Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان کی مسلح افواج پاک چین اسٹریٹجک تعلقات کا اہم جُز:پاکستان کی دوستی پرفخرہے:چینی صدرشی جن پنگ

    پاکستان کی مسلح افواج پاک چین اسٹریٹجک تعلقات کا اہم جُز:پاکستان کی دوستی پرفخرہے:چینی صدرشی جن پنگ

    راولپنڈی:پاکستان کی مسلح افواج پاک چین اسٹریٹجک تعلقات کا اہم جُز ہے:پاکستان کی دوستی پرفخرہے،اطلاعات کے مطابق چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج پاک چین اسٹریٹجک تعلقات کا اہم جُز ہے، چین اور پاکستان آہنی بھائی، تمام موسموں کے دوست اور اسٹریٹجک پارٹنر ہیں، عالمی صورتحال جیسی بھی ہو، دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو راولپنڈی میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے قیام کی 94 ویں سالگرہ کی تقریب ہوئی، تقریب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، تقریب میں چینی سفیر نونگ رونگ اور سفارتی حکام نے شرکت کی۔

    تقریب میں چینی دفاعی اتاشی نے یوم تاسیس پر استقبالیہ دینے پر آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا، چین کے دفاعی اتاشی نے چینی صدر شی جن پنگ کا پیغام پڑھ کرسنایا۔

    چینی صدر نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج پاک چین تعلقات کا اہم جز ہیں، پاکستان کی مسلح افواج پاک چین اسٹریٹجک تعلقات کا اہم جز ہیں، چین اور پاکستان آہنی بھائی ہیں، چین اور پاکستان تمام موسموں کے دوست اور اسٹریٹجک پارٹنر ہیں، عالمی صورتحال جیسی بھی ہو، چین اور پاکستان ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔

    چینی صدر نے کہا کہ دنیا بدل سکتی ہے ہم ہمیشہ ساتھ کھڑے ہیں، جغرافیائی تحفظ، علاقائی امن و استحکام کیلئے متحد ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ماضی ثابت کرتا ہے ہم نے چیلنجز کے سامنے کبھی ہار نہیں مانی، ہمارا ماضی اور حال گواہ ہے ہم کسی چیلنج سے نہیں گھبرائے،

    چینی صدر نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات منفرداور مضبوط ہیں،پاک چین تعلقات ہر آزمائش پر پورے اترے ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ علاقائی امن وسلامتی کیلئے پاک چین شراکت داری کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے، پی ایل اے اور پاک فوج ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔آرمی چیف نے چین کے دفاع ، سلامتی قومی تعمیر میں پی ایل اے کے کردار کو سراہا۔ہمارے تعلقات مشترکہ مفادات کا تحفظ کرتے رہیں گے۔

  • پاکستان مختلف شعبوں میں بیلجیم کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کا فروغ چاہتا ہے، آرمی چیف

    پاکستان مختلف شعبوں میں بیلجیم کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کا فروغ چاہتا ہے، آرمی چیف

    راولپنڈی : آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاکستان مختلف شعبوں میں بیلجیم کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کا فروغ چاہتا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے پاکستان میں بیلجیم کے سفیر کی ملاقات ہوئی ہے،

    آرمی چیف سے بیلجیم کے سفیر کی ملاقات کے دوران افغانستان سمیت خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر بات چیت ہوئی ہے۔

    ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاکستان مختلف شعبوں میں بیلجیم کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کا فروغ چاہتا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق بیلجیم کے سفیر نے خطے کے امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا۔

  • ’چائنیزپیپلزلبریشن آرمی اور پاک فوج مشکل وقت کےبھائی ہیں‘‏:آرمی چیف کا تقریب سے خطاب

    ’چائنیزپیپلزلبریشن آرمی اور پاک فوج مشکل وقت کےبھائی ہیں‘‏:آرمی چیف کا تقریب سے خطاب

    راولپنڈی :’چائنیزپیپلزلبریشن آرمی اور پاک فوج مشکل وقت کےبھائی ہیں‘‏:آرمی چیف کا تقریب سے خطاب ،اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ چائنیزپیپلزلبریشن آرمی (پی ایل اے) اور پاک ‏فوج مشکل وقت کے بھائی ہیں باہمی مفادات کےتحفظ کے لیے ہمارےتعلقات مسلسل مضبوط ہو ‏رہے ہیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق چائنیزپیپلزلبریشن آرمی کےقیام کے94ویں یوم تاسیس کے ‏سلسلے میں جی ایچ کیو میں تقریب منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی آرمی چیف جنرل ‏قمرجاویدباجوہ تھے۔

