Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • اوکاڑہ: غیر قانونی ایل پی جی اور منی پٹرول ایجنسیوں کے خلاف کارروائیاں، متعدد دکانیں سیل

    اوکاڑہ: غیر قانونی ایل پی جی اور منی پٹرول ایجنسیوں کے خلاف کارروائیاں، متعدد دکانیں سیل

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک ظفر) ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی ہدایت پر محکمہ سول ڈیفنس کی جانب سے غیر قانونی ایل پی جی شاپس اور منی پٹرول ایجنسیوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کی گئیں۔ سول ڈیفنس آفیسر جاوید اختر کی نگرانی میں ٹیموں نے ایل پی جی ریفلنگ کا غیر قانونی کاروبار کرنے والے مالکان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 4 ایل پی جی ریفلنگ شاپس کو سربمہر کردیا جبکہ ایک دکاندار کا ریفلنگ سامان قبضے میں لے لیا گیا۔

    مزید برآں غیر قانونی طور پر پٹرول فروخت کرنے والے 9 منی پٹرول ڈبہ اسٹیشنز کو ختم کر دیا گیا جبکہ ایک کے خلاف مقدمہ متعلقہ تھانے میں درج کروا دیا گیا۔ سول ڈیفنس کے انسٹرکشنل اسٹاف نے انڈسٹریل اور کمرشل یونٹس میں فائر سیفٹی کے نامکمل انتظامات پر 4 مالکان کے خلاف چالان تیار کر کے سول جج/مجسٹریٹ سیکشن 30 ڈسٹرکٹ کورٹس میں جمع کروائے اور 4 دیگر مالکان کو نوٹسز جاری کیے۔

    اسی سلسلے میں گورنمنٹ نیو کیمپس اسکول میں پنجاب سول ڈیفنس ریزیلینس کور کا کیمپ بھی لگایا گیا جس میں 310 طلبا کو آن لائن رجسٹرڈ کیا گیا۔ سول ڈیفنس حکام کے مطابق یہ اقدامات عوامی سلامتی اور حادثات کی روک تھام کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں۔

  • گھوٹکی: صحافی طفیل رند بھتیجی سمیت قتل، ضلع ایک بار پھر صحافیوں کے لیے مقتل گاہ بن گیا

    گھوٹکی: صحافی طفیل رند بھتیجی سمیت قتل، ضلع ایک بار پھر صحافیوں کے لیے مقتل گاہ بن گیا

    گھوٹکی(باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق علی لغاری) صحافی طفیل رند حیدرانی اور بھتیجی کا لرزہ خیز قتل — ضلع ایک بار پھر صحافیوں کے لیے مقتل گاہ بن گیا

    ضلع گھوٹکی ایک بار پھر صحافیوں کے لیے مقتل گاہ بن گیا ہے۔ میرپور ماتھیلو میں معروف صحافی طفیل رند حیدرانی کو مسلح افراد نے بے دردی سے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ افسوسناک طور پر واقعے کے دوران اپنے چچا کے قتل کی عینی شاہد بننے والی آٹھ سالہ بھتیجی بھی شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کی گئی، جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ پرانی دشمنی کا نتیجہ ہے، تاہم علاقے میں خوف و ہراس اور صحافتی برادری میں شدید غم و غصہ پھیل گیا ہے۔

    واقعے کے بعد ضلعی ہسپتال میں لاشیں منتقل کی گئیں جہاں سینکڑوں شہریوں، صحافیوں اور سماجی رہنماؤں نے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ "گھوٹکی میں قانون کی رِٹ کمزور ہوچکی ہے، پولیس بے بس اور لاچار نظر آتی ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں، اس سے قبل بھی شہید نصراللہ گڈانی، شہید محمد بچل گھنیو سمیت کئی مقامی صحافی دہشت گردی، ذاتی دشمنی اور دباؤ کے باعث قتل کیے جاچکے ہیں، مگر آج تک کسی بھی قاتل کو سزا نہیں ملی۔

