Baaghi TV

Category: تعلیم

  • پنجاب یونیورسٹی میدان جنگ بن گئی طلبا کی لڑائی میں گارڈز بھی زخمی ہوگئے ، پولیس نے کنٹرول سنبھال لیا

    پنجاب یونیورسٹی میدان جنگ بن گئی طلبا کی لڑائی میں گارڈز بھی زخمی ہوگئے ، پولیس نے کنٹرول سنبھال لیا

    لاہور:پنجاب یونیورسٹی میدان جنگ بن گئی طلبا کی لڑائی میں گارڈز بھی زخمی ہوگئے ، پولیس نے کنٹرول سنبھال لیا ،اطلاعات کےمطابق پنجاب یونیورسٹی میں دو طلبا تنظیموں کے درمیان جھگڑے میں کئی طالب علم اور گارڈز زخمی ہو گئے۔

    پنجاب یونیورسٹی ذرائع کے مطابق جھگڑا یونیورسٹی کے شعبہ جینڈر اسٹڈیز میں ہوا تاہم تصادم کی وجہ کا تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ جھگڑے میں 4 طلبا اور یونیورسٹی کے 6 گارڈز زخمی ہوئے جنھیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔طلبا تنظیموں میں جھگڑے کے بعد پولیس کی بھاری نفری یونیورسٹی پہنچ گئی جب کہ ترجمان پنجاب یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ حالات اب کنٹرول میں ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی پنجاب یونیورسٹی میں طلبا تنظیموں کے درمیان کئی لڑائیاں ہوچکی ہیں ، اس سلسلے میں جرائم میں ملوث طلبا کوسزائیں بھی دی گئیں اورآئندہ یونیورسٹی میں کسی قسم کی سیاسی ، مذہبی یا لسانی بنیاد پرلڑائی جھگڑے کے خاتمے کے لیے اقدامات بھی کیے گئے تھے

  • کورونا وائرس،تعلیمی اداروں میں ایک ماہ کی چھٹیاں کردی گئیں‌

    کورونا وائرس،تعلیمی اداروں میں ایک ماہ کی چھٹیاں کردی گئیں‌

    ٹوکیو: کورونا وائرس،تعلیمی اداروں میں ایک ماہ کی چھٹیاں کردی گئیں‌ ،اطلاعات کےمطابق جاپان میں کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والے حالات کی بنا پر ایک ماہ کے لیے تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کردیا گیا۔

    جاپانی اخبار کے مطابق وزیر اعظم شنزو ایبے نے کابینہ کو بتایا کہ وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کوششیں جاری ہیں، آئندہ ہفتے اس سلسلے میں انتہائی اہمیت کے حامل ہے۔ اس لیے اپریل کے آغاز تک تمام تعلیمی ادارے بند رکھیں جائیں۔

    جاپان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 200 سے تجاوز کرچکی ہے جب کہ 700 متاثرہ مسافروں کے ساتھ ڈائمنڈ پرنسز کروز شپ بھی اس کے ساحل پر موجود ہے۔

  • تبدیلی کے اثرات علمی دنیا بھی محسوس کرنے لگی ، پاکستان کی 12 یونیورسٹیاں دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں شامل

    تبدیلی کے اثرات علمی دنیا بھی محسوس کرنے لگی ، پاکستان کی 12 یونیورسٹیاں دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں شامل

    نیویارک:تبدیلی کے اثرات علمی دنیا بھی محسوس کرنے لگی ، پاکستان کی 12 یونیورسٹیاں دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں شامل ،اطلاعات کےمطابق امریکی ادارے ٹائمز ہائیر ایجوکیشن نے دنیا بھر کی بہترین جامعات کی فہرست جاری کردی، جس میں پاکستان کی 12 یونیورسٹیز شامل ہیں۔

    امریکی ادارے کی جانب سے سال 2020 کی 500 سے زائد بہترین جامعات کی رینکنگ جاری کردی گئی جس میں پاکستان کی جامعات نے بہتر کارکردگی کی بنیاد پر جگہ بنائی۔ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے بین الاقوامی درجہ بندی کے علاوہ خطوں کی رینکنگ بھی جاری کی گئی۔

    رواں سال کے دوران ایشیاء کی یونیورسٹی رینکنگ میں پاکستانی جامعات ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ امریکی ادارے کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 12 یونیورسٹیاں بہترین جامعات کی فہرست میں شامل ہیں جبکہ دو برس قبل یہ تعداد 10 کے قریب تھی۔

