Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • سوشل میڈیا پر قابلِ اعتراض ویڈیوز بنانے اور پھیلانے میں ملوث ملزمان گرفتار

    سوشل میڈیا پر قابلِ اعتراض ویڈیوز بنانے اور پھیلانے میں ملوث ملزمان گرفتار

    اسلام آباد:نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی اسلام آباد نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر قابلِ اعتراض ویڈیوز بنانے اور پھیلانے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    ملزمان نے متاثرہ خاتون کی اجازت کے بغیر قابلِ اعتراض ویڈیوز ریکارڈ کیں اور بعد ازاں انہیں عوامی طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے وائرل کیا، متاثرہ خاتون اور اس کے اہلِ خانہ کو بلیک میل اور ہراساں کیا جاتا رہا انکوائری نمبر 1094/25 اور مقدمہ نمبر 340/25 درج کیا گیا، مقدمہ پیکا ایکٹ 2016 کی دفعات 20 اور 21 بمعہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 109 کے تحت درج کیاگیا ۔

    گرفتار ملزمان میں محمد شکیل اور شاہینہ بی بی شامل ہیں، تفتیش کے دوران یہ بھی ثابت ہوا کہ جرم میں استعمال ہونے والا موبائل نمبر ملزمہ کے نام پر رجسٹرڈ تھا ملزمان نے جعلی شناخت کے ذریعے قابلِ اعتراض مواد کو سوشل میڈیا پر نشر کیا اور مختلف ذرائع سے متاثرہ خاتون کے اہلِ خانہ کو ارسال کر کے ذہنی اذیت میں مبتلا کیا۔

    نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کے مطابق خواتین کی عزت و وقار اور نجی زندگی کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رکھی جائے گی اور ایسے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • اوچ شریف: سیلاب متاثرین سردی میں “مہنگائی کے شکنجے” میں، امداد کے وعدے دھوکہ بن گئے

    اوچ شریف: سیلاب متاثرین سردی میں “مہنگائی کے شکنجے” میں، امداد کے وعدے دھوکہ بن گئے

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار: حبیب خان)اوچ شریف کے نواحی علاقے حالیہ سیلابی ریلے سے بری طرح متاثر ہوئے، جہاں متعدد مکانات منہدم ہو گئے اور گھریلو سامان پانی کی نذر ہو گیا۔ سیلاب سے متاثرہ خاندان اس وقت شدید سردی کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی مہنگائی کا بھی سامنا کر رہے ہیں، جس نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

    متاثرین کے مطابق سرد موسم میں بچوں اور بزرگوں کو گرم رکھنے کے لیے کمبل اور رضائی کی اشد ضرورت ہے، تاہم مارکیٹ میں ان اشیاء کی قیمتیں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ غریب اور سیلاب زدہ خاندان انہیں خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔ ایک متاثرہ شہری کا کہنا تھا کہ وہ کم از کم اپنے بچوں کو سردی سے بچانا چاہتے ہیں، لیکن نہ مہنگی رضائیاں ان کی پہنچ میں ہیں اور نہ ہی سستے لنڈا بازار سے کچھ حاصل ہو پا رہا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں معیاری کورین کمبل تو بہت مہنگے داموں فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ عام کمبل بھی چھانٹی کے بعد زیادہ قیمت پر دستیاب ہیں۔ اس صورتحال نے سیلاب متاثرین کو مزید بے بس کر دیا ہے۔

    ایک متاثرہ خاتون نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ سردی کی شدت نے زندگی مشکل بنا دی ہے اور کمبلوں کی مہنگائی ایک نئے عذاب کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاجر صرف منافع کمانے میں مصروف ہیں جبکہ متاثرہ خاندان اپنے بچوں کو گرم رکھنے کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

