Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان کا  آرمی راکٹ فورس کمانڈ  کے قیام کا اعلان،بھارت کیلئے دفاعی چیلنج

    پاکستان کا آرمی راکٹ فورس کمانڈ کے قیام کا اعلان،بھارت کیلئے دفاعی چیلنج

    پاکستان نے یومِ آزادی کے موقع پر ایک تاریخی اور انقلابی دفاعی قدم اٹھاتے ہوئے آرمی راکٹ فورس کمانڈ (ARFC) کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے 14 اگست کو قوم سے خطاب میں اس نئی فورس کے قیام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنانے اور دشمن کی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، آرمی راکٹ فورس پاکستان کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی "کویڈ پرو کو پلس” کے تحت مؤثر انداز میں عملدرآمد کی مکمل صلاحیت فراہم کرے گی۔ یہ فورس نہ صرف بھارت کی بڑھتی عسکری سرگرمیوں اور میزائل دوڑ کا جواب ہے، بلکہ پاکستان کی روایتی جنگی صلاحیتوں میں کئی گنا اضافہ کرے گی۔حال ہی میں ہونے والے معرکۂ حق میں پاکستان نے "فتح-1” اور "فتح-2” راکٹ سسٹمز کے ذریعے بھارتی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا۔ ان حملوں میں بھارت کی متعدد دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے دشمن کو بھاری نقصان پہنچا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کارروائی نے بھارتی افواج کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا اور یہ واضح کر دیا کہ پاکستان اپنے دفاع کے لیے ہر سطح پر تیار ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق، آرمی راکٹ فورس کمانڈ محض ایک عارضی یا علامتی اقدام نہیں بلکہ پاکستان کی طویل المدتی دفاعی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے۔ اس کے ذریعے پاکستان کو دشمن کے خلاف کسی بھی محاذ پر گہرے، تیز اور درست حملے کرنے کی طاقت حاصل ہو گی۔

    مودی سرکار کے بڑھتے ہوئے جنگی جنون اور عسکری جنونیت کے پیش نظر پاکستان کا یہ فیصلہ بروقت اور فیصلہ کن ثابت ہوا ہے۔ نئی راکٹ فورس نہ صرف بھارت کے لیے ایک مستقل دفاعی چیلنج ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن بھی قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

  • پاک فوج کا سیالکوٹ، نارووال ،گوجرانوالہ اور ہیڈ خانکی میں ریسکیو آپریشن جاری

    پاک فوج کا سیالکوٹ، نارووال ،گوجرانوالہ اور ہیڈ خانکی میں ریسکیو آپریشن جاری

    پاک فوج کا سیالکوٹ، نارووال ،گوجرانوالہ اور ہیڈ خانکی میں ریسکیو آپریشن جاری ہے

    پنجاب کے سیلابی علاقوں میں پاک فوج کے دستے ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں مصروف عمل ہیں،پاک فوج کے جوان متاثرین سیلاب کو ہیلی کاپٹر اور کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں،پاک فوج کے دستوں نے گجرانوالہ اور ہیڈ خانکی میں بھی متاترین سیلاب کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا،سیالکوٹ اور نارووال میں بھی سیلاب میں گھرے افراد کی محفوظ مقامات پر منتقلی جاری ہے،ریسکیو کئے جانے والے افراد میں بزرگ شہری، بچے اور خواتین بھی شامل ہیں،پاک فوج نے سول انتظامیہ کیساتھ مل کر ریسکیو اینڈ ریلیف کیمپس بھی قائم کئے ہیں،ریلیف کیمپس میں پاک فوج کی جانب سے سیلاب متاثرین کی ضروری طبی امداد کے انتظامات بھی کئے گئے ہیں

    متاثرین سیلاب کی جانب سے پاک فوج کے ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کو سراہا جا رہا ہے،مشکل کی اس گھڑی میں پاک فوج عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے

  • راوی، چناب اور ستلج نے تباہی مچا دی، ہزاروں متاثر

    راوی، چناب اور ستلج نے تباہی مچا دی، ہزاروں متاثر

    پنجاب کے تین بڑے دریا راوی، چناب اور ستلج نے شدید سیلابی صورت حال پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں دریاؤں کے کنارے آباد گاؤں، قصبے اور فصلیں مکمل طور پر زیر آب آ گئی ہیں۔ ہزاروں لوگ اپنی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

    بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے ساتھ ساتھ حالیہ موسلا دھار بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ دریائے چناب، ستلج اور راوی کے پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث لاہور کے کئی علاقے سیلاب کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔پنجاب کے مختلف شہروں اور دیہی علاقوں میں دریاؤں کے کنارے آباد بستیاں پانی میں ڈوب گئی ہیں۔ کئی لوگ مکانوں کی چھتوں پر پناہ لیے ہوئے ہیں جبکہ بعض شہری اپنے بچی کُچی سامان کے ساتھ محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔وزیرآباد، قصور، نارووال، حافظ آباد، کمالیہ، منڈی بہاؤالدین، بہاول نگر، سیالکوٹ، سرگودھا، وہاڑی اور پاکپتن سمیت متعدد اضلاع میں سیلابی پانی نے زمینی رابطہ منقطع کر دیا ہے اور کئی عارضی بند بھی ٹوٹ چکے ہیں۔فیصل آباد کے علاقے تاندلیانوالہ میں دریائے راوی کی پانی کی سطح میں اضافے کے باعث نشیبی علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے الرٹ ہیں اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔دریائے چناب کے چنیوٹ پل پر پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں پانی کی آمد 830100 کیوسک تک پہنچ گئی ہے، جو کہ خطرناک حد تصور کی جا رہی ہے۔دریائے راوی کے شاہدرہ مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، جس کے باعث فرخ آباد، عزیز کالونی، امین پارک، افغان کالونی، شفیق آباد اور مریدوالہ جیسے علاقے متاثر ہوئے ہیں۔پارک ویو سوسائٹی میں بھی پانی پہنچ چکا ہے

    ڈپٹی کمشنر راجن پور شفقت اللہ مشتاق نے خبردار کیا ہے کہ دریائے سندھ میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آ سکتا ہے۔ نشیبی علاقوں سے لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے۔ فلڈ ریلیف کیمپس بھی دریائے سندھ کے قریب قائم کر دیے گئے ہیں۔محکمہ صحت، لائیو اسٹاک اور ریسکیو ٹیمیں پوری قوت کے ساتھ متحرک ہیں اور حفاظتی بندوں کو مضبوط بنانے کے لیے کام جاری ہے۔ پولیس بھی کچے کے علاقوں میں ریسکیو آپریشنز کر رہی ہے تاکہ سیلاب متاثرین کی مدد کی جا سکے۔

    ملتان میں بھی دریائے چناب کا سیلابی ریلہ 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر شہر کی حدود میں داخل ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ شہر کی حفاظت کے لیے ہیڈ محمد والا پر بریچ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ پانی کو کنٹرول کیا جا سکے اور شہریوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو حکام، مقامی رضا کار، پاک فوج اور پاکستان رینجرز امدادی کاموں میں مصروف ہیں تاکہ لوگوں کو بروقت بچایا جا سکے اور متاثرین کو ضروری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔ دونوں رہنماؤں نے متاثرین کی فوری مدد اور امدادی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔

  • کشتی کی سواری اور فضائی سفر، سب ڈرامے،سیاسی پارٹیوں کو مبشر لقمان کا چیلنج

    کشتی کی سواری اور فضائی سفر، سب ڈرامے،سیاسی پارٹیوں کو مبشر لقمان کا چیلنج

    مبشر لقمان نے اپنے حالیہ وی لاگ میں حکومتی اشرافیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حکمران خاندان ملک کو لوٹ کر بیرونِ ملک سیر و تفریح میں مصروف ہیں۔

    انہوں نے خصوصی طور پر مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ جاپان اور تھائی لینڈ کے دوروں کے بعد سیلاب زدہ علاقوں کا ’’پکنک‘‘ کے انداز میں معائنہ کرنے پہنچیں۔ مبشر لقمان کے مطابق یہ دورے صرف فوٹو سیشن تک محدود ہیں اور ان کی وجہ سے ریسکیو کارروائیاں بھی متاثر ہوتی ہیں کیونکہ ادارے پروٹوکول میں الجھ جاتے ہیں۔مبشر لقمان نے کہا کہ حکومت کو چھ ماہ قبل ہی موسمیاتی وارننگز مل گئی تھیں کہ گلیشیئرز پگھل رہے ہیں اور سیلاب کا خطرہ ہے، مگر اس کے باوجود غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو روکا نہیں گیا۔ ان کے مطابق چھ ہزار سے زائد غیر قانونی سوسائٹیز زیر تعمیر ہیں جو گرین ایریاز کو تباہ کر رہی ہیں۔

