گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی فیکلٹی کو تعیناتیوں اور ترقیوں کی بجائے معاشرے کی بہتری اورخوشحالی کے لئے تحقیق کرنی چاہیئے۔ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی نے ایجوکیشن رپورٹرز ایسوسی ایشن (ایرا) کے ممبروں کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ایرا کے صدر عاطف پرویز اور جنرل سکریٹری عدنان لودھی بھی موجود تھے۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر زیدی نے کہا کہ انہوں نے جی سی یو میں خصوصی ایوارڈ کا اجراء کیا ہے جو ہر سال تمام فیکلٹیز کے بہترین محققین کو دیا جائے گا۔پروفیسر زیدی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بہت سی یونیورسٹیز اور انتظامی محکمے آئی ٹی کے شعبے میں بہت پیچھے ہیں،دنیا اب پیپر لیس ہو رہی ہے جبکہ ہمارے ہاں آج بھی فائلوں کا کلچر پایا جاتا ہے۔اس موقع پر ایرا کے ممبران صائمہ وڑائچ، اظہار الحق واحد، عمران یونس، شفیق شریف، ارشاد مہدی، عثمان غنی، عمیر خلیل، میاں علی، علی ارشد، فیضان وڑائچ، کاشف داؤدی، ثناء اللہ ناگرا، برہان الدین،ناصر چوہدری، میاں عامر اور حسن عباس بھی موجود تھے۔
Category: تعلیم

طلبہ شدید موسم میں کھلے آسمان تلے زیر تعلیم،محکمہ تعلیم غافل
شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی)گورنمنٹ بوائز ایلمنٹری سکول ملاسنگھ تحصیل و ضلع شیخوپورہ میں تعداد 750 طلبہ ہے
معلوم ہوا کہ ہے کہ انتہائی نامساعد حالات،منفی ٹمپریچر ،شدید دھند اور سٹیل کے فرنیچر پر بیٹھ کر معصوم طلبہ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھے ھوئے ہیں۔
والدین اور اساتذہ نے حکومت وقت ،جناب منسٹر ایجوکیشن مراد راس ،عزت مآب سیکرٹری ایجوکیشن پنجاب ،جناب ڈی سی او شیخوپورہ،جناب سی ای او ایجوکیشن اتھارٹی شیخوپورہ سے اپیل کی ہے کہ ان بچوں اور اساتذہ پہ رحم فرمایا جائے اور انکو کمرے مہیاء کئے جائیں اور سکول کیلئےایک نیا بلاک پرائمری حصہ کیلئے تعمیر کروایا جائے ۔کھلے آسمان تلے آئے روز بچے مختلف موسمی بیماریوں کا شکار ھو جاتے ہیں ان سے بچایا جائے۔
اساتذہ نے ارباب اختیار سے اپیل کی ھے کہ نئے بلاک کیلئے فنڈز مہیا کئے جائیں اور دائمی پریشانی سے نجات دلائی جائے۔


ڈی پی او شیخوپورہ کا احسن اقدام
شیخوپورہ(نمائندہ باغی ٹی وی)ڈسٹرکٹ پو لیس آفیسر شیخوپورہ غلام مبشر میکن کی جانب سے ضلع بھر کے تمام تھانہ جا ت کی حوالات میں بند ملزمان کے لیے اہم پیش رفت۔تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ پو لیس آفیسر شیخوپورہ غلام مبشر میکن نے ضلع بھر کے تھانہ جات کی حوالات میں بند ملزمان کی اصلاح کے لیے روزانہ کی بنیاد پر صبح سویرے حوالاتیوں کو درس قرآن اور نماز کی تلقین کیے جانے کے احکامات جاری کیے جس پرعملدرآمد کرتے ہو ئے شیخوپورہ پولیس کی جانب سے تمام تھانہ جا ت میں ملزمان کی اصلاح کے لیے روزانہ کی بنیاد پر صبح سویرے حوالاتیوں کو درس قرآن اور نماز کی تلقین کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ڈی پی او شیخوپورہ کی جانب سے تمام تھانہ جات کی حوالاتوں کی صفائی کا مناسب انتظام کیا گیا ہے۔حوالات میں واش رومز کو مرمت کر وا کر ان کو بہتر بنایا گیا ہے۔حوالاتیوں کے لیے صاف پینے کے پانی کا مناسب انتظام کیا گیا ہے۔

ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ چار سالہ بی ایس پبلک ہیلتھ پروگرام کا آغاز!!!