    دوسری جانب متاثرین نے حکومت پنجاب اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے اعلان کردہ امدادی رقوم پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ متاثرہ افراد کے مطابق سیلاب زدگان کے لیے کچے مکانات کے منہدم ہونے پر 5 لاکھ روپے اور پکے مکانات پر 10 لاکھ روپے امداد کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم عملی طور پر کچے اور پکے دونوں طرح کے مکانات کے متاثرہ خاندانوں کو صرف 75 ہزار روپے دیے گئے، جو نہ مکانات کی بحالی کے لیے کافی ہیں اور نہ ہی سردی سے بچاؤ کے سامان کی خریداری کے لیے۔

    ایک متاثرہ شخص نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے وعدوں پر بھروسہ کیا، مگر دی جانے والی امداد نے ان کی مشکلات کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ سر چھپانے کو گھر ہے، نہ مناسب لباس اور نہ ہی سردی سے بچاؤ کا کوئی انتظام۔

    سیلاب متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر کمبل، رضائیاں، گرم کپڑے اور مناسب مالی امداد فراہم کی جائے، بصورت دیگر سردی اور مہنگائی کے اس سنگین بحران میں کئی خاندان مزید خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

  • اوکاڑہ پولیس کی بڑی کارروائی،  ڈکیت گینگ کے 2 کارندے گرفتار، لاکھوں روپے مالیت کا مال مسروقہ اور اسلحہ

    اوکاڑہ پولیس کی بڑی کارروائی، ڈکیت گینگ کے 2 کارندے گرفتار، لاکھوں روپے مالیت کا مال مسروقہ اور اسلحہ

    اوکاڑہ (نامہ نگار، ملک ظفر) اوکاڑہ پولیس نے ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں میں ملوث خطرناک گینگ کے خلاف بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا جن کے قبضے سے 5 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا مال مسروقہ اور اسلحہ برآمد کر لیا گیا ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق ڈی پی او اوکاڑہ کی ہدایت پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری مہم کے دوران تھانہ راوی کی پولیس ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے ڈکیت گینگ کے دو اہم کارندوں محمد اشرف عرف تکلی اور ممتاز کو دھر لیا۔ ملزمان کے قبضے سے برآمد ہونے والے مال مسروقہ میں 2 لاکھ روپے نقد رقم، 2 موٹر سائیکلیں اور 2 موبائل فون شامل ہیں جن کی مجموعی مالیت 5 لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے۔

    پولیس حکام کا مزید کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے قبضے سے وارداتوں میں استعمال ہونے والے 2 عدد 30 بور پسٹل اور متعدد گولیاں بھی برآمد کی گئی ہیں۔ دورانِ تفتیش ملزمان نے تھانہ راوی کے مختلف علاقوں میں ڈکیتی اور راہزنی کی درجنوں وارداتیں کرنے کا اعتراف کیا ہے جس کے بعد پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان سے مزید پوچھ گچھ کے نتیجے میں دیگر وارداتوں کے سراغ اور مزید ریکوری کی قوی امید ہے، جبکہ علاقے میں امن و امان کے قیام کے لیے اس طرح کی کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔

  • اوچ شریف: علی پور روڈ پر المناک ٹریفک حادثہ، نوجوان خاتون جاں بحق، متعدد زخمی

    اوچ شریف: علی پور روڈ پر المناک ٹریفک حادثہ، نوجوان خاتون جاں بحق، متعدد زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار: حبیب خان)علی پور روڈ، انڈس ہائی وے پر للو والی موڑ کے قریب مسافر بس اور ٹریلر کے درمیان آمنے سامنے شدید تصادم ہو گیا، جس کے نتیجے میں 20 سالہ نوجوان خاتون موقع پر ہی جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے کی اطلاع صبح 9 بج کر 7 منٹ پر موصول ہوئی، جس پر ریسکیو 1122 کی ٹیمیں 7 منٹ کے اندر موقع پر پہنچ گئیں۔ امدادی کارروائیوں کے لیے BPA-27، BPA-34، BPA-35، BF-6 اور APR-1 روانہ کیے گئے۔

