بپن راوت کی سیاسی تقرری، ہندوستانی فوج کے پول کھولنے لگی
پلوامہ اور دوکلم میں ہزیمت کے بعد بھارتی دفاعی اُمور سنبھالنے والے آپس میں ہی لڑ پڑے .بھارتی افواج کی جھوٹی شان وشوکت کے پرخچے دُنیا کے سامنے اڑنے لگے بھارتی سی ڈی ایس اورائیر چیف کے اختلافات میڈیا میں کھل کر سامنے آگئے بپن راوت نے زمینی افواج کو بر تر کہا پلوامہ میں ہزیمت کے بعد بپن راوت نے بھارتی ائیر فورس کو معاون کہا بھارتی ائیر چیف نے سی ڈی ایس بپن راوت کے بیان کی نفی کر دی
بپن راوت کی سربراہی میں بھارت کو رافیل طیاروں میں کرپشن کا سامنا رہا بپن راوت کی سربراہی میں بھارت کو پلوامہ اور دوکلم میں ہزیمت اور اندرونی خلفشار کا سامنا رہا ہے
بھارت سمیت کسی بھی ملک کا طیارہ کن قوانین کے تحت لینڈ کر سکتا ہے؟ وزیر ہوا بازی نے بتا دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور نے کہا ہے کہ ہماری فارن پالیسی میں شفافیت آئی ہے
وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ رنگ روڈ منصوبے کی انکوائری چل رہی ہے، ذمہ داران کو سزا ملے گی ،رنگ روڈ منصوبے پر اسی سال کام شروع ہوجائے گا راولپنڈی کی حدود میں ڈیموں کی تعمیر اور ترقیاتی کام ہوں گے،راولپنڈی میں پانی اور تعلیم کی فراہمی کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دیں گے،پہلی بار عوامی خواہشات کے مطابق فارن پالیسی بنائی گئی ہے ،عمران خان کی تقریر ہمارے سیاسی مخالفین نے بھی سراہا افغانستان میں امن کے لیے دنیا جو بھی کوشش کرے اس کا ساتھ دیں گے، پاکستان اپنے وقار بقاء کے لیے کھڑا ہوگیا ہے کسی سپر پاور کو اپنے اڈے اور فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دیں گے بھارت دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے، بھارت سمیت کسی بھی ملک کا طیارہ پاکستان میں ایاٹا کےقوانین کے تحت لینڈ کرسکتا ہے،
چائلڈ سولجرز پروینشن ایکٹ کی فہرست میں نام شامل کرنے کے امریکی اقدام پر پاکستان کا ردعمل آ گیا
پاکستان نے چائلڈ سولجرز پروینشن ایکٹ کی فہرست میں نام شامل کرنے کے امریکی اقدام کومسترد کر دیا
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ چائلڈسولجرزپروینشن ایکٹ کی فہرست میں پاکستان کا نام بغیر کسی بنیاد کے شامل کیا گیا،پاکستان کسی بھی غیرریاستی مسلح گروپ کی حمایت نہیں کرتا ہے، پاکستان میں کوئی ادارہ بچوں کو بطور سپاہی بھرتی یا استعمال کرنے میں ملوث نہیں ،غیرریاستی مسلح گروہوں کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کوعالمی سطح پرتسلیم کیاجاتا ہے ،پاکستان کوچائلڈ سولجرزپروینشن ایکٹ کی فہرست میں شامل کرنا حقیقت پسندی سے انحراف ہے، رپورٹ کی اشاعت سے قبل امریکہ نے ہمارے کسی بھی سرکاری ادارے سے مشاورت نہیں کی
واضح رہے کہ امریکہ نے 18 سال سے کم عمر بچوں کا عسکری اداروں میں شامل ہونے پر اجلاس کیا ہے، اس اجلاس میں پاکستان اور ترکی پرCSPA ایکٹ کے تحت پاپندیاں لگائی گئی ہیں، یہ پاپندیاں 18 سال سے کم عمر بچون کو عسکری اداروں میں شامل کرنے کی وجہ سے لگائی گئی ہیں، اس پاپندی کے تحت ان مملک کو امن قائم رکھنے کیلئے جو امداد دی جاتی تھی وہ روک دی جائے گی.
