصلہ کرنا تھا۔ اس سنگین صورتحال کا علم ہوتے ہی ایس ایس پی گھوٹکی نے ایس ایچ او میرپور ماتھیلو کو سخت احکامات جاری کیے کہ اس غیر قانونی عمل میں ملوث تمام افراد کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

    جرگے کے حوالے سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق نامزد ملزمان نے وسیم بھیو نامی نوجوان پر ثانیہ بھیو نامی لڑکی کے ساتھ سیاہ کاری کا جھوٹا الزام عائد کیا تھا اور اس کے بدلے میں دو لڑکیوں، شمیلا اور انیسہ بھیو کو بطور ‘عیوضہ’ دینے سمیت 10 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا غیر انسانی فیصلہ سنایا تھا۔ ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران نے اس معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ضلع میں کسی کو بھی متوازی عدالتی نظام چلانے یا انسانی حقوق کی پامالی کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور جرگہ کرنے والے افراد کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    پولیس حکام کے مطابق ایس ایس پی کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ میرپور ماتھیلو بدر دین برڑو نے پولیس نفری کے ہمراہ فوری کارروائی کی اور جرگے کے مرکزی ملزم شاہنواز ولد غلام محمد بھیو کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے جرگے میں ملوث 6 نامزد ملزمان کے خلاف کرائم نمبر 268/2025 کے تحت دفعہ 310A، 120B، 506/2 اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم سے تفتیش جاری ہے جبکہ جرگے میں ملوث دیگر مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ انہیں جلد از جلد گرفتار کر کے عبرت کا نشان بنایا جا سکے۔

  • میرپور ماتھیلو اور گردونواح میں مسافروں کا گاڑیوں کی چھتوں پر خطرناک سفر، حکام خاموش

    میرپور ماتھیلو اور گردونواح میں مسافروں کا گاڑیوں کی چھتوں پر خطرناک سفر، حکام خاموش

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق علی لغاری)ضلع گھوٹکی کے شہر میرپور ماتھیلو سے یارو لنڈ، جروار، گھوٹکی، خیرپور اور رِشتي گھوٹکی کے مختلف روٹس پر چلنے والی ٹرانسپورٹ گاڑیوں میں ٹریفک قوانین کی کھلے عام خلاف ورزی کی جا رہی ہے، جہاں ویگنوں اور ہائیس گاڑیوں کی چھتوں پر مسافروں کو بٹھا کر سفر کروانا ایک معمول بن چکا ہے۔ یہ خطرناک عمل کسی بھی وقت کسی بڑے جانی سانحے کا سبب بن سکتا ہے، مگر انتظامیہ اس سنگین صورتحال سے چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ ان روٹس پر سفر کرنے والے مسافر اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگا کر سفر کرنے پر مجبور ہیں، جو کہ ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

    واضح رہے کہ یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی رِشتي گھوٹکی، جروار اور گھوٹکی–خیرپور روٹس پر گاڑیوں کی چھتوں سے گرنے اور حادثات کے نتیجے میں کئی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور درجنوں افراد عمر بھر کے لیے معذور ہو چکے ہیں۔ ان المناک حادثات کے باوجود نہ تو ٹریفک پولیس نے ان جان لیوا خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر ناکہ بندی کی ہے اور نہ ہی ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ٹرانسپورٹرز کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ متعلقہ اداروں کی یہ مجرمانہ خاموشی اور غفلت شہریوں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے، کیونکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ حادثات کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔

    عوامی و سماجی حلقوں اور مسافروں نے ضلع گھوٹکی کے اعلیٰ حکام اور بالخصوص ڈی آئی جی اور ایس ایس پی گھوٹکی سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے ان ٹرانسپورٹرز کے خلاف فوری اور بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی چھتوں پر مسافر بٹھانے کے عمل پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت جرمانے اور گاڑیوں کی ضبطگی جیسے اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر عملی اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں ہونے والے کسی بھی بڑے حادثے کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام اور انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

  • پسرور: بغیر لائسنس ڈرائیونگ کے خلاف سخت کارروائی، ہزاروں لائسنس جاری

    پسرور: بغیر لائسنس ڈرائیونگ کے خلاف سخت کارروائی، ہزاروں لائسنس جاری

    پسرور (باغی ٹی وی،نامہ نگاروقاص اسلم ) تحصیل پسرور میں بڑی تعداد میں شہری ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے لیے متعلقہ دفاتر کا رخ کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے ڈی ایس پی عدنان قاسم نے بتایا کہ 27 تاریخ سے بغیر لائسنس گاڑی چلانے والوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن شروع کیا گیا ہے۔

    ڈی ایس پی کے مطابق اب تک تقریباً 25 ہزار کے قریب ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن شہریوں کے پاس ابھی تک لائسنس موجود نہیں، وہ اپنا اصل شناختی کارڈ لے کر تھانہ صدر پسرور آئیں، جہاں 10 سے 15 منٹ میں لائسنس جاری کر دیا جائے گا۔