    ریسکیو عملے کے مطابق جاں بحق ہونے والی خاتون کی شناخت رمشا بی بی زوجہ محمد شریف، عمر 20 سال، ساکن ترنڈہ محمدپناہ کے نام سے ہوئی ہے، جنہیں حادثے کے باعث جسم کے مختلف حصوں پر شدید چوٹیں اور متعدد فریکچرز آئے جو جان لیوا ثابت ہوئے۔ متوفیہ کی ڈیڈ باڈی کو ضروری قانونی کارروائی کے بعد آر ایچ سی اوچ شریف منتقل کر دیا گیا۔

    حادثے میں محمد شریف ولد مظفر احمد، عمر 27 سال، معمولی زخمی ہوئے جنہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد آر ایچ سی اوچ شریف منتقل کیا گیا، جبکہ تین دیگر معمولی زخمی افراد ریسکیو ٹیم کے پہنچنے سے قبل ہی قریبی ہسپتال منتقل ہو چکے تھے۔

    حادثے کے باعث کچھ دیر کے لیے انڈس ہائی وے پر ٹریفک کی روانی متاثر رہی، جسے ریسکیو اور پولیس کی مدد سے بعد ازاں بحال کر دیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق حادثہ تیز رفتاری اور لاپرواہی کے باعث پیش آیا، تاہم پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    علاقہ مکینوں اور عوامی حلقوں نے انڈس ہائی وے پر بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ رفتار کی نگرانی، ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔

  • کمسن بچیوں کے خلاف جنسی جرائم ناقابلِ برداشت ہیں،حنا پرویز بٹ

    کمسن بچیوں کے خلاف جنسی جرائم ناقابلِ برداشت ہیں،حنا پرویز بٹ

    چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے کہا ہے کہ کمسن بچیوں کے خلاف جنسی جرائم ناقابلِ برداشت ہیں اور ایسے درندہ صفت افراد کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دلوانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

    لاہور کے علاقے اچھرہ میں 9 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کے افسوسناک واقعے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے متاثرہ بچی کے گھر کا دورہ کیا اور اہلِ خانہ سے ملاقات کی، حنا پرویز بٹ نے بچی کے والد اور دیگر اہلِ خانہ سے تفصیلی گفتگو کی، ان کا حوصلہ بڑھایا اور انصاف کی فراہمی کی مکمل یقین دہانی کرائی۔

    حنا پرویز بٹ نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی واضح ہدایت ہے کہ بچوں اور خواتین کے خلاف کسی بھی قسم کے جرم میں ملوث عناصر کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتی جائے، اس مقدمے میں پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے اور تفتیش کے تمام مراحل قانون کے مطابق آگے بڑھائے جا رہے ہیں،کمسن بچیوں کے خلاف جنسی جرائم ناقابلِ برداشت ہیں اور ایسے درندہ صفت افراد کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دلوانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی متاثرہ بچی اور اس کے خاندان کو قانونی، نفسیاتی اور ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا وژن بالکل واضح ہے کہ پنجاب میں کوئی بچی، کوئی خاتون خود کو غیر محفوظ محسوس نہ کرے۔ بچوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ایسے جرائم میں ملوث افراد کو مثال بنایا جائے گا۔

  • گھوٹکی:ڈاکوؤں کا مسافر کوچ پر حملہ، متعدد افراد اغوا

    گھوٹکی:ڈاکوؤں کا مسافر کوچ پر حملہ، متعدد افراد اغوا

    گھوٹکی میں گڈوکشمور روڈ پر ڈاکوؤں نے مسافر بس پر حملہ کرکے 25 مسافروں کو اغوا کرلیا۔

