Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ٹرمپ کی زیر صدارت مسلم ممالک سربراہان اجلاس،وزیراعظم شہباز کی شرکت

    ٹرمپ کی زیر صدارت مسلم ممالک سربراہان اجلاس،وزیراعظم شہباز کی شرکت

    نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہائی لیول ویک کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرِ صدارت منتخب مسلم ممالک کے سربراہان کے ساتھ ایک اہم ملاقات ہوئی جس کا مرکزی محور غزہ میں جاری جنگ کا خاتمہ اور اسرائیلی مغویوں کی رہائی تھا۔ اس موقع پر اسلامی ممالک کے سربراہان نے امریکا سے کہا کہ وہ غزہ میں جنگ ختم کروانے اور عوام کو مشکلات سے نکالنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

    اس اجلاس میں پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار بھی شریک تھے۔ جب کہ ترکیہ، قطر، سعودی عرب، انڈونیشیا، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ٹرمپ کی اسلامی ممالک کے سربراہان سے ہوئی اس ملاقات کا مقصد غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کے مـجوزہ منصوے کے بارے میں منتخب اسلامی ممالک کو آگاہ کرنا تھا۔ملاقات کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں اور اُمید ظاہر کی کہ یہ باہمی ملاقات کامیاب ثابت ہو گی،مشرِقِ وسطیٰ میں جنگ کے بغیر زندگی کتنی خوبصورت ہو گی، انہوں نے اسلامی ممالک کے سربراہان سے گفتگو کو اعزاز قرار دیتے ہوئے شرکا کی کوششوں کو سراہا۔

    ملاقات سے قبل امیرِ قطر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اس اجلاس کا مقصد غزہ میں جنگ کا خاتمہ اور اسرائیلی مغویوں کی رہائی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ غزہ میں جنگ ختم کروانے کے لیے امریکا اُن کے ساتھ ہے،جس کے جواب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم اسرائیلی مغویوں کی رہائی چاہتے ہیں اور دنیا میں کوئی بھی یہ نہیں کروا سکتا سوائے اس گروپ کے (منتخب اسلامی ممالک) اس لیے یہ ملاقات اُن کے لیے بھی ایک عزاز ہے۔ ’آج کے دن میری 32 ملاقاتیں ہیں مگر یہ سب سے اہم ملاقات ہے‘، کیونکہ اس کا مقصد غزہ کی جنگ کا حل تلاش کرنا اور یرغمالیوں کی واپسی کا عمل تیز کرنا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ کے فورم پر بھی غزہ کے مسئلے کے حل کے لیے بین الاقوامی دباؤ کی ضرورت کا ذکر کیا اور کہا کہ طاقتور ممالک کو فریقین پر اثر انداز ہونے کی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔

    اسی مناسبت سے فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے بھی ایک علیحدہ موقع پر کہا کہ اگر صدر ٹرمپ واقعی نوبیل امن انعام کے لیے اہل ثابت ہونا چاہتے ہیں تو اُنہیں غزہ جنگ ختم کروانے کے لیے عملی دباؤ ڈالنا ہوگا۔ میکرون کا اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ امن کے قابلِ قدر کارنامے عملی اقدامات مانگتے ہیں جن میں فریقین پر اثر اندازی اور ہتھیاروں کی رسد کو محدود کرنا شامل ہے۔

    اس اجلاس کے بعد شریک اسلامی ممالک نے امریکا سے اپیل کی کہ وہ غزہ میں فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی میں اپنا موثر کردار ادا کرے تاکہ متاثرہ عوام کو فوری راحت پہنچے اور یرغمالیوں کی بازیابی کا عمل تیز کیا جا سکے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عرب اسلامی سربراہی اجلاس کے اختتام پر وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی،امریکی صدر اور وزیر اعظم شہباز شریف کے مابین خوشگوار ماحول میں غیر رسمی گفتگو ہوئی، دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کیا، اس ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی امریکی صدر سے 25 ستمبر کو ون آن ون ملاقات کا بھی امکان ہے۔

