Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • نوازشریف مسجد میں جوتوں سمیت داخل:مسجد کےتقدس کی       بیحرمتی:اسلامک سینٹرکا بھی اسی حالت میں دورہ کیا

    نوازشریف مسجد میں جوتوں سمیت داخل:مسجد کےتقدس کی بیحرمتی:اسلامک سینٹرکا بھی اسی حالت میں دورہ کیا

    لندن:ریجنٹ پارک اسلامک سنٹرکی مسجد میں سابق وزیراعظم نوازشریف جوتوں سمیت داخل ہوگئے:اسلامک سینٹرکا بھی اسی حالت میں دورہ ،اطلاعات کےمطابق آج 24 رمضان المبارک کومیاں نوازشریف لندن کی مسجد میں پہنچ گئے

    ذرائع کےمطابق لندن کے ریجنٹ پارک اسلامک سنٹر میں سابق وزیراعظم نوازشریف جوتوں سمیت داخل ہوگئے:سابق وزیراعظم کو قرآن وحدیث کی لائبریری بھی کا وزٹ کروایا گیا ، اس وزٹ کےدوران بھی سابق وزیراعظم اسی حالت میں نظرآئے

     

    اس حوالے سے لندن سے آنے والی خبروں اورکچھ ویڈیوزمیں دیکھا جاسکتا ہےکہ نوازشریف جب مسجد میں نمازادا کرنے کے لیے پہنچے تووہ مسجد کے تقدس کا خیال رکھے بغیرجوتوں سمیت صفوں کو پامال کرتے ہوئےمسجد میں داخل ہوئے

    اس ویڈیو کے دوران اسحاق ڈار ، عابد شیر علی اوران کے دیگرساتھیوں نے بھی نوازشریف کی اطاعت میں مسجد میں داخل ہوتے ہوئے جوتے نہیں اتارے اورایسے ہی صفوں کو پامال کرتے ہوئے وہاں‌پہنچے

    جبکہ دوسری ویڈیو میں بھی دیکھا جاسکتا ہےکہ نوازشریف اسلامک سینٹرکے مقدس مقامات کے دورے کے دوران بھی اسی انداز سے چلتے رہے

    اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہےکہ جب میاں نوازشریف اپنے ساتھیوں کے ہمراہ قرآن وحدیث کی لائبریری میں داخل ہوئے تووہاں بھی جوتے اتارے بغیرداخل ہوئے

    اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا جاسکتا ہےکہ اس دوران مسجد انتظامیہ کی طرف سے میاں نوازشریف کومسجد اورلائبریری اورایسے ہی دیگر مقدس مقامات اورشعبوں سےمتلعق تعارف کروایا گیا ہے

     

    دوسری طرف ان ویڈیوز کودیکھنے کے بعد دنیا بھرسے میاں نوازشریف کی طرف سے مسجد کی بیحرمتی کرنے پرسخت تنقید کی جارہی ہے، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ نوازشریف نے مسجد میں بھی جاکراپنے آپ کومتکبرانہ اندازمیں ظاہرکرکے پاکستانیوں سمیت دیگرمسلم دنیا کودکھ دینے والا منظردکھایا ہے

    اکثرصارفین کا کہنا ہےکہ میاں نوازشریف کواپنے اس عمل پرمعافی مانگنی چاہیے اورمحض پاکستانیوں کو متاثرکرنے کے لیے ایسے گھنوئنے ہتھکنڈوں سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ یہ دین ہے سیاست نہیں

  • عدالتوں میں کیاچل رہا ہے،غریب کوکوئی پوچھتانہیں   :کرپٹ اورطاقتوروں کولندن بھیج دیاجاتاہے:فوادچوہدری

    عدالتوں میں کیاچل رہا ہے،غریب کوکوئی پوچھتانہیں :کرپٹ اورطاقتوروں کولندن بھیج دیاجاتاہے:فوادچوہدری

    لاہور:عدالتوں میں کیا چل رہا ہے ،غریب کوکوئی پوچھتا نہیں:کرپٹ اورطاقتوروں کولندن بھیج دیا جاتاہے:اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہےکہ پاکستان میں بہت عجیب عدالتی نظام چل رہا ہے، اسی معاشرے میں غریب کو کوئی پوچھتا نہیں ، چھوٹی چھوٹی غلطیوں پربرسوں جیل کاٹنا پڑتی ہے اورامیر، طاقتوروں اورکرپٹ سیاسی وڈیروں کولندن بھیجنے میں عدالتی مدد کی جاتی ہے ،

    ذرائع کےمطابق پاکستان مسلم لیگ ن کی صدر میاں محمد شہباز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت کے بعد رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ میں ملوث قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کو باہر جانے کی اجازت دینا قانون کے ساتھ مذاق ہے۔

     

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر انہوں نے لکھا کہ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ میں ملوث شہباز شریف کو باہر جانے کی اجازت دینا قانون کے ساتھ مذاق ہے،اتنا جلد فیصلہ تو پنچائیت میں نہیں ہوتا۔

    فواد چودھری نے کہا کہ اس طرح سے ان کا فرار ہونا بدقسمتی ہو گی، اس سے پہلے وہ نواز شریف کی واپسی کی گارنٹی دے چکے ہیں سوال یہ ہے کہ اس گارنٹی کا کیا بنا؟

     

    وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ فیصلے کے خلاف تمام قانونی راستے اختیار کریں گے، ہمارے نظام عدل کی کمزوریوں کی وزیر اعظم کئی بار نشاندہی کر چکے ہیں لیکن اپوزیشن اصلاحات پر تیار نہیں اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس بوسیدہ نظام سے ان کے مفاد وابستہ ہیں۔

    دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل نے ٹویٹر پر لکھا کہ شہباز شریف کی بیرون ملک روانگی کی اجازت حیران کن فیصلہ ہے۔

     

    پہلے بھائی کی جھوٹی ضمانت دی اسے باہر بھاگنے میں مدد دی جو کبھی واپس نہیں آئے- اب وہ مفرور قرار ہیں۔ کیا انہیں ایک مفرور کی معاونت میں اندر نہیں ہونا چاہیے تھا۔ 35 سال کی حکومت میں ایک ہسپتال ایسا نہیں جہاں ان کا علاج ہو سکے

     

