آئی ایس پی آر کے مطابق کوئٹہ اور تربت کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی دو مختلف کارروائیوں کے دوران ایف سی کے 3 جوانوں نے شہادت قبول کی جبکہ 5 زخمی ہوگئے۔
مارگریٹ میں کوئٹہ کے دہشت گردوں نے سیکیورٹی کے فرائض پر تعینات ایف سی کے دستوں کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایف سی کے 3 جوانوں نے شہادت حاصل کی جبکہ 1 زخمی ہوگیا
شیربندی میں دہشت گردی کی ایک اور سرگرمی میں ، تربت دہشت گردوں نے پاک ایران بارڈر کے ساتھ گشت کرنے والے فوجیوں کو نشانہ بنایا۔ نتیجے میں 4 ایف سی فوجی زخمی ہوگئے شہید ہونے والے سپاہیوں میں لانس نائک سید ہوسی شاہ ، سپاہی فیصل محمود، سپاہی نعمان الرحمن شامل ہیں
جدہ:سعودی عرب سےکہہ دیا ہےکہ گھبرانا نہیں:الحرمین الشریفین کی حفاظت کےلیےہم حاضرہیں،تیارہیں:وزیراعظم کااعلان عظیم ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ دوست ہے جس نے ہمیشہ مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا، حالیہ دورہ کے دوران اس کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہو گئے ہیں۔
وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستانی قیادت نے سعودی قیادت کوایمانی پیشکش کرتےہوئے کہا ہے کہ گھبرانا نہیں پاکستان اورپاکستانی سب الحرمین الشریفین کی حفاظت کےلیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیارہیں
وزیراعظم نے جدہ میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ دوست ممالک مدد نہ کرتے تو پاکستان بحران کا شکار ہو جاتا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مشکل وقت میں ساتھ دیا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ اخبارات میں مایوسی کی خبریں آتی ہیں لیکن میں اپنی قوم کو خوشخبری سنانا چاہتا ہوں کہ اب وہ پاکستان بنے گا جو ستر سال پہلے بننا چاہیے تھا۔ ہم قائداعظمؒ کے پاکستان کے ٹریک پر واپس آ گئے ہیں۔ مافیا سے آزادی کی جنگ میں تھوڑا وقت لگے گا، تاہم بہت جلد آپ کے سامنے نیا پاکستان ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانی بھی چاہتے ہیں کہ ان کا ملک عظیم بنے۔ یہ پاکستان کی ڈیفائنگ موومنٹ ہے۔ ہماری حکومت تبدیلی کے لیے لڑرہی ہے، اسے اب کوئی نہیں روک سکتا،
انہوں نے کہا کہ ملک میں شعور آنے کی بڑی وجہ سوشل میڈیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بڑی تیزی سے معلومات شیئر ہوتی ہیں۔ تحریک انصاف یوتھ کی وجہ سے اقتدار میں آئی۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہی معاشرہ ترقی کرتا ہے، جہاں قانون کی بالا دستی ہو، جہاں انصاف نہ ہو وہ معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ تحریک انصاف نام رکھنے کا مقصد انصاف تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں آج بڑا خوش ہوں۔ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے۔ ۔ اس کے علاوہ روضہ رسول ﷺ اور خانہ کعبہ کے اندر جانے کا موقع ملا۔ بیٹری ری چارج ہو گئی ہے، اب نئے پاکستان کی سوچ کو آگے لے کر چلیں گے۔ ایک طرف مافیا جو پرانے نظام کو بچانے میں لگا ہے جبکہ دوسری طرف عوام، جو تبدیلی چاہتی ہے۔
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کنسٹریکشن انڈسٹری ترقی کر رہی ہے۔ بینکوں کو چھوٹے قرضے دینے کی عادت نہیں تھی لیکن اب انھیں قرضوں کے حوالے سے ٹریننگ دی جا رہی ہے۔ اب کرایہ دار کرایہ دینے کے بجائے اپنا گھر بنا سکیں گے۔ مشکل وقت سے نکل آئے، اب آگے خوشحالی ہوگی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بہتر ہو رہی ہے۔ پوری دنیا میں کورونا کی وجہ سے معیشت متاثر ہوئی۔ افسوس بھارت میں کورونا سے بہت تباہی ہوئی۔ تاہم اللہ کا شکر ہے ہم نے کورونا کے دوران پاکستانیوں اور اکانومی کو بچایا۔
مکہ مکرمہ: وزیراعظم عمران خان نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ عمرہ کی سعادت حاصل کر لی ہے، ان کے اعزاز میں طواف سے پہلے بیت اللہ کے دروازے خصوصی طور پر کھولے گئے تھے۔
بیت اللہ کے دروازے کھول کر وزیراعظم عمران خان کو زیارتِ خاص کروائی گئی۔ خیال رہے کہ وہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر سعودی عرب کے تین روزہ دورے پر ہیں۔
