Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • یوم ولادت  سرکارِ دو عالم خاتم النبین حضرت محمد، پاک فوج  کی توپوں کی سلامی

    یوم ولادت سرکارِ دو عالم خاتم النبین حضرت محمد، پاک فوج کی توپوں کی سلامی

    رحمت اللعالمین، خاتم النبیین، ہادی عالم، نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی ولادت کا جشن ملک بھر میں مذہبی جوش و جذبے سے منایا جارہا ہے۔

    میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلے میں شہر ،شہر ،گلی ،گلی چراغاں اور مساجد ، بلند عمارتوں، بازاروں اور چوراہوں پر سبز پرچموں کی بہار ہے،ملک بھر میں جلوسوں کا اہتمام اور درود و سلام کی محفلوں میں آقا ئے دو جہاں سے محبت کا اظہار کیا جارہا ہے۔

    یوم ولادت سرکارِ دو عالم خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کے موقع پر پاک فوج نے وفاقی دارلحکومت میں 31جبکہ صوبائی دارلحکومتوں میں21 توپوں کی سلامی دی،سرکارِ دو عالم خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کا جشنِ ولادت آج انتہائی مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے،ملک بھر میں نماز فجر کے بعد ملک کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں،یومِ ولادتِ رسول ﷺ کے موقع پرعلی الصبح پاک فوج کی جانب سے چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں 21جبکہ وفاقی دارالحکومت میں 31 توپوں کی سلامی دی گئی،سلامی کے بعد پاک فوج کے جوانوں نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور فضا اللہ اکبر اور پاک فوج زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی،12 ربیع الاوّل کے موقع پر ملک بھر میں رات بھر چراغاں کیا گیا، محافل میں حضورﷺ کی خدمت میں عقیدت کے پھول نچھاور کئے گئےاور آقائے دو جہاں ﷺ کے حضور درود و سلام پیش کیاگیا،

  • اگلی بار اسکور 6 صفر تک محدود نہیں ہوگا بلکہ 60 صفر ہو گا۔ائیر وائس مارشل شہریار خان

    اگلی بار اسکور 6 صفر تک محدود نہیں ہوگا بلکہ 60 صفر ہو گا۔ائیر وائس مارشل شہریار خان

    ائیر وائس مارشل شہریار خان کا کہنا ہے آپریشن بنیان المرصوص نے 6 ستمبر کی یاد تازہ کی، لیکن اگلی بار اسکور 6 صفر تک محدود نہیں ہوگا بلکہ 60 صفر ہو گا۔

    کراچی میں گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب کے مہمان خصوصی ائیر وائس مارشل شہریارخان کا کہنا تھا مزار قائد پر گارڈز کے فرائض سنبھالنا پاکستان ائیر فورس اکیڈمی اصغرخان کے لیے اعزاز ہے، 6 ستمبر ہمیں اس دن کی یاد دلاتا ہے جب ہم نے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملایا۔ان کا کہنا تھا ہم ہر محاذ پر تیار کھڑے ہیں، ہمارے دشمنوں کو ہمیشہ منہ کی کھانی پڑی، پاک فضائیہ عوام کی امیدوں پر پورا اتری ہے، پاک فضائیہ نے عوام کو کبھی مایوس نہیں کیا، ہمیں فخر ہےکہ پاک فضائیہ جنگ کے علاوہ امن کے وقت میں بھی پیش پیش ہوتی ہے،آپریشن بنیان المرصوص نے 6 ستمبر کی یاد تازہ کی، یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان کی فضائی حدود کا دفاع پاک فضائیہ کے مضبوط ہاتھوں میں ہے۔انہوں نے کہا کہ تکنیکی جدت نے پاک فضائیہ کو دنیا میں منوایا، اگلی بار اسکور 6 صفر تک محدود نہیں ہوگا بلکہ 60 صفر ہو گا۔

    خیال رہے کہ آج ملک بھر میں یوم شہداء و دفاع قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے، آج دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت سے 31 جبکہ صوبائی دارالحکومتوں سے 21، 21 توپوں کی سلامی سے ہوا، مساجد میں نماز فجر کے بعد پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔یہ بھی یاد رہے کہ رواں برس مئی میں ہونے والی جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کا غرور خاک میں ملاتے ہوئے ناصرف جدید ترین رافیل طیاروں سمیت کئی جنگی جہازوں کو گرایا بلکہ کئی ائیر فیلڈز کو بھی تباہ کیا۔