    چینی سفیر، ڈیفنس اتاشی اور دیگراعلیٰ حکام نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ آرمی چیف نےدفاع، ‏سیکیورٹی اور نیشن بلڈنگ میں پی ایل اےکی قیادت کو سراہا۔

    آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان اور چین کےمنفرد اور انتہائی قریبی تعلقات ہیں ہرچیلنج کےدوران ‏پاک چین تعلقات مثالی نوعیت کےہیں باہمی شراکت داری علاقائی امن واستحکام کیلئےانتہائی اہم ‏ہے۔

    آرمی چیف نے کہا کہ ماضی اورحال میں ہرچیلنج میں ہم نےایک دوسرےکاساتھ نبھایا، ‏چائنیزپیپلزلبریشن آرمی (پی ایل اے) اور پاک فوج مشکل وقت کےبھائی ہیں باہمی مفادات کے ‏تحفظ کے لیے ہمارےتعلقات مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔

    چین کے دفاعی اتاشی نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ پاک چین اسٹریٹیجک تعلقات خطےمیں ‏مثالی نوعیت کے لیے ہیں پاکستان اورچین ہرموسم کےدوست،اسٹریٹیجک پارٹنراورآہنی بھائی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ دنیابدل سکتی ہےہم ہمیشہ ساتھ کھڑےہیں اپنےمفادات جغرافیائی تحفظ،علاقائی ‏امن و استحکام کیلئےمتحدہیں۔

  • وزیراعظم کے انٹرویو نے امریکی سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی:امریکہ سپرپاوریا پاکستان:دنیا جان گئی

    وزیراعظم کے انٹرویو نے امریکی سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی:امریکہ سپرپاوریا پاکستان:دنیا جان گئی

    اسلام آباد :وزیراعظم کے انٹرویو نے امریکی سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی:امریکہ سپرپاوریا پاکستان:دنیا جان گئی ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے انٹرویو نے امریکی سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی اور اب امریکہ سمیت دیگردنیا یہ ماننے پرمجبورہوگئی ہے کہ سپرپاورامریکہ نہیں بلکہ پاکستان ہے ،

    وزیراعظم عمران خان کے دلیرانہ موقف نے جو زلزلہ امریکی ایوانوں میں بپا کررکھا ہے اس حوالے سے خصوصی رپورٹس امریکہ سے آرہی ہیں ، خودامریکی حکام اورامریکی میڈیا بھی یہ تسلیم کرچکا کہ دنیا کی سپرپاورپاکستان کے وزیراعظم کے سامنے ڈھیرہوگئی ہے

    انہیں انکشافات کو اگے بڑھاتے ہوئے صحافی منظور سلہری اس حوالے سے اپنی رپورٹ میں لکھتے ہیں کہ وزیراعظم کے انٹرویو نے یہاں کے سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے،

    ماہرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے امریکی میڈیا کو انٹرویوز کی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید اور قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کی امریکی حکام سے باضابطہ ملاقاتوں سے پہلے وزیراعظم کا انٹرویو بہت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔

    واشنگٹن میں دونوں ممالک کے اہم عہدیداران کی ہونے والی ملاقاتوں میں اس انٹرویو کی بازگشت ضرور سنائی دے گی،پاکستانی سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان مختلف ذرائع استعمال کرکے امریکا کو باور کروا رہا ہے کہ پاکستان نئی سمت اختیار کر کے اپنی نئی فارن پالیسی پر گامزن ہے۔

    امریکی حکام وزیراعظم کے حالیہ انٹرویوز کا بغو جائزہ لے رہی ہے۔کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور ملٹری قیادت کے ایک پیجپر ہونے سے دنیا میں پاکستان کا وقار بہت بلند ہوا۔

    آپ دیکھیں کہ صدر جوبائیڈن وزیراعظم کو واشنگٹن آنے کی باضبطہ دعوت دیں گے کیونکہ پاکستان کو پتہ ہے اس خطے میں پائیدار امن کے لیے اس کی اہمیت کتنی اہم ہے جس کو امریکا سمیت دنیا کی کوئی طاقت جھٹلا نہیں سکتی۔

