Baaghi TV

Category: تعلیم

  • پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والا  85 سالہ پاکستانی

    پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والا 85 سالہ پاکستانی

    بلوچستان :85 سالہ شخص ہیبت اللہ حلیمی نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر کے نئی تاریخ رقم کر دی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ہیبت اللہ حلیمی نے یونیورسٹی آف بلوچستان سے سیاسیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے یونیورسٹی آف بلوچستان کے اٹھارویں کانووکیشن میں صورت حال اُس وقت دلچسپ شکل اختیار کر گئی جب یونیورسٹی آف بلوچستان کے سب سے معمر پی ایچ ڈی اسکالر ہیبت اللہ حلیمی اپنی ڈگری وصول کرنے کیلئے اسٹیج پر آئے۔

    حکومت نے 3 ماہ میں مزید کتنا قرض لیا؟ تفصیلات جاری

    گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا معمر پی ایچ ڈی اسکالر سے گلے ملے اور اُن کو ڈگری عطا کی پی ایچ ڈی اسکالر ہیبت اللہ حلیمی کا تعلق پولیس ڈپارٹمنٹ سے تھا اور وہ ڈی ایس پی کے عہدے پر فائز رہے معمر پی ایچ ڈی اسکالر نے 85 برس کی عمر میں سیاسیات میں اعلیٰ تعلیم کی ڈگری حاصل کی۔

    گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ،عوام کی پریشانی مزید بڑھ گئی

    گورنر بلوچستان نے کہا کہ اس عمر میں پی ایچ ڈی کرنے کا ارادہ اور اس کی تکمیل علم میں دلچسپی رکھنے والے تمام افراد کیلئے حوصلہ افزاء اور قابل فخر ہے۔

    عوام افواہوں پر کان نہ دھریں بلوچستان کے لیے ایک مثالی حکومت قائم کریں گے…

    سعودی یونیورسٹی میں طلبہ کے جینز اور ٹائٹس پہننے پر پابندی عائد

  • ساہیوال: کنٹرولر امتحانات کا امیدواروں کو ٹیلی فون کالز پر جواب نہ دینے اورمسائل حل نہ کرنے پر نوٹس

    ساہیوال: کنٹرولر امتحانات کا امیدواروں کو ٹیلی فون کالز پر جواب نہ دینے اورمسائل حل نہ کرنے پر نوٹس

    ساہیوال: کنٹرولر امتحانات پروفیسر شہزاد رفیق نے بورڈ کی برانچز میں امیدواروں کو ٹیلی فون کالز پر موثر جواب نہ دینے اور ان کے مسائل حل نہ کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ دور دراز سے فون کرنے والے امیدواروں کے ٹیلی فون پر ان کی فوری داد رسی کی جائے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق انہوں نے کہا کہ دیکھنے میں آیا ہے کہ میٹرک اور انٹر برانچوں کے آفیشل نمبرباربار ملانے کے باوجود کوئی جواب نہیں ملتا جس وجہ سے امیدوار مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ برانچ میں متعلقہ آفیسر یا اہلکار کی عدم دستیابی پر مختلف امیدواروں کو کنٹرولر آفس رجوع کرنے کا کہا جاتا ہے جو کہ دفتری اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے میٹرک اور انٹر برانچز کے افسران اور سپرنٹنڈنٹس کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ امیدواروں کو درپیش مسائل فوری حل کریں۔

    انہوں نے میٹرک اور انٹر برانچز کے افسران کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ اپنے موبائل آن رکھیں اور ٹیلی فون کالز سننے کے لئے فرض شناس اہلکار تعینات کریں۔

  • پنجاب پبلک سروس کمیشن نے” کرپشن” کو پکی نوکری دے دی؟

    پنجاب پبلک سروس کمیشن نے” کرپشن” کو پکی نوکری دے دی؟

    پیپر فروخت کرنے کے سکینڈل کے گرفتار ہونے والے ملزم کو دوبارہ رول نمبر سلپ جاری کر دی گئی-

    باغی ٹی وی : تقریباً سال پہلے تحصیلدار کا پیپر لیک ہونے کا اسکینڈل سامنے آیا تھا اس اسکینڈل میں ملوث ملزمان کو جنہوں نے یہ پیپر فروخت کیا تھا اینٹی کرپشن نے انہیں گرفتار بھی کیا تھا نہ چیف منسٹر انسپکشن ٹیم کی رپورٹ آئی اور نہ ہی سیکرٹری تبدیل ہوا-