    قتل کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے کے بعد وزیرِ داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی سکھر سے فوری اور تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔ وزیر داخلہ نے ہدایت دی کہ "ملزمان کو ہر صورت گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات یقینی بنائی جائیں۔” انہوں نے طفیل رند کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صحافیوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ "صحافیوں پر حملے دراصل آزادیٔ صحافت پر حملے ہیں۔” انہوں نے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ قاتلوں کی فوری گرفتاری عمل میں لائی جائے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے طفیل رند کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ "حکومت مقتول صحافی کے خاندان کو انصاف دلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔”

    ادھر ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران نے جائے وقوعہ کا فوری دورہ کیا، ورثاء سے ملاقات کی اور پولیس کو ہدایت دی کہ ملزمان کی فوری گرفتاری کو یقینی بنایا جائے۔ ان کے احکامات کے بعد تھانہ میرپور ماتھیلو پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان عرفان ولد سبحان حیدرانی اور امام دین ولد ریاض حیدرانی کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے انکشاف کیا کہ مقتول صحافی کے خاندان کا حیدرانی برادری کے دیگر افراد سے زمین کے تنازع پر کئی سالوں سے جھگڑا چل رہا تھا۔ چند روز قبل اسی مقدمے میں محمد حنیف ولد محمد شریف حیدرانی نامی ایک ملزم کو بھی پولیس نے گرفتار کیا تھا، جس کے قریبی رشتہ داروں نے انتقامی کارروائی کرتے ہوئے طفیل رند کو قتل کیا۔

    مقتول کی بھتیجی کے الفاظ "ہٹ جاؤ ادھر سے، پہلے کبھی انصاف ہوا ہے کہ اب ہوگا” لوگوں کے ذہنوں میں گونج رہے ہیں۔ یہ الفاظ نہ صرف ایک معصوم بچی کے دل کا درد ہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے مردہ ضمیر پر سوالیہ نشان ہیں کہ آخر کب انصاف ایک خواب کے بجائے حقیقت بنے گا؟

    طفیل رند کی شہادت نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو عیاں کر دیا ہے کہ پاکستان میں آزادیٔ صحافت خطرے میں ہے۔ اگر ریاست اپنے قلم کاروں، سچ لکھنے والوں اور حق بولنے والوں کی حفاظت نہیں کر سکتی، تو پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ انصاف کی امید کس سے رکھی جائے؟

    گھوٹکی کے صحافیوں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ حکومتِ سندھ فوری طور پر ایک اعلیٰ سطحی جوڈیشل انکوائری کمیشن تشکیل دے، تاکہ مقتول صحافی اور اس معصوم بچی کے قاتلوں کو مثالی سزا دی جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر قاتلوں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں نہ لایا گیا تو پورا ضلع احتجاجی تحریک کا آغاز کرے گا۔

    یہ واقعہ صرف طفیل رند کا قتل نہیں بلکہ انصاف، قانون اور آزادیٔ اظہار کے تصور کا قتل ہے اور جب تک اس خونِ ناحق کا حساب نہیں لیا جاتا، گھوٹکی کی فضائیں اسی سوال سے گونجتی رہیں گی:
    "کیا یہاں کبھی انصاف ہوا ہے کہ اب ہوگا؟”

  • اسلام آباد،فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی  کے ڈائریکٹر لینڈقتل

    اسلام آباد،فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کے ڈائریکٹر لینڈقتل

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے حساس ترین علاقے بلیو ایریا میں گزشتہ رات فائرنگ کے ایک افسوسناک واقعے میں وزارتِ ہاؤسنگ کے ذیلی ادارے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کے ڈائریکٹر لینڈ احسان الٰہی کو قتل کر دیا گیا۔