اجلاس میں انسانوں کی سمگلنگ پر بھی رپورٹ پیش کی گئی ہے، اس رپورٹ میں ان ملکوں کی فہرست دی گئی ہے جن سے سمگلنگ ہو رہی ہے، اس رپورٹ میں ایک سال میں ہونے والی سمگلنگ کو دیکھا گیا ہے، یہ رپورٹ یکم اپریل 2020 تا 31 مارچ 2021 تک کی ہے، حکومتی سیکورٹی اداروں کے علاوہ حکومت کے زیرنگرانی عسکری اداروں میں شامل ہونے والے بچوں کی رپورٹ پیش کی گئی ہے.CSPA 2021 کی لسٹ میں افغانستان، برما، ڈیموکریٹیک ریپبلک آف کانگو، ایران، عراق، لیبیا، مالی، نائجیریا، پاکستان، صومالیہ، جنوبی سوڈان، سیریا، ترکی، وینزویلا اور یمن کو شامل کیا گیا ہے.
2010 سے اب تک کانگو، صومالیہ اور یمن CSPA کی ہر لسٹ میں برقرار ہیں، دوسرے 9 مملک افغانستان، ایران، عراق، لیبیا، مالی، برما، نائجیریا، جنوبی سوڈان اور سوڈان پچھلے 10 سالوں سے اس فہرست میں ایک سے زیادہ دفعہ آئے ہیں، 2010کی پہلی CSPA کی لسٹ میں 6 مملک شامل تھے.10 سال بعد اس لسٹ میں دگنا اضافہ ہوا ہے، 2020 میں اس لسٹ میں 14 مملک شامل کئے گئے تھے،2021 میں اس لسٹ میں ممالک کی تعداد 15 ہوگئی ہے، اس سال کی لسٹ میں پاکستان اور ترکی کوبھی شامل کرلیا گیا ہے،
حکومت آصف زرداری چلا رہے،پیپلز پارٹی چاہے تو ایک منٹ میں حکومت گرا دے، مصطفیٰ کمال
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ کراچی کے مسائل کے حل پر کسی کی توجہ نہیں ،
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ کراچی کو 13 سال میں ایک قطرہ اضافی پانی نہیں دیا گیا ،کراچی میں ٹرانسپورٹ کیلئےایک نئی بس نہیں لائی گئی،کراچی میں جعلی ڈومیسائل بناکرنوکریاں دی جا رہی ہیں،وزیراعلیٰ اورمیئرکےاختیارات آئین میں درج ہیں،پی ٹی آئی حکومت نے نااہلی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے،پی ٹی آئی نے غلط مردم شماری کی منظوری دی ،این ایف کی مدمیں سندھ 10242 ارب روپے ملے ہیں،سندھ انسانوں کے رہنے کی بد ترین جگہ ہے،کراچی کا پانی چوری کرکے بیچا جاتا ہے تمام فنڈزوزیر اعلیٰ کو دئیے گئے جو عوام کے لیے استعمال نہیں کیا گیا،پی ٹی آئی کی حکومت نے تمام جماعتوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے،سندھ حکومت اپنی جاگیر بنا رہی ہے،آنے والے وقت پاک سر زمین پارٹی کا ہوگا
مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت کوآصف زرداری چلا رہے ہیں،پیپلز پارٹی چاہے تو ایک منٹ میں حکومت گرا دے،عمران خان کی باتوں کو سنجیدہ نہیں لینا چاہیے ،15دن بعد یوٹرن لے لیں گے،ہم آزاد کشمیر کا الیکشن میں حصہ لے کر وہاں لوگوں کے درمیان جارہے ہیں
لاہور:پاکستان ہمارا دوسرا گھر:بھارت سے مذاکرات کیوں؟افغانستان پھرامن کا گہوارہ بننے جارہاہے:افغان طالبان ترجمان کا مبشرلقمان کوانٹریو،اطلاعات کےمطابق آج شام افغان طالبان کے ترجان ذبیح اللہ نے معروف صحافی سنیئر تجزیہ نگارمبشرلقمان سے بات کرتے ہوئے تمام خدشات اورحالات پرسیرحاصل گفتگو کی
مبشرلقمان کے ایک سوال کے جواب میں افغان طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ پہلے افغانستان سے امریکہ اوراس کے اتحادی افواج نکالیں اورپھردیکھیں گے کہ امریکی فوج کے زیراستعمال ایئربیسز اوردیگراہم مقامات کے حوالے سے کیا کرنا ہے اس کے بعد میں ہم بگرام ایئر بیس کا فیصلہ کریں گے