    تفصیلات کے مطابق پنجاب پبلک سروس کمیشن، پنجاب کا ایک نہایت ہی معتبر ادارہ تھا جس کہ سیلکشن پراسس سے ہر کوئی متعین تھا نہایت قابل بیوروکریٹ اس ادارہ نے دئیے مگر گذشتہ دو سال سے ادارہ کی کچھ کالی بھیڑیں اس کا نام خراب کرنے لگی پیپر بیچنا شروع کر دیئے اس تمام عمل کا انکشاف اسی سال جنوری میں ہونے والے تحصیلدار پیپر سے ہوا پیپر فروش گروہ پکڑا گیا ان میں ایک نامی گرامی ٹھگ غضنفر نول تھا جس کو اینٹی کرپشن نے گرفتار کیا اسطرح اس کو جیل ہوئی پبلک سروس کمیشن نے امیدواروں کو تسلی دی کے ہم شفافیت لے کے آئیں گے امیدوار مطمن ہوئے اور پھر سے اس ماہ جب دوبارہ تحصیلدار کا پیپر شیڈول آیا رولنمبر سلپ اپلوڈ ہوئیں تو ملزم غضنفر خان کو بھی سلپ جاری کر دی یہی ہے وہ شفافیت جو پنجاب پبلک سروس کمیشن لایا یہ ادارہ ظلم پہ اتر آیا ہے امیدواروں کے مستقبل اب محفوظ نہیں ہیں ۔

    اس کے خلاف پاکستان ٹوئٹر پینل پر #PPSCSHAMEONYOU ٹرینڈ چلایا جا رہا ہے جس میں حصہ لینے والے صارفین کا کہنا ہے کہ ان درج ذیل مطالبات ان کو فوری طور پر منظور کیا جائے۔

    1-غضنفر خان نول اور اس کے ساتھ تمام شامل تمام کو بلیک لسٹ (Black list)کیا جائے۔
    2-تحصلدار کے پیپر کو کینسل کیا جائے اور جو کاروائی کمیشن نے گزشتہ 10 ماہ میں کی اس سے آگاہ کیا جائے۔
    3- عمر کی بالائی حد میں 5 سال کی ریلکسیشن دی جائے۔
    4- سنگل پیپر کی پالیسی پر عمل کیا جائے دو پیپر ہونے سے امیدواران کی حق تلفی ہوتی ہے۔اور انڑویو کے لئے ایک پینل ہو مختلف پینل نمبر مختلف دیتے ہیں ایک 80 پلس دیتا ہے اور دوسرا 60 بھی مشکل سے۔
    5- اکیڈمک کریٹیریا(Criteria Academic ) تبدیل کیا جائے۔اگر اکیڈمک مارکس کی اتنا ویلیو ہوتی تو پاکستان کے دو ٹاپ امتحان CSS /PMS میں کیوں کاونٹ نہیں ہوتے۔

  • وفاقی دارالحکومت میں غریب طلباء پر یونیورسٹیوں نے فیس بم گرا دیا

    وفاقی دارالحکومت میں غریب طلباء پر یونیورسٹیوں نے فیس بم گرا دیا

    وفاقی دارالحکومت میں غریب طلباء پر یونیورسٹیوں نے فیس بم گرا دیا،غرباء پر اعلی تعلیم کے دروازے بند یونیورسٹیوں نے فیسوں میں 40 فیصد ہوشرباء اضافہ کردیا۔

    وفاقی اردو یونیورسٹی میں انتظامیہ نے فی سمسٹر فیس میں 15ہزار 7سوروپے اضافہ کردیا،طلبہ نے اضافہ واپس لینے کامطالبہ کردیا،ترجمان نے موقف دیتے ہوئے کہاکہ حکومت پاکستان کی جانب سے جو فنڈز دیئے گئے ہیں وہ کراچی کیمپس رکھ لیتا ہے مجبوری کے تحت فیس میں اضافہ کیاگیا۔ وفاقی دارالحکومت میں سرکاری یونیورسٹیوں نے بغیر بتائے فیسوں میں 40فیصد ہوشربا اضافہ کردیاگیا۔وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد نے فیسوں میں 15ہزار روپے فیسوں میں اضافہ کردیا۔ بی ایس کی سمسٹر کی فیس 40ہزار سے بڑھادی گئی۔نئی سمسٹر کی فیس 55ہزار 700روپے کردی گئی۔ٹیوشن فیس 40ہزار سے بڑھا کر 44ہزار 500روپے کردی گئی۔متفرق چارجز کانام دے کر مزید 4ہزار 2سو اضافہ کیا گیا جبکہ ٹرانسپورٹ چارجز 7ہزار روپے کردیئے۔

