Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • احمد پور شرقیہ: ٹرین کی زد میں آ کر 16 سالہ لڑکا زخمی، بروقت ریسکیو سے جان بچ گئی

    احمد پور شرقیہ: ٹرین کی زد میں آ کر 16 سالہ لڑکا زخمی، بروقت ریسکیو سے جان بچ گئی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان)احمد پور شرقیہ کے علاقے فردوس سنیما والا پھاٹک پر افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک نوعمر لڑکا ریلوے لائن عبور کرتے ہوئے تیز رفتار مال گاڑی کی زد میں آ گیا۔ حادثے میں 16 سالہ مجاہد ولد قاسم شدید زخمی ہو گیا۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق لڑکے کے سر پر گہری چوٹیں آئیں جبکہ دائیں ٹانگ فریکچر ہو گئی۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 اہلکار موقع پر پہنچے اور فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ اہلکاروں نے لڑکے کو سی پی آر (CPR) دیتے ہوئے ٹی ایچ کیو ہسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کیا، جہاں ڈاکٹرز نے تصدیق کی کہ بچے کی دل کی دھڑکن بحال ہو چکی تھی۔

    ترجمان ریسکیو کے مطابق بروقت کارروائی سے بچے کی جان بچ گئی، تاہم زخموں کی نوعیت سنگین ہونے پر اُسے ضلعی وکٹوریہ ہسپتال بہاول پور ریفر کر دیا گیا۔

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بچہ پھاٹک بند ہونے سے قبل جلدی میں پٹری پار کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اچانک ٹرین آ گئی اور حادثہ پیش آیا۔ شہریوں نے ریلوے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پھاٹک پر حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے دلخراش واقعات سے بچا جا سکے۔

  • ملتان میں آن لائن جابز کے نام پر لوٹنے والا نیٹ ورک گرفتار

    ملتان میں آن لائن جابز کے نام پر لوٹنے والا نیٹ ورک گرفتار

    نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے کارروائی کرتے ہوئے آن لائن جابز اور ٹریننگ کے نام پر شہریوں کو لوٹنے والا نیٹ ورک بے نقاب کر دیا۔

    ترجمان کے مطابق کارروائی ملتان کے بوسن روڈ پر قائم ایک نجی اسکول میں کی گئی، جہاں سے مرکزی ملزم سمیت 8 افراد کو گرفتار کیا گیا۔چھاپے کے دوران موبائل فونز، ڈیجیٹل ڈیوائسز اور مالی ریکارڈ برآمد کیے گئے، جبکہ واٹس ایپ اور ٹیلیگرام گروپس سے جعلسازی اور بلیک میلنگ کے شواہد بھی حاصل ہوئے۔ترجمان این سی سی آئی اے کے مطابق ملزمان جعلی ادارے کے نام پر شہریوں کو آن لائن جابز اور ٹریننگ کا جھانسہ دے کر کروڑوں روپے کا فراڈ کر چکے تھے۔ مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

    موناکو میں پاکستانی سفیر کی شہزادہ البرٹ دوم سے ملاقات

    بیلجیم کےوزیراعظم پر حملے کی منصوبہ بندی ناکام، 3 گرفتار

    نوبیل امن انعام جیتنے والی ماریا کورینا ماچادو نے ایوارڈ ٹرمپ کے نام کر دیا

  • ڈیرہ غازی خان: فوڈ اتھارٹی کی کارروائی، 800 لیٹر ملاوٹی دودھ اور ناقص اشیاء تلف

    ڈیرہ غازی خان: فوڈ اتھارٹی کی کارروائی، 800 لیٹر ملاوٹی دودھ اور ناقص اشیاء تلف

    دراہمہ (باغی ٹی وی ،نامہ نگارمحمد علی مکھن کی رپورٹ)ڈیرہ غازی خان میں فوڈ اتھارٹی کی کارروائی، 800 لیٹر ملاوٹی دودھ اور ناقص اشیاء تلف

    تفصیل کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ڈائریکٹر آپریشنز ساؤتھ-1 شہزاد خان مگسی اور ڈپٹی ڈائریکٹر حبیب الرشید کی سربراہی میں غازی گھاٹ پل پر کارروائی کے دوران 800 لیٹر ملاوٹی دودھ موقع پر تلف کر دیا گیا۔