    ایسے ہی سوشل میڈیا پربھی بہت زیادہ سخت ردعمل آرہا ہےکہ لاکھوں پاکستانیوں کیطرف سے عدالت کے دہرے معیارپرسخت تنقید کی جارہی ہے اوریہ بھی کہا جارہا ہےکہ عدالتیں بھی پاکستان کوبدلتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتیں اوراس بے بس قوم کوان سیاسی خداوں کے رحم وکرم پرچھوڑ کرعدل کے تقاضے پورے کرنا چاہتی ہیں

    یہ بھی کہا جارہا ہےکہ اگرعدالتوں نے امیروں کےلیے انصاف کے الگ پیمانے ہی رکھے ہیں اورکوئی اصلاح کی گنجائش نہیں توپھرنہ تو کوئی تبدیلی آئے گی اورنہ ہی یہ قوم کبھی بھی اس آزمائش سے نکل سکے گی ایسے ہی جمہوری ڈکٹیٹروں کے تھپیڑے کھاکربے بسی کی زندگیاں گزارنے پرمجبوررہیں گے

  • شہباز شریف کو عدالت نے بڑی خوشخبری سنادی

    شہباز شریف کو عدالت نے بڑی خوشخبری سنادی

    شہباز شریف کو عدالت نے بڑی خوشخبری سنادی

    باغی ٹی وی :لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف کو بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دیدی ۔

    پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف کے بیرون ملک جانے پر لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ سنا دیاجسٹس علی باقر نجفی نے بلیک لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ سنایا.

    عدالت نے لیگی صدر کو 8 ہفتے کے لیے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دیدی۔

    عدالت نے آئندہ سماعت پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرکے تفصیلی رپورٹ اور جواب طلب کر لیا ہے۔

    اس سے پہلے شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کیلئے درخواست پر ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    سرکاری وکیل نے شہباز شریف کی درخواست پر اعتراض اٹھایا کہ شہباز شریف نے درخواست میں ہیں لکھاکہ ایمرجنسی میں جانا ہے۔ کہتے ہیں کہ 20 مئی کو ڈاکٹر سے اپوائنٹمنٹ ہے۔

    یہ کیسے ہو سکتا ہے وہ قطر میں 10 دن قرنطینہ کریں؟ قرنطینہ کم سے کم 14 دن کے لیے ہوتا ہے۔ شہبازشریف اگر پہلے قطر جاتے ہیں اور پھر برطانیہ تو 20 مئی تک کیسے معائنہ کراسکتے ہیں؟

    عدالت نے سرکاری وکیل سے سوال کیا آپ بتائیں کہ شہبازشریف کا نام بلیک لسٹ میں ہے یا نہیں؟ ایک ایسا شخص جس کی ضمانت ہو چکی ہے اور ای سی ایل میں نام بھی نہیں ہے۔ شہباز شریف اپوزیشن لیڈر ہیں اور پہلے دو مرتبہ جا کر واپس آچکے ہیں۔ہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف پہلے بھی مشروط اجازت پر بیرون ملک جا چکے ہیں۔

  • آرمی چیف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے اہم  ملاقات

    آرمی چیف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے اہم ملاقات

    آرمی چیف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات

    باغی ٹی وی : چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آج جدہ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبد العزیز آل سعود اور نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبد العزیز آل سعود سے ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور ، علاقائی سلامتی کی صورتحال سمیت افغان امن عمل میں حالیہ پیشرفت ، دوطرفہ دفاع ، سلامتی ، علاقائی امن کے لئے باہمی تعاون اور رابطوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ اور حرمین شریفین کے دفاع کے اپنے عزم پر قائم ہے۔ ولی عہد شہزادہ نے علاقائی امن و استحکام کے لئے پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے مابین تعلقات اخوت اور باہمی اعتماد کے مابین تعلقات پر مبنی ہیں اور دونوں قومیں امت مسلمہ کے امن ، استحکام اور بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی۔

  • کیپٹن فہیم عباس سمیت شہید تینوں سپوتوں  کی نماز جنازہ ادا

    کیپٹن فہیم عباس سمیت شہید تینوں سپوتوں کی نماز جنازہ ادا

    کیپٹن فہیم عباس سمیت شہید تینوں سپوتوں کی نماز جنازہ ادا

    باغی ٹی وی : شمالی وزیرستان کے علاقے ڈوسالی میں شہید ہونے والے جوانوں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی . شہدا میں کیپٹن فہیم عباس، سپاہی نعیم شاہ، سپاہی شفیع اللہ شامل تھے،تینوں سپوت مادر وطن کا دفاع کرتے ڈوسالی میں شہید ہو گئے تھے.نماز جنازہ میں سول اور فوجی حکام کی بڑی تعداد نے شرکت کی،

    نماز جنازہ ان کے آبائی علاقہ رائیسان میں ادا کی گئی، نماز جنازہ میں فوجی افسران سول انتظامیہ اور پولیس کے افسران سمیت علاقہ عمائدین نے کثیر تعداد میں شرکت کی، پاک فوج کے چاک و چوبند دستے نے شہید کے قبر پر سلامی دی۔

  • ن لیگ کے اہم رہنما کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری دے دی گئی

    ن لیگ کے اہم رہنما کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری دے دی گئی

    ن لیگ کے اہم رہنما کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری دے دی گئی

    باغی ٹی وی : وفاقی کابینہ نے احسن اقبال کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری دے دی.احسن اقبال کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری سرکلر سمری کے ذریعے دی گئی،احسن اقبال کے خلاف ناروال ا سپورٹس سٹی کیس احتساب عدالت میں زیر سماعت ہے.
    نیب کی درخواست پر احسن اقبال کانام ای سی ایل میں ڈال دیاگیا.