    امریکا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے وزیراعظم کے جرات مندانہ موقف کی حمایت کرتے ہوئے اسے پاکستان کی بڑی فتح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے سے پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔

  • غریب رُل گئے:ان کوگھرکی دہلیزپرانصاف ملناچاہیےتھا:نظام عدل کومضبوط بنانا ہوگا:وزیراعظم

    غریب رُل گئے:ان کوگھرکی دہلیزپرانصاف ملناچاہیےتھا:نظام عدل کومضبوط بنانا ہوگا:وزیراعظم

    اسلام آباد: غریب رُل گئے:ان کوگھرکی دہلیزپرانصاف ملناچاہیےتھا:عدالتی نظام موثر بنانے کیلئے تمام وسائل استعمال کریں گے،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عام آدمی تک آسان اور فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، عدالتی نظام موثر بنانے کیلئے تمام وسائل استعمال کریں گے۔

    وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے جمعرات کو یہاں ان سے ملاقات کی۔

    ملاقات میں اٹارنی جنرل نے وزیرِاعظم کو مختلف عدالتی امور، نظام انصاف کے حوالے سے جاری اصلاحات اور ” واٹر کمیشن رپورٹ” پر بریفنگ دی۔

    وزیرِاعظم واٹر کمیشن رپورٹ کے حوالے سے جسٹس شاہد کریم کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ پانی کا مسئلہ انتہائی اہم معاملہ ہے۔ اس اہم قومی معاملے میں جسٹس شاہد کریم کی خصوصی دلچسپی اور کاوشیں لائق تحسین ہیں۔

    وزیرِاعظم نے جسٹس (ر) علی اکبر قریشی کی سربراہی میں واٹر کمیشن رپورٹ مرتب کرنے والی ٹیم کی کاوشوں کو بھی سراہا۔

    مختلف عدالتی امور اور جاری اصلاحات پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ عام آدمی تک آسان اور فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    وزیرِاعظم نے کہا کہ عدالتی اور انصاف کے نظام کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور عدالتی نظام کو مزید موثر بنانے کے حوالے سے حکومت عدلیہ کو ہر ممکن تعاون اور وسائل کی فراہمی کے لئے پرعزم ہے۔

  • افغان صدراشرف غنی کی کابینہ کے 20 وزرا پاکستانی:افغان ہماری جان:اہم وفاقی وزیرکابیان

    افغان صدراشرف غنی کی کابینہ کے 20 وزرا پاکستانی:افغان ہماری جان:اہم وفاقی وزیرکابیان

    اسلام آباد:افغان صدراشرف غنی کی کابینہ کے 20 وزرا پاکستانی:افغان ہماری جان:اہم وفاقی وزیرکابیان ،اطلاعات کےمطابق افغان صدر اشرف غنی کی کابینہ کے 20 وزراء پیدائشی پاکستانی نکلے ،

    ادھر اس کے علاوہ بھی بڑے اہم انکشافات کا سلسلہ جاری و ساری ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ افغانستان کے ایک ہزار اہم عہدوں پر فائز افراد کے پاکستان سے تعلیم یافتہ ہونے کا دعویٰ سامنے آگیا۔

    تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر شہریار آفریدی نے دعویٰ کیا ہے کہ اشرف غنی کابینہ کے 20 وزراپاکستان میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے ، اس کے علاوہ افغانستان کے ایک ہزار اہم عہدوں پر فائز افراد پاکستان سے تعلیم یافتہ ہیں ،

    ادھرذرائع کے مطابق یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں دینی مدارس سے افغان فارغ التحصیل ہیں،جواس وقت افغانستان میں امن اوامان بھائی چارے کی فضا قائم کرنے کے لیے کوشاں ہیں

    وفاقی وزیرشہریارآفریدی کہتے ہیں کہ افغان کرکٹ ٹیم کو پاکستان نے کھڑا کیا ، افغان کیمپس میں پاکستانی کوچز انضمام الحق اورراشد لطیف نے تربیت دی، تاہم افغانستان خود مختار ریاست ہے افغانوں نے خود سیاسی حل تلاش کرنا ہے۔

  • خبردار:’ویکسین نہ لگوانے والوں کو دکانوں، دفاتر اور ہوٹلوں میں کام کرنے نہیں دیا جائیگا’اسدعمر

    خبردار:’ویکسین نہ لگوانے والوں کو دکانوں، دفاتر اور ہوٹلوں میں کام کرنے نہیں دیا جائیگا’اسدعمر