    فوڈ سیفٹی ٹیم نے ڈیرہ غازی خان شہر میں مختلف ہوٹلز، بیکریز اور فوڈ ٹریڈرز کا معائنہ کیا، جہاں سے 100 کلو زخمی مرغیوں کا گوشت، 50 لٹر ناقص تیل اور ملاوٹی مصالحہ جات برآمد کر کے تلف کر دیے گئے۔

    حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر دو فوڈ پوائنٹس کو تین لاکھ روپے جرمانہ جبکہ متعدد دکانداروں کو اصلاحی نوٹس جاری کیے گئے۔ ڈائریکٹر آپریشنز شہزاد خان مگسی کے مطابق عوامی صحت کا تحفظ فوڈ اتھارٹی کی اولین ترجیح ہے،

    شہری کسی بھی شکایت کی صورت میں ہیلپ لائن 1223 پر رابطہ کریں۔

  • گھوٹکی: سیاہ کاری کے جرگے کا انکشاف، پولیس کی فوری کارروائی میں چار ملزمان گرفتار

    گھوٹکی: سیاہ کاری کے جرگے کا انکشاف، پولیس کی فوری کارروائی میں چار ملزمان گرفتار

    گھوٹکی (باغی ٹی وی ،نامہ نگارمشتاق علی لغاری) سیاہ کاری کے جرگے کا انکشاف، پولیس کی فوری کارروائی میں چار ملزمان گرفتار

    تفصیلات کے مطابق تھانہ یارو لُنڈ کی حدود کھروہی میں سیاہ کاری کے جرگے کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر پولیس حرکت میں آ گئی۔

    ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران کے حکم پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے چار ملزمان میر حسن شر، علی حسن شر، زبرو شر اور عبداللہ شر—کو گرفتار کر لیا۔

    اطلاعات کے مطابق جرگے میں خواتین پر سیاہ کاری کے جھوٹے الزامات لگا کر انہیں کچے علاقوں میں فروخت کیا جاتا تھا۔

    ایس ایس پی نے کہا کہ جرگہ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور ایسے غیر قانونی فیصلے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

  • میرپور ماتھیلو: شہید صحافی طفیل رند اور بھتیجی کے قتل کا مقدمہ 8 ملزمان کے خلاف درج

    میرپور ماتھیلو: شہید صحافی طفیل رند اور بھتیجی کے قتل کا مقدمہ 8 ملزمان کے خلاف درج

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی،نامہ نگار مشتاق علی لغاری)شہید صحافی طفیل رند حیدرانی اور ان کی بھتیجی کے بہیمانہ قتل کا مقدمہ پولیس تھانہ میرپور ماتھیلو میں درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمہ مقتول صحافی کے بھائی عبدالغفار رند کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں آٹھ نامزد ملزمان کو شاملِ تفتیش کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر نمبر 315 تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 147، 148، 149، 302، 114 اور 34 کے تحت درج کی گئی۔

    ایف آئی آر کے مطابق 8 اکتوبر کی صبح طفیل رند اپنی بھتیجی کے ہمراہ موٹر سائیکل پر جا رہے تھے کہ راستے میں گھات لگائے مسلح افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں دونوں موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ ملزمان اسلحہ لہراتے ہوئے فرار ہوگئے۔

    مدعی کے مطابق قتل کی یہ واردات پرانی رنجش اور مقتول صحافی کی حق گوئی و صحافتی سرگرمیوں کے باعث پیش آئی۔ پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد تفتیش شروع کر دی ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے کا سلسلہ جاری ہے۔

    واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی ہے جبکہ صحافتی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے اسے آزادیِ صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور مقتولین کے لواحقین کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • منڈی بہاؤالدین: پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارروائی، بیمار و مردار جانوروں کا 500 کلوگرام گوشت برآمد

    منڈی بہاؤالدین: پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارروائی، بیمار و مردار جانوروں کا 500 کلوگرام گوشت برآمد

