Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • افغانستان سے  انخلا، اسرائیل کی شمولیت کا انکشاف

    افغانستان سے انخلا، اسرائیل کی شمولیت کا انکشاف

    افغانستان سے انخلا کے عمل میں اسرائیل کی شمولیت کا انکشاف ہوا ہے-

    باغی ٹی وی : "العربیہ ڈاٹ نیٹ” کے مطابق اسرائیلی اخبار "یروشلم پوسٹ” نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل میں قائم "شائی فنڈ” نامی تنظیم امریکی حکومت کے ساتھ مل کر افغانستان کے دارالحکومت کابل سے انسانی حقوق کے کارکنوں اور طالبان کے ممکنہ حملوں سے خائف مقامی لوگوں کو وہاں سے نکالنے میں مدد کر رہی ہے۔

    امید ہے 31 اگست تک افغانستان سے انخلاء مکمل کریں گے امریکی صدر

    العربیہ کے مطابق شائی فنڈ کے سربراہ چارمین ہیڈنگ نے اسرائیلی اخبار کو بتایا کہ ان کی تنظیم امریکی فوج کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ کابل کے حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے نجی طیاروں کے ذریعے انخلا کی کی سہولت فراہم کی جا سکے یہ پروازیں کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو لے جائیں گی۔

    دوسروں پر قانون لاگو کرنے سے پہلے خود قانون کی پاسداری کریں گے طالبان رہنما

    چارمین ہیڈنگ نے بتایا کہ اس کے علاہ طالبان کے حملوں کےخطرے کا شکار افغانستان کی اہم شخصیات کو بھی انخلا میں مدد دیں گی۔

    ہیڈنگ نے کہا کہ ہم نے دوسری تنظیموں کے ساتھ اتحاد قائم کیا ہے کیونکہ یہ ایک بہت بڑا آپریشن ہے۔ ہم نے کئی نجی طیارے کرائے پر لیے ہیں لیکن یہ اقدام سویلین ہی تک محدود ہے۔

    امریکا نے افغانوں کوہجرت پر اُکسا کر وسائل سے عاری ملکوں میں قیدیوں کی طرح رکھا…

    اس نے وضاحت کی کہ تنظیم طیاروں کی بکنگ کے لیے کافی فنڈ اکٹھا کرنے میں کامیاب رہی ہے انخلاء کے عمل میں 10 نجی طیارے شامل ہیں اور ہر ایک 300 افراد کو لے جانے کے قابل ہے۔

    "شائی فنڈ” تنظیم کی یہ کوششیں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب طالبان نے خبردار کیا ہے کہ وہ صرف ایک ہفتے تک انخلاء جاری رکھنے کی اجازت دیں گے جبکہ بیرونی ممالک نےاپنے نمائندوں اور افغانیوں کو ملک سے باہر نکالنے کا آپریشن مزید تیز کردیا ہے۔

    ایک دن میں پنج شیر پر قبضہ کر سکتے ہیں مگر معاملات بات چیت سے حل کرنا چاہتے ہیں…

    منگل کو گروپ آف سیون کا ایک ورچوئل سربراہ اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس کابل ایئرپورٹ سے انخلاء کی صورتحال کا جائزہ لیاگیا جہاں اب بھی ہزاروں افراد ملک چھوڑنے کے لیے جمع ہو رہے ہیں برطانیہ سمیت کئی ممالک انخلا کی ڈیڈ لائن میں توسیع پر زور دے رہے ہیں۔ امریکی حکومت اور طالبان کے درمیان ڈیل میں امریکا کو 31 اگست تک افغانستان سے انخلا مکمل کرنا ہے۔

    خیال رہے کہ "شائی فنڈ” ایک ایسی تنظیم ہے جو امریکا میں رجسٹرڈ ہے لیکن اس کا صدر دفتر اسرائیل میں ہے یہ گروپ جنگوں ، تنازعات اور قدرتی آفات سے متاثرہ خطوں میں انسانی امداد فراہم کرنے کے میدان میں کام کرتا ہے اور اس میں کافی مہارت بھی رکھتا ہے۔

