Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • زندہ رہا تو یہ کام کر کے رہوں گا، جہانگیر ترین کے اعلان نے تہلکہ مچا دیا

    زندہ رہا تو یہ کام کر کے رہوں گا، جہانگیر ترین کے اعلان نے تہلکہ مچا دیا

    زندہ رہا تو یہ کام کر کے رہوں گا، جہانگیر ترین کے اعلان نے تہلکہ مچا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر خان ترین نے کہا ہے کہ دنیا میں سب لوگ فلاحی کام کرتے ہیں مگر کام وہ جو لوگوں کو فائدہ پہنچائے،

    جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب سے کامیابی کے بعد لوگ اس علاقے کو بھول جاتے ہیں، اپنے علاقے کے لیے کام کرنے میں سب سے زیادہ برکت ہے،لودھراں پائلٹ پروجیکٹ پاکستان کا سب سے بڑا منصوبہ ہو گا،ہم اسکولز اور کالجوں میں کمپیوٹر لیب بنا رہے ہیں، تمام پارٹیوں نے بڑے بڑے وعدے کیے، زندہ رہا تو جنوبی پنجاب صوبہ بنا کر رہوں گا،میرا پیپلزپارٹی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے، جنوبی پنجاب صوبے کے قیا م میں رکاوٹ ڈالنے والوں کوڈھونڈیں،

    وزیراعظم کی ہدایت؟ جہانگیر ترین سے اہم شخصیت کی ملاقات

    جہانگیر ترین کیخلاف درج ایف آئی آر کا از سر نو جائزہ شروع

    جہانگیر ترین کو بڑی خوشخبری مل گئی

    وزراء سمیت کتنے اراکین اسمبلی جہانگیر ترین کے ساتھ عدالت آئے؟

    ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے رابطہ ہے یا نہیں ؟ جہانگیر ترین نے بتا ہی دیا

    جہانگیر ترین کو ملی خوشخبری، ایسا اعلان کر دیا کہ سب کے پسینے چھوٹ گئے

    جہانگیر ترین فیصلہ کر لیں پارٹی میں رہنا ہے یا نہیں، میرے ساتھ بھی زیادتی ہوتی رہی،پی ٹی آئی رہنما برس پڑے

    جہانگیر ترین گروپ کی آج کس شخصیت سے ملاقات طے؟ پنجاب میں تہلکہ مچ گیا

    جہانگیر ترین گروپ کا آج ہونے والا اجلاس ایک بار پھر موخر

    جہانگیر ترین بارے رپورٹ وزیراعظم کو پیش،اہم شخصیت کا بڑا دعویٰ

    وزیراعظم نے جہانگیر ترین بارے کیا رپورٹ مانگی تھی؟ بیرسٹر علی ظفر کا انکشاف

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے جہانگیر ترین بارے درخواست پر فیصلہ سنا دیا

    بریکنگ..شہزاد اکبر کھل کر جہانگیر ترین گروپ کیخلاف آ گئے، مقدمہ درج کروا دیا

    جہانگیر ترین کیخلاف کاروائی سے پہلے عدالت کو بتانا ہو گا،عدالت کا حکم، درخواست ضمانت واپس

    جہانگیر ترین کی شوگر ملز کے‌ حوالہ سے درخواست کیوں مسترد ہوئی؟ تحریری فیصلہ جاری

  • پاکستان پر جتنا بھی دباوَ آئے گا ہم چین کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی نہیں لائیں گے، وزیراعظم

    پاکستان پر جتنا بھی دباوَ آئے گا ہم چین کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی نہیں لائیں گے، وزیراعظم

    پاکستان پر جتنا بھی دباوَ آئے گا ہم چین کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی نہیں لائیں گے، وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کا چین کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں،

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرپشن کے خلاف اقدامات کے لیے پرعزم ہے کرپشن سے ایلیٹ طبقہ فائدہ حاصل کرتاہے اور غریب متاثر ہوتاہے،چین نے غربت سے جس طرح اپنی عوام کو نکالا وہ حکمت عملی قابل تعریف ہے ،چین پاکستان کی مختلف شعبوں میں مدد کررہا ہے ،چین اورپاکستان کے تعلقات گہرے اور پرانے ہیں چینی صدرکی انسدادبدعنوانی کیخلاف مہم انتہائی مؤثرہے،سی پی سی ایک منفرد ماڈل ہے اوراسے خطے کوفائدہ ہوگا،مغربی جمہوریت کسی بھی معاشرے کی ترقی کا بہترین نظام ہے،سی پی سی نے ایک ایسا متبادل نظام دیا جس نے تمام مغربی جمہوریتوں کومات دی،کمیونسٹ پارٹی کے ہیڈ کوارٹرکا دورہ کیا تو دیکھا ان کا تربیتی نظام انتخابی جمہوریت سے بہتر ہے میڈیا اورثقافتی تعلقات اتنے قریبی نہیں جتنے سیاسی تعلقات ہیں،آئندہ ہفتے گوادر کادورہ کررہاہوں وہاں سی پیک منصوبوں پرکام کی رفتار کا جائزہ لوں چین کی نظام حکومت میں لچک ہے ،جب کوئی چیز تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو نظام اس کی حمایت کرتاہے،ہم چین سے زراعت کے شعبے میں تعاون کے خواہاں ہیں ،چینی صدر شی جن پنگ کو جدید دور کا عظیم سیاستدان سمجھا جاتاہے چین نے کورونا ویکسین ہمیں عطیہ کی جس پر ان کے شکرگزار ہیں چین نے ہر وقت ہر مشکل میں پاکستان مدد کی ہم نے سی پیک منصوبوں کاجائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کی ،سی پیک کا اگلہ مرحلہ پاکستان کےلیے بہت حوصلہ افزا ہے ہمیں امید ہے کہ چینی صنعت ان خصوصی زونز کی طرف متوجہ ہوگی،ہمیں امید ہے کہ چینی صنعت ان خصوصی زونز کی طرف متوجہ ہوگی

