Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • دہشتگردی کے خلاف جنگ، چین کی پاکستان کی حمایت

    دہشتگردی کے خلاف جنگ، چین کی پاکستان کی حمایت

    چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہےکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں چین پاکستان کی حمایت حمایت کرتا ہے۔

    شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہان مملکت کی کونسل کے 25 ویں اجلاس میں شرکت کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف پیر کو بلٹ ٹرین کے ذریعے تیانجن سے چینی دارالحکومت بیجنگ پہنچے،نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی ان کے ہمراہ تھے،چینی دارالحکومت بیجنگ میں قیام کے دوران وزیراعظم شہباز شریف فاشزم کے خلاف عالمی جنگ کی 80ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کریں گے۔

    چینی سرکاری میڈیا کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں شہباز شریف نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی حمایت پر چینی صدر کا شکریہ ادا کیا،اس موقع پر چینی صدر کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں چین پاکستان کی حمایت حمایت کرتا ہے، امید ہے پاکستان چینی عملے، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت یقینی بنانےکے لیےمؤثر اقدامات کرےگا۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے جنوبی ایشیا میں جامع مذاکرات کی نگرانی کے لیے چین کو دعوت دے دی۔ایس سی او اجلاس سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں جامع مذاکرات چین اپنی سربراہی میں کرائے تاکہ ہم ان مذاکرات کے ثمرات جلد حاصل کرسکیں

  • اہم عہدوں پر کرپشن کی کہانی،وزیراعظم آفس کا عہدہ اور اختیارات کا ناجائز استعمال

    اہم عہدوں پر کرپشن کی کہانی،وزیراعظم آفس کا عہدہ اور اختیارات کا ناجائز استعمال

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے وزیراعظم آفس میں ہونے والی اہم کرپشن کو اپنے یوٹیوب چینل پر بے نقاب کیا ہے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جب گھر کا نگہبان ہی چور بن جائے، جب وزیراعظم آفس میں ہی کرپشن کے شبہات سر اٹھانے لگیں تو باقی کیا توقع رکھی جا سکتی ہے، وزیراعظم ہاؤس وہ مقام ہے جہاں ملک کا نظم و نسق چلایا جاتا ہے، جہاں تمام فیصلے ہوتے ہیں، شفافیت ،ایمانداری کی مثال قائم ہوتی ہے لیکن اگر وہاں افسر ذاتی فائدے کے لئے کرپشن کرے تو یہ سارے نظام کی ناکامی کا ثبوت ہے، یہ وہ جگہ ہے جہاں قانون بنتے ہیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ وہیں قانون توڑے جارہے ہیں، یہ ایک الارم ہے جو ہمیں بتا رہا ہےاگر آج اس ناسور کو نہ روکا تو کل یہ پورے ملک کو لپیٹ میں لے سکتی ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اہم عہدوں پر کرپشن کی کہانی، وزیراعظم آفس کا عہدہ اور اختیارات کا ناجائز استعمال،اہم عہدوں پر فائز افراد کس طرح طاقت کو ذاتی فائدے کے لئے استعمال کرتے ہیں،کہانی کا مرکزی کردار شکیل احمد منگنیجو ہے،ان کے اقدامات نے سرکاری عہدوں کی حرمت کو پامال کیا ہے، عام طور پر جب کوئی افسر کا تبادلہ ہوتا ہے تو وہ سابقہ ذمہ داریوں سے فارغ ہوتا ہے لیکن یہاں صاحب نے نیا اصول بنا لیا، وہ وزارت تجارت سے وزیراعظم کے آفس میں منتقل ہوئے لیکن پاکستان ری کے انشورنس کمپنی لمیٹڈ بورڈ آف ڈائریکٹر میں وزارت تجارت کے نمائندے کے طور پر اپنا عہدہ انہوں نے نہیں چھوڑا، یہ کھلی خلاف ورزی ہے،پاکستانی قانون کی،یہ سوچ کی عکاسی ہے کہ میرے لئے کوئی قانون نہیں ہے میں خود ہی قانون ہے، یہ عہدے کی غیر قانونی برقراری کا معاملہ نہیں بلکہ ایسا قدم ہے جس کا مالی فائدہ حاصل کیا گیا، انہوں نے اپنے تبادلے کے بعد 20 سے زائد میٹنگز میں بھی شرکت کی اور ہر میٹنگ کے لئے ڈیڑھ لاکھ کی خطیر رقم وصول کی، غیر قانونی طور پر لاکھوں روپے وصول کئے لیکن کسی نے نہیں روکا کیونکہ وہ طاقتور عہدے پر تھے، اس پر کوئی کاروائی نہ ہوئی، کیونکہ اس کی رسائی وزیراعظم آفس تک ہے، وزیراعظم کے احکامات کو سب سے اعلیٰ ترین سمجھاجاتا ہے لیکن منگنیجو نے وزیراعظم آفس کی ہدایات کو نظر انداز کر دیا ،ہدایات میں کہا گیا کہ وزارتوں کے نمائندے کسی میٹنگ میں شرکت سے قبل وزیر سے مشاورت کریں لیکن انہوں نے بغیر کسی مشاورت کے 15 سے زائد میٹنگز میں شرکت کر لی،منگنیجو کی موجودگی نے اس سارے عمل پر سوال اٹھائے ہیں، وزیر تجارت کو قانونی نوٹس بھی بھیجا گیا ہے، 26 اگست 2025 کو وزارت تجارت یا وزیر تجارت جام کمال نے خط لکھا جس میں منگنیجو کے اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا گیا اور بورڈ کو ہدایت کی گئی کہ منگینجو کی تجویز کردہ کسی بھی ہدایت پر عمل نہ کریں.

