Baaghi TV

Category: تعلیم

  • کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ سرگودھا یونیورسٹی میں قائم کیا جائے گا

    کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ سرگودھا یونیورسٹی میں قائم کیا جائے گا

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی )وزیر اعظم عمران خان اور چینی وزیر اعظم لی کیکیان کی موجودگی میں ، بیجنگ میں مفاہمت کے کئی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔ ان میں سے سرگودھا یونیورسٹی (ایس یو) میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے قیام کے لئے مفاہمت نامہ تھا۔ بیجنگ میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے صدر دفاتر ، وائس چانسلر کی جانب سے ، اور HANBAN کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے ، سفیر نغمانہ ہاشمی نے اس پر دستخط کیے۔
    یہ ملک کا پانچواں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ ہوگا ، اس کے علاوہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجس ، پنجاب یونیورسٹی ، جامعہ کراچی اور یونیورسٹی آف زراعت ، فیصل آباد میں پہلے سے فعال چار انسٹی ٹیوٹ ہیں۔
    رواں سال جولائی میں ایس یو نے ہینن نارمل یونیورسٹی (ایچ این یو) کے ساتھ ایک ایم او یو پر دستخط کیے تھے ، جس کے تحت چینی زبان اور ثقافت کے مطالعہ کے لئے ایس یو میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد دونوں یونیورسٹیوں نے ہانبن سے رابطہ کیا ، جس نے اس کی منظوری دے دی اور ، اس کے بعد ، اسلام آباد میں دفتر خارجہ اور چینی سفارتخانے نے وزیر اعظم عمران خان کے چین کے اہم دورے سے قبل مفاہمت نامے پر دستخط کے لئے مطلوبہ کاغذی کام مکمل کرلیا۔
    ایچ این یو کے ساتھ مفاہمت نامہ کی دفعات کے تحت ، ایس یو سی آئی کے لئے احاطہ فراہم کرے گا جس میں لائبریری ، ایکٹیویٹ روم اور کلاس رومز کے لئے جگہ شامل ہے ، اس کے علاوہ ویزوں کی سہولت سمیت اساتذہ کو لاجسٹک سپورٹ بھی دی جائے گی اور ہانبن اپنی تعلیم کی تنخواہوں کی ادائیگی کے ذریعے اس کا معاوضہ لے گا۔ عملہ ، تدریسی مواد کے اخراجات اور دیگر متعلقہ اخراجات اس میں شامل ہوں گے
    کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے قیام اور اس کے کارگردگی کے طور پر ، HNU کے دو چینی زبان اساتذہ نے پہلے ہی ایس یو میں چینی زبان کی کلاسیں شروع کردی ہیں۔
    چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) میں پیشرفت کے پیش نظر ، ایس یو نے چینی اداروں کے ساتھ علمی اور تحقیقی تعاون کو اولین ترجیح بنایا ہے۔ سی پی ای سی اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کے ساتھ ، جس میں خاص طور پر زرعی تعاون پر زور دیا گیا ہے ، اس یونیورسٹی نے چینی ہم منصبوں کے ساتھ متعدد تبادلے کے معاہدے کیے ہیں جن میں خشک لینڈ زراعت میں لانجو یونیورسٹی اور جنوبی چین زرعی یونیورسٹی کے ساتھ صحت سے متعلق زراعت اور سائٹرس ریسرچ ہے۔
    آسانی سے مواصلت اور چینی ثقافت اور طریقوں سے بخوبی آگاہی حاصل کرنے کے ل Chinese ، چینی زبان سیکھنا ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لہذا ، ایس یو کا مقصد انسانی وسائل کا ایک تالاب تعمیر کرنا ہے جو مقامی برادری کی خدمت کرنے اور ملک کی معاشی ترقی میں قدر و منزلت کے ل Chinese بہتر تربیت یافتہ ، اہل اور چینی زبان سے واقف ہے۔
    اس مقصد کے لئے ، پچھلے سال ، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف چائنا اسٹڈیز (پی آئی سی ایس) قائم کیا گیا تھا ، جس میں ایک اعشاریہ پانچ ارب روپے کے فنڈ سے چلنے والے ترقیاتی منصوبے کا حصہ ہے ، جو چینی اداروں کے ساتھ یونیورسٹی کے باہمی تعاون کے منصوبوں کی نگرانی اور نگرانی کررہا ہے۔ کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کا قیام اس باہمی فائدہ مند عمل میں تیزی لائے گا ، خاص طور پر بڑے پیمانے پر زرعی خطے کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لئے یہ مفید ثابت ہو گا