    طلبہ نے فیسوں میں اضافے پر شدید احتجاج کیا اور مطالبہ کیاکہ فیسوں میں اضافہ واپس لیا جائے اور ٹرانسپورٹ چارجز کم اور ان طلبہ سے لیئے جائیں جو ٹرانسپورٹ کی سہولت استعمال کرتے ہیں یونیورسٹی سب سے ٹرانسپورٹ فیس لے رہی ہے مگر بسوں کی گنجائش ہی اتنی نہیں ہے۔

    ترجمان وفاقی اردو یونیورسٹی عرفات احمد قریشی نے موقف دیتے ہوئے کہاکہ 7 ہزار ٹرانسپورٹ فیس لی جارہی ہے۔ جس پر کچھ لوگ اعتراض کر رہے ہیں وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد اس وقت معاشی بحران کا شکار ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے جو فنڈز دیئے گئے ہیں وہ کراچی کیمپس رکھ لیتا ہے۔آپ ہمارے لیئے آواز بلند کریں مجبوری کے تحت فیسوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔فیسوں میں اضافے پر میڈیاکے اٹھائے گئے سوالات کوذمہ داران تک آپ کی بات پہنچ جائے گی۔

  • تعلیمی ادارے کھلنے کے حوالہ سے این سی او سی کا ایک بار پھر بڑا فیصلہ

    تعلیمی ادارے کھلنے کے حوالہ سے این سی او سی کا ایک بار پھر بڑا فیصلہ

    تعلیمی ادارے کھلنے کے حوالہ سے این سی او سی کا ایک بار پھر بڑا فیصلہ
    ‏این سی او سی نے تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھولنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے

    این سی او سی کے سربراہ،وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ 11 اکتوبرسے تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھول دئیے جائیں گے،کورونا کا پھیلاؤ کم ہو گیا ہے پاکستان میں کورونا کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی) نے تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس سے قبل تعلیمی اداروں میں 50 فیصد طلبا کی کلاسز ہو رہی تھیں کرونا پھیلاؤ میں کمی کے باعث این سی او سی نے تعلیمی اداروں کو معمول کے مطابق کھولنے کی اجازت کا فیصلہ کیا ہے۔

    کرونا ویکسین کے ذریعے ہمارے جسم میں بندر کا ڈی این اے ڈالا جائے گا،شہری عدالت پہنچ گیا

    کورونا ویکسین لگنے سے 500 کے قریب بھارتیوں کی حالت بگڑ گئی

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    دوسری جانب این سی او سی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ویکسین کی دوسری ڈوز لگوانے والے اہل افراد کو اطلاع دی جاتی ہے کہ وہ تمام افراد جن کی دوسری ڈوز کا مقرر وقت ہو چکا ہے وہ ہفتے کے ساتوں دن میسج کا انتظار کیئے بغیر کسی بھی ویکسین سینٹر سے اپنی دوسری ڈوز لگوا سکتے ہیں اتوار کا دن خصوصی طور پہ دوسری ڈوز کے لیے مقرر ہے

  • اہل فتح جنگ نے تاریخ رقم کردی، سلام اساتذہ کانفرنس وتقریب تقسیم ایوارڈز کا اہتمام

    اہل فتح جنگ نے تاریخ رقم کردی، سلام اساتذہ کانفرنس وتقریب تقسیم ایوارڈز کا اہتمام