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھاکہ کیا ہمارے ملک میں قانون ہے، یا ہے تو کیا سب کے لئے برابر ہے، یا عہدے والے سب کرتے رہیں،بدعنوانی کی یہ کسی واضح مثال ہے اس کو بے نقاب کرنا ضروری ہے، دیکھتے ہیں اس رپورٹ کے بعد وزیراعظم اور وزیر تجارت کیا ایکشن لیتے ہیں

  • آذربائیجان کے صدر اور وزیراعظم پاکستان کی ملاقات،شہباز شریف بیجنگ پہنچ گئے

    آذربائیجان کے صدر اور وزیراعظم پاکستان کی ملاقات،شہباز شریف بیجنگ پہنچ گئے

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے جمہوریہ آذربائیجان کے صدر عزت مآب الہام علییوف سے چین کے شہر تیانجن میں منعقد ہونے والی SCO کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ (CHS) کے موقع پر ملاقات کی۔

    وزیراعظم نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تاریخی امن معاہدے پر دستخط کرنے پر صدر علییوف کو مبارکباد پیش کی، جو جنوبی قفقاز میں دیرپا امن اور استحکام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

    دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، مواصلات، دفاع، تعلیم اور عوام سے عوام کے تبادلوں میں دوطرفہ تعاون کے مکمل دائرہ کار کا جائزہ لیا اور پاکستان آذربائیجان تعلقات میں بڑھتی ہوئی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی خوشحالی اور انضمام کو فروغ دینے کے لیے علاقائی رابطوں کے منصوبوں اور کثیر جہتی فریم ورک بشمول SCO کے تحت تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجوں کے بارے میں بھی نقطہء نظر کا اشتراک کیا اور متعلقہ بین الاقوامی فورمز پر قریبی ہم آہنگی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

    آذربائیجان کے صدر نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں جاری سیلابی صورتحال کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے نقصان اور مالی نقصانات پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں آذربائیجان کی حکومت اور عوام پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وزیراعظم نے صدر علییوف کو جلد پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔

    دوسری جانب وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ تیانجن کے اسٹینڈنگ ممبر اور تیانجن -بنہائی نیوء ایریا کے پارٹی سیکرٹری لیون ماؤ جن کی وفد کے ساتھ ملاقات ہوئی ہے، اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کی دوستی دنیا بھر میں ایک نمایاں اور منفرد مقام رکھتی ہے ،چین اور پاکستان ہر مشکل میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں،پاکستان کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں چین نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے ،چین-پاکستان اقتصادی راہداری نے پاکستان میں توانائی کے شعبے کی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے حوالے سے نمایاں کردار ادا کیا ہے،چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے فیز 2 میں اسمارٹ سٹیز، زرعی صنعت کے حوالے سے تعاون اور نیکسٹ جنریشن ٹیکنالوجی انڈسٹری پر خاص توجہ مرکوز کی جائے گی ،چینی صدر عزت مآب شہر جن پنگ کی زیر قیادت تیانجن کی ترقی دیکھ کر انتہائی خوشی ہوئی ہے ،تیانجن-بنہائی نیو ایریا اور پاکستان کے درمیان اقتصادی تعاون اور تجارت بڑھانے کے خواہاں ہیں،پاکستان کے کراچی پورٹ، بن قاسم پورٹ اور گوادر پورٹ اور چین کے تیانجن پورٹ درمیان تعاون اور تجارت کو وسعت دینا چاہتے ہیں ،پورٹ ہینڈلنگ اور پورٹ آپریشنز کے معاملات کے حوالے سے تیانجن-بنہائی نیو ایریا کی مہارت سے فایدہ اٹھانا چاہتے ہیں ،پاکستان میں خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کے حوالے سے چینی کمپنیوں کو خوش آمدید کہتے ہیں،فارماسیوٹیکل ، بائیو میڈیسن اور جانوروں کی ویکسین کے حوالے سے تیانجن-بنہائی نیو ایریا کی صنعت سے تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں ،حکومت پاکستان نے پچھلے ڈیڑھ سال میں معاشی اصلاحات میں نمایاں سنگ میل عبور کئے ہیں ،فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ڈیجیٹائزیشن ، نئی قومی اقتصادی پالیسی اور آئی ٹی سے متعلق اقدامات کے فروغ سمیت کئی دیگر اصلاحات کی خود نگرانی کر رہا ہوں،وزیراعظم نے تیانجن سے صنعتی و اقتصادی شعبے سے وابستہ نمایاں افراد کے وفد کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی،وزیراعظم کو تیانجن -بنہائی نیوء ایریا کے پارٹی سیکرٹری لیون ماؤ جن کی جانب سے تیانجن-بنہائی نیوء ایریا کے حوالے سے بریفنگ دی گئی،بتایا گیا کہ تیانجن-بنہائی نیوء ایریا میں انٹیلی جینٹ ٹیکنالوجی ، گرین پیٹرو کیمیکل، آٹو موٹو انڈسٹری ، بائیو میڈیسن ، نیوء انرجی ، ایرو اسپیس ، کولڈ چین اسٹوریج ، ڈیپ-سی مائننگ ، جین تھراپی سمیت کئی دیگر شعبوں کی صنعتیں موجود ہیں ،پاکستان اور تیانجن کے درمیان کھاد ، فارماسیوٹیکل ، ٹائرز ، معدنیات اور فشریز کی تجارت ہوتی ہے ،تیانجن-بنہائی نیوء ایریا پاکستان کے ساتھ تجارت خصوصاً ای-کامرس کو وسعت دینے کا خواہاں ہے ،تیانجن-بنہائی نیوء ایریا کے کاروباروں اور صنعتوں کو پاکستان تک پھیلانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی،ملاقات میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی ، پاکستان میں تعینات چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ، چین میں تعینات پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے ۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کونسل کے 25 ویں اجلاس میں شرکت کے بعد تیانجن سے بذریعہ بلٹ ٹرین بئیجنگ پہنچ گئے بئیجنگ کے جنوبی ریلوے اسٹیشن پر نیشنل پیپلز کانگریس کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی رکن محترمہ وینگ ہانگ نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیر اعظم کے ساتھ ہیں۔بئیجنگ میں اپنے قیام کے دوران وزیراعظم عالمی فاشزم کے خلاف جنگ کی 80ویں سالگرہ کی تقریب میں شریک ہوں گے۔ وزیر اعظم کی چینی صدر عزت مآب شی جنپنگ ، چینی وزیر اعظم عزت مآب کی کیانگ اور دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم چین-پاکستان بزنس تو بزنس کانفرنس میں بھی شریک ہوں گے اور خطاب بھی کریں گے۔

