Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • راولپنڈی: جرگے کے حکم پرخاتون کاقتل، کیس میں گرفتار باپ، بھائی اور سابق شوہر نےاعتراف جرم کرلیا

    راولپنڈی: جرگے کے حکم پرخاتون کاقتل، کیس میں گرفتار باپ، بھائی اور سابق شوہر نےاعتراف جرم کرلیا

    راولپنڈی میں قتل کے جرم میں گرفتار باپ، بھائی اور سابق شوہر کا عدالت نے چار روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا، ملزمان نے جرم کا اعتراف کیا ہے۔

    پنڈی میں سترہ سالہ لڑکی سدرہ کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کے جرم میں گرفتار چھ ملزمان کو پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ کڑے پہرے میں سول جج قمرعباس تارڑ کی عدالت میں پیش کردیا گیا،ان ملزمان میں قتل کا حکم دینے والا جرگے کے سربراہ عصمت اللہ، مقتولہ کے والد عرب گل، بھائی ظفر گل، پہلے شوہر ضیاء الرحمان، مقتولہ کے چچا مانی سسر سلیم شامل ہیں،ملزمان کو دیکھنے کے لئے شہریوں کی بڑی تعداد عدالت کے باہر پہنچ گئی تاہم پولیس ان تمام ملزمان کے چہرے ڈھانپ کر لائی تھی۔

    پشاور ہائیکورٹ: علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری معطل

    تفتیشی آفیسر نے کہا کہ ابتدائی تفتیش میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، تمام ملزمان نے قتل کا اعتراف کرلیا ہے، ملزمان سے گلا دبا کر مارنے والا تکیہ اور دیگر آلات برآمد کرنے ہیں سات دن کا ریمانڈ دیا جائے، ملزمان سے تفتیش کرنی ہے تفتیش میں تمام ملزمان سے ان کے تحریری بیانات لیے جائیں گے،عدالت نے تمام ملزمان کا 4 دن کا جسمانی ریمانڈ دے دیا اور تفتیش مکمل کرکے یکم اگست کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

    عمران خان کی ضمانت کی 8 اپیلیں کل سماعت کیلئے مقرر

  • زمین کی رقم کا تنازع:شہری نے  بزرگ والدین اور بیوی کو قتل کردیا

    زمین کی رقم کا تنازع:شہری نے بزرگ والدین اور بیوی کو قتل کردیا

    منڈی بہاؤالدین کی تحصیل پھالیہ کے نواحی گاؤں اسداللہ پور میں شخص نے مبینہ طور پر زمین کی رقم کے تنازع پر والدین اور بیوی کو فائرنگ کرکے بے رحمی سے قتل کر دیا-

    پولیس ذرائع کے مطابق مقتول محمد حسین نے کچھ عرصہ قبل اپنی 4 کنال زرعی زمین تقریباً 2 کروڑ روپے میں فروخت کی تھی، روزگار کے سلسلے میں کویت مقیم ان کا بیٹا احسان اللہ چار روز قبل ہی وطن واپس آیا تھا،ملزم نے وطن واپسی پر مبینہ طور پر والد سے زمین کی فروخت پر ملنے والی رقم میں اپنا حصہ مانگا، جس پر تلخ کلامی شدت اختیار کر گئی، والدین کی جانب سے انکار پر احسان اللہ آپے سے باہر ہو گیا اور پستول نکال کر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔

    فائرنگ کے نتیجے میں ملزم کے والد 75 سالہ محمد حسین، والدہ 70 سالہ رسولاں بی بی اور 35 سالہ اہلیہ ماریہ بی بی موقع پر ہی دم توڑ گئی، واردات کے بعد ملزم آلۂ قتل سمیت موقع سے فرار ہو گیا،واقعہ کی اطلاع ملتے ہی تھانہ بھاگٹ کی پولیس موقع پر پہنچی اور لاشوں کو اپنی تحویل میں لے کر ضروری کارروائی کے بعد پوسٹ مارٹم کے لیے ٹی ایچ کیو ہسپتال پھالیہ منتقل کیا گیا، پولیس نے جائے وقوعہ کو محفوظ بنا کر شواہد اکٹھے کیے جبکہ فرانزک ٹیم کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔

    حوثیوں کا اسرائیل سے ڈیل کرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان

    ڈی پی او منڈی بہاؤالدین وسیم ریاض خان خود جائے وقوعہ پر پہنچے اور تفتیشی ٹیموں کو فوری احکامات جاری کیے، ان کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے افسوسناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او گوجرانوالہ طیب حفیظ چیمہ اور ڈی پی او منڈی بہاؤالدین وسیم ریاض سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہےآئی جی پنجاب نے ہدایت کی ہے کہ اس دلخراش واردات میں ملوث سفاک ملزم کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، اور متاثرہ خاندان کو ہر ممکن قانونی معاونت فراہم کی جائے۔

    کمبوڈیا اور تھائی لینڈ فوری اور غیر مشروط جنگ بندی پر رضامند

  • اوکاڑہ: پولیس مقابلے میں 115 وارداتوں میں ملوث 3 خطرناک ڈاکو ہلاک، 3 فرار

    اوکاڑہ: پولیس مقابلے میں 115 وارداتوں میں ملوث 3 خطرناک ڈاکو ہلاک، 3 فرار

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)اوکاڑہ کے نواحی علاقے دیپالپور میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان مبینہ مقابلے کے دوران تین بین الاضلاعی خطرناک ڈاکو ہلاک ہو گئے، جب کہ تین ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان 115 سے زائد قتل، اقدامِ قتل اور ڈکیتی جیسی سنگین وارداتوں میں ملوث تھے۔

    واقعہ اس وقت پیش آیا جب شہری اسد نے پکار 15 پر اطلاع دی کہ گنگووال کے علاقے میں چھ ڈاکو واردات کر کے فرار ہو رہے ہیں۔ اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او صدر دیپالپور انسپکٹر غازی اختر خان اپنی ٹیم کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور ڈاکوؤں کا تعاقب شروع کیا۔ ڈاکوؤں نے پولیس کو دیکھتے ہی اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس کے جواب میں پولیس نے مؤثر کارروائی کی۔

    فائرنگ کے تبادلے کے دوران تین ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کی زد میں آکر ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والے ڈاکوؤں کی شناخت شعبان عرف جانو، نزیر عرف بگی اور عبدالمنان کے ناموں سے ہوئی، جو لاہور، قصور، پاکپتن اور فیصل آباد سمیت کئی اضلاع میں پولیس کو مطلوب تھے۔

    پولیس نے موقع سے اسلحہ، شناختی کارڈز اور نقدی بھی برآمد کر لی ہے، جبکہ فرار ہونے والے تین ڈاکوؤں کی تلاش جاری ہے۔ علاقے کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور سرچ آپریشن میں پولیس کی بھاری نفری حصہ لے رہی ہے۔

    ترجمان پولیس کے مطابق جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

  • اوکاڑہ: محکمہ تحفظ جنگلی حیات کی بڑی کارروائی، بھاری تعداد میں بھورے جنگلی تیتر برآمد، ملزم فرار

    اوکاڑہ: محکمہ تحفظ جنگلی حیات کی بڑی کارروائی، بھاری تعداد میں بھورے جنگلی تیتر برآمد، ملزم فرار

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)محکمہ تحفظ جنگلی حیات اوکاڑہ نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے بھاری تعداد میں نایاب بھورے جنگلی تیتر برآمد کر لیے۔ یہ کارروائی اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر شہباز انور مان کی ہدایت پر عمل میں لائی گئی، جس میں سینئر رینجر آفیسر رائے اعجاز احمد، میاں طارق عزیز، محمد مشتاق احمد اور محمد عمران خان پر مشتمل وائلڈ لائف ٹیم نے حصہ لیا۔

    کارروائی کے دوران اوکاڑہ کے رہائشی مشتاق عرف بگی کے گھر پر قانونی سرچ وارنٹ کے تحت چھاپہ مارا گیا، جہاں سے بڑی تعداد میں جنگلی تیتر برآمد ہوئے۔ تاہم ملزم وائلڈ لائف رینجر عملے کو دیکھتے ہی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