  • سینٹرل جیل میں فارغ التحصیل طلباء کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں اسناد تقسیم کی گئی

    فیصل آباد(نمائندہ باغی ٹی وی) سینٹرل جیل میں فارغ التحصیل طلبا کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں اسناد تقسیم کی گئیں اس تقاریب میں مہمان خصوصی ڈی آئی جی جیل خانہ سعید اللہ گوندل تھے دیگر مہمان گرامی میں ڈسٹرکٹ مینیجر ٹیوٹا اور ٹیوٹا BOM انجینئر عاصم منیر تھے SSP سینٹرل جیل نورالحسن بگھیلا نے مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا اس موقع پر پرنسپل علی عرفان رسول نے موقع پر ادارے میں چلنے والے کورسز پر بریفنگ دی پچاس کے قریب طلبا کورس مکمل کرنے اور رہائی کے بعد باہر اپنا روزگار کما رہے ہیں۔ڈی آئی جی نے ادارے کی کاوشوں کو سراہا اور اس موقع پر ڈسٹرکٹ مینیجر ٹیوٹا اور انجینئر عاصم منیر جیل خانہ جات کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ کورسز کی تعداد کو وسیع کیا جائے گا اور اس میں مزید بہتری لائی جائے گی ۔ڈی آئی جی نے تقریب کے اختتام پر علی عرفان، سلیم اکبراور عاصم منیر کو اعزازی سر ٹیفکیٹ سے نوازا اور ٹیچر ڈے پر بوسٹل جیل کے اسٹاف کو حسن کارکردگی پر شیلڈ سے نوازا گیا۔

  • نشہ کے ناسور سے نوجوان نسل کو بچانے کے لئے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے

    فیصل آباد( نمائندہ باغی ٹی وی)نشہ کے ناسور سے نوجوان نسل کو بچانے کے لئے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قوم کے معمار اس لعنت سے دور اور معاشرے کو اس برائی سے بچایا جاسکے۔یہ بات میڈیکل سوشل آفیسر ماڈل ڈرگ ایبویز ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال رابعہ خالد نے انجمن انسداد منشیات کے زیراہتمام گورنمنٹ گرلز ہائی سکول نثار کالونی میں آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اینٹی نارکوٹکس فورس کے انسپکٹر محمد علی،جنرل سیکرٹری انجمن انسداد منشیات محمدانوارخان، سائیکالوجسٹ غلام مصطفی نیازی، محمد پرویز،میڈم شکیلہ کے علاوہ پرنسپل ادارہ،اساتذہ اور طالبات بھی موجود تھیں۔میڈیکل سوشل آفیسر نے کہا کہ تابناک مستقبل کے لئے نوجوان نسل کو اس لت سے دوررہنا چاہیے کیونکہ نشہ انسان کو تنزلی میں دھکیل دیتا ہے اور دین اسلام نے بھی اس سے باز رہنے کی تلقین کی ہے۔انہوں نے طالبات سے کہا کہ وہ اپنی تمام تر توجہ حصول علم پر مرکوز رکھیں اورنشہ سمیت دیگر برائیوں سے دوررہیں۔جنرل سیکرٹری نے انجمن انسداد منشیات کی کارکردگی سے آگاہ کیا اور کہا کہ معاشرے کو اس لعنت سے دور رکھنے کے لئے اقدامات جاری ہیں۔انہوں نے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ نشہ کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔سائیکالوجسٹ نے نشہ کی اقسام،اس کے معاشی اور معاشرتی زندگی پر اثرات اور اس سے پیداہونے والے بیماریوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور کہا کہ ڈی ایچ کیو میں نشہ کے عادی افراد کی بحالی کے لئے سنٹر ہمہ وقت کام کررہا ہے جہاں ایسے افراد کی کونسلنگ کرکے انہیں معاشرے کا کارآمد شہری بنایا جارہا ہے۔انسپکٹر اینٹی نارکوٹکس نے منشیات فروشوں کے خلاف کاررائیوں جبکہ دیگر مقررین نے نشہ کے خلاف نفرت بیدار کرنے کے لئے آگاہی پروگرامز کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