    پاکستان کیخلاف کسی کواپنی زمین استعمال کرنے نہیں دینگے:ذبیح اللہ مجاہد

    واضح رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ 31 اگست تک افغانستان سے انخلاء مکمل کریں گے اور ڈیڈ لائن بڑھانی نہیں پڑے گی اگر ڈیڈ لائن بڑھانے سے متعلق غیر ملکی رہنماؤں کی درخواست ملی تو دیکھیں گے کہ کیا کرسکتے ہیں-

    بعد ازاں طالبان کی جانب سے کہا گیا تھا اگر ڈیڈی لائن بڑھائی گئی تو طالبان کی جانب ست سخت ردعمل آئے گا تاہم افغان طالبان کی وارننگ کے بعد امریکی صدر جوزف بائیڈن نے انخلاء یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے امریکی صدربائیڈن نے واشنگٹن میں اعلان کیا کہ امریکا اکتیس اگست تک افغانستان سےانخلا مکمل کرلےگا۔

    افغان طالبان رہنما عبد الغنی برادر سے سی آئی اے ڈائریکٹر کی خفیہ ملاقات :بڑی درخواست کردی

  • پاکستان اور قازقستان کی مشترکہ فوجی مشق "دوسترم سوئم”  پبی میں منعقد

    پاکستان اور قازقستان کی مشترکہ فوجی مشق "دوسترم سوئم” پبی میں منعقد

    پاکستان اور قازقستان کی مشترکہ فوجی مشق دوسترم کی افتتاحی تقریب انسداد دہشت گردی مرکز پبی میں منعقد ہوئی-

    باغی ٹی وی : فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق مشق کا مقصد دونوں افواج میں شعبہ انسداد دہشت گردی کو فروغ دینا ہے،فورسز یرغمالی ریسکیو، کمپاونڈ کلیئرنس ، ہیلی ریپلنگ میں حصہ لیں گی-

    آئی ایس پی آر کے مطابق مشق میں ہیلی کاپٹر سے رسے کی مدد سے اترنے اورکلوز کوارٹر بیٹل کی مشقوں ، طریقہ کار میں حصہ لیں گی، مشق ہم آہنگی ، فیصلہ سازی ، حکمت عملی پر تیزی سے اقدامات پر مرکوز ہوگی-

    افتتاحی تقریب میں دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائےگئےافتتاحی تقریب میں دونوں ممالک کے فوجی حکام موجود تھے دوسترم دو فوجوں میں 2 سالہ مشق کے طریقہ کار کے طور پر منعقد کی جا رہی ہے پہلی مشق 2017 میں پاکستان ، دوسری 2019 میں قازقستان میں ہوئی-

  • شیخوپورہ:وزیر اعظم اج پاکستان کے پہلے سمارٹ جنگل کا افتتاح کریں گے

    شیخوپورہ:وزیر اعظم اج پاکستان کے پہلے سمارٹ جنگل کا افتتاح کریں گے

    وزیراعظم عمران خان اسلام آباد سے آج براہ راست پہلے شیخوپورہ پہنچیں گے اور اسکے بعد رکھ جھوک جنگل شیخوپورہ کا دورہ کریں گے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق عمران خان شیخوپورہ کے رکھ جھوک جنگل میں پودا لگا کر پاکستان کے پہلے اسمارٹ جنگل کا افتتاح کریں گے-

    سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق رکھ جھوک جنگل، راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا ایک اہم منصوبہ ہے جو 24 ہزار کنال اراضی پر محیط ہے۔

    رپوٹ کے مطابق رکھ جھوک جنگل پاکستان کا پہلا اسمارٹ جنگل ہوگا جو اسمارٹ سینسرز اور نگرانی کے نظام سے لیس ہو گا۔ ٹیکنالوجی کی بڑی چینی کمپنی ’’ہواوے‘‘ کو اس منصوبےکا اسمارٹ شراکت دار بنانے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوں گے۔

    اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان خطاب بھی کریں گے جو پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر کیا جائیگا وزیر اعظم عمران خان صوبائی ترقیاتی و فلاحی منصوبوں پر برییفنگ بھی لیں گے اور پنجاب حکومت کی تین سالہ کارکردگی کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان سے وزیر اعلیٰ، گورنر اور وزراء سمیت اہم شخصیات ملاقاتیں کریں گی۔