    محکمہ وائلڈ لائف نے تمام برآمد شدہ پرندے مالِ مقدمہ کے طور پر اپنی تحویل میں لے کر قانونی کارروائی مکمل کی اور مقدمہ عدالتِ اسپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ اوکاڑہ میں پیش کر دیا گیا۔

    اس موقع پر شہباز انور مان نے کہا کہ جنگلی جانوروں اور پرندوں کے تحفظ کے لیے وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی، اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

  • اوچ شریف: زمین کے تنازع نے بھائی کو دشمن بنا دیا، نذیر احمد کی دہائی پر پولیس خاموش

    اوچ شریف: زمین کے تنازع نے بھائی کو دشمن بنا دیا، نذیر احمد کی دہائی پر پولیس خاموش

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار: حبیب خان)موضع لاڑ بستی کھنڈو، تھانہ نو شہرہ جدید کی حدود میں زمین کے تنازع نے خاندانی رشتوں کو دشمنی میں بدل دیا ہے۔ نذیر احمد نامی شہری نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے سگے بھائی وزیر احمد نے زرعی زمین ہتھیانے کی غرض سے نہ صرف اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کر رکھی ہیں بلکہ اس کی جان کو بھی شدید خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔

    نذیر احمد نے اس سلسلے میں تھانہ نو شہرہ جدید، ایس ایچ او اور ڈی پی او بہاولپور کو متعدد بار تحریری درخواستیں دیں، تاہم پولیس کی جانب سے مکمل خاموشی اور بے حسی کا مظاہرہ کیا گیا۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہی گھر میں غیر محفوظ ہو چکا ہے اور پولیس کی مجرمانہ خاموشی اسے موت کے منہ کی طرف دھکیل رہی ہے۔ اس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر کوئی افسوسناک واقعہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری پولیس اور ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

    علاقہ مکینوں نے بھی پولیس رویے پر سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ زمینی تنازعات جیسے نازک معاملات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے عملی ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پولیس نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں تو یہ خاندانی جھگڑا کسی بڑے خونی سانحے میں بدل سکتا ہے۔

    سماجی حلقوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈی پی او بہاولپور فوری طور پر معاملے کا نوٹس لیں، نذیر احمد کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور وزیر احمد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس کی غیر سنجیدگی نے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم کر دی ہے، جو کسی وقت بھی قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ اگر بروقت اقدام نہ اٹھایا گیا تو صرف مذمت اور افسوس باقی رہ جائے گا۔

  • سکھر: محکمہ پولیس کے درجنوں اہلکاروں کے خلاف سزائیں، تبادلے اور اپیلیں مسترد

    سکھر: محکمہ پولیس کے درجنوں اہلکاروں کے خلاف سزائیں، تبادلے اور اپیلیں مسترد

    سکھر (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ڈی آئی جی سکھر رینج کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ کی زیر صدارت اردلی روم کا اہم اجلاس دفتر اطلاعات و تعلقاتِ عامہ سکھر رینج میں منعقد ہوا، جس میں کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال، جرائم پر قابو پانے میں ناکامی اور محکمانہ غفلت کے الزامات پر پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف محکمہ جاتی انکوائریوں کی روشنی میں سخت فیصلے سنائے گئے۔ اجلاس میں افسران و اہلکاروں کو میجر و مائنر سزائیں، تبادلے، تنبیہات اور برطرفی کے خلاف اپیلوں پر فیصلے جاری کیے گئے۔