  • ایس سی او علامیہ،  پاکستان کے دہشتگردی کے حوالے سے موقف کی تائید

    ایس سی او علامیہ، پاکستان کے دہشتگردی کے حوالے سے موقف کی تائید

    دہشتگردی پر پاکستان کا موقف ہمیشہ سے واضح اور دو ٹوک رہا ہے جسے پوری دنیا نے تسلیم کیا ہے،ایس سی او کے جاری اعلامیہ میں بھی دہشت گردی کی تمام اقسام کو قابل مذمت قرار دینا پاکستان کے موقف کی تائید ہے،اعلامیہ میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوہرے معیار کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا،شنگھائی تعاون تنظیم کے جاری اعلامیے میں جعفر ایکسپریس اور خضدار میں بچوں کی سکول بس پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی کہا گیا کہ دہشت گردوں کی سرحد پار نقل و حرکت سمیت دہشت گردی کے تمام پہلوؤں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جائے،شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ;’’اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، عالمی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی، اور اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مشترکہ اور مؤثر کارروائی کی جائے‘‘افغانستان میں پائیدار امن کیلئے تمام نسلی سیاسی گروہوں کے نمائندو کی شمولیت سے وسیع شرکت کے ساتھ حکومت قائم کی جائے،ہر قوم کو آزادی سے اپنے سیاسی، سماجی اور اقتصادی راستے کا انتخاب کرنے کا حق حاصل ہے،دہشتگرد گروہوں کو سیاسی یا کرائے کے مقاصد کے لیے استعمال کرنا ناقابل قبول ہے،

    پاکستان ہمیشہ سے دہشتگردی میں سرحد پار سہولت کاری کے شواہد دنیا کے سامنے پیش کرتا آیا ہے،جعفر ایکسپریس اور خضدار میں سکول بچوں کی بس پر حملے سمیت دیگر دہشتگردی واقعات میں بھارتی کردار کو شواہد کے ساتھ ثابت کیا گیاقومی سلامتی کمیٹی کے 24 اپریل کے اعلامیے میں بھی پاکستان نے پہلگام واقعہ پر بھارت کو آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی جس کا جواب آج تک بھارتی حکومت نے نہیں دیا،سرحد پار دہشتگردی کی روک تھام کے حوالے سے پاکستان نے متعدد بار دنیا کے سامنے شواہد رکھے آج ایس سی او اعلامیہ نے بھی اس کو اجاگر کردیا،شنگھائی تعاون تنظیم کا جاری اعلامیہ پاکستان کا دہشتگردی سمیت مختلف تنازعات کے حوالے سے موقف کی تائید کرتا ہے،پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں آج پاکستان خطے میں نیٹ ریجنل سٹیبلائزر کے طور پر ابھر رہا ہے

