Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • تحریک لبیک  کے مارچ پر رات گئے کاروائی،سعد رضوی  کنٹینر سے گر کرزخمی

    تحریک لبیک کے مارچ پر رات گئے کاروائی،سعد رضوی کنٹینر سے گر کرزخمی

    مریدکے میں تحریک لبیک پاکستان کے احتجاجی مارچ کے خلاف پولیس نے رات گئے کاروائی کی ہے کارروائی کے دوران درجنوں زخمی ہو گئے ہیں، جب کہ تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی بھی کینیٹر سے چھلانگ لگانے کے دوران زخمی ہو گئے ہیں،

    ذرائع کے مطابق، رات تقریباً 3 بجے پولیس اور رینجرز نے مشترکہ آپریشن شروع کیا، جو صبح ساڑھے 7 بجے تک جاری رہا۔ آپریشن کا مقصد مریدکے کے قریب احتجاجی قافلے کو منتشر کرنا تھا، جو لاہور سے اسلام آباد کی جانب رواں دواں تھا،پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک کے کارکنان کی جانب سے مزاحمت کی گئی، جس دوران پتھراؤ، شیلنگ، اور فائرنگ کے واقعات پیش آئے۔مظاہرین کا مرکزی کنٹینر، جس پر ٹی ایل پی کی قیادت موجود تھی، آتشزدگی کا شکار ہو گیا، جب کہ متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق، حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان بیک ڈور مذاکرات ناکام ہونے کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔ مذاکرات میں راستے کھولنے اور احتجاج کے خاتمے پر کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔

    پنجاب اور اسلام آباد میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔ تمام اضلاع میں پولیس اور حساس اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے تاکہ کسی ممکنہ ردِعمل یا نئے احتجاج کو روکا جا سکے۔لاہور میں فیروز پور روڈ پر مظاہرین کی جانب سے احتجاج جاری ہے، جس کے باعث فیروزپور روڈ سے جنرل اسپتال تک دونوں اطراف ٹریفک معطل ہے۔تحریک لبیک پاکستان نے ملک بھر میں نئے احتجاجات اور سڑکوں کی بندش کی کال دے دی ہے۔

    دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں بند کی گئی تمام رابطہ سڑکوں کو کھول دیا گیا ہے جس کے بعد مری روڈ اور دیگر راستوں پر ٹریفک رواں دواں ہیں،راولپنڈی مری روڈ پر دکانیں اور تجارتی مراکز بھی کھل گئے تاہم مری روڈ سے فیض آباد جانے والا راستہ اور راولپنڈی ، اسلام آباد میٹرو بس سروس بھی بند ہے،ادھر آئی جی پی روڈ، ڈبل روڈ، ایکسپریس وے ٹریفک کیلئے بحال کردی گئی ہے جب کہ راولپنڈی سے ڈبل روڈ نائنتھ ایونیو راستہ کھول دیا گیا ہے،راولپنڈی اور اسلام آباد میں موبائل فون اور ڈیٹا سروسز بھی بحال کردی گئی ہے۔

    میں ٹھیک ہوں،ساتھی پرسکون رہیں اور میرے اگلے حکم کا انتظار کریں،سعد رضوی
    دوسری جانب اطلاعات کے مطابق سعد رضوی بالکل خیریت سے ہیں۔ انہیں نہ گولیاں لگی ہیں اور نہ ہی ان کی حالت تشویشناک ہے۔ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی تمام ایسی خبریں جھوٹی اور بے بنیاد ہیں۔ افواہوں پر یقین نہ کریں۔سعد رضوی کا آڈیو بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ سب ساتھیوں‌کو بتائیں میں ٹھیک ہوں، پرسکون رہیں اور میرے اگلے حکم کا انتظار کریں،جب تک میری ہدایات نہ آئیں کچھ نہ کریں، میں آگے کا لائحہ عمل دوں گا کہ آگے کیا کرنا ہے.

    https://x.com/_007HK/status/1977642047189434411

  • افغان طالبان اور خوارج کی بلااشتعال جارحیت،پاکستان کا  سخت ردعمل

    افغان طالبان اور خوارج کی بلااشتعال جارحیت،پاکستان کا سخت ردعمل

    پاکستان نے افغان طالبان، فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کی جانب سے پاک افغان سرحد پر بلااشتعال حملوں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی مزید اشتعال انگیزی کا ڈٹ کر اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔

    دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کو 11 اور 12 اکتوبر 2025 کی درمیانی شب پاک افغان سرحد پر ہونے والی جارحیت پر گہری تشویش ہے۔ ترجمان کے مطابق ایسے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان پرامن ہمسائیگی اور باہمی تعاون کے جذبے کے منافی ہیں۔ دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے حقِ دفاع استعمال کرتے ہوئے ان حملوں کو مؤثر انداز میں پسپا کیا اور طالبان فورسز سمیت منسلک خوارج کو افرادی، سامان اور ڈھانچے کے لحاظ سے بھاری نقصان پہنچایا۔

    ترجمان نے بتایا کہ طالبان اور خوارج کے استعمال میں آنے والے یہ ڈھانچے پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے مراکز کے طور پر استعمال کیے جا رہے تھے۔ پاکستان کی ہدفی کارروائیوں میں اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ شہریوں یا املاک کو نقصان نہ پہنچے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان مکالمے، سفارتکاری اور باہمی مفاد پر مبنی تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، تاہم حکومتِ پاکستان صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے علاقے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔ دفتر خارجہ نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ یقینی بنائے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

    شہباز شریف سے محسن نقوی کی ملاقات، امن و امان کی صورتحال پر غور

    سرحد کو خودمختار ریاست کی طرح ٹریٹ، امیگریشن لازمی ہونی چاہیے،خواجہ آصف

    بابر اعظم کےٹیسٹ چیمپئن شپ میں 3 ہزار رنز ،پہلے ایشیائی بلے باز بن گئے

    ارشد ندیم کے کوچ سلمان بٹ پر تاحیات پابندی لگ گئی

  • پاک فوج کے 23جوان شہید،29 زخمی،200 سے زائدطالبان،دہشتگرد ہلاک

    پاک فوج کے 23جوان شہید،29 زخمی،200 سے زائدطالبان،دہشتگرد ہلاک

    ترجمان پاک فوج نے کہا ہے کہ راتِ 11/12 اکتوبر 2025 کو افغان طالبان اور بھارتی سرپرستی یافتہ فتنہِ الخوارج نے بلاِ اشتعال حملہ پاکستان پر کیا، جو کہ پاک-افغان سرحد کے طویل حصے میں ہوا۔ اس بزدلانہ کارروائی کا مقصد سرحدی علاقوں کو عدم استحکام سے دوچار کرنا اور دہشت گردی کے لیے سازگار صورتِ حال پیدا کرنا تھا، یعنی فتنہ الخوارج کے مذموم مقاصد کو آگے بڑھانا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دفاعِ خود کے حق کا استعمال کرتے ہوئے، پاکستان کی چوکس مسلح افواج نے سرحد کے طول و عرض میں اس حملے کو فیصلہ کن انداز میں پسپا کیا اور طالبان فورسز اور متعلقہ خوارج کو بھاری جانی نقصان پہنچایا۔ عین مطابق اہداف پر فائرنگ اور حملے، نیز جسمانی چھاپے طالبان کیمپوں اور چوکیوں، دہشت گردی کی تربیتی سہولیات اور افغان علاقے سے چلنے والے معاون نیٹ ورکس کے خلاف کیے گئے، جن میں فتنہِ الخوارج ، فتنہِ ہندستان اور آئی ایس کے پی / داعش سے وابستہ عناصر شامل ہیں۔ ہر ممکن احتیاط برتی گئی تاکہ سائیڈ لائن ہونے والے نقصانات سے بچا جا سکے اور شہری جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ان بلا روک ٹوک کارروائیوں کے نتیجے میں سرحد بھر میں متعدد طالبان کے ٹھکانے تباہ کیے گئے؛ افغان جانب سرحد پر اکیس (21) دشمنی سے قابض مقامات کو مختصراً قبضہ کر کے غیر فعال کیا گیا اور کئی دہشت گرد تربیتی کیمپ، جو پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری کے لیے استعمال ہوتے تھے، کام سے معطل کر دیے گئے۔رات بھر کی جھڑپوں کے دوران 23 جوان شہید جبکہ 29 زخمی ہوئے، معتبر انٹیلی جنس اندازوں اور نقصان کے تخمینے کے مطابق طالبان اور منسلک دہشت گردوں کی تعداد دو سو (200) سے زائد ہے جو ہلاک ہوئے، جبکہ زخمیوں کی تعداد کہیں زیادہ بتائی جاتی ہے۔ طالبان چوکیوں، کیمپوں، ہیڈ کوارٹرز اور دہشت گردانہ معاون نیٹ ورکس کو پہنچنے والا بنیادی اور عملیاتی نقصان سرحد کے طویل حصے تک وسیع ہے۔