    لداخ میں انڈیا اور چین میں سرحدی کشیدگی، سینئر صحافی مبشر لقمان نے کیا دی تجویز

    ‏یہ وہ لات ہے جو ایک چینی فوجی نے لداخ میں ایک بھارتی فوجی کو تحفہ میں دی

    لداخ میں چین کے ہاتھوں شرمناک شکست پر جنرل بخشی نے ایک سائیڈ کی مونچھیں کٹوا دیں

    "پلیز گو بیک چائنہ” بھارتی فوج کے ترلے، بینر اٹھا لیے

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان پر جتنا بھی دباوَ آئے گا ہم چین کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی نہیں لائیں گے امریکی صد کو سخت محنت اور جدوجہد نہیں کرنا پڑتی،دنیا چین کی پالیسیوں کی متعرف ہے ،لیڈر کی کامیابی خود بولتی ہے، ہم تعلقات میں جانبداری کامظاہرہ کیوں کریں ، سب سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں سی پیک سےاقتصادی مستقبل وابستہ ہے،سیاسی تعلقات روز بروز مضبوط ہورہے ہیں،سنکیانگ سے متعلق چین کے موقف کو تسلیم کرتے ہیں ،ہمیں چینی قیادت پر اعتماد ہیں،سنکیانگ کے حوالے سے مغربی میڈیا،حکومتوں اور چین کے موقف میں فرق ہے کشمیر سمیت دنیا میں ناانصافی کے متعدد واقعات ہوئے لیکن ان پر کوئی توجہ نہیں دی گئی،کشمیر میں ماورائے عدالت قتل کیے جارہے ہیں ،مغربی میڈیا کی کم کوریج منافقانہ رویہ ہے،جب ادراے مضبوط ہوتے ہیں تو کھیل کو بھی فروغ ملتا ہے، ٹیلنٹ ابھرتاہے،پاکستان اور چین کے تعلقات پرانے ہیں اس کا بھارت کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں

  • چین کی جانب میلی نگاہ ڈالنا چھوڑیں،ٹکرانے والوں کو چکنا چور کر دیا جائیگا، چینی صدر

    چین کی جانب میلی نگاہ ڈالنا چھوڑیں،ٹکرانے والوں کو چکنا چور کر دیا جائیگا، چینی صدر

    چین کی جانب میلی نگاہ ڈالنا چھوڑیں،ٹکرانے والوں کو چکنا چور کر دیا جائیگا، چینی صدر

    چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ چین کسی سے مرعوب نہیں ہوگا اور نہ ہی کسی دوسرے ملک پر ظلم کرتا ہے۔ چین کی جانب میلی نگاہ ڈالنے والے فولاد کی ایک بڑی دیوار سے سر ٹکرائیں گے

    بیجنگ کے تیان من اسکوائر میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کے قیام کی صد سالہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر کا کہنا تھا کہ ہم کسی کو بھی چین پر دھونس جمانے، جبر کرنے یا محکوم رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے ،چینی صدر نے کسی بھی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ جو بھی اس کی جرات کرے گا وہ اپنا سر ایک ارب چار کروڑ چینی باشندوں کی اسٹیل کی دیوار سے ٹکرائے گا اور خود خون آلود ہوگا

    تقریب میں شریک 70 ہزار کمیونسٹ پارٹی کی سینئر قیادت اور ارکان نے شی جنگ کی تقریر کا پرجوش انداز میں جواب دیا۔ شی جن پنگ کی تقریر کے دوران فوجی جیٹ طیاروں نے فضائی کرتب دکھائے توپوں کی سلامی پیش کی گئی اور محب وطن نغمے چلائے گئے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق چین کو درپیش، کووڈ کی وبا، معاشی چیلنج اور دیگر تنازعات جیسے مسائل کے پس منظر میں چین کی قیادت کا خیال ہے کہ سرکاری طور پر تصدیق شدہ اس تاریخ سے عوام کو روشناس کرانے سے رائے عامہ کو ہموار کرنے میں مدد ملے گی اور حکمران جماعت کے اقتدار کو اخلاقی جواز ملے گا اور ترقی کے بارے میں اس کے تصور کی عوامی حمایت بڑھے گی۔

    سی پیک کے خلاف امریکی سازش کے توڑ کیلئے چین کے پانچ ہزار فوجی بھارت میں گھس گئے

    لداخ میں انڈیا اور چین میں سرحدی کشیدگی، سینئر صحافی مبشر لقمان نے کیا دی تجویز

    ‏یہ وہ لات ہے جو ایک چینی فوجی نے لداخ میں ایک بھارتی فوجی کو تحفہ میں دی

    لداخ میں چین کے ہاتھوں شرمناک شکست پر جنرل بخشی نے ایک سائیڈ کی مونچھیں کٹوا دیں

    "پلیز گو بیک چائنہ” بھارتی فوج کے ترلے، بینر اٹھا لیے

    شی جن پنگ نے کہا کہ چین کی ترقی میں کمیونسٹ پارٹی کا مرکزی کردار رہا ہے اور اسے لوگوں سے الگ کرنے کی کوششیں “ناکام” ہوں گی۔صرف سوشلزم ہی چین کو بچا سکتا ہے اور صرف چینی خصوصیات کے حامل سوشلزم ہی چین کو ترقی دے سکتا ہے۔ وہ دور ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے جب چینیوں کو قتل کیا یا پھر ڈرایا دھمکایا جاتا تھا۔ کوئی بھی اس کی جسارت کرنے کی ہمت کرتا ہے تو اس کے سر کو اس آہنی دیوار سے ٹکرا کر چکنا چور کر دیا جائے گا، جسے چین کے ایک ارب چالیس کروڑ لوگوں نے تعمیر کیا ہے۔ چینی قوم کی نئی عظیم الشان زندگی اس تاریخی شاہراہ پر رواں دواں ہے جس کو واپس کرنا ممکن نہیں ہے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی نے گزشتہ ایک سو برس کے دوران نہ صرف کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالا بلکہ بہت سے جدید اور خوشحال شہر بھی تعمیر کیے ہیں۔ قومی دفاع اور مسلح افواج کی تجدید کاری کو تیز تر کرنے کی ضرورت ہے۔