    فتح جنگ (نمائندہ باغی ٹی وی) فتح جنگ میں پہلی دفعہ سلام اساتذہ کرام کانفرنس و تقریب تقسیم ایوارڈز کا انعقاد، سینکڑوں اساتذہ کرام کی شرکت، تعلیمی میدان میں کارہائے نمایاں سرانجام دینی والی23شخصیات کو محسن فتح جنگ ایوارڈ سے نوازا گیا، 17سال کے بہترین اساتذہ،4بہترین پرنسپل قرار، جبکہ6ریٹائرڈ اساتذہ کو حسن کارکردگی کی شیلڈ دی گئی، اساتذہ کرام کی خوشی دیدنی، ایوارڈ لینے والوں نے سکول کے زمانے کی یادیں تازہ کیں، جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے، تفصیلات کے مطابق وائس آف پاکستان فورم کے زیر اہتمام اے ای اوز یونین، انجمن تاجران، ٹیم سردار محمد علی خان، انجمن بہبود مریضاں اور سماجی بہبود کونسل کے تعاون سے فتح جنگ میں یوم اساتذہ کے موقع پر تاریخی سلام اساتذہ کااہتمام کیا گیا، جس کی صدارت فتح جنگ کے سینئر استاد محترم ملک نورزمان نے کی،اساتذہ کرام کی کثیر تعداد پنڈال میں موجود تھی،ملک نورزمان، حاجی بدرالزمان مرحوم،چوہدری قطب الدین، ملک سرفراز،حافظ محمد قاسم مرحوم، اقبال خان مقصود مرحوم، قاضی محمد عارف، قاضی خضرالزمان ضیاء، مظفر حسین ظفر مرحوم،محمد یونس راحت، پروفیسرلعل حسین، پروفیسر محمد اسلم، حاجی عبدالرؤف، محمد توفیق، ملک فیروز خان، ابوعبیدشاہ، سردار امتیاز، محمد ریاض، مظہر حسین شاہ،میڈم حفیظ، میڈم بلقیس،عبدالمالک، حاجی محمد عارف، میڈم محبوب کو محسن فتح جنگ ایوارڈ دیا گیا، جبکہ ڈاکٹر قاضی طارق محمود، سید تنویر حسین شاہ، عبدالخالق، زبیدہ بیگم، سجاد احمد خان کو حسن کارکردگی کا ایوارڈ دیا گیا، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول نمبر2کی پرنسپل محترمہ نادیہ، گورنمنٹ بوائز ہائی سکول نمبر2کے پرنسپل محمد مسکین، گورنمنٹ ہائی سکول حطار کے پرنسپل ڈاکٹر مبشر جاویداور گورنمنٹ بوائز ہائی سکول قطبال کے پرنسپل حسام الدین کوسال2021کے بہترین رئیس المدرسہ کا ایوارڈ دیا گیا، جبکہ حاضر سروس اساتذہ میں سے شفقت محمود گلی جاگیر، عامر حسین گلیال، قدیر اختر فتح جنگ، عبدالقادرکوٹ فتح خان، اشفاق حسین جھنگ، بشارت علی باہتر، فیصل حیات کلیار، صائمہ بی بی منگیال، لبنیٰ کوثر فتح جنگ، عابدہ کلثوم باہتر، نازش بی بی قطبال، آمنہ خدمت علی گلیال، سادیہ بتول لاسہ،شکیلہ نثارملال، عظمت شہزادی گلی جاگیر، صدف صدیق کوٹ فتح خان،عالیہ بی بی جھنگ کو سال کے بہترین ٹیچر ہونے کا ایوارڈ ملا۔

    استقبالیہ گفتگو میں چیف آرگنائزر رضی طاہر نے کہا کہ میں آج کا دن اپنے عظیم داد ا جان حاجی بدرالزمان کے نام کرتا ہوں جنہوں نے ساری زندگی علم کی شمعیں روشن کیں، اساتذہ ہمارے محسن و رہبر ہیں جن کی وجہ سے ہمیں دنیا میں مقام ملا، سردار خاری خان نے کہا کہ یہ ہمارے لئے اعزاز ہے کہ ہم اساتذہ کرام کی محفل کے میزبان ہیں، انہی اساتذہ کے دم قدم سے ہمارے گلشن میں بہار ہے