    منڈی بہاؤالدین (باغی ٹی وی، نامہ نگار افنان طالب عرف چاندی) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن اور ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی عاصم جاوید کی ہدایت پر ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز عدیل احمد کی زیر نگرانی فوڈ سیفٹی ٹیم نے تحصیل ملکوال کے نواحی علاقے موج دین کالونی میں بیمار اور مردار جانوروں کا گوشت فروخت کرنے والے گروہ کے خلاف مؤثر کارروائی کی۔

    کارروائی کے دوران 500 کلوگرام خراب اور ناقص گوشت برآمد کیا گیا، جسے ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک کی جانچ پڑتال کے بعد موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔ پولیس نے مجرمان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی جبکہ موقع سے دو گاڑیاں، ایک موٹر سائیکل، فریزر اور ذبح کے تمام آلات ضبط کر لیے گئے۔

    ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز عدیل احمد نے کہا کہ غیر معیاری اور مضرِ صحت خوراک کی فروخت سنگین جرم ہے، جس کی روک تھام کے لیے پنجاب فوڈ اتھارٹی بھرپور ایکشن میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحت مند اور معیاری گوشت کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں جاری ہیں، تاکہ عوام کو محفوظ خوراک میسر آ سکے۔

  • اوکاڑہ: غیر قانونی ایل پی جی اور منی پٹرول ایجنسیوں کے خلاف کارروائیاں، متعدد دکانیں سیل

    اوکاڑہ: غیر قانونی ایل پی جی اور منی پٹرول ایجنسیوں کے خلاف کارروائیاں، متعدد دکانیں سیل

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک ظفر) ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی ہدایت پر محکمہ سول ڈیفنس کی جانب سے غیر قانونی ایل پی جی شاپس اور منی پٹرول ایجنسیوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کی گئیں۔ سول ڈیفنس آفیسر جاوید اختر کی نگرانی میں ٹیموں نے ایل پی جی ریفلنگ کا غیر قانونی کاروبار کرنے والے مالکان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 4 ایل پی جی ریفلنگ شاپس کو سربمہر کردیا جبکہ ایک دکاندار کا ریفلنگ سامان قبضے میں لے لیا گیا۔

    مزید برآں غیر قانونی طور پر پٹرول فروخت کرنے والے 9 منی پٹرول ڈبہ اسٹیشنز کو ختم کر دیا گیا جبکہ ایک کے خلاف مقدمہ متعلقہ تھانے میں درج کروا دیا گیا۔ سول ڈیفنس کے انسٹرکشنل اسٹاف نے انڈسٹریل اور کمرشل یونٹس میں فائر سیفٹی کے نامکمل انتظامات پر 4 مالکان کے خلاف چالان تیار کر کے سول جج/مجسٹریٹ سیکشن 30 ڈسٹرکٹ کورٹس میں جمع کروائے اور 4 دیگر مالکان کو نوٹسز جاری کیے۔

    اسی سلسلے میں گورنمنٹ نیو کیمپس اسکول میں پنجاب سول ڈیفنس ریزیلینس کور کا کیمپ بھی لگایا گیا جس میں 310 طلبا کو آن لائن رجسٹرڈ کیا گیا۔ سول ڈیفنس حکام کے مطابق یہ اقدامات عوامی سلامتی اور حادثات کی روک تھام کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں۔

  • گھوٹکی: صحافی طفیل رند بھتیجی سمیت قتل، ضلع ایک بار پھر صحافیوں کے لیے مقتل گاہ بن گیا

    گھوٹکی: صحافی طفیل رند بھتیجی سمیت قتل، ضلع ایک بار پھر صحافیوں کے لیے مقتل گاہ بن گیا

    گھوٹکی(باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق علی لغاری) صحافی طفیل رند حیدرانی اور بھتیجی کا لرزہ خیز قتل — ضلع ایک بار پھر صحافیوں کے لیے مقتل گاہ بن گیا

    ضلع گھوٹکی ایک بار پھر صحافیوں کے لیے مقتل گاہ بن گیا ہے۔ میرپور ماتھیلو میں معروف صحافی طفیل رند حیدرانی کو مسلح افراد نے بے دردی سے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ افسوسناک طور پر واقعے کے دوران اپنے چچا کے قتل کی عینی شاہد بننے والی آٹھ سالہ بھتیجی بھی شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کی گئی، جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ پرانی دشمنی کا نتیجہ ہے، تاہم علاقے میں خوف و ہراس اور صحافتی برادری میں شدید غم و غصہ پھیل گیا ہے۔