  • پاکستان خطوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے، آرمی چیف کا عالمی رہنماوں کو پیغام

    پاکستان خطوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے، آرمی چیف کا عالمی رہنماوں کو پیغام

    راولپنڈی :پاکستان خطوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے، آرمی چیف کا عالمی رہنماوں کو پیغام،اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستان خطوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ کیا ہے جہاں آرمی چیف نے نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس کے شرکاء سے خطاب بھی کیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اپنے خطاب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بدلتے ہوئے اسٹریٹجک اور علاقائی ماحول پر بات کی۔

    شرکاء سے خطاب میں آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان ملک کے اندر اور باہر ہر جانب امن کے لیے کھڑا ہے۔ پاکستان خطوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن عمل کو سبوتاژ کرنے والے خطے کو عدم استحکام کے خطرات سے دوچار کر رہے ہیں، افغان مفاہمتی عمل میں پاکستان نے سنجیدہ کردار ادا کیا۔

    آرمی چیف نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فوری حل ہونا چاہیے، مقبوضہ کشمیر کے عوام کی حق خودارادیت کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں جبکہ موجودہ ڈاکٹرائن کو بہتر سے بہتربنانے کیلئے کوشاں ہیں۔پاک فوج کے سربراہ نے مزید کہا کہ مختلف نوعیت کے خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کیلئے پرعزم ہیں۔

  • قوم کوبہادراورغیرت مند وزیراعظم مبارک:گفتگوقوم کی ترجمانی:وزیراعظم نےکیاکہا:سنیں باغی ٹی وی کی زبانی

    قوم کوبہادراورغیرت مند وزیراعظم مبارک:گفتگوقوم کی ترجمانی:وزیراعظم نےکیاکہا:سنیں باغی ٹی وی کی زبانی

    اسلام آباد:قوم کوبہادراورغیرت مند وزیراعظم مبارک:عمران خان کی گفتگو قوم کی ترجمانی:وزیراعظم نے کیا کہا:سنیں باغی ٹی وی کی زبانی ،اطلاعات وزیراعظم نے آج قومی اسمبلی میں ایسا خطاب کیا کہ واشنگٹن ،لندن،تل ابیب اوردہلی کانپ اٹھے

    وزیراعظم نے قوم سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ وقت یاد رکھیں جب اسامہ کو مارا گیا تو بیرون ملک پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک گئے،وزیراعظم نے کہا کہ پھر ہم نے اپنے آپ کو خود ذلیل کیا،

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ماضی میں ڈرون حملوں کی اجازت دی اور لوگوں کے سامنے مذمت کرتے تھے،اگر وہ اجازت نہیں دیں گے تو پھر ہم نے اجازت کیوں دی؟وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ کیا برطانیہ والے ہمیں اجازت دیں گے کہ لندن میں ڈرون ماریں، جبکہ 30سال سے لندن میں ایک دہشتگرد بیٹھا ہوا ہے جوپاکستان کے ہزاروں لوگوں کا قاتل ہے

    وزیراعظم نے کہا کہ وہ وقت یاد کریں جب میں نے کہا کہ افغان مسئلے کافوجی حل نہیں تو مجھے طالبان خان کہا گیا،وزیراعظم نے کہا کہ امریکا نے جو کہا وہ ہم کرتےرہے،وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہم اپنے لوگوں کی جانوں کی قربانیاں دوسرے ملک کے لیے کیوں دیں

    وزیراعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کہہ دیا ہے کہ ہم دوسروں کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے ،پھر ایسا وقت بھی آیا جب امریکا کی جنگ میں شامل ہوکر حقامت کی،وزیراعظم عمران خان
    نے قوم کے نام اپنے پیغام میں‌ کہا کہ ہم نے امریکا کی فرنٹ لائن اسٹیٹ بننے کا فیصلہ کیا جس سے بہت شرمندگی ہوئی

    وزیراعظم نے پاکستانی عدالتوں کے ذریعے دباو کےتحت سابق حکمرانوں‌کی طرف سے لیے گئے فیصلوں کے متعلق کہا کہ سنیں‌ اب انصاف کا بول بالا ہے اب ماضی کی طرح نہیں ہوگا ان کا کہنا تھا کہ ہم سابق حکمرانوں کی طرح‌ سپریم کورٹ آزادہےہم کسی جج کوفون نہیں کرتے،

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قبضہ گروپوں کادفاع کیاجاتا ہے،جبکہ یورپی ممالک میں قبضہ گروپ نہیں ہیں،لاہور میں سرکاری زمین سے قبضہ چھڑایا گیا تو کہا گیا کہ ظلم ہورہا ہے،

    وزہراعظم نے کہا کہ کرپشن اوپر سے نیچے آتی ہے،آج جب نیب بڑے بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈال رہی ہے تو شور ہورہا ہے،وزیراعظم نے مزید کہا کہ ماضی میں نیب بڑے لوگوں پر ہاتھ نہیں ڈالتی تھی تو سب خاموش تھے