    شنگھائی تعاون تنظیم کے 25ویں سربراہان مملکت کونسل اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا جس میں جعفر ایکسپریس اور خضدار حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ دنیا کثیرالقطبی، منصفانہ اور نمائندہ عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ فورم میں اقوام متحدہ میں ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا،رکن ممالک نے اقوام متحدہ اور ایس سی او چارٹر کی پاسداری دہرائی۔ ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور عدم مداخلت بنیادی اصول قرار دیا گیا ہے،ایس سی او مشترکہ اعلامیے میں پہلگام، جعفر ایکسپریس اور خضدار حملوں کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ ایس سی او نے فلسطین میں فوری، پائیدار جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے ایران پر جون 2025ء کے حملوں کی مذمت کی ہے اور کہا کہ حملے ایران کی قومی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں،مشترکہ اعلامیے میں شنگھائی اسپرٹ کے تحت باہمی اعتماد اور مشترکہ ترقی کے عزم کی توثیق دیتے ہوئے یوریشیا میں برابری اور ناقابل تقسیم سیکیورٹی کا ڈھانچہ تشکیل دینے پر زور دیا گیا،ایس سی او نے کثیرالجہتی تعاون کی سمت واضح کرتے ہوئے ترقیاتی حکمتِ عملی 2035ء تک منظور کر لی،مشترکہ اعلامیے میں دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر اتفاق کیا گیا اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے یونیورسل سینٹر اور اینٹی ڈرگ سینٹر کے معاہدوں پر دستخط ہوئے،ایس سی او کے اعلامیے کے مطابق منشیات، سائبر کرائم اور سرحدی سیکیورٹی پر مشترکہ تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کی حمایت اور پُرامن ایٹمی توانائی تک مساوی رسائی پر زور دیا گیا۔

  • پاک فوج کا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر تباہ،5 جوان شہید

    پاک فوج کا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر تباہ،5 جوان شہید

    آج صبح تقریباً 10 بجے ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جب پاک فوج کا ایک ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر ہُدور گاؤں کے قریب حادثے کا شکار ہو گیا۔ یہ گاؤں تھکداس چھاؤنی سے تقریباً 12 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ہیلی کاپٹر ایک معمول کی تربیتی پرواز پر تھا کہ اچانک اس میں تکنیکی خرابی پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں وہ کریش لینڈنگ کے دوران تباہ ہو گیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اس افسوسناک حادثے کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر پر سوار تمام عملے کے ارکان جامِ شہادت نوش کر گئے۔ میجر عاطف ، پائلٹ ان کمانڈ، میجر فیصل، معاون پائلٹ، نائب صوبیدار مقبول،فلائٹ انجینئر، حوالدار جہانگیر – کریو چیف، نائیک عامر – کریو چیف شہید ہوگئے، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق تربیتی پروازیں آرمی ایوی ایشن کی معمول کی سرگرمیوں کا حصہ ہوتی ہیں جن کا مقصد آپریشنل تیاری کو برقرار رکھنا ہوتا ہے تاکہ نہ صرف عسکری محاذ پر بلکہ قدرتی آفات اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد فراہم کرنے کے لیے بھی ہمہ وقت تیار رہا جا سکے۔

    آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان آرمی ہر پہلو میں اپنی تیاری کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔شہداء کی قربانیوں کو قوم سلام پیش کرتی ہے اور ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ان کی خدمات اور قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

  • معرکہ حق میں کامیابی،پاکستان باوقار ریاست،دنیا مان گئی

    معرکہ حق میں کامیابی،پاکستان باوقار ریاست،دنیا مان گئی

    معرکہ حق میں کامیابی نے پاکستان کو نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی میدان میں بھی ایک باوقار اور ذمہ دار ریاست کے طور پر منوایا ہے۔ دشمن کی بلااشتعال جارحیت کے خلاف جرات مندانہ اور مؤثر جواب نے پاکستان کو ایک ناقابل تسخیر قوت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔

    اس دوران پاکستان کا کردار خطے میں امن قائم رکھنے والے نیٹ ریجنل سٹیبلائزر کے طور پر سامنے آیا۔ حکومت اور عسکری قیادت نے مل کر عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو اجاگر کیا اور اہم غیر ملکی دوروں کے ذریعے دفاعی، معاشی اور تزویراتی شراکت داریوں کو نئی جہت دی۔امریکہ نے بھی پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو ایک امن پسند اور ذمہ دار ملک قرار دیا۔ آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دو اہم دوروں کے دوران وائٹ ہاؤس میں ان کے اعزاز میں ضیافت دی گئی۔ امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ پاکستان اور امریکہ تیل کے بڑے ذخائر کو ترقی دینے کے لیے مل کر کام کریں گے۔امریکی عسکری قیادت نے بھی پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا جبکہ امریکی ناظم الامور نٹالے اے بیکر نے کہا کہ 1947 سے دونوں ملکوں کے تعلقات دوستی سے شراکت داری تک بڑھے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کئی اہم دورے کیے، جن میں ترکی، ایران، آذربائیجان، تاجکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ ان دوروں میں توانائی، تجارت، انسداد دہشت گردی، سرمایہ کاری اور موسمیاتی تبدیلی جیسے موضوعات پر تعاون کے نئے امکانات کھولے گئے۔ 30 اور 31 جولائی کو پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک تاریخی تجارتی معاہدہ بھی طے پایا۔