  • بہادر افواج نے عوام کے تعاون سے دشمن کی جارحیت ناکام بنائی،وزیراعظم

    بہادر افواج نے عوام کے تعاون سے دشمن کی جارحیت ناکام بنائی،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے 6 ستمبر کو قومی تاریخ میں بہادری، اتحاد اور عزم کا دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ 60 سال قبل بہادر افواج نے عوام کے تعاون سے دشمن کی جارحیت ناکام بنائی، اور 1965ء کا ناقابلِ تسخیر جذبہ آج بھی زندہ ہے۔

    اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ معرکۂ حق میں مسلح افواج اور عوام ایک آہنی دیوار کی مانند کھڑے ہوئے، اور فوج، بحریہ اور فضائیہ نے بے مثال پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے تزویراتی وژن کو سراہتے ہوئے کہا کہ دشمن کے تکبر کو مٹا کر نئی تاریخ رقم کی گئی۔ وزیراعظم نے شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے شہداء نے وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کیں، اور غازیوں کی جرأت آئندہ نسلوں کے لیے مثال ہے۔

    وزیرِ اعظم نے بھارت کی اشتعال انگیزیوں اور بدلتے علاقائی تناظر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط اور جدید بناتا رہے گا اور غیر ملکی پراکسیوں کی دہشت گردی کا مقابلہ کرتا رہے گا۔انہوں نے کشمیر اور فلسطین کے مظلوم عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرے اور غزہ کے لوگوں کو انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے قومی دفاع اور معاشی استحکام کے تعلق پر بھی زور دیا اور کہا کہ ذاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر ہی پائیدار خوشحالی اور خود انحصاری حاصل کی جا سکتی ہے۔آخر میں انہوں نے عوام سے محفوظ، متحد اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کے لیے مل کر محنت کرنے کا اعادہ کرنے کو کہا اور یومِ دفاع و شہداء پر پاکستانی مسلح افواج کو سلام پیش کیا، "پاکستانی مسلح افواج زندہ باد، پاکستان پائندہ باد!”

    60 ویں یومِ دفاع و شہداء، افواجِ پاکستان کا شہداء کو خراجِ عقیدت پیش

    ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود یورپی یونین کا گوگل پر جرمانہ

    بھارتی فوج سرحدی علاقوں میں، پاک فوج نے ڈرون مار گرایا، سیلاب سے مارنے کی تیاری

  • 60 ویں یومِ دفاع و شہداء، افواجِ پاکستان کا شہداء کو خراجِ عقیدت پیش

    60 ویں یومِ دفاع و شہداء، افواجِ پاکستان کا شہداء کو خراجِ عقیدت پیش

    پاک فوج نے 60 ویں یومِ دفاع و شہداء کے موقع پر ملک کے بہادر سپاہیوں اور شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

    پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے شہداء کو یاد کیا۔آئی ایس پی آر نے کہا کہ 6 ستمبر 1965ء پاکستانی قوم کے عزم اور ناقابلِ شکست حوصلے کی علامت ہے، جب بہادر سپاہیوں نے دشمن کی کھلی جارحیت کا مقابلہ کیا۔ اس تاریخی دن دشمن کے ہتھیاروں اور تعداد میں برتری کے باوجود افواجِ پاکستان نے وطن کی حفاظت کی اور دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔

    پاک فوج نے مزید کہا کہ شہداء اور غازیوں کی قربانیاں آنے والی نسلوں کو حوصلہ دیتی ہیں اور افواجِ پاکستان ہر وقت ملک کے دفاع اور عوام کی مدد کے لیے تیار ہیں۔ حالیہ سیلاب متاثرین کی امداد میں بھی افواجِ پاکستان بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔آئی ایس پی آر نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا اور پاکستانی مسلح افواج ہر قسم کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمہ وقت چوکس ہیں۔

    پاکستان زندہ باد، مسلح افواجِ پاکستان زندہ باد!

    ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود یورپی یونین کا گوگل پر جرمانہ

    یوٹیوبر رجب بٹ کو جوئے کی ایپس کی تشہیر پر 9 ستمبر کو طلبی

    یوٹیوبر رجب بٹ کو جوئے کی ایپس کی تشہیر پر 9 ستمبر کو طلبی

    بھارتی فوج سرحدی علاقوں میں، پاک فوج نے ڈرون مار گرایا، سیلاب سے مارنے کی تیاری

  • بھارتی فوج سرحدی علاقوں میں، پاک فوج نے ڈرون مار گرایا، سیلاب سے مارنے کی تیاری

    بھارتی فوج سرحدی علاقوں میں، پاک فوج نے ڈرون مار گرایا، سیلاب سے مارنے کی تیاری

    بھارت نے سیلاب سے متاثرہ سرحدی علاقوں میں ریلیف آپریشن کے نام پر فوجی نقل و حرکت میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ معروف تجزیہ کار مبشر لقمان نے اپنے وی لاگ میں دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی فوج ٹینکوں اور توپوں کو متاثرہ علاقوں میں منتقل کر رہی ہے، جہاں یہ بظاہر امدادی سرگرمیوں کا حصہ دکھائی دے رہے ہیں لیکن درپردہ ان کے مقاصد کچھ اور ہیں۔

    وی لاگ میں دکھائی گئی فوٹیج کے مطابق بھارتی فوجی ٹینک سیلاب زدہ علاقوں میں سڑکوں پر گشت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ مبشر لقمان کا کہنا ہے کہ دنیا کی کسی فوج کو آج تک ٹینکوں کے ذریعے ریلیف آپریشن کرتے نہیں دیکھا گیا، لہٰذا یہ تیاری دراصل ’سندور‘ کے دوسرے راؤنڈ کے لیے ہے۔ بھارتی ایئر ڈیفنس فورس ڈرون مار گرانے کی مشقیں کر رہی ہے، جب کہ راجستھان میں بھارتی فضائیہ کی بڑی فوجی مشقیں بھی شروع ہو گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی ڈرونز کی پروازیں تیز ہو گئی ہیں اور پاکستانی فوج نے چم جڑیاں سیکٹر میں ایک بھارتی ڈرون مار گرایا ہے۔

    مبشر لقمان نے ایک بھارتی ریٹائرڈ جنرل کی گفتگو بھی سنوائی جس میں وہ کھل کر اس منصوبے کا ذکر کرتا ہے کہ بھارت ڈیمز میں پانی روک کر اور پھر اچانک چھوڑ کر پاکستان میں سیلاب لانے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ جنرل کا کہنا تھا کہ گرمیوں میں فصل کے اہم وقت پر پانی روک لیا جائے گا اور جب پاکستان کے پاس روکنے کی صلاحیت نہ ہوگی تو اچانک پانی چھوڑ دیا جائے گا تاکہ بڑے پیمانے پر نقصان ہو۔

    وی لاگ میں بتایا گیا کہ حال ہی میں بھارت نےسلال ڈیم کے دروازے کھول کر چناب میں نیا سیلابی ریلہ چھوڑا۔بھاکڑا ڈیم کھول کر بھالپور تک کے علاقے کو دوبارہ ڈبو دیا۔مادھوپور ہیڈ ورکس کے چاروں دروازے توڑ ڈالے، جس سےپانی بلا روک ٹوک پاکستان کی طرف آ رہا ہے۔اگر بالائی علاقوں میں بارشیں بڑھ گئیں تو یہ پانی براہ راست پاکستان میں داخل ہوگا۔ بیراج کی مرمت تک کے عرصے میں نارووال، شیخوپورہ، لاہور اور اوکاڑہ کے بڑے علاقے سیلابی ریلوں میں ڈوبے رہنے کا خدشہ ہے۔

    پاکستانی فضائی حدود کی بندش، اسپائس جیٹ کو مسلسل نقصان

    حماس نے دو اسرائیلی یرغمالیوں کی تازہ ویڈیو جاری کردی

    خاتون کو بلیک میل کر کے نازیبا ویڈیو وائرل کرنے والا ڈلیوری بوائے گرفتار

    دریائے چناب کا ریلا جنوبی پنجاب میں تباہی مچاتا ہوا ملتان کے قریب پہنچ گیا

  • علیمہ خان کو اڈیالہ جیل کے باہر انڈہ مار دیا گیا

    علیمہ خان کو اڈیالہ جیل کے باہر انڈہ مار دیا گیا

    علیمہ خان کو اڈیالہ جیل کے باہر انڈے مارے گئے، علیمہ خان میڈیا سے بات چیت کر رہی تھیں کہ کسی نے علیمہ خان کو انڈہ دے مارا، علیمہ خان انڈہ لگنے کے بعد موقع سے روانہ ہو گئیں، اس موقع پر پی ٹی آئی کارکنان موجود تھے، انڈہ مبینہ طور پر خواتین نے مارا ہے جو میڈیا ٹاک کے موقع پر موجود تھیں،پولیس نے موقع پر ہی کاروائی کی اور علیمہ خان کو انڈہ مارنے والی دو خواتین کو حراست میں لے لیا

