Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • پولیو ورکرز کے بھیس میں خواتین ڈکیتوں نے گھر کا صفایا کردیا

    پولیو ورکرز کے بھیس میں خواتین ڈکیتوں نے گھر کا صفایا کردیا

    ٹیکسلا میں پولیو ورکرز کے بھیس میں آنے والی خواتین ڈکیتوں نے خاتون کو خنجر کی نوک پر یرغمال بناکر گھر کا صفایا کردیا۔

    سرکاری خبر رساں ادارے’اے پی پی’ کی رپورٹ کے مطابق ٹیکسلا تھانے کی حدود میں دو خواتین ڈاکو پولیو ورکرز کا روپ دھار کر ایک گھر میں داخل ہوئیں اور وہاں موجود خاتون خانہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد طلائی زیورات اور نقدی لوٹ کر فرار ہو گئیں،دونوں خواتین رانا زبیر کے گھر آئیں اور دروازہ کھٹکھٹا کر کہا کہ وہ پولیو ورکرز ہیں اور بچوں کو قطرے پلانے آئی ہیں۔

    خاتون خانہ نے ان پر بھروسا کرتے ہوئے دروازہ کھول دیا، جس پر دونوں خواتین زبردستی اندر داخل ہو گئیں، ان میں سے ایک خاتون نے اپنے بیگ سے خنجر نکالا اور رانا زبیر کی بیوی کو بازو سے پکڑ کر دھمکایا اور تشدد کا نشانہ بنایا،بعد ازاں دونوں خواتین الماری سے 2 تولے سونا اور 15 ہزار روپے نقدی لے کر فرار ہو گئیں، پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔

    ایرانی صدر کے دورۂ پاکستان کاشیڈول فائنل

    ملک بھر کے کال سینٹرز کیلئے لائسنس لازمی قرار دینے کا فیصلہ

    منڈی بہاالدین: بزرگ والدین اور بیوی کو قتل کرنے والا ملزم گرفتار

  • منڈی بہاالدین: بزرگ والدین اور بیوی کو قتل کرنے والا ملزم گرفتار

    منڈی بہاالدین: بزرگ والدین اور بیوی کو قتل کرنے والا ملزم گرفتار

    منڈی بہاالدین میں زمین کی رقم کے تنازع پر بزرگ والدین اور بیوی کو قتل کرنے والے ملزم احسان کو پولیس نے گرفتار کرلیا-

    منڈی بہاالدین کی تحصیل پھالیہ کے نواحی گاؤں،میں پیر کو زمین کی فروخت سے حاصل رقم سے حصہ مانگنے پر ملزم احسان نے بزرگ والدین اور اہلیہ کو فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا تھاڈسٹرکٹ پولیس آفیسر وسیم ریاض خان نے واقعے کے فوری بعد پیشہ ورانہ تفتیشی ٹیمیں تشکیل دی تھیں، جنہوں نے صرف چند گھنٹوں میں جدید ٹریکنگ کے ذریعے ملزم احسان اللہ کو جوکالیاں بیلہ جنگل سے گرفتار کر لیا-

    ملزم کے قبضے سے آلہ قتل برآمد کر لیا گیا ہے اور اس کے خلاف پولیس کی مدعیت میں تہرے قتل کا مقدمہ درج کر کے مزید قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے،ملزم نے اپنے ابتدائی بیان میں جرم کا اعتراف کر لیا ہے کہ وہ زمین کی فروخت کی رقم میں سے حصہ مانگ رہا تھا، جو تنازع کی وجہ بنا، اسی رنجش پر اس نے اپنے باپ، ماں اور بیوی کا قتل کر دیا۔

    شہریوں کو ماحول دوست سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں،شرجیل میمن

    واقعے کاوزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے بھی سخت نوٹس لیتے ہوئے پولیس اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ ملزم کو فوری طور پر عدالت کے کٹہرے میں لا کر مثالی سزا دلائی جائے، تاکہ انصاف ہوتا ہوا نظر آئے اور معاشرے میں قانون کی بالادستی برقرار رہے۔