  • مسئلہ کشمیرحل ہوئے بغیرخطے میں امن ممکن نہیں، او آئی سی اجلاس

    مسئلہ کشمیرحل ہوئے بغیرخطے میں امن ممکن نہیں، او آئی سی اجلاس

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کےموقع پر او آئی سی کانٹیکٹ گروپ کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

    ترجمان دفترخارجہ شفقت علی خان کے مطابق اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کا اجلاس ہوا جس کی صدارت او آئی سی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے سیاسی امور یوسف ایم نے کی جب کہ اجلاس میں رابطہ گروپ کے رکن ممالک پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، نائیجر اور آذربائیجان شریک ہوئے۔دفتر خارجہ کے ترجمان کا بتانا ہے کہ کشمیری عوام کے حقیقی نمائندوں کا ایک وفد بھی اجلاس میں شامل تھا، اجلاس میں مقبوضہ علاقے میں بگڑتی انسانی حقوق کی صورتحال پرغورکیاگیا،اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی خارجہ امور طارق فاطمی نے بھارت کی غیرقانونی قبضہ مضبوط کرنے ، ظالمانہ قوانین، جبر اور آبادیاتی تبدیلیوں کی کوششوں کی مذمت کی اور کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار استحکام جموں و کشمیر کے تنازعے کےحل سے مشروط ہے،طارق فاطمی نے او آئی سی سے بھارتی جبر کےخاتمے، سیاسی قیدیوں کی رہائی کیلئے دباؤ ڈالنے پر بھی زور دیا۔

    ترجمان دفترخارجہ کے مطابق اجلاس میں اوآئی سی وزرائےخارجہ کی جانب سے کشمیری عوام کےحقِ خودارادیت کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان اورآزادکشمیرمیں بھارتی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا،دوران اجلاس اوآئی سی نے حالیہ جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اورثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پہلگام حملےکے بعد کے واقعات سے واضح ہےکہ مسئلہ کشمیرحل ہوئے بغیرخطے میں امن ممکن نہیں، بھارتی رہنماؤں کے غیرذمہ دارانہ بیانات علاقائی امن کیلئے خطرہ ہیں، او آئی سی کی جانب سے مقبوضہ کشمیرمیں کریک ڈاؤن، 2800 گرفتاریوں،گھروں کی مسماری ، کشمیری رہنما شبیرشاہ کی بیماری کے باوجودرہائی نہ دینے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ۔

    دوران اجلاس اوآئی سی نے ہزاروں سیاسی کارکنوں اورانسانی حقوق کے محافظوں کی گرفتاریوں سمیت سری نگر جامع مسجد اورعیدگاہ میں مذہبی اجتماعات پرپابندی کی بھی مذمت کی،اوآئی سی نے 5 اگست 2019 کےبھارتی اقدامات اورآبادیاتی تبدیلیوں کو مستردکرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی انتخابات حقِ خودارادیت کا متبادل نہیں ہوسکتے،اس کے علاوہ اوآئی سی نے سیکرٹری جنرل کے خصوصی ایلچی کے دورہ پاکستان اور آزاد کشمیر کا خیرمقدم کیا۔

  • پی آئی اے کو برطانیہ کیلئے مسافر بردار اور کارگو پروازیں چلانے کی اجازت

    پی آئی اے کو برطانیہ کیلئے مسافر بردار اور کارگو پروازیں چلانے کی اجازت

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے اعلان کیا ہے کہ اکتوبر سے برطانیہ کے لیے براہِ راست پروازیں بحال کی جائیں گی۔ یہ فیصلہ تقریباً پانچ سال بعد اس وقت ممکن ہوا جب برطانوی حکام نے پاکستانی فضائی کمپنیوں پر عائد پابندی ختم کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر حفاظتی اور سیکیورٹی سرٹیفکیشن کی منظوری دے دی۔

    یاد رہے کہ مئی 2020 میں کراچی میں پی آئی اے کا ایئربس اے 320 طیارہ حادثے کا شکار ہوا تھا، جس میں 97 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس سانحے کے بعد کی جانے والی حکومتی تحقیقات میں پائلٹ لائسنسز میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا، جس کے نتیجے میں برطانیہ اور یورپی یونین دونوں نے پی آئی اے پر فضائی پابندی عائد کردی تھی۔

    پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ خان کے مطابق "پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کو باضابطہ طور پر تھرڈ کنٹری آپریٹر (TCO) کی منظوری مل گئی ہے، جس کے تحت وہ اب برطانیہ کے لیے پروازیں چلا سکے گی۔”ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی طور پر مانچسٹر کے لیے سروس شروع ہوگی، جس کے بعد برمنگھم اور لندن کے لیے پروازیں بھی بحال کی جائیں گی۔برطانیہ کے محکمہ ٹرانسپورٹ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پی آئی اے کو "ACC3” سیکیورٹی سرٹیفکیشن حاصل ہو گیا ہے، جو کہ یورپی یونین سے باہر کی ایئرلائنز کے لیے لازم ہے تاکہ وہ برطانیہ کارگو پروازیں چلا سکیں۔ یہ منظوری اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے ہوائی اڈوں سے حاصل کی گئی ہے اور اگست 2030 تک کے لیے مؤثر رہے گی۔

    برطانیہ میں پاکستانی نژاد افراد کی تعداد 16 لاکھ سے زیادہ ہے جبکہ ہزاروں برطانوی شہری پاکستان میں مقیم ہیں۔ اس پس منظر میں پی آئی اے کی پروازوں کی بحالی کو سفری سہولت، تجارتی تعلقات میں بہتری اور آمدنی میں اضافے کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

    پاکستانی حکومت اس وقت آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے تحت سرکاری اداروں کے نقصانات کم کرنے کے لیے نجکاری کے عمل کو تیز کر رہی ہے۔ پی آئی اے کو گزشتہ ایک دہائی میں ڈھائی ارب ڈالر سے زائد خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے جولائی میں کہا تھا کہ برطانیہ اور یورپ کے روٹس کی بحالی سے پی آئی اے کی مارکیٹ ویلیو بڑھے گی اور نجکاری کے عمل کو بہتر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے گا۔

    سی ای او پی آئی اے کی جانب سے وزیراعظم پاکستان، نائب وزیراعظم، وزیر دفاع، وزارت دفاع اور سول ایوایشن کی سرپرستی اور دیگر منسلک اداروں کے تعاون پر خصوصی شکریہ کیا گیا،ترجمان قومی ائیر لائن نے بتایا ہے کہ سی ای او پی ائی اے نے پی ائی اے کی ٹیم کا بھی شکریہ ادا کیا کہ جنھوں نے 5 سال ثابت قدمی سے متعدد آڈٹس کا سامنہ کیا اور اس میں کامیابی حاصل کی۔

  • اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا 80واں اجلاس شروع، وزیراعظم  خطاب کریں گے

    اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا 80واں اجلاس شروع، وزیراعظم خطاب کریں گے

    اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا 80واں اجلاس نیویارک میں شروع ہوگیا، جس میں پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم شہباز شریف کریں گے۔ وزیراعظم جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔

    فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے سعودی عرب اور فرانس کی سربراہی میں آج کانفرنس منعقد ہوگی، جس میں پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کریں گے۔ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیوٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اجلاس کے سائیڈلائن پر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان کی پہلی ملاقات اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ہوگی، اس کے بعد وہ پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ، مصر، اردن اور انڈونیشیا کے سربراہان کے علاوہ یوکرین، ارجنٹائن اور یورپی یونین کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے۔

    ادھر نیویارک میں قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ کی میزبانی میں عرب اسلامی وزرائے خارجہ کا مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں اسحاق ڈار نے بھی شرکت کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس میں متحدہ عرب امارات، اردن، مصر، انڈونیشیا، سعودی عرب اور ترکیے کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے۔

    مشاورت میں طے پایا کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں فلسطین اور عالمی امور پر یکساں مؤقف اور مربوط حکمت عملی اپنائی جائے۔ اسحاق ڈار نے اسلامی ملکوں کے ساتھ پاکستان کے دوستانہ تعلقات اور تعاون پر زور دیا۔