    فتح جنگ کی تاریخی درسگاہ گورنمنٹ ہائی سکول نمبر1میں 22سال بطور ہیڈماسٹر رہنے والے مایہ ناز استاد ملک نورالزمان نے سلام اساتذہ کرام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کرام علم کے ساتھ ساتھ تربیت پر زور دیں، نئی نسل کو تربیت کی ضرورت ہے، تدریس کو اپنا فریضہ سمجھیں اور اس شعبے سے وابستہ افراد اپنے آپ کو چند گھنٹے کا ملازم نہ سمجھیں بلکہ اپنی ذمہ داریوں کا کماحقہ ادراک کریں، انہوں نے کہ آج کی تقریب اساتذہ کرام کے نام کرنے والے مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے مستحق لوگوں کو ایوارڈ سے نوازا، یہ سب عظیم لوگ ہیں،علم کے راہی اپنے اساتذہ کا احترام کریں،لوگ چلے جاتیں ہیں یادیں قائم رہ جاتی ہیں، انہوں نے جذباتی لہجے میں کہا کہ ہم بھی گھڑی بھر کے مہمان ہیں اور جانے والوں میں سے ہیں، نجانے پھر ہوں گے یا نہیں، بس اتنا یاد رکھنا کہ علم کے ہتھیار سے کبھی دور نہ جانا، سینئرماہر تعلیم یونس راحت نے خطاب میں کہا کہ اس دور میں جب اساتذہ کرام کا احترام کم ہوتا جارہا ہے، اساتذہ کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ایسی تقاریب کا ہونا بہت ضروری ہے۔

    ڈاکٹر یٰسین اطہر نے کہا کہ آج کا دن اس حوالے سے اہم ہے کہ تین نسلوں کے اساتذہ ہمارے درمیان موجود ہیں،ڈپٹی ڈی ای اوشمیم اختر نے کہا اہل فتح جنگ نے اساتذہ کرام کو خراج تحسین پیش کرکے زندہ دلی کا ثبوت دیا، ڈپٹی ڈی او او سدرہ بتول نے کہا کہ آج کا دن تاریخی ہے کہ ہم اپنے اساتذہ کو تکریم دے رہے ہیں، اس موقع پر سردار افتخار احمد خان ممبر صوبائی اسمبلی، عابد داؤد چیئرمین بلدیہ، بلال عباس وائس چیئرمین بلدیہ،علامہ بلال حیدر حسان، لیاقت خان باجوڑی، حاجی عدیل افضل خان،ذیشان عزیز خان، فیصل صدیق، ملک رفاقت اعوان، حاجی ملک محمد تاج، تعبیر شاہ نقوی، ظفر اعوان، خالد اعوان سمیت شہر کی نامور سماجی و مذہبی قیادت موجود تھی۔

    دوسری جانب عالمی یوم اساتذہ کے موقع پر فتح جنگ کے تاجروں نے تاریخ رقم کردی، سلام اساتذہ مہم کے تحت اساتذہ اکرام کو شہر بھر کی دکانوں میں خصوصی ڈسکاؤنٹ دیا گیا، کئی دکانداروں نے اساتذہ کو سال بھر کیلئے 25فیصد ڈسکاؤنٹ دینے کا اعلان کیا، تفصیلات کے مطابق فتح جنگ کے تاجروں نے زندہ دلی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے اپنے اساتذہ کرام کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے بازار میں سلام اساتذہ، خصوصی ڈسکاؤنٹ کا اعلان کیا، سلام اساتذہ مہم کے تحت بازاروں میں جابجا ڈسکاؤنٹ کے بینرز دیکھنے کو ملے، سوشل میڈیا کے ذریعے بھی تاجروں نے اس دن کو اساتذہ کے نام کرنے کیلئے اپنی آفرز پیش کیں، کچھ ٹریلونگ ایجنسیوں اور دکانداروں نے سال بھر کیلئے ڈسکاونٹ دیا،سلام اساتذہ مہم کے چیف آرگنائزر رضی طاہر، انچارج سردارافتخار خاری خان، انجمن تاجران کے سیکرٹری اطلاعات سید تعبیرشاہ نقوی، سماجی بہبود کونسل کے صدر غلام یٰسین اطہر، اے ای اوز یونین کے سینئر نائب صدر وقاص اعظم، ممبر پرائس کنٹرول کمیٹی حسیب رضا، انجمن بہبود مریضاں کے صدر ملک رفاقت اعوان، پرنسپل ہائی سکول نمبر2محمدمسکین،ذیشان عزیز خان و دیگر نے سلام اساتذہ مہم میں بھرپور حصہ لینے پر تاجروں کا شکریہ ادا کیا۔

  • ملک بھر میں پچاس فیصد حاضری کے ساتھ تعلیمی ادارے کھل گئے

    ملک بھر میں پچاس فیصد حاضری کے ساتھ تعلیمی ادارے کھل گئے

    ملک بھر میں آج سے تعلیمی ادارے کھل گئے ہیں اسکولز میں پچاس فیصد حاضری رکھنا ہوگی۔

