Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • چترال:48 گھنٹوں کے دوران 4 افراد کی خود کشی

    چترال:48 گھنٹوں کے دوران 4 افراد کی خود کشی

    چترال میں گزشتہ 2 دنوں کے دوران 3 خواتین سمیت 4 افراد نے مبینہ طور پر خودکشی کرلی، تمام افراد نے دریا میں چھلانگ لگا کر خودکشی کی۔

    پولیس،کاکہناہےکہ،ایک نو عمر لڑکی نے چیو بازار کے علاقے میں دریا میں چھلانگ لگا دی، بعد ازاں اس کی لاش دریا سے نکالی گئی اور پوسٹ مارٹم کے بعد والدین کے حوالے کر دی گئی،سب ڈویژنل پولیس افسر (سٹی سرکل) سجاد حسین نے بتایا کہ متوفیہ کے والدین اپر چترال کی تحصیل موڑکھو سے ہجرت کر کے چترال ٹاؤن کے سنگور گاؤں منتقل ہوئے تھے لڑکی کی خودکشی کی فوری وجہ معلوم نہیں ہو سکی، تاہم پولیس نے واقعے کی حقیقت جاننے کے لیے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 174 کے تحت تفتیش شروع کر دی ہے۔

    دوسرے واقعے میں، اپر چترال کے لاسپور وادی کے گاؤں رمن سے تعلق رکھنے والے ایک نو بیاہتا نوجوان، زار نبی نے دریا میں چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیاسب ڈویژنل پولیس افسر مستوج شیر راجہ، نے اس واقعے کی تصدیق کی اور بتایا کہ متوفی کی شادی تین روز قبل ہوئی تھی، انہوں نے کہا کہ لاش کی تلاش جاری ہے۔

    ملک کا حال برا ہو تو میرا حال بھی برا ہو جاتا ہے، انور مقصود

    انہوں نے بتایا کہ مستوج میں ایک اور واقعے میں، نِسور گول کی ایک شادی شدہ خاتون نے دریا میں کود کر اپنی جان لے لی، اس کی لاش بعد میں بازیاب کر لی گئی پولیس نے دونوں واقعات میں وجوہات جاننے کے لیے تفتیش شروع کر دی ہے۔

    ایک اور واقعے میں، اپر چترال کے موڑکھو علاقے کے گاؤں کوشت کی جماعت نہم کی ایک طالبہ نے بھی اسی انداز میں خودکشی کی، اس کی لاش ابھی تک برآمد نہیں ہو سکی،متوفیہ اسلام آباد کے ایک اسکول میں زیر تعلیم تھی اور گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنے والدین کے ساتھ گاؤں آئی ہوئی تھی۔

    معروف ماڈل نے فلم پریمیئر پر پروڈیوسر کو چپل دے ماری

  • سرکاری ہسپتال کے باتھ روم میں خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنانے والا پولیس اہلکار رنگے ہاتھوں گرفتار

    سرکاری ہسپتال کے باتھ روم میں خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنانے والا پولیس اہلکار رنگے ہاتھوں گرفتار

    گوجرخان (باغی ٹی وی رپورٹ) تحصیل گوجرخان کے سول ہسپتال میں ایک انتہائی شرمناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں پولیس کا ایک اہلکار خواتین کے باتھ روم میں نازیبا ویڈیوز اور تصاویر بناتا ہوا رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔ واقعہ نے نہ صرف ہسپتال انتظامیہ بلکہ سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اُس وقت سامنے آیا جب ایک شہری بلال حسین نے ہسپتال کے باتھ روم اور دیگر مقامات پر ایک مشکوک شخص کو خواتین کی ویڈیوز بناتے دیکھا۔ شہری نے شک کی بنیاد پر فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ شخص کو قابو میں لے لیا اور اس کا موبائل فون چیک کیا، جس میں متعدد خواتین کی نازیبا تصاویر اور ویڈیوز موجود تھیں۔ ملزم کو موبائل سمیت فوری طور پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