    یاد رہے کہ آج قومی اسمبلی میں رانا ثنااللہ، خواجہ سعد رفیق، راجہ پرویز اشرف اور عبدالقادر پٹیل ایوان میں موجود تھے جبکہ مولانا اسعد محمود، خواجہ آصف اور احسن اقبال ،شہبازشریف، بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری ایوان سے غائب رہے ، یہ بھی ایک تاریخی لمحہ ہے کہ جب اپوزیشن بھی وزیراعظم کی تقریر سے بہت متاثر ہوئی اوریہی وجہ ہے کہ اپوزیشن کی طرف سے وزیر اعظم کی تقریر کے دوران خاموش رہی

    اوورسیز پاکستانیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ یہ آپ کا ملک ہے، وزیراعظم نے بڑی اہم گفتگو کرتےہوئے کہا کہ ہم کیاکریں پاکستان میں موجود افغان خاندانوں کو جیل میں ڈالیں؟

    وزیراعظم نے بھارت کوآڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ جب تک 5 اگست کااقدام واپس نہیں لیاجاتاتوبات چیت نہیں ہوسکتی پوراپاکستان اپنےدلیرکشمیریوں کےساتھ ہے،وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بھارت کی80لاکھ افواج نےکشمیریوں پرمظالم کیے،نہتےکشمیریوں کوپیلٹ گنزسےنشانہ بنایا گیا،

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 5اگست کےبعدمقبوضہ کشمیرمیں ظلم کی انتہا ہوگئی ،امریکاکےساتھ امن کےشراکت دارہوسکتےہیں جنگ کےنہیں،وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں امن کےخواہاں ہیں،

  • سب سے پہلے اللہ کا شکرگزارہوں اورپھرساتھیوں اوراتحادیوں‌ کا:وزیراعظم کا قومی اسمبلی میں خطاب

    سب سے پہلے اللہ کا شکرگزارہوں اورپھرساتھیوں اوراتحادیوں‌ کا:وزیراعظم کا قومی اسمبلی میں خطاب

    اسلام آباد:سب سے پہلے اللہ کا شکرگزارہوں اورپھرساتھیوں اوراتحادیوں‌ کا:وزیراعظم قومی اسمبلی میں خطاب فرمارہےہیں ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزمائیشوں ، کرونا جیسی وبا سے محفوظ رکھنے اورپھرپاکستان کومعاشی دلدل سے نکالنے اورآج بجٹ پاس کروانے پر سب سے پہلے میں اللہ کا شکرادا کرتا ہوں اورپھراس کے بعد اپنے ساتھیوں ، اتحادیوں اور تمام پاکستانیوں کا جنہوں نے مشکل وقت میں ساتھ دیا دیا

    وزیراعظم عمران خان نے خطاب کے شروع میں ہی ملک میں سیاسی استحکام پیدا کرنے اورجمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے تمام تراختلافات بھلاتےہوئے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی ہے ، وزیراعظم نے خطاب کے آغاز میں اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات پر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں 1970 کے بعد تمام انتخابات متنازع رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے کوشش کی ہے کہ الیکشن کو قابل قبول بنایاجائے، ہم نے پوری اصلاحات کی ہے جس پر ابھی بحث نہیں ہوئی اور وقت آگیا ہے کہ الیکشن لڑیں لیکن فکر نہ ہو کہ مجھے دھاندلی سے ہرادیا جائے گا۔

    وزیراعظم کا کہنا تھاکہ پہلے دن تقریر کرنے کی کوشش تو تقریر نہیں کرنے دی گئی، ہم نے 133 میں سے 4 حلقے ڈیمانڈ کیے تھے، عدالت میں جا کر کیس لڑکر وہ حلقے کھلے، 2013 کے الیکشن پر جوڈیشل کمیشن کی سفارشات ہیں، ہم اس نتیجے پر آئے کہ ای وی ایم لائی جائے، اگر اپوزیشن کی اور تجویز ہے تو ہم سننے کیلئے تیار ہیں۔

    ان کا کہنا تھاکہ ای وی ایم مشین ہوتو پولنگ ختم ہونے پر سب رزلٹ آجاتا ہے، اگر ہم اصلاحات نہیں کریں گے تو ہر الیکشن میں یہی سلسلہ ہوگا۔

    وزیراعظم نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 2 برس میں ہم نے بہت کوشش کی کہ اس ضمن میں کیا اصلاحات کی جاسکتی ہیں کہ جو بھی الیکشن ہارے اس نتیجے کو قبول کرے، ہم نے اس سلسلے میں تجاویز بھی دی ہیں لیکن ابھی تک ان پر اپوزیشن کی بحث نہیں ہوئی۔

    انہوں نے کہا کہ میں درخواست کروں گا کہ یہ حکومت و اپوزیشن کی بات نہیں ہے یہ پاکستان کی جمہوریت کا مستقبل ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ اپنی زندگی کے 21 سال میں بین الاقوامی کرکٹ کھیل کر گزارے تو میں اپنا تجربہ بتانا چاہتا ہوں کہ جب ہم کرکٹ کھیلتے تھے تو ملک اپنے اپنے امپائر کھڑے کرتے تھے اور جو ہارتا تھا وہ کہتا تھا کہ امپائروں نے ہمیں ہرادیا لیکن پاکستان وہ ملک تھا جس نے کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبی نیوٹرل امپائر کھڑے کیے تھے اور اب یہ مسئلہ ختم ہوگیا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اب یہ وقت آگیا ہے کہ ہم الیکشن لڑیں اور کسی کو یہ فکر نا ہو کہ دھاندلی سے ہرادیا جائے گا۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پہلے دن جب میں قومی اسمبلی میں تقریر کرنے کھڑا ہوا تھا تو اپوزیشن نے تقریر نہیں کرنے دی تھی اور انہوں نے کہا تھا کہ الیکشن ٹھیک نہیں ہوئے، اگر الیکشن ٹھیک نہیں ہوئے تے تو انہیں بتانا چاہیے تھا کہ کیسے ٹھیک نہیں ہوئے۔