    چار بیویاں اور 100 سے زائد بچے،اماراتی محقق کے خطاب پر حاضرین حیران

    سویلین کے کورٹ مارشل کی اجازت، آرمی ایکٹ آئین کے مطابق قرار،سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ

    حنیف عباسی سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری پر گفتگو

    غیرقانونی ادویات اور اشتہارات کا الزام،حکیم شہزاد کی گرفتاری کا حکم

  • وزیراعظم کی زیر صدارت  سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے اجلاس

    وزیراعظم کی زیر صدارت سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے اجلاس

    وزیراعظم پاکستان کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک میں سرمایہ کاری کے حجم کو بڑھانے، اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور قابل عمل منصوبوں کی نشاندہی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کی پالیسی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ تجارت کو فروغ دینا ہے تاکہ ملکی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے اور ہماری درآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہو۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ زراعت، آئی ٹی، معدنیات، سیاحت اور قابل تجدید توانائی وہ شعبے ہیں جہاں بیرونی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور ان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔وزیراعظم نے تمام وزارتوں کو ہدایت کی کہ وہ ٹارگٹ کے مطابق منصوبے مکمل کریں اور زیر تکمیل اسکیموں کو بروقت پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع روڈ میپ اور تبدیلی کا ایجنڈا تشکیل دیا جا رہا ہے تاکہ اہداف کے حصول کو منظم انداز میں یقینی بنایا جا سکے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اقتصادی سرگرمیوں کے اس روڈ میپ میں نجی شعبے کا کردار کلیدی ہوگا اور ان کی شمولیت کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جاری معاشی اور اقتصادی اصلاحات کی بدولت معیشت کو ایک نئی سمت ملی ہے اور شفافیت کے اس عمل نے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔اجلاس میں لندن سے زوم کے ذریعے شرکت کرنے والوں میں وفاقی وزیر ماحولیات مصدق ملک، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر خزانہ محمد جہانزیب، وفاقی وزیر تجارت جام کمال، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ شامل تھے۔

  • مودی سرکار نےسکھ یاتریوں کو بابا گرونانک کی برسی پر پاکستان آنے سے روک دیا

    مودی سرکار نےسکھ یاتریوں کو بابا گرونانک کی برسی پر پاکستان آنے سے روک دیا

    مودی سرکار کا بھیانک چہرہ مزید عیاں، سکھ یاتریوں کو بابا گرونانک کی برسی پر پاکستان آنے سے روک دیا

    بابا گرو نانک کی 486 ویں برسی "جیوتی جوت” 22 ستمبر سے کرتارپور صاحب میں منائی جائے گی،بھارتی وزارتِ داخلہ نے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے سکھ یاتریوں کو پاکستان آنے سے روک دیا،بابا گرونانک کی برسی پر سکھ یاتریوں کو پاکستان آنے سے روکنا بھارتی حکومت کے مذہبی تعصب کی عکاسی کرتا ہے،یہ اقدام مذہبی آزادی کی کھلی خلاف ورزی ہے اور بھارت میں اقلیتوں، خاص طور پر سکھوں اور مسلمانوں کو مسلسل نشانہ بنانا ہے

    دنیا بھر سے سکھ یاتری کرتارپور مذہبی رسومات کیلئے آچکے ہیں لیکن بھارتی حکومت نے اپنے شہریوں کو روک کر متعصبانہ رویہ اختیار کیا ہے،بھارتی حکومت کا مذہبی رسومات کیلئے بھارتی سکھ یاتریوں پر پابندی کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے

    پاکستان سکھ گردوارہ پربندھک کمیٹی کے سربراہ سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا ہے کہ;’’ سکھوں کو انکے مقدس مقامات کی یاترا سے روکنا بنیادی مذہبی حقوق کی خلاف ورزی ہے‘‘ "جب پاکستان بھارت کا کرکٹ میچ ہوسکتا ہے تو سکھ یاتری پاکستان کیوں نہیں جا سکتے”، وزیرِاعلیٰ بھارتی پنجاب بھگونت مان کا کہنا ہے کہ "مرکزی حکومت کو مذہبی آزادی میں رکاوٹ ڈالنے کا کوئی حق نہیں ہے”،