    پولیس نے مقدمہ بلال حسین کی مدعیت میں درج کر لیا ہے، جس نے اپنی شکایت میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ علاج کے لیے سول ہسپتال گوجرخان آیا تھا جہاں اس نے ایک شخص کو خواتین کے باتھ روم کے قریب مشکوک انداز میں گھومتے دیکھا۔ شک ہونے پر جب اس سے باز پرس کی گئی تو اس کے موبائل فون سے خواتین کی نازیبا ویڈیوز اور تصاویر برآمد ہوئیں، جو بظاہر ہسپتال کے باتھ روم اور دیگر مقامات پر خفیہ طور پر بنائی گئی تھیں۔

    پولیس نے ملزم کی شناخت عقیل عباس کے نام سے کی ہے، جو راجگان کا رہائشی اور پولیس ٹریننگ ونگ لاہور سے وابستہ بتایا جا رہا ہے۔ حیرت انگیز طور پر ملزم اہلکار سادہ کپڑوں میں ملبوس تھا تاکہ کسی کو شک نہ ہو اور وہ بآسانی خواتین کے قریب جا سکے۔

    گوجرخان پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے عقیل عباس کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 354 (خواتین کی عزت پر حملہ) اور 292 (فحش مواد کی تیاری و اشاعت) کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مقدمے کے اندراج کے بعد ملزم سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

    ایس پی صدر نبیل کھوکھر نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرفتار اہلکار کا تعلق پولیس ٹریننگ ونگ لاہور سے ہے اور اس واقعے کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے گھناونے فعل میں ملوث کسی بھی شخص کو قطعاً معاف نہیں کیا جائے گا اور ملزم کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے گی تاکہ آئندہ کوئی اہلکار وردی کے وقار کو داغدار نہ کر سکے۔

    ادھر شہری حلقوں، سماجی تنظیموں اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان نے واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس محکمے میں ایسے عناصر کی سختی سے چھان بین کی جائے اور اسپتالوں سمیت عوامی مقامات پر سیکیورٹی کو بہتر بنایا جائے تاکہ خواتین محفوظ رہ سکیں۔

    یہ واقعہ نہ صرف پولیس کے نظامِ احتساب کے لیے لمحہ فکریہ ہے بلکہ معاشرے میں خواتین کے تحفظ پر جاری مباحثے کو مزید شدت دے گیا ہے۔ عوامی مطالبہ ہے کہ ایسے واقعات میں ملوث مجرموں کو نہ صرف نشانِ عبرت بنایا جائے بلکہ ادارہ جاتی اصلاحات بھی فوری نافذ کی جائیں۔

  • گھوٹکی: ٹک ٹاکرسمیرا راجپوت کی پر اسرار موت، زہر دیے جانے کا الزام، دو افراد گرفتار

    گھوٹکی: ٹک ٹاکرسمیرا راجپوت کی پر اسرار موت، زہر دیے جانے کا الزام، دو افراد گرفتار

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق لغاری) ضلع گھوٹکی کے نواحی علاقے میں ظلم اور سفاکی کا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا ہے، جہاں معروف ٹک ٹاکر مسمات سمیرا راجپوت دختر محمد شریف راجپوت کی لاش اس کے گھر سے ملی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق سمیرا کو مبینہ طور پر زہریلی گولیاں دے کر قتل کیا گیا اور اس کی لاش گھر میں اس انداز سے پھینکی گئی تاکہ موت کو قدرتی موت ظاہر کیا جا سکے۔

    ڈی ایس پی انور شیخ کے مطابق مقتولہ کی 15 سالہ بیٹی نے اپنے بیان میں بتایا کہ چند افراد اس پر زبردستی شادی کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے اور اسی دباؤ کے باعث اس کی والدہ سمیرا کو زہر دے کر قتل کیا گیا۔ بیٹی نے واقعے کے فوراً بعد ایمبولینس کے ذریعے لاش کو اپنی خالہ کے گھر منتقل کیا اور پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ پر پہنچی اور لاش کو اپنی تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا۔

    ذرائع کے مطابق سمیرا راجپوت طویل عرصے سے گھریلو تنازعات اور سسرالی رشتہ داروں کی جانب سے ہراسانی کا شکار تھی۔ مقتولہ کی بیٹی کے بیانات اور ابتدائی شواہد کی بنیاد پر پولیس کو شبہ ہے کہ یہ ایک باقاعدہ سازش کے تحت کیا گیا قتل ہو سکتا ہے۔ پولیس نے شک کی بنیاد پر دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