    ڈی ایس پی عدنان قاسم نے مزید بتایا کہ موٹر سائیکلوں کی نمونہ نمبر پلیٹس کے خلاف بھی اب سخت کارروائی کی جائے گی اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

  • سکھرپولیس کی سندھ پنجاب بارڈر پر کارروائی، ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں چار مغوی  بازیاب

    سکھرپولیس کی سندھ پنجاب بارڈر پر کارروائی، ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں چار مغوی بازیاب

    سکھر (باغی ٹی وی ،نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ڈی آئی جی سکھر رینج کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ کی سربراہی میں سندھ پنجاب بارڈر پر ڈاکوؤں کے خلاف جاری آپریشن کے دوران ایک اور بڑی کامیابی حاصل کر لی گئی، جس میں چار اغوا شدہ افراد کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل پنجاب کے علاقے سے تعلق رکھنے والے چار افراد کو دھوکے سے بلا کر اغوا کر لیا گیا تھا، جن کی ویڈیو بھی ڈاکوؤں کی جانب سے سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی تھی اور ان سے تاوان طلب کیا جا رہا تھا۔ اغوا ہونے والے افراد کا ذریعہ معاش کھوجی کتوں کے ذریعے مجرموں کی نشاندہی کرنا بتایا جاتا ہے، جبکہ ان کے اغوا کا مقدمہ صادق آباد میں درج تھا۔

    ڈی آئی جی سکھر رینج کی نگرانی میں ہونے والی اس ٹارگٹڈ کارروائی میں ایس ایس پی گھوٹکی انور کھیتراں کی قیادت میں پنجاب پولیس، ڈی پی او راجن پور، ایس ایس پی کشمور اور سندھ رینجرز کے باہمی تعاون سے پولیس مقابلے کے دوران مغویوں کو بحفاظت بازیاب کروا لیا گیا۔

    پولیس حکام کے مطابق جرائم پیشہ ڈاکوؤں کے گروہوں کے خلاف جاری آپریشن منطقی انجام تک جاری رکھا جائے گا اور علاقے میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

  • فرانس :30 بچوں کو زہر دینے والے ڈاکٹر کو عمر قید اور جرمانہ

    فرانس :30 بچوں کو زہر دینے والے ڈاکٹر کو عمر قید اور جرمانہ

    فرانسیسی عدالت نے ایک ڈاکٹر کو 30 بچوں اور بالغ مریضوں کو جان بوجھ کر زہر دینے کا الزام ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا سنادی۔

    عالمی میڈیا کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے یہ انتہائی ظالمانہ اقدامات محض اپنے ساتھی طبی عملے کو بدنام کرنے اور ان پر شبہات ڈالنے کے لیے کیے،استغاثہ نے بتایا کہ ڈاکٹر پیچیئر ایک نفسیاتی طور پر پیچیدہ شخصیت کا حامل تھا اور وہ خود کو بہترین ڈاکٹر ثابت کرنے کے جنون میں مبتلا تھا۔

    فیصلے کے تحت فریڈرک پیچیئر کو پیرول کے بغیر عمر قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ متاثرہ خاندانوں کو ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیاسزا پانے والا اینستھیزیا کا ماہر ڈاکٹر 53 سالہ فریڈرک پیچیئر تھا جو 2008 سے 2017 کے درمیان فرانسیسی شہر بیسانکن کے 2 نجی کلینکس میں خدمات انجام دے رہا تھا۔

    عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ فریڈرک پیچیئر نے آپریشن سے قبل یا دوران مریضوں کو ایسی دوائیں دیں جن سے ان کے جسم میں پوٹاشیم کی خطرناک مقدار بڑھ گئی،اس کے نتیجے میں متعدد مریضوں کو اچانک دل کے دورے پڑے، جو بظاہر پُراسرار اور ناقابلِ فہم معلوم ہوتے تھے۔

    تحقیقات میں ثابت ہوگیا کہ متاثرہ مریضوں میں بچے بھی شامل تھے جنھیں معمول کے آپریشن کے بعد صحت یاب ہو جانا چاہیے تھا مگر وہ غیر متوقع طور پر شدید طبی پیچیدگیوں کا شکار ہو گئے،عدالت نے قرار دیا کہ ملزم نے اپنے پیشے، اعتماد اور انسانی جانوں کا بدترین استحصال کیا، اس لیے کسی نرمی کی گنجائش نہیں۔

    عدالت کو بتایا گیا جن 30 مریضوں کو زہر دیا گیا ان مریضوں میں سے 12 افراد جانبر نہ ہو سکے اور دورانِ علاج زندگی کی بازی ہار گئے، عدالت کے باہر موجود متاثرہ خاندانوں نے فیصلے کو انصاف کی فتح قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ سزا ان کے پیاروں کی کمی کو کبھی پورا نہیں کر سکتی۔