  • افغانستان کی دہشت گردی کے حوالے سے دوغلی پالیسی بے نقاب

    افغانستان کی دہشت گردی کے حوالے سے دوغلی پالیسی بے نقاب

    افغانستان کی دہشت گردی کے حوالے سے دوغلی پالیسی بے نقاب ہو گئی

    افغان حکومت نےامریکہ سے دوحہ معاہدے کی داد رسی کی درخواست کی، دوسری جانب افغان حکومت اپنی سرزمین پر پاکستان مخالف دہشتگردوں کو تحفظ دینے میں مصروف ہے،افغانستان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بگرام ائیر بیس واپس لینے کے مطالبے پر امریکہ سے دوحہ معاہدے کی پیروی کا مطالبہ کیا ہے،افغان حکومت نے امریکہ کو یاد دہانی کرائی کہ ” دوحہ معاہدے کے تحت اسے افغانستان کی علاقائی سالمیت اور آزادی کا احترام اور مداخلت سے گریز کرنا ہے”

    دوحہ امن معاہدے میں افغانستان نے اپنی سرزمین دہشتگردی اور پڑوسی ممالک میں دراندازی کیلئے استعمال نہ ہونے کی ضمانت دی تھی،افغان حکومت کی دوحہ معاہدے کی پاسداری کی درخواست محض ڈھونگ ہے،شواہد سے ثابت ہے کہ "افغانستان، پاکستان میں دہشتگردانہ کاروائیوں کی سرپرستی جاری رکھنے میں مصروف ہے”

    پاکستان نے متعدد بار افغانستان کی فتنہ الخوارج کی دہشتگردی میں سہولت کاری کے شواہد عالمی برادری کے سامنے رکھے،ان شواہد میں افغان سرزمین پر پناہ گزین فتنہ الخوارج کے سرغنہ خارجی نور ولی محسود کی فون کال بھی شامل ہے ، خارجی نور ولی ، خارجی غٹ حاجی کو فون کال کی ریکارڈ ٹیپ میں دہشتگردی کی ہدایات دے رہا ہے ،مارچ 2025 میں بلوچستان کے ٹوبہ کاکڑی میں گرفتار دہشت گرد اسام الدین نے اعتراف کیا تھا کہ؛
    "افغانستان سے سرحدی باڑ عبور کر کے پاکستان آیا” ،7 اور 8 اگست کے درمیان سیکورٹی فورسز نے سمبازا، بلوچستان میں افغان بارڈر سے داخل ہونے کی کوشش کرنے والے فتنہ الخوارج کی بڑی تشکیل کے 47 دہشت گرد جہنم واصل کئے،ستمبر 2025 میں پاک فوج کے کامیاب آپریشن حیدر میں حافظ گل بہادر گروپ کے خارجی عبدالصمد عرف صمد نے سرنڈر کرتے ہوئے افغانستان میں دہشتگردانہ تربیت حاصل کرنے کا اعتراف کیا تھا،دوحہ معاہدے کی یاد دہانی کرانے والا افغانستان پہلے اپنے داخلی معاملات درست کرے اور دہشتگردوں کی سہولت کاری بند کرے،دوغلی پالیسی اپنانے اور ڈھونگ رچانے کے بجائے افغانستان کو خطے میں امن کی راہ ہموار کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ہدایات ،بلوچستان میں منشیات کیخلاف فیصلہ کن مہم کا آغاز

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ہدایات ،بلوچستان میں منشیات کیخلاف فیصلہ کن مہم کا آغاز

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی واضح ہدایات پر بلوچستان میں منشیات کیخلاف فیصلہ کن مہم کا آغازکر دیا گیا