ایک موقع پر جب سنیئر صحافی مبشرلقمان نے افغان طالبان ترجمان سے یہ سوال کیا کہ کیا یہ سچ ہے کہ افغان طالبان کابل کے قریب پہنچ چکے ہیں اورچند گھنٹوں کا فاصلہ باقی رہ گیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ کابل سے ہم کم فاصلہ پر ہیں مغربی ضلع میں مجاہدین موجود ہیں ابھی حالات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کابل میں کیا ہورہا ہے اورجب کابل سے غیرملکی چلے جائیں گے توپھرافہام وتفہیم سے معاملات حل کرتے ہوئے داخل ہوجائیں گے اورپھرکابل کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیں گے
ان کا کہنا تھا کہ ملت اسلامیہ افغانستان کا ارادہ ہے کہ بات چیت سے مسئلہ حل ہو اور کابل جانے کا سلسلہ بھی بات چیت سے ہی ہو گا ۔اسی طرح تمام مسائل حل ہوں گے اور اگر مذاکراتی یا بات چیت کو مسترد کر دیا جاتا یے تو پھر آخری آپشن دیکھیں گے
ایک موقع پر جب مبشرلقمان نے ترجمان سے پوچھا کہ آیا کہ کیا افغانستان سے پاکستان پرہونے والے حملوں کا سلسلہ بھی رک جائےگا تو ان کا کہنا تھا کہ کیوں نہیں ، جب ہم اقتدار میں آئیں تو پاکستان کی سرحد کی جانب ایسا سوچا بھی نہیں جائے گا ، ان کا کہنا تھا ہم چاہتے ہیں کہ افغان اور پاکستان پڑوسی ملک اچھے رہیں ۔ پاکستان میں ہمارے مہاجر بھائی ہیں ہم اس چیز کی اجازت نہیں دیں گے کہ دونوں ملکوں کے مابین کچھ ہو
بھارت سے مذاکرات کے حوالے سے افغان طالبان ترجمان ذبیح اللہ نے کہا کہ انڈیا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہورہے تھے، ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی کیا حیثیت ہے کہ ہم اس سے مذاکرات کریں ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو بھی موجودہ افغان انتظامیہ کی مدد سے گریز کارنا چاہیے،ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت سے مذاکرات کی خبریں بے بنیاد ہیں
ایک سوال کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ کابل ایئرپورٹ کا کننٹرول ترکی کے حوالے کیوں ؟ جو بھی فیصلہ کریںگے ہم خود کریںاورافغانستان کوکسی بیرونی مدد کی کوئی ضرورت نہیں ،ہمارا جگہ اور ہمارا گھر ہے اس ملک میں نیٹو یا کسی بھی ملک کے عملے کو اجازت نہیں دیں گے چاہے وہ ترکی ہو یا کوئی اور
افغان ترجمان کا کہنا تھا کہ نصف سے زیادہ ملک کے علاقے پر امارت اسلامیہ کا قبضہ ہے ۔۔
ایک سوال کے بارے میں جس میں مبشرلقمان نے پوچھا کہ کیا آپ کے اقتدار میں آنے سے افغانستان سے منشیات کا دھندہ ختم ہوجائے گا؟ تو ترجمان کا کہنا تھا کہ زراعت کا معاوضہ ملے گا تو منشیات کا خاتمہ کریں ابھی لوگ غریب ہیں جب تک کوئی متبادل آ جائے گا تو ختم کر دیں گے
ہمارا پاکستان کو پیغام ہے کہ پاکستان بھائی اور ہمارے اوپر احسانات ہیں ہمارے مہاجرین وہاں ہیں ۔روابط ہمارے تجارتی بھئ رہیں گے۔ دونوں ملکوں کے مابین اعتماد اور اچھے پڑوسی کی طرح رہیں گے۔
یاد رہے کہ افغان طالبان ترجمان ذبیح اللہ کواردو بولنا نہیں وہ پشتو میں انٹریو دیتے ہیں مگرباغی ٹی وی کے لیے انہوں نے خصوصی پراردو میں انٹریودیا جسے سمجھنا بہت ہی ضروری ہے
امریکی خواب چکنہ چور,پاکستان کا بھی امتحان شروع ، سنئے مبشر لقمان کی زبانی
باغی ٹی وی : سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ہم ابھی نندن کو پکڑ لیتے ہیں کلبھوشن یادو کو بھی رنگے ہاتھوں پکڑ لیتے ہیں مگر دنیا میں ہماری اس طرح سنوائی نہیں ہوتی جیسے ہونی چاہیے ۔ دوسری جانب بھارت کوئی جھوٹا موٹا ڈرامہ بھی کرے تو سب پاکستان کی جانب انگلی اٹھانا شروع ہو جاتے ہیں ۔ پاکستان کے ساتھ اس سلوک کی وجہ امریکہ ہے ۔ آگے چل کر بڑی تفصیل سے امریکہ کی کارستانیوں بارے بتاتا ہوں ۔