    زمین کی رقم کا تنازع:شہری نے بزرگ والدین اور بیوی کو قتل کردیا

  • راولپنڈی :خاتون کی لاش منتقلی   کے دوران استعمال ہونے والا رکشہ برآمد

    راولپنڈی :خاتون کی لاش منتقلی کے دوران استعمال ہونے والا رکشہ برآمد

    راولپنڈی : پولیس نے جرگے کے حکم پر قتل کی جانے والی شادی شدہ خاتون کی لاش منتقلی کے دوران استعمال ہونے والا رکشہ برآمد کرلیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق لاش منتقلی کے دوران استعمال ہونے والا رکشہ گرفتار ملزم خیال محمد کی نشاندہی پر برآمد کیا گیا ہے، ملزم نے لاش رکشے میں ڈال کر قبرستان منتقلی کا اعتراف کرلیا ہے، ملزم نے اپنے بیان میں بتایا کہ جرگہ سربراہ کی ہدایت پر لاش منتقلی کے لیے رکشہ منگوایا گیا تھا جسے خاتون کی لاش منتقلی کے بعد خفیہ مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔ پولیس نے برآمد ہونے والے رکشے کو تھانہ پیرودھائی منتقل کردیا جب کہ ڈرائیور خیال محمد جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے۔

    گزشتہ روز جرگے کے فیصلے پر شادی شدہ خاتون کے قتل کیس میں گرفتار 6 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا تھاپولیس نے عدالت سے ملزمان کے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان سے آلہ قتل برآمد کرنا ہے لہٰذا ان کا 7 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے، عدالت نے ملزمان کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس تحویل میں دے دیا تھا،ملزمان کو سول جج قمر عباس تارڑ کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا، عدالت نے ملزمان کو یکم اگست کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

    شاہد حامد قتل کیس :عدالت نے 28 سال بعد فیصلہ سنادیا

    جبکہ،خاتون کی قبر کشائی مکمل کرلی گئی ہے، جس کے بعد فارنزک ٹیم کی نگرانی میں پوسٹ مارٹم کیا گیا، جس میں لڑکی کے سر، گردن اور چہرے پر شدید تشدد کے واضح نشانات پائے گئےپوسٹ مارٹم کرنے والی میڈیکل ٹیم نے خاتون کو گلا گھونٹ کر قتل کیے جانے کی تصدیق کی ہے لاش سے سیمپل بھی حاصل کرلیے گئے ہیں تاکہ مزید فرانزک تجزیہ کیا جا سکےقبر کشائی کی کارروائی مقتولہ کے سابق شوہر ضیاء الرحمان اور جرگے کے سربراہ عصمت اللہ خان کی نشاندہی پر کی گئی-

    نارووال:اتوار کو لاپتا ہونے والے کم عمر بہن بھائی،کالوہے کی سلاخوں اور پتھروں سےقتل

    واضح،رہےکہ،راولپنڈی میں جرگے کے حکم پر قتل کی جانے والی خاتون اور عثمان کا نکاح 12 جولائی کو مظفر آباد میں ہوا، مقتولہ نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہو کر مرضی سے نکاح کا بیان بھی دیا تھا جب کہ مقتولہ نے یہ بھی بتایا تھا کہ پہلا شوہر اسے زبانی طلاق دے چکا ہےعثمان کے والد نے بتایا کہ نکاح کے 4 دن بعد مسلح افراد نے دھمکیاں دیں پھر کہاکہ نکاح ہوگیا ہے تو لڑکی واپس کر دو ، اسے باضابطہ رخصت کريں گے، وہ لوگ لڑکی کو لے گئے ، پھر پتا چلا کہ اسے قتل کر دیا گیا ہے۔

    مرکزی مسلم لیگ کا "متحد قوم،فاتح پاکستان”کے عنوان سے ہفتہ آزادی منانے کا اعلان

  • نارووال:اتوار کو لاپتا ہونے والے کم عمر بہن بھائی،کالوہے کی سلاخوں اور پتھروں سےقتل

    نارووال:اتوار کو لاپتا ہونے والے کم عمر بہن بھائی،کالوہے کی سلاخوں اور پتھروں سےقتل