    ایم ایس سول اسپتال ڈاکٹر سرونند کے مطابق ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں تشدد کے کوئی شواہد نہیں ملے، تاہم لاش سے حاصل کیے گئے نمونے لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ آنے کے بعد موت کی اصل وجہ سامنے آئے گی۔ دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ تاحال مقدمہ درج نہیں کیا گیا اور تفتیش جاری ہے۔

  • اوکاڑہ: بابا فرید شوگر مل میں 12,600 میٹرک ٹن چینی کا سٹاک موجود،کیا ہوپائے گی شوگرمافیا کے خلاف کارروائی

    اوکاڑہ: بابا فرید شوگر مل میں 12,600 میٹرک ٹن چینی کا سٹاک موجود،کیا ہوپائے گی شوگرمافیا کے خلاف کارروائی

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد شوجین وسٹرو نے اسسٹنٹ کمشنر چوہدری رب نواز کے ہمراہ بابا فرید شوگر مل کا دورہ کیا اور چینی کے سٹاک کی دستیابی کا جائزہ لیا۔ مل انتظامیہ کے مطابق اس وقت 12,600 میٹرک ٹن چینی کا ذخیرہ موجود ہے اور کسی قسم کی قلت کا سامنا نہیں۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ عوام کے لیے وافر مقدار میں چینی موجود ہے، تاہم ذخیرہ اندوزی اور اوور چارجنگ کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔

    انہوں نے واضح کیا کہ حکومت پنجاب کی ہدایت کے مطابق چینی کی مصنوعی قلت پیدا کرنے یا بلیک مارکیٹنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ایسے عناصر کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے اور ان کے چینی کے ذخائر ضبط کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے مہنگائی کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • واربرٹن: ڈوبنے سے بچاؤ کے عالمی دن پر پولیس اور ریسکیو 1122 کی جانب سے آگاہی سیشنز کا انعقاد

    واربرٹن: ڈوبنے سے بچاؤ کے عالمی دن پر پولیس اور ریسکیو 1122 کی جانب سے آگاہی سیشنز کا انعقاد

    واربرٹن (باغی ٹی وی، رپورٹر عبدالغفار چوہدری)عالمی دن برائے ڈوبنے سے بچاؤ کے موقع پر واربرٹن پولیس اور ریسکیو 1122 کی مشترکہ کاوش سے حالیہ طوفانی بارشوں سے زیر آب آنے والے نواحی دیہات میراں پور اور ملوک میں آگاہی سیشنز منعقد کیے گئے۔ یہ سیشنز ڈی پی او ننکانہ صاحب سید ندیم عباس کی خصوصی ہدایت پر منعقد ہوئے جن میں مقامی آبادی، خصوصاً بچوں اور والدین کو ڈوبنے سے بچاؤ کی اہم تدابیر سے آگاہ کیا گیا۔

    ایس ایچ او تھانہ واربرٹن مجاہد عباس ملہی اور ریسکیو سیفٹی آفیسر علی عمران اعوان نے آگاہی سیشنز کی سربراہی کی اور شہریوں کو گہرے پانی، تالابوں، نہروں اور کھلے پانی کے ذخائر کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر بتائیں۔ شہریوں کو خصوصی طور پر یہ ہدایت دی گئی کہ:

    * بچوں کو کبھی بھی پانی کے قریب تنہا نہ چھوڑا جائے
    * تیرنا سیکھنا اور سکھانا ضروری ہے
    * لائف جیکٹس اور لائف رنگز کا درست استعمال سیکھا جائے
    * کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں فوری طور پر 15 پر اطلاع دی جائے

    ریسکیو 1122 کے تربیتی عملے نے موقع پر لائف جیکٹس پہننے، لائف رنگ استعمال کرنے اور تیز پانی سے گزرنے کے محفوظ طریقے بھی سکھائے۔

    شرکاء نے پولیس اور ریسکیو اہلکاروں کی کاوش کو سراہا اور یہ عہد کیا کہ وہ خود بھی ان احتیاطی تدابیر پر عمل کریں گے اور دوسروں کو بھی اس بارے میں آگاہ کریں گے۔