اس سے قبل وزیرِاعظم عمران خان نے ہفتہ کو اپنے وفد کے ہمراہ روضہ رسول صلی اللّہ علیہ وسلم پر حاضری دی۔ انہوں نے پاکستان کی ترقی و خوشحالی، امت مسلمہ کی یکجہتی، کورونا وبا سے نجات کے لئے خصوصی دعا کی۔
وزیرِاعظم نے وفد سمیت مسجدِ نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) میں افطار بھی کیا اور نمازِ مغرب ادا کی۔
وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد، گورنر سندھ عمران اسماعیل، گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان، سینیٹر فیصل جاوید خان اور صوبائی وزیر علیم خان ، معاونِ خصوصی برائے سیاسی مواصلات ڈاکٹر شہباز گل اور وزیرِ اعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی مولانا طاہر اشرفی بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے
اسلام آباد: ڈرامے بازپاکستانی سیاسی لیڈروں پرخاموشی طاری:عمران خان نےاسرائیل کی مذمت بھی کردی مرمت بھی کردی ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں، رمضان میں قبلہ اول پراسرائیلی حملہ انسانیت اور عالمی قوانین کی توہین ہے۔
تفصیلات کے مطابق عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ اسرائیل کی جانب سے قبلہ اول مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر حملہ کیا گیا، فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
Strongly condemn Israeli Forces' attack esp during Ramazan on Palestinians in Qibla-e-Awaal, Al-Aqsa Mosque, violating all norms of humanity & int law. We reiterate support for Palestinian ppl. Int community must take immed action to protect Palestinians & their legitimate rights
وزیراعظم کا ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ ایک بار پھر فلسطینی عوام کی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فلسطینیوں کے جائز حقوق اور تحفظ کے لیے عالمی برادری فوری اقدامات کرے۔
عین اس وقت جب اسرائیل فلسطینیوں پربہت زیادہ مظالم ڈھا رہا ہے ، عمران خان کویہودی کہنے والے کسی مذہبی سیاسی لیڈرکویہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ اسرائیل کی چھترول کرے
نوازشریف ، شہبازشریف ، مریم نواز،بلاول بھٹوزرداری سمیت تمام نام نہاد سیاسی لیڈروں کےساتھ ساتھ ان کے حمایتی مذہبی ڈان بھی خاموش نظرآتے ہیٰں
خیال رہے کہ گزشتہ روز دفتر خارجہ کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ قابض اسرائیلی فورسز نے مسجد اقصیٰ میں معصوم نمازیوں پر حملہ کیا، پاکستان اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے، رمضان المبارک کے دوران ایسا حملہ انسانی اقدار اور حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
دفترخارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پر تشدد واقعے میں زخمی فلسطینیوں کی جلد صحتیابی کےلیےدعا گو ہیں، آزاد فلسطینی ریاست کے حصول کے لیے پاکستان فلسطین کی حمایت جاری رکھے گا، پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق 2 ریاستوں کے حل کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔
یاد رہے کہ ماہ رمضان کے آخری جمعے جمعتہ الوداع کے موقع پر نماز کی ادائیگی کے لیے ہزاروں فلسطینی مسجد اقصیٰ پر جمع ہوئے اور مسجد کے احاطے میں نماز ادا کی، اس دوران اسرائیلی فوج نے روایتی جارحیت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطینیوں کو مسجد کے اندر داخل ہونے سے روکنے کے لیے نمازیوں پر ربڑ کی گولیاں برسائیں، آنسو گیس کی شیلنگ کی اور کریکر پھینکے جس سے 200 سے زائد فلسطینی زخمی ہوگئے تھے۔
فلسطینیوں پر مظالم ، صدر مملکت اسرائیلی بربریت پر بول اٹھے
باغی ٹی وی : صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی بھی اسرائیل کے فلسطینیوں پر مظالم پر بول اٹھے انہوں نے نے کہا کتنی گھناوئنی بات ہے کہ فلسطینیوں پر اسرائیلی نسلی امتیاز اور مظالم جاری ہیں۔
مغربی میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہہ مسلمان نمازیوں یر حملوں کے مناظر کو مغربی میڈیا پر معمول کی جھڑپیں قرار دیا گیا۔
