Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وزیراعظم پاکستان کی ایران کے صدر سے ملاقات

    وزیراعظم پاکستان کی ایران کے صدر سے ملاقات

    وزیراعظم محمد شہبازشریف نے چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے سربراہان کی کونسل کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر عزت مآب مسعود پیزشکیان سے ملاقات کی۔

    نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، چیف آف دی آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزراء بھی ملاقات میں موجود تھے۔ملاقات کے دوران وزیراعظم نے پڑوسی ملک ایران کے ساتھ اپنے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کے لیے پاکستان کے گہرے عزم کا اعادہ کیا، مشترکہ تاریخ، ثقافتی ورثے اور عقیدے پر مبنی تعلقات کی مضبوط بنیادوں کو اجاگر کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کی صورتحال کا جائزہ لیا اور پاکستان- ایران تعلقات میں مثبت رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    صدر پیزشکیان نے ایران کے لئے پاکستان کی مسلسل حمایت کو سراہا اور باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کے لیے ایران کے عزم کا اعادہ کیا۔

    وزیراعظم نے ایرانی صدر کے اگست 2025 میں دورہء پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیانہ تعلقات کو مزید بہتر اور مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ایران کے حالیہ دورہ پر پاکستانی عوام انتہائی خوش تھی۔ وزیراعظم نے دونوں دوست ممالک کے درمیان سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ایران کے عوام اور حکومت کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا بھی اعادہ کیا اور علاقائی امن کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور مذاکرات اور سفارت کاری کو تناؤ میں کمی اور استحکام کی جانب واحد قابل عمل راستہ قرار دیا۔

    ایران کے صدر نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں جاری سیلابی صورتحال کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے نقصان اور مالی نقصانات پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں ایرانی حکومت اور عوام پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

  • افغانستان ،زلزلے سے تباہی، 500 اموات

    افغانستان ،زلزلے سے تباہی، 500 اموات

    افغانستان میں خوفناک زلزلے سے تقریباً 500 افراد جاں بحق اور 1000 زخمی ہو گئے۔

    افغان وزارت اطلاعات نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ افغان صوبے کنڑ میں زلزلے سے 500 افراد جاں بحق اور 1000 سے زائد زخمی ہوئے ہیں،افغانستان کے خبر رساں ادارے خاما پریس کی رپورٹ کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق رات 11 بج کر 47 منٹ پر آیا تھا، یہ اموات نورگل، سواکئی، واٹاپور، منوگی اور چپہ درہ اضلاع میں رپورٹ ہوئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی یہ تعداد حتمی نہیں، کیونکہ دور دراز علاقوں کے مکینوں سے رابطے کا سلسلہ ابھی جاری ہے، ان اضلاع میں امدادی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ زلزلے کے نتیجے میں ضلع نورگل کے کئی گاؤں مٹی تلے دب گئے ہیں۔ امریکا کے جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 6 اور مرکز جلال آباد شہر میں 8 کلو میٹر زیرزمین تھا، زلزلے کے بعد 4.5، 5.2، 5.2، 4.7 اور 4.3 شدت کے 5 مزید جھٹکے محسوس کیے گئے۔

    ترجمان افغان طالبان ذبیح اللّٰہ مجاہد نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ آج رات آنے والے زلزلے کے باعث جانی و مالی نقصان ہوا، مقامی حکام اور علاقہ مکین متاثرہ افراد کے ساتھ امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں،انہوں نے بتایا کہ مرکز اور قریبی صوبوں سے امدادی ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں جو متاثرہ علاقوں میں ریسکیو و بحالی کے کاموں میں حصہ لیں گی۔

  • سیلاب ،خودنمائی اور جاہ جلال کی نمائش،مبشر لقمان نے حقیقت آشکار کر دی

    سیلاب ،خودنمائی اور جاہ جلال کی نمائش،مبشر لقمان نے حقیقت آشکار کر دی

    قصور اور اس کے گردونواح میں حالیہ دنوں شدید بارشوں اور بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے باعث سیلابی صورتحال نے عوام کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ مقامی آبادی کے مطابق نہ صرف گھروں اور کھیتوں کو نقصان پہنچا ہے بلکہ متاثرین کے پاس پینے کا صاف پانی، کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات تک میسر نہیں ہیں۔