    واقعے کے بعد ضلعی ہسپتال میں لاشیں منتقل کی گئیں جہاں سینکڑوں شہریوں، صحافیوں اور سماجی رہنماؤں نے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ "گھوٹکی میں قانون کی رِٹ کمزور ہوچکی ہے، پولیس بے بس اور لاچار نظر آتی ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں، اس سے قبل بھی شہید نصراللہ گڈانی، شہید محمد بچل گھنیو سمیت کئی مقامی صحافی دہشت گردی، ذاتی دشمنی اور دباؤ کے باعث قتل کیے جاچکے ہیں، مگر آج تک کسی بھی قاتل کو سزا نہیں ملی۔

    قتل کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے کے بعد وزیرِ داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی سکھر سے فوری اور تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔ وزیر داخلہ نے ہدایت دی کہ "ملزمان کو ہر صورت گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات یقینی بنائی جائیں۔” انہوں نے طفیل رند کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صحافیوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ "صحافیوں پر حملے دراصل آزادیٔ صحافت پر حملے ہیں۔” انہوں نے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ قاتلوں کی فوری گرفتاری عمل میں لائی جائے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے طفیل رند کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ "حکومت مقتول صحافی کے خاندان کو انصاف دلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔”

    ادھر ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران نے جائے وقوعہ کا فوری دورہ کیا، ورثاء سے ملاقات کی اور پولیس کو ہدایت دی کہ ملزمان کی فوری گرفتاری کو یقینی بنایا جائے۔ ان کے احکامات کے بعد تھانہ میرپور ماتھیلو پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان عرفان ولد سبحان حیدرانی اور امام دین ولد ریاض حیدرانی کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے انکشاف کیا کہ مقتول صحافی کے خاندان کا حیدرانی برادری کے دیگر افراد سے زمین کے تنازع پر کئی سالوں سے جھگڑا چل رہا تھا۔ چند روز قبل اسی مقدمے میں محمد حنیف ولد محمد شریف حیدرانی نامی ایک ملزم کو بھی پولیس نے گرفتار کیا تھا، جس کے قریبی رشتہ داروں نے انتقامی کارروائی کرتے ہوئے طفیل رند کو قتل کیا۔

    مقتول کی بھتیجی کے الفاظ "ہٹ جاؤ ادھر سے، پہلے کبھی انصاف ہوا ہے کہ اب ہوگا” لوگوں کے ذہنوں میں گونج رہے ہیں۔ یہ الفاظ نہ صرف ایک معصوم بچی کے دل کا درد ہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے مردہ ضمیر پر سوالیہ نشان ہیں کہ آخر کب انصاف ایک خواب کے بجائے حقیقت بنے گا؟

    طفیل رند کی شہادت نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو عیاں کر دیا ہے کہ پاکستان میں آزادیٔ صحافت خطرے میں ہے۔ اگر ریاست اپنے قلم کاروں، سچ لکھنے والوں اور حق بولنے والوں کی حفاظت نہیں کر سکتی، تو پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ انصاف کی امید کس سے رکھی جائے؟

    گھوٹکی کے صحافیوں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ حکومتِ سندھ فوری طور پر ایک اعلیٰ سطحی جوڈیشل انکوائری کمیشن تشکیل دے، تاکہ مقتول صحافی اور اس معصوم بچی کے قاتلوں کو مثالی سزا دی جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر قاتلوں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں نہ لایا گیا تو پورا ضلع احتجاجی تحریک کا آغاز کرے گا۔

    یہ واقعہ صرف طفیل رند کا قتل نہیں بلکہ انصاف، قانون اور آزادیٔ اظہار کے تصور کا قتل ہے اور جب تک اس خونِ ناحق کا حساب نہیں لیا جاتا، گھوٹکی کی فضائیں اسی سوال سے گونجتی رہیں گی:
    "کیا یہاں کبھی انصاف ہوا ہے کہ اب ہوگا؟”