    انسپکٹر عمران خان بھیو، انسپکٹر محمد رمضان ملاح اور کانسٹیبل عبدالجبار چنا کی ایک سال کی سروس ضبط کرلی گئی۔ انسپکٹر نظیر احمد منگی، سید آفتاب احمد شاہ، سعید احمد میرانی، سب انسپکٹر رحمت اللہ سولنگی، غلام صفدر بوزدار، مہربان کولاچی، اے ایس آئی تاج محمد ملک، اعجاز علی گڈانی، علی حسن ملاح، ہیڈ کانسٹیبل عبداللہ کلوڑ اور کانسٹیبل فقیر محمد رند کے سالانہ انکریمنٹ روکے گئے، جبکہ سب انسپکٹر سکندر علی لاکھیر کا دو سال کا انکریمنٹ روکا گیا۔

    سب انسپکٹر ذوالفقار بھمبرو، حق نواز کلوڑ اور کانسٹیبل ثناء اللہ ماچھی کی میجر سزاؤں کے خلاف اپیلیں خارج کر دی گئیں۔ ہیڈ کانسٹیبل عبداللہ کلوڑ کی میجر پنشمنٹ کو مائنر میں تبدیل کر دیا گیا جبکہ کانسٹیبل شرف الدین ملک کی سروس ضبط اور تنزلی کی سزا کو ایک سال کے انکریمنٹ کی روک میں بدل کر انہیں دوبارہ ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر بحال کر دیا گیا۔

    سب انسپکٹر خیر محمد لغاری، ہیڈ کانسٹیبل علی اکبر بھٹو، کانسٹیبل محمد شفیق پتافی اور معشوق علی بھمبرو کی برطرفی کے خلاف اپیلیں مسترد کی گئیں۔ تاہم کانسٹیبل آصف علی شیخ کی برطرفی کو ایک سال کی سروس ضبط کرنے میں تبدیل کرتے ہوئے بحال کر دیا گیا۔ کانسٹیبل عبدالنبی اجن اور عابد حسین مہیسر کی برطرفی کو کمپلسری ریٹائرمنٹ میں بدل دیا گیا۔

    انسپکٹر دیدار حسین ابڑو، جاوید علی میمن، سیف اللہ انصاری، ہیڈ کانسٹیبل محمد سومر پھوڑ، مشتاق احمد دایو، کانسٹیبل تیمور علی کورائی، ممتاز علی کورائی، بشیر احمد ملک، توفیق احمد مہر، زبیر احمد مہر، محمد ابراہیم ڈومکی اور انصاف علی گوپانگ کے خلاف الزامات ثابت نہ ہونے پر ان کے شوکاز نوٹسز فائل کر دیے گئے۔

    انسپکٹر مصور حسین قریشی، عبدل علی پتافی، رضوان ناریجو، سب انسپکٹر عبدالرزاق انصاری، غلام صفدر بوزدار، ثناء اللہ کونهارو، محمد پنیل منگی، اے ایس آئی عبدالجبار پٹھان، کانسٹیبل آصف علی سولنگی، الطاف حسین جتوئی، نظام الدین مری، صدام حسین لاڑک، اسد اللہ لاڑک، نوید ممتاز بھٹو، شیر زادہ پٹھان اور جونیئر کلرک برکت علی لاشاری کو تنبیہ کرتے ہوئے آئندہ محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

    اے ایس آئی رسول بخش دایو، کانسٹیبل مظفر حسین شیخ اور جونیئر کلرک منور حسین وسان کو ویلفیئر برانچز میں شہدائے پولیس کی فیملیز اور مرحوم اہلکاروں کے لواحقین کے مسائل حل نہ کرنے پر ایک سال کا انکریمنٹ روکتے ہوئے آئندہ محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی۔

    سی پیک ڈیوٹی اور دیگر وجوہات کے باعث مختلف یونٹس سے واپسی پر سکھر، خیرپور اور گھوٹکی میں انسپکٹر سے کانسٹیبل رینک کے 30 اہلکاروں کے تبادلے بھی کیے گئے۔

    ڈی آئی جی فیصل عبداللہ چاچڑ نے کہا کہ محکمانہ فرائض میں غفلت، لاپرواہی، کرپشن، اختیارات سے تجاوز اور خاص طور پر شہداء پولیس کی فیملیز سے بے حسی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، اور ایسی سرگرمیوں میں ملوث افسران و اہلکار کسی رعایت کے مستحق نہیں ہوں گے۔ ان کے خلاف سخت ترین محکمانہ و قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • سی ویو سے مرد و خاتون کی  لاشیں برآمد، ریٹائرڈ پولیس اہلکار کا بیٹا قتل