    تحریک انصاف کا یوٹرن، نواز شریف کے قریبی ساتھی جو نیب ریڈار پر ہے بڑا عہدہ دے دیا

    نیب کی غفلت سے میرا بازو مستقل ٹیڑھا ہو گیا، احسن اقبال نیب اور حکومت پر برس پڑے

    احسن اقبال کے خلاف ریفرنس کب تک دائر کیا جائے؟ عدالت نے نیب کو بڑا حکم دے دیا

    نواز شریف کے قریبی دوست میاں منشا کی کمپنی کو نوازنے پر نیب کی تحقیقات کا آغاز

    نواز شریف سے جیل میں نیب نے کتنے گھنٹے تحقیقات کی؟

    نیب کی غفلت سے میرا بازو مستقل ٹیڑھا ہو گیا، احسن اقبال نیب اور حکومت پر برس پڑے

    ناروال اسپورٹس کمپلیکس کیس،ریفرنس دائر ہونے کے بعد احسن اقبال نے کیا مطالبہ کر دیا؟

    واضح رہے کہ احسن اقبال کو نیب نے گرفتار کیا تھا، احسن اقبال کو عدالت نے ضمانت پر رہا کیا تھاجس کے بعدوہ اڈیالہ جیل سے رہا ہوئے تھے، جیل سے رہا ہوتے ہی احسن اقبال کو نیب نے دوبارہ طلب کر کے پاسپورٹ جمع کروانے کا کہا تھا تا کہ وہ بیرون ملک فرار نہ ہو سکیں

    نیب کے مطابق احسن اقبال نے بطور وزیر منصوبہ بندی اختیارات کا نا جائز استعمال کیا ،احسن اقبال نے نارووال اسپورٹس منصوبےکی لاگت کوغیرقانونی طور پر بڑھایا ،ساڑھے 3 کروڑ روپے کے منصوبے کی لاگت 10کروڑ روپے تک پہنچ گئی،لاگت بڑھانے کی اجازت سنٹرل ڈویلوپمنٹ ورکنگ پارٹی سے نہیں لی گئی

  • امت مسلمہ کے لیے بڑی خوشخبری، عمران خان کی محمد بن سلمان سے ملاقات، ایران اور سعودی عرب میں کچھ بڑا ہونے والا ہے .

    امت مسلمہ کے لیے بڑی خوشخبری، عمران خان کی محمد بن سلمان سے ملاقات، ایران اور سعودی عرب میں کچھ بڑا ہونے والا ہے .

    امت مسلمہ کے لیے بڑی خوشخبری، عمران خان کی محمد بن سلمان سے ملاقات، ایران اور سعودی عرب میں کچھ بڑا ہونے والا ہے .

    باغی ٹی وی :سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کرونا دنیا پر ایسا چھایا ہوا ہے کہ بہت سے ایسی اہم چیزیں ہیں جن سے آپ کو آگاہ کرنا اور بتانا بہت ضروری ہے اکثر رہ جاتا ہے ۔ ایسی ہی ایک خبر ہے کہ ایران نے سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کیلئے آمادگی ظاہر کردی ہے ۔ یعنی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ معاملات کو حل کرنے کے لئے سعودی عرب سمیت اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کسی بھی سطح پر مذاکرات کے لئے تیار ہے۔

    مبشر لقمان کا کہناتا کہ یہ بہت ہی اہم پیش رفت ہے ۔ مسلم دنیا اور اس خطے کے لیے اہم تو ہے ہی لیکن اس کے پاکستان پر بہت ہی خوشگوار اثرات ہوسکتے ہیں ۔ آپ دیکھیں ایک جانب امریکہ اس خطے یعنی افغانستان سے نکل رہا ہے ۔

    ۔ دوسری طرف پاک بھارت بیک چینل روابط کے نتیجے میں ملک کی مشرقی سرحدوں پر کشیدگی میں کمی کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں تو تیسری طرف ایران اور سعودی عرب کے مابین خوشگوار بیانات کے تبادلوں سے پاکستان کے مغربی جانب امن اور استحکام کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ جلد عمران خان بھی محمد بن سلمان سے ملنے والے ہیں ۔

    ۔ اگر آپ تاریخ کے ارواق کو پلٹیں تو فروری
    1979
    کے اسلامی انقلاب سے قبل دونوں مسلم ممالک کے تعلقات دوستی اور قریبی تعاون پر مبنی تھے۔ جس کی وجہ سے نہ صرف خلیج فارس ایک مستحکم خطہ تھا ۔ بلکہ دونوں ملکوں کے مابین تعاون کی وجہ سے تیل کی برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم
    OPEC
    بھی مغربی ممالک کو اپنی شرائط پر تیل خریدنے پر مجبور کر سکتی تھی۔ مگر گزشتہ چار دہائیوں میں امریکی نے ان دونوں ملکوں کے مابین غلط فہمیاں اور بدگمانیاں پیدا کر کے خطے میں کشیدگی کی فضا پیدا کی۔ پر اب پھر لگتا ہے کہ حالات بدل رہے ہیں اور پلٹا کھانے لگے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا کہناتا کہ ایران نے محمد بن سلمان کے بیان پر اپنا ردِ عمل جاری کرنے میں دیر نہیں کی ہے اور انٹرویو نشر ہونے کے دو دن بعد ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان جاری کر دیا تھا جس میں حکومت ایران نے سعودی ولی عہد کے بیان کا خیر مقدم کیا اور ان کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایک دوسرے کے بارے میں تعمیری رویہ اختیار کرکے اور باہمی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے دور کرنے کی راہ اپنا کردونوں ملکوں کے تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز ہو گا۔ محمد بن سلمان کے بیان کا فوری خیر مقدم کرکے ایران نے ثابت کیا ہے کہ تہران
    ریاض کے ساتھ مصالحت اور تعاون کی برابر خواہش رکھتا ہے۔

    مبشر لقمان کا کہناتا کہ گزشتہ چند برسوں میں ایران اپنی اس خواہش کا متعدد بار اظہار کر چکا ہے۔ لیکن دوسری جانب سے مثبت ردِ عمل کے نہ آنے کی وجہ سے اس سمت کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ لیکن دنیا کے دیگر خطوں کی طرح مشرقِ وسطیٰ میں بھی حالات میں تبدیلی آ رہی ہے۔

    ۔ اگر آپ غور کریں تو مشرق وسطی کے حالات بھی کافی تیزی سے بدل رہے ہیں ۔ سعودی عرب عراق ، شام ، لبنان اور خلیج فارس کے دیگر علاقوں پر ایران کے توسیعی عزائم کا الزام عائد کرتا رہا ہے ۔

    2015ء میں یمن میں فوجی مداخلت اس پالیسی کا حصہ تھی لیکن یہ پالیسی اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ سعودی عرب یمن کی جنگ سے اپنی جان چھڑانا چاہتا ہے۔