    معروف صحافی مبشر لقمان نے اپنے وی لاگ میں بتایا کہ وہ سیلاب زدہ علاقوں کے دورے پر گئے جہاں عوام کی حالت نہایت ابتر نظر آئی۔ ان کے مطابق، متاثرین گاؤں سے باہر آنے اور جانے میں بھی رکاوٹوں کا سامنا کر رہے تھے کیونکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے دورے کے باعث مین روڈز اور گاؤں کے داخلی و خارجی راستے بند کر دیے گئے تھے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس، ایل ڈبلیو ایم سی اہلکار، اور دیگر محکموں کے لوگ تعینات تھے جبکہ مقامی افراد شدید پریشانی میں مبتلا تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ متاثرین کے لیے کشتیوں اور ریسکیو کے دیگر انتظامات صرف دکھاوے کے لیے رکھے گئے تھے تاکہ فوٹیج میں دکھایا جا سکے کہ بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔

    ان کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز تقریباً 70 سے 80 گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ سیلاب زدہ علاقے میں پہنچیں، لیکن عوامی شکایات یہ تھیں کہ ان کی آمد سے قبل کئی گھنٹوں تک امدادی کارروائیاں روک دی گئیں۔ حتیٰ کہ جانوروں کو بھی ٹرکوں پر باندھ کر صرف وزیراعلیٰ کے سامنے پیش کرنے کے لیے لایا گیا، جبکہ انہیں چارہ تک فراہم نہیں کیا گیا۔مبشر لقمان نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ سیلاب متاثرین کو نہ تو خاطر خواہ راشن ملا، نہ ادویات اور نہ ہی بچوں کے لیے دودھ فراہم کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ آئندہ چند دنوں میں ان علاقوں میں وبائی امراض پھوٹ سکتے ہیں۔

    صحافی کے مطابق، حکومت کو فوری طور پر ریسکیو اور ری ہیبلیٹیشن (بحالی) کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ پانی چند دنوں یا ہفتوں میں ختم ہونے والا نہیں، بلکہ کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ اس بار بین الاقوامی برادری بھی شاید زیادہ مدد نہ کرے کیونکہ پاکستان کی اپنی منصوبہ بندی اور حکومتی اقدامات غیر تسلی بخش ہیں۔

    مبشر لقمان نے آخر میں پاکستانی بزنس ٹائیکونز اور مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ آگے بڑھیں اور ملک کی تعمیر نو کے لیے مالی مدد فراہم کریں۔

    5 سے زائد سمز استعمال کرنے پر موبائل بلاک ہونے کی خبر غلط قرار

    آزاد کشمیر میں شدید بارشوں کا الرٹ، احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت

    مرکزی مسلم لیگ کا دریائے سندھ میں فری بوٹ ریسکیو آپریشن شروع

    عوامی احتجاج کامیاب،اراکین پارلیمنٹ کی مراعات کم کرنے کا اعلان

  • مودی باز نہیں آیا، لیک دستاویزات سے سازش بےنقاب،را کا منصوبہ

    مودی باز نہیں آیا، لیک دستاویزات سے سازش بےنقاب،را کا منصوبہ

    معروف اینکر مبشر لقمان نے اپنے تازہ وی لاگ میں دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی "را” کا ایک مبینہ خفیہ دستاویز لیک ہو گیا ہے، جس نے پاکستان کو ڈبونے کی سازش کو بے نقاب کر دیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حالیہ سلابی صورتحال محض قدرتی آفت نہیں بلکہ ایک منصوبہ بندی کے تحت بھارت کی کارروائی ہے۔مبشر لقمان کے مطابق سیالکوٹ، نارووال، گوجرانوالہ، وزیرآباد، لاہور اور قصور شدید متاثر ہیں اور دریائے راوی و ستلج میں مسلسل پانی چھوڑا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنے آبی ذخائر میں پانی روکنے کے بعد اچانک ریلا چھوڑا، جس سے پاکستان میں تباہی مچی اور ساتھ ہی بھارتی پنجاب بھی زیرِ آب آگیا۔