    وی لاگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اقوامِ متحدہ اور بل گیٹس فاؤنڈیشن کی امداد پاکستان کے لیے جاری کی گئی، لیکن وفاقی حکومت نے ایم ڈی ایم اے کے ذریعے تقسیم کا اعلان کیا جس کا ڈھانچہ ہی موجود نہیں۔ اس وجہ سے متاثرین تک امداد نہیں پہنچ رہی۔مبشر لقمان نے کہا کہ اس وقت حقیقی اور مخلصانہ امدادی کام صرف پاک فوج، دعوتِ اسلامی اور جماعت الدعوہ جیسے ادارے کر رہے ہیں۔ فوج کے جوان پہلے دن سے ہر صوبے میں سیلاب زدگان کی مدد کر رہے ہیں جبکہ مذہبی تنظیموں کے رضاکار جان ہتھیلی پر رکھ کر متاثرین تک سامان پہنچا رہے ہیں۔

    وی لاگ کے اختتام پر مبشر لقمان نے مریم نواز سے براہِ راست سوال کیا کہ کیا ’’اتحاد ٹاؤن‘‘ میں ان کے بیٹے اور قریبی خاندان کی بڑی سرمایہ کاری موجود ہے؟ اور کیا حکومت کی جانب سے وہاں اربوں روپے کی اسکیم صرف اس ٹاؤن کی قیمت بڑھانے کے لیے لائی گئی؟ انہوں نے خبردار کیا کہ ’’کفن کی جیبیں نہیں ہوتیں‘‘، لہٰذا لوٹ مار بند کر کے عوام کی خدمت کی جائے۔مبشر لقمان نے چیلنج دیا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت آل پارٹیز کانفرنس بلا کر سیلاب متاثرین کے لیے عملی لائحہ عمل دے، تب ہی عوام ان کی سنجیدگی پر یقین کریں گے۔

    80 ارب واجبات،پی ٹی اےکمپنیوں کے لائسنس معطل کردیئے

    پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے نشانے پر ہے، بلاول بھٹو

    پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے نشانے پر ہے، بلاول بھٹو

  • بھارتی آبی جارحیت،پنجاب میں سیلاب سے تباہی،درجنوں دیہات زیر آب،20 اموات

    بھارتی آبی جارحیت،پنجاب میں سیلاب سے تباہی،درجنوں دیہات زیر آب،20 اموات

    پنجاب میں بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے اور موسمی بارشوں کے باعث سیلاب نے تباہی مچادی ہے۔ متعدد علاقوں میں بند ٹوٹنے سے پانی آبادیوں میں داخل ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں فصلیں زیر آب آگئیں اور ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا ہے۔

    رات 10 بجے تک کی اطلاعات کے مطابق، دریائے راوی کے سائفن مقام پر پانی کی آمد 2 لاکھ 20 ہزار 627 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ شاہدرہ مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 19 ہزار 770 کیوسک ریکارڈ ہوا۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے چناب میں چنیوٹ برج پر پانی کی آمد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جہاں پانی کا بہاؤ 6 لاکھ 74 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے۔ اس مقام پر انتہائی شدید سیلاب کی صورتحال جاری ہے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کشتی میں سوار ہوکر دریائے راوی کے شاہدرہ مقام پر سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا۔ حکام نے وزیراعلیٰ کو تمام حالات سے آگاہ کیا۔ وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے یقین دہانی کرائی کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں تمام ضروری وسائل دستیاب ہیں اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیلاب کے نتیجے میں اب تک 17 سے 20 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    سیلاب کے باعث وزیرآباد، قصور، نارووال، حافظ آباد، کمالیہ، منڈی بہاؤالدین، بہاول نگر، سیالکوٹ، سرگودھا، وہاڑی اور پاکپتن سمیت کئی علاقوں کے دیہات زیر آب آ گئے ہیں۔ کئی مقامات پر عارضی بند بھی ٹوٹ چکے ہیں۔دریائے چناب کے سیلاب سے پنجاب کے سینکڑوں دیہات زیر آب آ گئے ہیں۔ سرگودھا کے کوٹ مومن کے متعدد علاقوں میں پانی داخل ہونے سے فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کئی شہریوں کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ منڈی بہاؤالدین کی تحصیل پھالیہ کے 69 دیہات زیر آب آ چکے ہیں اور متعدد علاقوں کا زمینی راستہ بھی منقطع ہوگیا ہے۔ حافظ آباد میں درجنوں دیہات میں پانی داخل ہو چکا ہے، جس سے دھان اور چارے کی فصل متاثر ہوئی ہے، اور متاثرہ افراد مال مویشیوں سمیت محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔وزیرآباد میں نالہ پلکھو کے اوور فلو ہونے سے 16 دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ ملتان کے جلال پور پیروالا کے 18 دیہات میں پانی داخل ہو چکا ہے، جہاں کپاس، گنا اور چاول کی فصلیں تباہ ہوگئیں۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کا کہنا ہے کہ دریائے چناب کا سیلابی ریلا اگلے 24 گھنٹوں میں جھنگ اور اگلے دو دنوں میں ملتان سے گزرے گا۔