صدر پاکستان نے فلسطینیوں کو حوصلہ دیتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ میرے بھائی پر امید رہیں۔ وہ وقت دور نہیں جب بین الاقوامی سیاست ذاتی مفادات پر نہیں بلکہ اخلاقیات پر مبنی ہوگی ان شاء اللہ
کتنی گھناوئنی بات ہے کہ فلسطینیوں پر اسرائیلی نسلی امتیاز اور مظالم جاری ہیں۔ مسلمان نمازیوں یر حملوں کے مناظر کو مغربی میڈیا پر معمول کی جھڑپیں قرار دیا گیا۔ میرے بھائی پر امید رہیں۔ وہ وقت دور نہیں جب بین الاقوامی سیاست ذاتی مفادات پر نہیں بلکہ اخلاقیات پر مبنی ہوگی انشاللہ
خیال رہے کہ مقبوضہ فلسطین میں آج بھی اسرائیلی جارحیت جاری ہے۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی جانب سے بھی مسجداقصیٰ میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نہتےفلسطینی نمازیوں پرظالمانہ تشددنہایت بزدلانہ اقدام ہے، فلسطینی بھائیوں کےساتھ کھڑے ہیں۔ نام نہاد اسرائیلی ریاست فلسطینیوں کی تحریک آزادی کوزیادہ دیردبا نہیں سکتی۔
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ فلسطینی نمازیوں پر اسرائیلی فوج کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔اسرائیلی فوج کے حملے میں 200سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ۔ اسرائیلی فوج نے گزشتہ کئی ہفتوں سے فلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر رکھا ہے ،مسجد اقصیٰ میں داخلے کے قدیم راستوں کو بھی بند کیا جا رہا ہے ۔
بیت المقدس سے اسلامی، ثقافتی اور تاریخی نقوش کو مٹایا جا رہا ہے ۔ مسجد اقصیٰ مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک اور قبلہ اوّل ہے ،عالمی ضمیر اسرائیلی قبضے پر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے ،عالمی ادارے اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں سے باز رکھنے کیلئے اقدامات کریں،
مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب دوبارہ جھڑپیں شروع ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں مزی 50 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
بیت المقدس میں ایک مقامی طبی کارکن نے بتایا کہ القدس میں فلسطینی شہریوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان تازہ جھڑپوں کے بعد کے اسرائیلی پولیس کی نفری بڑھا دی گئی ہے۔
ہلال احمر فلسطین کے مطابق تازہ جھڑپوں میں القدس اور اس کے اطراف میں 53 زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 8 کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ہلال احمر کے مطابق اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینی شہریوںپر آنسوگیس کی شیلنگ، دھاتی گولیوں اور صوتی بموں کا استعمال کیا گیا۔
ریاض:وزیراعظم پاکستان کادورہ سعودی عرب انتہائی اہمیت کاحامل :عمران خان بلاشبہ عالم اسلام کےلیڈرہیں:،اطلاعات کے مطابق سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا دورہ سعودی عرب انتہائی اہمیت کا حامل ہے، سعودی ولی عہد بھی دورہ پاکستان کی خواہش رکھتے ہیں، خوشی ہے پاکستان اسلاموفوبیا سے نمٹنے کیلئے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
The Prime Minister of Pakistan's visit to Saudi Arabia is an important milestone in bilateral relations; The Kingdom is keen to further strengthen relations between the brotherly countries as well as enable broader economic cooperation. Welcome @imrankhanPTI 🇸🇦🇵🇰 pic.twitter.com/BpaILyZoGV
سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود کا خصوصی انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان کے دورے سے متعلق کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان بلاشبہ عالم اسلام کے لیڈرہیں اوران کے دل میں مسلمانوں کے لیے محبت کوٹ کوٹ کربھری ہوئی ہے
Had an excellent meeting with my brother General Qamar Javed Bajwa, Pakistan’s Chief of Army Staff, to discuss our defense relations and affirm our two countries’ goal to preserve regional peace and stability. pic.twitter.com/dUcfEyOhGy
— Khalid bin Salman خالد بن سلمان (@kbsalsaud) May 6, 2021