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ الیکشن ٹھیک نہیں ہوئے تو ان کے میڈیا اور عوام نے کہا کہ اس بات کا ثبوت دیں۔

    انہوں نے کہا کہ جب 2013 میں ہم نے کہا تھا کہ الیکشن درست نہیں ہوئے تو 133 میں سے 4 حلقوں کا مطالبہ کیا تھا کہ ان کا آڈٹ کیا جائے لیکن ان 4 حلقوں کو نہیں کھولا گیا تھا جس کے بعد 2 سے ڈھائی سال بعد کیس لڑکر ہم نے وہ حلقے کھلوائے اور نتائج میں دھاندلی پائی گئی تھی۔

    عمران خان نے کہا کہ میں اپوزیشن سے کہنا چاہتا ہوں کہ اس مسئلے کا صرف ایک ہی حل ہے پروٹو ٹائپ الیکٹرانک ووٹنگ مشین(ای وی ایم) کیونکہ جب ووٹنگ ختم ہوتی ہے تو بٹن دباتے ہی نتائج فوراً سامنے آجاتے ہیں، اس طرح ڈبل اسٹامپس، تھیلیاں کھلے ہونے کے مسائل ختم ہوتے ہیں اور جو بھی اعتراض کرنا چاہے وہ اٹھاسکتا ہے۔

    اپنی بات جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اگر اپوزیشن کے پاس کوئی اور تجویز ہے تو ہم وہ سننے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر اصلاحات نہیں کی جائیں گی تو یہ مسئلہ ہر الیکشن میں آئے گا جیسا کہ سینیٹ اور ضمنی انتخابات میں ہوا۔

    بجٹ 22-2021 سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ میں شوکت ترین اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے پاکستان کے حوالے سے میری وژن کے مطابق بجٹ تیار کیا۔انہوں نے کہا کہ 25 برس قبل جب ہم نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی بنیاد رکھی جس کے محرکات میں صرف نظریہ پاکستان شامل تھا، جو قراردادِ مقاصد میں بھی واضح ہے کہ اسلامی، فلاحی ریاست ہے۔

    وزیراعظم نے مزید کہا کہ اسلامی، فلاحی ریاست کا نظریہ مدینہ کی ریاست سے لیا گیا تھا، جو پہلی فلاحی ریاست تھی، یہ اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان اسی نظریے پر عمل کرے کیونکہ ہم اس سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں تو ہم پاکستان کے نظریے سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئی تو ہمیں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا مسئلہ درپیش تھا، جو ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ تھا اور اس کی وجہ سے ہماری کرنسی خطرے میں تھی، ڈالرز کی کمی تھی جس کی وجہ سے ڈالر نے اوپر جانا ہی تھی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اتنے بڑے بحران میں ہماری ٹیم نئی تھی، تجربہ نہیں تھا لیکن ہم نے اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے بہت مشکل اور تکلیف دہ قدم اٹھائے تھے۔

    انہوں نے ملک کو درپیش مالی مسائل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح ایک گھر مقروض ہوجاتا ہے، آمدنی اور خرچے میں بڑا خسارہ ہوجاتا ہے، لوگ پیسے مانگنے کے لیے آرہے ہیں کیونکہ قرضے لیے ہوئے ہیں، وہ صرف 2 چیزیں کرسکتا ہے اپنے خرچے کم کرتا ہے اور آمدنی بڑھانے کی کوشش کرتا ہے، جب خرچے کم کرتا ہے تو تکلیف ہوتی ہے۔

    وزیراعظم نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اسی طرح ہمیں بھی مشکل فیصلے کرنے پڑے، عوام کو تکلیف ہوئی اور کئی ابھی بھی تکلیف سے گزر رہے ہیں لیکن جب ایک ملک مقروض ہوجائے اور مشکل میں پڑجائے تو اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ‘اس دوران ہماری معاشی ٹیم نے جو فیصلے کیے اس پر مجھے خوشی ہے، دنیا میں باہر گئے مالی مدد طلب کی، میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور چین کا مشکور ہوں کہ انہوں نے ہمیں ڈیفالٹ سے بچایا’۔

  • وزیراعظم کو آئی ایس آئی کو کہنا چاہیے کہ وزیرخارجہ کے فون ٹیپ کرے، بلاول

    وزیراعظم کو آئی ایس آئی کو کہنا چاہیے کہ وزیرخارجہ کے فون ٹیپ کرے، بلاول

    وزیراعظم کو آئی ایس آئی کو کہنا چاہیے کہ وزیرخارجہ کے فون ٹیپ کرے، بلاول

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی بجٹ سیشن میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے 172نمائندوں نے بجٹ منظور کیا