    وی لاگ میں بھارتی پنجاب کے مقامی افراد کے بیانات بھی شامل کیے گئے جنہوں نے مبینہ طور پر مودی حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے اپنی ہی آبادی کو قربانی کا بکرا بنا دیا۔ مبشر لقمان نے بتایا کہ یہ پانی نہ صرف گاؤں اور کھیتوں کو تباہ کر رہا ہے بلکہ کرتاپور کے گرد و نواح میں بھی داخل ہو چکا ہے۔مبشر لقمان نے کہا کہ بھارت کا اصل ہدف سکھوں کا مقدس مقام، گوردوارہ کرتاپور تھا تاکہ پاکستان اور سکھ کمیونٹی کے بڑھتے تعلقات کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ ان کے مطابق را کی منصوبہ بندی کا مقصد کرتاپور راہداری کو تباہ کر کے سکھوں اور پاکستانیوں کے درمیان بڑھتی قربت کو ختم کرنا تھا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی میڈیا اور فوج اس آفت کو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کے طور پر استعمال کر رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی عوام بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ مبشر لقمان نے الزام عائد کیا کہ بھارتی فوج ریلیف کے نام پر محض فوٹو سیشن کر رہی ہے اور عملی طور پر لوگوں کی مدد میں ناکام ہے۔وی لاگ میں مبشر لقمان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر اور ہماچل پردیش میں مصنوعی بارش (کلاؤڈ سیڈنگ) کے ذریعے موسم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہا ہے، جس سے غیر معمولی بارشوں اور سیلاب کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔

    آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ دریائے راوی اور چناب کے اطراف رہنے والے لوگ مزید الرٹ رہیں کیونکہ بھارت کی جانب سے مزید پانی چھوڑے جانے کا خدشہ ہے۔ مبشر لقمان نے کہا کہ اگر بھارت کے "پانی کو بطور ہتھیار” استعمال کرنے کے منصوبے کو روکا نہ گیا تو پاکستان ہر سال اسی طرح کی تباہی کا سامنا کرتا رہے گا۔

    پی ٹی اے نے آئی ایم ای آئی ریکارڈ ہٹادیا، نئی پالیسی کا اعلان

    گلگت بلتستان کے ضلع رندو میں ٹریفک حادثہ، 4 غیر ملکی سیاح زخمی

    ملتان ،اسکول پرنسپل نے چپراسی سے شادی کر لی، سوشل میڈیا پر وائرل

  • فیلڈ مارشل کے سکھ کمیونٹی کیساتھ بیٹھنے سے سر فخر سے بلند ہوگیا۔سکھ رہنما

    فیلڈ مارشل کے سکھ کمیونٹی کیساتھ بیٹھنے سے سر فخر سے بلند ہوگیا۔سکھ رہنما

    سکھ رہنما رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے سکھ کمیونٹی کیساتھ بیٹھنے سے دنیا کے سکھوں کا سر فخر سے بلند ہوگیا،

    گزشتہ روز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے سیالکوٹ ، شکرگڑھ، نارووال اور کرتارپور کا بھی دورہ کیا تھا،اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سکھ کمیونٹی سے خطاب میں سکھ کمیونٹی کی تمام عبادت گاہوں کی جلد مکمل بحالی کی یقین دہانی کروائی تھی،سکھ کمیونٹی نے سیلاب متاثرہ دربار صاحب کرتارپور میں بروقت امدادی کارروائیوں پر فیلڈ مارشل کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