سعودی وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ سعودی قیادت بھی یہ سمجھتی ہےکہ پاکستان کوکرپشن ، بدعنوانی اورچوربازاری سے صرف عمران خان ہی نکال سکتے ہیں ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کے قریب رہا ہے اوروزیراعظم عمران خان کے دورمیںپاکستان اورسعودی عرب کے درمیان جوبہترین تعلقات ہیں وہ اس سے قبل نہیں تھے
۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے ٹی وی کو انٹرویو میں کہا کہ پاکستانی شہری سعودی عرب کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، دونوں ممالک کے 70 سال پر محیط تعلقات بہت اہم ہیں، ہم پاکستان کے ساتھ امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے پر بھی کام کر رہے ہیں۔
I was pleased to meet HE @SMQureshiPTI Pakistan Minister of foreign affairs today in Jeddah, we discussed the special relationship between our countries and the prospects for 🇸🇦-🇵🇰 cooperation in all fields. pic.twitter.com/ZxoUmFa2Ey
انھوں نے کہا دونوں ملکوں کی تاریخ میں وزیر اعظم عمران خان کا دورہ نہایت اہم ہے، ان کے دورے کے دوران انٹرویو پر خوشی ہے، اس دورے میں معاشی تعاون، سرمایہ کاری اور تجارت بڑھانے پر توجہ ہے، اعلیٰ سطح سمیت حکام کی سطح پر بھی دورے ہوں گے، سعودی ولی عہد بھی پاکستان کا دورہ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے دورے میں مخصوص پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا، مزید پاکستانی قیدیوں کی رہائی سے متعلق اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئےعمل پیرا ہے، دونوں ممالک ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے مل کر کام کر سکتے ہیں۔ خوشی ہے پاکستان اسلامو فوبیا سے نمٹنے کیلئے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، مسئلے سے متعلق اسلامی ممالک میں بات چیت ضروری ہے، اسلاموفوبیا کے خلاف او آئی سی کا کردار بھی اہم ہے۔
انھوں نے خوش خبری سنائی کہ پاکستانی افرادی قوت کے لیے سعودی عرب میں مزید مواقع پیدا ہوں گے، ہم پاکستانی افرادی قوت کو سعودی قوانین کے مطابق سہولت دے رہے ہیں، سرمایہ کار بھی دونوں ممالک میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری کی بہت گنجائش ہے۔
قبل ازیں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے جمعے کی شب وزیر اعظم عمران خان نے ملاقات کی جس کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان کئی معاہدوں پر بھی دستخط ہوئے ہیں۔ سعودی خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیراعظم پاکستان عمران خان نے قصر السلام جدہ کے ایوان شاہی میں مذاکرات کیے۔
انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے دو طرفہ تعلقات کے استحکام کے موضوع پر بات چیت کی۔ سعودی پاکستانی اعلی رابطہ کونسل کے معاہدے پر دستخط کیے۔ دونوں رہنماؤں کی موجودگی میں پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان دو معاہدوں اور دو مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔
مدینہ منورہ :وزیراعظم کی مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ پرحاضری:ملک وقوم کی سلامتی وخوشحالی کے لیے دعائیں بھی کیں،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے دورہ سعودی عرب میں روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری دی۔
اعلامیے کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وفد سمیت مسجد نبویﷺ پہنچے اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری دی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے مسجد نبوی ﷺ میں افطار کیا اور نمازِ مغرب ادا کی۔
وزیراعظم عمران خان نے اس مبارک موقع پر نبی رحمت ﷺ پردرودوسلام پیش کیے اوراللہ کے حضور ملک وقوم کی سلامتی وخوشحالی کے لیے دعائیں کیں
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان مدینہ منورہ پہنچے تو مدینہ منورہ میں داخل ہونے سے پہلےجوتے اتارلیئے ،وزیراعظم عمران خان روضہ رسول صلی اللہ علی والہ وسلم پر حاضری کیلئے مدینہ منورہ پہنچ گئے۔مدینہ ائیرپورٹ پر وزیرِ اعظم کا استقبال گورنر مدینہ منورہ امیر فیصل بن سلمان بن عبدالعزیز نے کیا۔