    احسان الٰہی بلیو ایریا کے ایک ہوٹل میں کھانا کھانے کے بعد باہر نکلے تو نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ گولیوں کی بوچھاڑ سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔مقتول کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے پمز اسپتال منتقل کی گئی، جہاں صبح تک ایف آئی آر درج نہ ہونے کے باعث ورثاء اور ساتھی افسران میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔

    وفاقی وزیر ہاؤسنگ ریاض حسین پیرزادہ بھی پمز اسپتال پہنچے اور مقتول کے اہلِ خانہ سے ملاقات کر کے اظہارِ افسوس کیا۔ انہوں نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات یقینی بنائی جائے۔ادھر ایف جی ای ایچ اے کے افسران اور ملازمین کی بڑی تعداد اسپتال میں جمع ہو گئی، جنہوں نے احسان الٰہی کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

    دوسری جانب وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیرِ داخلہ نے ہدایت کی کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جائیں اور ملوث ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری یقینی بنائی جائے۔پولیس ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں، سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے اور ملزمان کی تلاش کے لیے مختلف ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

  • ڈہرکی: ٹاؤن انتظامیہ کی نااہلی کے خلاف بلدیاتی ملازمین کی مکمل ہڑتال، دفاتر بند، کام ٹھپ

    ڈہرکی: ٹاؤن انتظامیہ کی نااہلی کے خلاف بلدیاتی ملازمین کی مکمل ہڑتال، دفاتر بند، کام ٹھپ

    گھوٹکی (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ڈہرکی ٹاؤن انتظامیہ کی بدانتظامی، نااہلی اور مجرمانہ غفلت کے خلاف بلدیاتی ملازمین سراپا احتجاج بن گئے۔ شاہ لطیف لوکل گورنمنٹ ایمپلائیز یونین اور آل پاکستان لوکل ورکرز فیڈریشن کی قیادت میں بلدیاتی ملازمین نے دفاتر کی تالہ بندی کرتے ہوئے مکمل ہڑتال کی اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔

    مظاہرین نے انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود تنخواہیں وقت پر جاری نہیں کی جا رہیں، جبکہ موجودہ تنخواہوں میں بلاجواز کٹوتیاں کی جا رہی ہیں۔ ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کو گریجویٹی اور دیگر واجبات کی ادائیگی بھی تاحال نہیں کی گئی، جو سراسر ناانصافی اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔

    ملازمین کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے بجٹ میں اعلان کردہ اضافی تنخواہیں اور الاؤنسز بھی تاحال نہیں دیے جا رہے، جس کے باعث سینکڑوں سرکاری اہلکار شدید مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔ کئی ملازمین بچوں کی فیسیں ادا کرنے اور گھریلو اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہیں جبکہ ٹاؤن انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

    احتجاجی رہنماؤں نے واضح کیا کہ اگر ان کے جائز مطالبات فوری طور پر پورے نہ کیے گئے، جن میں تنخواہوں کی بروقت ادائیگی، ناجائز کٹوتیوں کا خاتمہ، ریٹائرڈ ملازمین کو واجبات کی فراہمی اور بجٹ میں شامل اضافی الاؤنسز کا نفاذ شامل ہے، تو احتجاج کا دائرہ کار بڑھا دیا جائے گا۔

    انہوں نے اعلان کیا کہ مطالبات کی منظوری تک دفاتر بند رہیں گے، تمام سرکاری امور معطل رہیں گے، اور اس صورتحال کی مکمل ذمہ داری ڈہرکی ٹاؤن انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ ملازمین نے صوبائی حکومت سے بھی فوری مداخلت کا مطالبہ کیا تاکہ ان کے مسائل حل ہو سکیں اور شہری سہولیات کا نظام بحال ہو۔