    نارووال کے نواحی گاؤں بھیکو چھور سے اتوار کو لاپتا ہونے والے کم عمر بہن بھائی کی لاشیں مل گئیں،6 سالہ اُمِ کلثوم اور 3 سالہ محمد وارث کو نامعلوم حملہ آوروں نے مبینہ طور پر لوہے کی سلاخوں اور پتھروں سے مار کر قتل کر دیا-

    مقتولین کے والد محمد کاشف نے پولیس کو بتایا کہ بچے شام ساڑھے 6 بجے کے قریب قریبی دکان سے ٹافیاں اور بسکٹ خریدنے کے لیے گھر سے نکلے تھے لیکن واپس نہیں آئےپولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 365 کے تحت ابتدائی معلوماتی رپورٹ (ایف آئی آر) درج کر لی تھی، پیر کی صبح اطلاع ملی کہ 2 لاشیں گاؤں کے قبرستان میں پڑی ہیں۔

    پولیس ٹیم نے موقع پر پہنچ کر لاشوں کی تصدیق کی، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) فیصل شہزاد بھی موقع پر پہنچے اور انہوں نے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) تفتیش، پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (پی ایف ایس اے)، اور ہومیسائیڈ انویسٹی گیشن یونٹ کو طلب کر کے مکمل تحقیقات کا آغاز کیاابتدائی رپورٹس اور طبی معائنے کے مطابق بچوں کو بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، لیکن اُن کے ساتھ جنسی زیادتی نہیں کی گئی۔

    اسلحہ و شراب برآمدگی کیس ، علی امین گنڈاپور کےوارنٹ گرفتاری منسوخ

    ڈی پی او کے مطابق کئی مشتبہ افراد جن میں مقامی افراد اور خاندان کے افراد بھی شامل ہیں کو تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا ہے،لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے سرکاری ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    پاکستان کا ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرنے اور اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت دینے کا مطالبہ

  • راولپنڈی: مقتولہ خاتون کے دوسرے شوہر کے والد اور ماموں گرفتار

    راولپنڈی: مقتولہ خاتون کے دوسرے شوہر کے والد اور ماموں گرفتار

    راولپنڈی کے علاقے پیرودھائی میں جرگے کے فیصلے پر شادی شدہ خاتون کے قتل کیس میں مقتولہ کے دوسرے شوہر عثمان کے والد اور ماموں کو گرفتار کر لیا گیا۔

    گزشتہ روز جرگے کے فیصلے پر شادی شدہ خاتون کے قتل کیس میں گرفتار 6 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا تھاپولیس نے عدالت سے ملزمان کے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان سے آلہ قتل برآمد کرنا ہے لہٰذا ان کا 7 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے، عدالت نے ملزمان کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس تحویل میں دے دیا تھا،ملزمان کو سول جج قمر عباس تارڑ کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا، عدالت نے ملزمان کو یکم اگست کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

    جبکہ،خاتون کی قبر کشائی مکمل کرلی گئی ہے، جس کے بعد فارنزک ٹیم کی نگرانی میں پوسٹ مارٹم کیا گیا، جس میں لڑکی کے سر، گردن اور چہرے پر شدید تشدد کے واضح نشانات پائے گئےپوسٹ مارٹم کرنے والی میڈیکل ٹیم نے خاتون کو گلا گھونٹ کر قتل کیے جانے کی تصدیق کی ہے لاش سے سیمپل بھی حاصل کرلیے گئے ہیں تاکہ مزید فرانزک تجزیہ کیا جا سکےقبر کشائی کی کارروائی مقتولہ کے سابق شوہر ضیاء الرحمان اور جرگے کے سربراہ عصمت اللہ خان کی نشاندہی پر کی گئی-

    ڈیلٹا ایئرلائنز کا کوپائلٹ بچوں سے جنسی زیادتی کے الزامات میں گرفتار

    ذرائع کے مطابق مقتولہ نے 12 جولائی کو مظفرآباد میں عثمان نامی شخص سے نکاح کیا تھا اور جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہو کر اپنے نکاح کی رضا مندی بھی ظاہر کی تھی۔ خاتون نے یہ بھی بتایا تھا کہ اس کا پہلا شوہر اسے زبانی طلاق دے چکا ہے۔