  • پاکستان کیخلاف کسی کواپنی زمین استعمال کرنے نہیں دینگے:ذبیح اللہ مجاہد

    پاکستان کیخلاف کسی کواپنی زمین استعمال کرنے نہیں دینگے:ذبیح اللہ مجاہد

    کابل:پاکستان کیخلاف کسی کواپنی زمین استعمال کرنے نہیں دینگے,اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے متعلق کمیشن بنانے کا علم ہے نہ ہی اس کی ضرورت ہے،پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کی اجازت نہیں دیں گے۔

    غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت بنانے کیلئے مشاورتی عمل جاری ہے، حالیہ دنوں میں افغانستان میں تشدد اور قتل کا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ 20 سال سےافغانستان جنگ و جدل کا شکار رہا ہے۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ بھارت کو مسئلہ ہے تو چاہیں گے مسئلہ سفارتی طریقے پر حل کیا جائے، بھارتی منفی پروپیگنڈہ دیکھا ہے کسی کے بھی کیخلاف نہیں ہیں۔ کسی کو اجازت نہیں دینگے پاکستان یا کسی اور ملک کے خلاف ہماری زمین استعمال کرے۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ امید ہے دیگر ممالک بھی ایسا ہی کریں گے۔ بھارت سمیت ہر ملک کے ساتھ اچھے تعلقات کا قیام ہے۔ ہم چاہتے ہیں اقوام متحدہ ہماری مدد کرے۔ ایسی مدد چاہتے ہیں جو غیر مشروط ہو۔

     

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ سابق صدر پرویز مشرف سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں افغان طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف کیساتھ کیا کریں گے، یہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔ اس وقت ہم اپنے ملک کی بات کر رہے ہیں۔

    ٹی ٹی پی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ کسی کمیشن کے قیام سے متعلق علم نہیں ہے، کسی کمیشن کے قیام کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ 10روز سے کابل سمیت پورے افغانستان میں امن ہے، کابل ایئرپورٹ کے علاوہ ملک بھرمیں حالات معمول پر ہیں، ایئرپورٹ پر افراتفری کی صورتحال کے باعث طالبان اب افغان شہریوں کو کابل ایئرپورٹ پر جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں، افغانستان میں حالات کنٹرول میں ہیں، تمام بینکوں نے آزادی کیساتھ کام شروع کر دیا ہے، ملک اورعوام کی خدمت کرنیوالے ادارے فعال ہیں۔

    طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہمارے ترکی سمیت تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں گے لیکن ہم اس کی فوج اپنے ملک میں نہیں چاہتے۔ ہم تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہیے ہیں اور کسی بھی ملک کے متعلق منفی تاثر نہیں رکھتے ہیں۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ مرکزی بینک کے گورنرکی تعیناتی کر دی گئی ہے، تعلیمی اداروں نے کام شروع کر دیا ہے، نئی حکومت مغربی جمہوریت کی طرزپرنہیں ہوگی، تمام افغانوں کو تحفظ کا یقین دلاتے ہیں۔

    طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنی پالیسی پر گامزن ہے، امریکا لوگوں کو افغانستان سے نکلنے کی تجویز دے رہا ہے۔ سیاسی محاذ پر بات جاری ہے۔ کسی انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ ہم نے کابل ایئر پورٹ پر کوئی فائرنگ نہیں کی ہوائی اڈے کے اندر کی سکیورٹی امریکا کے پاس ہے۔‘

    انہوں نے کہا کہ افغانستان کو ڈاکٹرز اور انجینئرز کی ضرورت ہے، ہسپتالوں میں مریضوں کا علاج معالجہ جاری ہے، افغان شہری ملک میں رہ کر ملکی ترقی میں حصہ ڈالیں، طالبان عام معافی کے اعلان پر قائم ہیں۔ سرکاری ٹی وی اور ریڈیو نشریات معمول کے مطابق جاری ہیں۔

    خواتین سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو آزادی دینے پر یقین رکھتے ہیں، کچھ اداروں میں سکیورٹی کی وجہ سے خواتین کو آنے سے روکا گیا۔ خواتین کیلئے پالیسیاں بنا رہے ہیں۔

    پنجشیر میں لڑائی سے متعلق افغان طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پنجشیر کا مسئلہ بات چیت سے حل ہو گا، جنگ کی نوبت نہیں آئے گی۔