  • چلو!جان چھوٹ گئی ، ٹیچراب نہیں لکھیں‌گے ڈائری،

    چلو!جان چھوٹ گئی ، ٹیچراب نہیں لکھیں‌گے ڈائری،

    لاہور:محکمہ تعلیم ہرروز نئی نئی تکنیک استعمال کرنے لگا ، محکمہ تعلیم کا لیسن پلان آبزرویشن کے لیے نئی ایپلی کیشن لانچ کرنے کا فیصلہ، نئی ایپلی کیشن میں پرانے تمام انڈیکٹرز کو ختم کر کے نئے انڈیکٹرز شامل کئے جائیں گے۔

    پریانکا جنگی خیالات کی حامل ،حسد کس بات کا ،ارمینہ خان جارحانہ ہوگئیں‌

    تفصیلات کے مطابق نئی ایپلی کیشن سے اساتذہ کو ٹیچرز ڈائری نہیں لکھنا پڑے گی،نئی ایپلی کیشن کے ذریعے بھیجی گئی رپورٹ اساتذہ خود بھی دیکھ سکیں گے، پروموشن اور اساتذہ کہ مستقلی کیلئے بھی یہی سے ڈیٹا حاصل کیا جائے گا،

    مگرمچھ نے مچھیرے کو نوالہ بنا ڈالا، دیکھنے والے بھی منظردیکھ نہ سکے

    نئی ایپلی کیشن رواں ماہ کے آخر میں لانچ کر دی جائےگی، اساتذہ کی اس سلسلے میں مرکز لیول پر ٹریننگ بھی کرائی جائے گی۔دوسری طرف اساتذہ کا کہنا ہےکہ اس طرح مختلف طریقے استعمال کرنے سے بہتر ہے کہ اس کا حل اساتذہ پر چھوڑ دیا جائے تاکہ وقت بچا کر بچوں کی تعلیم میں‌صرف کیا جاسکے

    صدر پاکستان عارف علوی کمنٹیٹر بن گئے

  • کیا یہ تبدیلی والی سرکار کی گڈ ایجوکیشن مینجمنٹ ہے، جسے پتا ہی نہیں‌،ٹیچریونین

    کیا یہ تبدیلی والی سرکار کی گڈ ایجوکیشن مینجمنٹ ہے، جسے پتا ہی نہیں‌،ٹیچریونین

    لاہور: تبدیلی والی سرکار نے ہر اچھے کام کا ستیا ناس کرنے کے لیے اچھی روایات اور طریقہ کار کو بھی بدلنا شروع کردیا ہے ، اطلاعات کے مطابق پنجاب ٹیچرزیونین نے سیکنڈری سکول ایجوکیٹرز کی ریگولرائزیشن کیلئے ٹیسٹ اور انٹرویو کی شرط کومستردکردیا، پی ٹی یو کا کہنا ہے کہ سیکنڈری سکول ایجوکیٹرز پہلے ہی این ٹی ایس اور محکمانہ انٹرویو پاس کر چکے ہیں۔

    ڈینگی ابھی زندہ ہے، مزیدمریضوں کو ہسپتالوں تک پہنچادیا

    حکومتی فیصلے پر اساتذہ کا کہنا ہے کہ سکینڈری سکول ایجوکیٹرز کو ریگولرائزیشن کیلئے دوبارہ پبلک سروس کمیشن سے ٹیسٹ اور انٹرویو پاس کرنے کا حکم دینا سراسر ناانصافی وزیادتی ہے۔ کنٹریکٹ اساتذہ باقاعدہ این ٹی ایس اور انٹرویو پاس کرچکے ہیں۔