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بجٹ عوام دوست نہیں اسعد محمود کی با ت سے متفق نہیں ،افغانستان سے متعلق صورتحا ل پر بریفنگ کے لیے وزارت داخلہ میں مدعوکیا تھا خواجہ آصف نے کہا ووٹ کوعزت دینی چاہییے اس بات سے اتفاق کرتے ہیں ،جولوگ حکومتی بنچزپربیٹھے ہیں یہ بھی ووٹ لے کرآئے ہیں،ووٹ کی عزت دونوں طرف سےہوگی یکطرفہ نہیں،بلاول بھٹو کون سی پارلیمانی روایات کی بات کرتےہیں ،سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کو بات کرنے کا موقع نہیں دیاجاتا یہ پارلیمانی روایات ہیں،اپوزیشن کو قومی اسمبلی میں ان کے لیے مختص وقت سے زیادہ دیا گیا،بلاول بھٹو آئینہ دکھاتے ہیں دیکھتے نہیں ہیں،سندھ کے وزیرخزانہ بحث سمیٹے بغیر چلے گئے،یہ آئینہ دکھاتے ہیں دیکھتے نہیں ہیں ایک سابق وزیر اعظم سب کے سامنے اسپیکر کو دھمکی دیتا ہے ،اسپیکر کی جانبداری کی بات کیجاتی ہے ،اسپیکر کے صبر کو تحسین پیش کرتے ہیں

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شورشرابہ کیا، شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کیا سندھ میں اسٹینڈنگ کمیٹی کوچیئرمین شپ دی گئی؟ یہ بھی جمہوری قدریں کہ اکثریت کی رائے کو تسلیم کیا جائے،قوم جانتی ہےماضی میں قومی خزانےکےساتھ کیا کچھ نہیں ہوا،قوم جانتی ہے کہ تاریخی خسارہ آپ چھوڑکر گئے،بجٹ میں اپوزیشن کوان کے حصے سے زیادہ وقت دیا گیا،اگر عمران خا ن نہیں بولیں گے توبلاول بھٹو اورشہبازشریف بھی نہیں بولیں گے،روایات کی بات تسلیم کریں گے لیکن کسی کے دباوَ میں نہیں آئیں گے کیاسندھ میں اپوزیشن کواسٹینڈنگ کمیٹی کی چیئرمین شپ دی گئی؟ بلاول بھٹو جب چھوٹے تھے تب سے ان کوجانتا ہوں ،آپ کو پرچی پرلکھ کربھیج دیا جاتا ہے،آپ کا سوئچ آن اورآف ہوجاتا ہے،میری تقریرسے بلاول بھٹو کوتکلیف ہوئی ،

    وزیر خارجہ شاہ محمود شاہ محمود قریشی کی تقریر کے دوران بلاول بھٹو مسکراتے رہے ،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ میں بھی بلاول اوران کے والد کو جانتا ہوں،بلاول اپنے گریبان میں جھانک کردیکھیں،اصلیت کا پتہ چل جائے گا،

    پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری کا کہنا تھا کہ آپ 3 سال کا سپلیمنٹری بجٹ آج ایوان میں لائے ہیں،آپ کفایت شعاری کے نعرے لگاتے رہے کہاں ہے کفایت شعاری ،آپ نے متفرق اخراجات کی مد میں 233 ملین روپے اضافی خرچ کیا،پاور ڈویژن نے مختص بجٹ کے علاوہ سینکڑوں ملین اضافی خرچ کیا،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ جب فلور پر میرا نام لیا گیا تو اس کا جواب دینا میرا حق ہے،شاہ محمود قریشی جب پیپلزپارٹی دورمیں وزیرخارجہ تھے تو وزیراعظم بننے کا مہم چلارہے تھے،وزیراعظم کو آئی ایس آئی کو کہنا چاہیے کہ وزیرخارجہ کے فون ٹیپ کرے ،شاہ محمود جب ہمارے وزیر تھے تو لابنگ کرتے تھے کہ یوسف رضا کی جگہ مجھے وزیراعظم بنایا جائے

  • آخری وقت تک سیشن میں آصف زرداری کو ایوان میں بٹھایا تھا،سپیکر نے دھاندلی کی، بلاول

    آخری وقت تک سیشن میں آصف زرداری کو ایوان میں بٹھایا تھا،سپیکر نے دھاندلی کی، بلاول

    آخری وقت تک سیشن میں آصف زرداری کو ایوان میں بٹھایا تھا،سپیکر نے دھاندلی کی، بلاول

    قومی اسمبلی کا اجلاس ،وزیراعظم عمران خان کچھ دیربعد ایوان سے خطاب کریں گے

    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران آج ضمنی بجٹ کی منظوری دی جائے گی ،اسپیکر اسدقیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے ،چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو اور خورشید شاہ پارلیمنٹ ہاوَس پہنچ گئے ، پی پی رہنما خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو تقریر کرنے دی جائیگی یا نہیں فیصلہ پارٹی کرے گی،اپوزیشن کا کام نشاندہی کرنا ہوتا ہے،پارلیمنٹ میں جو کچھ ہوا یا ہوگا اس طرح نہیں ہونا چاہیے ،پارلیمنٹ میں لڑائی نہیں ہونی چاہیے،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں ایوان میں شہبازشریف پر حملے کی کوشش کی گئی،بجٹ معاشی تباہی کا سبب ہے گزشتہ روز اسپیکر نے ہمیں بولنے کی اجازت نہیں دی 172ووٹ پورے کرنے پر عامر ڈوگرمبارکباد کے مستحق ہیں،گزشتہ روز دھاندلی نہ کرتے تو وزیراعظم کے پاس 172ووٹ نہیں تھے ،گزشتہ روز اسپیکر نے ہم سے ہمارا حق چھینا تھا اسپیکر سے لابی کو سیل کرنے کی گزارش کی وہ نہیں مانی گئی ،حکومتی اراکین اپنے لوگ دھونڈتے رہے،زبانی ووٹ پر اعتراض ہوتو اسپیکر کے لیے ضروری ہے کہ دوبارہ ووٹنگ کراتے،آخری وقت میں خود آپ کے ووٹ کو چیلنج کیا تھا،فنانس بل کی حتمی منظوری پر ووٹنگ نہیں کرائی گئی،فنانس بل کی حتمی منظور ی پر میں نے خود کھڑے ہوکر مطالبہ کیا،میرے مطالبے کے باوجود آپ نے ووٹنگ نہیں کرائی اور چلے گئے،آخری وقت تک سیشن میں آصف زرداری کو ایوان میں بٹھایا تھا،ہمارا رکن رشتہ دار کی فوتگی کے باوجود ایوان میں موجود تھے