    دوسری جانب علیمہ خان کی موجودگی میں خیبر پختونخوا کے سرکاری ملازمین نےعلی امین گنڈا پور کے خلاف احتجاج کیا،سرکاری ملازمین نے کہا کہ "خیبر پختونخوا حکومت میں بڑے چھوٹے سب کرپشن میں مصروف ہیں، ہمارے مطالبات کوئی نہیں سن رہا”۔ کارکنوں نے مزید کہا کہ "ہماری عمران خان سے محبت اب علی امین اینڈ کمپنی کی وجہ سے نفرت میں بدل چکی ہے”۔

  • 1965 کے تاریخ ساز معرکے میں سرخرو ہونے والے غازیوں کے احساسات

    1965 کے تاریخ ساز معرکے میں سرخرو ہونے والے غازیوں کے احساسات

    غازیانِ 1965 کی شجاعت کو قوم کا سلام،یومِ دفاع کے موقع پر 1965 کے تاریخ ساز معرکے میں سرخرو ہونے والے غازیوں نے اپنے احساسات کا اظہار کیا

    غازیانِ وطن صوبیدار ریٹائرڈ میجر علی شان کا کہنا تھا کہ ”جب پتہ چلا کہ بھارت نے اپنی فوج لاہور اور سیالکوٹ بارڈر پر بھیجی ہے تو ہم نے بھی رائے ونڈ کی جانب واپسی اختیار کی”،نائب رسالدار ریٹائرڈ غیاث محمد کا کہنا تھا کہ جب ہمیں پتا چلا کہ بارڈر پر دشمن گڑبڑ کر رہا ہے تو ہم نے بھی اپنی تیاری پکڑ لی،چھمب جوڑیاں کے مقام پر دشمن کا بھرپور مقابلہ کیا اور پاکستان کا جھنڈا لہرایا، اس وقت صرف پاکستان آرمی نہیں بلکہ بچہ بچہ جوش میں تھا، نائب صوبیدار ریٹائرڈ عبدالحفیظ کا کہنا تھا کہ جہلم کے مقام پر ہمیں حکم ملا کہ فوراً حفاظتی اقدامات کے لئے تیار ہو جاؤ،اس وقت ہر پاکستانی میں نہایت جوش اور جذبہ تھا جس کی وجہ سے ہم نے جنگ جیتی،پوری قوم اس وقت بھی اپنی فوج کے ساتھ کھڑی ہے، سپاہی ریٹائرڈ عبدالوحید کا کہنا تھا کہ ہمارے جوانوں نے وہ کر دکھایا جس کی مثال نہیں ملتی، ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے، پاک فوج نے دشمن کے تمام ٹینک تباہ کر دئیے،

    جنگ کا پانچواں روز، 5ستمبر 1965،جنگ جاری تھی اور پاکستانی فوج متعدد فتوحات اپنے نام کرتی رہی اور بھارت کو ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ،صدر ایوب خان نے جوڑیاں میں بے مثال کارناموں اور کامیابیوں پر فوج کو مبارکباد دیتے ہوئے دشمن کو نیست و نابود کرنے کی ہدایت دی ،رات بھر گھمسان کی جنگ کے بعد پاکستانی فوج بھارت کے دوسرے مضبوط ترین محاذ جوڑیاں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئی،اس لازوال فتح کی بناء پر بھارتی فوج کو جوڑیاں سے 18میل اور اکھنور سے 3 میل پیچھے دھکیل دیا گیا ،پاک فوج کے جوانوں نے مقبوضہ کشمیر میں کئی مقامات پر بھارتی فوج پر حملے کئے جس میں 50 سے زاہد فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے.

  • پاکستان اور چین کے درمیان  تعاون اور سرمایہ کاری کیلئے 21 یادداشتوں پر دستخط

    پاکستان اور چین کے درمیان تعاون اور سرمایہ کاری کیلئے 21 یادداشتوں پر دستخط

    پاکستان اور چین نے زراعت ،الیکٹرک وہیکلز ،شمسی توانائی،صحت، کیمیکل وپیٹرو کیمیکلز، آئرن اور سٹیل سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ اور سرمایہ کاری کے لئے 4.2 ارب ڈالر مالیت کی 21 مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں .

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں خصوصی اقتصادی زونز سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس اور مفاہمت کی یادداشتوں پر عملدرآمد دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی کے لئے لانگ مارچ ہوگا،یہ لانگ مارچ پاکستان کو ایسے ملک میں تبدیل کر دے گا جہاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی،منافع بخش روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوں گے،جی ڈی پی ترقی کرے گی اور معیشت مضبوط ہوگی،پاکستان چین کے ساتھ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں تعاون چاہتا ہے،چین کی ترقی ہمارے لئے رول ماڈل ہے،چینی سرمایہ کاروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے،چینی صنعتوں کو پاکستان میں منتقلی سے سستی لیبر سمیت دیگر سہولیات میسر ہوں گی،پاکستان میں چینی بھائیوں کے سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

    پاکستان چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس کے موقع پر مفاہمت کی یادداشتوں اور جوائنٹ وینچرز پر دستخط کئے گئے۔اس موقع پر نائب وزیراعظم وزیر خارجہ اسحاق ڈار،متعلقہ وفاقی وزراء اور ممتاز پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے نمائندوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔1.54 ارب ڈالر کے جوائنٹ وینچرز ہائی ٹیک،زراعت، میڈیکل و صحت ،کیمیکل و پیٹرو کیمیکل، آئرن سٹیل و تانبے، شمسی توانائی، الیکٹرک وہیکلز کے شعبوں سے متعلقہ کمپنیوں کے نمائندوں نے مفاہمت کی یادداشتوں اور جوائنٹ وینچرز پر دستخط کئے۔پاکستان چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ میرے لئے باعث افتخار ہے کہ انتہائی اہمیت کے حامل چینی کاروباری اداروں سے مخاطب ہوں، میں اپنی زندگی کی سب سے بڑی کانفرنس شریک ہوں، پاکستان اور چین کی دوستی ہمالیہ سے بلند اور سمندروں سے گہری اور سٹیل اور آئرن سے مضبوط اور شہد سے میٹھی ہے جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی، ہماری یہ دوستی دیانتداری، باہمی احترام اور ایک دوسرے کے ساتھ ہر خوشی اور مشکل کی گھڑی میں تعاون کی بنیاد پر قائم ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین پاکستان کا مخلص، سچا دوست ہے جو ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا ہے، زلزلہ ہو یا سیلاب جس طرح چین پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا ایسی کسی اور ملک کی مثال نہیں ملتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں اپنے دل کی گہرائیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے عظیم دونوں ممالک کے درمیان ہمارے اسلاف نے جو تعلقات قائم کئے تھے ،وہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور انہیں مزید آگے لے کر جائیں گے، 2015ء میں چین اور پاکستان نے سی پیک کے معاہدے پر دستخط کئے اور میرے بہت ہی پیارے بھائی چین کے صدر شی جن پنگ نے پاکستان کا دورہ کیا اور میرے بڑے بھائی وزیراعظم محمد نواز شریف کے ساتھ سی پیک کے معاہدے پر دستخط کئے اور اس کے نتیجہ میں چینی کمپنیوں نے 35 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان میں کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ چینی سرمایہ کاری سے 22، 22 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوا اور 2018ء میں پاکستان توانائی کی ضروریات میں خود انحصار ہو گیا، صنعتیں بحالی ہوئیں، زراعت بحال ہوئی، انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبے، روڈ نیٹ ورک، اورنج لائن لاہور، ڈیمز اور دیگر بہت سے منصوبے شروع ہوئے اور پاکستان کی معیشت کو ترقی ملی۔ وزیراعظم نے کہا کہ لیکن بدقسمتی سے درمیان میں یہ سلسلہ رک گیا لیکن آج نہ صرف یہ منصوبے بحال ہوئے بلکہ دوطرفہ اعتماد، باہمی احترام اور گرمجوشی میں اضافہ ہوا جو وقت کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج ہم سی پیک 2.0 کا آغاز کرنے جا رہے ہیں، یہ سی پیک 2.0 بی ٹو بی سرمایہ کاری پر مشتمل ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ زراعت کا شعبہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور ہماری معیشت کا 60 فیصد انحصار زراعت پر ہے، چینی سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کو دعوت دیتا ہوں کہ اپنے تجربات، مہارتیں اور سرمایہ کاری پاکستان کے زرعی شعبہ پر صرف کریں اور زراعت کو فروغ دیں جس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہو گا، چین وہ اشیاء پاکستان سے درآمد کر سکے گا جو دیگر ممالک سے کر رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) ایک اور اہم باصلاحیت شعبہ ہے جس میں چین عالمی سطح پر سب سے آگے ہے، کان کنی اور معدنیات باہمی تعاون کا ایک اور اہم باصلاحیت شعبہ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلاشبہ خصوصی اقتصادی زونز سی پیک 2.0 کے بنیادی ستون ہیں جو چینی سرمایہ کاروں کیلئے پرکشش مواقع فراہم کر رہے ہیں، چین ٹیکسٹائل، چمڑے اور دیگر شعبوں کی صنعتوں کو پاکستان منتقل کر سکتا ہے اور پاکستان کی افرادی قوت سے استفادہ کر سکتا ہے جو دیگر ممالک کے مقابلہ میں کم لاگت پر میسر ہے، چینی سرمایہ کار تھرڈ ممالک کے مقابلہ میں پاکستان میں ان سہولیات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنا منافع بڑھا سکتے ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ میں چینی سرمایہ کاروں پر زور دیتا ہوں کہ وہ آگے بڑھیں اور ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ بیجنگ میں پاکستانی وزراء اور توانائی، انفارمیشن، ٹیکنالوجی، کامرس اور تمام شعبوں کے حکام موجود ہیں جو چینی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان کی موجودگی اس بات کی غمازی ہے کہ پاکستان چین جیسے عظیم دوست ملک کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو کس قدر اہمیت دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بطور چیف ایگزیکٹو آف پاکستان اور بطور پاکستانی وزیراعظم میں یہاں موجود ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہماری معیشت مضبوط ہو گی تو دونوں ملک مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ الحمدﷲ پاکستان کی معیشت اب مستحکم ہے اور اقتصادی اشاریے مستقبل کی مثبت پیشرفت کی نشاندہی کر رہے ہیں، قلیل المدتی، وسط مدتی اور طویل المدتی سطح پر معاشی ترقی ہو گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین کے صدر شی جن پنگ کے پاکستان کے ساتھ تعاون کے ذاتی عزم کی بدولت یہ سب ممکن ہوا ہے اور اب ہم اقتصادی ترقی کی دوڑ میں چین کے تعاون سے دیگر ممالک کے مقابلہ کیلئے تیار ہیں۔