    ڈی پی او سید ندیم عباس کا کہنا تھا کہ ڈوبنے کے واقعات کو "خاموش قاتل” کہا جاتا ہے جو ہر سال ہزاروں زندگیاں نگل لیتے ہیں، جن میں بچوں کی تعداد نمایاں ہے۔ ننکانہ پولیس عوامی تحفظ کے مشن میں ہمہ وقت مستعد ہے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرتی رہے گی۔

  • سیالکوٹ: سانحہ ڈسٹرکٹ جیل کی 22ویں برسی پر دعائیہ تقریب، شہید ججز کو خراجِ عقیدت

    سیالکوٹ: سانحہ ڈسٹرکٹ جیل کی 22ویں برسی پر دعائیہ تقریب، شہید ججز کو خراجِ عقیدت

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی،بیورورپورٹ+ سٹی رپورٹر )سانحہ ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ کی 22ویں برسی کے موقع پر ضلعی عدلیہ سیالکوٹ میں ایک پُراثر دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ندیم طاہر سید نے کی۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سینئر سول ججز، سول ججز اور سیکرٹری ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن افضال اسلم بھی موجود تھے۔

    تقریب کا آغاز یادگار شہداء پر پھول چڑھانے اور شہید ججز کے لیے مغفرت کی اجتماعی دعا سے ہوا۔ پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہداء کو سلامی پیش کر کے ان کی عظیم قربانی کو سلام پیش کیا۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ندیم طاہر سید نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 25 جولائی 2003 کا دن عدلیہ کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا، جب چار معزز جج صاحبان نے ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ کے معائنہ کے دوران دورانِ ڈیوٹی جام شہادت نوش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان جج صاحبان کی قربانی عدلیہ کی آزادی، سچائی کی سربلندی اور نظامِ عدل کے تحفظ کی ایک روشن مثال ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ شہداء ججز کا صبر و استقامت اور فرض شناسی آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے اور عدلیہ و بار ایسوسی ایشن ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ تقریب میں شریک تمام ججز اور وکلاء نے بھی شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے دعائیں کیں اور ان کی عظمت کو سلام پیش کیا۔

  • تنگوانی: نوجوانوں کو ملازمت کا جھانسہ دے کر اغوا اور قتل کرنے والا درندہ صفت ڈاکو پولیس مقابلے میں ہلاک

    تنگوانی: نوجوانوں کو ملازمت کا جھانسہ دے کر اغوا اور قتل کرنے والا درندہ صفت ڈاکو پولیس مقابلے میں ہلاک

    تنگوانی (باغی ٹی وی نامہ نگار منصور بلوچ)پنجاب اور ملک کے دیگر شہروں سے نوجوانوں کو ملازمت کا جھانسہ دے کر اغوا، جنسی تشدد اور بیدردی سے قتل کرنے والا سفاک سیریل کلر اور بدنام زمانہ ڈاکو جیکب آباد پولیس کے مبینہ مقابلے میں مارا گیا۔ ہلاک ملزم کی شناخت نصیر عرف سلیم عرف ٹوڈو ولد تگھیو قوم ملک سکنہ گاؤں حضور بخش ملک تنگوانی ضلع کندھکوٹ کے نام سے ہوئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کے تھانہ سی سیکشن ٹھل کی حدود ماو واہ کے قریب پولیس اور جرائم پیشہ عناصر کے درمیان مقابلہ ہوا۔ فائرنگ کے تبادلے کے بعد نصیر عرف ٹوڈو ہلاک ہو گیا جبکہ پولیس نے اسلحہ برآمد کر لیا۔ ایس ایس پی جیکب آباد محمد کلیم ملک کے مطابق ہلاک ملزم انتہائی خطرناک اور درندہ صفت مجرم تھا، جو پنجاب، سندھ اور دیگر علاقوں سے نوجوانوں کو نوکری کے بہانے اغوا کرتا، جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا اور مزاحمت پر گلا کاٹ کر قتل کر دیتا تھا۔

    پولیس ترجمان کے مطابق ہلاک ملزم نے حالیہ واردات میں 17 جولائی 2025 کو ملتان سے تعلق رکھنے والے نوجوان وحید احمد شیخ کو اغوا کے بعد گلا کاٹ کر قتل کیا جبکہ محمد سلیمان نامی نوجوان کو شدید زخمی کیا۔ اس سے قبل بھی ملزم کئی وارداتوں میں ملوث رہا ہے، جس میں درج ذیل مقدمات شامل ہیں:

    1. ایف آئی آر نمبر 170/2025 تعزیرات پاکستان 365، تھانہ جمشید کوارٹر، ضلع ایسٹ کراچی
    2. ایف آئی آر نمبر 07/2020، غیر قانونی اسلحہ، تھانہ سٹی، جیکب آباد
    3. ایف آئی آر نمبر 34/2024، قتل، تھانہ غلام سرور سرکی، کشمور
    4. ایف آئی آر نمبر 124/2025، قتل و اقدام قتل، تھانہ اے سیکشن ٹھل، جیکب آباد

    ایس ایس پی کلیم ملک نے اس کامیاب کارروائی کو جیکب آباد پولیس کی بڑی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملزم جیسے درندہ صفت عناصر کا انجام صرف قانون کی گرفت میں آنا ہے۔ ہلاک ملزم کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے تعلقہ اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ترجمان جیکب آباد پولیس کے مطابق تفتیش جاری ہے اور دیگر مغویوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ پولیس کی اس کارروائی کو علاقے میں سراہا جا رہا ہے۔

  • پولیس ہیڈ کانسٹیبل ہسپتال کے بیت الخلا میں خواتین کی ویڈیوز بنانے کے الزام میں گرفتار

    پولیس ہیڈ کانسٹیبل ہسپتال کے بیت الخلا میں خواتین کی ویڈیوز بنانے کے الزام میں گرفتار

    گوجر خان میں پولیس کے ایک ہیڈ کانسٹیبل کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کے بیت الخلا میں خواتین کی ویڈیو بنانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

    اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس سید دانیال نے کہا کہ پولیس کو ایک رہائشی کی جانب سے شکایت موصول ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ملزم، جو کہ پنجاب پولیس کے لاہور دفتر میں تعینات ہیڈ کانسٹیبل ہے، مبینہ طور پر ہسپتال کے وارڈز کے بیت الخلا میں خواتین کی ویڈیوز بنا رہا تھا پولیس نے ملزم کو ہسپتال سے گرفتار کر کے اس کا موبائل فون بھی قبضے میں لے لیا ہے ابتدائی تفتیش کے دوران پتا چلا کہ ملزم ایک حاضر سروس افسر ہے۔

    پولیس کے مطابق ملزم کے موبائل فون سے خواتین کی بیت الخلا استعمال کرتے ہوئے متعدد نازیبا ویڈیوز ملی ہیں، جنہیں فرانزک جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ہے پولیس میرٹ پر تفتیش کرے گی اور کسی قسم کی رعایت یا نرمی نہیں برتی جائے گی۔

    پی ٹی آئی کے نوابزادہ محسن علی خان ن لیگ کو پیارے ہو گئے

    پولیس نے ملزم کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 354 (خاتون پر حملہ یا زبردستی اور اس کے کپڑے اتارنا)، 292 (فحش مواد کی فروخت وغیرہ)، اور 509 (خاتون کی عزت نفس کی توہین یا جنسی طور پر ہراساں کرنا) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

    اے ایس پی سید دانیال نےبتایا کہ ملزم کے خلاف پہلے بھی زیادتی کا مقدمہ درج ہو چکا ہے، تاہم وہ کیس بعد میں ختم کر دیا گیا تھا2020 میں درج کی گئی ایک ایف آئی آر کے مطابق ملزم پر الزام تھا کہ اس نے ایک بیوہ کے ساتھ زیادتی کی تھی اور اس کے خلاف دفعہ 452 (زخمی کرنے، حملہ کرنے یا غلط طور پر روکنے کی تیاری کے بعد مکان میں گھسنا)، دفعہ 354 (خاتون کی عزت پامال کرنے کی نیت سے حملہ یا زبردستی) اور دفعہ 34 (متعدد افراد کی مشترکہ کارر وائی) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا،تاہم، بعد میں اس نے متاثرہ خاتون سے صلح کر لی تھی، جس کے بعد مقدمہ واپس لے لیا گیا اور اسے بحال کر دیا گیا تھا۔