    باغی ٹی وی : خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں اسکول بند رہیں گےمحکمہ تعلیم خیبرپختونخوا کا کہنا ہے کہ ماسک کے بغیر بچوں کو کلاس کے اندر جانے کی اجازت نہیں ہوگی ہفتے میں تین دن کلاسز ہوں گیایک کلاس روم میں بچوں کی آدھی تعداد کو بٹھایا جائے گا-

    تعلیمی اداروں میں کورونا سے بچاو کے احتیاطی تدابیر پر عمل لازمی ہوگا صوبائی اور ضلعی سطح پر مانیٹرنگ ٹیمیں ایس او پیز پر عملدرآمد یقنینی بنائیں گی تعلیمی اداروں میں کورونا سے بچاؤ کیلئے اسپرے کیے گئے ہیں اور احتیاطی تدابیر کے بینرز بھی آویزاں ہیں۔

    بیماری کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سماجی دوری اپنائی جائے گی اسکول میں بچوں کو ہاتھ دھونے کی ترغیب دی جائے گی اور اس کو یقینی بنانا تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہوگی۔

    بچوں میں کھانسی یا بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر والدین انہیں اسکول ہر گز نہ بھیجیں طبیعت زیادہ خراب ہو تو ٹیسٹ کرائیں، کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر فوری اسکول انتظامیہ کو آگاہ کریں۔

    کسی بھی شخص کو درجہ حرارت چیک کیے بغیر تعلیمی اداروں میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا بچے کسی سے ہاتھ نہ نہیں ملائیں گے اور اسکول میں جھولا بھی نہیں جھولیں گے محکمہ تعلیم کی مختلف ٹیمیں اسکولوں کا دورہ کریں گی اور ایس او پیز پر عملدرآمد کاجائز لیں گی۔

    کورونا وائرس اوراحتیاطی تدابیر:

    کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیراختیارکرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازے کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلا کربیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

    سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پرکوئی اثرنہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

    پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اورہرایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے-

    ساری تدبیریں ناکام : چین میں کورونا نے پھرسراٹھا لیا:شہروں میں سخت لاک ڈاون

  • پاکستان میں ناخواندگی کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی، اس فہرست میں پاکستان کونسے نمبر پر؟

    پاکستان میں ناخواندگی کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی، اس فہرست میں پاکستان کونسے نمبر پر؟

    غیر سرکاری تنظیم نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ناخواندگی کی شرح خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پاک الائنس فورمیتھ اینڈ سائنس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ5 سال سے 16 سال کی عمر کے 2 کروڑسے زائد بچے پڑھائی سے مکمل دور ہیں اورسکول نہ جانے والے بچوں کی فہرست میں پاکستان دوسرے نمبرپرآگیاپاکستان میں 2 کروڑ سے زائد بچے ایسے ہیں جو اپنے بنیادی حق تعلیم کے زیورسے محروم ہیں۔

    اسلام آباد اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے ، شدت کتنی تھی؟

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکول نہ جانے والے بچوں کی شرح 32 فیصد تک جا پہنچی ہے،سب سے زیادہ تناسب بلوچستان میں 47فیصد،سندھ میں 44فیصد،خیبر پختونخوا میں 32فیصد،پنجاب میں 24فیصد اوراسلام آباد میں 10فیصد ہے۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 77 لاکھ بچے پنجاب، 64لاکھ 82ہزارسندھ،خیبرپختونخوا میں 38لاکھ۔،بلوچستان میں 20لاکھ۔ جبکہ اسلام آباد میں 52ہزاربچے اسکول نہیں جاتےاسکول نہ جانے والے بچوں میں54فیصد لڑکیاں جبکہ 46فیصد لڑکے ہیں، 77فیصد کا تعلق دیہی علاقوں جبکہ 23 فیصد شہری علاقوں سے ہیں۔

    میٹ گالا 2021: شوبز ستاروں کے منفرد اور انوکھے انداز سوشل میڈیا پر وائرل

    بلدیاتی انتخابات کیلئے مزید تاخیر نہیں کی جاسکتی چیف الیکشن کمشنر

    ‏انٹربینک میں ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر

    رپورٹ میں سکول نہ جانے کی بڑی وجوہات میں مہنگی تعلیم کو قرار دیا گیا ہے،87 فیصد شہریوں کی رائے کے مطابق تعلیم انتہائی مہنگی ہے،13 فیصد نے دیگر وجوہات کا حوالہ دیا ہے۔