اس دوران وزیراعظم ہاؤس کے آفیشل اکاؤنٹ سے تصاویر بھی شیئر کی گئی ہیں جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مدینہ ائیرپورٹ پر جہاز سے اترتے ہوئے وزیراعظم نے جوتے نہیں پہن رکھے اور وہ وفد کے ساتھ بغیر جوتوں کے ہی جارہے ہیں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل بھی وزیراعظم عمران خان جوتے اتار کر مدینہ کی سرزمین پر قدم رکھا ہے جبکہ اس حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مدینہ منورہ میں بغیر جوتوں کے آنا نبی ﷺ کے احترام میں تھا۔
ریاض:وزیراعظم کا دورہ سعودی عرب:مشترکہ اعلامیہ جاری:وزیراعظم عمران خان ہمارے دلوں کی دھڑکن:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیر اعظم پاکستان کا پرتپاک استقبال کیا، ملاقات میں دونوں رہنماوں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا، فریقین نےدونوں برادرممالک کےدرمیان تمام شعبوں میں تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔
سعودی ولی عہد نے پاکستان کوترقی یافتہ فلاحی ریاست میں تبدیل کرنےکے وزیراعظم کے وژن کی حمایت کی یقین دہانی بھی کرائی۔
سعودی ولی عہد نے وزیراعظم پاکستان کواپنے دلوں کی دھڑکن قراردیتے ہوئے عالم اسلام کے عظیم رہنما قراردیا
اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ وزیراعظم نےاسلامی اتحاد کے فروغ میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان کےقائدانہ کردارکی تعریف کی، وزیراعظم نےعالم اسلام کودرپیش مسائل کے حل میں سعودی عرب کےمثبت کردار اورکوششوں کی تعریف کی،وزیراعظم نےعلاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سعودی عرب کےکردار کو سراہا۔
دونوں رہنماؤں نےباہمی تعاون کوفروغ دینے کے لیے سعودی پاکستان سپریم کو آرڈینیشن کونسل کےآغاز کااعلان کیا۔
دونوں ممالک نے یمن تنازع کے جامع سیاسی حل کی کوششوں کی حمایت اعادہ کیا، اور سعودی سرزمین پراہم تنصیبات اورشہریوں کےخلاف بیلسٹک میزائلوں اورڈرون حملوں کی مذمت کی گئی جب کہ تیل برآمدات اور توانائی کی فراہمی کے استحکام کو لاحق خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
وزیراعظم عمران خان نے یمن میں بحران کے حل کے لیے سعودی عرب کے کردار کی تعریف کی جب کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہا، دونوں فریقین نے افغان تنازع کے وسیع البنیاد اور جامع سیاسی حل پر زور دیا اور افغان امن عمل میں باہمی مشاورت جاری رکھنے پراتفاق کیا۔
اعلامیے کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب نےکثیر الجہتی حمایت جاری رکھنے اور باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔
سعودی ولی عہد نے ایل او سی پرجنگ بندی کےحوالے سے متعلق پاکستان اوربھارت کے مابین حالیہ مفاہمت کاخیرمقدم کیا اور مقبوضہ کشمیر تنازع کے حل کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیر اعظم نے سعودی عرب کو جی 20 سربراہی اجلاسوں کی کامیابی اور مثبت فیصلوں پر مبارکباد دی،فریقین نے ویژن 2030 کی روشنی میں ممکنہ سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال اور اقتصادی ترقی اور تجارتی تعلقات کو بڑھانے کے طریقوں پر بات چیت کی، دونوں فریقوں کا دوطرفہ عسکری اور سیکیورٹی تعلقات میں موجودہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے عالم اسلام سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا، اس دوران انتہاپسندی اورفرقہ واریت کا مقابلہ کرنےسمیت مسلم امہ کو درپیش چیلنجز زیر غور آئے، بین الاقوامی امن وسلامتی کےحصول کے لیے مسلم ممالک کی طرف سے ٹھوس کوششوں کی ضرورت پرزور دیا گیا۔
دونوں فریقین نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا، پاک سعودی قیادت نے اتفاق کیا کہ دہشت گردی کسی مذہب،قومیت ، تہذیب یا نسلی گروہ سے وابستہ نہیں ہوسکتی۔
دونوں رہنماؤں نے فلسطینی عوام کے تمام جائزحقوق، بالخصوص حق خودارادیت اور آزاد ریاست کے مطالبے کی حمایت کی،شام اور لیبیا کے مسائل کے سیاسی حل کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
سئنیر اینکر پرسن و صحافی مبشر لقمان نے اپنے یوٹیوب چینل مبشر لقمان آفیشل پر جاری کردہ ویڈیو میں کہا کہ اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ عمران خان کی حمایت میں پیچھے