مبشر لقمان نے کہا ہے کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کا پاکستان کو کتنا نقصان ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ میں جو گزشتہ کئی دنوں سے ڈرامہ بازی جاری ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔ کس کو نہیں پتہ کہ تمام سیاسی جماعتیں ملکی مفاد کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے اپنے سیاسی مفادات کی حفاظت کے لیے کام کر رہی ہیں۔
مبشر لقمان نے کہا ہے اس وقت جو ملک کو مسائل درپیش ہیں یہ حقیقی طور پر امتحان کا وقت ہے ۔ آپ دیکھیں بھارتی فضائیہ کی عمارت پر ہونے والے ڈرون حملوں کے بعد پاکستان پر الزام عائد کرنے کی بڑی تگڑی کوششیں ہو رہی ہیں مگر کتنے سیاستدان ہیں جنہوں نے اس کا جواب دیا ہے۔ آج بھی اسمبلی میں
بڑی تقریریں ہوئی ہیں ۔ شور شرابہ ہوا ہے ۔ مگر کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ مودی اور بھارت کی شرانگیزیوں کا جواب دے دیتے ۔
مبشر لقمان نے کہا ہے کسی کو خیال نہیں آیا کہ یہ سوال یہ اٹھا دیتے کہ جو ڈرون بھارت دیکھا رہا ہے ۔ یہ چھوٹے والے ڈرون ہیں ۔ زیادہ سے زیادہ بھی اس کی بیٹری لائف ہوئی تو 40 منٹ سے زیادہ ہوا میں نہیں رہ سکتا ۔ اور یہ والا ڈرون کہیں آگیا ہے تو کہیں سے تو آپریٹ ہو رہا ہوگا ۔ کہیں جا کر یہ گرے گا بھی ۔ اس کو تو ڈھونڈو ۔ مگر کسی کا اپنی سیاست سے ہٹ کر توجہ ہو تو سوال کرے ۔ مودی کو جواب دے ۔ بھارت کے پراپیگنڈہ کا توڑ کرے ۔
۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی کو نہیں پتہ چلا ۔ کہ لاہور میں جو دھماکہ ہوا اس کے پیچھے بھارت اور RAW کا ہاتھ تھا ۔ قومی اسمبلی میں آج بڑی جذباتی تقریریں ہوئیں ۔ پر اس اہم موقع پر جس کو دنیا میں بھارت پلوامہ ٹو بنا کر پیش کر رہا ہے ۔ ہماری پارلیمنٹ چپ ہے ۔ آخر کیوں ؟
مبشر لقمان نے کہا ہے لاہور تو لاہور ۔ کراچی سے بھی RAW کا ایک خطرناک نیٹ ورک پکڑ لیا گیا ہے۔ پر کیا قومی اسمبلی میں اپوزیشن کو یہ توفیق ہوئی کہ حکومت دنیا کو کیوں نہ بتا سکی کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے ۔
مبشر لقمان نے کہا ہے یہ پہلا موقع نہیں کہ ہمارے سکیورٹی اداروں کو پاکستان میں کسی دہشت گردی کے واقعے میں بھارتی خفیہ ادارے RAW کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔ پاکستان ایسے بہت سے ثبوت اقوام متحدہ سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر پیش کرچکا ہے جن کی بنیاد پر بھارت کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے تھی لیکن افسوس کی بات ہے کہ عالمی برادری اس سلسلے میں کھوکھلے بیانات سے آگے بڑھ کر کچھ بھی نہیں کرتی۔ بھارت کی پاکستان میں کی جانے والی دہشت گردی کی کارروائیوں یا دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کا سب سے بڑا ثبوت بھارتی بحریہ کا افسر کلبھوشن یادیو ہے جسے پاکستانی سکیورٹی اداروں نے بلوچستان سے گرفتار کیا تھا۔
مبشر لقمان نے کہا ہے کیا یہ سیاسی قیادت کی ذمہ داری نہیں کہ وہ اردگرد ہونے والے واقعات پر نگاہ رکھے اور ملکی مفاد میں سیاسی اختلافات کو بھلا کر پاکستان کی سلامتی اور بقاء کو اہمیت دیتے ہوئے مثبت طرز عمل اختیار کرے۔