    وزیراعظم شہباز شریف اس وقت چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شریک ہیں جہاں ان کی ترک صدر سے بھی ملاقات ہوئی ہے اور دیگر اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی کابل میں سہ فریقی اجلاس اور بنگلہ دیش کے تاریخی دورے کے دوران پاکستان کا مؤقف کامیابی سے پیش کیا۔ افغانستان اور چین نے خطے کے استحکام میں پاکستان کے کردار کو سراہا جبکہ بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات میں نئے باب کا آغاز ہوا۔بلاول بھٹو زرداری نے بھی عالمی سطح پر پاکستان کے بیانیے کو اجاگر کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے امریکہ، لندن اور برسلز کے دوروں میں بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا اور یورپی یونین کے نمائندوں کو پاکستان کا نقطہ نظر پیش کیا۔

    جون میں پاکستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دو اہم کمیٹیوں میں کلیدی عہدے دیے گئے جبکہ بھارت کی پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کی کوششیں ناکام ہوئیں۔پاکستان نے اپنی عسکری قوت اور سفارتی حکمت عملی کے امتزاج سے دنیا کو یہ باور کرایا ہے کہ وہ ایک امن پسند، ذمہ دار اور علاقائی استحکام کا ضامن ملک ہے اور اپنی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

  • دہشتگردی کے جھوٹے بیانیے کو دنیا مسترد کر چکی ،علاقائی امن و خودمختاری اولین ترجیح،وزیراعظم

    دہشتگردی کے جھوٹے بیانیے کو دنیا مسترد کر چکی ،علاقائی امن و خودمختاری اولین ترجیح،وزیراعظم

    چین کے شہر تیانجن میں جاری 25 ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہان مملکت کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے دنیا بھر میں دہشتگردی کو سیاسی مفادات کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے والے ممالک کے جھوٹے بیانیے کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری دہشتگردی کے اس غلط استعمال کو تسلیم نہیں کرتی۔

    وزیراعظم نے چینی قیادت کی شاندار میزبانی اور بھرپور انتظامات پر صدر اور حکومت چین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او خطے میں تعاون، یکجہتی اور انضمام کو فروغ دینے کا ایک موثر پلیٹ فارم ہے جو پاکستان کے دیرپا عزم کی عکاسی کرتا ہے۔شہباز شریف نے زور دیا کہ پاکستان کثیر الجہتی تعلقات، مکالمے اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں، اور پاکستان ایس سی او کے ارکان اور اپنے ہمسایہ ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کا مکمل احترام کرتا ہے۔

    وزیراعظم نے سی پیک منصوبے کو پاکستان اور چین کے درمیان ایک مثالی اور کامیاب تعاون قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان تمام بین الاقوامی اور دو طرفہ معاہدات کا احترام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی تک بلا روک ٹوک رسائی ایس سی او کے مشترکہ مقاصد کو مضبوط کرے گی۔اپنے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن اور معمول کے تعلقات چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے گفتگو اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کا خواہاں ہے۔ انہوں نے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے جامع مکالمے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ایسا مکالمہ خطے کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کا واحد راستہ ہے۔