کیوں ہٹ گئے ہیں ۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ایک غلط سوال ہے، میری جدو جہد ہمیشہ اسٹیٹس کو
کے خلاف رہی ہے میں بھی بحثیت پاکستانی دیگر بائیس کروڑ پاکستانیوں کی طرح چاہتا ہوں کہ پاکستان ترقی کرے اور پاکستان کو لوٹ کھسوٹ کر بیرون ملک جائیدادیں بنانے والوں سے اسے نجات ملے۔ اس حوالے سے آپ کو جو صحیح لگتا ہے اسے آپ اپنی عقل ا ور حقائق کے مطابق سپورٹ کرتے ہیں۔ مجھے الہام تو نہیں ہونا تھا کہ عمران خان اپنے دور حکومت میں اتنے یو ٹرن لیں گے کہ پاکستان ایک چوک بن جائے گا۔ مجھے جو غلط نظر آیا میں نے اس کے خلاف آواز آٹھائی اور جو صحیح لگا اس کو سپورٹ کیا ۔ اور آج بھی میں کسی پولیٹیکل پارٹی نہیں پاکستان کے ساتھ کھٖڑا ہوں۔
سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہی میری بنیادی زمرہ داری ہے۔ عمران خان کے دور حکومت کے ڈھائی سال پر اگر ہم نظر ڈالیں اور سوچین کہ ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا تو ایسا لگتا ہے پوری قوم نے کھویا ہی کھویا ہے۔
عمران خان سے اللہ نے جو بڑا کام لیا ہے وہ یہ ہے کہ اس نے ایک ہی بال میں تمام سیاسی مداریوں کو بولڈ کر دیا۔ اپوزیشن اتنی بے بس تھی کہ پاکستان کی تاریخ میں شائد کبھی نہ ہو، قوم نے عمران خان کو امید پر ووٹ دیا اور بڑی امیدیں لگائیں، اداروں نے عمران خان کا اتنا ساتھ دیا کہ ان پر پارٹی بننے کا الزام تک لگ گیا۔ لیکن اس کے بعد کیا ہوا صرف بربادی ہی بربادی پاکستان کا مقدر بن گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی اتنی کہ اللہ کی پناہ۔ کسی غرب آدمی نے پکوڑے بھی کھانے ہوں تو وہ دس دفعہ سوچتا ہے۔ آٹا۔ چینی، تیل، سبزیاں فروٹ، بجلی، گیس ہر چیز کو پر لگ گیا، مافیا نے جتنا خون اس دور حکومت میں غریب عوام کا چوسا ہے شائد ہی کبھی چوسا ہو۔ گندم کا بحران آیا تو اربوں روپے کی باہر سے مہنگی گندم منگوائی گئی۔ جبکہ پاکستان میں کسان کو گندم کی صحیح قیمت دینے کے لیئے تیار نہیں۔ چینی مافیا کو کنٹرول کرنے کی بات کی تو چینی کی قیمت کنٹرول سے باہر ہو گئی اور آج کے دن تک رمضان بازاروں اور یوٹیلٹی اسٹورز پر غریب آدمی گرمی میں لمبی لمبی لائنوں میں کھڑا نظر آتا ہے۔ کسی بھی چیز پر پلاننگ سے پہلے اس پر ہاتھ ڈالنے کا یہی انجام ہوتا ہے۔
عمران خان کی ذات میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں، وہ ضدی ہوتے جا رہے ہیں اور پالشی ٹولہ جو ان کی ہاں میں ہاں ملائے وہ ان کے سب سے قریب ہے جن کا دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن سے پہلے کسی نے نام بھی نہیں سنا تھا۔
منتخب نمائندے پریشان ہیں۔ جو عمران خان کی برائیاں کرتے تھے نظریہ ضرورت کے تحت ان کو اپنا مشر بنا لیا گیا۔ جس پی ٹی آئی نے تبدیلی کا خواب دیکھا تھا وہ خود تبدیل ہو گئی۔
سینئیر اینکر پرسن مبشر لقمان نے مزید کہا کہ اپوزیشن کا ہر وہ قدم جس پر عمران خان نے تنقید کی خود بڑے فخر سے اس پر عمل کیا۔۔
ملک کو آئی ایم ایف کی گود میں ڈال دیا گیا،
فی ارکان اسمبلی کو سینٹ الیکشن میں پانچ سو
ملین کا ترقیاتی پیکج دیا، قرضے لیئے اور بجلی اور گیس کی قیمتوں سمیت مہنگائی کے طوفان کو ڈالر سے جوڑ دیا۔ گزشتہ چار ماہ سے ڈالر نیچے جا رہا ہے مگر مہنگائی پھر بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔
مستقل مزاجی کا یہ عالم ہے کہ ہمیں اقتدار میں آنے سے تین سال پہلے بتا دیا گیا کہ اسد عمر سمیت ہر چیز کی ٹیم تیار ہے۔ نوے دنوں میں ملک کی تقدیر بدل دیں گے۔ پھر اقتدار میں آتے ہی پتا چلا کہ اسدعمر معیشت نہیں چلا سکتے ان کی جگہ حفیظ شیخ کو لے آئے انہوں نے اس ملک کی معیشت کے ساتھ کھلواڑ کیا اور پھر جب وہ سینٹ الیکشن کے بعد استعفی دینے آئے تو ان سے استعفی نہیں لیا بلکہ پندرہ دن بعد خود انہیں ذلیل و رسوا کر کے نکال دیا۔ پندرہ دن میں ایسی کیا تبدیلی آگئی حالات میں۔۔؟
کوئی بھی وزارت اٹھا کے دیکھ لیں ہر وزیر تین چار دفعہ تبدیل ہو چکا ہے۔ انہیں جیسے تبدیل کیا جا رہا ہے ایسے تو کوئی میچ میں فیلڈنگ نہیں تبدیل کرتا۔ اگر وہ ایک منسٹری میں نہیں چل رہے تو
یا