مبشر لقمان نے کہا ہے اس بات کا امکان موجود ہے کہ بھارت مزید ایسی کوئی کارروائیاں کرے تاکہ وہ لاہور دھماکے میں اپنی ایجنسی کے ملوث ہونے کے معاملہ سے دنیا کی توجہ ہٹا سکے ۔ لیکن ہمارے دفتر خارجہ کو اس سلسلے میں پوری توجہ کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے اور بھارت کے خلاف ملنے والے ثبوت مختلف بین الاقوامی فورمز پر پیش کر کے عالمی ضمیر کو جھنجوڑنا چاہیے۔
مبشر لقمان نے کہا ہے اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے کشمیری قیادت سے ملاقات کا ایک اور ڈھونگ ناکام ہوگیا ہے۔ نریندر مودی اس وقت عالمی سطح پر شدید دباؤ میں ہیں۔ امریکی افواج کا افغانستان سے انخلا ہو یا لداخ میں تیار بیٹھی چینی افواج، اگر پاکستان پھنسا ہوا ہے تو مسائل بھارت کے لیے بھی کم نہیں ہیں ۔
مبشر لقمان نے کہا ہے کیونکہ امریکہ کی خواہش ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ معاملات کو بہتر بنا کر خطے کا چوہدری بنے اور چین کا مقابلہ کرنے کےلیے تیار ہو۔ لیکن بیچ میں کشمیر آجاتا ہے اس لیے یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا کیونکہ پاکستان کا واحد مطالبہ ہے کہ کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کی جائے، تبھی مذاکرات کی میز سجائی جاسکتی ہے۔ پر ابھی تک بھارت کو چوہدری بنانے کی امریکہ کی خواہش بہت مہنگی پڑ رہی ہے ۔ حالت یہ ہے کہ quad
اتحاد بنانے کے باجود ایشیا میں امریکی غلبہ زوال پذیر ہے حالات اِس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ افغانستان سے انخلا کے بعد خطے پرنظر رکھنے کے لیے کوئی ملک اڈے دینے کو تیا رنہیں۔ دراصل ایسے حالات بنانے میں امریکی حماقتوں کا بڑا ہاتھ ہے افغانستان میں بھارتی کردار کی ضد نے چین کو قبل ازوقت مقابلے پر آنے کی راہ دکھائی اور پاکستان کو بھی خفا کر دیا کیونکہ پاکستان نے اپنا مستقبل چین سے وابستہ کر لیا ہے اِس لیے اب یہ توقع کم ہی ہے کہ پاکستان اور امریکہ ماضی کی طرح ایک دوسرے سے شیر وشکر ہوں۔
مبشر لقمان نے کہا ہے اس حوالے سے عمران خان نے اپنے حالیہ چینی ٹی وی کو انٹرویومیں واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ امریکہ نے چین کے خلاف علاقائی اتحاد قائم کیا ہے۔ امریکی اتحاد میں بھارت اور دیگر ممالک شامل ہیں جبکہ پاکستان کے ساتھ نا مناسب رویہ رکھا گیا مغربی ممالک کا پاکستان پر دباؤ ڈالنا نا مناسب ہے۔ پاکستان پر جتنا بھی دباؤ ڈال لیں، پاک چائنہ تعلقات قائم رہیں گے۔ پاک چائنہ تعلقات ملکی سطح پر ہی نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی ہیں۔
مبشر لقمان نے کہا ہے اس لیے اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ امریکہ اور پاکستان میں دوری بڑھتی جا رہی ہے اور آگے یہ مزید بڑھنے کی جانب گامزن ہے ۔ وجہ بھارت ہے ۔
مبشر لقمان نے کہا ہے آپ دیکھیں جب افغان سرزمین پر بھارت کی موجودگی چین اور پاکستان دونوں کو قبول نہیں توپھر امریکی کیوں ضد کرتے ہیں سمجھ نہیں آتی ویسے بھی بڑے رقبے، بڑی آبادی اور بڑی فوج کے علاوہ بھارت میں کوئی خوبی نہیں ۔ بھارت وہ میمنا ہے جسے دودھ پینے کے سوا کچھ نہیں آتا پہلے روس اور اب امریکہ کی طرف ہونے میں یہی خصلت کارفرما ہے بھارت کی بے جا حمایت امریکی غلبے کو زیادہ تیزی سے زوال کی گہرائیوں میں پھینک سکتی ہے۔