    "وہی خدا ہے”عاطف اسلم نے خوبصورت آواز میں’’حمد‘‘پڑھ کر بیٹے کے نام…

    پنجاب ٹیچرز یونین کے رہنماوں کا کہنا ہےکہ حکومت بتائے کہ کیا قبل ازیں جتنے اساتذہ کو ریگولر کیا گیا ان کا دوبارہ ٹیسٹ اور انٹرویو ہوا؟ اساتذہ کا کہنا ہے یہ کالا قانون نافذ کرکے اساتذہ میں بے چینی و اضطراب کی فضاء پیدا کی جا رہی ہے۔

    مشہورزمانہ دواسازکمپنی جانسن اینڈ جانسن پر13 کھرب روپے کا جرمانہ

    چیئرمین سجاداکبرکاظمی اور جنرل سیکرٹری رانا لیاقت علی کا کہنا ہے کہ وزیراعلی، وزیر تعلیم اور سیکرٹری سکولز سے مطالبہ ہے کہ کنٹریکٹ اساتذہ کو سابقہ پالیسی کے تحت ریگولر کیا جائے۔اور ذرا عقل سے کام لے اس قسم کے فیصلوں سے حکومت کی ایجوکیشن مینجمنٹ پر شک گزرتا ہے

  • دھڑے بندیاں ، محکمہ ہائیر ایجوکیشن کا بڑہ غرق ہوگیا

    دھڑے بندیاں ، محکمہ ہائیر ایجوکیشن کا بڑہ غرق ہوگیا

    لاہور: کہیں‌دھڑے بندیاں تو کہیں ذاتی مفاد ، اسی دھڑے بندی کا شکارہوگیا ہے محکمہ ہائیر ایجوکیشن ، وزیر راجہ یاسر ہمایوں سپیشل سیکرٹری ساجد ظفر ڈال کے دھڑے میں شامل، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈاکٹر راحیل صدیقی نے عہدہ ہی چھوڑ دیا۔

    ڈینگی ابھی زندہ ہے، مزیدمریضوں کو ہسپتالوں تک پہنچادیا

    ذرائع کے مطابق ایک طرف وزیر ہائیر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں سپیشل سیکرٹری ساجد ظفر ڈال کو ساتھ ملا کر امور سرانجام دے رہے تھے جبکہ وزیر کی جانب سے سیکرٹری ڈاکٹر راحیل صدیقی کے ساتھ مشاورت بھی نہیں کی جا رہی تھی۔یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ صوبائی وزیر جان بوجھ کر سیکرٹری ڈاکٹر راحیل صدیقی کو نظرانداز کررہے ہیں‌

    "وہی خدا ہے”عاطف اسلم نے خوبصورت آواز میں’’حمد‘‘پڑھ کر بیٹے کے نام…

    ذرائع کے مطابق ہائیر ایجوکیشن کا محکمہ واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم تھا,سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کی ریٹائرمنٹ قریب ہونے کی وجہ سے انھوں نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور 21 ویں گریڈ میں ہونے کے باعث انھیں ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے عہدے پر تعینات کر دیا گیا، ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران اور عملے نے سیکرٹری سے الوداعی ملاقات کی جبکہ ایڈیشنل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن عثمان خالد خان نے ڈاکٹر راحیل کو یادگاری تصویر دی۔