    عثمان کے والد محمد الیاس کے مطابق نکاح کے چار دن بعد مسلح افراد نے دھمکیاں دیں اور یہ کہہ کر لڑکی کو واپس لے گئے کہ ہم اسے باضابطہ رخصت کریں گے، چند روز بعد اطلاع ملی کہ لڑکی کو قتل کر کے دفنا دیا گیا ہے۔

    پاکستان کا اسرائیل کوتسلیم کرنےکا کوئی منصوبہ نہیں،اسحاق ڈار

    پولیس ذرائع کے مطابق لڑکی کے قتل کا فیصلہ جرگے کے سربراہ عصمت اللہ خان نے کیا تھا۔ خاتون کی نمازِ جنازہ بھی اسی نے اپنے گھر میں پڑھائی تھی۔ 11 سے 16 جولائی کے دوران ہونے والے جرگے میں عصمت اللہ پیش پیش رہا ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں عصمت اللہ کو بازار میں ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے وہ اس وقت پولیس کی تحویل میں ہے۔

    واضح، رہے کہ 17 اور 18 جولائی کی درمیانی شب شادی شدہ خاتون کو قتل کر کے راتوں رات دفن کر دیا گیا تھا پولیس نے اب تک 8 ملزمان کو گرفتار کیا ہے جبکہ مقتولہ کے دوسرے شوہر عثمان نے بھی خود کو پولیس کے حوالے کر دیا،تحقیقات جاری ہیں اور پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    روس کا یوکرین کی جیل پر فضائی حملہ، 16 افراد ہلاک، 35 زخمی

  • ٹھٹھہ: لمس کے ڈاکٹر کے غلط آپریشن سے 14 سالہ لڑکا زندگی و موت کی کشمکش میں، باپ کی وزیراعلیٰ سندھ سے فریاد

    ٹھٹھہ: لمس کے ڈاکٹر کے غلط آپریشن سے 14 سالہ لڑکا زندگی و موت کی کشمکش میں، باپ کی وزیراعلیٰ سندھ سے فریاد

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی، ڈسٹرکٹ رپورٹر بلاول سموں) سول ہسپتال مکلی میں لیاقت میڈیکل یونیورسٹی جامشورو (لمس) کے ڈاکٹر معشوق خواجہ پر غریب شہری اللہ بچایو سموں نے بیٹے کے غلط آپریشن کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے انصاف کی اپیل کی ہے۔ عوامی پریس کلب ٹھٹھہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اللہ بچایو سموں کا کہنا تھا کہ اس کے 14 سالہ بیٹے غلام علی کو اچانک پیٹ میں شدید درد ہوا، جس پر اسے فوری طور پر سول ہسپتال مکلی لایا گیا، جہاں ڈاکٹر معشوق خواجہ نے اسے اپنے پرائیویٹ سینٹر "حسینی ہسپتال مکلی” لے جانے کا مشورہ دیا۔

    اللہ بچایو کے مطابق ڈاکٹر نے وہاں پہلے 75 ہزار روپے کی رقم کاؤنٹر پر جمع کرانے کا مطالبہ کیا، جو اس نے غربت کے باوجود قرض لے کر ادا کی۔ تاہم ڈاکٹر معشوق نے غیر ذمہ دارانہ طور پر غلط آپریشن کیا جس سے بچے کی حالت مزید بگڑ گئی۔ اللہ بچایو کا کہنا ہے کہ دوبارہ سول ہسپتال مکلی میں لے جا کر دوسرا آپریشن بھی کروایا گیا جو ناکام رہا اور بعد ازاں کراچی کے جناح ہسپتال ریفر کر دیا گیا، جہاں بچے کو داخل تک نہیں کیا گیا۔