    دریائے ستلج کے بپھرنے سے بہاول نگر کی کئی بستیاں ڈوب گئیں ہیں۔ سیکڑوں ایکڑ رقبے پر کپاس اور چاول سمیت مختلف فصلیں سیلاب کی نذر ہو گئیں۔ بورے والا کے کئی دیہات بھی زیر آب آ گئے ہیں، جہاں لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر سڑکوں پر آ گئے ہیں۔ بہاولپور میں دریائے ستلج پر قائم تین بند ٹوٹنے سے قریبی بستیوں میں پانی داخل ہو گیا، اور مقامی آبادیوں کو ضروری سامان لے کر ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔پاکپتن میں بھی 15 دیہات میں ستلج کا پانی داخل ہو چکا ہے، جس کے باعث 20 ہزار سے زائد افراد کو دریائی علاقے سے نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ وہاڑی کے علاقے لڈن کے قریب حفاظتی بند کے ٹوٹنے سے درجنوں بستیوں میں پانی داخل ہو گیا ہے۔نوشہرو فیروز میں کنڈیارو کے قریب دریائے سندھ کے زمینداری بند کے ٹوٹنے سے پانی بچاؤ بند سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں سیکڑوں ایکڑ پر کپاس، دھان، تل، جوار اور دیگر فصلیں تباہ ہوگئیں اور پانچ گاؤں زیر آب آ گئے۔

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی پنجاب کے سیلاب متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،مرکزی مسلم لیگ کے ہزاروں رضاکار شہریوں کو محفوظ‌مقامات پر منتقل کر رہے ہیں، گھریلو سامان، جانوروں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے، دریائے راوی لاہور،قصور،سیالکوٹ سمیت متعدد شہروں میں مرکزی مسلم لیگ نے فری بوٹ سروس کا آغاز کر دیا،ہزاروں افراد میں پکی پکائی خوراک کی تقسیم کا عمل بھی جاری ہے،شاہدرہ لاہور میں مرکزی امدادی کیمپ کا پنجاب کے صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے دورہ کیا،