    ترجمان پاک فوج کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج اپنے عوام کی ارضی سالمیت، جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر گھڑی تیار اور مستعد ہیں۔ پاکستان کی ارضی سالمیت کے دفاع اور ان عناصر کو شکست دینے کے عزم میں کوئی لغزش نہیں آئے گی جو ہماری سلامتی کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔اگرچہ پاکستانی عوام تشدد اور جارحیت کے بجائے تعمیری سفارتکاری اور مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں، ہم افغان زمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال برداشت نہیں کریں گے۔ یہ سنگین اشتعال انگیزی طالبان کے وزیرِ خارجہ کے بھارت کے دورے کے دوران وقوع پذیر ہوئی جو خطے میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست سمجھا جاتا ہے۔ علاقائی امن و سلامتی کے مفاد میں ہم طالبان حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ فوری اور قابلِ تصدیق اقدامات اٹھائے تاکہ اپنی سرزمین سے چلنے والی فتنہ الخوارج، فتنہ ہندستان اور آئی ایس کے پی/داعش سمیت دہشت گرد تنظیموں کو غیر فعال کیا جائے۔ بصورتِ دیگر، پاکستان اپنے عوام کے دفاع کے حق کا استعمال جاری رکھے گا اور دہشت گرد اہداف کے مسلسل بے اثر کرنے کا عمل جاری رکھیگا۔ طالبان حکومت کو چاہیۓ کہ وہ کسی بھی بحران انگیز خیالات سے باز آئے اور افغان عوام کی فلاح، امن، امنگ اور ترقی کو ذمّہ داری کے ساتھ مقدم رکھے۔

    گزشتہ شب کا واقعہ پاکستان کے طویل عرصے سے قائم مؤقف کی تصدیق کرتا ہے کہ طالبان حکومت فعال طور پر دہشت گردوں کی معاونت کر رہی ہے۔ اگر طالبان حکومت، بھارت کے ساتھی بن کر، خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے قلیل المدتی مقاصد کے حصول کے لیے دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی جاری رکھتی ہے تو پاکستان کے عوام اور ریاست اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک افغانستان سے اٹھنے والے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ یقینی نہ بنایا گیا.

  • پاکستانی رد عمل کو پاکستان اور افغانستان کے عوام کے درمیان جنگ تصور نہ کیا جائے،سیکورٹی ذرائع

    پاکستانی رد عمل کو پاکستان اور افغانستان کے عوام کے درمیان جنگ تصور نہ کیا جائے،سیکورٹی ذرائع

    پاکستانی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان جارحیت پر پاکستانی رد عمل کو پاکستان اور افغانستان کے عوام کے درمیان جنگ تصور نہ کیا جائے، جوابی حملہ صرف دہشت گرد ٹھکانوں اور تربیتی مراکز پر ہوگا۔

    پاک افغان بارڈر پر افغانستان کی طرف سے بلا اشتعال فائرنگ کی گئی جس کا پاک فوج نے بھرپور جواب دیا، پاکستانی فورسزکی بھر پور جوابی کارروائی سے متعددافغان فوجی ہلاک ہوگئے، بھاری نقصانات کے باعث متعدد افغان پوسٹیں خالی ہو گئیں،سکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ افغان جارحیت اور پاکستانی ردعمل کو پاکستان اور افغانستان کے عوام کے درمیان جنگ نہ سمجھا جائے، جارحیت افغان عبوری حکومت،طالبان اورخوارج کی جانب سے مسلط کی گئی ہے،سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان جارحیت مبینہ طور پر بھارتی مالی معاونت سے کی جا رہی ہے، دہشت گرد عناصر پاکستان کے خلاف جنگ کو ہوا دے رہے ہیں،ذرائع کے مطابق پاکستان کا افغان عوام یا عوامی مقامات کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں، کارروائی افغانستان کے بھارت پرست شرپسند عناصر کے خلاف ہے۔