    ۔ اس نے حوثیوں کو جنگ بندی کی تجویز پیش کی تھی۔ جو مسترد کر دی گئی۔ اب سعودی عرب یمن میں جنگ بندی کیلئے ایران کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    مبشر لقمان کا کہناتا کہ گزشتہ ماہ عراق میں ایرانی اور سعودی اہلکاروں کے درمیان ہونے والے خفیہ مذاکرات کا مقصد بھی یہی تھا۔ محمد بن سلمان نے ایران کے ساتھ بات چیت کے ذریعے جن مسائل کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ان میں شام ، لبنان اور عراق پر دونوں ملکوں کے مابین اختلافات کے علاوہ یمن میں باغی حوثی قبائل کو جنگ بندی پر مائل کرنا بھی شامل ہے۔

    ۔ گزشتہ ماہ فنانشل ٹائمز نے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا تھا کہ نو اپریل کو بغداد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں حوثی باغیوں کی جانب سے کیے جانے والے حملوں سے متعلق بات چیت ہوئی جو
    ’مثبت‘
    رہی۔ اس عہدیدار نے نام ظاہر کیے بغیر کہا ہے کہ سعودی وفد کی سربراہی خالد بن علی الحمیدان کر رہے ہیں جو ملک کی انٹیلیجنس سروس کے سربراہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آئندہ ہفتے ان مذاکرات کا دوسرا دور طے ہونا ہے۔

    مبشر لقمان کا کہناتا کہ اخبار کے مطابق یہ بات چیت کروانے میں عراقی وزیراعظم مصطفیٰ کاظمی نے
    ’سہولت کار کا کردار‘
    ادا کیا ہے۔ عراقی وزیراعظم نے گذشتہ ماہ ریاض میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بھی ملاقات کی تھی۔

    عہدیدار نے بتایا کہ
    ’یہ بات چیت اس لیے تیزی سے آگے بڑھائی جا رہی ہے کیونکہ ایک طرف امریکہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر بات چیت تیزی سے آگے بڑھانا چاہتا ہے اور دوسری جانب سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے حملے بھی جاری ہیں۔

    ۔ برطانوی اخبار کے مطابق ایک اور عہدیدار نے سعودی عرب اور ایران کے مابین ہونے والی بات چیت کے بارے میں کہا: دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں بہتری لانے کی کوشش میں عراقی وزیرِ اعظم کے ایرانی نظام کے اندر اچھے تعلقات کا بھی کردار ہے۔

    مبشر لقمان کا کہناتا کہ ایرانی صدر حسن روحانی جن کی صدارت اگست میں ختم ہو رہی ہے اور وہ اس سے قبل یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ عرب حریفوں کے ساتھ دشمنی کو کم کرنا چاہتے ہیں۔

    ۔ اگرچہ ایران اور سعودی عرب کے مابین اختلافات کے فوری خاتمے کی توقع نہیں کی جا سکتی لیکن ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے حوثی باغیوں کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات میں یمن میں امن کے قیام کیلئے جنگ بندی پر جس طرح زور دیا اور سعودی ولی عہد کے انٹرویو کا جس طرح خیر مقدم کیا اس سے امید کی جا سکتی ہے کہ ان ملکوں میں محاذ آرائی سے پاک تعلقات کا آغاز ہو جائے گا ۔

    ۔ اہل نظر کی نظر میں خلیج فارس اور اس کے آس پاس کے پانیوں مثلاً خلیج اومان اور بحرِ احمر میں میری ٹائم سکیورٹی ایک نہایت سنگین مسئلے کی صورت اختیار کر چکی ہے جسے حل کرنے کیلئے نہ صرف علاقائی ممالک بلکہ بین الاقوامی برادری بھی فوری اور مؤثر اقدام کی خواہش مند ہے۔

    مبشر لقمان کا کہناتا کہ
    سعودی عرب کی طرف سے ایران کے ساتھ تعلقات اور باہمی اختلافات کو ڈائیلاگ کے ذریعے حل کرنے کی پیشکش کے پیچھے جو متعدد وجوہات ہیں ان میں میری ٹائم سکیورٹی سب سے اہم ہے کیونکہ اس کی عدم موجودگی میں تمام علاقائی ممالک کے مفادات خطرے میں ہیں۔

    ۔ گزشتہ چھ سات برس کے تجربے کی بنا پر سعودی عرب غالباً اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ ایران کے تعاون کے بغیر یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا ۔

    ۔ اس وقت مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس میں ایسی سیاسی طاقتیں مستحکم ہو چکی ہیں۔ جو نہ صرف اپنے مفادات کو پہچانتی ہیں بلکہ ان کے تحفظ کیلئے امن اور باہمی تعاون کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہیں۔ اس لیے سعودی عرب اور ایران کے مابین تعلقات کو نارمل سطح پر لانے کیلئے موجودہ کوشش خطے میں امن اور سلامتی کے لیے ایک نیک شگون ہے۔

    ۔ تمام صورتحال کا اندازہ آپ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی اس ٹویٹ سے لگا لیں جس میں انھوں نے کہا ہے کہ
    افق پر مثبت علامات کے اشارے ہیں۔

    ۔ ایران اور سعودی عرب کے مابین مصالحت سے جن ملکوں کو خصوصی طور پر فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
    ان میں پاکستان اور چین بھی شامل ہیں۔

    ۔ خاص طور پر پاکستان میں اس کا خصوصی خیرمقدم کیا جائے گا ۔ بلکہ کیا بھی جا رہا ہے محمد بن سلمان کے انٹرویو کے فورا بعد عمران خان نے ان کے اس بیان کا خیر مقدم کیا تھا ۔ کیونکہ ایران اور سعودی عرب دونوں پاکستان کے دوست ممالک ہیں اور ان کے مابین کشیدگی سے پاکستان کی خلیج فارس میں ڈپلومیسی کیلئے پیچیدگیاں پیدا ہو رہی تھیں۔ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری سے پاکستان کی مغربی سرحدوں پر امن اور استحکام کی فضا پیدا ہو گی جو اس پورے خطے میں ترقی اور خوشحالی کیلئے ضروری ہے۔