    ترجمان طالبان نے کہا کہ ایئرپورٹ میں موجود ہجوم کو واپس گھروں کو جاسکتے ہیں، ہم ان کی سیکیورٹی کی ضمانت دیتے ہیں۔ ایئرپورٹ پررش ہوتوامریکی فائرنگ کرتےہیں، غیر ملکیوں کا انخلاء 31 اگست تک مکمل ہو جانا چاہیے، انخلاء کی ڈیڈ لائن میں توسیع کا فیصلہ نہیں کیا۔ ڈیڈ لائن کی خلاف ورزی ہوئی تو امریکا نتائج بھگتے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان جلد قومی فوج تشکیل دیں گے، سابق فوجی اگر قابل ہوئے تو انہیں نئی قومی فورس میں شامل کیا جائے گا، نوکری پیشہ خواتین سکیورٹی انتظامات تک گھروں پر رہیں، بے وفا ممالک اور لوگوں کی فہرست طویل ہے وقت آنے پر بات کریں گے، افغان سر زمین کسی کیخلاف استعمال نہیں ہو گی۔

    سی آئی اے کے سربراہ کی ملا عبدالغنی برادر سے کابل میں خفیہ ملاقات کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے لیکن امریکا کا سفارت خانہ یہاں موجود ہے اور سفارتی سطح پر ملاقاتوں کی اجازت ہے۔ نہیں چاہتے سفارتخانے بند ہوں اور سفارتکار یہاں سے چلے جائیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ میڈیا سے درخواست ہے کہ وہ پرہجوم علاقوں میں نہ جائیں، باقی اداروں کی طرح میڈیاکی بھی تشکیل نوکریں گے،، افغانستان میں میڈیا پر کوئی پابندی نہیں ہے، شرعی حدودمیں رہ کرتمام حقوق دینےپریقین رکھتےہیں،

  • افغان طالبان رہنما عبد الغنی برادر سے سی آئی اے ڈائریکٹر کی خفیہ ملاقات :بڑی درخواست کردی

    افغان طالبان رہنما عبد الغنی برادر سے سی آئی اے ڈائریکٹر کی خفیہ ملاقات :بڑی درخواست کردی

    نیو یارک: افغان طالبان رہنما عبد الغنی برادر سے سی آئی اے ڈائریکٹر کی خفیہ ملاقات :بڑی درخواست کردی ،اطلاعات کے مطابق سی آئی اے ڈائریکٹر ولیم برنس کی طالبان رہنما ملا عبد الغنی برادر سے خفیہ ملاقات کا انکشاف ہوگیا۔

    امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدے دار نے بتایا کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنس نے کابل میں افغان طالبان کے اہم عہدے دار سے ملاقات کی۔ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر ولیم برنس نے پیر کے روز کابل میں ملا برادر سے ملاقات کی۔

    ا

    امریکی خبر رساں ادارے واشنگٹن پوسٹ کے مطابق سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر ولیم برنس گزشتہ روز افغانستان کے اچانک دورے پر کابل پہنچے جہاں انھوں نے طالبان کے نائب امیر ملا عبدالغنی برادر سے ملاقات کی۔

    امریکا اور طالبان نے اس خبر کی تردید یا تصدیق نہیں کی ہے۔ دونوں جانب سے تاحال کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی ملاقات کی تصدیق کی کوششیں کیں تاہم تردید یا تصدیق نہیں ہوسکی۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز طالبان نے کہا تھا کہ 31 اگست تک امریکا اور برطانیہ اپنا انخلا مکمل کریں اور اگر 31 اگست کے بعد بھی امریکی فوجی موجود رہتے ہیں تو اسے قبضے میں توسیع سمجھا جائے گا اور نتائج کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔

    طالبان کے اس بیان کے بعد برطانیہ، فرانس، جرمنی و دیگر ممالک نے کہا تھا کہ وہ ڈیڈلائن میں توسیع کے لیے اپنے شراکت داروں اور طالبان سے رابطے میں ہیں جبکہ امریکی صدر جو بائیڈن نے امید ظاہر کی تھی کہ 31 اگست تک انخلا کا آپریشن مکمل کرلیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ 15 اگست کو طالبان افغان دارالحکومت کابل میں بھی داخل ہوگئے تھے جس کے بعد ملک کا کنٹرول عملی طور پر ان کے پاس چلا گیا ہےاور افغان صدر اشرف غنی سمیت متعدد حکومتی عہدے دار فرار ہوچکے ہیں۔