    نوعمر بچوں کو نشے کا عادی بنا کر وارداتیں کروانے کا انکشاف

  • معروف ٹک ٹاکر کی لاش  ان کے گھر سے پراسرار حالت میں برآمد

    معروف ٹک ٹاکر کی لاش ان کے گھر سے پراسرار حالت میں برآمد

    معروف ٹک ٹاکر سمیرا راجپوت کی لاش ان کے گھر سے پراسرار حالت میں برآمد ہوئی۔

    معروف ٹک ٹاکر سمیرا راجپوت کی لاش سندھ کے ضلع گھوٹکی کے ممتاز شاہ محلے میں موجود ان کے گھر سے برآمد ہوئی،سمیرا کی موت زہریلی چیز کھانے سے واقع ہوئی، تاہم حتمی وجہ جاننے کے لیے لاش کو تعلقہ اسپتال گھوٹکی منتقل کر کے پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

    https://x.com/khurram143/status/1948640375368810818

    پولیس کے مطابق سمیرا راجپوت نے تین سال قبل علی رضا نامی شخص سے طلاق لے لی تھی مقتولہ کے بھائی صدام کا دعویٰ ہے کہ ان کی بہن کو سابق شوہر علی رضا اور اس کے ساتھی عمران نے زہر دے کر قتل کیا مقتولہ کی بیٹی نے بھی پولیس کو بتایا ہے کہ دونوں افراد سمیرا سے شادی کے خواہش مند تھے، جس پر کئی مرتبہ تنازعہ بھی ہوا۔

    واقعے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے علی رضا اور عدنان نامی نوجوان کو شک کی بنیاد پر حراست میں لے لیا ہے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے کی مزید کارروائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد عمل میں لائی جائے گی،ادھر سمیرا راجپوت کی ایک پرانی ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جس میں وہ واضح طور پر اپنی موت کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے اس کا ذمہ دار اپنے سابق شوہر علی رضا کو قرار دے رہی ہیں اس ویڈیو نے کیس کو مزید حساس بنا دیا ہےپولیس نے مقتولہ کے گھر سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔

  • نوعمر بچوں کو نشے کا عادی بنا کر وارداتیں کروانے کا انکشاف

    نوعمر بچوں کو نشے کا عادی بنا کر وارداتیں کروانے کا انکشاف

    کراچی میں نوعمر بچوں کو چرس اور آئس کے نشے کا عادی بنا کر ان سے وارداتیں کروانے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ پولیس نے نوعمر ڈکیت گروہ کے سرغنہ کو تین ساتھیوں سمیت گرفتارکرلیا۔

    سچل پولیس نے خفیہ اطلاع پر غازی گوٹھ اسکیم 33 کے قریب کارروائی کرتے ہوئے ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث نوعمر ڈکیت گروہ کے سرغنہ کو اس کے تین ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیا ملزمان کے قبضے سے پسٹل مع ایمونیشن، اعلیٰ کوالٹی کی چرس، موبائل فون، نقدی رقم اور ملزمان کے زیرِاستعمال بغیر نمبر پلیٹ لگی موٹرسائیکل برآمد ہوئی۔

    ایس ایچ او سچل امین کھوسہ کے مطابق ملزمان میں رضوان ولد رمضان، اظہار ولد ذوالفقار، یاسین ولد محمد ہاشم اور غلام محمد ولد مدد علی شامل ہیں، گروہ کا سرغنہ غلام محمد نوعمر بچوں کو چرس اور آئس کا عادی بنا کران سے وارداتیں کروایا کرتا تھا،گرفتار ملزمان کے خلاف سندھ اسلحہ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے گرفتار ملزمان نے دورانِ تفتیش غازی گوٹھ، سکندر گوٹھ اور اطراف کے علاقوں میں متعدد وارداتیں کرنے کا انکشاف کیا ہے –

    اداکارہ عمارہ چوہدری کا اکیلے رہنے کے حوالے سے ذاتی اور خوفناک تجربہ

    بلوچستان دہرا قتل کیس: بانو کو اپنی ”غلطی“ کا احساس ہوگیا تھا اور وہ خود اپنی جان لینا چاہتی تھی،بہن

    سینیٹ میں اسرائیلی پارلیمان کے خلاف مذمتی قرارداد منظور