    مشہورزمانہ دواسازکمپنی جانسن اینڈ جانسن پر13 کھرب روپے کا جرمانہ

  • بورڈ آف سکینڈری ایجوکیشن سرگودہا نے نتائج کا اعلان کر دیا

    بورڈ آف سکینڈری ایجوکیشن سرگودہا نے نتائج کا اعلان کر دیا

    سرگودہا،9اکتوبر2019(نمائندہ باغی ٹی وی)سرگودہا بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے انٹرمیڈیٹ پارٹ فسٹ (گیاہوریں) کے سالانہ امتحان 2019 کے نتیجے کا اعلان کر دیا ہے۔امتحان میں کےلیے 57311امیدواروں نے رجسٹریشن کروائی اور 55575نے حصہ لیا جن میں سے 31263امیدوار کامیاب قرار پائے۔امیدواروں کی کامیابی کا تناسب 5625 فیصد رہا۔
    چیئرپرسن تعلیمی بورڈ ڈاکٹر پروفیسر کوثر رئیس نے سیکرٹری بورڈ چوہدری سرفراز گجر اور کنٹرولر امتحانات کےہمراہ ایک سادہ تقریب میں نتیجہ آن لائن کیا۔
    امیدوار گھر بیھٹے اپنا نتیجہ بورڈ کی ویب سائٹ کے علاوہ اپنے موبائل فون سے اپنا رولنمبر پر 800290 ایس ایم ایس کر کے معلوم کر سکتے ہیں

  • پاکستان انسٹیٹیوٹ آف چائنا اسٹڈیز کے زیر اہتمام پانی کے مسئلے پر خصوصی سیمینار

    پاکستان انسٹیٹیوٹ آف چائنا اسٹڈیز کے زیر اہتمام پانی کے مسئلے پر خصوصی سیمینار

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی )پاکستان انسٹیٹیوٹ آف چائنا اسٹڈیز ، سرگودھا یونیورسٹی کے اشتراک سے شعبہ سیاست اور بین الاقوامی تعلقات (ڈی پی آئی آر) نے "پاکستان میں ابھرتے ہوئے پانی کے چیلینجز” کے عنوان سے ایک قومی کانفرنس کا انعقاد کیا۔
    ملک بھر کے فیلڈ ماہرین ،پروفیسرز اور پی ایچ ڈی اسکالرز نے اس رائے کا اظہار کیا کہ پانی کی موجودہ قلت بہت ہی زیادہ وسائل کی بد انتظامی اور پانی کی غیرضروری بربادی کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے شارٹ لائٹ پلاننگ ہے جو بدترین صورتحال کو دعوت دے رہی ہے
    ماہرین نے آبپاشی کی مہارت کو 41.5 فیصد سے بڑھا کر 55 فیصد کرنے کی ضرورت پر زور دیا ، اور فصلوں کی کاشت کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے مزید پانی کی ضرورت ہے اور ملک میں ابھرتے ہوئے پانی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے میڈیا مہموں کے ذریعہ پانی کی بچت کے بارے میں عوام میں شعور اجاگر کیا جانے پر زور دیا گیا
    پانی کے ماہرین نے زرعی اراضی کو سیراب کرنے کے لئے پانی کے موثر استعمال کے ماڈلز شیئر کیے جو ڈیموں کی تعمیر کی ضرورت کو کم کردیں گے۔ انہوں نے فصلوں کی کاشت کرنے کی ضرورت پر زور دیا جس نے کم پانی استعمال کیا کیونکہ پانی کی کمی نہیں تھی لیکن مسئلہ پانی کا انتظام تھا۔
    مقررین نے سامعین کو آگاہ کیا کہ جنوبی ایشیائی ممالک کو اپنی گھریلو ، تجارتی ، صنعتی اور زرعی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پانی کے زبردست چیلینجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ پاکستان دنیا کے تین بڑے آبی تناؤ والے ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے پاکستان میں پانی کی قلت پر شدید تشویش ظاہر کی کیونکہ کل آبادی کا 65 فیصد براہ راست یا بالواسطہ زراعت سے وابستہ تھا اور جی ڈی پی میں 21 فیصد حصہ ڈال رہا تھا۔
    شرکاء نے اپنے تحقیقی مقالے اور پریزنٹیشنز مختلف پہلوؤں اور چیلنجوں کے بارے میں شیئر کیں ، جن کا سامنا پاکستان کو قومی اور بین الاقوامی محاذوں پر پانی کی قلت کے سبب درپیش ہے اور اس سے نمٹنے کے لئے سفارشات مرتب کیں
    سرگودھا یونیورسٹی کے ڈی پی آئی آر کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد نواز نے ‘دریائے سندھ طاس میں پانی کی انتظامیہ اور سلامتی کو درپیش چیلینجز: انڈس واٹر بیسن کا ایک مطالعہ’ پر اپنی تحقیق پیش کی: روبینہ خان ، ایک پی ایچ ڈی اسکالر نے اپنی تحقیق کا عنوان "پاک بھارت ہند” کے عنوان سے پیش کیا۔
    آخر میں طلبا کے تنقیدی سوالات اور مقررین کے قائل جوابات نے سوال و جواب کے سیشن میں دلچسپ بحث مباحثہ کیا۔
    ڈاکٹر اشتیاق احمد ، یو او ایس کے وائس چانسلر۔ ڈاکٹر فضل الرحمن ، ڈائریکٹر پی آئی سی ایس اور ڈاکٹر محمد اعظم ، چیئرمین ڈی پی آئی آر نے شرکاء کو اسناد پیش کیں