  • گھوٹکی: ڈہرکی میں فائرنگ، پسند کی شادی کرنے والی خاتون جاں بحق، شوہر زخمی

    گھوٹکی: ڈہرکی میں فائرنگ، پسند کی شادی کرنے والی خاتون جاں بحق، شوہر زخمی

    گھوٹکی (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ڈہرکی کی جونگ کالونی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک سال قبل پسند کی شادی کرنے والا جوڑا قاتلانہ حملے کا نشانہ بن گیا۔ حملے میں غلام عباس منسی شدید زخمی ہوگیا جبکہ اس کی اہلیہ فوزیہ مگسی موقع پر ہی دم توڑ گئی۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق غلام عباس منسی نے ایک سال قبل اپنی مرضی سے فوزیہ مگسی سے شادی کی تھی، جس پر اہلِ خانہ ناراض تھے۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ واقعہ مبینہ طور پر "غیرت کے نام پر حملے” کا نتیجہ ہو سکتا ہے، تاہم تفتیش جاری ہے۔

    اطلاع ملنے پر تھانہ ڈہرکی پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کیا جبکہ زخمی غلام عباس کوعلاج کیلئے ہسپتال بھیج دیا گیا۔ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور ابتدائی طور پر فائرنگ کو دشمنی یا گھریلو رنجش کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    پولیس کے مطابق حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، جبکہ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے سخت سزا دی جائے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

  • گوجرانوالہ: تھانہ اروپ پولیس کی بڑی کارروائی، موٹر سائیکل چوری گینگ کے 5 کارندے گرفتار

    گوجرانوالہ: تھانہ اروپ پولیس کی بڑی کارروائی، موٹر سائیکل چوری گینگ کے 5 کارندے گرفتار

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی)تھانہ اروپ پولیس نے موٹر سائیکل چوری اور ڈکیتی کی متعدد وارداتوں میں ملوث خطرناک گینگ کے سرغنہ سمیت پانچ ارکان کو گرفتار کر لیا۔

    گرفتار ملزمان میں شفیق خان، رضا خان، حمزہ خان، سلمان خان اور ریاض خان شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزمان کے قبضے سے 15 عدد چوری شدہ موٹر سائیکل، 2 رکشے اور 5 لاکھ 50 ہزار روپے نقدی برآمد کر لی گئی۔ ایس ایچ او اروپ انسپکٹر صفدر عطاء کی زیرِ نگرانی ٹیم نے جدید سائنسی طریقہ کار اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے ملزمان کو ٹریس کر کے گرفتار کیا۔

    سی پی او گوجرانوالہ محمد ایاز سلیم نے کہا کہ سماج دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی تاکہ شہریوں کو پُرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔ ترجمان ضلعی پولیس گوجرانوالہ کے مطابق ملزمان کے خلاف مزید تفتیش جاری ہے۔

  • 2019 کے قتل کیس میں‌ پیشرفت،پی ٹی آئی ایم این اے نثار جٹ کے ملوث ہونے کا الزام

    2019 کے قتل کیس میں‌ پیشرفت،پی ٹی آئی ایم این اے نثار جٹ کے ملوث ہونے کا الزام

    گوجرانوالہ میں 2019ء کے قتل کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، ملزم نے پی ٹی آئی ایم این اے نثارجٹ پر قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگا دیا۔

    قتل کے مقدمے میں زیر حراست ملزم کا عدالت میں 164 کا بیان ریکارڈ کرلیا گیا، ملزم نے پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی نثار جٹ پر ملوث ہونے کا الزام لگا دیا۔ملزم زوہیب نے کمالیہ میں مجسٹریٹ کی عدالت میں 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرادیا، جس میں کہا گیا ہے کہ بلال کو قتل کرنے کے بعد لاش ٹھکانے لگانے کیلئے نثار جٹ نے 50 ہزار روپے دیئے۔ملزم کا کہنا ہے کہ ایم این اے نثار جٹ نے مجھے گاڑی دلائی جو بعد میں واپس لے لی، نثار جٹ نے گوجرانوالہ میں بلال چیمہ کو پکڑوانے کیلئے پہلے 25 ہزار روپے دئیے،رپورٹ کے مطابق ملزم اور اس کے ساتھیوں نے 2019ء میں گوجرانوالہ میں بلال چیمہ کو قتل کرکے لاش کمالیہ کے علاقے میں نہر میں پھینکی تھی۔

