Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر سارے پاکستان نے سراہا، بلاول

    سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر سارے پاکستان نے سراہا، بلاول

    پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ فوجی نہیں سیاسی طریقے سے حل کرنا ہو گا۔

    کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی شکایات اپنی جگہ ہیں، دہشت گردی کا مسئلہ سب سے بڑا مسئلہ ہے، بلوچستان کا حل سیاسی ہے، سیاسی اتفاق رائے سے ایسے فیصلے لینے پڑیں گے کہ عوام کا فائدہ ہو، ماضی میں بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیاب ہوئے ہیں،سیلاب سے پنجاب خصوصاً جنوبی پنجاب میں تاریخی نقصان ہوا ہے۔ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں بھی بہت نقصان ہوا ہے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے وفاقی حکومت متاثرہ علاقوں میں مدد فراہم کرے،متاثرہ لوگوں کو فوری ریلیف پہنچانے کے لیے بی آئی ایس پی واحد پروگرام ہے، بروقت عالمی اپیل کرتے تو متاثرین کی زیادہ مدد کر سکتے تھے، ایسا کیوں نہیں ہو رہا یہ ہم سے نہیں وفاق سے پوچھیں۔

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ وفاق انا کی وجہ سے یا پتہ نہیں کیوں یہ بات نہیں مان رہا، الیکشن میں ن لیگ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی پوری اونرشپ لے رہی تھی، اب یوٹرن لیا ہے تو ان سے پوچھا جائے، گندم کی امدادی قیمت کے لیے آئی ایم ایف سے بات کی جائے، سندھ میں گندم کے کاشتکاروں کو ہاری کارڈ کے ذریعے سپورٹ کریں گے، تاکہ گندم درآمد نہ کرنا پڑے، ملک بھر میں زرعی شعبے مشکل میں رہے ہیں، سیلاب کے بعد زرعی شعبہ بہت متاثر ہوا، سیلاب کے بعد فوڈ سیکیورٹی کے مسائل ہو سکتے ہیں، وزیراعظم سے درخواست کی تھی کہ زرعی اور موسمیاتی ایمرجنسی نافذ کی جائے، وزیراعظم کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے زرعی ایمرجنسی نافذ کی اور متاثرین کے بجلی کے بل معاف کیے،اگر وفاقی حکومت سپورٹ کرتی ہے تو مزید سہولت دے سکیں گے، اگر وفاقی حکومت یہ کرلے تو زرعی شعبے کو مزید فائدہ ہوگا، ٹیکس کی پالیسیوں پر بات چیت کی جائے تاکہ کسانوں کو ٹیکس ریلیف فراہم کیا جاسکے،سیلاب کے اثرات اب بھی جاری ہیں، سیلاب سے پنجاب میں تاریخی نقصان ہوا،پنجاب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ سیلاب متاثرین کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے، ملتان، لودھراں، بہاولپور میں آج بھی پانی ہے. قدرتی آفت میں معاونت کی ذمے داری ایک حکومت کی ذمے داری نہیں، قدرتی آفت کی صورت وفاق صف اول کا کردار ادا کرتی ہے، میں وفاق پر تنقید نہیں کر رہا، وفاق سے درخواست کر رہے ہیں کہ عالمی سطح پر بات کی جائے، مطالبات وفاقی حکومت سے ہی ہیں، وفاق کی ذمے داری ہے وہ بینظیر انکم سپورٹ کے ذریعے لوگوں کی مدد کرے۔ بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کے خلاف بیانات دینے والوں کو اس پروگرام کے بارے میں معلوم بھی نہیں ہو گا، مسلم لیگ نے پروگرام سے متعلق کوئی ترمیم یا ڈرافٹ نہیں دیا،سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر سارے پاکستان نے سراہا، معاہدے سے متعلق ان کیمرا بریفنگ بھی ہو گی، ملک کو ایک ایکسپورٹر ملک بنا دیا گیا ہے، میرے کزن کافی دیر سے سیاست میں متحرک رہے ہیں، انہیں ویلکم کرتے ہیں، ہمیشہ سے ان کے لیے نیک خواہشات رکھی ہیں، میری یا میری بہنوں کی طر ف سے ان کے خلاف کوئی بیان نہیں آیا۔

  • گردشی قرضے کے مسائل سے نمٹنا بہت بڑی کامیابی ہے،وزیراعظم

    گردشی قرضے کے مسائل سے نمٹنا بہت بڑی کامیابی ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہےکہ بجلی کے شعبے میں گردشی قرضہ تمام وسائل کو نگل رہا تھا ا س کے مسائل سے نمٹنا بہت بڑی کامیابی ہے۔