    کابل ائیر پورٹ پر رہ جانیوالے امریکی کتوں کو نیا ٹھکانہ مل گیا

  • طالبان کے کنٹرول کے بعد افغانستان کی یونیورسٹیز میں دوبارہ تعلیم کا آغاز

    طالبان کے کنٹرول کے بعد افغانستان کی یونیورسٹیز میں دوبارہ تعلیم کا آغاز

    طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد افغانستان میں یونیورسٹیز میں دوبارہ تعلیم کا آغاز ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر کے مطابق بعض کلاسز میں طلبہ اور طالبات کے درمیان پردہ لگایا گیا ہے خبر ایجنسی کے مطابق کابل، قندھار اور ہرات میں طالبات کو الگ کلاسز میں پڑھانے یا کیمپس کے مخصوص مقامات تک محدود کرنے سے متعلق اطلاعات ملی ہیں اس حوالے سے طالبان کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ طالبان نے نجی کالجوں اور جامعات کوآج پیر سے کھولنے کی مشروط اجازت دیتے ہوئے حکم جاری کیا تھا کہ یونیورسٹیز میں لڑکے اور لڑکیوں کی علیحدہ کلاسز یا کم از کم انہیں ایک پردے سے الگ کیا جائے، جب کہ طالبات کے لیے عبایا اور ایسا نقاب کرنا لازم ہوگا جن سے آنکھوں کے علاوہ ان کا پورا چہرہ چھپ جائے۔

    طالبان نے طالبات کو پورے نقاب کے ساتھ تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کی اجازت دے دی

    طالبان کی وزارت تعلیم کی جانب سے نوٹیفیکیشن کے مطابق طالبات کو صرف خواتین ہی پڑھا سکتی ہیں تاہم اگر ایسا ممکن نہ ہو تو پھر اچھے کردار کے حامل کسی بوڑھے شخص کو اس کام کے لیے رکھا جائے یہ حکم نامہ ان تمام نجی کالجز اور جامعات پر لاگو ہوتا ہے جن کی تعداد میں 2001 کے بعد طالبان کا پہلا دور اقتدار ختم ہونے کے بعد بہت تیزی سے اضافہ ہوا اور کل سے انہیں دوبارہ کھولنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔

    احکامات کے مطابق خواتین پر شٹل کاک برقعہ ( سر کے بال سے پیر کے ناخن تک کو ڈھاپنے والا برقعہ) پہننا لازم قرار نہیں دیا گیا تاہم گھر سے باہر نکلنے والی خواتین کے لیے ایسا نقاب کرنا لازم ہوگا جس میں صرف ان کی آنکھیں دکھائی دیں۔

  • چین میں تعلیمی شعبے میں اصلاحات کا سلسلہ جاری، تحریری امتحانات پر پابندی عائد

    چین میں تعلیمی شعبے میں اصلاحات کا سلسلہ جاری، تحریری امتحانات پر پابندی عائد

    چین میں رواں سال کےآغاز میں پہلی اور دوسری جماعت کے تحریری ہوم ورک اور جونیئرہائی اسکول کےطلبا کو ڈیڑھ گھنٹے سے زائد کا ہوم ورک دیئے جانے پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اب چین میں چھٹی اور ساتویں کلاس کے بچوں کے تحریری امتحانات لینے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہےچین میں تعلیمی شعبے میں اصلاحات کا سلسلہ جاری ہے، جس کے تحت یہ پابندی عائد کی گئی ہے، پابندی کا مقصد بچوں کو بےجا دباؤ سے آزاد کرنا ہے۔

    چینی وزارت تعلیم کےمطابق متواتر امتحانات طلبہ پر بہت زیادہ بوجھ بڑے امتحانی دباؤ کا سبب بنتے ہیں جو ان کی ذہنی اور جسمانی صحت کو نقصان پہنچاتا ہےجونیئر ہائی اسکول میں مڈٹرم، موک امتحانات کی اجازت ہوگی جبکہ لازمی تعلیم کے دیگر سالوں میں امتحان، صرف ایک ٹرم تک محدود ہوگا۔

    یہ اقدامات چین کے تعلیمی شعبے کی وسیع تر حکومتی اصلاحات کا حصہ ہیں، جس میں ان سکولوں کے خلاف کریک ڈاون شامل تھا جو والدین بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں کو بڑھانے یا خاص ہدف کو پانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    نجی اسکولوں کا والدین سے ویکسینیشن سرٹیفکیٹ جمع کرانے کا مطالبہ