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    فواد چودھری، تھپڑ کے بعد صحافیوں کو دھمکیاں، ،متنازعہ ترین بیانات،کیا واقعی کرائے کا ترجمان ہے؟

    پی ٹی وی کے پاس پرانے کیمرے، سپیئر پارٹس نہیں ملتے،قائمہ کمیٹی اجلاس میں انکشاف

    پی ٹی وی سپورٹس پر اینکرز کی دس دس گھنٹے کی تنقید ، قائمہ کمیٹی نے تجزیوں کو غیر معیاری قرار دے دیا

    فلم پالیسی کو بہت جلد عملی جامہ پہنایا جائے گا، قائمہ کمیٹی تعاون کرے گی: سینیٹر فیصل جاوید

    شہباز شریف نے خط لکھ کر مدد مانگ لی

    پارلیمنٹ سپریم، شہبازشریف گھٹنے نہ پکڑیں سیدھا راستہ پکڑیں، بابر اعوان

    فواد چودھری کو مشورہ ہے،اپنی وزارت کا نام وزارت پروپیگنڈا رکھ دیں، شازیہ مری

    آصف زرداری، خورشید شاہ اسمبلی پہنچ گئے، کیسا ہوا استقبال؟

  • سانحہ ساہیوال کا کیا بنا؟ بچوں کو مار دیا گیا، قاتلوں سے کوئی پوچھنے والا نہیں ؟جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    سانحہ ساہیوال کا کیا بنا؟ بچوں کو مار دیا گیا، قاتلوں سے کوئی پوچھنے والا نہیں ؟جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    سانحہ ساہیوال کا کیا بنا؟ بچوں کو مار دیا گیا، قاتلوں سے کوئی پوچھنے والا نہیں ؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت سے سانحہ ساہیوال سے متعلق جواب طلب کر لیا

    عدالت نے کہا کہ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سانحہ ساہیوال سے متعلق جواب جمع کرائیں سپریم کورٹ نے سانحہ ساہیوال قتل کیس کے ملزم پولیس کانسٹیبل کی ضمانت منظور کر لی ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سانحہ ساہیوال کا کیا بنا؟ بچوں کو مار دیا گیا، قاتلوں سے کوئی پوچھنے والا نہیں،ایک فون کال پر بے گناہ لوگوں کو مار دیا گیا،پنجاب حکومت اور پولیس کیا کر رہی ہے؟ عدالت نے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل سے سوال کیا کہ سانحہ ساہیوال سے متعلق پنجاب حکومت نے کیا کیا؟ سانحہ ساہیوال سے متعلق معلومات لیکر جواب جمع کرائیں،

    ایڈیشنل پراسکیوٹر جنرل نے عدالت میں جواب دیا کہ میرے خیال میں کیس ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے,

    واضح رہے کہ سی ٹی ڈی نے ساہیوال میں کارسواروں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا جس میں ایک فیملی سوار تھی ،کمسن بچوں کے سامنے ان کے والدین کو گولیاں ماری گئی تھیں،

    سانحہ ساہیوال پر برطرف آئی جی سی ٹی ڈی رائے طاہر کو صوبے کی اہم ذمہ داری مل گئی

    سانحہ ساہیوال کی جے آئی ٹی رپورٹ کو مقتول خیل کے بھائی نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سانحہ ساہیوال، عدالتی فیصلہ کے بعد وزیراعظم نے ایسا حکم دیا کہ سب دنگ رہ گئے

    سانحہ ساہیوال جے آئی ٹی رپورٹ غلط، جودییشیل کمیشن کیلئے درخواست دائر

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ جے آئی ٹی تحقیقات نے کیس کی شکل بدل دی، سانحہ ساہئوال کی تفتیش حقائق کو مدنظر رکھ کی نہیں کی گئی۔ جے آئی ٹی نے ویڈیوز سمیت دیگر شواہد ملحوظ خاطر نہیں رکھا، اہم گواہوں کو بھی زیر غور نہیں لایا گیا۔ سپریم کورٹ میں مقتول کے بھائی کی جانب سے دائر درخواست میں مزید کہا گیا کہ ا استعمال شاہد اسلحہ گولیوں کے خول قبضے میں نہیں لیے گئے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ آف پاکستان واقعے کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن قائم کرے۔

    واضح رہے کہ سانحہ ساہیوال، اے ٹی سی لاہور نے تمام ملزمان کو بری کرنے کا حکم دےدیا ،عدالت نے تمام ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دیا ،ملزمان کے وکلا کی سرکاری گواہوں کے بیانات پر جرح مکمل کی گئی

    سانحہ ساہیوال، وکلاء نے عدالت میں ایسا مطالبہ کیا کہ لواحقین پریشان ہو گئے

  • کبھی کوئی جارحانہ اراداہ نہیں تھا اور نہ ہے،بھارت کی جانب سے‌ ڈرون حملوں کے الزام پر وزیر خارجہ کا ردعمل

    کبھی کوئی جارحانہ اراداہ نہیں تھا اور نہ ہے،بھارت کی جانب سے‌ ڈرون حملوں کے الزام پر وزیر خارجہ کا ردعمل