  • پاک فوج کی بھر پور جوابی کاروائی،19 افغان چیک پوسٹوں پر قبضہ،سبز ہلالی پرچم لہرا دیا

    پاک فوج کی بھر پور جوابی کاروائی،19 افغان چیک پوسٹوں پر قبضہ،سبز ہلالی پرچم لہرا دیا

    پاک افغان سرحد پر افغانستان کی جانب سے بلا اشتعال جارحیت کا بھرپور جواب دیتے ہوئے پاکستان نے افغان بارڈر پر 19 پوسٹوں پر قبضہ کر لیا۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز کی جانب سے افغانستان کی بلا اشتعال فائرنگ پر رات گئے سے بھرپور اور مؤثر جوابی حملہ جاری ہے۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے افغان بارڈر پر 19 پوسٹوں پر قبضہ کر لیا ہے ۔ ان پوسٹوں سے پاکستان پر حملے کیے جا رہے تھے۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ قبضہ شدہ افغان پوسٹوں پر آگ اور تباہی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔بیشترافغان طالبان پوسٹیں خالی چھوڑ کربھاگ چکےہیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان فورسز کے خلاف پاک فوج کی یہ بڑی اور اہم کامیابی ہے۔

    پاک فوج نے افغان طالبان کو اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیتے ہوئے ناصرف کئی چیک پوسٹوں کو مکمل تباہ کیا بلکہ افغان پوسٹوں پر پاکستان کا جھنڈا بھی لہرا دیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق چترال کے قریب سرحد پار افغانستان کی پوسٹ تباہ کی گئی جس میں آگ لگ گئی، پاک فوج کی جوابی کارروائی کے بعد افغان فوجیوں کو بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔پاک فوج کے بھرپور جواب سے افغان فوجی پوسٹ پر لاشیں چھوڑ کر فرار ہو گئے، ویڈیو میں پوسٹ پر آگ بھی لگی دیکھی جا سکتی ہے۔پاک فوج کے جوانوں نے افغان چیک پوسٹ پر قبضہ کرنے کے بعد اس پر پاکستان کا جھنڈا بھی لہرایا۔

    یاد رہے کہ پاک افغان بارڈر پر افغانستان کی طرف سے بلا اشتعال فائرنگ کی گئی جس کا پاک فوج نے بھرپور جواب دیا، پاکستانی فورسزکی بھر پور جوابی کارروائی سے متعددافغان فوجی ہلاک ہوگئے، بھاری نقصانات کے باعث متعدد افغان پوسٹیں خالی ہو گئیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان فورسز نے پاک افغان بارڈر پر انگور اڈا، باجوڑ،کرم، دیر، چترال، اور بارام چاہ کے مقامات پر بھی بِلا اشتعال فائرنگ کی۔

  • پاکستان نے افغانستان کی جنگ بندی کی درخواست مسترد کر دی

    پاکستان نے افغانستان کی جنگ بندی کی درخواست مسترد کر دی

    پاکستان نے افغانستان کی جنگ بندی کی درخواست مسترد کر دی ہے

    پاکستان نے جنگ بندی کی درخواست پر افغانستان کو کرارا جواب دے دیا۔افغانستان کو جنگ بندی کی درخواست پر کہا گیا کہ آپ نے ایک بزدلانہ حملہ کیا ہے اور اب یہ جنگ آپ کی مرضی سے نہیں رُکے گی۔ آپ نے اسے شروع کیا ہے، ختم کرنے کا حق ہمیں حاصل ہے اور ہم اس حق کا پورا استعمال کریں گے،واضح رہے کہ کچھ دیر پہلے افغانستان کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے بیان جاری کیا کہ انہوں نے رات بارہ بجے تک اپنی کارروائیاں بند کر دی ہیں اور اگر پاکستان نے مزید حملے نہ کیے تو وہ بھی مزید حملہ نہیں کریں گے۔