پشاور:خیبر میڈیکل یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ اینڈ سوشل سائنسز (کے ایم یو آئی پی ایچ اینڈ ایس ایس) پشاور نے ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ چار سالہ بی ایس پبلک ہیلتھ پروگرام کا آغاز کردیا۔یہ پروگرام آبادی کی انفرادی اور اجتماعی صحت کی بہبود و تحفظ، فروغ اور بہتری کے مشن کے ساتھ شروع کیاگیا ہے۔ واضح رہے کہ کے ایم یو انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ ملک میں اپنی نوعیت کامنفرد ادارہ ہے جس میں پبلک ہیلتھ سے متعلق انڈرگریجویٹ سے لے کر پی ایچ ڈی سطح تک کی تعلیم دی جارہی ہے۔تفصیلات کے مطابق بی ایس پبلک ہیلتھ چار سالہ پروگرام کی افتتاحی تقریب گزشتہ روزکے ایم یو آئی پی ایچ اینڈ ایس ایس میں منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی کے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق تھے جب کہ اس موقع پر ڈائریکٹر آئی پی ایچ ڈاکٹر صائمہ آفاق بھی موجود تھیں۔ دریں اثناء تقریب سے پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس پبلک ہیلتھ پروگرام کا مقصد آبادی کی صحت کی صورتحال کو بہتر بنا نے کے ساتھ ساتھ پیشہ ور افراد کو صحت عامہ میں اعلیٰ معیار کی انڈرگریجویٹ ٹریننگ فراہم کرناہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پبلک ہیلتھ بیماریوں سے بچاؤ،امراض کے پھیلاؤ اور کنٹرول کے بنیادی تصورات سے نمٹتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پبلک ہیلتھ کی تعلیم کا مقصدمعاشرے پر بیماریوں کے بوجھ کوکم کرنے کے علاوہ مختلف امراض کی روک تھام میں راہنمائی اور مدد فراہم کرناہے۔ پروفیسر ضیا ء الحق نے کہا کہ بی ایس پبلک ہیلتھ پروگرام کے آغاز سے نہ صرف پبلک ہیلتھ کے ہنر مند اور پیشہ ور افراد کی تیاری میں مدد ملے گی بلکہ اس سے معاشرے میں مختلف امراض کی تشخیص، روک تھام اور سدباب کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مختلف بیماریوں کے ایک بڑے بوجھ کا شکار ہے جس کی وجہ بنیادی وجہ وسائل کی کمی،ناخواندگی اور آبادی کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال بڑے پیمانے پر مختلف امراض کے باعث اموات واقع ہوتی ہیں جن میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ عام لوگوں میں شعور بیدار کرکے کافی حد تک کمی لائی جاسکتی ہے لہٰذاان مقاصد کے حصول کی خاطر کے ایم یو نے ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ بی ایس پبلک ہیلتھ کاچارسالہ ڈگری پروگرام شروع کیاہے۔توقع ہےکہ اس پروگرام کے حوصلہ افزاء نتائج برآمد ہوں گے۔

طالب علم ہوشیار،امتحانات کی تاریخوں کااعلان ہوگیا
وزیرتعلیم پنجاب نےمیٹرک اورانٹرمیڈیٹ کےامتحانات کی تاریخوں کااعلان کردیا-
وزیرتعلیم پنجاب نے پنجاب بھر میں نویں دسویں اور گیارہویں وبارہویں جماعت کےامتحانات کی تاریخوں کااعلان کردیاہے- وزیرتعلیم پنجاب ڈاکٹرمرادراس نےسماجی رابطےکی ویب سائٹ ٹوئیٹر پرکہاہے کہ رواں سال دسویں جماعت کے امتحانات کا آغاز یکم جون سے18جون 2021 تک ہونگے جبکہ نویں جماعت کےامتحانات 24جون سے 11جولائی تک جاری رہیں گے-