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر پنجاب،خیبر پختونخوا اور گلگت کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو و ریلیف آپریشن جاری ہے،مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار شہریوں کو سیلابی پانی سے محفوظ‌مقامات پر منتقلی کے علاوہ کھانے کی تقسیم، علاج معالجہ کا کام بھی کر رہے ہیں،لاہور،قصور،سیالکوٹ ،اوکاڑہ،بہاولپورسمیت متعدد شہروں میں مرکزی مسلم لیگ نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقلی کے لئے فری بوٹ سروس شروع کر دی ہے، سیلاب کے پیش نظر پاکستان مرکزی مسلم لیگ لاہور کی جانب سے دریائے راوی پر ایمرجنسی فلڈ ریلیف کیمپ قائم کردیا گیا ہے ،لاہور میں ہی شہریوں‌کو محفوظ مقامات پر منتقلی کے لئے فری بوٹ سروس کا آغاز کر دیا گیا ہے،مرکزی مسلم لیگ لاہور کے سیکرٹری جنرل مزمل اقبال ہاشمی نے فری بوٹ سروس کا آغاز کیا، پنجاب کے صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے دریائے راوی پر لگائے گئے ایمرجنسی فلڈ ریلیف کیمپ کا دورہ کیا اور مرکزی مسلم لیگ کے ریسکیو و ریلیف کے کاموں کو سراہا.چیئرمین خدمت خلق شفیق الرحمان وڑائچ اور محمد سرور چوہدری نے حافظ آباد کے سیلاب متاثرہ علاقے کا دورہ کیا، متاثرین میں کھانا تقسیم کیا،امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کی،علی پور شرقی گجرات گاؤں میں مرکزی مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل انجنیئر حارث ڈار نے سیلاب سے متاثرہ جگہوں کا دورہ کیا،امدادی کاموں کا جائزہ لیااور کہا کہ مرکزی مسلم لیگ متاثرین کی بحالی تک امدادی سرگرمیاں جاری رکھے گی.10 گاؤں یہاں متاثر ہوئے ہیں، متاثرین میں پکی پکائی خوراک تقسیم کی جا رہی ہے.

    مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے سیالکوٹ کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،سیالکوٹ میں فری بوٹ سروس شروع کی گئی ہے، 2 کشتیوں کے ذریعے 150 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، 500 سے زائد افراد کو ٹریکٹر ٹرالیوں کے ذریعے مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نے سیلابی پانی سے محفوظ مقام پر منتقل کیا، مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں کی جانب سے جانوروں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے، سیالکوٹ کے مختلف علاقوں سے 15 جانوروں کو بھی ریسکیو کیا گیا،2500 متاثرین میں پکی پکائی خوراک بھی تقسیم کی گئی. قصور میں بھی مرکزی مسلم لیگ کا ریسکیو آپریشن جاری ہے،نارووال میں بھی مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نے فری بوٹ سروس کے ذریعے متاثرین کو محفوظ مقام پر منتقل کیا،رات 11 بجے مرکزی مسلم لیگ کنگن پور کی خدمت خلق کی ٹیم نے دریا ئے ستلج قلعی شاہو پتن سے ایک خاندان اور جانوروں کو ریسکیو کیا ،دریائے ستلج ،کنگن پور کے علاقہ سے مرکزی مسلم لیگ رضاکاروں نے مجموعی طور پر100 سے زائد خاندانوں کو سیلابی پانی سےنکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا، اس موقع پر متاثرہ افراد میں کھانا بھی تقسیم کیا گیا،گنڈا سنگھ کے علاقے میں مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے 300 افراد میں خوراک تقسیم کی گئی،حافظ آباد کے علاقے کوٹ اسحاق میں شعبہ خدمت خلق فیصل آباد کی ٹیمیں سیلاب میں پھنسے ہوئے افراد کو ریسکیو کرکے محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں۔ اس موقع پر محمد احسن تارڑ سیکرٹری جنرل مرکزی مسلم لیگ فیصل آباد اور ناصر بٹ بھی ریسکیو ٹیم کے ساتھ موجود ہیں ،سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے افراد کو شعبہ خدمت خلق فیصل آباد کی ٹیم نے بروقت ریسکیو کر لیا۔ متاثرین کے مطابق انہوں نے متعدد بار ریسکیو اداروں اور مقامی انتظامیہ کو اطلاع دی مگر کوئی مدد نہ پہنچ سکی۔ اطلاع ملنے پر مرکزی مسلم لیگ کی ریسکیو ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی اور پانچ سے چھ افراد کو اس وقت بچایا گیا جب پانی گردنوں تک پہنچ چکا تھا۔منڈی احمد آباد اوکاڑہ میں مرکزی مسلم لیگ نے فری بوٹ سروس شروع کر دی ہے،انجینئر محمد عمران سیکرٹری جنرل پاکستان مرکزی مسلم لیگ ضلع اوکاڑہ نے رضاکاروں کے ہمراہ دریائے ستلج کا دورہ کیا اور امدادی سرگرمیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت کی،تحصیل ڈسکہ میں بھی مرکزی مسلم لیگ کا ریسیکیو آپریشن جاری ہے، چھٹی کھیوا چنیوٹ میں مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار ریسکیو میں مصروف ہیں، سیلابی علاقے سے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہاہے،پاکپتن میں عارف والا اور چک الوکی کے مقام پہ دریائے ستلج میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ شہریوں کے لیے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی طرف سے ریلیف آپریشن شروع کر دیا گیا ہے. پاک پتن میں 500 افراد کو پکا پکایا کھانا دیا گیا جبکہ 100 سے زائد مریضوں کا علاج معالجہ کیا گیا،شہریوں کے سیلابی پانی سے انخلاء کے لیے بوٹ سروس بھی شروع کر دی گئی ہے.