    رینکنگ کے اعتبار سے قائد اعظم یونیورسٹی کو اس کی تدریسی اور ریسرچ کے ماحول کی بنیاد پر ایشیا میں 85 واں نمبر دیا گیا جو کہ گزشتہ برس 79 واں تھا۔

    پاکستان کی دیگر یونیورسٹیز میں کوسٹ ماس یونیورسٹی ، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی (اسلام آباد) ، یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد، لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، یونیورسٹی آف پنجاب، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور، یونیورسٹی آف پشاور، بہاء الدین ذکریا یونیورسٹی، پی ایم اے ایس یونیورسٹی راولپنڈی، یونیورسٹی آف ویٹنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور اور یونیورسٹی آف سرگودھا شامل ہیں۔

    امریکی ادارے ٹائمز ہائیر ایجوکیشن کا کہنا ہےکہ ایشیائی یونیورسٹیوں میں پاکستان کی نمائندگی اچھی بات ہے، اس سال پاکستان نے اوسطا بہتر نتائج حاصل کئے ہیں، جبکہ اس سے قبل شعبے میں پاکستانی جامعات کمزور تھیں۔

    ابتدائی دس یونیورسٹیز میں سے 7 چین جبکہ ایک روس، ایک تائیوان اور ایک جنوبی افریقا کی یونیورسٹی رہی۔

    Tsinghua University China

    Peking University China

    Zhejiang University China

    University of Science and Technology of China

    Lomonosov Moscow State University Russia

    Shanghai Jiao Tong University China

    Fudan University China

    National Taiwan University Taiwan

    Nanjing University China

    University of Cape Town South Africa

  • گرلزہاسٹل سے لڑکی کی لاش اورملتان میں طالب علم کی خودکشی کی کوشش ، پولیس بھی چکراگئی ، آخریہ لڑکی کون ہے ؟

    گرلزہاسٹل سے لڑکی کی لاش اورملتان میں طالب علم کی خودکشی کی کوشش ، پولیس بھی چکراگئی ، آخریہ لڑکی کون ہے ؟

    لاہور: گرلزہاسٹل سے لڑکی کی لاش اورملتان میں طالب علم کی خودکشی کی کوشش ، پولیس بھی چکراگئی ، آخریہ لڑکی کون ہے ؟،اطلاعات کےمطابق پنجاب کے علاقے لاہور کے گرلز ہاسٹل سے لڑکی کی لاش برآمد ہوئی ہے ادھر ملتان میں طالبعلم نے خودکشی کی کوشش کی۔

    تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن میں گرلز ہاسٹل سے لڑکی کی لاش ملی ہے جس کی شناخت سحر خان کے نام سے ہوئی، 32 سالہ سحر خان کا تعلق گارڈن ٹاؤن سے ہے۔پولیس اور فرانزک ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر لاش کا معائنہ کیا اور تحقیقات شروع کردی ہیں۔

    ایس پی صدر کا کہنا ہے کہ دروازہ نہ کھولنے پر سحر خان کی موت کا انکشاف ہوا جبکہ لاش کو مردہ خانے منتقل کردیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق لڑکی کی موت کے اصل حقائق پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد معلوم ہوسکیں گے۔

    ادھر ملتان نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے فائنل ایئر کے طالبعلم نے خودکشی کی کوشش ہے، طالبعلم کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔طالبعلم کاشف رضا نے ہوش میں آنے کے بعد ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں کہا کہ چار سال کے دوران ایک بار بھی کسی مضمون میں فیل نہیں ہوا، ایسے پروفیسر ہیں جو ذاتی عناد پر طلبا کو فیل کرتے ہیں۔کاشف رضا کا کہنا ہے کہ کلاس فیلوز پاس ہوئے، مجھے کس بنیاد پر وائیوا میں فیل کیا گیا وجہ بتائی جائے۔

  • لکھنؤ یونیورسٹی میں حاملہ خواتین کے لباس، رویوں سے متعلق تعلیم ، لڑکیوں‌سے زیادہ لڑکوں نے داخلے کے لیے درخواستیں جمع کروادیں

    لکھنؤ یونیورسٹی میں حاملہ خواتین کے لباس، رویوں سے متعلق تعلیم ، لڑکیوں‌سے زیادہ لڑکوں نے داخلے کے لیے درخواستیں جمع کروادیں