    پاک فوج نے افغانی دوران میلا اور ترکمانزئی کیمپس بھی تباہ کر دیے

    سعودیہ کے بعد قطر کی پاک افغان سرحدی کشیدگی پر اظہارِ تشویش

    پاک فوج نے برامچا سیکٹر میں افغانی شہیدان پوسٹ تباہ کر دی

  • پاکستان کامؤثر جوابی حملہ،افغان فورسزپوسٹیں چھوڑ کر فرار،لاشیں بھی چھوڑ گئے

    پاکستان کامؤثر جوابی حملہ،افغان فورسزپوسٹیں چھوڑ کر فرار،لاشیں بھی چھوڑ گئے

    پاک افغان سرحد پر افغانستان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کے بعد پاکستان آرمی نے مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان فورسز کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، افغانستان کی جانب سے سرحدی علاقے میں اچانک فائرنگ اور گولہ باری کی گئی، جس کے جواب میں پاک فوج نے انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں بھرپور اور مؤثر کارروائی کی۔ جوابی فائرنگ کے نتیجے میں افغان پوسٹوں کو شدید نقصان پہنچا اور کئی چوکیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔ذرائع کے مطابق، پاکستانی جوابی حملے سے افغان فورسز میں بوکھلاہٹ پھیل گئی اور متعدد پوسٹیں خالی کردی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق، کئی افغان اہلکار اپنی پوسٹوں پر لاشیں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

    سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے جوابی کارروائی اب بھی جاری ہے اور افغان جانب کو واضح طور پر بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ذرائع کے مطابق، افغانستان کی حکومت نے پاکستان سے رابطہ کرتے ہوئے جوابی فائرنگ روکنے کی درخواست کی ہے۔عسکری ذرائع کے مطابق، پاکستان کی مسلح افواج ملکی خودمختاری اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر قیمت پر تیار ہیں، اور کسی کو بھی ملکی سالمیت پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

  • سعودی عرب کی پاک افغان سرحدی کشیدگی پر تشویش، تحمل اور مذاکرات پر زور

    سعودی عرب کی پاک افغان سرحدی کشیدگی پر تشویش، تحمل اور مذاکرات پر زور

    سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی کشیدگی اور جھڑپوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک سے تحمل، صبر اور دانش مندی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

    سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مملکتِ سعودی عرب پاکستان اور افغانستان کی سرحدی علاقوں میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی اور جھڑپوں پر فکرمند ہے۔ ہم دونوں ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، حالات کو مزید بگاڑنے سے گریز کریں، اور تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور دانش مندانہ طرزِ عمل اپنائیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ خطے میں امن و استحکام کا قیام دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تصادم کی بجائے رابطے اور تعاون کو فروغ دیا جائے۔

    سعودی وزارتِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مملکت ہر اس علاقائی اور بین الاقوامی کوشش کی حمایت کرتی ہے جو خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے کی جا رہی ہیں۔سعودی عرب کی ہمیشہ یہی خواہش رہی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام امن، سلامتی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن رہیں۔ ہم امن کے قیام اور خطے میں استحکام کے لیے اپنے تعاون کو جاری رکھیں گے۔بیان کے آخر میں وزارتِ خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مملکت علاقائی سلامتی، باہمی احترام اور برادر ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

  • وطن کے دفاع کے لیے اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے  ہیں،سرحدی قبائل

    وطن کے دفاع کے لیے اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں،سرحدی قبائل

    سرحدی قبائل نے پ افغانستان کی طرف سے مبینہ طور پر کی جانے والی بلااشتعال فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور پاکستانی مسلح افواج کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا۔سرحدی علاقوں میں چھ مختلف فوجی پوسٹوں پر افغان فوجیوں نے فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی مدد سے بلا اشتعال فائرنگ کی،افغان عبوری حکومت کا رویہ باور کرتا ہے وہ بھارت اور فتنہ الخوارج کی سہولت کار بن چکی ہے