    مرکزی مسلم لیگ ملتان کے سیکرٹری جنرل حافظ ابوالحسن نے اپنی ٹیم کے ہمراہ دریائے چناب محمد پور گھوٹہ قاسم بیلہ کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مرکزی مسلم لیگ کی ریسکیو ٹیمیں اور رضاکار اپنے بھائیوں کے جان و مال کے تحفظ کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں ،مرکزی مسلم لیگ بہاولپورکے سیکرٹری جنرل رانا سیف اللہ نے مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں کے ہمراہ بہاولپور دریائے ستلج کے قریب بستیوں میں سیلابی صورتحال کاجائزہ لیا،شعبہ خدمت خلق پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی ریسکیو ٹیمیں ڈسٹرکٹ راجن پور میں بھی متحرک کر دی گئی ہیں.اوکاڑہ میں اٹاری، پاکپتن میں ملک بہاول، بورے والا میں ساہوکا کے مقام اور ساہیوال میں مرکزی مسلم لیگ نے ریلیف کیمپ لگا دئیے ہیں، متاثرہ علاقوں میں بوٹ سروس بھی جاری ہے، مختلف علاقوں میں میڈیکل کیمپس بھی لگائے جا رہے ہیں.بہاولپور، حاصلپور ،منچن آباد ،بہاولنگر کے مقامات پر بھی ریلیف کیمپ لگا دہے گئے ہیں ،تمام کارکنان کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار ہیں

    مرکزی مسلم لیگ پشاور کے رضاکار ضلعی سیکرٹری جنرل انعام اللہ کی قیادت میں ریسکیو و ریلیف آپریشن کے لئے سیالکوٹ پہنچ چکے ہیں،مرکزی مسلم لیگ سندھ کے صدر فیصل ندیم کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر مرکزی مسلم لیگ سندھ کے تمام ذمہ داران و کارکنان الرٹ رہیں۔ علاوہ ازیں خیبر پختونخوا ،گلگت کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں بھی مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں

    حکومت پنجاب نے سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو آپریشنز کو تیز کر دیا ہے۔ متاثرین کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا جا رہا ہے اور مال مویشیوں کی حفاظت کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی فراہمی میں کوئی کمی نہیں ہے۔سیلاب کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سیلابی علاقوں سے فوری طور پر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو جائیں اور حفاظتی انتظامات پر مکمل عمل کریں.

  • سکھ کمیونٹی نے کرتاپور پر بھارت کے پانی چھوڑنے کو آبی جارحیت قرار دیدیا

    سکھ کمیونٹی نے کرتاپور پر بھارت کے پانی چھوڑنے کو آبی جارحیت قرار دیدیا

    سکھ کمیونٹی نے کرتاپور پر بھارت کے پانی چھوڑنے کو آبی جارحیت قرار دیدیا

    سکھوں کی تنظیم شرومنی اکالی دل امرتسر کے رہنما کلویندر سنگھ چیمہ نے بھارت کی آبی جارحیت پر کڑی تنقید کی ہے،اپنے ویڈیو پیغام میں کلویندر سنگھ چیمہ نے سندور آپریشن کو مکمل ناکام قرار دیا اور کہا کہ آپریشن سندور میں بھارت نے ثابت کیا کہ وہ سکھوں کا دشمن ہے، بھارتی فوج نے لاہور میں سکھوں کے مقدس مقام پر حملہ کیا، پاکستان آرمی کا شکریہ جس نے اس حملے کو مکمل ناکام بنایا، اس کے بعد بھارتی پنجاب میں سکھوں کے گردواروں پر حملے کئے اور الزام پاکستان پر لگایا،ضروری نہیں حملے بموں اور گولیوں سے ہی کئے جائیں اب بھارت آبی جارحیت کر رہا ہے، آج گوروناننک کرتاپور میں بھارت نے آبی جارحیت کرکے بے حرمتی کی، بھارتی آبی جارحیت کے باعث گوردوارے کے کمرے میں پانچ پانچ فٹ پانی جمع ہو گیا، 1984ء میں بھارتی آرمی نے دربار صاحب میں ٹینکوں اور توپوں سے حملہ کیا تھا، 1971ء میں بھی کرتاپور میں ہی بھارتی فوج نے بم گرائے،