    نیویارک میں شعبہ توانائی کے گردشی قرضے کے خاتمے کے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ گردشی قرضہ تمام وسائل کو نگل رہا تھا اور یہ مسلسل بڑھتا جارہا تھا، گردشی قرضے کے مسائل سے نمٹنا بہت بڑی کامیابی ہے، وزیرتوانائی کی سربراہی میں ٹاسک فورس نے مستعدی سے کام کیا اور آئی پی پیز کے ساتھ کامیاب مذاکرات کیے، گردشی قرضے کا منصوبہ اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہے،بجلی کے شعبے میں لائن لاسز بھی ایک بڑا چیلنج ہے، اگلے مرحلے میں لائن لاسز کے مسئلے پر توجہ دی جائے،آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے اہم ملاقات ہوئی، انہوں نے پاکستان کی معاشی بہتری کی تعریف کی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرتوانائی اویس لغاری نے کہا کہ گردشی قرضے کی وجہ سے معیشت پربہت بوجھ ہے اور اس وجہ سے توانائی کا شعبہ متاثر ہورہا تھا، گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے اتفاق رائے سے لائحہ عمل وضع کیاگیا، گردشی قرضے کے خاتمے کی اسکیم شعبہ توانائی میں اصلاحات کا حصہ ہے، اسکیم کے تحت آئندہ 6 سال میں گردشی قرضے سے نجات حاصل ہوجائےگی۔

    اس موقع پر وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاور سیکٹر کے اسٹرکچرل مسائل حل ہورہے ہیں، گردشی قرضے کے خاتمے کے لیے ایک سال سے کوششیں جاری تھیں، گردشی قرضے کے خاتمے کی اسکیم اہم سنگ میل ہے، گردشی قرضے کے خاتمے کی توانائی کے شعبے پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے،

  • وزیراعظم شہباز شریف  سے   بل گیٹس کی  ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے بل گیٹس کی ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے بل گیٹس فاونڈیشن کے بانی بل گیٹس نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی 80 اجلاس کی سائیڈ لائن پر خوشگوار ماحول میں ملاقات کی۔

    وزیراعظم نےبل گیٹس فاؤنڈیشن کی طرف سے 2022 کے سیلاب کے پیش نظر قابل ذکر امدادی کاروائیوں کو یاد کرتے ہوۓ حالیہ 2025 کے سیلاب کے بعد دی جانے والی امداد کو بھی قابل تحسین قرار دیا۔ وزیراعظم نے پاکستان میں پولیو کے تدارک، قوت مدافعت اور غذائی معیار میں اضافہ، اور معاشی شمولیت کے لیے حکومتی اقدامات میں بل گیٹس فاؤنڈیشن کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔ مزید براں وزیراعظم نے پولیو کےمکمل تدارک کے حصول میں بل گیٹس فاؤنڈیشن کے مسلسل تعاون کی اہمیت پر خصوصی زور دیا۔ وزیراعظم نے حکومت کی طرف سے کی جانے والی جامع معاشی ریفارمز، ڈیجیٹلائزیشن میں بل گیٹس فاؤنڈیشن کی عملی اور مثبت تعاون کی خصوصی تعریف کی۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف اور بل گیٹس نے پاکستان کی معاشی و معاشرتی ترقی بالخصوص صحت، غذائی معیار و مدافعت میں اضافہ، معاشی شمولیت اور معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن جیسے اقدامات میں مشترکہ تعاون کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

  • پاک نیوی اہم سمندری تجارتی راہداریوں کی محافظ،آزادانہ بحری نقل و حمل کی ضامن ہے،نیول چیف

    پاک نیوی اہم سمندری تجارتی راہداریوں کی محافظ،آزادانہ بحری نقل و حمل کی ضامن ہے،نیول چیف

    ورلڈ میری ٹائم ڈے کے موقع پر پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے پیغام میں کہا ہے کہ ورلڈ میری ٹائم ڈے 25 ستمبر 2025 کو منایا جا رہا ہے۔ یہ دن ہر سال ستمبر کی آخری جمعرات کو منایا جاتا ہے۔ میں اس موقع پر عالمی میری ٹائم برادری کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ آج کا دن خاص طور پر پاکستانی ملاحوں، میری ٹائم ماہرین اور ساحلی مکینوں کے نام ہے جن کا پختہ عزم اور انتھک محنت ہماری قومی معیشت اور عالمی رابطہ کاری کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ چیلنجز سے بھرپور حالات میں اُن کی بیش قیمت خدمات نہ صرف کلیدی اہمیت رکھتی ہیں بلکہ پاکستان کی معیشت کی ترقی اور استحکام کے لیے بھی نہایت ضروری ہیں۔