    متاثرہ باپ نے الزام عائد کیا کہ ڈاکٹر نے محض مالی لالچ میں آ کر اس کے بیٹے کی جان کو خطرے میں ڈالا اور اب تک وہ ڈھائی سے تین لاکھ روپے خرچ کر چکا ہے لیکن بیٹے کی حالت بدستور خراب ہے۔ اللہ بچایو سموں نے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر صحت، سیکریٹری صحت، وائس چانسلر لمس، اور ٹھٹھہ کے منتخب نمائندوں حاجی علی حسن زرداری، سید ریاض شاہ شیرازی اور صادق علی میمن سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر معشوق خواجہ کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور اس کے بیٹے کے علاج کے لیے حکومتی مدد فراہم کی جائے۔

    علاقائی سطح پر یہ واقعہ میڈیکل نظام کی خامیوں اور ڈاکٹروں کی مبینہ تجارتی سوچ پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن کر ابھرا ہے۔ متاثرہ خاندان کو فوری انصاف اور بچے کے بہتر علاج کی فوری ضرورت ہے تاکہ ایک اور قیمتی جان ضائع ہونے سے بچائی جا سکے۔

  • علی پور:: رشتہ نہ دینے پر محنت کش کی بیٹی اغوا، پولیس پانچ روز سے خاموش،ورثاء سراپا احتجاج

    علی پور:: رشتہ نہ دینے پر محنت کش کی بیٹی اغوا، پولیس پانچ روز سے خاموش،ورثاء سراپا احتجاج

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور کے نواحی گاؤں موضع مکول ہڈیر میں رشتہ نہ دینے کا سنگین نتیجہ غریب محنت کش خاندان کو بھگتنا پڑا۔ ساڑھے پندرہ سالہ سائرہ بی بی کو مبینہ طور پر بااثر ملزمان صفدر، راشد بڈو اور نذیر موہانہ زبردستی گھر سے اٹھا کر لے گئے، لیکن واقعہ کو گزرے پانچ دن بیت جانے کے باوجود پولیس مغوی لڑکی کو بازیاب نہ کرا سکی۔ پولیس تھانہ صدر علی پور نے مقدمہ تو درج کر لیا، لیکن تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی، جس پر اہل علاقہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ڈی پی او مظفر گڑھ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    متاثرہ لڑکی کے والد ملک انور آرائیں نے اپنی اہلیہ، بیٹوں اور محلہ داروں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ”چوبیس جولائی کی صبح دس بجے میں جانوروں کے لیے گھاس کاٹنے گیا ہوا تھا۔ اس وقت میری بیٹی سائرہ گھر میں اکیلی تھی۔ اسی دوران ملزمان موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر آئے اور میری بیٹی کو گھر سے زبردستی اٹھا کر لے گئے۔ ساتھ ہی گھر سے بکس میں رکھی رقم اور دیگر سامان بھی لے گئے۔ ہم نے شور سن کر ان کا پیچھا بھی کیا، مگر وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔”

    انور آرائیں کا کہنا ہے کہ مقدمہ نمبر 862/25 تھانہ صدر علی پور میں تو درج ہو گیا، مگر ملزمان کے خلاف کوئی موثر کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ملزمان کریمنل ریکارڈ یافتہ ہیں اور مقامی بااثر زمیندار ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔
    "ہم غریبوں کی مدد کرنے کے بجائے ہمیں ہی دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر زبان کھولی تو تمہارے خلاف بھی اغوا کا مقدمہ درج کر دیں گے۔”

    اہل علاقہ نے اس واقعے کو ظلم و ناانصافی کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ڈی پی او مظفر گڑھ فوری طور پر اس واقعہ کا نوٹس لیں، لڑکی کو بازیاب کروائیں اور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

    رابطہ کرنے پر پولیس ذرائع نے مؤقف اختیار کیا کہ”تاحال یہ معلوم ہو رہا ہے کہ لڑکی اپنی مرضی سے گئی ہے، لیکن چونکہ وہ اٹھارہ سال سے کم عمر اور غیر شادی شدہ ہے، اس لیے معاملے کا قانونی پہلو سے جائزہ لے کر انصاف فراہم کیا جائے گا۔”

    شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر قانون صرف طاقتور کے لیے ہے تو کمزور کہاں جائے؟ کیا ایک محنت کش کی بیٹی کی جان و عزت کی کوئی قیمت نہیں؟
    اب دیکھنا یہ ہے کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ اس معاملے پر کب عملی قدم اٹھاتی ہے یا غریب خاندان انصاف کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھاتا رہے گا۔

  • اوچ شریف: قانون کی رٹ دفن، گلیاں قبرستانوں کا منظر، شہری محصور، انتظامیہ خاموش

    اوچ شریف: قانون کی رٹ دفن، گلیاں قبرستانوں کا منظر، شہری محصور، انتظامیہ خاموش

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف اس وقت بدترین بدانتظامی، لاقانونیت اور مجرمانہ غفلت کا شکار ہو چکا ہے۔ شہر کی تنگ و تاریک گلیاں اب رہائشی راستے نہیں بلکہ قبرستانوں کا منظر پیش کر رہی ہیں، جہاں ہر قدم پر غیر قانونی تھڑے، ریت بجری کے ڈھیراور بے لگام تجاوزات شہری زندگی کے لیے مستقل خطرہ بن چکے ہیں۔

    صورتحال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ ایمرجنسی کی صورت میں ایمبولینس، فائر بریگیڈ یا پولیس کی گاڑی بروقت متاثرہ مقام تک نہیں پہنچ پاتی۔ متعدد بار ایسے سانحات سامنے آ چکے ہیں جہاں مریض بروقت اسپتال نہ پہنچنے کے باعث جان کی بازی ہار گئے اور آگ بجھانے والی گاڑیاں راستہ نہ ہونے کے باعث جائے وقوعہ تک نہ پہنچ سکیں۔ یہ انسانی المیے اب صرف اتفاقات نہیں بلکہ ریاستی ناکامی کے واضح ثبوت بن چکے ہیں۔

    شہر میں تعمیراتی مافیا کی حکمرانی نظر آتی ہے، جو دن دہاڑے سرکاری زمینوں پر قابض ہو کر غیر قانونی تعمیرات جاری رکھے ہوئے ہے۔ شہری سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر ان سب تجاوزات کو کس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ اور وہ کون سے عناصر ہیں جن کے ہوتے ہوئے قانون خاموش اور انتظامیہ بے بس ہے؟

    ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں۔ متعلقہ افسران یا تو لا علم ہیں یا جان بوجھ کر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ شہری حلقے اس خاموشی کو "منتخب بے حسی” قرار دے رہے ہیں جو کہ عوام کے بنیادی حقوق پر کھلا حملہ ہے۔

    شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، کمشنر بہاولپور، اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطالبات درج ذیل ہیں:

    شہر بھر سے تمام غیر قانونی تھڑے، تجاوزات اور رکاوٹیں فی الفور ہٹائی جائیں۔
    ایمرجنسی سروسز کے راستے بحال کیے جائیں تاکہ جان بچانے والی گاڑیاں بروقت پہنچ سکیں۔
    مجرمانہ غفلت برتنے والے سرکاری اہلکاروں اور تعمیراتی مافیا کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    شہریوں نے واضح کیا ہے کہ اگر انتظامیہ نے فوری اقدامات نہ اٹھائے تو وہ سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کریں گے۔ اس وقت سوال یہ ہے کہ کیا حکومت بروقت حرکت میں آ کر اوچ شریف کو بچا پائے گی یا یہ شہر اپنی ہی گلیوں میں کسی بڑے سانحے کا منتظر ہے؟

  • نارنگ منڈی: ہوٹل پر ڈکیتی، مالک پر بہیمانہ تشدد،85ہزار چھین کر فرار

    نارنگ منڈی: ہوٹل پر ڈکیتی، مالک پر بہیمانہ تشدد،85ہزار چھین کر فرار

    نارنگ منڈی (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد وقاص)نارنگ منڈی کے نواحی گاؤں لدھیکے سٹاپ پر واقع ایک ہوٹل پر خوفناک ڈکیتی کی واردات پیش آئی، جہاں چھ نامعلوم ڈاکوؤں نے اسلحے کے زور پر ہوٹل سے 85 ہزار روپے نقدی لوٹ لی اور فرار ہونے سے قبل ہوٹل مالک پر انسانیت سوز تشدد کیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق ڈاکو واردات کے دوران نہایت سنگدلی سے پیش آئے۔ ہوٹل مالک کو شدید مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا اور مبینہ طور پر اس کے نازک حصے میں زہریلا مواد ڈال دیا گیا، جس سے اس کی حالت نازک ہو گئی۔ متاثرہ شخص کو فوری طور پر تشویشناک حالت میں اہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔

    علاقہ مکینوں میں واقعے کے بعد شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ عوام نے پولیس کی ناکامی پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ نواحی دیہات میں جرائم پیشہ عناصر بے خوف ہو چکے ہیں اور پولیس کی رٹ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔

    شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس انسانیت سوز واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، ڈاکوؤں کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور علاقے میں سیکیورٹی کے موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو تحفظ کا احساس ہو سکے۔

  • ملک میں بچوں کے جنسی استحصال کے حوالے سے  رپورٹ  میں پریشان کن انکشافات

    ملک میں بچوں کے جنسی استحصال کے حوالے سے رپورٹ میں پریشان کن انکشافات

    ملک میں بچوں کے جنسی استحصال اور بدسلوکی کے حوالے سے غیرسرکاری تنظیم کی رپورٹ میں پریشان کن انکشافات سامنے آئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ملک بھر سے کل 1956 بچوں کے استحصال کے مقدمات رپورٹ ہوئے جبکہ 2025ء کے پہلے 6 مہینوں میں 950 بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات رپورٹ ہوئےغیر سرکاری تنظیم ساحل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری سے جون تک بچوں کے اغوا کے 605 مقدمات درج ہوئے اسی طرح ملک بھر میں 192 بچوں کے لاپتا ہونے کے مقدمات درج کرائے گئے جب کہ اس سال 34 کم عمر بچوں کی شادیوں یا ونی کے مقدمات رپورٹ ہوئے62 کیسز ایسے رپورٹ ہوئے جن میں نومولود بچوں کو مختلف مقامات پر مردہ یا زندہ پایا گیا رپورٹ کیے گئے کیسز میں سے (1019) یعنی 52 فیصد متاثرہ لڑکیاں تھیں اور (875) یعنی 44 فیصد لڑکے تھے 3 فیصد کیسز نئے پیدا ہونے والے بچوں کے تھے۔

    رپورٹ کے مطابق 11 سے 15سال کی عمر کے بچے سب سے زیادہ متاثرہوئے 11-15 سال کی عمر کے زمرے میں کل 658 بچوں کے ساتھ زیادتی کے مقدمات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 72 فیصد کیسز پنجاب اور 22 فیصد سندھ سے رپورٹ ہوئےاسی طرح 6 فیصد کیسز خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور وفاق سے تھے،59 فیصد کیسز شہری علاقوں سے رپورٹ ہوئے اور 41 فیصد کیسز دیہی علاقوں سے رپورٹ ہوئے جبکہ 389 کیسز میں متاثرہ بچوں کی عمر کا ذکر نہیں کیا گیا، اسی طرح 49 فیصد کیسز میں ملوث بدسلوکی کرنے والے واقف تھے جبکہ 20 فیصد کیسز میں اجنبی تھے،83 فیصد متاثرین نے پولیس میں شکایت درج کرائی، 27 کیسز پولیس اسٹیشن میں غیر رجسٹرڈ تھے اور ایک کیس میں پولیس نے رجسٹریشن سے انکار کیا۔

    غیر سرکاری تنظیم 1996 سے بچوں کے جنسی استحصال پر خصوصی توجہ کے ساتھ بچوں کے تحفظ پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد بچوں کے لیے ایک حفاظتی ماحول تیار کرنا ہے جو ہر طرح کے تشدد سے پاک ہو، خاص طور پر بچوں کے جنسی استحصال سے پاک، تنظیم نے متاثرین کو قانونی اور نفسیاتی مدد بھی فراہم کی ہے۔