    لکھنو:لکھنؤ یونیورسٹی میں حاملہ خواتین کے لباس، رویوں سے متعلق تعلیم ، داخلہ لینے والوں کا رش لگ گیا ،اطلاعات کےمطابق بھارت کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کی معروف ’لکھنؤ یونیورسٹی‘ نئے تعلیمی سال سے ایک نیا اور اہم کورس پڑھانے جا رہی ہے۔

    لکھنؤ یونیورسٹی نئے سال سے لڑکوں اور لڑکیوں کو ’گربھ سنسکار‘ نامی ایک منفرد تعلیمی کورس پڑھانا شروع کرے گی، جس میں طلبہ کو حاملہ خواتین کی صحت سے متعلق پیچیدگیوں سمیت ان کی صحت کے حوالے سے پڑھایا جائے گا۔

    بھارتی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ نے خبر رساں ادارے کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نئے تعلیمی سال سے یونیورسٹی ’گربھ سنسکار‘ نامی نیا تعلیمی کورس پڑھانا شروع کرے گی۔

    یونیورسٹی کے ترجمان نے نئے کورس کے حوالے سے بتایا کہ گزشتہ سال اترپردیش کی خاتون گورنر آنندیبن پٹیل نے یونیورسٹی انتطامیہ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ لڑکیوں کو حمل اور مستقبل میں ماں بننے کے سنسکار اور اس کی اہمیت سے متعلق بھی تعلیم دے۔

    آنندیبن پٹیل گورنر ہونے کی حیثیت سے یونیورسٹی کی چانسلر بھی ہیں اور ان کی تجویز کے بعد لکھنؤ یونیورسٹی نے ’گربھ سنسکار‘ کا نیا تعلیمی کورس ترتیب دیا۔ رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ ’گربھ سنسکار‘ کے دوران طلبہ کو حاملہ خواتین سے متعلق ہر طرح کی تعلیم دے گی۔

    کورس کے دوران طلبہ کو پڑھایا جائے گا کہ حاملہ خاتون کو کس طرح کا لباس پہننا چاہیے، اسے کس طرح کی غذائیں کھانی چاہیے، وہ کیسے اپنے پیٹ میں پلنے والے بچے کا خیال رکھ سکتی ہیں اور کس طرح وہ خود کو صحت مند اور پرکشش رکھ سکتی ہیں۔

    ’گربھ سنسکار‘ کا نیا کورس متعارف کرائے جانے پر نوجوان طلبہ نے بھی خوشی کا اظہار کیا اور اس کورس کو مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔طلبہ کے مطابق ’گربھ سنسکار‘ کورس کے باعث نئی نسل کو اپنے مستقبل کے حوالے سے اہم معلومات حاصل ہوگی اور آنے والی نسل صحت مند پیدا ہوگی۔یونیورسٹی کے مطابق ’گربھ سنسکار‘ میں لڑکیوں سمیت لڑکے بھی داخلے کے اہل ہیں۔

    یونیورسٹی جہاں اس کورس کے ذریعے نئی نسل کو تعلیم دے گی، وہیں یونیورسٹی کورس کے مطابق ’گربھ‘ سے متعلق سیمینارز کا انعقاد بھی کرے گی۔

  • بھارتی استاد اپنے بچوں کو امتحانات میں نقل کا گربتانے لگے

    بھارتی استاد اپنے بچوں کو امتحانات میں نقل کا گربتانے لگے

    اترپردیش:بھارتی استاد اپنے بچوں کو امتحانات میں نقل کا گربتانے لگے ،اطلاعات کےمطابق بھارت میں طلباء کو نقل کرنے کی ترکیبیں بتانے پر پولیس نے اسکول کے مینیجر کو گرفتار کر لیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق اترپردیش لکھنؤ میں پولیس نے ایک اسکول کے مینیجر کو طلباء کو امتحانات میں نقل کرنے اور امتحان میں نگرانی کرنے والے استادوں کے ساتھ بدتمیزی کرنے کی ترکیبیں بتانے والے مینیجر کو گرفتار کر لیا۔

    طلباء نے اسکول مینیجر کی بچوں کو نقل کی ترکیبیں بتانے والی تقریر کی ویڈیو بنا کر شکایت پورٹل پر اَپ لوڈ کی جس پر اُتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے فوری نوٹس لیا اور ان کے حکم پر ہری بناش میموریل اسکول کے مینیجر پراوین مال کو گرفتار کر لیا گیا۔