  • اسلام آباد،فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی  کے ڈائریکٹر لینڈقتل

    اسلام آباد،فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کے ڈائریکٹر لینڈقتل

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے حساس ترین علاقے بلیو ایریا میں گزشتہ رات فائرنگ کے ایک افسوسناک واقعے میں وزارتِ ہاؤسنگ کے ذیلی ادارے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کے ڈائریکٹر لینڈ احسان الٰہی کو قتل کر دیا گیا۔

    احسان الٰہی بلیو ایریا کے ایک ہوٹل میں کھانا کھانے کے بعد باہر نکلے تو نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ گولیوں کی بوچھاڑ سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔مقتول کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے پمز اسپتال منتقل کی گئی، جہاں صبح تک ایف آئی آر درج نہ ہونے کے باعث ورثاء اور ساتھی افسران میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔

    وفاقی وزیر ہاؤسنگ ریاض حسین پیرزادہ بھی پمز اسپتال پہنچے اور مقتول کے اہلِ خانہ سے ملاقات کر کے اظہارِ افسوس کیا۔ انہوں نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات یقینی بنائی جائے۔ادھر ایف جی ای ایچ اے کے افسران اور ملازمین کی بڑی تعداد اسپتال میں جمع ہو گئی، جنہوں نے احسان الٰہی کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

    دوسری جانب وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیرِ داخلہ نے ہدایت کی کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جائیں اور ملوث ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری یقینی بنائی جائے۔پولیس ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں، سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے اور ملزمان کی تلاش کے لیے مختلف ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

  • ڈہرکی: ٹاؤن انتظامیہ کی نااہلی کے خلاف بلدیاتی ملازمین کی مکمل ہڑتال، دفاتر بند، کام ٹھپ

    ڈہرکی: ٹاؤن انتظامیہ کی نااہلی کے خلاف بلدیاتی ملازمین کی مکمل ہڑتال، دفاتر بند، کام ٹھپ

    گھوٹکی (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ڈہرکی ٹاؤن انتظامیہ کی بدانتظامی، نااہلی اور مجرمانہ غفلت کے خلاف بلدیاتی ملازمین سراپا احتجاج بن گئے۔ شاہ لطیف لوکل گورنمنٹ ایمپلائیز یونین اور آل پاکستان لوکل ورکرز فیڈریشن کی قیادت میں بلدیاتی ملازمین نے دفاتر کی تالہ بندی کرتے ہوئے مکمل ہڑتال کی اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔

    مظاہرین نے انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود تنخواہیں وقت پر جاری نہیں کی جا رہیں، جبکہ موجودہ تنخواہوں میں بلاجواز کٹوتیاں کی جا رہی ہیں۔ ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کو گریجویٹی اور دیگر واجبات کی ادائیگی بھی تاحال نہیں کی گئی، جو سراسر ناانصافی اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔

    ملازمین کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے بجٹ میں اعلان کردہ اضافی تنخواہیں اور الاؤنسز بھی تاحال نہیں دیے جا رہے، جس کے باعث سینکڑوں سرکاری اہلکار شدید مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔ کئی ملازمین بچوں کی فیسیں ادا کرنے اور گھریلو اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہیں جبکہ ٹاؤن انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

    احتجاجی رہنماؤں نے واضح کیا کہ اگر ان کے جائز مطالبات فوری طور پر پورے نہ کیے گئے، جن میں تنخواہوں کی بروقت ادائیگی، ناجائز کٹوتیوں کا خاتمہ، ریٹائرڈ ملازمین کو واجبات کی فراہمی اور بجٹ میں شامل اضافی الاؤنسز کا نفاذ شامل ہے، تو احتجاج کا دائرہ کار بڑھا دیا جائے گا۔

    انہوں نے اعلان کیا کہ مطالبات کی منظوری تک دفاتر بند رہیں گے، تمام سرکاری امور معطل رہیں گے، اور اس صورتحال کی مکمل ذمہ داری ڈہرکی ٹاؤن انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ ملازمین نے صوبائی حکومت سے بھی فوری مداخلت کا مطالبہ کیا تاکہ ان کے مسائل حل ہو سکیں اور شہری سہولیات کا نظام بحال ہو۔