    سکھ رہنما رمیش سنگھ اروڑہ کا کہنا ہے کہ بروقت امدادی کارروائیوں پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں، سیلاب کے بعد 24 گھنٹے میں جو آپ نے کیا اس کیلئے ہمارے پاس الفاظ نہیں ہیں،پاک فوج کے جوان آخری شخص کی بحفاظت منتقلی تک کھڑے رہے، دنیا کو جب پتہ چلے گا کہ فیلڈ مارشل نے خود کرتارپور کا دورہ کیا تو سکھوں کا مان مزید بڑھے گا، دنیا بھر کے سکھ آکر کہتے ہیں کہ پاکستان اقلیتوں کیلئے محفوظ ترین ملک ہے، پاکستان ہماری دھرتی اور ہماری جان ہے،

  • پاک فوج کا جھنگ، فیصل آباد، چنیوٹ  اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ریسکیو آپریشن جاری

    پاک فوج کا جھنگ، فیصل آباد، چنیوٹ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ریسکیو آپریشن جاری

    پاک فوج کا جھنگ، فیصل آباد، چنیوٹ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ریسکیو آپریشن جاری ہے

    پنجاب کے سیلابی علاقوں میں پاک فوج کے دستے ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں مصروف عمل ہیں،پاک فوج کی جانب سے آبادی کو بچانے کیلئے جھنگ اور فیصل آباد میں تین مقامات پر بند میں شگاف ڈالے گئے ہیں،بند میں شگاف ڈالنے کے بعد ایک تا ڈیڑھ لاکھ کیوسک پانی نیچے کی سمت منتقل ہو گیا ہے،پاک فوج کے جوان متاثرین سیلاب کو ہیلی کاپٹر اور کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں،فیصل آباد کے متاثرہ دیہات میں پھنسے 15,800 افراد میں سے 14,050 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے،ریسکیو کیے جانے والے افراد میں بزرگ شہری، بچے اور خواتین بھی شامل ہیں،تاندلیانوالہ تحصیل میں سیلاب متاثرین کے لیے 5 ریلیف کیمپس، 18 میڈیکل کیمپس اور 6 ریسکیو کیمپس فعال ہیں ،ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بھی پاک فوج کے ریسکیو 1122 کیساتھ مل کر ریسکیو اینڈ ریلیف کیمپس قائم کردیئے

    ریلیف کیمپس میں پاک فوج کی جانب سے سیلاب متاثرین کی ضروری طبی امداد اور مفت ادویات دی جا رہی ہیں،پاک فوج کی سیلابی پانی کی فوری نکاسی اور متاثرہ دیہات میں ریلیف سرگرمیاں مزید تیز کر دی گئیں ہیں ،متاثرین سیلاب کی جانب سے پاک فوج کے ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کو سراہا جا رہا ہے،مشکل کی اس گھڑی میں پاک فوج عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے،

    سیلاب سے متاثرہ علاقے قصور میں پاک فوج کا رات بھر ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری رہا
    قصور میں شدید سیلابی صورتحال کے پیش نظر پاک فوج کے جوان رات بھر متاثرین سیلاب کو کشیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کرتے رہے،پاک فوج کے جوانوں نے متاثرین سیلاب کو ریسکیو کرنے کے ساتھ ساتھ طبی امدادی اور مفت ادویات بھی فراہم کیں،رات گئے متاثرین سیلاب جن میں بچے، بزرگ اور خواتین شامل تھی کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا،

  • اتحاد ٹاؤن میں کن کن لوگوں کی انویسمنٹ،مبشر لقمان کا مریم نواز سے معصومانہ سوال

    اتحاد ٹاؤن میں کن کن لوگوں کی انویسمنٹ،مبشر لقمان کا مریم نواز سے معصومانہ سوال

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو چیلنج دیتے ہوئے سوال کا جواب مانگ لیا اور کہا کہ جواب دینا پڑے گا یہ مت سمجھیے گا کہ کوئی اور خبر آ گئی تو اس سوال کو بھول جائیں گے،