    اسلام آباد:خبردار:’ویکسین نہ لگوانے والوں کو دکانوں، دفاتر اور ہوٹلوں میں کام کرنے نہیں دیا جائیگا’اسد عمر نے کہا ہے کہ ویکسین نہ لگوانے والوں کو دکانوں، دفاتر اور ہوٹلوں میں کام کرنے نہیں دیا جائے گا، ان کے لیے ویکسین لگوانے کی آخری تاریخ 31 اگست ہے، جس کے بعد ان پر پابندی عائد ہوگی۔

    وفاقی وزیر اور نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) سربراہ اسد عمر نے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ مختلف شعبوں کے لیے ویکیسینیشن کی آخری تاریخ 31 اگست رکھی گئی ہے، وہ تمام افراد جن سے دوسرے اثرانداز ہو سکتے ہیں ان کے لیے ویکسین لگوانے کی آخری تاریخ 31 اگست ہے۔

    اسد عمر نے بتایا کہ تمام تعلیمی اداروں کی ٹرانسپورٹ سے جڑے افراد، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار، سرکاری ملازمین، ہوٹلوں، دکانوں، مارکیٹوں اور شاپنگ مالز میں کام کرنے والوں نے اگر 31 اگست تک ویکسین نہ لگوائی تو انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جو اساتذہ ویکسی نیٹڈ نہیں وہ یکم اگست سے سکولوں میں نہیں پڑھا سکیں گے، یکم اگست سے صرف ویکسی نیٹڈ لوگ ہوائی جہاز پر سفر کرسکیں گے۔

    اسد عمر کا کہنا تھا کہ کئی لوگ اب بھی کورونا کو سنجیدہ نہیں لے رہے، سندھ حکومت کورونا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے، چاہتے ہیں کسی کا روزگار متاثر نہ ہو، ملکی معیشت چلتی رہے، ملک بند کر کے وبا کا مقابلہ نہیں کرسکتے، کورونا سے بچنے کا واحد حل صرف احتیاط ہے، سندھ اور بلوچستان میں ایس او پیز پر زیادہ عمل نہیں ہو رہا۔

    قبل ازیں معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹے میں کورونا کی شرح میں اضافہ ہوا، 24 گھنٹے میں تشویشناک مریضوں کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کرگئی، کراچی میں وبا کے پھیلاؤ میں اضافہ نظر آ رہا ہے، کیسز میں اضافے سے ہسپتالوں پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔

  • پاکستان کیلئےافغان عمل میں انڈیا کی شمولیت ہرگزقبول نہیں‌:وزیراعظم سے پاک افغان یوتھ فورم کی ملاقات

    پاکستان کیلئےافغان عمل میں انڈیا کی شمولیت ہرگزقبول نہیں‌:وزیراعظم سے پاک افغان یوتھ فورم کی ملاقات

    اسلام آباد:پاکستان کیلئے افغان عمل میں انڈیا کی شمولیت قبول کرنا ممکن نہیں:وزیراعظم سے پاک افغان یوتھ فورم کی ملاقات ،طلاعات کے مطابق آج پاک افغان یوتھ فورم کے وفد کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی ہے جہاں‌ پربہت زیادہ سوالات کیئے گئے جن کے وزیراعظم نے مدلل جوابات دیئے ،

    اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کشمیری جب تک اقوامِ متحدہ کے تفویض کردہ حقِ خود ارادیت کا اظہار نہیں کرتے تب تک کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے، پاکستان کیلئے اس وقت تک بھارت سے بات چیت اور سہ فریقی افغان امن عمل میں اس کی شمولیت کو قبول کرنا ممکن نہیں ہے۔

    تفصیل کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے پاک افغان یوتھ فورم کے وفد نے ملاقات کی جس میں اعلیٰ حکام کے علاوہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے صحافیوں، ایڈیٹروں، فلمسازوں، کاروباری شخصیات، صنعت کاروں اور دفائی تجزیہ نگاروں نے شرکت کی۔

    اس ملاقات کا مقصد پاک افغان فورم کے اراکین کے پاکستان افغان تعلقات، پاکستان کے افغانستان میں پائیدار امن کیلئے اٹھائے گئے اقدامات اور خطے کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے اراکین کے سوالات پر حکومت کا مؤقف واضح کرنا اور نوجوانوں کو پاکستان کی افغان امن عمل کیلئے کوششوں کے بارے آگاہی دینا تھا۔ ملاقات میں وزیرِ اعظم نے اراکین کے سوالات کے جوابات دیئے۔