    ایڈمرل نوید اشرف کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن نے اس سال ورلڈ میری ٹائم ڈے کے لیے "ہمارا سمندر، ہماری ذمہ داری، ہمارا موقع” کے موضوع کا انتخاب کیا ہے۔ یہ موضوع اپنے اندر گہرے معنی سموئے ہوئے ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارے کرۂ ارض کے دو تہائی سے زائد حصے پر محیط سمندر نہ صرف دنیا کو آپس میں جوڑتے ہیں بلکہ انسانیت، پائیدار روزگار، عالمی تجارت کے فروغ، ماحولیاتی توازن کے قیام اور خوراک و توانائی کی فراہمی کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔ ان لامحدود فوائد کے سبب ہم پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ موجودہ اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے ہم سمندروں کی حفاظت کریں، انہیں محفوظ بنائیں اور ان سے پائیدار فائدہ اُٹھائیں،پاکستان کے لیے سمندر غیر معمولی دفاعی، اقتصادی اور ترقیاتی اہمیت رکھتے ہیں۔ ہماری ساحلی پٹی اور ایکسکلوزیو ایکونومک زون (EEZ) ماہی گیری، سمندری تجارت اور توانائی کے ذریعے اقتصادی ترقی کے لیے بے مثال مواقع فراہم کرتے ہیں جو درحقیقت بحری معیشت کا حصہ ہیں۔ ہم پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم میری ٹائم ماحول کی حفاظت کریں اور صحت مندانہ و محفوظ بحری سرگرمیوں کو یقینی بنائیں۔

    ایڈمرل نوید اشرف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نیوی اِن مقاصد کے حصول، میری ٹائم سیکیورٹی کو یقینی بنانے اور شمالی بحیرۂ عرب میں مسلسل نگرانی کے ذریعے علاقائی امن کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔ پاکستان نیوی عالمی شراکت داری، انسانی امدادی کارروائیوں اور ناگہانی صورتِ حال میں امدادی آپریشنز میں بھی مؤثر انداز سے حصہ لیتی ہے۔ مزید برآں، پاکستان نیوی اہم سمندری تجارتی راہداریوں کی محافظ اور آزادانہ بحری نقل و حمل کی ضامن ہے،پاکستان نیوی بیک وقت قومی شراکت داروں کے ساتھ اشتراک قائم کرتی ہے تاکہ میری ٹائم شعور کو فروغ دیا جائے اور میری ٹائم سیکٹر کی پائیدار ترقی کو آگے بڑھایا جائے۔ پاک بحریہ سمندری وسائل سے فائدہ اُٹھانے والے ایک خوشحال پاکستان کے تصور کو عملی جامہ پہنانے میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ سمندر میں تحفظ اور سلامتی یقینی بنانے، دوست ممالک کے ساتھ تعاون اور اقتصادی ترقی کے لیے پاکستان نیوی کی ذمہ داریاں اس کے اس اہم کردار کو اجاگر کرتی ہیں جو نہ صرف پاکستان کے خوشحال میری ٹائم مستقبل کی تشکیل کے لیے ضروری ہے بلکہ خطے میں میری ٹائم قوانین کی بالادستی کے لیے بھی ناگزیر ہے،ورلڈ میری ٹائم ڈے کے موقع پر میں انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے محفوظ، مستحکم اور سمندروں کے ماحول دوست استعمال کے وژن کے ساتھ پاکستان نیوی کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتا ہوں۔ قومی میری ٹائم مقاصد کی روشنی میں ہم سمندر میں امن و امان اور استحکام کے قیام کے لیے تعمیری کردار ادا کرتے رہیں گے۔ اللہ کرے یہ دن ہم سب کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی ترغیب دلائے اور اُن مواقع سے فائدہ اُٹھانے کی توفیق عطا فرمائے جو قابلِ اعتماد، دیرپا اور خوشحال مستقبل کے لیے سمندر ہمیں عطا کرتا ہے۔