مبشر لقمان نے کہا ہے دراصل دہشت گردوں کی سرکوبی کا علمبردار امریکہ اڈے لیکر اہم ممالک پر نظر رکھناچاہتاہے لیکن پاکستان ایسا کچھ کرنے کی اجازت دینے پر تیار نہیں۔
دوسرایہ کہ پاکستان اب طالبان کے حمایتی یا مخالف گروہوں کولڑنے کے لیے میدان فراہم نہیں کرنا چاہتا اور وہ اقتدار کا فیصلہ کرنے کا حق افغانوں کو دینے کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ افغان اپنے لسانی یا نسلی مسائل کا حل بھی خود تلاش کریں لیکن امریکی خواہش ایسی نہیں وہ کسی نہ کسی صورت میں علاقے میں موجود رہنا چاہتا ہے۔
مبشر لقمان نے کہا ہے امریکہ کوشاید معلوم نہیں کہ حالات بدل چکے ہیں چین پر ہمسایہ ممالک تکیہ کرنے لگے ہیں جو امریکی اتحاد کی طرف قدم بڑھائے اُسے چین روکنے بھی لگا ہے بنگلہ دیش پر چین اسی نوعیت کا دباؤ ڈال چکا ہے جبکہ کم وبیش تین دہائیوں سے خاموش روس نے بھی عالمی کردار بڑھانا شروع کر دیا ہے اور عالمی امور میں امریکہ مخالف روش پرگامزن ہے۔
مبشر لقمان نے کہا ہے روسی صدر پیوٹن جلد پاکستان کا دورہ بھی کرنے والے ہیں ۔ ایران پہلے ہی خطے میں امریکہ مخالف بلاک کا پُرجوش حصہ ہے۔ جس سے نتیجہ واضح ہے کہ امریکی غلبے کا زوال شروع ہوگیا ہے اور جلد ہی عالمی منظر نامے پر واحد زمینی سُپر طاقت کے مدمقابل ایک سے زائد نئی طاقتیں آنے کا امکان ہے۔
انڈیا سے مذاکرات؟ کابل پر قبضہ کیسے کرنا؟ طالبان ترجمان ملا ذبیح اللہ مجاہد کا مبشر لقمان کو خصوصی انٹرویو آج رات دس بجے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان اور امارت اسلامیہ افغانستان کے رہنما ملا ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کو انٹرویو میں اہم انکشافات کئے ہیں
طالبان رہنماملا ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے مبشر لقمان کو دیئے گئے انٹرویو میں پاک افغان تعلقات، انڈیا سے طالبان کے مذاکرات ، امریکی انخلا کے بعد طالبان کیا کرنیوالے ہیں؟ کے بارے اہم انکشافات کئے ہیں
https://www.youtube.com/c/MubasherLucmanOfficial
طالبان رہنما ملا ذبیح اللہ نے مبشرلقمان کو دیئے گئے انٹرویو میں پاکستانی قوم اور حکومت کے نام اہم پیغام بھی دیا ہے، ملا ذبیح اللہ نے کابل پر قبضہ کیسے کرنا ہے اس حوالہ سے بھی بات کر کے تہلکہ مچا دیا ہے،ملا ذبیح اللہ کا یہ انٹرویو مبشر لقمان یوٹیوب چینل پر آج جمعہ کی رات دس بجے نشر کیا جائے گا
طالبان رہنما ملا ذبیح اللہ جن کی زبان پشتو ہے اور اردو انہیں آتی، اسکے باوجود مبشر لقمان کو ملا ذبیح اللہ نے اردو میں انٹرویو دیا ہے اور، ملا ذبیح اللہ کی انکساری دیکھیے کہ انٹرویو کے آخر میں ملا ذبیح اللہ نے مبشر لقمان سے صحیح اردو نہ بولنے پر معذرت کی ہے
کالعدم تحریک لبیک کے سربراہ کی نظر بندی،عدالت نے کس کو دیا بڑا جھٹکا؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی
عدالت نے حافظ سعد رضوی کی نظر بندی میں توسیع کی استدعا مسترد کر دی ،درخواست پر سماعت تین رکنی نظر ثانی بورڈ نے کی اور حکومت کی جانب سے نظر بندی میں مزید توسیع کی استدعا کو مسترد کر دیا گیا عدالت نے 11 جولائی کو حافظ سعد حسین رضوی کو رہا کرنے کے احکامات جاری کردئے
سعد رضوی کو عدالت پیش کیا گیا تو اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی جبکہ تحریک لبیک کے کارکنان بھی عدالت کے باہر موجود تھے جنہوں نے حافظ سعد رضوی کا بھر پور استقبال کیا اور گاڑی پر گلاب کی پتیاں پھینکیں، حافظ سعد رضوی کو ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا تھا
تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی جو علامہ خادم حسین رضوی کے صاحبزادے ہیں کو 12 اپریل کو اسکیم موڑ چوک لاہورسے گرفتار کیا گیا تھا ،پولیس نے حافظ سعد رضوی کو 16 اپریل کا احتجاج روکنے کے لیے حراست میں لیا کیونکہ حکومت کے ساتھ ان کے مذاکرات ناکام ہوگئے تھے اور فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق تحریک لبیک نے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا تھا
سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہنگامہ آرائی ہوئی، اور حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی لگا دی، پابندی کے خلاف تحریک لبیک نے اپیل دائر کی ہے جس پر حکومت فیصلہ دے گی تاحال حافظ سعد جیل میں بند ہیں اور انکی جماعت پر پابندی عائد ہے
باغی ٹی وی : پروازیں منسوخ کرنے والی ایئرلائنز کو سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے تنبیہہ
پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کچھ انٹرنیشل ایئر لائنز کی جانب سے پروازوں کی اچانک منسوخی کا سخت نوٹس لیا ہے
واضح ہدایات کی موجودگی میں پروازوں کی منسوخی ، پاکستان سفر کرنے والے مسافروں کے لیئے پریشانی کا باعث بنی
پروازیں منسوخ کرنے والی ایئرلائنز کو سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے تنبیہہ جاری کی گئی ہے
واضح رہے کہ این سی او سی نے بین الاقوامی اور ملکی وبا کی صورت حال میں بہتری کے پیش نظر بیرون ملک سے آنی والی پروازوں میں بتدریج اضافہ کیا
۱۵ جون ۲۰۲۱ سے لے کر اب تک چار ہزار مسافر یومیہ کی تعداد کو بڑھا کر آٹھ ہزار تک کر دیا گیا اس اضافے میں برطانیہ یورپ کینیڈا چائنہ اور ملائئشیا سے آنے والی پروازوں کو بیس فیصد سے بڑھا کر چالیس فیصد کر دیا گیا
کورونا کی روک تھام کے لئیے این سی او سی نے ایک مربوط نظام مرتب کیا اس ضمن میں باہر سے آنے والی پروازوں کو مروجہ ٹیسٹنگ اور قرنطینہ کے مراحل سے گزارا جاتا ہے
اب تک بیرونی ممالک سے آنے والے دو لاکھ اسی ہزار افراد کے ٹیسٹ کیئے گئے جس میں سے چھ سو مثبت کیسز رپورٹ ہوئے جن کو قرنطینہ کیا گیا
وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملکی ترسیلات زر میں اضافے کے حوالے سے اجلاس ہوا
اجلاس میں وزیر خزانہ، وزیر برائے اقتصادی امور، مشیر تجارت، معاونین خصوصی برائے نیشنل سیکورٹی، ریونیو (محصولات) و دیگر سینئر حکام شریک ہوئے، اجلاس میں ترسیلات زر میں اضافے اور ملکی معیشت کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے بیرون ملک پاکستانیو ں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم پر حکومت کی جانب سے دی جانے والی مراعات، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی کامیابی، ملکی برآمدات میں اضافے خصوصاً آئی ٹی سے متعلقہ برآمدات میں اضافہ، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ ا ور مختلف ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے مختلف ممالک و اداروں سے دو طرفہ معاہدوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کے حوالے سے متعلقہ معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا
وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملکی ترسیلات زر میں اضافے کے حوالے سے اجلاس