    اس ویڈیو میں سنا جاسکتا ہے کہ مینیجر طلباء کو بتا رہا ہے کہ کس طرح امتحان میں ایک دوسرے سے بات چیت کرنی چاہیے اور اگر نقل کرتے ہوئے استاد دیکھ لے تو اُس نقل والی پرچی سے مکر جانا چاہیے، اس کے علاوہ پکڑے جانے کی صورت میں استاد سے بحث کرنی چاہیے تاکہ اُنہیں غصّہ آئے۔

    یہ سب وہ باتیں تھیں جو اسکول مینیجر نے طلباء کو امتحان میں نقل کرنے کے لئے بتائیں۔متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ اسکول کے منیجر کی اس حرکت پر اُن کے خلاف جلد کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • تعلیم کا بجٹ کہاں گیا؟ درختوں کے سائے تلے بنا سکول، طلبا ،اساتذہ کے لئے فرنیچر نہیں،عوام نے اٹھائے سوالات

    تعلیم کا بجٹ کہاں گیا؟ درختوں کے سائے تلے بنا سکول، طلبا ،اساتذہ کے لئے فرنیچر نہیں،عوام نے اٹھائے سوالات

    تعلیم کا بجٹ کہاں گیا؟ درختوں کے سائے تلے بنا سکول، طلبا ،اساتذہ کے لئے فرنیچر نہیں،عوام نے اٹھائے سوالات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تعلیم کا بجٹ کہاں گیا؟ درختوں کے سائے تلے سکول بنانے پر عوام نے سوال اٹھانا شروع کر دیئے.

    بھارت میں درختوں کے سائے تلے سکول بنانے پر مودی سرکار پر عوام نے سوال کرنا شروع کر دیئے کہ مودی سرکار کہتی ہے کہ تعلیم کے لئے برا بجٹ مختص کیا ہے لیکن یہاں سکولوں کے لئے بلڈنگز نہیں ہیں،کئی ایسے سکول موجود ہیں جن کی عمارتیں نہیں اور کھیتوں میں سکول کھلے آسمان تلے بنائے گئے ہیں.

    ایسا ہی ایک سکول بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ہے جو پرائمری سکول ہے ، اس سکول کی بلڈنگ نہیں اور درخت کے نیچے اس کی کلاسز لگائی جاتی ہیں،مدھیہ پردیش کے ضلع شاڈول کے کھنڈ میں قائم سکول میں طلبا کے لئے فرنیچر بھی نہیں، طلبہ زمین پر بیٹھتے ہیں ، اساتذہ کے لئے بھی فرنیچر نہیں، رفع حاجت کے لئے واش روم کا انتظام بھی نہیں، اس سے بڑھ کر سکول میں پینے کے صاف پانی کی سہولت بھی موجود نہیں.

    سکول میں اساتذہ کے لئے صرف ایک کرسی موجود ہے اور ایک ہی ٹیبل ہے، باقی اساتذہ بھی طلبا کے ساتھ نیچے بیٹھتے ہیں،اس سکول کو لے کر بھارتی عوام نے مودی سرکار سے سوال کیا ہے کہ تعلیم کا بجٹ کہاں گیا؟

    دوسری جانب کہا گیا ہے مدھیہ پردیش ریاست کے لئے تعلیمی بجٹ 24,499کروڑ روپے مختص کیا گیا ہے تا ہم عوا م کا سوال ہے کہ آخر یہ بجٹ کدھر ہے۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کا کہنا ہے اس اسکول کے حوالہ سے کسی نے نہیں بتایا اب معاملہ علم میں آ چکا، جلد عمارت فراہم کر دی جائے گی

  • ڈیرہ اسمٰعیل خان میں حالات سخت کشیدہ ہوگئے ،گومل یونیورسٹی کے گیٹ بند کردیئے گئے

    ڈیرہ اسمٰعیل خان میں حالات سخت کشیدہ ہوگئے ،گومل یونیورسٹی کے گیٹ بند کردیئے گئے

    ڈیرہ اسماعیل خان:ڈیرہ اسمٰعیل خان میں حالات سخت کشیدہ ہوگئے ،گومل یونیورسٹی کے گیٹ بند کردیئے گئے ،اطلاعات کےمطابق ڈیرہ اسمٰعیل خان میں ایک بارپھر حالات بہت زیادہ بگڑگئے ہیں اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق گومل یونیورسٹی کے طلباء نے نے مین کیمپس کے گیٹ بند کر دیے۔