جبکہ گیارہویں جماعت کے سالانہ امتحانات 15اگست سے شروع ہونگے جو 29اگست تک جاری رہیں گےجبکہ بارہویں جماعت کےامتحان یکم ستمبر سے 21ستمبرتک منعقد کئےجائیں گے- تمام امتحانات کادورانیہ دوگھنٹےہوگا جبکہ پیپرز میم ایم سی کیوز کاتناسب بڑھادیاگیاہے جبکہ سبجیکٹوو مختصرہوگا. امتحانی مراکز میں ایس او پیز کےتحت پرچے لئےجائیں گے- انہوں نےمزیدکہاہےکہ رواں سال موسم گرماکی تعطیلات 11جولائی سے14اگست 2021 تک ہوں گی- انہوں نےمزید بتایا کہ پہلی سےآٹھویں جماعت تک تعلیمی سال 2021کاآغاز یکم اپریل ,نویں اور دسویں کلاسز کاآغاز 15اگست جبکہ انٹرمیڈیٹ کےطلبا 21ستمبرسے نئی کلاسز کاآغازکریں گے.

فاٹااور بلوچستان کے طالبعلموں کے میڈیکل وظائف کا معاملہ، چیئر مین پی ایم سی کے خلاف نوٹس جاری
ایوان بالا کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے مسائل کا اجلاس چیئر مین کمیٹی سینیٹر عثما ن خان کاکڑ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔ فاٹااور بلوچستان کے طالبعلموں کو کئی برسوں سے 265 میڈیکل وظائف دیئے جا رہے تھے جس پرا یچ ای سی نے آما دگی کا اظہار کیا تھا ان کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں تھی اورا یچ ای سی وظائف دینے کے لیئے تیارہے۔
مگر پی ایم سی کی جانب سے سکالرشپز دینے میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں اور آج کمیٹی کے اجلاس میں چیئر مین پی ایم سی ،نائب چیئر مین پی ایم سی اور سیکرٹری ہیلتھ کی عدم حاضری پر چیئر مین کمیٹی سینیٹر محمد عثمان خان کاکڑاور اراکین کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہارکرتے ہوئے احتجاجاََکمیٹی کا اجلاس ملتوی کر دیا اور ان تینوں کے خلاف نوٹسسزجاری کرنے کا حکم دیااورفیصلہ کیا کہ ان کے خلاف تحریک استحقاق ایوان میں لے کرجانے کا فیصلہ کیا۔ چیئرمین واراکین ِکمیٹی نے متعلقہ حکام کے رویوں کے بارے میں چیئرمین سینیٹ کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور تمام صورتحال سے تفصیلی آگاہ کیا ۔
کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر ز فد ا محمد ، سردار محمد شفیق ترین اور نصرت شاہین کے علاوہ وزارت ہیلتھ ،ایچ ای سی اور پی ایم سی کے حکام نے شرکت کی۔

کیا پاکستان ًمیں غربت کا خاتمہ ممکن ہے ؟ حکام نے سر جوڑ لیے
ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے غربت میں کمی اور سماجی تحفظ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی کی سربراہی میں پاکستان بیت المال ہیڈ کواٹر کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان بیت المال کے عوامی ریلیف، غربت میں کمی، شرح خواندگی میں اضافہ، علاج معالجہ، بچوں سے مزدوری کے خاتمے کے حوالے سے قائم ہونے والے اسکولوں کی تعداد اور طریقہ کار کے علاوہ پاکستان بیت المال کے مستقبل کے منصوبہ جات کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔
قائمہ کمیٹی کو منیجنگ ڈائریکٹر بیت المال عون عباس بپی نے ویڈیو لنک جبکہ ڈی ایم ڈی مبشر حسن اور دیگر اعلیٰ حکام نے پاکستان بیت المال کے کام کے طریقہ کار، بجٹ، عوام کو فراہم کی جانے والی صحت، تعلیم، پناہ گاہ، ویمن ایمپاورمنٹ سینٹرز، ایس آر سی ایل، دارلااحسا س و دیگر سہولیات و ریلیف کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان بیت المال 1991ایکٹ کے تحت 1992میں قائم ہوا۔ اسکا ہیڈ آفس اسلام آباد اور سات صوبائی،ریجنل دفاتر ہیں۔ اس ادارے کے 154 ڈسٹرکٹ آفس پورے ملک بشمول سابق فاٹا، گلگت بلتستان اور اے جے کے میں قائم کئے ہیں۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اکتوبر 2018سے اب تک 54ہزار مریضو ں کی ادار ے نے زندگیاں بچائی ہیں جس پر 6.4ارب روپے خرچ کئے گئے۔ ملک کے مختلف حصوں میں تھیلیسیماں کے 4191مریضوں کے لئے 321ملین روپے خرچ کئے گئے – ایک سے پانچ سال کی عمر کے بچے جو سماعت سے محروم تھے اُن پر 128ملین روپے خرچ کئے گئے سماعت کے ایک مریض بچے پر 14سے 15لاکھ روپے خرچ آتا ہے۔ ایک سرکاری کے ساتھ چار پرائیویٹ ہسپتالوں کو علاج کیلئے منتخب کیا گیا ہے۔
چیئرمین کمیٹی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ صوبہ کے پی کے اور بلوچستان میں اس مرض کے ای این ٹی اسپیشلسٹ نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کے ہسپتال شامل نہیں کئے گئے۔ چیئرمین کمیٹی ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ گھروں میں چھوٹے بچوں کو گھر کے کاموں کیلئے رکھا جاتا ہے اور بچوں سے زیادتی کے واقعات بھی رپورٹ ہوتے ہیں۔ چائلڈ لیبر کے تحفظ کی خاطر ادارہ اقدامات اٹھائے جس پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ متعلقہ اداروں کا کام ہے بیت المال کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ سینیٹر ثمینہ سعید نے کہا کہ ملک بھرمیں بھکاری بچوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔ دونوں ایوانوں کی مشترکہ کمیٹی بنا کر متعلقہ محکموں کے ساتھ اقدامات اٹھائیں جائیں۔ سینیٹر لیفٹینٹ جرنل (ر) عبدالقیوم (ہلال امتیاز ملٹری)نے کہا کہ سابق چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر عطا الرحمن کی رپورٹ کے مطابق 2.5کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں سکول جانے والے بچوں میں سے 32فیصد بھاگ جاتے ہیں دیہی علاقوں کے 40فیصد سکولوں میں بجلی اور پانی نہیں جبکہ 49فیصد میں لیٹرین نہیں۔ ایم ڈی پاکستان بیت المال عون عباس بپی نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کا فوکس احساس اور سوشل ویلفیئر کے کاموں پر زیادہ ہے وزیراعظم نے ریاست مدینہ کے وژن کے مطابق ملک میں کوئی بھوکہ نہ رہے کیلئے پناہ گاہوں کے منصوبے کا آغا ز کیا۔ علاج معالجے اور دیگر ویلفیئر کاموں کیلئے موجودہ حکومت بجٹ پانچ ارب سے بڑھا کر 6.1ارب کیا جس کو 8ارب تک لے جانے کا پروگرام ہے۔