    قبائلی رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ وہ اپنے علاقے اور سرزمین کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں اور املاک قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ قبائل نے افغانستان کی سرحدی پوزیشن سے ہونے والی بلاجواز فائرنگ کو "قابلِ مذمت” قرار دیا اور اس کے خلاف سخت ردِعمل کا عندیہ دیا۔انہوں نے واضح کیا کہ وہ پاکستانی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور جب ضرورت ہوئی تو "اپنی جان و مال” سے وطن کا دفاع کریں گے۔بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ "ہم مل کر افغانوں کو سبق سکھائیں گے؛ یہ وطن ہمارا ہے اور اس کا دفاع ہمارا فرض ہے” جسے قبائلی رہنماؤں نے عوامی عزم کے طور پر دہرایا۔

    بارڈر پر موجود غیور قبائل نے افغانیوں کو دو ٹوک پیغام میں کہا کہ ہم افغانستان کی طرف سے بارڈر پر بلا اشتعال فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں،ہم اپنی افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور انشاللہ اپنی افواج کے ساتھ مل کر اپنے وطن کا دفاع کریں گے، پاکستان نے ایک طویل عرصے تک افغان مہاجرین کی میزبان کی کیا اس کا آج یہ صلہ دیا جا رہا ہے، ہم مل کر افغانیوں کو سبق سکھائیں گے یہ وطن ہمارا ہے اور اس کا دفاع ہمارا فرض ہے، پاکستان کی افواج ہمارے ماتھے کا جھومر اور اس کے شہداء ہمارا فخر ہیں،افغان مہمان بن کر آئینگے تو سر پر بٹھائیں گے، دشمن اور حملہ آور بن کر آئیں گے تو جواب گولی سے دیا جائیگا،

    واضح رہے کہ پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے،دونوں جانب سے سکیورٹی واقعات اور فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں،سرحدی قبائل کا یہ اعلان ایک واضح سیاسی و سماجی پیغام ہے وہ پاکستانی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں اور ضرورت پڑنے پر بہادری سے وطن کا دفاع کرنے کا عہد کررہے ہیں

    واضح رہے کہ پاکستان اس وقت افغانستان میں پاک افغان بارڈر کے قریب، موجود خوارج اور داعش کے دہشت گرد کیمپوں اور ہائیڈ اوٹس کو بھی انتہائی مہارت سے نشانہ بنا رہا ہے،افغان فورسز کئی علاقوں سے پسپائی اختیار کر چکی ہیں،پاکستان کی طرف سے مؤثر اور شدید جوابی کارروائی جاری ہے

  • پاکستان کی افغان وزیرِ خارجہ کے بھارت میں بیانات پر سخت مذمت

    پاکستان کی افغان وزیرِ خارجہ کے بھارت میں بیانات پر سخت مذمت

    دفترِ خارجہ نے افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے بھارت میں دیے گئے بیانات کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی پر قابو پانے کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے سے افغان حکام اپنے علاقائی امن کی ذمہ داریوں سے بری نہیں ہو سکتے۔

    واضح رہے کہ امیر خان متقی حال ہی میں بھارت کے دورے پر گئے تھے، جہاں انہوں نے پریس کانفرنس میں پاکستان پر دہشت گردی کے حوالے سے الزامات عائد کیے اور دعویٰ کیا کہ افغانستان میں کوئی دہشت گرد گروہ موجود نہیں۔ دفترِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے افغان نگران وزیرِ خارجہ کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر کے ٹھکانوں اور ان کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات کئی بار فراہم کی ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینا اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، جبکہ مشترکہ اعلامیہ کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کے لیے غیر حساس ہے۔

    دفترِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے چار دہائیوں سے لاکھوں افغان شہریوں کی میزبانی کی، تاہم اب افغانستان میں امن کی بحالی کے بعد غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی کا وقت آ گیا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان ایک پُرامن اور خوشحال افغانستان چاہتا ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔

    افغان فورسز کی بھارت کے اشارے پر سرحدی جارحیت،افغان وزیر خارجہ بھارت میں موجود

    پاک افغان فورسز میں جھڑپیں، دو افغان پوسٹیں تباہ ،پانچ اہلکار ہلاک

    آل پاکستان وکلا کنونشن، 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف متفقہ قرارداد منظور