  • بھائی نے بہن کو محبت کے رشتے پر قتل کر کے نہر میں پھینک دیا

    بھائی نے بہن کو محبت کے رشتے پر قتل کر کے نہر میں پھینک دیا

    اترپردیش کے ضلع گورکھپور میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں ایک بھائی نے اپنی بہن کو اُس کے محبت بھرے تعلق پر قتل کر دیا۔

    پولیس کے مطابق 22 سالہ ادتیہ یادو نے اپنی 19 سالہ بہن نِتیا یادو کو نہر میں ڈبو کر مار دیا اور تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک لاش کے پاس بیٹھا رہا، پھر خود ہی پولیس کو فون کر کے اپنے جرم کا اعتراف کیا۔مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق نِتیا یادو بارہویں جماعت کی طالبہ تھی اور پچھلے تین سالوں سے ایک نوجوان کے ساتھ محبت کے تعلق میں تھی۔ بھائی ادتیہ اس رشتے کے سخت خلاف تھا۔ کچھ روز قبل اس نے اپنی بہن کو پیشانی پر سندور (ہندو مذہب میں شادی شدہ عورتوں کی نشانی) لگاتے دیکھا تو شدید غصے میں آ گیا۔ اس نے کئی بار بہن کو سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ اپنے محبوب سے تعلق ختم کرنے پر آمادہ نہ ہوئی۔پولیس کے مطابق اتوار کے روز نِتیا گھر سے نکلی اور رات بھر واپس نہ آئی۔ اگلی صبح ادتیہ کو اطلاع ملی کہ وہ اپنے دوست کے ساتھ ایک نزدیکی ریستوران میں دیکھی گئی ہے۔ ادتیہ وہاں پہنچا، بہن کو سمجھایا اور اسے گھر واپس چلنے پر راضی کر لیا۔ مگر گھر پہنچنے سے پہلے وہ دونوں ایک سنسان مقام پر رُکے جو اُن کے گھر سے تقریباً ڈھائی کلومیٹر دور تھا۔

    ادتیہ نے دورانِ گفتگو طیش میں آ کر بہن کو تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے اس کے سر پر چوٹ آئی، اور پھر اسے قریب کی نہر میں دھکا دے دیا۔ پولیس کو دیے گئے بیان میں ادتیہ نے اعتراف کیا کہ وہ بہن کی لاش کے پاس ڈیڑھ گھنٹہ بیٹھا رہا، پھر ضمیر کے بوجھ تلے دب کر پولیس کو خود اطلاع دی۔گورکھپور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جتیندر شریواستو نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش برآمد کی اور پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی۔ ملزم ادتیہ یادو کو حراست میں لے کر قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

    ادتیہ یادو اپنے دو بہن بھائیوں کے ساتھ رہتا تھا۔ والد کے انتقال کے بعد اس نے گھر کی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں اور مزدوری کر کے اپنی بہنوں کی تعلیم کا خرچ اُٹھا رہا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات واضح ہوئی ہے کہ قتل کی بنیادی وجہ “غیرت” اور بہن کا محبت بھرا تعلق تھا۔

  • ڈیرہ غازی خان: مقررہ نرخ سے زائد فروخت پر 7 دکاندار گرفتار

    ڈیرہ غازی خان: مقررہ نرخ سے زائد فروخت پر 7 دکاندار گرفتار

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹر شاہد خان)ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد کی ہدایت پر پرائس کنٹرول ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر ہیڈکوارٹر نذر حسین کورائی نے شہر کی مختلف مارکیٹوں کا دورہ کر کے نرخنامے چیک کیے۔

    کارروائی کے دوران قصاب سمیت سات سبزی و مرغی فروشوں کو سرکاری نرخ سے زائد قیمت پر فروخت کرنے پر گرفتار کیا گیا۔

    اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ ٹماٹر، پیاز، مرغی اور دیگر سبزیوں کی قیمتوں میں خودساختہ اضافے کے خلاف سخت کارروائی جاری ہے، اور گرانفروشی میں ملوث افراد کے خلاف بلا امتیاز کریک ڈاؤن جاری رکھا جائے گا۔

  • لنڈی کوتل: سودی لین دین سے تنازعات اور دشمنیاں بڑھنے لگیں

    لنڈی کوتل: سودی لین دین سے تنازعات اور دشمنیاں بڑھنے لگیں

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی)لنڈی کوتل میں لین دین کے معاملات میں سودی نظام کے باعث تنازعات، دشمنیاں اور قتل و قتال کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جب کہ عدالتی تاخیر اور نئے نظام کی کمزوریوں نے عوامی مسائل کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ مقررین نے کہا کہ فریقین کے درمیان لچک اور تحمل کے بغیر تنازعات کا حل ممکن نہیں، جب کہ پولیس صرف عوامی تعاون سے ہی امن و امان کے مسائل کو بہتر طور پر حل کر سکتی ہے۔

    یہ باتیں ڈسٹرکٹ پریس کلب لنڈی کوتل (رجسٹرڈ) میں منعقدہ “میٹ دی پریس” کے دوران صوبائی وزیر عدنان قادری کے پرسنل سیکرٹری مولانا شعیب قادری، پشاور ہائی کورٹ ضلع خیبر کے سابق ایگزیکٹو ممبر ایڈوکیٹ قبیس شینواری، جے یو آئی (فاٹا) کے سینئر نائب امیر مفتی اعجاز شینواری، ایس ایچ او عشرت شینواری، طورخم کسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر مجیب شینواری اور سماجی رہنما حاجی الیاس شینواری نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کیں۔

    مقررین نے کہا کہ لنڈی کوتل میں سودی لین دین خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے، جب کہ قرآن کریم میں سود کے خلاف اعلانِ جنگ کیا گیا ہے، اس لیے اس کے نتائج بھی تباہ کن ہوں گے۔ انہوں نے جرگوں کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض جرگہ ثالثان غیر جانبداری کے بجائے فریقین میں سے ایک کو سپورٹ کرتے ہیں اور پیسے لے کر فیصلے کرتے ہیں، جس سے تنازعات کم ہونے کے بجائے بڑھ رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ نیا پٹوار سسٹم فسادات کی جڑ بن چکا ہے، اس نظام کے تحت زمینوں کے معاملات میں دوگنا اضافہ ہوا ہے، جب کہ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات نے عوام کو انصاف سے محروم کر رکھا ہے۔ مقررین نے افسوس کا اظہار کیا کہ جب تنازع خونریزی تک پہنچ جاتا ہے تو جرگہ یاد آتا ہے، حالانکہ اگر ابتداء ہی میں صلح جو رویہ اختیار کیا جائے تو بڑے سانحات سے بچا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایف سی آر کے وقت مقامی مشران اکثریتی تنازعات جرگے کے ذریعے حل کرتے تھے، مگر مرجر کے بعد حکومت نے نیا نظام تو نافذ کر دیا لیکن اس کے لیے عوامی تربیت، عدالتی سہولیات اور ادارہ جاتی تیاری نہیں کی۔ مرجر کے بعد اگرچہ عدلیہ اور وکالت کا نظام آیا ہے، مگر لاء فیکلٹی اور تربیت یافتہ عملہ نہ ہونے سے نظام کمزور ہے۔

    مقررین نے مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع کے کالجوں میں لاء فیکلٹی قائم کی جائے تاکہ نوجوان نئے نظام سے واقف ہوں، عدالتی عمل تیز ہو اور انصاف عام آدمی کی دہلیز تک پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، میڈیا، اور سول سوسائٹی کو مل کر عوامی آگاہی مہم شروع کرنی چاہیے تاکہ نیا نظام عوام کے حق میں مؤثر ثابت ہو۔