    سی ویو سے مرد و خاتون کی لاشیں برآمد، ریٹائرڈ پولیس اہلکار کا بیٹا قتل

    کراچی میں ساحل سمندر کے قریب سے نا معلوم مرد و خاتون کی لاشیں برآمد، فوری طور پر دونوں کی شناخت نہیں ہوسکی۔

    ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) جنوبی سید اسد رضا نے کہا ہے کہ،مرنے والے مرد اور عورت کی عمریں تقریباً 25 سے 30 سال کے درمیان ہیں، لاشوں پر گولیاں لگنے کے نشانات موجود ہیں، موقع سے 9 ایم ایم کے دو خول بھی برآمد ہوئے ہیں، کرائم سین سے شواہد جمع کیے جارہے ہیں، ملنے والی مرد کی لاش سے موبائل فون برآمد ہوا ہے،مقتولین کی شناخت اور مزید تفتیش کا عمل جاری ہے، لاشوں کو جناح ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، لاشوں کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔

    پولیس حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، واقعہ قتل ہے یا کوئی حادثہ، اس حوالے سے کچھ بھی کہنا مشکل ہے، ابتدائی تفتیش اور لاشوں کے پوسٹ مارٹم کے بعد حقائق معلوم ہوسکیں گے۔

    تنقید کرنے والی اداکارائیں شوبز چھوڑ کیوں نہیں دیتیں،وہ اس فیلڈ کا حصہ کیوں ہیں؟ محسن گیلانی

    ادھر گارڈن، جمن شاہ مزار کے قریب سے ملنے والی لاش کی شناخت ریٹائرڈ پولیس اہلکار کے بیٹے کے نام سے ہوئی ہے،پولیس حکام کا بتانا ہے کہ مقتول عبداللہ کا والد پولیس میں اکاونٹنٹ تھا، مقتول عبداللہ کو نامعلوم افراد اس کے گھر گارڈن ہیڈ کوارٹر سے بلاکر لے گئے تھے، 12گھنٹے بعد عبداللہ کی گولی لگی لاش ملی۔

    اسرائیلی وزیر کی ایرانی سپریم لیڈر کو براہ راست نشانہ بنانے کی دھمکی

  • لاہور سے اغوا کی گئی  بچی کراچی سے بازیاب

    لاہور سے اغوا کی گئی بچی کراچی سے بازیاب

    لاہور سے اغوا کی گئی 11سالہ بچی کو کراچی سے بازیاب کروا کر والدین کے حوالے کردیا گیا۔

    ترجمان کے مطابق،سیف سٹی ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے لاہور کے علاقے کاہنہ سے اغوا ہونے والی 11 سالہ بچی آیت کو کراچی سے بحفاظت بازیاب کروا لیا، آیت اپنے گھر کے باہر کھیلتے ہوئے لاپتا ہو گئی تھی، جس پر والدین نے فوری طور پر ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دی بعد ازاں تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اغوا کار بچی کو لاہور سے ٹرین کے ذریعے کراچی لے جا رہا تھا، تاہم راستے میں وہ بچی کو ٹرین میں اکیلا چھوڑ کر غائب ہو گیا۔

    جعفر ایکسپریس شکار پور کے قریب حادثے کا شکار

    ہوش میں آنے پر 11 سالہ آیت نے خود کو تنہا پایا اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے قریبی شہری سے فون لے کر اطلاع دی کہ وہ روہڑی ریلوے اسٹیشن پر موجود ہےاطلاع ملتے ہی سیف سٹی ٹیم نے فوری طور پر ریلوے پولیس سے رابطہ کیا، جس پر ریلوے پولیس نے بچی کو روہڑی اسٹیشن پر اپنی تحویل میں لے لیا بعد ازاں اُسے کراچی کینٹ تھانے منتقل کیا گیا، جہاں لاہور سے والد اور انویسٹی گیشن آفیسر بچی کو لینے پہنچے،سیف سٹی، لاہور پولیس اور سندھ پولیس کی بروقت اور مربوط کارروائی کے نتیجے میں آیت کو بحفاظت والدین کے حوالے کر دیا گیا۔