    وزیراعظم نے واضح کیا کہ چینی بھائیوں اور بہنوں کی پاکستان میں سکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہے، آئیں آگے بڑھیں اور معاشی منظرنامہ کو تبدیل کریں اور چین اور پاکستان کے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے مل کر کام کریں۔ محمد شہباز شریف نے کہا کہ چینی بھائیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے سہولت فراہم کرنے میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے دو تین ہفتے قبل چینی گروپ کے لوگوں کی نشاندہی پر درپیش مسئلہ کو 24 گھنٹوں میں حل کرنے کی مثال دی اور کہا کہ اسلام آباد میں چینی گروپ نے ملاقات میں بتایا کہ انہیں بعض مسائل کا سامنا ہے جس پر میں نے اپنی کابینہ کے ارکان کو ہدایت کی کہ 24 گھنٹوں میں اس مسئلہ کو حل کیا جائے اور وہ مسئلہ حل کر دیا گیا اور یہی وجہ ہے کہ میں آپ سب کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان اسی طرح آپ کا دوسرا گھر ہے جس طرح چین ہمارا دوسرا گھر ہے، آگے بڑھیں اور جائنٹ وینچر سرمایہ کاری کریں، تمام وزارتیں، ادارے اور محکمے چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے اور جلد ہم چینی اور پاکستانی سرمایہ کاری کے ذریعے صرف ایک نہیں بلکہ ایک سے زائد خصوصی اقتصادی زونز قائم کریں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ یہ میرا خواب ہے اور ہم اس خواب کو معاہدوں پر عملدرآمد کے ذریعے پورا کریں گے، سی پیک 2.0 میرے لئے سب سے اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین 15 سال میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بن گیا ہے اور دنیا کی بہترین عسکری قوت ہے اور یہ محنت، محنت اور محنت کے ساتھ ممکن ہوا ہے اور ہم چینی ماڈل کے ذریعے پاکستان کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین کو جو شاندار ترقی ملی ہے اس کی مثال نہیں ملتی، چین نے 700 ملین لوگوں کو غربت سے نکالا اور نہ صرف اپنے لوگوں کو روزگار دیا بلکہ دنیا کے ہزاروں لوگوں کو روزگار کی پیشکش کر رہا ہے اور خوشحالی کی جانب گامزن ہے، آج اپنے تجربات کے استفادہ کرنے اور صنعتی ترقی کی جانب بڑھنے کا وقت ہے اور پاکستان ایک دن متحرک معیشت میں بدلے گا۔ کانفرنس میں اپنے اختتامی کلمات میں وزیراعظم نے کہا کہ سرمایہ کاروں کے درمیان مفاہمتی یاداشتوں کا تبادلہ خوش آئند ہے، ماضی میں بھی اس طرح کی تقریب ہوتی رہی ہیں لیکن انتھک کوششوں اور سخت محنت سے یہ ممکن ہوا ہے پاکستان میں چین کے سفیر، چینی حکومت اور اور چین کی عظیم کاروباری شخصیات نے اس کو ممکن بنایا ہے،متعلقہ وفاقی وزراء، سرمایہ کاری بورڈ، ایس آئی ایف سی اور صوبائی حکومتوں اور متعلقہ محکمہ کے درمیان بہتر رابطے سے اس سلسلے میں پیشرفت ہوئی ہے،اس سلسلے میں تمام متعلقہ اداروں کا کردار قابل تحسین ہے، مفاہمت کی یادداشتوں سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ ملے گا۔