    ۔ چین کا کمال یہ ہے کہ اس نے دو مخالف ملکوں سعودی عرب اور ایران کے ساتھ بیک وقت اچھے تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں۔ چین نے سعودی عرب کو ایٹمی پروگرام بنانے میں مدد فراہم کی ہے۔ جب سے ایران نے اپنا ایٹمی پروگرام شروع کیا ہے سعودیہ کو اپنی سلامتی کے خدشات لاحق ہوگئے ہیں۔ اسکے جواب میں اس نے بھی ایٹمی پروگرام پر کام شروع کردیا۔ گو امریکہ اور سعودی عرب بہت قریبی اتحادی ہیں لیکن ایٹمی پروگرام میں سعودی عرب کو چین سے ہی تعاون حاصل ہوا۔ چین نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ڈرون طیارے بھی فروخت کیے ہیں۔ چین کی سب سے بڑی ٹیلی کام کمپنی ہوآوے اپنے فائیو جی نیٹ ورک کا سب سے زیادہ کاروبارعرب ملکوں میں کررہی ہے۔امریکہ نے عرب ملکوں پر دباؤ بھی ڈالا کہ چین سے قربت نہ بڑھائیں لیکن کامیاب نہیں ہوسکا۔

    ۔ دوسری جانب اگر چین کی بات کی جائے تو کورونا وبا کے بعد چین مشرق ِوسطی میں داخل ہوچکا ہے۔ فوجیں لیکر نہیں بلکہ اپنی معاشی طاقت کے بل پر۔
    چین نے خلیجی ممالک مصر ، ایران اور عراق کو بڑے پیمانے پر دوائیں طبی سامان اور اپنے ماہرین بھیجے۔ اسکے برعکس امریکہ نے یہ کام نہیں کیا حالانکہ وہ بیشتر عرب ملکوں کا پرانا اتحادی ہے اور ان ملکوں میں اسکے فوجی اڈے قائم ہیں۔ چین نے امریکی فوجی طاقت کے مقابل آنے کی بجائے معاشی میدان میں عرب خلیجی ممالک میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے۔ اسوقت چین اور عراق کے درمیان تجارت عروج پر ہے۔ چین اس عرب ملک کا سب سے بڑا تجارتی ساتھی ہے۔ چین کا مفاد یہ ہے کہ عرب ممالک اسکو پیٹرولیم مہیا کرسکتے ہیں۔

    ۔ تیل کے بدلہ میں چین عرب ملکوں میں صنعتی کارخانے لگا رہا ہے۔ بندرگاہیں تعمیر کررہا ہے۔ ریلوے کا نظام بنا رہا ہے۔

    ۔ عرب ممالک کے چین سے بڑھتے ہوئے معاشی تعلقات کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دنیا میں پیٹرولیم کی اہمیت رفتہ رفتہ کم ہوتی جارہی ہے۔

    ۔ چین کے مشرق وسطیٰ میں داخل ہونے کے بعد اس خطہ کی علاقائی سیاست میں تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں۔

    ۔ سعودی عرب کو بھی یہ احسا س ہوگیا ہے کہ ایران کو تنہا کرنے کی پالیسی کامیاب نہیں ہوسکی۔ یہ بہت اہم پیش رفت ہے۔ اگر سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں بہتری آگئی تو اسکے پورے خطہ اور پاکستان پر مثبت اثرات ہوں گے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان باقاعدہ بڑے پیمانے پر تجارت ہوسکے گی۔ معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔خطہ میں امن اور استحکام آئے گا۔

  • اگلے سال گیس نہیں‌ ملے گی، عمران خان کی ناک تلے اربوں کا ڈاکہ، اپنے ہی مشیر قوم کو چونا لگانے لگے

    اگلے سال گیس نہیں‌ ملے گی، عمران خان کی ناک تلے اربوں کا ڈاکہ، اپنے ہی مشیر قوم کو چونا لگانے لگے

    اگلے سال گیس نہیں‌ ملے گی، عمران خان کی ناک تلے اربوں کا ڈاکہ، اپنے ہی مشیر قوم کو چونا لگانے لگے