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مریم نواز صاحبہ آپ سے میرا ایک سوال ہے، اس کا جواب دلوا دیجیے گا اپنی کنیز کو کہہ دیجیے گا یا ڈی جی پی آر، سیکرٹری اطلاعات کوئی بھی دے سکتا ہے،یہ بتائیں کہ میں نے سنا کہ اتحاد ٹاؤن میں آپ کے بیٹے کی، چوہدری منیر، کھوکھروں کی بہت بڑی انویسمنٹ ہے، اس کی قیمت بڑھانے کے لئے کیا کیا گیا، ابھی خبر نہیں آئی، یہ سوال پوچھ رہا ہوں، مجھے جو چڑیل بتا رہی ہے کہ چیف سیکرٹری نے 40 ارب اتحاد ٹاؤن پر لگا دیا، وہاں کوئی تھیم سٹی بنانی ہے جس سے اتحادٹاؤں کی قیمت اور بڑھ جائے گی،اگر یہ صحیح ہے تو میں نے ایک رائے دینی ہے کیونکہ میں عمر میں بڑا ہوں،یہ یاد رکھنا کفن کی جیبیں نہیں ہوتیں،جتنا مرضی کمانا ہے کما لیں، بچانا ہے بچا لیں کفن کی جیب نہیں ہوتی،مجھے کنفرم کر دینا یہ خبر صحیح ہے یا نہیں ورنہ یہ نہ کہنا کہ کوئی اور آفت آئے گی، دس بارہ لوگ مر جائیں گے تو یہ خود ہی بھول جائے گا باقی خبروں کے پیچھے لگ جائے گا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب تو آپ نے پنجاب اسمبلی میں قانون بھی بنا دیا ہے کہ ہم تو یہ بھی نہیں پوچھ سکتے کہ اشتہاروں کی مد میں آپ نے کتنا پیسہ خرچا ،اگر حکومت بتا دے گی تو سب کو پتہ چل جائے گا کہ میڈیا والوں کو کتنی رشوت دی گئی.کس کس کا منہ بند کیا گیا، میڈیا والوں کو بھی پتہ چلنا چاہئے کہ کفن کی جیب نہیں ہوتی، سیلاب پر کام کچھ نہ کچھ شروع کر دیں، آپ کے دوروں سے کچھ نہیں ہوتا،امدادی کام رک جاتا ہے، پولیس پروٹوکول دینا شروع کر دیتی ہے، ریسکیو ادارے آپ کو دکھانے کے لئے کاروائی کرتے ہیں، سیکرٹریٹ میں بیٹھ کر کام کریں گی تو ادارے صحیح کام کریں گے، اسوقت پاک فوج گلگت بلتستان،خیبر پختونخوا،پنجاب ہر جگہ کام کر رہی ہے، پاک فوج کو سلام ہے ،لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی جتنی سیاسی جماعتیں ہیں،وہ کہیں بھی سیلاب میں نظر نہیں آ رہیں، دعوت اسلامی نظر آ رہی ہے، ان کے کارکنان رضاکار جان کو خطرے میں ڈال کر امدادی سامان پہنچا رہے ہیں، مرکزی مسلم لیگ بھی کام کر رہی ہے، انکے رضاکاروں کو سلام ہے، بے لوث ہو کر لوگوں کو ریسکیو کر رہے ہیں، ضروریات زندگی کی چیزیں پہنچا رہے ہیں،یہ سب سے بہتر ہیں، سیاسی جماعتوں سے تو پاک فوج ہی بہتر ہے.

  • خیبرپختونخوا سے گلگت،پنجاب،ہر سیلاب متاثرہ ضلع میں مرکزی مسلم لیگ نظر آئے گی،تابش قیوم

    خیبرپختونخوا سے گلگت،پنجاب،ہر سیلاب متاثرہ ضلع میں مرکزی مسلم لیگ نظر آئے گی،تابش قیوم

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے کہا ہے کہ خیبر پختونخواہ کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،گلگت میں بھی ہمارے رضاکار امدادی کاموں میں مصروف ہیں،پنجاب کے 30 اضلاع میں مرکزی مسلم لیگ کام کر رہی ہے،کشتی سروس کے ذریعے شہریوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے،لاہور سمیت سیلاب متاثرہ اضلاع میں دس ہزار سے زائد رضاکار متحرک ہیں،پکی پکائی خوراک کشتیوں کے ذریعے بھی متاثرین تک پہنچائی جا رہی ہے.