  • سرگودہا یونیورسٹی میں چائینیز لینگویج ٹریننگ کا آغاز کر دیا گیا

    سرگودہا یونیورسٹی میں چائینیز لینگویج ٹریننگ کا آغاز کر دیا گیا

    سرگودھا(نمائندہ باغی ٹی وی)سرگودھا یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چائنیز لینگوئج ٹریننگ پروگرام کا آغاز کر دیا گیا۔ٹریننگ پروگرام پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف چائنہ سٹڈیز (PICS) کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے جس میں ابتدائی طور پر 6 شعبہ جات کے منتخب طلبہ کو چینی زبان سکھائی جائے گی اور چینی زبان سکھانے کے لئے 2 چینی اساتذہ کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ ہیڈ کوارٹر سے سرگودھا یونیورسٹی آئے ہیں جنہوں نے کلاسز کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے اور اس کا دورانیہ 6 ماہ کا ہوگا۔ چینی زبان سکھانے کے عمل کو موثر بنانے کے لئے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف چائینہ اسٹڈیز کے زیر اہتمام ایک تعارفی لیکچر کا اہتمام کیا گیا جس سے پاکستان میں چینی زبان کی ماہر وانگ سوچنگ (سیلینہ وانگ) نے خطاب کیا ،اس موقع پر انہوں نے طلبہ کو بتایا کہ چینی زبان اتنی مشکل نہیں جتنا اس کا تاثر ملتا ہے۔ دنیا میں ڈیڑھ ارب سے زائد لوگ چینی زبان بولتے ہیں اور 21ویں صدی میں پوری دنیا کے 21 فیصد لوگ چینی زبان سے واقف ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چینی زبان تصویری، صوتی اور ان دونوں کا مرکب ہے جبکہ چین کے اندر مختلف انداز سے چینی زبان بولی جاتی ہے اور ایک محتاط انداز کے مطابق چینی زبان تین ہزار سال سے زائد پرانی ہے ۔اس موقع پر چینی ماہر زبان نے طلبہ کو چینی زبان کے بنیادی الفاظ سے بھی آگاہ کیا اور ان کی تربیت کی۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف چائنہ سٹڈیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فضل الرحمان نے اس موقع پر کہا کہ ابتدائی طور پر یونیورسٹی کے 6 شعبہ جات سے طلبہ کو چینی زبان سیکھنے کیلئے منتخب کیا گیا ہے بعدازاں دیگر شعبوں کو بھی اس میں شامل کیا جائے گا اور یہاں طلبہ کو چینی زبان سے واقفیت سے بھرپور مواقع میسر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ چین 2030 ءمیں دنیا کی نمبرون معیشت بن جائیگی جبکہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ کے تحت 70 سے زائد ممالک کو منسلک کیا گیا ہے جس میں سی پیک بھی شامل ہے اور اس سے روزگار اور تجارت کے مواقع پیدا ہوں گے، اس طرح ہماری یہ خوش قسمتی ہے کہ دنیا کی ابھرتی قوت ہمارا ہمسایہ ہے ۔انہوںنے بتایا کہ سرگودھا یونیورسٹی میں جلد ہی کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کا قیام بھی جلد متوقع ہے جس سے یہاں چینی ماہرین کی آمدورفت میں اضافہ ہو گا جبکہ چینی زرعی ماہرین پہلے ہی سرگودھا کی زراعت میں اپنی دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں جس سے سرگودھا اور اس کے گردونواح میں ترقی کا نیا عمل شروع ہو گا اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ہماری کمیونیکیشن بہتر ہونی چاہےے اور اس مقصد کے لئے چینی زبان کے کورسزز کا آغاز کیا گیا ہے۔