    باغی ٹی وی : سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آپ کو بتائیں گے کے کیسے موجودہ حکومت کی ناک کے نیچے قوم کو لوٹنے کا کام بڑے زور شور سے جاری ہے
    کیسے پٹرول اور گیس کے نام پر اربوں روپیہ غریب عوام کی جیب سے نکالا جا رہا ہے ۔اور سسٹم بلکل بے بس ہو چکا ہے۔ اور کرپٹ لوگ اپنی جیبیں گرم کرنے میں مصروف ہیں۔ہم وزیر اعظم عمران خان کی بحثیت اپوزیشن پارٹی کے لیڈر بہت سی ایسی تقریں سن چکے ہیں جو انہوں نے سابقہ حکمرانوں کے خلاف کی لیکن بدقسمتی سے پھر انہیں اسی راستے پر چلنا پڑا۔ عمران خان اپنے دھرنوں میں سر عام پٹرول، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی مخالفت کرتے تھے ، سول نا فرمانی کا نعرہ لگا کر بجلی کا بل پھاڑتے تھے لیکن پھر ہم نے دیکھا کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں جس بے دردی سے ان چیزوں کی قیمتیں بڑھانے کی اجازت دی اس کی مثال نہیں ملتی اور تو اور جس کرپشن کے ڈھول وہ بحثیت اپوزیشن لیڈر پیٹتے تھے اس سے بھی خوفناک کرپشن ان کی ناک کے نیچے ہوئی اور پھر انہیں اپنے ہی مشیر سے استعفی لینا پڑا۔ کبھی ملک آٹا مافیا کے شکنجے میں تو کبھی چینی مافیا کے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہاں تک کہ مہنگائی مافیا نے حکومت کو بے بس کر کے رکھ دیا ہے اور حکومت زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ بھی کرنے سے قاضر ہے۔زمیندار آلو بیس روپے کلو فروخت کر رہا ہے لیکن لوگوں کو آج بھی نیا آلو100روپے کلو دستیاب ہے جبکہ پرانا آلو بھی پچاس روپے کلو مل رہا ہے۔ ہر چیز کوStoreکر کے اپنی مرضی اور اپنی قیمتوں پر نکالا جا رہا ہے اور کوئی مائی کا لال ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔وزیر اعظم تین ماہ پہلے قوم کو یہ بتانا شروع کر دیتے ہیں کہ اس دفعہ گیس کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن اپنے مشیروں سے یہ نہیں پوچھتے کہ اس گیس کے بحران کو ختم کرنے کے لیئے انہیں نے کیا اقدامات کیئے ہیں، اور پھر پوری قوم کے سامنے آتا ہے کہ حکومت نے سردیوں کی گیس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ایل این جی کا آرڈر ہی نہیں دیا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سارا زور سیاسی پوائنٹ سکورنگ پر مرکوز ہے کے قطر سے مہنگی گیس لے لی۔ کیا آپ کو پتا ہے کہ ملکی ضرورت کا صرف دس فیصد قطر سے منگوایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ہم نے وزیر اعظم کے اپنے منہ سے سنا کہ سارے سودے تو سابق حکومت کر کے چلی گئی ہے ہم کیا کریں۔ اس وقت ملک کو ماہانہ بارہ ٹینکر ایل این جی کی ضرورت ہوتی ہے جس میں سے سابق حکومت نے پانچ گارگو کے سودے کیئے ہیں باقی سات کارگو کے سودے موجودہ حکومت نے کرنے ہوتے ہیں تو ان سات سودوں میں کیا تیر مارا گیا۔ انہیں آخری وقت پر ایرجنسی میں مہنگے داموں کیوں خریدا گیا۔
    ہمارے پاس خبر آتی ہے ملک کی معیشت اپنے پاوں پر کھڑی ہو گئی ہے پھر خبر آتی ہے وزیر خزانہ کو خراب کارکردگی پر فارغ کر دیا گیا۔
    بھائی ملک کی معیشت بحال ہو گئی تھی تو نیا وزیر خزانہ لانے کی کیا ضرورت پڑی اور پھر نیا وزیر خزانہ آ کر بتاتا ہے کہ ملک ڈھائی سال میں برباد ہو چکا ہے۔
    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وہی مشیر پٹرولیم جو بتا رہا تھا کہ سابقہ حکوتو ں نے انرجی کے معاملے میں کیا گند کیا پھر اسے بھی مافیا کا ساتھ دینے پر نکال دی جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے LNG terminalمیں گپلے ہوئے لیکن پھر اپنے دور میں گیس کے ذخائر بڑھانے کےلیئے ایک بھی ٹرمینل نہیں بنایا گیا۔ آپ کی ناک کے نیچے کرپشن ہو رہی ہے اور پھر آپ انہی کے خلاف ایکشن لے رہے ہیں۔ ایکشن اس ملک میں ستر سال سے لیئے جا رہے ہیں۔ لیکن اس کا حاصل کیا ہے۔ جو اربوں روپے غریبوں کی جیبوں سے نکالے جا رہے ہیں وہ کون واپس کرے گا۔دس دس سال یہ کیسز چل کر نظریہ ضرورت کا شکار ہو جائیں گے۔ جیسے عمران خان کو نئے وزیر خزانہ کو لانے کے لیئے انہیں نیب سے
    Clearance certificateدلوانا پڑا۔ قصہ کچھ اسطرح ہے کہ 31 مئی2020 کو جب حکومت کی طرف سے قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا گیا ور پاکستان میں پٹرول کی قیمت74 اعشاریہ 52 روپے پر آ گئی تو پورے ملک میں پٹرول کا بحران پیدا کر دیا گیا۔ مافیا نے پٹرول چھپا لیا اور یہ سب عمران خان کے مشیر پٹرولیم کی مل بگھت سے ہوا۔ جب چور چوکیدار مل جائیں تو یہی ہوتا ہے۔
    وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لیتے ہوئے
    9
    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جون کو متعلقہ حکام سے اس مصنوعی بحران کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا کہا ۔
    کچھ روز بعد ہی اوگرا کی جانب سے چھ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر کل چار کروڑ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے
    سیکرٹری پٹرولیم نے جن کمپنیوں پر جرمانے عائد کیئے وہ خود ان کا چیئرمین تھا۔ اپنے آپ کو جرمانے کرنے کی کلاسیکل مثال بھی اسی دور حکومت میں دیکھنے میں آئی۔
    لیکن اس کے باوجود پیٹرول کا بحران ویسا ہی رہا۔
    پھر قوم کو بتا یا گیا کہ پٹرول کی قیمت میں پچیس روپے اضافہ کرنا ضروری ہے اور پھر یہ جادو ایسا چلا کہ
    اس فیصلے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد پیٹرول کی سپلائی معمول پر آ گئی ۔

    ایل این جی کی بات کریں تو وہاں بھی انسان حقائق دیکھ کر شرما جاتا ہے۔
    عوام کے پیسوں پر اربوں کا ڈاکہ ڈالا گیا۔
    ایل این جی سپلائرز کو اضافی ادائیگیاں کر دی جاتی ہیں۔ وقت پر ایل این جی کا آرڈر نہیں کیا جاتا۔ پھر جب
    shortage
    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہوتی ہے تو ایمرجنسی میں مہنگی ایل این جی خریدی جاتی ہے۔
    یہی وجہ ہے کہ مارچ کے آخر میں وزیراعظم عمران خان نے اپنے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر سے استعفیٰ مانگ لیا تھا۔ اس کے علاوہ سیکرٹری پٹرولیم کو بھی عہدے سے ہٹانے یا تبادلہ کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ اور ایل این جی سپلائرز کو جو اضافی ادائیگیاں ہوئیں تھیں اس کی ذمہ داری پی ایل ایل کے سابق ایم ڈی اور
    CFO
    پر ڈالی گئیں تھیں۔
    انکوائری رپورٹ میں پتہ چلا کہ ایل این جی سپلائرز کو 2 کروڑ 75 لاکھ ڈالرز کی اضافی ادائیگی کی گئی تھی جس کی ذمہ داری مینجنگ ڈائریکٹرعدنان گیلانی اورچیف فنانشل آفیسرندیم نذیر پرڈالتے ہوئے انہیں اوایس ڈی بنادیا گیا۔ کیونکہ یہ دونوں ایل این جی درآمدات دیکھتے تھے۔ اس کے علاوہ ان دونوں حضرات کو سنگاپور کی
    Gunvor
    اور اٹلی کی ای این آئی کو دیگر ایل این جی سپلائرز پر ترجیح دینے کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا گیا کیونکہ زائد ادائیگی میں سے 2 کروڑ 23 لاکھ 83 ہزار 4 سو ڈالرز
    Gunvor
    اور ای این آئی کو ادا کیے گئے تھے جو کہ
    Total extra payments
    کا 80 فیصد بنتا ہے۔ نیب اور ایف آئی اے دونوں نے ان عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی۔
    جبکہ عدنان گیلانی کا کہنا ہے کہ میں نے خود اس معاملہ سے پردہ اٹھایا اور
    وزارت پٹرولیم ہمیشہ کی طرح اپنی نا اہلی دوسروں پر ڈال رہی ہے۔۔۔ مجھ سے ایم ڈی پی ایل ایل کے عہدے سے
    اگست 2019
    میں استعفیٰ لیا اور
    اکتوبر 2020
    تک کی اضافی ادائیگی کی اپنی ذمہ داری بھی مجھ پر ڈال دی
    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ تمام تفصیلات وہ ہیں جوکہ 31 صفحات پر مشتمل انکوائری رپورٹ میں سامنے آئی ہیں جو کہ چار رکنی کمیٹی نے سینئر جوائنٹ سیکرٹری ساجد محمود قاضی کی سربراہی میں تیار کی گئی۔
    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ساجد محمود قاضی کون ہیں۔؟
    ساجد محمد قاضی
    PSO
    کے بورڈ میں ہے اور اس معاملے کو اچھی طرح جانتا ہے۔
    ان تمام
    Findings
    پر کئی سوال اٹھتے ہیں۔ سب سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ سینئر جوائنٹ سیکرٹری ساجد محمود قاضی جو انویسٹی گیشن کمیٹی کی سربراہی کر رہے تھے وہ خود بھی
    PSO board
    میں شامل ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پانچ سال تک ایک بورڈ کے سامنے یہ سب ہوتا رہا اور اس وقت تو ان کو اس معاملے کا پتہ نہیں چلا لیکن کمیٹی بننے کے بعد وہ سب حقائق کو فٹافٹ سب کے سامنے لے آئے۔ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ انہوں نے خود کو اور منسٹری کو بچانے کی کوشش کی اور دو افراد پر سارا الزام ڈال دیا تاکہ ان کی
    Incompetency
    سب کے سامنے نہ آجائے۔