  • مسلم رہنماؤں اور ٹرمپ کی ملاقات: غزہ میں جنگ کے فوری خاتمے پر زور

    مسلم رہنماؤں اور ٹرمپ کی ملاقات: غزہ میں جنگ کے فوری خاتمے پر زور

    اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہائی لیول ویک کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور متعدد عرب و مسلم رہنماؤں کے اجلاس میں شریک رہنماؤں نے غزہ میں جاری جنگ کے فوری خاتمے پر زور دیا۔

    اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ رہنماؤں نے صدر ٹرمپ سے اپیل کی کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے جنگ بند کروانے میں کلیدی کردار ادا کریں؛ اعلامیے میں غزہ میں جبری بے دخلی ناقابل قبول قرار دی گئی اور انسانی بحران کی سنگینی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ سیاسی ذرائع اور رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اجلاس میں غزہ کے بحران کے حل کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا اور رہنماؤں نے امریکی کردار کو سراہا جبکہ ایک عارضی/فوری جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی جیسے نکات پر بات چیت ہوئی۔

    اجلاس کی کوریج میں عالمی خبر رساں ایجنسیاں اور خطے کی حکومتیں اس توقع کا اظہار کر رہی ہیں کہ ان ملاقاتوں سے فوری انسانی امداد کے بہاؤ اور جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھ سکتا ہے، تاہم تفصیلی کوئی نگران یا باضابطہ معاہدہ فوری طور پر سامنے نہیں آیا۔

    ٹرمپ سے مسلم سربراہان کی ملاقات شاندار ، نتائج چند دن میں آئیں گے: خواجہ آصف

    پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے،شہباز شریف

    امریکی بحری جہاز یو ایس ایس وین ای میئر کراچی پہنچ گیا

    انڈونیشیا کی غزہ، سوڈان اور یوکرین میں 20 ہزار فوجی بھیجنے کی پیشکش

  • ٹرمپ سے مسلم سربراہان کی ملاقات شاندار ، نتائج چند دن میں آئیں گے: خواجہ آصف

    ٹرمپ سے مسلم سربراہان کی ملاقات شاندار ، نتائج چند دن میں آئیں گے: خواجہ آصف

    وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مسلم ممالک کے سربراہان کی ملاقات شاندار رہی، اور ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ملاقات کے حوالے سے حوصلہ افزا بیان دیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کے رہنماؤں نے امریکی صدر کو غزہ مسئلے کا حل تجویز کیا ہے۔تجاویز کی تفصیلات فی الحال نہیں بتا سکتا، مگر اس مسئلے کے حل کا بیج ضرور بو دیا گیا ہے۔میری اطلاعات کے مطابق اس معاملے کے نتائج 5 سے 10 دن میں سامنے آئیں گے۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک پر اسرائیل کو لگام ڈالنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔یورپ اور مغرب میں لاکھوں لوگ احتجاج کر رہے ہیں کہ اسرائیل کی منہ زوری کو روکا جائے۔اٹلی کی حکومت نے احتجاج روکنے کی کوشش کی تو مزید عوام باہر نکل آئے اور تشدد بڑھ گیا۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا تاریخ میں تاریک کردار ہے اور لوگ اسے ہٹلر سے تشبیہ دے رہے ہیں۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ صدر ٹرمپ غزہ تنازع کے حل کے خواہاں ہیں، لیکن امریکا کا عوامی بیانیہ اسرائیل کے حق میں ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ مسلم ممالک ضامن بن کر اس تباہی کو روکیں۔آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ دنوں میں بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا ہے، افواج پاکستان کی کامیابیاں، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ، قطر کا دورہ اور اسلامی سربراہی اجلاس میں مؤقف پیش کرنے سے پاکستان کو منفرد شناخت ملی ہے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ نیویارک میں وزیراعظم شہباز شریف کو عالمی رہنماؤں سے پرتپاک استقبال مل رہا ہے، جس سے پاکستان کا سفارتی کردار مزید اجاگر ہوا ہے۔

    پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے،شہباز شریف

    امریکی بحری جہاز یو ایس ایس وین ای میئر کراچی پہنچ گیا

    اسحاق ڈار کی جی77 اور چین کے وزارتی اجلاس میں شرکت

    مہاتیر محمدپاکستان سےتعلقات مزید مضبوط بنانے کے خواہشمند

  • پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے،شہباز شریف

    پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے،شہباز شریف

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے، گرین ہاؤس گیسز میں کمی کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور متبادل توانائی و گرین انرجی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق سمٹ سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت میرے اہل وطن مون سون بارشوں سے شدید متاثر ہیں۔2022 کے تباہ کن سیلاب میں پاکستان کو 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا۔عالمی سطح پر کاربن گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن اس کے باوجود ہم عملی اقدامات کر رہے ہیں۔