    اس سے قبل جولائی میں چین میں تمام نجی ٹیوٹرنگ فرم کو نان پرافٹ ہونے کا حکم دیا گیا تھا، جس سے 100 بلین ڈالر کے شعبے کو مؤثر طریقے سے معذور کردیا گیا تھا جس کا مقصد چین کی تعلیمی عدم مساوات کو کم کرنا تھا۔

    دوسری جانب چین میں یکم ستمبر سے تعلیمی سال کا آغاز ہوتا ہے اور اس بار ابتدائی تعلیم کی کلاسوں کے طلبہ کے نصاب میں نئی تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔

    پہلی جماعت ہی سے نئی کلاسوں میں ایک لازمی مضمون پڑھایا جائے گا جس کا عنوان ہے’شی کے افکار‘۔ یہ بنیادی طور پر سوشلزم اور جدید دور میں چین کی خصوصیات سے متعلق صدر شی جن پنگ کے خیالات اور تصورات پر مبنی مضمون ہے۔

    نئے نصاب سے معلوم ہوتا ہے کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی اور شی جن پنگ چین کے عوام کو نظریاتی طور پر کنٹرول کرنے کے لیے کس طرح کے اقدامات کر رہے ہیں۔

    اس سے پہلے 2020 میں چین کی جامعات میں شی کے ’افکار‘ کی تعلیم کا آغاز کیا گیا تھا اور اب نئی تعلیمی پالیسی کے مطابق ابتدائی تعلیم کے نصاب میں بھی اسے شامل کر دیا گیا ہے۔

    پاکستانی ٹی وی چینلزقوم کی تقسیم کاسبب،خیرکم ہی مگرشرغالب:خصوصی رپورٹ

    چین کی کمیونسٹ پارٹی کے ترجمان اخبار ‘گلوبل ٹائمز’ کے مطابق نصاب میں آنے والی تبدیلیوں کے لیے وزارت تعلیم نے رہنما اصول جاری کردئیے ہیں۔

    وزارتِ تعلیم نے 24 اگست کو اس سلسلے میں تفصیلی ہدایات جاری کی ہیں جن کے مطابق ابتدئی تعلیم کے اسکول بچوں میں ملک، چین کی کمیونسٹ پارٹی اور سوشلزم سے محبت پیدا کرنے پر توجہ دیں گے۔

    مڈل اسکولز کو ان رہنما اصولوں کے تحت سیاسی رائے سازی کے لیے مطالعے اور فکری سرگرمیوں کا اہتمام کرنا ہوگا اور کالج اور جامعات کی سطح پر نظریاتی غوروفکر پر زور دیا جائے گاچین کی وزارتِ تعلیم کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق نصاب میں یہ تبدیلیاں کمیونسٹ پارٹی کے ترجیحی اہداف میں شامل ہیں۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان کا دفتر صوبے کے دیگر دفاتر کیلئے رول ماڈل ہوتا ہے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ

    شی جن پنگ 2012 میں چین کے سب سے بااختیار لیڈر کے طور پر سامنے آئے۔ مبصرین کے مطابق وہ موجودہ چین کے بانی ماؤ زے تنگ کی طرح ایک طلسماتی شخصیت بننا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے اپنی سیاسی تحریروں کو سی سی پی اور حکومت کی تحریروں اور فکری کاموں میں شامل کرایا۔

    چین میں اس سے پہلے بھی ملک سے متعلق قومی رہنماؤں کے وژن اور تصورات کو نصاب کا حصہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اس سے قبل سابق سربراہان مملکت جیان تاؤ، جیانگ زمین اور ماؤ کے تحاریر اور خیالات کو ابتدائی اور ثانوی تعلیم کا حصہ بنایا جاچکا ہے۔

    لیکن نصاب میں ’شی کے افکار‘ کی شمولیت کے اس اقدام سے اندازہ ہوتا ہے کہ کمیونسٹ پارٹی اپنے نظریاتی اور سیاسی کاوشوں کا دائرہ اپنے ارکان سے آگے بڑھا کر اسے پورے چینی سماج تک پھیلانا چاہتی ہے۔

    لاہور: بلیاں پالنے پر نوجوان خاتون پر اپنے ہی گھر والوں نے تیزاب پھینک دیا