تو وہ نااہل ہیں یا پھر کرپٹ۔ تیسری کوئی وجہ ہے نہیں۔ تو پھر نا اہل یا کرپٹ بندے سے ایک وزارت لے کر دوسری دینے سے کیا تبدیلی آئے گی۔
وزارت داخلہ، اطلاعات، اقتصادی امور، ریلوے،صحت سب کی ایک ہی کہانی ہے
عامر کیانی پر ادوایات کی قیمتوں میں کئی سو گنا اضافہ کا الزام آیا تو انہیں فارغ کر کے پارٹی کا سیکرٹری جنرل بنا دیا گیا ان کی جگہ پر ظفر مرازا آئے تو وہ بھی چھپے رستم نکلے اور انہوں نے وبا کے دوران ماسک اور ادوات پر ایسا گھناونا کھیل کھیلا کہ ڈاکو بھی شرما جائیں۔ انہیں گھر بھیج دیا گیا۔۔ لیکن احتساب نہیں کیا گیا۔۔
پھر پٹرولیم کی بات کریں تو وہاں ندیم بابر نے ایسے گل کہلائے، مافیا کے آلہ کار بنے اور ملک میں پٹرول بحران پیدا کروا کر غریبوں کی جیب پر ڈاکہ ڈالا گیا۔ انہیں بھی فارغ کیا گیا مگر احتساب نہیں کیا گیا۔
جن وزیروں کی فیملیوں کے نام شوگر اسکینڈل میں آئے وہ ابھی تک وزارتوں پر براجماں ہیں۔ کیوں کیونکہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔
لوگوں کو دیکھانا ہے کہ عمران خان کتنے سخت ہیں تو دوہزار اٹھارہ کے سینٹ الیکشن میں دوسروں کو ووٹ دینے والوں کو فارغ کر دیا گیا جب یہی معاملہ حفیظ شیخ کے معاملے میں پیش آیا تو خاموشی اختیار کر لی کیونکہ قومی اسمبلی کے ارکان کو چھیڑنے کا مطلب تھا عمران خان گھر جائیں۔
عاطف خان اور شہرام ترکئی وزیر اعلی کے خلاف بات کریں تو پارٹی ڈسپلن پر انہیں وزارتوں سے فارغ کر دیں، یہی کام پنجاب میں ہو تو نظریہ ضرورت کا شکار ہو کر خاموشی اختیار کر لیں۔ کیونکہ سیٹیں کم ہیں ۔۔ترین کے خلاف احتساب کا نعرہ لگائیں ، ہم خیال سامنے آئیں تو بیک چینل ڈپلومیسی شروع ہو جائے۔اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ عمران خان نے اس ملک کا صدر، تین گورنر دو وزیر اعلی اور سینکڑوں وزیر اور مشیر اپنی مرضی سے لگائے اگر وہ کام نہیں کریں گے تو الزام عمران خان پر نہیں آئے گا تو اور کس پر آئے گا۔
ہمارا لینا دینا رزلٹ سے ہے،
اس ملک کی ترقی سے ہے
اس ملک کی سالمیت سے ہے۔
آج ڈھائی سال کے بعد شوکت ترین بتا رہے ہیں کہ ملک کی معیشت تباہ ہو گئی ہے جبکہ عمران خان کئی ماہ سے بتا رہے ہیں کہ ملکی معیشت درست سمت پرچڑھ گئی ہے۔ اگر درست سمت پر ہے تو انہی کا وزیر خزانہ کیوں ہرزہ سرائی کر رہا ہے کوئی ہے جو ان سے پوچھے۔
صحت کے نظام میں ایک کوڑی کا کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، تعلیم کا نظام برباد ہو چکا ہے رہی سہتی کسر کرونا نے نکال دی ہے۔
آئی ٹی کا ایک وزیر چاند اور عید کی تاریخ پر پورے ملک میں قہرام مچوا دیتا ہے تو نیا
وزیر آکر کہتا ہے کہ یہ تو اس وزارت کا کام ہی نہیں۔ نہ کوئی وژن ہے نہ ہی کوئی منصوبہ بندی، جس طرح مزدور دیہاڑی لگاتا ہے اسی طرح یہ حکومت بھی دن پورے کر رہی ہے۔
اور تو اور کار مافیا نے پاکستان کی تاریخ کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں اور ایک سال میں چا رچار دفعہ قیمتیں بڑھائی ہیں لیکن حکومت بے بس ہے۔
مہنگائی ڈالر کی وجہ سے، ملک کی بربادی سابقہ حکمرانون کی وجہ سے،معیشت کی بربادی قرضے کی وجہ سے، انصاف عدالتوں کی وجہ سے۔ قصہ مختصر ہر چیز کسی نہ کسی کی وجہ سے خراب ہے تو آپ نے ڈھائی سال میں ٹھیک کیا کیا ہے۔کوئی ایک چیز ہی بتا دیں۔
چاہے معاملہ تحریک لبیک کا ہو یا کوئی اور اسے انتہائی بھونڈے طریقے سے ڈیل کیا گیا، لاک ڈاون نہیں لگانا تو کرونا ایک عام سا فلو ہے ڈرنے کی ضرورت نہیں اور جب وہ پھیلنے لگے تو عوام کو ذمہ دار ٹھہرا کر ہاتھ جھاڑ دو۔ کرونا ویکسین کی بات کرو تو ابھی تک ایک فیصد پاکستانیوں کو بھی یہ نہیں لگی ہے۔
احتساب کی بات کرو تو پاکستان کی تاریخ میں سب سے بھونڈا
مزاق احتساب کے نام پر اس دور حکومت میں ہوا ہے کسی ایک بھی قابل ذکر سیاست دان سے ایک دھیلی بھی وصو ل نہ کیا جا سکا۔
بھارت سے تعلقات کی بات آتی ہے تو ایک دن ای ای سی بھارت سے چینی اور کپاس کی برآمد کی اجازت دیتی ہے تو اگلے دن عوامی تنقید پر قابینہ مکر جاتی ہے۔ سعودی عرب کے خلاف شاہ محمود قریشی بیان دیتے ہیں اور پھر اس کا انجام سب کےسامنے ہے۔ کبھی ریاست مدینہ کا درس اور کبھی مغرب کی تہذیب اور کبھی چین کا معاشی نظام۔۔ آج تک کسی بھی چیز پر ایک قدم بھی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