اجلاس میں وزیر خزانہ، وزیر برائے اقتصادی امور، مشیر تجارت، معاونین خصوصی برائے نیشنل سیکورٹی، ریونیو (محصولات) و دیگر سینئر حکام شریک pic.twitter.com/wUVuFDfTw0
سٹیٹ بنک کی جانب سے اجلاس کو بتایا گیا کہ ترسیلات زر کی مد میں حکومت کی جانب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو پرکشش مراعات دینے کی حکومتی پالیسی کے خاطر خواہ ثمرات برآمد ہو رہے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی مد میں صرف دس ماہ کے قلیل عرصے میں اب تک 1.561ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں اور ان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
٭ اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال 2018سے اب تک کورونا وباء کے باوجود ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ سامنے آیا ہے جوکہ بیرون ملک پاکستانیوں کا موجودہ حکومت کی پالیسیوں اور وزیرِ اعظم عمران خان کی صلاحیتیوں پر مکمل اعتماد کا مظہر ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی سہولت کے لئے "نیشنل ریمٹنس لائلٹی پروگرام”کا اجراء بھی جلد کر دیا جائے گا۔اس پروگرام کے ذریعے ایک موبائل ایپلیکیشن متعارف کرائی جائے گی اور ترسیلات زر بھجوانے والے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو مزید مالی مراعات فراہم کی جائیں گی۔اس پروگرام کا اجراء پی آئی اے، ایف بی آر، نادرا، سٹیٹ لائف، او پی ایف، بنیوولینٹ اینڈ اولڈ ایج ایمپلائیز فنڈ و دیگر سرکاری اداروں کے اشتراک سے کیا جائے گا۔ اس پروگرام سے وابستہ بیرون ملک پاکستانیوں کو مذکورہ اداروں سے مراعات میسر آئیں گی۔ اجلاس کو روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ، روشن اپنی گاڑی سکیم اور روشن سماجی خدمت کی کامیابیوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی
اجلاس کو بتایا گیا کہ اس ضمن میں "روشن اپنا گھر”سکیم کا اجراء بھی جلد کر دیا جائے گا۔ مشیر تجارت نے مختلف شعبوں میں برآمدات میں ممکنہ اضافے خصوصاً آئی ٹی کے شعبے میں ملکی استعداد کو برؤے کار لانے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ سرمایہ کاری بورڈ کی جانب سے بتایا گیا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سہولت کے لئے حکومتی سطح پر ہر ممکنہ کوشش کی جا رہی ہے اور کاروبار کرنے میں مزید آسانیاں پیدا کرنے کے حوالے سے کوششیں جاری ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی ملک کا بیش قیمت اثاثہ ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کا ملکی معیشت کے استحکام میں کلیدی کردار ہے ، وطن کی تعمیر و ترقی میں حصہ ڈالنے والے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور ان کے خاندانوں کو سہولیات اور مراعات فراہمی کے لئے حکومت پرعزم ہے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ترسیلات زر کے ضمن میں مزید مراعات فراہم کرنے پر غور کیا جائے معاشی ترقی اور بڑھتے ہوئے شرح نمو کو مد نظر رکھتے ہوئے زرمبادلہ و دیگر معاشی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے مفصل و منظم منصوبہ بندی کی جائے
وزیرِ اعظم عمران خان نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ ترسیلات زر کے ضمن میں مختلف شعبوں میں مستقبل کے اہداف مرتب کرکے ان کے حصول کے حوالے سے حکمت عملی تشکیل دی جائے