انہوں نے کہا کہ بو ن میرو، کڈنی ٹرانسپلانٹ اور کینسر کے مریضوں کے علاج پر بھاری خرچہ آتا ہے اس کے لئے خصوصی بجٹ مختص ہونا چاہئے جس پر قائمہ کمیٹی نے بھاری اخراجات والی سرجری کے مریضوں کی کے علاج کیلئے اضافی بجٹ مختص کرنے کی سفارش کر دی۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایک پنا ہ گاہ کا سالانہ خرچ پانچ کروڑ ہے۔ پناہ گاہوں کو ڈونیشن بھی آ رہی ہے جس میں سے آئی سی ٹی کی پانچ میں سے چار پناہ گاہیں ڈونیشن پر چل رہی ہیں۔ کراچی میں بھی پانچ پناہ گاہیں ہیں ادارے کو پناہ گاہ کیلئے موثر ڈونیشن مل رہی ہے۔ سینیٹر ڈاکٹر رخسانہ زیبری نے کہا کہ آئے دن خبریں سامنے آتی ہیں کہ ایک گم شدہ بچہ ملا ہے۔ ایک ایسا سسٹم ہونا چاہئے جس کے تحت گم شدہ بچوں کا ڈیٹا ایک جگہ اکھٹا ہو سکے۔ جس پر ایم ڈی بیت المال نے کہا کہ متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ایک لاسٹ چلڈرن اپلیکیشن بنائی جائے گی جس میں گم شدہ بچوں کا ڈیٹا موجود ہوگا۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ یتیم خانوں کو بڑھانے کی بجائے بیواؤں کو زیادہ سپورٹ کیا جا رہا ہے تا کہ وہ اپنے بچوں کی بہتر پرورش کر سکیں۔ قائمہ کمیٹی نے جلد سے جلد میکنزم بنانے کی ہدایت کر دی۔
سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ معاشرے میں آئس کا نشہ تیز ی سے پھیل رہا ہے اور خاص طور پر حیات آباد اور کراچی بری طرح لپیٹ میں آ چکا ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر جمالدینی نے کہا کہ ملک میں کرونا وباء کی طرح ہپیٹا ئٹس بی اینڈ سی تیزی سے پھیل چکا ہے اسکو کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں جائیں۔ قائمہ کمیٹی سفارش کرتی ہے بیت المال کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے تاکہ ملک میں اس پھیلتی ہوئی بیماری کو جلد سے جلد کنٹرول کیا جا سکے۔سینیٹر رخسانہ زبیری نے کہا کہ اگر کسی گھر میں ایک سے زائد مریض ہوں تو بیت المال اپنی پالیسی میں ترمیم لا کر گھر کے تمام مریضوں کے علاج کیلئے اقدام لے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق ملک میں غربت میں کمی شرح خواندگی میں اضافہ اور لوگوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات فراہمی کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ جلد ایک بیواؤں اور یتیموں کی ویلفیئر کاایک پروگرام 7 اضلاع میں شروع کیا جا رہا ہے جس میں ہر ضلع سے احساس پروگرام کے تحت 100بیواؤں کو منتخب کیا جائے گا ایک بچے کی تعلیم کیلئے آٹھ ہزار اور ایک سے زائد کیلئے 12ہزار فراہم کئے جائیں گے۔
ایک پائلٹ پروگرام ہے جس کو بعد میں پورے ملک میں پھیلایا جائے گا۔ ڈیجیٹل پیمنٹ کی فائل ابھی وزارت خزانہ نے فائنل نہیں کی کہ کس طرح پیمنٹ کرنی ہے۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ایس آر سی ایل کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وہ علاقے جہاں ایک سے پانچ سال کے 120بچے موجود ہوں اور کام کرنے والے اگلے پانچ سال تک ایسے بچے دستیاب ہو سکیں۔ لیبر ادارے کی جانب سے ریکمنڈیشن اور وزارت غربت میں کمی اور سماجی تحفظ کی گائڈ لائن کے مطابق سکول قائم کیا جاتا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مالا کنڈ ڈویژن کے حوالے سے لیبر کے ادارے کی طرف سے کوئی ہدایت نہیں آئی۔ سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ مالا کنڈ ڈونژن میں سینکڑوں مائنز، صنعتیں قائم ہو چکی ہیں 80ہزار کے قریب لیبر موجود ہے مگر مالا کنڈ ضلع میں کوئی سکول قائم نہیں کیا گیا۔