    لیکن میں آپ کو بتاوں کہ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے کہ دو افراد پر اس کی ذمہ داری ڈال کر معاملے کو رفع دفع کر دیا جائے۔ یہ پڑولیم بحران اور اس انڈسٹری میں ہونے والی بدعنوانی اور بددیانتی دراصل پٹرولیم ڈویژن کے تحت
    15
    کمپنیوں میں جاری بدعنوانیوں کا نتیجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادارے کو جو بھی نقصان ہو رہا ہو وہ ان کمپنیوں کی مالی کارکردگی رپورٹ میں کبھی سامنے نہیں آتا۔
    اور یہ بورڈ آف ڈائریکٹرز والا معاملہ بھی بہت ہی
    Interesting
    ہے۔ ان تمام نقصانات میں یہ بورڈ آف ڈائریکٹرز بھی ذمہ دار ہیں۔ ان کی ناک کے نیچے یہ ہوتا رہا لیکن یہ اس سب سے کیسے لاعلم رہے ان کی طرف سے کیوں اس معاملے پر سوال نہیں اٹھایا گیا۔
    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ بورڈ آف ڈائریکٹرز جن میں شامل ہر ایک ڈائریکٹر کو صرف میٹنگ کے لئے۔۔ چاہے وہ بورڈ میٹنگ ہو یا سب کمیٹی کی میٹنگ ہو۔۔ اس کے لئے تقریبا ایک لاکھ بیس ہزار روپے سے لیکر چار لاکھ روپے ادا کئے جاتے ہیں۔ یہ رقم بلا امتیاز خواہ بورڈ میٹنگ ہو یا سب کمیٹی کی میٹنگ ہو سب ڈائریکٹروں کو ادا کی جاتی ہے۔ اور ہر ماہ اس طرح کی کم سے کم تین میٹنگ ہوتی ہیں۔
    اورایک ماہ میں پٹرولیم ڈویژن کے ڈائریکٹرز تقریبا ایک کروڑ روپیہ اپنے ساتھ اپنے گھر لے کر جاتے ہیں۔ یہ رقم ان کی معمول کی تنخواہوں اور مراعات کے علاوہ ہوتی ہے جو انہیں ملتی ہیں۔ جبکہ ان کے پاس نہ تو اس فیلڈ سے
    Related
    کوئی
    Technical education
    ہوتی ہے اور یہ ہی کوئی
    Experience.
    ان کو
    Appoint
    کرنے کے لئے میرٹ صرف اور صرف ذاتی پسند اور منظور نظر ہونا ہے۔ ان افراد کو نوازنے کے لئے یہ عہدے دئیے جاتے ہیں۔ جس کے بعد کوئی بہتر کام تو ہوتا نہیں ہے بلکہ کمپنی کے کاروبار میں غیر ضروری مداخلت اور رکاوٹ ڈالی جاتی ہے اور خود مالی فائدے اٹھائے جاتے ہیں۔ جبکہ ان کو آوٹ آف میرٹ لگانے والے ان سے اپنی مرضی کے غلط کام بھی کرواتے ہیں۔ جس سے ان کی جیبیں تو گرم ہو جاتی ہیں لیکن ملک کو اربوں کا نقصان ہو جاتا ہے۔
    ساتھ ہی
    Conflict of interest
    کی ایسی ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ کہ ایک فرد جو کسی کمپنی کا کنٹرولر اور
    Regulator
    ہے وہی اس کمپنی کا چیئرمین بھی ہے۔ یعنی سیکرٹری پٹرولیم جو ان کمپنیوں کو ان کی نا اہلی کی وجہ سے ان پر جرمانے لگاتے ہیں۔ وہ خود ہی ان کے چئیرمین ہیں یعنی کہ وہ خود ہی خود کو جرمانہ کر رہے ہیں۔
    یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ یہاں ہر چیز کا ہی غلط استعمال کیا جا رہا ہے یہاں بیوروکریسی کام کرنے کے لیئے تیار نہیں ہے کہ نیب بعد میں انہیں تنگ کرے گی جبکہ جو کام کر رہے ہیں وہ اس طرح کا کام کر رہے ہیں کہ ان کے کرتوت دیکھ کر پوری قوم کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ ہم بحثیت قوم ایک دلدل میں پھنستے جا رہے ہیں۔ اس ملک کو لوٹنے والے اپنے اور اپنے بچوں کی بیرون ملک
    Nationalities
    لے کر بھاگنے کے لیئے تیار بیٹھے ہیں جبکہ نتائج اس ملک کی غریب عوام بھگت رہی ہے۔ جنہیں دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنے سے زیادہ کی سوچ نہیں ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ان دو ٹیسٹ کیسز کو دیکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے اور ہر کوئی اپنی بوٹی کے لیئے ملک کی گائے ذبح کر رہا ہے۔ صرف مشیر پٹرولیم کو گھر بھیجنے سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔ بلکل نہیں۔۔ وہ تو پیسے بنا کر چلے گئے۔ بلکے خوش ہوں گے کہ جو ڈاکوں کا احتساب کرنے آیا تھا اسی کی ناک کے نیچے ڈاکہ ڈال دیا ہے۔کیا ان سے استعفی مانگنے کی بجائے انہیں ہتھکڑیاں نہیں لگنی چائیے تھی۔
    کیا یہاں ضرورت نہیں ہے کہ ذمہ داران کو عبرت کا نشان بنایا جائے تاکہ باقی لوگ انہیں دیکھ کر خوف کھائیں اور ملک کو نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہ سکیں۔
    اگر ایسا نہیں ہو گا تو ان گدھوں کو قوم کی بوٹیاں نوچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اور یہ سلسہ اسی طرح جاری رہے گا۔