    بلوچستان میں اینٹی نارکوٹکس فورس اور مقامی اداروں نے پوست کی کاشت اور منشیات کے اڈوں کے خاتمے کے لیے بڑی مہم کا آغاز کر دیا،یہ مہم فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور حکومت بلوچستان کی براہِ راست ہدایات کے تحت جاری ہے،اس مہم کا مقصد بلوچستان کو منشیات سے پاک کرنا اور اس ناسور کا مستقل طور پر خاتمہ کرنا ہے،منظم کارروائیوں کے دوران کئی علاقوں میں پوست کی فصلوں کو تلف کیا گیا ہے،منشیات کی پیداوار اور ترسیل میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف بھی کارروائیاں کی گئی ہیں،منشیات کے نیٹ ورکس اور دہشتگردوں کے گٹھ جوڑ کو مکمل ناکام کرنے کیلئے متبادل روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے،روز گار کے متبادل ذرائع فراہم کر کے مقامی لوگوں کو دوبارہ منشیات کی کاشت سے روکا جائے گا ،منشیات، جرائم اور دہشت گردی کے گٹھ جوڑ کو توڑنے کے لیے مؤثر اور پائیدار حکمت عملی اپنانا وقت کی ضرورت ہے،یہ گٹھ جوڑ ہی اس تمام نیٹ ورک کو طاقت فراہم کرتا ہے، منشیات کے خلاف جنگ ایک قومی ذمہ داری ہے،اس جنگ میں حکومت، سیکیورٹی اداروں اور معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ضروری ہے

  • اقوام متحدہ میں مسئلہ فلسطین پر کانفرنس،وزیراعظم  شریک ہوں گے

    اقوام متحدہ میں مسئلہ فلسطین پر کانفرنس،وزیراعظم شریک ہوں گے

    اقوام متحدہ میں سعودی عرب اور فرانس کی سربراہی میں مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے سربراہی کانفرنس آج ہوگی، وزیراعظم شہباز شریف بھی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    ترجمان دفترخارجہ نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف آج سے 26 ستمبر تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے، وزیر اعظم اجلاس میں کشمیریوں اور فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت پر زور دیں گے،وزیر اعظم شہباز شریف جنرل اسمبلی میں غزہ کے بحران اور فلسطینی عوام کی مشکلات اجاگر کریں گے،وزیرِ اعظم دہشت گردی، ماحولیاتی تبدیلی اور اسلامو فوبیا سمیت عالمی مسائل پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے،وزیرِ اعظم یو این کے اجلاس کے دوران اعلیٰ سطح کی تقریبات اور خصوصی اجلاسوں میں شریک ہوں گے، وہ اسلامی ممالک کے رہنماؤں کے ہمراہ امریکی صدر سے بھی ملاقات کریں گے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق شہباز شریف کی عالمی رہنماؤں اور اقوامِ متحدہ کے حکام سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی ہوں گی۔

  • برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کا فلسطین کو باضابطہ طور پر ریاست تسلیم کرنے کا اعلان

    برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کا فلسطین کو باضابطہ طور پر ریاست تسلیم کرنے کا اعلان

    لندن: برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے فلسطین کو باضابطہ طور پر ریاست تسلیم کرلیا۔

    برطانیہ نے جولائی میں اسرائیل کو الٹی میٹم دیا تھا کہا گر اسرائیل نے غزہ میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے اقدامات نہیں کرتا تو برطانیہ ستمبر میں فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرلے گا۔سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لیے امن اور دوریاستی حل کی امید کو زندہ رکھنے کے لیے برطانیہ فلسطین کو باضابطہ طور پر ریاست تسلیم کررہاہے،حماس کا فلسطین کی حکومت اور سکیورٹی میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔

    کینیڈا نے بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرلیا ہے، کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت فلسطینی ریاست کےقیام کےامکانات کو روکنےکے لیےمنظم حکمت عملی سے کام کررہی ہے، فلسطینی اتھارٹی نے کینیڈا اور بین الاقوامی برادری کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ضروری اصلاحات کرے گی، جن میں حکمرانی کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی، 2026 تک عام انتخابات کا انعقاد، جن میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا، اور فلسطینی ریاست کو غیر مسلح کرنا شامل ہے۔

    آسٹریلوی حکومت نے بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا دوریاستی حل کی بین الاقوامی کوششوں کا حصہ ہے،حماس کا فلسطین میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے،فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے کروائی گئی یقین دہانیوں پر عمل ہونے کے بعد فلسطین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے اور سفارتخانے کھولنے جیسے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