ایم ڈی بیت المال نے کہا کہ قائم کمیٹی سفارش کرے۔ فزبیلٹی کرا کے ہدایت پر عمل کیا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی برائے غربت میں کمی و سماجی تحفظ نے ایم ڈی پاکستان بیت المال اور اس کی ٹیم کی غریب عوام کو ریلیف کے حوالے سے فراہم کردہ خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ ادارے نے غریب عوام کیلئے جو خدمات سرانجام دیں ہیں وہ قابل تعریف ہیں۔ ادارے کے مسائل کے حل کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا اور کمیٹی ہر وقت معاونت کیلئے تیار ہے۔ قائم کمیٹی نے غریب عوام کو مزید ریلیف کے حوالے سے مزید اقدامات اٹھانے کی سفارش کر دی۔ قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر ز لیفٹینٹ جرنل (ر) عبدالقیوم (ہلال امتیاز ملٹری)، انجینئر رخسانہ زیبری،ثمینہ سعید، فدا محمد کے علاوہ ویڈیو لنک کے ذریعے ایم ڈی پاکستان بیت المال، ڈی ایم ڈی بیت المال، سنیئر جوائنٹ سیکرٹری وزارت غربت میں کمی و سماجی تحفظ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی

خیبرپختونخوا ایلیمنٹری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی نااہلی،این ٹی ایس ٹیسٹ آؤٹ
خیبرپختونخوا ایلیمنٹری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں پی ایس ٹی اساتذہ کے حل آسامیوں کے لئے اج ہونے والا این ٹی ایس ٹیسٹ سوشل میڈیا کے زریعے آوٹ ہوگیا- این ٹی ایس عملے کی ناکامی سامنے آگئی ہے-
خیبرپختونخوا ایلیمنٹری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی نا اہلی کا کھلم کھلا مظاہرہ – امتحانی ہالوں میں موبائل فون کا آزادانہ استعمال ہو رہا تھا-امیدوں کی جانب سے بنوں میں کل رات سے ٹیسٹ پیپر اوٹ ہونے کا الزام لگایا گیا ہے-
امیدواروں کا مطالبہ ہے کہ پی ایس ٹی ٹیسٹ منسوخ کردیا جائے اور زمہ داروں کے حلاف فوری کاروائی کی جائے-

شیخوپورہ کے طلبہ نے پہلی پوزیشن اپنے نام کر لی
شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی) ذہین اور محنتی طلباء و طالبات ہی کسی قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں۔اور یہ طلباء طالبات کامیاب معاشرے کی تشکیل میں اپنا اہم اور مضبوط کردار ادا کرتے ہیں
یہ بات خوش آئند ہے کہ ضلع شیخوپورہ کے طلباء و طالبات نے لاہور ڈویژن میں STEMکے مقابلہ جات کے دوران 598ویڈیوز تیار کر کے پہلی پوزیشن حاصل کر لی۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر قدرتی آفات پنجاب میاں خالد محمود نے ایم سی گرلز ہائی سکول علامہ اقبال پارک میں منعقدہ تقریب میں اساتذہ اور طلباء و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ محمد اصغر جوئیہ۔ ڈی ایم او میاں نذیر احمد۔ چیف آفیسر ایجوکیشن ملک منظور احمد۔ ڈی او ایجوکیشن قادر بخش،چوہدری محمد اسلم گجر ،چوہدری امان اللہ گجر،میاں شفیق طاہر، رانا احسان الحق، سید عامر شاہ،وسیم خان ، رانا محمد اشرف روبینہ نسرین،مسز غانیہ،رشید احمد چیف وارڈن سول ڈیفنس چوہدری محمد الیاس گجر چوہدری شاہد گجر ، کریم بخش،محمد عارف صابری،خواجہ شجاعت، عبدالرحمن شاکر ،اور دیگر موجود تھے۔
ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ محمد اصغر جوئیہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ طلباء و طالبات پر محنت کرنے والے اساتذہ کا رشتہ بڑے ادب واحترام کا ہےاور مبارکباد کے مستحق ہیں۔
تخلیقی دماغ کے بچے کامیابیاں حاصل کرنے کے بغیر کسی میدان میں پیچھے نہیں رہ سکتے۔ وہ اپنی کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی کام کرتے رہتے ہیں۔جو اپنی محنت کے بل بوتے پر ملک وقوم کا نام روشن کرتے ہیں
تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر قدرتی آفات پنجاب میاں خالد محمود۔ڈپٹی کمشنر محمد اصغر جوئیہ نے STEMکے مقابلہ جات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا و طالبات کو ٹرافیاں اور اساتذہ کو تعریفی سرٹیفیکٹ تقسیم کیئے اور انکے اعزاز میں پرتکلف ظہرانہ دیا گیا۔
سائیں تو سائیں، سائیں کی ایجوکیشن بھی سائیًں، حلیم عادل شاہ کا سندھ کے سکولوں کا دورہ
دورہ حلیم عادل شاہ نے غریب آباد گرلز سکول کا دورہ کیا – سکول میں بچے تو نہیں پہنچے لیکن بھینسیں پہنچ گئیں-حلیم عادل شاہ نےوعدہ کرتے ہوئے کہا کہ پورے سندھ کے سکولوں سے جانوروں کو باہر نکالیں گے-
حلیم عادل شاہ نے اپنے دورے کے متعلق بتایا کہ وزیرتعلیم سندھ سعید غنی نے اعلان کیا کہ یکم فروری سے سندھ کے سکول کھل رہے ہیں، سکول تو نہیں کھلے لیکن بھینسیں سکولوں میں پہنچ گئیں ہیں – حلیم عادل شاہ نے سندھ کے سکولوں سے مایوس ہوتے ہوئے کہا "یہ ہے ہمارے سندھ کی ایجوکیشن، یہ ہیں ہمارے سندھ کے اسکول، یہ ہے ہمارے سندھ کی تباہی”-
حلیم عادل شاہ نے کہا کہ سعید غنی نے اعلان کیا کہ یکم فروری سے سندھ کے سکول کھل رہے، بچے پڑھ رہے ہیں- مجھے امید تھی کے بچے پڑھ رہےہوں گے- مگر افسوس، جب میں آج غریب آباد گرلز اسکول میں آیا تو مجھے آج بھی یہاں بھینسیں ملیں- افسوس کی بات ہےکہ سندھ کے ساٹھ لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں لیکن سکولوں میں بھینسیں، گدھے اورکتے بندھے ہوئے ہیں-سندھ میں ایجوکیشن کی ایمرجنسی لگی ہوئی ہے اور سکولوں میں بھینسیں بندھی ہوئی ہیں- مزید کہتے کہ سائیں تو سائیں، سائیں کی ایجوکیشن بھی سائیًں- سائیں کو مراد علی شاہ کو اور انکے وزیر تعلیم کوایوارڈ دینا چاہیے کہ انہون نے بچے سب پڑھا دیے ہیں اب بھینسیں پڑھا رہے ہیں-ان کو ایوارڈ ملناچاہیے بیسٹ چیف منسٹر اور بیسٹ ایجوکیشن منسٹر کا کہ بچےپڑھا نے کے بعد اب یہ بھینسیں پڑھا رہے ہیں- یہ اسکول کڑوڑوں کی لاگت سے تیار کیا گیا ہے اور اس میں سینکڑوں کی تعداد سے بھینسیں بندھی ہوئی ہیں-
https://twitter.com/BaaghiTV/status/1357935880707723267?s=20
سکول کا حال اوپر دی گئی ویڈیو میں صاف ظاہرہے- حلیم عادل شاہ نے وعدہ کیا کہ پورے سندھ میں ایک کمپین چلائیں گیں- جہاں بھی جانور بندھے ہونگے ور جو سکول بندہ ہونگے وہ کھلوائیں گے. بھینسوں کو جانوروں کو ختم کروا کر انشاءاللہ بچوں کو پڑھوائیں گے-