  • این اے249دوبارہ گنتی:ن لیگ کوپہلےسےزیادہ ووٹوں     کےساتھ شکست:جیت پی پی امیدوارکا مقدربن گئی

    این اے249دوبارہ گنتی:ن لیگ کوپہلےسےزیادہ ووٹوں کےساتھ شکست:جیت پی پی امیدوارکا مقدربن گئی

    کراچی:این اے 249 دوبارہ گنتی:ن لیگ کوپہلے سے زیادہ ووٹوں کے ساتھ شکست:جیت پی پی امیدوارکا مقدربن گئی،پی پی امیدوارکون لیگ کے امیدوارمفتاح اسمٰیل سے پہلے سے زیادہ مارجن کےساتھ برتری مل گئی ہے

    تازہ ترین اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ دوبارہ گنتی میں پی پی کے 500 ووٹ مسترد قراردیئے گئے جبکہ ان نتائج کوچیلنج کرنے والی ن لیگ کے 726ووٹ دونمبرقراردے کرمسترد کردیئے گئے ، پی ٹی آئی امیدوارکے 241 ووٹ مسترد ہوئے

     

    یوں اگرسابقہ ووٹوں کی گنتی کے مطابق دیکھا جائے توپی پی امیدوارعبدالقادرمندوخیل کے مفتاح اسمٰعیل پرپہلے سے زیادہ ووٹ ہوگئے ہیں جن کے مطابق اگرگنتی کے بعد کی صورت حال کودیکھا جائے تو 500 مسترد ہونے کے بعد سے کم ہوکر15656 ووٹ رہ گئے ہیں

    جبکہ ان کے مقابلے میں ن لیگ کے مفتاح اسمٰعیل کے پہلی گنتی کےمطابق ووٹ 15473 تھے جواب 726 ووٹ مسترد ہونے کے بعد 14747 رہ گئے ہیں

    پہلے عبدالقادرمندوخیل مفتاح اسمٰعیل سے 683 ووٹ سے جیتے تھے مگراب دوبارہ گنتی کے بعد یہ برتری مزید بڑھ گئی ہے اوراب برتری 909 ووٹ تک بڑھ گئی ہے

    ادھر اپنی واضح شکست دیکھنے کے بعد مفتاح اسمٰعیل اپنے کئے گئے وعدے سے مُکرگئے ہیں اورالیکشن کمیشن سے دوبارہ درخواست کردی ہے کہ گنتی کا عمل روک دیا جائے

    واضح رہے کہ جمعہ کو جاری ہونے والے عارضی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار قادر مندوخیل نے 16 ہزار 156 ووٹ حاصل کرنے کے بعد کراچی میں این اے 249 کے ضمنی انتخاب میں بہت کم مارجن سے کامیابی حاصل کی تھی،

    جبکہ ڈاکٹر مفتاح اسمٰعیل نے 15 ہزار 473 ووٹوں کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی تھی اور پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) نے انتخابی نتائج کو مسترد کردیا تھا

  • ن لیگ پھراپنی زبان سے مُکرگئی:مفتاح اسماعیل نے این اے 249 میں دوبارہ گنتی رکوانےکی درخواست کردی

    ن لیگ پھراپنی زبان سے مُکرگئی:مفتاح اسماعیل نے این اے 249 میں دوبارہ گنتی رکوانےکی درخواست کردی

    کراچی :ن لیگ پھراپنی زبان سے مُکرگئی:مفتاح اسماعیل نے این اے 249 میں دوبارہ گنتی رکوانےکی درخواست کردی،اطلاعات کے مطابق ن لیگ حسب روایت اپنی زبان سے پھرمُکرگئی ہے اورتازہ واقعہ میں کراچی کے حلقہ این اے 249 کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن کے امیدوار مفتاح اسماعیل نے چیف الیکشن کمشنرکو خط لکھ کر ووٹوں کی دوبارہ گنتی رکوانے کی درخواست کردی۔

    مسلم لیگ ن کے رہنما مفتاح اسماعیل نے چیف الیکشن کمشنرکو خط لکھ کر گنتی رکوانے کی درخواست کی ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر کو بھیجےگئے خط میں بتایا گیا ہےکہ ریٹرننگ افسر جو ووٹوں کے تھیلے لائے ان میں سے بیشتر پر سیل نہیں لگی تھی۔خط میں مفتاح اسماعیل نے یہ بھی کہا ہےکہ زیادہ تر امیدواروں نے دوبارہ گنتی کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔

    خیال رہےکہ کراچی کے حلقہ این اے 249 میں گذشتہ دنوں ہونے والے ضمنی انتخاب کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی جاری ہے تاہم پیپلز پارٹی کے علاوہ تمام جماعتوں نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے عمل کا بائیکاٹ کردیا ہے۔

    امیدواروں نے الزام لگایا ہےکہ جو پولنگ بیگ لائے گئے ان پر سیل نہیں لگی ہوئی اور وہ کھلے ہوئے تھے جس کی وجہ سے دوبارہ گنتی کا بائیکاٹ کررہے ہیں۔