    غزہ کی موجودہ صورتحال پر وزیراعظم نے کہا کہ وہاں جاری ظلم و ستم اور بھوک ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک گہرا زخم ہیں۔ پاکستان اقوام متحدہ کے منظور کردہ دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے اور وہاں ظلم و خونریزی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔وزیراعظم نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی بے مثال قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی پورے خطے کے لیے شدید خطرہ ہیں۔ انہوں نے دہشتگردی کی ہر شکل اور صورت کی سخت مذمت کی۔انہوں نے واضح کیا کہ دنیا دہشتگردی کو سیاسی مقاصد کے لیے ہتھیار بنانے والے ممالک کے جھوٹے بیانیے کو قبول نہیں کرتی۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہونے والے دہشتگرد حملوں میں بیرونی مداخلت کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں، جن کے ذمہ داروں اور سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے افغانستان کو اپنا برادر اور قریبی ہمسایہ ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مستحکم افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔

  • وزیراعظم پاکستان کی ایران کے صدر سے ملاقات

    وزیراعظم پاکستان کی ایران کے صدر سے ملاقات

    وزیراعظم محمد شہبازشریف نے چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے سربراہان کی کونسل کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر عزت مآب مسعود پیزشکیان سے ملاقات کی۔

    نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، چیف آف دی آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزراء بھی ملاقات میں موجود تھے۔ملاقات کے دوران وزیراعظم نے پڑوسی ملک ایران کے ساتھ اپنے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کے لیے پاکستان کے گہرے عزم کا اعادہ کیا، مشترکہ تاریخ، ثقافتی ورثے اور عقیدے پر مبنی تعلقات کی مضبوط بنیادوں کو اجاگر کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کی صورتحال کا جائزہ لیا اور پاکستان- ایران تعلقات میں مثبت رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    صدر پیزشکیان نے ایران کے لئے پاکستان کی مسلسل حمایت کو سراہا اور باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کے لیے ایران کے عزم کا اعادہ کیا۔

    وزیراعظم نے ایرانی صدر کے اگست 2025 میں دورہء پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیانہ تعلقات کو مزید بہتر اور مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ایران کے حالیہ دورہ پر پاکستانی عوام انتہائی خوش تھی۔ وزیراعظم نے دونوں دوست ممالک کے درمیان سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ایران کے عوام اور حکومت کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا بھی اعادہ کیا اور علاقائی امن کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور مذاکرات اور سفارت کاری کو تناؤ میں کمی اور استحکام کی جانب واحد قابل عمل راستہ قرار دیا۔

    ایران کے صدر نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں جاری سیلابی صورتحال کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے نقصان اور مالی نقصانات پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں ایرانی حکومت اور عوام پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

  • افغانستان ،زلزلے سے تباہی، 500 اموات

    افغانستان ،زلزلے سے تباہی، 500 اموات

    افغانستان میں خوفناک زلزلے سے تقریباً 500 افراد جاں بحق اور 1000 زخمی ہو گئے۔

    افغان وزارت اطلاعات نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ افغان صوبے کنڑ میں زلزلے سے 500 افراد جاں بحق اور 1000 سے زائد زخمی ہوئے ہیں،افغانستان کے خبر رساں ادارے خاما پریس کی رپورٹ کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق رات 11 بج کر 47 منٹ پر آیا تھا، یہ اموات نورگل، سواکئی، واٹاپور، منوگی اور چپہ درہ اضلاع میں رپورٹ ہوئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی یہ تعداد حتمی نہیں، کیونکہ دور دراز علاقوں کے مکینوں سے رابطے کا سلسلہ ابھی جاری ہے، ان اضلاع میں امدادی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ زلزلے کے نتیجے میں ضلع نورگل کے کئی گاؤں مٹی تلے دب گئے ہیں۔ امریکا کے جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 6 اور مرکز جلال آباد شہر میں 8 کلو میٹر زیرزمین تھا، زلزلے کے بعد 4.5، 5.2، 5.2، 4.7 اور 4.3 شدت کے 5 مزید جھٹکے محسوس کیے گئے۔