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے 365 نیوز کے سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ کے فلڈ پر خصوصی پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے کیا، تابش قیوم کا کہنا تھا کہ 15 دن ہو گئے ہیں ہم سیلاب زدہ علاقے میں ہیں، بونیر میں سیلاب آیا وہاں پہنچے ،امدادی کام شروع کیا، مینگورہ میں سیلاب آیا تو وہاں ٹیمیں پہنچیں،مینگورہ میں دو دریا نالے آپس میں ملتے ہیں، کئی محلے ہیں جہاں سینکڑوں گھر ہیں، ایسی گلیاں ہیں جہاں صرف ٹرالیاں جا سکتی ہے،گھروں میں پانی آیا تو پانچ چھ چھ فٹ مٹی گھروں میں ہے،مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار ٹرالیوں کے ذریعے گھروں سے مٹی نکال رہے ہیں،شاید دو گھر بھی مکمل کلیئر نہ ہوئے ہوں اتنی مٹی وہاں ہے،

    ایک اور سوال کے جواب میں تابش قیوم کاکہنا تھا کہ لوگ اپنے طور پر کام کر رہے تھے، ہمارے رضاکار پہنچے کنویں دب گئے،صاف پانی کے ٹینکر پہنچائے، وہاں پر تھے تو پتہ چلا کہ غذر میں سیلاب آ گیا، ہزاروں ایکڑ کے باغات تباہ ہو گئے، چالیس چالیس فٹ ملبہ پہاڑوں سے اترا ہے، اب وہ لوگ کہتے ہیں کہ پانی کے پائپ دے دیں، ایک لاکھ فٹ پانی کا پائپ وہاں پہنچایا ہم شگر کی طرف جانا چاہ رہے تھے کہ پنجاب میں سیلاب آ گیا، پنجاب میں 30 اضلاع میں مرکزی مسلم لیگ ریسکیو و ریلیف آپریشن جاری ہے، راوی میں پانی کم ہوا ہے لیکن اگلے تین چار دن بارشیں ہونی ہیں،پانی میں پھر ا ضافہ ہو گا،غذر میں دائین گاؤں میں مصنوعی جھیل بن گئی اور آبادی کا کوئی راستہ نہیں رہا، ہم کشتی پر وہاں جا رہے تھے تو ہماری کشتی تقریبا الٹ گئی تو پانی کتنا ٹھنڈا ہے اور کتنی شدت ہے، کشتی چلانا کتنا مشکل کا کام ہے،وہ گلیشئر کا پانی تھا،

  • سیلاب ،لاہور میں تباہی،20 ہزار گھر ڈوب گئے،ایک لاکھ افراد بے گھر

    سیلاب ،لاہور میں تباہی،20 ہزار گھر ڈوب گئے،ایک لاکھ افراد بے گھر

    لاہور میں سیلاب نے تباہی مچا دی، 20 ہزار سے گھر ڈوب گئے، ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو گئے، خواتین، بچوں سمیت متاثرین کھلے آسمان تلے رہنےپر مجبور ہو چکے ہیں،پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے خیمہ بستی لگا دی، حکومت مدد کو نہ آئی،پولیس صرف شہریوں کو سیلابی پانی کے قریب جانے سے روکنے پر تعینات ہے،شہریوں کا قیمتی سامان،جانور پانی میں بہہ گئے،خواتین کی چیخ و پکار، مردوں کی دہائیاں، زندگی کی جمع پونجی ختم ہو گئی