    کوئٹہ جانے والی مسافر بس کو گڈو کشمور لنک روڈ ایم فائیو پر پر مسلح افراد نے مسافر کوچ پر اندھا دھند فائرنگ کی اور گاڑی رکنے کے بعد مسافروں کو تشدد کا نشانہ بنایا بس رکنے کے بعد ڈاکو 25 مسافروں کو اغوا کر کے لے گئے جبکہ جبکہ فائرنگ سے متعدد زخمی بھی ہوئےواقعے کے بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچی اور ڈاکوؤں کا تعاقب جبکہ سرچ آپریشن بھی شروع کردیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ مسافروں کے اغوا کی حتمی تعداد کے بارے میں فوری کچھ نہیں بتاسکتے عینی شاہد مسافر کے مطابق ڈاکو مسافروں کو گنے کی فصل میں اغوا کر کے لے کر گئے ہیں،ڈاکوؤں نے مسافر کوچ اور دیگر گاڑیوں میں موجود درجنوں مسافروں کو لوٹ مار کی اور فائرنگ بھی کرتے رہے، جبکہ فائرنگ سے متعدد زخمی بھی ہوئے،بیشتر مسافر خوف کے عالم میں کماد کی فصل میں چھپ کر جان بچائی۔

    سندھ پولیس کے ذرائع نے بتایا کہ علاقے میں سرچ آپریشن مزید تیز کر دیا گیا، تھانہ ماچھکہ کی پولیس نفری اور موٹر وے پولیس کو بھی جائے وقوعہ پر روانہ کردیا گیا ہے۔

  • اوکاڑہ :پولیس کا کریک ڈاؤن، 9 اشتہاری ملزمان گرفتار

    اوکاڑہ :پولیس کا کریک ڈاؤن، 9 اشتہاری ملزمان گرفتار

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)اوکاڑہ پولیس نے اشتہاری ملزمان کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرتے ہوئے شکنجہ سخت کر دیا ہے۔ ڈی پی او اوکاڑہ محمد راشد ہدایت کے احکامات پر شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے دوران تھانہ بصیر پور پولیس نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے 9 اشتہاری ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں محمد احمد، شاہ نواز، عرفان، غلام مصطفیٰ، اجمل عرف اجو اور علی احمد سمیت دیگر اشتہاری ملزمان شامل ہیں۔ گرفتار ملزمان کو قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد پابندِ سلاسل کر دیا گیا ہے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ضلع بھر میں جرائم پیشہ عناصر اور اشتہاری ملزمان کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

  • اوچ شریف:خیر پور ڈاہا میں نشئی غنڈوں کی دہشت، پولیس خاموش تماشائی

    اوچ شریف:خیر پور ڈاہا میں نشئی غنڈوں کی دہشت، پولیس خاموش تماشائی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف کے نواحی علاقے خیر پور ڈاہا میں منشیات کے عادی اور چھرا بردار عناصر نے کھلی دہشت پھیلا رکھی ہے، جس کے باعث شہری شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ تھانہ دھوڑکوٹ سے چند فرلانگ کے فاصلے پر یہ نشئی عناصر دن دہاڑے ہاتھوں میں چھریاں لے کر گلی محلوں میں دندناتے پھر رہے ہیں، شہریوں کو سرِعام دھمکیاں دینا، گالم گلوچ اور معمولی بات پر حملہ آور ہونا روز کا معمول بن چکا ہے، جبکہ پولیس کی موجودگی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔

    علاقہ مکینوں کے مطابق منشیات کے عادی افراد کھلے عام نشہ آور اشیاء استعمال اور فروخت کر رہے ہیں، جس سے نئی نسل تیزی سے تباہی کی طرف جا رہی ہے۔ جو شہری ان کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اسے تشدد، چھرا گھونپنے اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ خوف کا یہ عالم ہے کہ والدین بچوں کو گھروں سے باہر بھیجنے سے گریزاں ہیں، جبکہ خواتین اور بزرگ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔

    انتہائی تشویشناک امر یہ ہے کہ یہ تمام جرائم تھانہ دھوڑکوٹ کی حدود میں ہو رہے ہیں، مگر پولیس کی جانب سے نہ کوئی مؤثر چھاپہ مار کارروائی سامنے آئی ہے اور نہ ہی کسی بڑے ملزم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ سوال زور پکڑتا جا رہا ہے کہ آیا تھانہ دھوڑکوٹ مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے یا کسی دباؤ اور مبینہ ملی بھگت کے تحت دانستہ چشم پوشی اختیار کی جا رہی ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ متعدد بار پولیس کو درخواستیں اور شکایات دی گئیں، تاہم ہر بار ٹال مٹول اور بے بسی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔ اہلِ علاقہ نے الزام عائد کیا ہے کہ نشئی اور جرائم پیشہ عناصر کو اندرونی سرپرستی حاصل ہے، جس کے باعث وہ قانون کو کھلے عام چیلنج کر رہے ہیں۔

    سماجی اور شہری حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور فیصلہ کن کارروائی نہ کی گئی تو خیر پور ڈاہا مکمل طور پر نشہ، جرائم اور غنڈہ گردی کا مرکز بن جائے گا۔ شہریوں نے ڈی پی او بہاولپور، آر پی او بہاولپور ریجن اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ تھانہ دھوڑکوٹ کے ایس ایچ او کی کارکردگی کا فوری جائزہ لیا جائے اور منشیات کے عادی، چھرا بردار اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

  • طلبہ کو پکنک پر لے جانے والی بس حادثے کا شکار، 10 بچے زخمی

    طلبہ کو پکنک پر لے جانے والی بس حادثے کا شکار، 10 بچے زخمی

    کراچی کے مصروف علاقے آئی آئی چندریگر روڈ پر نجی اسکول کے طلبہ کو پکنک کے لیے لے جانے والی بس حادثے کا شکار ہو گئی۔

    پولیس کے مطابق بس کیفے بوگی کے قریب فٹ پاتھ سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں بس میں سوار کم از کم 10 طلبہ زخمی ہو گئے۔ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمی بچوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ خوش قسمتی سے تمام زخمی طلبہ کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے اور زیادہ تر بچوں کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں۔

    پولیس حکام کے مطابق بس میں سوار بچے ایک نجی اسکول کے طالب علم تھے اور پکنک کے لیے شہر سے باہر جا رہے تھے۔ ابتدائی تحقیقات میں بس ڈرائیور نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حادثہ بریک فیل ہونے کے باعث پیش آیا، جس کے باعث بس پر قابو نہ رکھا جا سکا اور وہ فٹ پاتھ سے جا ٹکرائی۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے جبکہ بس کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بس کی فٹنس، بریک سسٹم اور دیگر تکنیکی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ حادثے کی اصل وجوہات معلوم کی جا سکیں۔

    واقعے کے بعد بچوں کے والدین بھی اسپتال پہنچ گئے، جہاں انہوں نے بچوں کی خیریت دریافت کی۔ والدین کی جانب سے اسکول انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ انتظامات پر سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسکول بسوں کی فٹنس اور حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے.

  • ڈاکٹر وردہ کے قتل کا ملزم مبینہ مقابلے میں مارا گیا، ایبٹ آباد پولیس کا دعویٰ

    ڈاکٹر وردہ کے قتل کا ملزم مبینہ مقابلے میں مارا گیا، ایبٹ آباد پولیس کا دعویٰ

    ایبٹ آباد پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈاکٹر وردہ کے قتل کا ملزم مبینہ مقابلے میں مارا گیا۔

    ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ چھاپے کے دوران پولیس پر فائرنگ کے نتیجے میں جوابی کاروائی میں شمریز گولیاں لگنے سے مارا گیا،دوسری جانب ایبٹ آباد میں قتل ہونیوالی ڈاکٹر وردہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی ۔

    رپورٹ کے مطابق آٹھ دسمبر کو جب ان کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے لائی گئی تو اس وقت ان کی موت کو 72 گھنٹے گزر چکے تھے،ان کو گلا گھونٹ کر مارا گیاان کی گردن کے اردگرد ایسے نشانات ہیں جو کسی رسی یا کپڑے کے ہو سکتے ہیں، جس سے ان کی گردن کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی تھی،پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر وردہ کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی موجود تھے۔