عمر شیخ کو لاہور کا سی سی پی او لگانے سے لے کر ن لیگ کو این آر او دینے تک ہر چیز پر یو ٹرن لیئے گئے۔
ہمیں بتایا گیا کہ پاکستان پر سابقہ حکمرانوں نے تیس ہزار ارب کے قرضے چڑھا دیئے ہیں۔ لیکن اب یہ کوئی نہیں بتا رہا کہ ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ قرضے عمران خان کے دور حکومت میں لیئے گئے اور آج ملک پر 45ہزار ارب کے قرضے ہیں۔ وزیروں مشیروں کے پروٹوکول جاری ہیں۔ کوئی ایک چیز بتا دیں کہ عمران خان کے آنے سے یہ ٹھیک ہوئی۔
نہ گورنر ہاوس گرائے گئے اور نہ وزیر اعظم ہاوس کو یونیورسٹی میں بدلا گیا۔ جب کر نہیں سکتے تو کہتے کیوں ہو ۔۔ کیوں عوام کو غلط امید دلواتے ہو۔ کیوں ان کی امیدوں کا جنازہ نکالتے ہو۔
اب کب تک ہم عمران خان کے دیئے ہوئے لالی پاپ
کے سہارے تلخ حقائق کو نطر انداز کرتے رہیں گے۔ پنجاب کی بات کریں تو صرف ایک نام ہی کافی ہے اور وہ ہے
عثمان بزدار۔۔ وہ کہتے ہیں نہ نام ہی کافی ہے عثمان بزدار کا نام لیتے ہی۔ تباہی اور بربادی کی تمام تصویریں نظروں کے سامنے آجاتی ہیں۔
فارن پالیسی کی بات کریں تو حکومت عمران خان کی ہے اور امریکی سفیر کبھی حمزہ شہباز سے مل رہا ہے تو کبھی چینی سفیر شہباز شریف سے مل رہا ہے کیوں ۔۔
کیونکہ وہ یہ پیغام دے رہے ہیں کہ عمران خان کے ساتھ ہم نہیں چل سکتے۔ وہ قابل اعتبار نہیں اس کو سوچ اور فیصلے ہر روز بدلتے ہیں۔ اور ملکوں میں تعلقات مستقل مزاجی کی بنیاد پر چلتے ہیں۔
میری یہ ویڈیو ابھی صرف ایک ٹریلر ہے آنے والے دنوں میں ہم ان ڈھائی سالوں میں ملکی بربادی کی داستانوں سے مزید پردہ ا ٹھائیں گے۔
نئی دہلی :عمران خان سعودی حکمرانوں کےدلوں پرقبضہ کرنےمیں کامیاب:مسئلہ کشمیرپرسعودی بیان واضح دلیل ہے:بھارتی تھنک ٹینک نھے واویلہ شروع کردیا،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے موقع پرمشترکہ اعلامیہ میں مسئلہ کشمیرکواقوام متحدہ کی قراردادوں اورکشمیریوں کی خواہش کے مطابق حل کرنے پرسعودی تاکید نے بھارتی ایوانوں میں زلزلہ برپا کردیا ہے
Pakistan, Saudi Arabia joint statement released. Saudi Crown Prince welcomed India Pak pact of Feb, also mentions,"importance of dialogue between India, Pak" to resolve "outstanding issues between 2 countries" pic.twitter.com/A1T6TLqfb8
ذرائع کے مطابق اس حوالے سے بھارتی تھنک ٹینکس مسلسل اسے پاکستان کی فتح جبکہ بھارت کی شکست سے تعبیرکررہےہیں ، ادھر باغی ٹی وی کوبھارتی خفیہ ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہےکہ دہلی اس وقت اس قدرپریشان ہے کہ مودی اوربھارتی جرنیلوں کا کل چھٹی کے دان اجلاس بلالیا گیا ہے یہ اجلاس کہاں اورکب ہوگا اس کوخفیہ رکھا جارہا ہے
باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان اورآرمی چیف جنرل قمرجاوید کے دورہ سعودی عرب کوبھارت،امریکہ اوراسرائیل بہت کوبڑی گہری نظرسے دیکھ رہےہیں اوراس دورے کا تمام پہلووں سے جائزہ بھی لے رہےہیں
ادھرسعودی عرب سے ملنے والی اطلاعات کے بعد بھارتی ایوانوں میں اس قدرزلزلہ برپا ہوا ہےکہ دفاعی تجزیہ نگارسدھنت سبال جوہمیشہ سعودی عرب اوربھارتی دوستی پرفخریہ تجزیے تبصرے اورکالم لکھا کرتے تھے آج اس وقت سے ان کے رونے کی آوازیں دوردور تک سنائی دے رہی ہیں
سدھنت سبال کہتے ہیں کہ سعودی عرب اورپاکستان کے مشترکہ اعلامیے میں سعودی عرب کی طرف سے جس طرح مسئلہ کشمیرپرموقف دیا گیا ہے اس سے صاف ظاہرہوتا ہے کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے سعودی حکمرانوں کے دلوں پرقبضہ کرلیا ہے
سدھنت سبال کہتے ہیں کہ سعودی عرب کا یہ کہنا کہ مسئلہ کشمیرکواقوام متحدہ کی قراردادوں اورکشمیریوںکی مرضی کےمطابق حل کیا جائے یہی توپاکستان کی فتح ہے اورآج سعودی عرب نے پاکستان کے پلڑے میں اپنا ووٹ ڈال دیا ہے
سدھنت سبال کہتے ہیں کہ سعودی حکومت کی طرف سے لائن آف کنٹرول پرفائربندی کے معاملے کا ذکرچھیڑکراصل میں پاکستانی موقف کی حمایت کی ہے جس سے صاف ظاہرہوتا ہے کہ سعودی عرب اب بھارت سے عام معاملات زندگی تک توتعلقات کوضرور رکھے گا مگراسٹریٹجک تعلقات صرف پاکستان سے ہی ہوں اوریہی پاکستان کی کامیابی ہے