    بھارتی آبی جارحیت کے نتیجے میں آنے والا سیلاب، جو نہ صرف پانی کا طوفان تھا بلکہ ایک دردناک المناک حقیقت بھی، موہلنوال کے بیس ہزار سے زائد گھروں کو اپنی گہرائی میں لے گیا۔ راوی کے کنارے بستا ہوا موہلنوال، آج بدقسمت اور بے یار و مددگار انسانوں کی بستی بن چکا ہے۔ وہی گھر جو کبھی مسکراہٹوں کی گواہی دیتے تھے، آج پانی کی لپیٹ میں آکر صرف سنسان یادیں بن کر رہ گئے ہیں۔ بیس ہزار سے زائد گھر، جن میں زندگی کی خوشیاں، خواب، یادیں بند تھیں، ایک لمحے میں پانی کے بے رحم ہتھیاروں میں بہہ گئے۔ وہ گھر، جن کی پہلی منزلیں اب پانی کے نیچے دب گئیں، اور سنگل سٹوری مکانات کی چھتوں کے اوپر سے بھی پانی گزر گیا.موہلنوال کے باسی، جنہوں نے اپنی محنت کی کمائی سے اپنے بچوں کے لئے چھت بنائی، آج وہی چھت ان کے سر سے چھن گئی۔ ایک لاکھ سے زائد انسان، جن میں خواتین، بچے، بوڑھے اور جوان شامل ہیں، بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ کپڑوں کے سوا کچھ بھی ساتھ نہیں، نہ کوئی سامان، نہ کوئی آسرا، بس درد اور دکھ کی ایک کہانی ہاتھ میں ہے۔

    خواتین کی بے بسی کی چیخیں، بچوں کی بے سروسامانی، مردوں کی عاجزانہ دہائیاں، دل دہلا دینے والی یہ صورت حال، جو ہر انسان کے دل کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔ جانور، قیمتی سامان، اور زندگی کی جمع پونجی سب سیلاب کے پانی میں بہہ گئی۔ وہی پانی جس نے بستی کو ویران کر دیا، ان خوابوں کو چکنا چور کر دیا۔حکومت کی بے حسی اور خاموشی دل دہلا دینے والی ہے۔ جب سیلاب نے تباہی مچائی، تو حکومتی اہلکار کہاں تھے؟ موہلنوال کے گھروں میں انسانی زندگی کی حفاظت کے لئے کوئی مدد کو نہ آیا۔ پولیس کی بھاری نفری صرف شہریوں کو پانی کے قریب جانے سے روکنے پر مامور ہے،ایسے وقت میں، پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے مظلوموں کا سہارا بن کر کشتی سروس شروع کی، تین کشتیوں کے ذریعے نہ صرف شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا بلکہ جانوروں اور سامان کو بھی بچانے کی کوشش کی گئی۔ خیمہ بستی قائم کی گئی جہاں متاثرین کو کھانے، طبی سہولیات اور راحت فراہم کی جا رہی ہے، لیکن یہ سب کچھ تب بھی کافی نہیں جب تک حکومتی سرپرستی کا احساس نہ ہو۔مرکزی مسلم لیگ لاہور کے سیکرٹری جنرل مزمل اقبال ہاشمی امدادی کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں، مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات طہٰ منیب نے بھی موہلنوال کا دورہ کیا اور سیلاب متاثرین سے ملاقات کے علاوہ امدادی کاموں کا جائزہ لیا، موہلنوال میں مرکزی مسلم لیگ نے خیمہ بستی بھی قائم کر دی ہے جہاں بے گھر افراد مقیم ہیں، خیمہ بستی میں متاثرین میں تین وقت کا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ میڈیکل کیمپ بھی لگایا گیا ہے جہاں علاج معالجہ اور مفت ادویات کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے، مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کی بحالی تک امدادی سرگرمیاں جاری رکھیں گے