  • ملکی دفاع مضبوط سے مضبوط تر، پاکستان کا فتح ون میزائل کا کامیاب تجربہ

    ملکی دفاع مضبوط سے مضبوط تر، پاکستان کا فتح ون میزائل کا کامیاب تجربہ

    راولپنڈی:پاکستان کا فتح ون میزائل کا کامیاب تجربہ اطلاعات کے مطابق ملکی دفاع مضبوط سے مضبوط تر، پاکستان نے فتح ون میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا۔

     

     

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ویڈیو شیئر کی۔

     

    ویڈیو کے کیپشن میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے لکھا کہ پاکستان نے فتح ون میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ میزائل گائیڈڈ ملٹی لانچ میزائل سسٹم کاحصہ ہے۔ میزائل روایتی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    اس سلسلے میں مزید بتایا گیا کہ ہتھیاروں کا نظام پاک فوج کو دشمن کی سرزمین پر مزید اندر تک ہدف کی درستگی کی صلاحیت فراہم کرے گا۔

    فتح ون میزائل کے کامیاب تجربے کے بعد صدر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مبارکباد دی ہے ۔

  • 30 ستمبر کے بعد کورونا ویکسی نیشن کے بغیر ہوائی سفرہوگا یا کہ نہیں‌:اسد عمر نے بتادیا

    30 ستمبر کے بعد کورونا ویکسی نیشن کے بغیر ہوائی سفرہوگا یا کہ نہیں‌:اسد عمر نے بتادیا

    لاہور:30 ستمبر کے بعد کورونا ویکسی نیشن کے بغیر ہوائی سفرہوگا یا کہ نہیں‌:اطلاعات کے مطابق اسد عمر کا کہنا ہے کہ 30 ستمبر کے بعد کورونا ویکسی نیشن کے بغیر ہوائی سفر پر پابندی ہوگی، ہوٹل، گیسٹ ہاؤسز اور شادی ہالز میں آنے والوں کی ویکسی نیشن لازم ہے، 17 سال سے زائد عمر کے طلبا کیلئے ویکسی نیشن لازمی قرار دی گئی ہے، طلبا کے ٹرانسپورٹیشن عملے کو 31 اگست تک ویکسین لگوانا ہوگی۔

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی و سربراہ این سی او سی (نینشل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر) اسد عمر نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 31 اگست کے بعد اسکول ٹرانسپورٹر ویکسین کے بغیر کام نہیں کرسکے گا، اسکول وین ڈرائیوز کیلئے بھی ویکسی نیشن لازمی قرار دی گئی ہے، ہوٹل اور شادی ہالز میں آنیوالوں کیلئے 30 ستمبر تک ویکسی نیشن لازمی ہوگی۔

    اسد عمر کا کہنا تھا کہ 15 اکتوبر کے بعد موٹروے پر سفر کیلئے ویکسی نیشن لازمی قرار دی گئی ہے، 15 اکتوبر کے بعد بغیر ویکسی نیشن پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کی اجازت نہیں ہوگی، تعلیمی اداروں میں 89 فیصد اساتذہ اور عملے کی ویکسی نیشن ہوچکی ہے، وبا کی وجہ سے جو بندشیں لگائی جا رہی ہیں وہ عوام کے مفاد میں ہیں۔

    معاون خصوصی فیصل سلطان نے کہا کہ یکم ستمبر سے 17 سال سے اوپر نوجوانوں کیلئے ویکسی نیشن شروع کر رہے ہیں، کمزور دفاعی نظام کے حامل نوجوانوں کیلئے مخصوص ویکسی نیشن شروع کر رہے ہیں، کسی دوسرے ملک سے ویکسی نیشن کرانیوالے افراد کا اندراج بھی نادرا ویب سائٹ پر ہوسکے گا، ویکسین لگوائیں اور اصل کورونا ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ نادرا ویب سائٹ سے حاصل کریں۔

  • عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) پاکستان کا شُکر گزار

    عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) پاکستان کا شُکر گزار

    عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹرکرسٹیلینا جارجیوا کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کوخط بھیجا گیا جس میں افغانستان میں پاکستان کے کلیدی کردار کو سراہا گیا۔

    باغی ٹی وی : خط میں کرسٹیلینا جارجیوا نے کہا کہ مشکل گھڑی میں افغانستان سے عملے کے بحفاظت انخلا پر پاکستان کے مشکور ہیں خط میں کہا گیا کہ مشکل وقت میں انخلا پر پاکستان کی کوششیں کلیدی اہمیت کی حامل ہیں –

    خط میں ایم ڈی آئی ایم ایف نے وزیر اعظم عمران خان اور پاکستانی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ایم ڈی آئی ایم ایف نے وزیر خارجہ، وزیر خزانہ، وزیر دفاع اور گورنر اسٹیٹ بینک کے کردار کی بھی تعریف کی۔

    دوسری جانب آئی ایم ایف نے ممبر ممالک کے لیے قرض پروگرام کا آغاز کر دیا ہے ذرائع کے مطابق پاکستان کو آئی ایم ایف سے 2 ارب 77 کروڑ ڈالر قرض ملے گا جو مشروط طور پر دیا جا رہا ہے۔

    پاکستان کو آئی ایم ایف سے آج 2 ارب 77 کروڑ ڈالرقرض مل جائے گا

    واضح رہے کہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے ممبر ممالک کے لیے قرض کی منظوری دی تھی آئی ایم ایف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ادارے کے ایگزیکٹو بورڈ نے کورونا سے نمٹنے کے لیے ممبر ممالک کو 650 ارب ڈالر قرض پروگرام کی منظوری دی تھی۔

    وزارت خزانہ کے ذرائع کا بتانا ہے کہ یہ رقم اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو گی اس رقم کی منتقلی سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند سطح تک پہنچ جائیں گے۔

    آئی ایم ایف سے 2 ارب 77 کروڑ ڈالرزپاکستان کودیے دیئے گئے

  • ایک دن میں پنج شیر پر قبضہ کر سکتے ہیں مگر معاملات بات چیت سے حل کرنا چاہتے ہیں     ترجمان طالبان

    ایک دن میں پنج شیر پر قبضہ کر سکتے ہیں مگر معاملات بات چیت سے حل کرنا چاہتے ہیں ترجمان طالبان

    طالبان ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ ایک دن میں پنج شیر پر قبضہ کر سکتے ہیں مگر معاملات بات چیت سے حل کرنا چاہتے ہیں

    باغی ٹی وی : نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام میں شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ گفتگو میں طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم پُرامن انتقالِ اقتدار کے لیے کابل کے باہر بیٹھ کر انتظار کر رہے تھے مگر اشرف غنی شہر چھوڑ کر چلے گئے۔

    سہیل شاہین نے کہا کہ کابل کی جیلوں سے جو لوگ نکلے، اس کی ذمے دار سابق حکومت ہے جو شہر چھوڑ کر چلی گئی،فقیر محمد سمیت پاکستان کو مطلوب افراد کی فہرست میرے پاس نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نیا افغان آئین بنائیں گے، ایک دن میں پنج شیر پر قبضہ کر سکتے ہیں مگر معاملات بات چیت سے حل کرنا چاہتے ہیں۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ داعش کے لوگ چھپے ہوئے ہیں مگر انہیں افغان عوام کی حمایت حاصل نہیں، افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے نہیں دیں گے۔

    دوسری جانب پاکستانی خبر رساں ادارے ہم نیوز کے پروگرام ہم مہر بخاری کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں اب 20 سال پہلے والی صورتحال نہیں ہے۔

    امریکا نے افغانوں کوہجرت پر اُکسا کر وسائل سے عاری ملکوں میں قیدیوں کی طرح رکھا ہوا ہے ذبیح اللہ…

    انہوں نے کہا کہ داعش کے قیدی جیلوں سے نکل چکے ہیں اور وہ چھپے ہوئے ہیں، انہیں افغان لوگوں کی حمایت حاصل نہیں،ممکن نہیں کہ اب داعش افغانستان میں زور پکڑے افغانستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی،افغانستان کا نیا دور صلح،مساوات اور تعمیر نوکا ہو گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کا آئین تشکیل دیا جائے گا، چاہتے ہیں مخالفین بھی حکومت میں شامل ہوجائیں، قومی پرچم کس طرح ہو گا، اس کا فیصلہ مستقبل میں کریں گے تاہم تمام گروپوں کو مستقبل کی حکومت میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔

  • امریکا نے افغانوں کوہجرت پر اُکسا کر وسائل سے عاری ملکوں میں قیدیوں کی طرح رکھا ہوا ہے ذبیح اللہ مجاہد

    افغان ثقافتی کمیشن کے سربراہ اور ترجمان ذبیح ﷲ مجاہد نے کہا ہے کہ امریکا نے افغانوں کوہجرت پر اُکسایا –

    باغی ٹی وی : ذبیح ﷲ مجاہد نے کابل لویہ جرگہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے افغانوں کو کابل ایئرپورٹ اور قطر میں کوئی سہولت نہیں دی، ہم افغانوں کی جان و مال کی حفاظت کی بار بار یقین دہانی کرا رہے ہیں۔

    اہوں نے کہا کہ مگرامریکا نے افغانوں کوڈرا کر ہجرت پر اُکسایا اب انہیں وسائل سے عاری ملکوں میں قیدیوں کی طرح رکھا ہوا ہے۔

    ذبیح ﷲ مجاہد نے مزید کہا کہ طالبان آمرانہ حکومتی نظام نہیں چاہتے، سرکاری اہلکاروں کو نوکریاں کھونے کا خوف نہیں ہونا چاہیےاگلی حکومت کو ہر سطح پر لوگوں کی ضرورت ہوگی، کان کنی، ٹاپی گیس پائپ لائن اور دیگر منصوبوں پر کام ہوگا۔

    دوسروں پر قانون لاگو کرنے سے پہلے خود قانون کی پاسداری کریں گے طالبان رہنما

    واضح رہے کہ اس سے قبل طالبان رہنما عبدالقہار کا کہنا تھا کہ مذاکرات جاری ہیں افغانستان میں ہر حال میں ایک جامع حکومت بنائی جائے گی امریکہ سے بھی بات چیت جاری ہے لوگ جس طرح کابل ائیر پورٹ پر جمع ہو رہے ہیں انتہائی افسوسناک ہے چونکہ ہم نے عام معافی کا اعلان کیا ہے سینئیر آفیسرز سے ملاز م تک میرا خیال تھا کہ حالات قابو میں رہیں گے لیکن لوگوں میں خوف اور افراتفری کی یہ صورتحال ہماری توقع کے برعکس ہے-

    طالبان رہنما نے کہا کہ جس تیزی سے حالات بدلے وہ سب کیلئے حیران کن تھا ہمارا کابل میں داخل ہونے کا ارادہ نہیں تھا کیونکہ ہم سیاسی حل کے حامی تھے جامع اور مشترکہ حکومت قائم کرنا چاہتے تھے لیکن جب ہم کابل میں داخل ہوئے تو سکیورٹی فورسز نے ہتھیار ڈال دیئے اور حکمران ملک چھوڑ کر بھاگ گئے تو ہمیں مجبوراً انتظامات سنبھالنے پڑے انٹر افغان مذاکرات کا مقصد شہریوں کے حقوق کا خلاصہ کرنا ہے-

    افغانستان میں ہر حال میں ایک جامع حکومت بنائی جائے گی طالبان رہنماعبدالقہار بلخی

    عبدالقہار بلخی کا کہنا تھا کہ خواتین کے حقوق میں کوئی ابہام نہیں ہے دوسروں پر قانون لاگو کرنے سے پہلے خود قانون ساز قانون کی پاسداری کرکے ایک مثال قائم کریں گے تاکہ عوام ہمیں دیکھ کر قانون پر عمل کریں کسی جرم میں ملوث ہونے کی صورت میں اپنے نمائندگان کو پہلے قانون کے کٹہرے میں لائیں گے-

    عبدالقہار بلخی نے کہا تھا کہ میرا نہیں خیال لوگ ہمیں دہشت گرد سمجھتے ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک اصطلاح ہے جس کی بنیاد امریکہ نے رکھی اور ان کے خلاف جانے والے ہر شخص کو دہشت گرد قرار دے دیا-