    کولمبیا کا اسرائیل کو کوئلہ برآمد کرنے پر پابندی کا اعلان

    ترجمان سیف سٹی کے مطابق ’’میرا پیارا‘‘ٹیم اب تک 35 ہزار سے زائد گمشدہ یا لاوارث افراد کو اُن کے پیاروں سے ملوانے میں کامیاب ہو چکی ہے، عوام سے اپیل ہے کہ کسی بھی گمشدہ یا لاوارث شخص کی اطلاع فوری طور پر 15 پر دیں تاکہ بر وقت مدد ممکن بنائی جا سکے۔

  • نوشہروفیروز: مبینہ زیادتی کا شکار لڑکی جرگہ فیصلے کے انتظار میں پراسرار طور پر جاں بحق

    نوشہروفیروز: مبینہ زیادتی کا شکار لڑکی جرگہ فیصلے کے انتظار میں پراسرار طور پر جاں بحق

    سندھ کے ضلع نوشہروفیروز کے علاقے محبت ڈیرو میں مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی، جو فیصلے کے لیے وڈیرے کے پاس لے جائی گئی تھی، پراسرار طور پر انتقال کر گئی۔ اس واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید تشویش کا باعث بن گیا ہے۔

    ڈی ایس پی نوشہروفیروز کے مطابق دو ہفتے قبل لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کے بعد فریقین روایتی پنچایت (جرگہ) کے ذریعے فیصلہ کروانے کے لیے مقامی وڈیرے کے پاس گئے۔ ڈی ایس پی نے بتایا کہ جرگے کے فیصلے تک متاثرہ لڑکی کو وڈیرے کے گھر پر رکھا گیا تھا۔پولیس حکام کے مطابق لڑکی کی نانی نے اپنی پوتی کی موت پر شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے قریبی رشتہ داروں پر قتل کا الزام عائد کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی تک لڑکی کی موت کی وجوہات واضح نہیں ہو سکیں، اور اصل حقائق پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی معلوم ہوں گے۔

    انسانی حقوق کے کارکنوں اور سماجی تنظیموں نے اس واقعے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جرگہ یا وڈیرے کے نظام کے ذریعے انصاف کے بجائے اکثر متاثرین کو مزید اذیت اور ظلم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے پہلے بھی بلوچستان کے علاقے سنجیدی ڈیگاری اور راولپنڈی کے پیر ودھائی میں دو خواتین کو جرگے کے فیصلوں کے نتیجے میں قتل کیے جانے کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔پولیس نے لڑکی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا ہے اور ابتدائی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ ڈی ایس پی کے مطابق تمام زاویوں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں، اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔

  • فیصل آباد: خاتون سے زیادتی اور ویڈیو وائرل کرنے کا ملزم درزی گرفتار

    فیصل آباد: خاتون سے زیادتی اور ویڈیو وائرل کرنے کا ملزم درزی گرفتار

    اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والی خاتون سے زیادتی اور ویڈیو بنا کر وائرل کرنے کے مقدمے میں مقامی درزی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کپڑے سلائی کروانے کے لیے درزی کے پاس گئی تھی، جہاں ملزم نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ملزم نے خاتون کی نازیبا ویڈیو بنا کر نہ صرف اسے بلیک میل کیا بلکہ ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی دے کر پیسے بٹورنے کی کوشش بھی کی۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

    وادی تیراہ واقعہ: جاں بحق افراد کے لیے ایک کروڑ، زخمیوں کے لیے 25 لاکھ روپے کا اعلان

    فلپائن میں سیلاب و لینڈ سلائیڈنگ، 30 افراد جاں بحق

    بھارت: ہریدوار کے مندر میں بھگدڑ، 7 افراد ہلاک، 55 سے زائد زخمی