  • ہمدرد یونیورسٹی کی طالبہ مصباح اطہرکے مبینہ قاتل گرفتار ، یہ قاتل کون ہیں ، جان کر ہوں گے آپ حیران

    ہمدرد یونیورسٹی کی طالبہ مصباح اطہرکے مبینہ قاتل گرفتار ، یہ قاتل کون ہیں ، جان کر ہوں گے آپ حیران

    کراچی : ہمدرد یونیورسٹی کی طالبہ مصباح کے مبینہ قاتل گرفتار کرلیئے گئے ہیں یہ ہے کراچی پولیس کا دعویٰ ، کیا واقعی پکڑے جانے والے ڈاکو مصباح کے قاتل ہیں ، یہ ثابت ہوگا آگے چل کر تفتیش کے دوران ، بہر کیف کراچی پولیس کا تو دعویٰ ہےکہ اس نے کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں پولیس نے چھاپہ مار کر 2ڈکیتوں کو گرفتار کرلیا

    ذرائع کے مطابق ایسٹ پولیس نے سہراب گوٹھ میں الاآصف اسکوائر کے قریب خفیہ اطلاع پر چھاپہ مارا اور2 ڈکیتوں کو گرفتار کرلیاپولیس کے مطابق گرفتار ڈکیت نے 3 اکتوبر کو نجی یونیورسٹی کی طالبہ مصباح اطہر کو دوران ڈکیتی مزاحمت پر قتل کرنے سمیت اسٹریٹ کرائم اور دیگر جرائم میں بھی ملوث ہیں۔

    برطانوی کرکٹرمیرپور میں زلزلے سے متاثرین کی مدد کو پہنچ گئے ، یہ کرکٹر کون ہیں ،…

    یاد رہے کہ ہمدرد یونیورسٹی میں تھرڈ ائیر کی طالبہ مصباح اطہر 3 اکتوبر کی صبح7بجکر5منٹ پر اپنے والد کے ساتھ گھر سے کار میں بیٹھ کر اسٹاپ پر یونیورسٹی کے پوائنٹ کا انتظار کر رہی تھی کہ اس دوران موٹر سائیکل پر سوار دو مسلح ملزمان آئے اس کے والد سے لوٹ مار کی اور دوران فرار فائرنگ کی جس کے نتیجے میں گولی مصباح کی آنکھ کے قریب لگی اوروہ شدید زخمی ہوئی تاہم بعد میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئی۔

    کراچی : دھماکے ، ہر طرف آگ ہی آگ ، پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں روانہ

    واقعے کے بعد ایس ایس پی ایسٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ واردات کے دوران چھینے گئے موبائل فون کی لوکیشن سہراب گوٹھ افغان بستی کے قریب آئی ہے۔جس کے بعد پولیس مسلسل ان مجرموں کا پیچھا کررہی تھی ، تاہم اب پولیس کا کہنا ہے کہ پکڑے جانے والے ڈاکو ہی مصباح اطہر کے قاتل ہیں اورآگے چل کر مزید انکشافات سامنے آئیں گے

    بھٹو کے شہر میں زخمیوں سےبھیانک سلوک، زخموں میں کیڑے پڑ گئے ، مگر بھٹوپھر زندہ ہے