    انہوں نے کہا کہ 1.5 ارب ڈالر کے جوائنٹ وینچرز پر پاکستان اور چینی کمپنیوں کی طرف سے دستخط کیے گئے ہیں،مفاہمتی یاداشتوں کو معاہدوں میں تبدیل کرنا اور ان پر عمل درامد ہمارے لیے ایک چیلنج ہے، اس کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا اور دونوں حکومتوں کو قریبی رابطے کے ذریعے اگے بڑھنا ہوگا، چین میں پاکستان کے سفیر اور چین کے پاکستان میں سفیر اور ہمارے وفاقی وزراء کو متعلقہ چینی عہدے داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے،یقین ہے کہ ہم اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون لائق تحسین ہے،دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں اور جوائنٹ وینچرز پر اگر ہم عملدرآمد کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی کے لئے لانگ مارچ ہوگااور یہ لانگ مارچ بیجنگ سے شروع ہو کر اور اسلام آباد اپنی منزل پر پہنچ کرختم ہوگااور یہ لانگ مارچ پاکستان کو ایسے ملک میں تبدیل کر دے گا جہاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی،منافع بخش روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوں گے،ہماری جی ڈی پی ترقی کرے گی اور معیشت مضبوط ہوگی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے ہم آج شام سے ترقی کا لانگ مارچ شروع کریں گے اور اقتصادی ترقی کی منزل پہنچنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے اور اس کے لئے انتھک محنت کریں گے اور یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی شاندار لمحہ ہوگا اس مقصد کے لیے تمام حکومتی ادارے، محکمے اور نجی شعبہ مل کر مکمل ہم آہنگی اور تعاون سے کام کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بی ٹو بی کانفرنس پاکستان کی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوگی،میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اقتصادی ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے دن رات ایک کر دوں گا،اس کے لئے ہمیں سخت محنت کرنا ہوگی اس سے پاکستان اور چین وہ رول ماڈل بنیں گے جس کی دوسرے ممالک بھی پیروی کریں گے۔

    اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

    ٹرمپ کا یورپ کو روسی ایندھن کی خریداری روکنے اور چین پر دباؤ ڈالنے کا مشورہ

    خیبرپختونخوا کابینہ اجلاس کل، 31 نکاتی ایجنڈے پر غور ہوگا

  • پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی اورمؤثرملٹری ڈپلومیسی عالمی افق پرکامیابیوں کی نوید

    پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی اورمؤثرملٹری ڈپلومیسی عالمی افق پرکامیابیوں کی نوید

    عالمی منظر نامے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ منظرعام پر آ گئی

    بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ کے مطابق ’’امریکی ترجیحات میں تبدیلی آئی اور اس کاجھکاؤبھارت کی بجائے پاکستان کی جانب واضح ہے‘‘ پاکستان امریکا کے لیے جنوبی ایشیاو مشرقِ وسطیٰ میں اہم کردارکاحامل ہے، حالیہ پاک بھارت تنازعہ نے بھی امریکہ کے اندازے عسکری طاقت کے حوالےسےیکسر بدل دیے ہیں، بدلتےحالات کے پیش نظربھارت کیلئےنیٹ سکیورٹی پرووائیڈر کا کرداربھی ادا کرنامشکل نظر آرہا ہے،امریکہ پاکستان تعلقات کے فروغ سے مشترکہ مفادات کی ہم آہنگی مزیدبہترہو گئی ہے، امریکااب بھارت کو جنوبی ایشیا میں متبادل شراکت دارکےطورپر نہیں دیکھ رہا ،امریکی ترجیحات میں تبدیلی بھارت کے لیے پریشانی کاباعث ہے ، گزشتہ کئی سالوں سے بھارت امریکی ترجیحات میں شامل تھا مگر اب وہ دورختم ہوچکاہے، پاکستان بھارت کےساتھ تعلقات بہترکرنے کے لیےآمادگی دکھاتارہا ہے، پاکستان کے مطابق بھارت نے امن کی پیش کش کاجواب ہمیشہ کشیدگی بڑھا کر دیا،بھارت نے بلوچستان میں خفیہ مداخلت بڑھائی اور بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ مہم چلائی، مئی 2025 میں پاک بھارت تنازعے نے ایٹمی تصادم کے خدشات کو بڑھا دیا، امریکہ نے پاک بھارت جنگ بندی میں کردار ادا کیا،

    بھارت کا مذاکرات سے مسلسل انکار امریکا کے ساتھ تعلقات میں مستقل بے یقینی اور بگاڑ پیدا کر رہا ہے،

  • بھارت نے اربوں ڈالر کی دفاعی خریداری کے لئے پہلگام ڈرامہ رچایا : تجزیہ کار

    بھارت نے اربوں ڈالر کی دفاعی خریداری کے لئے پہلگام ڈرامہ رچایا : تجزیہ کار

    پہلگام فالس فلیگ آپریشن اور اس کے بعد آپریشن سندور کے پیچھے کارفرما بھارتی مذموم منصوبہ ایک تیزی سے بے نقاب ہو رہا ہے۔ بھارت پہلے سے ترتیب دیے گئے منصوبے کے تحت اب آپریشنل ضرورت کی آڑ میں اربوں ڈالر کی دفاعی خریداری کر رہا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئی دہلی نے دانستہ طور پر پہلگام کا کھیل کھیلا تاکہ ایک طویل عرصے سے تیار اسلحہ خریداری کی سکیموں پر عملدرآمد کیا جاسکے۔ جرمن دفاعی کمپنی تھیسن کرپ میرین سسٹمز (ٹی کے ایم ایس) نے رواں ہفتے بھارتی فرم VEM ٹیکنالوجیز کے ساتھ بھارتی بحریہ کے لیے ہیوی ویٹ ٹارپیڈو کو مشترکہ طور پر تیار کرنے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بھی بھارت کا یہ پہلے سے طے شدہ منصوبہ ہے اور وہ اب متعدد بین الاقوامی سپلائرز روس، فرانس، اسرائیل، برطانیہ اور اب جرمنی کے ساتھ اسلحہ خریداری کے معاہدے کر رہا ہے۔بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے "ڈرون جنگجووں” اور "ڈرون کمانڈوز” کو تربیت دینے کے لیے مدھیہ پردیش کے ٹیکن پور میں ڈرون وارفیئر سکول کا بھی قائم کیا ہے۔ بی ایس ایف کی قیادت نے واضح طور پر اس پروگرام کو آپریشن سندور سے جوڑا ہے اور ڈرونز کو پاکستان کے خلاف لڑائی میں فیصلہ کن کے طور پر پیش کیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بھارتی اقدام سرحدی دفاع کے بارے میں کم جبکہ ڈرون جنگ کے حوالے سے زیادہ ہے۔درآمدات کی مطابقت پذیر رفتار – جرمن ٹارپیڈو ، فرانسیسی رافیل ، روسی جنگجو ، اسرائیلی ڈرون ، اور برطانوی پروپلشن سسٹم – ثابت کرتی ہے کہ یہ ایک طویل مدتی خریداری کا روڈ میپ ہے۔

    مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ اسلحہ خریدار ی میں بھارتی کی پھرتی اسکے مذموم ارادوں کا پتہ دیتی ہے ، بھارت آپریشن سندور کی شکست سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور وہ اپنے پڑوسیوں پر فوجی برتری ثابت کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