    کبھی کوئی جارحانہ اراداہ نہیں تھا اور نہ ہے،بھارت کی جانب سے‌ ڈرون حملوں کے الزام پر وزیر خارجہ کا ردعمل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ دنیا کے سامنے پاکستان کی سوچ اوربھارت کی سوچ واضح ہوگئی،

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں مصالحانہ کردار سے واضح ہو گیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، ہم بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، بھارت نے خیر سگالی کا جواب 5اگست 2019 کے غیر آئینی اقدامات سے دیا، بھارت کی طرف سے یکطرفہ، غیر آئینی اقدامات سے کشیدگی نے جنم لیا،مقبوضہ کشمیر میں بگڑی ہوئی صورتحال کی ذمہ دار بھارت سرکار ہے،کشمیری قیادت جو ماضی میں دلی سرکار کا حصہ رہی وہ بھی ان اقدامات سے ناخوش ہے، بھارتی حکومت کی گزشتہ دنوں بلائی گئی بیٹھک ناکامی سے دوچار ہوئی،مقبوضہ کشمیر سے متعلق سفارتی محاذ پر ہماراموقف آج بھی واضح ہے،

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان کے حوالے سے آصف زرادی کا بیان میری نظر سے گزرا،افغانستان میں امن و استحکام چاہتے ہیں، ہم نے افغان فریقین کی معاونت کی، صدر بائیڈن بھی کہہ چکے ہیں کہ افغانستان کا مسئلہ افغانوں نے حل کرنا ہے، امریکہ ، چین ، روس یا دیگر علاقائی ممالک سب سہولت کاری کر سکتے ہیں اپنے تحفظ کے لیے ہمیں جو اقدامات اٹھانا پڑے ہم ضرور اٹھائیں گے،فیٹف کا تقاضا تھا کہ منی لانڈرنگ کو روکا جائے،وزیر اعظم عمران خان منی لانڈرنگ کا تدارک اور خاتمہ چاہتے ہیں،فیٹف تکنیکی فورم ہے سیاسی نہیں،بھارت اس کوسیاسی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے کچھ اندرونی اوربیرونی قوتیں پاکستان کے امن میں خلل ڈالنا چاہتی ہیں،کچھ اندرونی اور بیرونی قوتیں چاہتی ہیں پاکستان کی توجہ بٹی رہے ،

    جموں کشمیر میں بھارتی فضائیہ کے اڈے پر حملوں کے بعد اسکا الزام بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے جانے کے حوالہ سے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت کا پاکستان پر ڈرونز کا الزام بے بنیاد ہے ،اس وقت بھارت میں معاشی حالات بہت بگڑ چکے ہیں،پاکستان کا کبھی کوئی جارحانہ اراداہ نہیں تھا اور نہ ہے،

    واضح رہے کہ باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے جموں میں فضائیہ کے اڈے پر تین روز قبل حملہ ہوا تھا جسے ڈرون حملہ کہا گیا، واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں، بھارتی قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کی ٹیم نے جموں کے بھارتی فضائیہ کے اڈے کے دورہ کیا اور ہونے والے دو دھماکوں کی تحقیقات کیں، دھماکوں میں بھارتی فضاییہ کے دو جوان زخمی ہو گئے تھے جبکہ عمارت کو بھی نقصان پہنچا تھا

    بھارتی میڈیا کے مطابق تحقیقاتی ایجنسی کے ذرائع نے ابتدائی تحقیقات میں دعویٰ کیا ہے کہ دھماکہ خیز مادہ کو ڈرون سے گرایا گیا جس سے دھماکہ ہوا لیکن ابھی بھی سرکاری طور پر اسکی تصدیق نہیں ہو سکی، این آئی اے کے ایک افسر کا کہنا تھا کہ تحقیقات جاری ہیں جلد حقائق سامنے آ جائیں گے، پہلے دھماکے سے عمارت کو نقصان پہنچا اور دوسرا دھماکہ کھلے علاقے میں ہونے کی وجہ سے نقصان نہیں ہوا، البتہ بھارتی فضائیہ کے دو جوان زخمی ہوئے جن کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا

    بادلوں کی وجہ سے طیارے راڈار میں نہیں آتے، بھارتی آرمی چیف کی مودی کے بیان کی تصد

    بھارتی ائیر فورس نے مقبوضہ کشمیر کے سرینگر ائیر بیس کے سینئر ترین ائر آفیسر کمانڈر کا تبادلہ کر دیا

    اپنا ہیلی کاپٹر گرانے والے بھارتی آفیسر کے ساتھ بھارت نے کیا سلوک کیا؟

    پاکستان کو دھمکیاں دینے والے بھارت کا ہیلی کاپٹر کیسے تباہ ہوا؟ جان کر ہوں حیران

    بریکنگ.بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ، کیپٹن ہلاک

    بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ،پائلٹ ہلاک، رواں برس کتنے طیارے تباہ ہو چکے؟

    واقعہ کے بعد جموں میں ہائی سیکورٹی والے مقامات پر سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی اور بھارتی سیکورٹی اداروں کو مزید چوکس کر دیا گیا،واقعہ کے بعد بھارت کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بھارتی فضائیہ کے نائب سربراہ ایئر مارشل ایچ ایس اروڑہ سے بات کی ہے

    جموں و کشمیر کے ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے دھماکوں کو دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس ، فضائیہ اور دیگر ایجنسیاں حملے کی تحقیقات کررہی ہیں ۔ دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان سے تحقیقات جاری ہے ۔ اس ڈرون حملے کے بعد پٹھان کوٹ ، امبالہ ، اونتی پور سمیت دیگر مقامات پر سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے

    وہی ہوا جس کا تھا انتظار،مودی کی مکاری،ڈرون کا الزام پاکستان پر عائد