    قبل ازیں، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ عالمی درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری کمی کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔موسمیاتی تبدیلیوں سے سماجی اور معاشی چیلنجز بڑھ رہے ہیں۔وعدوں پر عملدرآمد اور متبادل توانائی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    اسحاق ڈار کی جی77 اور چین کے وزارتی اجلاس میں شرکت

    امریکی بحری جہاز یو ایس ایس وین ای میئر کراچی پہنچ گیا

    انڈونیشیا کی غزہ، سوڈان اور یوکرین میں 20 ہزار فوجی بھیجنے کی پیشکش

    مہاتیر محمدپاکستان سےتعلقات مزید مضبوط بنانے کے خواہشمند

  • انجینئر محمد علی مرزا کو سزا دی جائے ،اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش

    انجینئر محمد علی مرزا کو سزا دی جائے ،اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش

    اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنےاجلاس میں انجینئر محمد علی مرزا کو سزا سنانے کی سفارش کر دی

    اسلامی نظریاتی کونسل کا اجلاس ہوا، اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ کونسل نے دیت کے قانون میں پیش کردہ ترمیمی بل سے اتفاق نہیں کیا۔ کونسل کی رائے ہے کہ دیت کی شرعی مقداریں یعنی سونا، چاندی اور اونٹ قانون میں شامل رہیں، جبکہ بل میں چاندی کو حذف اور سونے کی غیر شرعی مقدار کو معیار بنایا گیا ہے۔
    شوگر کے لیے خنزیر کے اجزا پر مشتمل انسولین کا معاملہ زیربحث آیا۔ کونسل نے قرار دیا کہ جب حلال اجزا والی انسولین دستیاب ہے تو خنزیر کے اجزا پر مشتمل انسولین سے پرہیز کیا جائے۔ توہینِ مقدسات کے پس منظر میں یہ طے پایا کہ شہادت کے لیے رکھے گئے وہ نسخے قرآن کریم، جن پر غلاظت کے اجزا لگے ہوں، شہادت ریکارڈ ہونے کے فوراً بعد پاک کیے جائیں اور اس مقصد کے لیے مناسب قانون سازی کی جائے۔ کونسل نے رقم نکالنے یا منتقل کرنے پر لگنے والے ودہولڈنگ ٹیکس کو زیادتی قرار دیتے ہوئے غیر شرعی قرار دیا۔ کونسل نے قرار دیا کہ انسانی دودھ کے ذخیرہ کرنے والے ادارے مخصوص شرائط کے تحت قائم ہو سکتے ہیں، لیکن مفاسد سے بچاؤ کے لیے پہلے لازمی قانون سازی کی جائے اور اس میں کونسل کو شامل کیا جائے۔

    اسلامی نظریاتی کونسل نے 11 ستمبر 2025ء کے سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غیر مدخولہ عورت کو طلاق کی صورت میں عدت اور نفقہ لازم قرار دینا قرآن و سنت کے خلاف ہے، وزارتِ مذہبی امور کے استفسار پر اتفاق ہوا کہ ایک رنگ ٹون تیار کی جائے جس میں شہریوں کو ہدایت دی جائے کہ ماہِ ربیع الاول میں مقدس کلمات و تحریرات والے بینرز، جھنڈوں اور جھنڈیوں کا ادب کریں اور ان کی بے حرمتی سے بچیں۔

    کونسل نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے مراسلہ بابت مرزا محمد علی انجینئر پر عائد ایف آئی آر توہین رسالت کا جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کیا۔

    اجلاس کی صدارت چیئرمین، اسلامی نظریاتی کونسل، علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی نے کی جبکہ معزز اراکین کونسل جناب جسٹس (ر) ظفر اقبال چوہدری، جناب ڈاکٹر عبد الغفور راشد، جناب صاحبزادہ پیر خالد سلطان قادری، جناب محمد جلال الدین، ایڈووکیٹ،، جناب علامہ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، جناب ملک اللہ بخش کلیار، جناب جسٹس (ر) الطاف ابراہیم حسین قریشی، جناب مولانا پیر شمس الرحمٰن مشہدی، جناب علامہ محمد یوسف اعوان، جناب علامہ سید افتخار حسین نقوی، جناب پروفیسر ڈاکٹر مفتی انتخاب احمد، جناب علامہ رانا محمد شفیق خان پسروری، جناب صاحبزادہ سید سعید الحسن شاہ، جناب صاحبزادہ حافظ محمد امجد، محترمہ فریده رحیم اور جناب بیرسٹر سید عتیق الرحمٰن شاہ بخاری نے اجلاس میں شرکت کی۔

    اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے ۲۴۳ویں اجلاس مورخہ۲۴ ستمبر،۲۰۲۵ کے ضمنی ایجنڈا آئٹم نمبر ۲ پر بحث کرتے ہوئے، مرزا محمد علی انجینئر کے خلاف درج ایف آئی آر کے حوالے سے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) راولپنڈی کے مراسلے پر غور کیا۔ شرعی اصول و ضوابط کی وضاحت اور تفصیلی غور و فکر کے بعد کونسل نے ابتدائی طور پر درج ذیل فیصلہ کیا۔ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ قرآن و سنت میں بھی بعض کفریہ الفاظ نقل ہوئے ہیں، مگر یہ بات ادھوری پیش کی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ان تمام مقامات کو دیکھا جائے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں ان الفاظ کو بطور ردّ، انکار اور سخت تنبیہ کے ذکر کیا گیا ہے، نہ کہ کسی تائید کے طور پر۔ شرعی اصول یہ ہے کہ کفر کے الفاظ صرف اس وقت نقل کیے جا سکتے ہیں جب ان کا مقصد کوئی جائز دینی ضرورت ہو، مثلاً شہادت، باطل کی تردید، تعلیم یا تنبیہ وغىرہ۔ بلا ضرورت ایسے کلمات دہرانا ناجائز اور بعض صورتوں میں سخت گناہ ہے۔ خصوصاً جب معاملہ حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو تو کسی شرعی مقصد کے بغیر توہین آمیز جملے نقل کرنے کی قطعاً اجازت نہیں۔ مرزا محمد علی انجینئر کے کئی بیانات میں ایسے جملے موجود ہیں جو محض نقلِ کفر پر مشتمل ہیں مگر کسی شرعی مقصد کے بغیر کہے گئے ہیں۔ اس بنا پر ان کا یہ طرزِ عمل سخت تعزیری سزا کا مستحق ہے، اور چونکہ یہ عمل انہوں نے بارہا دہرایا ہے، اس لیے ان کا جرم مزید سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ مرزامحمدعلی انجینئركے ایك كلپ كےٹرانسكرپٹ میں درج ہے’’۔۔۔۔لیكن قرآ ن مجھے اجازت دے رہا ہے كہ میں اس كی عورت كے ساتھ شادی كرسكتا ہوں اگر وہ كسی christanكی بیٹی ہے سورہ مائدہ كی آیت نمبر۵۔كس عورت كےساتھ؟جومیرے نبی كودجال سمجھتی ہے۔۔۔‘‘مرزا انجنىئر كی طرف سےیہ قرآن كریم پر بھی اتہام ہے اور معنوى تحرىف بھى ہے،قرآن كریم كی محولہ بالا آیت میں ایسا كچھ نہیں ہے،حوالہ كے لئے آیت كا ترجمہ یہاں پیش كیاجاتا ہے:
    (آج تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں، اور ان لوگوں کا ذبیحہ (بھی) جنہیں (اِلہامی) کتاب دی گئی تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے، اور (اسی طرح) پاک دامن مسلمان عورتیں اور ان لوگوں میں سے پاک دامن عورتیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی (تمہارے لئے حلال ہیں) جب کہ تم انہیں ان کے مَہر ادا کر دو، (مگر شرط) یہ کہ تم (انہیں) قیدِ نکاح میں لانے والے (عفت شعار) بنو نہ کہ (محض ہوس رانی کی خاطر) اِعلانیہ بدکاری کرنے والے اور نہ خفیہ آشنائی کرنے والے، اور جو شخص (اَحکامِ الٰہی پر) ایمان (لانے) سے انکار کرے تو اس کا سارا عمل برباد ہوگیا اور وہ آخرت میں (بھی) نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔)