     

    باغی ٹی وی کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان گومل یونیورسٹی کے طلبہ کا حالیہ فیسوں اور یونیورسٹی کی جانب سے دی گئی چھٹیوں کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے، ادھر طلبا کا کہنا ہے کہ مطالبات پورے نہ ہونے تک گومل یونیورسٹی مکمل بند رہے گے

    ڈیرہ اسماعیل خان سے باغی ٹی وی کے مطابق گومل یونیورسٹی کے ہزاروں طلباء نے یونیورسٹی میں ہر قسم کی آمد ورفت کے لئے بند کر دیا ہے،دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ انتظامیہ کی طرف سے مذاکرات کے باوجود گومل یونیورسٹی کے طلبہ اپنی زد پرقائم ہیں‌اوران کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک احتجاج سے پیچھے نہیں ہٹیں‌گے جب تک یونیورسٹی فیسوں میں کیا گیا اضافہ واپس نہیں لے لیتی

    ڈیرہ اسماعیل خان سے باغی ٹی وی کے مطابق طلبا کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ گومل یونیورسٹی کے طلبہ پر درج ایف آئی آر ہی ختم کی جائیں۔ادھر ذرائع کے مطابق یونیورسٹی حکام کا کہنا ہےکہ یہ احتجاج بلاجواز ہے اورپچھلے ہفتے بھی اس قسم کے بے جا ایشوز کوجواز بنا کر احتجاج کیا گیا حالانکہ اس سے پہلے ہی انتظامیہ نے طلبا کے تمام مطالبات تسلیم کرلیئے ، لیکن اس کے باوجود احتجاج سوائے سیاسی عدم استحکام کے کچھ بھی نہیں‌

  • گومل یونیورسٹی کے طلباء کامطالبات منظورہونے کے باوجود مین کیمپس گیٹ پر احتجاج،پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی ، ٹریفک بلاک

    گومل یونیورسٹی کے طلباء کامطالبات منظورہونے کے باوجود مین کیمپس گیٹ پر احتجاج،پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی ، ٹریفک بلاک

    ڈیرہ اسماعیل خان۔گومل یونیورسٹی کے طلباء کا مین کیمپس گیٹ پر احتجاج،پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی ، ٹریفک بلاک،اطلاعات کے مطابق گومل یونیورسٹی کے طلباء کا مین کیمپس گیٹ پر احتجاج جاری پئ اوردوسری طرف پولیس پہنچ چکی ہے اورمذاکرات کی اطلاعات ہیں

    باغی ٹی وی کےمطابق گومل یونیورسٹی کے طلباء نے مین انڈس ہائی وے شاہرہ بلاک کردی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لک گیں۔طلباء کا مطالبہ ہے فیسوں میں اضافہ واپس لیا جائے اوریونیورسٹی کے گرفتار طلباء کو رہا کیا جائے۔ساتھ طلبا نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ مطالبات کی منظور تک انڈس ہائی وے بلاک رہے گا

     

    دوسری طرف گومل یونیورسٹی انتظا میہ کا موقف گومل یونیورسٹی کے طلباء جن مطالبات کا ذکر کر رہے ہیں وہ تمام منظور ہو چکے ہیں اور وائس چانسلر گومل یونیورسٹیi نے فیسوں میں کمی بھی کی ہے مگر اس تمام کے باوجود ان کا جی پی او چوک پر دھرنا دینے واضح کرتا ہے کہ یہ طلباء شاید کسی اور مقاصد کے حصول کے لئے نکلے ہیں ۔

    گومل یونیورسٹی میں انہی طلباء کی 13مختلف مطالبات دو ماہ پہلے حل کر دیئے گئے تھے اور فیس کا ایک مطالبہ وائس چانسلر گومل یونیورسٹی نے 900روپے کم کرکے ایک ماہ پہلے حل کر دیا تھا۔لیکن طلباء نے مزید3500کمی کا مطالبہ کر دیا جس پر وائس چانسلر نے پانچ دن پہلے ایک بار پھر منظور کر لیا ۔ جب یہ مطالبات بھی منظور کر لئے گئے تو یہ 20سے25طلباء اپنی بات سے ایک بار پھر مکر گئے ۔