    موہلنوال کی ایک متاثرہ خاتون کی آواز، جو دلوں کو ہلا دینے والی ہے، آج ہر پاکستانی کی آنکھوں کے سامنے رونے کی صدا بن گئی ہے،خاتون کا کہنا تھا کہ ہمارا کچھ نہیں بچا، بچے کندھوں پر اٹھائے، سامان پانی میں بہہ گیا، گھر مکمل ڈوب چکا ہے، نہ پہننے کو کپڑے، نہ کھانے کو کچھ، پنجاب کی وزیراعلیٰ کہاں ہے؟ کیا ہم لوگ پتھر ہیں جو ہماری طرف کوئی دیکھنے والا نہیں؟،ایک اور متاثرہ شہری نے کہا، "ہمیں یقین دلایا گیا تھا کہ پانی نہیں آئے گا، لیکن رات کے اندھیرے میں پانی آ گیا۔ اگر تھوڑی دیر اور ہوتی تو ہم سب پانی میں بہہ جاتے۔ مرکزی مسلم لیگ کے شکر گزار ہیں کہ وہ ہمارے لئے موجود ہیں، ورنہ حکومت کی کوئی نشان نہیں۔”

    یہ لاہور ہے، جہاں انسانیت اپنی آخری حدوں پر ہے،سیلاب کی یہ تباہی صرف پانی کی لپیٹ نہیں، بلکہ انسانوں کی بھلائی، امید، اور مستقبل کی تباہی ہے۔جہاں سیلاب نے نہ صرف زمین کو دھو ڈالا، بلکہ انسانیت کی شریانوں کو بھی کاٹ دیا۔ جہاں آنکھوں میں آنسو، دلوں میں خوف، اور ہاتھوں میں خالی پن ہے۔ یہاں کا ہر ایک انسان ایک زندہ المیہ بن کر رہ گیا ہے۔یہ وقت ہے کہ حکومتی ادارے اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں، اور فوری طور پر متاثرین کی بحالی اور مدد کے لئے بھرپور اقدامات کریں۔ نہیں تو یہ دردناک مناظر ہماری تاریخ کے اوراق میں ایک سیاہ باب کی طرح رقم ہو جائیں گے، جسے یاد کرنا بھی انسانیت کے لئے باعث شرم ہوگا۔

  • فیلڈ مارشل کا پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ

    فیلڈ مارشل کا پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ

    فیلڈ مارشل نےا پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ،کیا-

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں بشمول سیالکوٹ سیکٹر، شکرگڑھ، نارووال اور کرتارپور کا دورہ کرتے ہوئے عوام کی خدمت پر ریسکیو ورکرز کی حوصلہ افزائی کی،آرمی چیف کو اس موقع پر موجودہ سیلابی صورتحال اور آئندہ بارشوں کے سلسلے میں تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    فیلڈ مارشل نے متاثرہ علاقوں میں جاری ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کا جائزہ لیا اور فوجی جوانوں و سول انتظامیہ کی مربوط اور انتھک کاوشوں کو سراہاانہوں نے سیالکوٹ سیکٹر میں متاثرہ سکھ کمیونٹی سے بھی ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ سیلاب کے دوران متاثرہ تمام مذہبی مقامات بشمول دربار صاحب کرتارپور کو ترجیحی بنیادوں پر اصل حالت میں بحال کیا جائے گا،اقلیتوں اور ان کے مذہبی مقامات کا تحفظ ریاست اور اداروں کی ذمہ داری ہے، پاکستان اس فریضے کی ادائیگی میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔

    تھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے وزیراعظم کو برطرف کردیا

    سکھ برادری نے آرمی چیف کا پرجوش خیر مقدم کیا اور سیلاب کے دوران سول انتظامیہ و فوج کی خدمات پر شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر آرمی چیف نے دربار صاحب کرتارپور کا فضائی جائزہ بھی لیافیلڈ مارشل عاصم منیر نے ان کی بروقت اور فعال حکمتِ عملی کو سراہا جس سے قیمتی جانوں اور املاک کے نقصانات کو کم سے کم رکھنے میں مدد ملی۔

    سپاہیوں سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے ان کے بلند حوصلے، آپریشنل تیاری اور خدمتِ خلق کے جذبے کو خراجِ تحسین پیش کیا اور مشکل حالات میں عوام کی خدمت پر انہیں سراہا،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی آمد پر کور کمانڈر گجرانوالہ نے ان کا استقبال کیا۔

    سائبر کرائم ایجنسی کے اختیارات میں اضافہ