    محولہ بالا آیت کے حوالے سے اس کے بیان کی خط كشىدہ عبارت اس کے ذاتی الفاظ ہیں جو اس آیت میں کہیں موجود نہیں ہىں، اس لیے مرزا انجینئر کا یہ بیان قرآن کی توہین اور معنوى تحریف کے زمرے میں بھی آتا ہے اور توہین رسالت كو بھى مستلزم ہے ۔ لہٰذا اس پر عائد دفعات میں توہینِ قرآن کی دفعہ بھی شامل کی جائے۔ كونسل نے ملاحظہ كیا كہ نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) كےآفیسرکی طرف سے دفترِ کونسل کو بھیجا گیا مراسلہ جانب داری کا تاثر دیتا ہے، کیونکہ مدعى كى کی طرف سے اپنے موقف كے حق مىں جمع کىا گىا تحریری مواد اور فتاویٰ اس کے ساتھ نہیں لگائے گئے۔ جبكہ صرف مرزا انجنىئر کےحق مىں دیئے گئے فتاوىٰ مہىا کیے گئے ہىں۔ کسی بھی طرح کسی تفتیشی ادارے كو کسی ملزم یا مدعی کا یکطرفہ موقف رائے حاصل كرنے کے لئے پاش نہیں کرنا چاہئے، مرزا انجنىئر كا ىہ بىان فساد فى الارض كو پھىلانے كا باعث ہے۔ اسی لئےپاکستان کی مسیحی برادری کو ایک مراسلہ بھیجا جائے گا کہ وہ تحریری طور پر واضح کریں کہ مرزا محمد علی انجینئر نے شانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو الفاظ کہے ہیں، کیا ان كى مقدس كتابوں مىں اور اجتماعى طور پر ان كى ىہ رائے ہے كہ نہىں ؟ ان کے جواب کے بعد ہی تفصیلی فیصلہ مرتب کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران عیسائی برادری کے فادر جے ایم چنن کا وائس میسج سنایا گیا، جس میں انہوں نے اس بات کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ ایسا کوئی لفظ ہمارے ہاں موجود نہیں اور اسى طرح پاكستان میں اہم ترین مسیحی قائدین بھی اس بات كو اپنے اوپر تہمت قرار دیتے ہیں

  • ٹرمپ کی زیر صدارت مسلم ممالک سربراہان اجلاس،وزیراعظم شہباز کی شرکت

    ٹرمپ کی زیر صدارت مسلم ممالک سربراہان اجلاس،وزیراعظم شہباز کی شرکت

    نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہائی لیول ویک کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرِ صدارت منتخب مسلم ممالک کے سربراہان کے ساتھ ایک اہم ملاقات ہوئی جس کا مرکزی محور غزہ میں جاری جنگ کا خاتمہ اور اسرائیلی مغویوں کی رہائی تھا۔ اس موقع پر اسلامی ممالک کے سربراہان نے امریکا سے کہا کہ وہ غزہ میں جنگ ختم کروانے اور عوام کو مشکلات سے نکالنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

    اس اجلاس میں پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار بھی شریک تھے۔ جب کہ ترکیہ، قطر، سعودی عرب، انڈونیشیا، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ٹرمپ کی اسلامی ممالک کے سربراہان سے ہوئی اس ملاقات کا مقصد غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کے مـجوزہ منصوے کے بارے میں منتخب اسلامی ممالک کو آگاہ کرنا تھا۔ملاقات کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں اور اُمید ظاہر کی کہ یہ باہمی ملاقات کامیاب ثابت ہو گی،مشرِقِ وسطیٰ میں جنگ کے بغیر زندگی کتنی خوبصورت ہو گی، انہوں نے اسلامی ممالک کے سربراہان سے گفتگو کو اعزاز قرار دیتے ہوئے شرکا کی کوششوں کو سراہا۔

    ملاقات سے قبل امیرِ قطر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اس اجلاس کا مقصد غزہ میں جنگ کا خاتمہ اور اسرائیلی مغویوں کی رہائی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ غزہ میں جنگ ختم کروانے کے لیے امریکا اُن کے ساتھ ہے،جس کے جواب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم اسرائیلی مغویوں کی رہائی چاہتے ہیں اور دنیا میں کوئی بھی یہ نہیں کروا سکتا سوائے اس گروپ کے (منتخب اسلامی ممالک) اس لیے یہ ملاقات اُن کے لیے بھی ایک عزاز ہے۔ ’آج کے دن میری 32 ملاقاتیں ہیں مگر یہ سب سے اہم ملاقات ہے‘، کیونکہ اس کا مقصد غزہ کی جنگ کا حل تلاش کرنا اور یرغمالیوں کی واپسی کا عمل تیز کرنا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ کے فورم پر بھی غزہ کے مسئلے کے حل کے لیے بین الاقوامی دباؤ کی ضرورت کا ذکر کیا اور کہا کہ طاقتور ممالک کو فریقین پر اثر انداز ہونے کی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔

    اسی مناسبت سے فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے بھی ایک علیحدہ موقع پر کہا کہ اگر صدر ٹرمپ واقعی نوبیل امن انعام کے لیے اہل ثابت ہونا چاہتے ہیں تو اُنہیں غزہ جنگ ختم کروانے کے لیے عملی دباؤ ڈالنا ہوگا۔ میکرون کا اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ امن کے قابلِ قدر کارنامے عملی اقدامات مانگتے ہیں جن میں فریقین پر اثر اندازی اور ہتھیاروں کی رسد کو محدود کرنا شامل ہے۔

    اس اجلاس کے بعد شریک اسلامی ممالک نے امریکا سے اپیل کی کہ وہ غزہ میں فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی میں اپنا موثر کردار ادا کرے تاکہ متاثرہ عوام کو فوری راحت پہنچے اور یرغمالیوں کی بازیابی کا عمل تیز کیا جا سکے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عرب اسلامی سربراہی اجلاس کے اختتام پر وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی،امریکی صدر اور وزیر اعظم شہباز شریف کے مابین خوشگوار ماحول میں غیر رسمی گفتگو ہوئی، دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کیا، اس ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی امریکی صدر سے 25 ستمبر کو ون آن ون ملاقات کا بھی امکان ہے۔

  • مسئلہ کشمیرحل ہوئے بغیرخطے میں امن ممکن نہیں، او آئی سی اجلاس

    مسئلہ کشمیرحل ہوئے بغیرخطے میں امن ممکن نہیں، او آئی سی اجلاس

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کےموقع پر او آئی سی کانٹیکٹ گروپ کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

    ترجمان دفترخارجہ شفقت علی خان کے مطابق اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کا اجلاس ہوا جس کی صدارت او آئی سی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے سیاسی امور یوسف ایم نے کی جب کہ اجلاس میں رابطہ گروپ کے رکن ممالک پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، نائیجر اور آذربائیجان شریک ہوئے۔دفتر خارجہ کے ترجمان کا بتانا ہے کہ کشمیری عوام کے حقیقی نمائندوں کا ایک وفد بھی اجلاس میں شامل تھا، اجلاس میں مقبوضہ علاقے میں بگڑتی انسانی حقوق کی صورتحال پرغورکیاگیا،اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی خارجہ امور طارق فاطمی نے بھارت کی غیرقانونی قبضہ مضبوط کرنے ، ظالمانہ قوانین، جبر اور آبادیاتی تبدیلیوں کی کوششوں کی مذمت کی اور کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار استحکام جموں و کشمیر کے تنازعے کےحل سے مشروط ہے،طارق فاطمی نے او آئی سی سے بھارتی جبر کےخاتمے، سیاسی قیدیوں کی رہائی کیلئے دباؤ ڈالنے پر بھی زور دیا۔

    ترجمان دفترخارجہ کے مطابق اجلاس میں اوآئی سی وزرائےخارجہ کی جانب سے کشمیری عوام کےحقِ خودارادیت کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان اورآزادکشمیرمیں بھارتی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا،دوران اجلاس اوآئی سی نے حالیہ جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اورثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پہلگام حملےکے بعد کے واقعات سے واضح ہےکہ مسئلہ کشمیرحل ہوئے بغیرخطے میں امن ممکن نہیں، بھارتی رہنماؤں کے غیرذمہ دارانہ بیانات علاقائی امن کیلئے خطرہ ہیں، او آئی سی کی جانب سے مقبوضہ کشمیرمیں کریک ڈاؤن، 2800 گرفتاریوں،گھروں کی مسماری ، کشمیری رہنما شبیرشاہ کی بیماری کے باوجودرہائی نہ دینے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ۔

    دوران اجلاس اوآئی سی نے ہزاروں سیاسی کارکنوں اورانسانی حقوق کے محافظوں کی گرفتاریوں سمیت سری نگر جامع مسجد اورعیدگاہ میں مذہبی اجتماعات پرپابندی کی بھی مذمت کی،اوآئی سی نے 5 اگست 2019 کےبھارتی اقدامات اورآبادیاتی تبدیلیوں کو مستردکرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی انتخابات حقِ خودارادیت کا متبادل نہیں ہوسکتے،اس کے علاوہ اوآئی سی نے سیکرٹری جنرل کے خصوصی ایلچی کے دورہ پاکستان اور آزاد کشمیر کا خیرمقدم کیا۔