    ان کے مکرنے کے باوجود بھی گومل یونیورسٹی نے گزشتہ روز ان طلباء کے پاس مذاکرات کیلئے گئے مگر ان طلباء نے مذاکرات سے انکار کر دیا اور وہ مین کیمپس سے جی پی او چوک تک ریلی نکالنے اور پھر دھرنا دینے کیلئے باضد تھے۔ جس سے واضح ہوا کہ ان طلباء کا ان مطالبات سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کچھ اور مقاصد کیلئے کام کررہے ہیں ۔

     

    رات گئے احتجاج اور انڈس ہائی وے کو بلاک کرنا گومل یونیورسٹی انتظامیہ ڈائریکٹر سٹوڈنٹس آفیئر اور پرووسٹ کی قیادت میں الصبح بھی ان طلباء کو ریلی اور دھرنے سے روکا اور ان سے مذاکرات کی کوشش کی مگر طلباء نے کسی بھی قسم کی بات کرنے سے انکار کرد یا اور جی پی او چوک پر دھرنا دے کر بیٹھ گئے اور اب بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہیں اور گومل یونیورسٹی انتظامیہ ،حکومت کے خلاف نعرے بازی میں ملوث ہیں۔

    واضح رہے کہ گومل یونیورسٹی میں15ہزار طلباء ہیں جبکہ کیمپ میں موجود د س سے بارہ لڑکے نہیں ہیں۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ طلباء کچھ اور مقاصد کیلئے یہ دھرنا دیئے بیٹھے ہیں ۔ جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ گومل یونیورسٹی کے طلباء پر امن طلباء ہیں کیونکہ یہ طلباء دور دراز علاقوں سے پڑھائی کیلئے آئے ہوئے ہیں اور گومل یونیورسٹی میں امن چاہتے ہیں

    آخری اطلاعات کے آنے تک طلباء کو منشیر کرنے کے لیے پولیس کی ڈنڈہ بردار نفری پہنچ کئی ہے۔گومل یونیورسٹی طلباء کے پولیس سے مزکرات جاری ہیں اورپولیس نےگرفتار طلباء کی رہائی کی یقین دہانی کرادی ہے ادھر ذرائع کے مطابقطلباء نے جزوی طورپر مین انڈس ہائی وے ٹریفک کے لیے کھول دی۔

  • حکومت کے احسن اقدام کو سراہنا تو بنتا ہے.

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی سے) حکومت پنجاب نے صوبائی محکموں کے 30 جون 2020 تک ریٹائرڈ ہونے والے تمام ملازمین کی فہرستیں طلب کر لی ہیں اس سلسلہ میں محکمہ ایس اینڈ جی اے کی وساطت سے صوبہ بھر کے ڈپٹی کمشنروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت پنجاب نے چند برس قبل یہ ہدایت جاری کی تھی کہ ریٹائرڈ ہونے والے ملازم کو اس کی نوکری کے آخری دن ماہانہ پنشن اور تمام سرکاری واجبات کی ادائیگی کا اجازت نامہ دے کر دفتر سے الوداع کیا جائے مگر ان احکامات پر عملدرآمد نہیں ہوسکا اور اب بھی محکمہ اکاؤنٹس کے بعض افسر پنشن کیس پاس کرنے کی بھاری رشوت لیتے ہیں جس کے خلاف ایپکا کی طرف سے کئی بار احتجاج کیا جا چکا ہے اسی طرح بلدیاتی اداروں میں مالی بحران اور بھاری رشوت لینے کے لیے ریٹائرڈ ملازمین اور بلدیاتی اداروں کے ٹیچروں کو کئی کئی سال سے پنشن نہیں مل سکی جن میں سے بڑی تعداد میں بیمار اور معذور ریٹائرڈ ملازمین بھی شامل ہیں حکومت پنجاب نے اس بارے میں مسلسل ملنے والی شکایات کا نوٹس لیا ہے اور ہدایت جاری کی ہے کہ تاخیر کا شکار پنشن کیسوں کے علاوہ 30 جون تک ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین جن میں چھوٹے ملازم اور آفیسرز بھی شامل ہیں کے پنشن کیس تیار کر کے اس کی رپورٹ بھیجی جائے اور ان کیسوں کے بارے میں ابتدائی رپورٹ ڈسٹرکٹ پنشن کیسیز ڈسپوزل کمیٹی کا اجلاس منعقد کر کے اس میں بھی زیر غور لائی جائے