    ترجمان افغان طالبان ذبیح اللّٰہ مجاہد نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ آج رات آنے والے زلزلے کے باعث جانی و مالی نقصان ہوا، مقامی حکام اور علاقہ مکین متاثرہ افراد کے ساتھ امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں،انہوں نے بتایا کہ مرکز اور قریبی صوبوں سے امدادی ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں جو متاثرہ علاقوں میں ریسکیو و بحالی کے کاموں میں حصہ لیں گی۔

  • سیلاب ،خودنمائی اور جاہ جلال کی نمائش،مبشر لقمان نے حقیقت آشکار کر دی

    سیلاب ،خودنمائی اور جاہ جلال کی نمائش،مبشر لقمان نے حقیقت آشکار کر دی

    قصور اور اس کے گردونواح میں حالیہ دنوں شدید بارشوں اور بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے باعث سیلابی صورتحال نے عوام کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ مقامی آبادی کے مطابق نہ صرف گھروں اور کھیتوں کو نقصان پہنچا ہے بلکہ متاثرین کے پاس پینے کا صاف پانی، کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات تک میسر نہیں ہیں۔

    معروف صحافی مبشر لقمان نے اپنے وی لاگ میں بتایا کہ وہ سیلاب زدہ علاقوں کے دورے پر گئے جہاں عوام کی حالت نہایت ابتر نظر آئی۔ ان کے مطابق، متاثرین گاؤں سے باہر آنے اور جانے میں بھی رکاوٹوں کا سامنا کر رہے تھے کیونکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے دورے کے باعث مین روڈز اور گاؤں کے داخلی و خارجی راستے بند کر دیے گئے تھے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس، ایل ڈبلیو ایم سی اہلکار، اور دیگر محکموں کے لوگ تعینات تھے جبکہ مقامی افراد شدید پریشانی میں مبتلا تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ متاثرین کے لیے کشتیوں اور ریسکیو کے دیگر انتظامات صرف دکھاوے کے لیے رکھے گئے تھے تاکہ فوٹیج میں دکھایا جا سکے کہ بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔

    ان کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز تقریباً 70 سے 80 گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ سیلاب زدہ علاقے میں پہنچیں، لیکن عوامی شکایات یہ تھیں کہ ان کی آمد سے قبل کئی گھنٹوں تک امدادی کارروائیاں روک دی گئیں۔ حتیٰ کہ جانوروں کو بھی ٹرکوں پر باندھ کر صرف وزیراعلیٰ کے سامنے پیش کرنے کے لیے لایا گیا، جبکہ انہیں چارہ تک فراہم نہیں کیا گیا۔مبشر لقمان نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ سیلاب متاثرین کو نہ تو خاطر خواہ راشن ملا، نہ ادویات اور نہ ہی بچوں کے لیے دودھ فراہم کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ آئندہ چند دنوں میں ان علاقوں میں وبائی امراض پھوٹ سکتے ہیں۔

    صحافی کے مطابق، حکومت کو فوری طور پر ریسکیو اور ری ہیبلیٹیشن (بحالی) کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ پانی چند دنوں یا ہفتوں میں ختم ہونے والا نہیں، بلکہ کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ اس بار بین الاقوامی برادری بھی شاید زیادہ مدد نہ کرے کیونکہ پاکستان کی اپنی منصوبہ بندی اور حکومتی اقدامات غیر تسلی بخش ہیں۔

    مبشر لقمان نے آخر میں پاکستانی بزنس ٹائیکونز اور مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ آگے بڑھیں اور ملک کی تعمیر نو کے لیے مالی مدد فراہم کریں۔

    5 سے زائد سمز استعمال کرنے پر موبائل بلاک ہونے کی خبر غلط قرار

    آزاد کشمیر میں شدید بارشوں کا الرٹ، احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت

    مرکزی مسلم لیگ کا دریائے سندھ میں فری بوٹ ریسکیو آپریشن شروع

    عوامی احتجاج کامیاب،اراکین پارلیمنٹ کی مراعات کم کرنے کا اعلان