    افغانستان امن عمل میں ہندوستان اور پاکستان کے اشتراک کے متعلق سوال کے جواب میں وزیرِاعظم نے کہا کہ بھارت نے 5 اگست 2019ء میں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کیا، ناصرف یہ بلکہ کشمیریوں پر ظلم وبربریت کے نئے باب کا آغاز کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان 1948ء سے کشمیریوں کے حقوق کے تحفط کیلئے عالمی سطح پر اپنی آواز بلند کر رہا ہے۔ جب تک بھارت اپنے 5 اگست کے اقدام کو واپس نہیں لیتا، کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال نہیں کرتا، کشمیری جب تک اقوامِ متحدہ کے تفویض کردہ حقِ خود ارادیت کا اظہار نہیں کرتے، تب تک کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے، تب تک بھارت سے بات چیت اور پاکستان اس کے سہ فریقی افغان امن عمل میں شمولیت کو قبول کرنا ممکن نہیں ہے۔

    وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ انہوں نے حال ہی میں افغانستان کا دورہ کیا اور صدر اشرف غنی سے انکے اچھے تعلقات ہیں لیکن حالیہ بیانات میں افغان رہنماؤں نے پاکستان کو افغان بحران کا ذمہ دار ٹھہرایا جو کہ انتہائی افسوس کی بات ہے کیونکہ پاکستان نے پہلے امریکہ اور پھر افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلئے طالبان کو قائل کرنے کے لئے سخت جدوجہد کی ہے۔ خطے کا کوئی اور ملک پاکستان کی کوششوں سے برابری کا دعویدار نہیں ہو سکتا. جس کی تائید امریکی نمائندہِ خصوصی زالمے خلیل زاد نے بھی کی ہے۔

    افغانستان میں کھیلوں کے فروغ، خاص طور پر کرکٹ کے حوالے سے سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ کرکٹ کی تاریخ میں کسی دوسرے ملک نے اتنے کم وقت میں ترقی نہیں کی جتنی افغانستان نے کی. جہاں افغان ٹیم اب ہے اس مقام تک پہنچنے میں دوسرے ممالک نے ستر سال لگائے۔ جسکی بڑی وجہ افغانی مہاجرین کا پاکستان میں قائم کیمپوں میں کرکٹ کا سیکھنا ہے جو قابل تعریف ہے۔

    پاکستان میں سول اور عسکری اداروں کے افغانستان امن عمل میں ایک پیج پر ہونے کے سوال کے جواب میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے افغانستان میں غلط تاثر موجود ہے کہ پاکستان کو عسکری اداروے کنٹرول کنٹرول کرتے ہیں جو بد قسمتی سے سراسر بھارت کا پھیلایا ہوا پروپگینڈہ ہے ۔

    اس موقع پرایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ میری حکومت کی خارجہ پالیسی گذشتہ پچیس سالوں سے میری پارٹی کے منشور کا حصہ رہی ہے۔ میرا ہمیشہ سے یہی مؤقف رہا ہے کہ افغان مسئلے کا حل عسکری نہیں بلکہ سیاسی طریقے سے ممکن ہے۔ پچھلے پندرہ سالوں سے پارٹی سربراہ کی حیثیت سے اور پچھلے تین سالوں سے حکومت میں رہ کر میں اپنے مؤقف پر قائم ہوں اور حکومت کو اس مؤقف پر عسکری اداروں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سے ہندوستان کے ساتھ امن کا خواہاں ہے مگر ہندوستان امن نہیں چاہتا کیونکہ وہ اس وقت آر ایس ایس کے نظریے کے ریرِ تسلط ہے جو نہ صرف کشمیر بلکہ ہندوستان میں مسلمانوں، دیگر مذاہب کے ماننے والوں اور اقلیتوں کے ساتھ برا سلوک کر رہے ہیں یہی محرکات ہندوستان کے ساتھ امن میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

    عمران خان نے کہا کہ پاکستان دنیا میں کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ افغانستان میں امن چاہتا ہے کیونکہ اگر افغانستان میں امن ہوتا ہے تو پاکستان کو وسط ایشیائی ممالک تک رسائی حاصل ہوجائے گی۔ ہم پہلے ہی ازبکستان کے ساتھ مزار شریف ، پشاور ریلوے لائن کے لئے معاہدہ کر چکے ہیں جو افغانستان کے راستے پاکستان پہنچے گا۔ ہماری مستقبل کی تمام معاشی حکمت عملیوں کا انحصار افغانستان میں امن پر ہے۔ پاکستانی عوام افغانیوں کو پڑوسیوں کی بجائے اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔

  • پی پی 38 ضمنی الیکشن:ن لیگ کوشکست فاش:7 ہزارکی لیڈ سے پی ٹی آئی نے یہ سیت جیت لی

    پی پی 38 ضمنی الیکشن:ن لیگ کوشکست فاش:7 ہزارکی لیڈ سے پی ٹی آئی نے یہ سیت جیت لی

    سیالکوٹ:پی پی 38 ضمنی الیکشن:ن لیگ کوشکست فاش:7 ہزارکی لیڈ سے پی ٹی آئی نے یہ سیت جیت لی ،اطلاعات کے مطابق ن لیگ کی چھوزی ہوئی سیٹ پی ٹی آئی والے لے اُڑے ، پی ٹی آئی کے امیدوارنے تقریبا 7 ہزارکی واضح برتری سے سیٹ جیت لی

    سیالکوٹ کے حلقہ پی پی 38 میں ضمنی انتخاب کیلئے پولنگ کا عمل ختم ہو گیا ہے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کو ن لیگ پر7117 ووٹوں سے واضح برتری حاصل ہوگئی ہے

    ذرائع کے مطابق 165 پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق تحریک انصاف کے امیدوار احسن سلیم بریار 60588 ووٹ لے کر یہ سیٹ جیت چکے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے طارق سبحانی 53471 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    خیال رہے کہ یہ نشست مسلم لیگ ن کے چودھری خوش اختر سبحانی کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔ پنجاب اسمبلی کے حلقہ 38 پر کل 8 امیدوار ضمنی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

    حلقہ پی پی 38 میں کل ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 33 ہزار 422 ہے، جن کے لئے 165 پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے۔ حلقہ میں مردوں کیلئے 262 اور خواتین کیلئے 225 پولنگ بوتھ قائم کئے گئے۔

    دوسری طرف سیالکوٹ میں پی ٹی آئی کی شکست کے ساتھ ہی ن لیگ کی طرف سے الزامات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ، ایک طرف سیالکوٹ میں‌ مٹھائیاں بانٹی جارہی ہیں تو دوسری طرف جاتی امرا سخت صدمے میں ڈوب چکا ہے

  • افغانستان کے معاملے پرپاکستان پر بہت بڑا پریشر آئے گا:لیکن گبھرانا نہیں‌: وزیراعظم عمران خان

    افغانستان کے معاملے پرپاکستان پر بہت بڑا پریشر آئے گا:لیکن گبھرانا نہیں‌: وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد:افغانستان کے معاملے پرپاکستان پر بہت بڑا پریشر آئے گا:لیکن گبھرانا نہیں‌ً اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ افغانستان کے معاملے پر پاکستان پر بہت بڑا پریشر آئے گا،

    اسلام آباد میں اپنے زیر صدارت حکومتی رہنماؤں کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لیڈرشپ کا تقاضا ہے کہ دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔

    وزیراعظم نے اس موقع پرعزم مصمم کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ مشکل فیصلے کرنے پھر ان پر کھڑا ہونا ہوتا ہے۔

    اس موقع پرگفتگو کرتئے ہوئےوزیراعظم کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے دوران ہم نے مشکل فیصلے کیے، جن کے بہتر نتائج سامنے آئے۔ انسان کوشش کرکے تو ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ ہم نے ایک نظریے کی بنیاد پر سیاست کا آغاز کیا، آج تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی جماعت بن چکی ہے۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں حکومت کی تین سالہ کارکردگی رپورٹ پر تجاویز طلب کرتے ہوئے کہا کہ کسی قسم کی کاہلی اورسستی برداشت نہیں کی جائے گی

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت 40 لاکھ افراد کو غربت سے نکالنے کا کامیاب پاکستان منصوبہ لانچ کرنے جا رہی ہے۔

    وزیراعظم کے زیر صدارت اجلاس میں لوگوں کو کامیاب پاکستان منصوبے کی آگاہی دینے کے لیے مہم چلانے کا فیصلہ بھی کیا گیا، اس موقع پر زراعت کے شعبے میں اصلاحات پر ترجمانوں کو بریفنگ دی گئی۔