    کلویندر سنگھ چیمہ کا کہنا تھا کہ ننکانہ صاحب ڈرون سے بھارت نے حملہ کیا، اب پانی کے ساتھ سکھوں کے گوردوارے پر حملہ کیا گیا، بھارت کو معلوم تھا کہ اس طرف سکھوں کا گوردوارہ ہے جان بوجھ کر پانی چھوڑا گیا، ہم بھارتی نہیں ہیں، نہ ہی یہ ہمارا دیس ہے،یہ ہم پر حملہ آور ہیں، اب ضروری ہو چکا ہے کہ ہم خالصتان کی آزادی کیلئے کوششیں کریں،

  • دریائے راوی کا پانی چوہنگ، سندر، مانگا منڈی کے قریب آبادیوں میں داخل

    دریائے راوی کا پانی چوہنگ، سندر، مانگا منڈی کے قریب آبادیوں میں داخل

    دریائے راوی میں شاہدرہ پر پانی میں اضافے کے بعد اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 45 ہزار 160کیوسک ہو گیا ہے۔

    کمشنر لاہور کا کہناہے کہ شاہدرہ سے 1 لاکھ60 ہزار کیوسک ریلے کا امکان ہے ، ابھی تک راوی میں سیلابی صورتحال قابو میں ہے۔ دریائے راوی کی گنجائش 2 لاکھ 50ہزارکیوسک ہے۔ضلعی انتظامیہ سمیت تمام محکموں کی تیاری مکمل ہے اور ہائی الرٹ پرہیں،دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر سیلاب کا زور کم ہونے لگا ہے، پانی کا بہاؤ ایک لاکھ52 ہزار کیوسک پر آگیا۔

    رائیونڈ، لاہور، دریائے راوی کا پانی چوہنگ، سندر، مانگا منڈی کے قریب آبادیوں میں داخل ہو گیا، لوگوں نے نقل مکانی کے ساتھ ساتھ اذانیں دینا شروع کردیں،خواتین، بچے سب نے گھروں سے نقل مکانی شروع کر دی ہے، امدادی ٹیمیں شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں

    دریائے چناب میں ہیڈ خانکی اور ہیڈ قادر آباد پر پانی کے بہاؤ میں کچھ کمی آنا شروع ہوئی مگر صورتحال اب بھی غیر معمولی ہے۔ ہیڈ خانکی پر پانی کا بہاؤ ساڑھے 10 لاکھ کیوسک سے کم ہو کر 9 لاکھ 5 ہزار کیوسک پر آ گیا ہے۔ہیڈ قادر آباد پر بھی غیر معمولی سیلابی صورتحال ہے۔ وہاں پانی کا بہاؤ 10 لاکھ 45 ہزار 601کیوسک ہو گیا۔

    دوسری جانب دریائے ستلج پر گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 61 ہزار کیوسک سے زائد ہے اور یہاں بھی غیر معمولی سیلاب ہے۔اسی طرح ہیڈ مرالہ پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، یہاں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 40 ہزار لاکھ کیوسک ہے جبکہ دریائے راوی میں بلوکی اور ستلج میں سلیمانکی پر درمیانے درجے کے سیلاب ہیں۔

  • پنجاب کے دریاؤں میں اونچے درجے کا سیلاب، گوجرانوالہ میں 15 افراد جاں بحق

    پنجاب کے دریاؤں میں اونچے درجے کا سیلاب، گوجرانوالہ میں 15 افراد جاں بحق

    بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد دریائے راوی، چناب اور ستلج میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی، دریا سڑکوں پر آگئے، بستیاں ڈوب گئیں اور گوجرانوالہ ڈویژن میں 15 افراد جان سے گئے۔

    اموات اور نقصانات
    سیالکوٹ میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد جاں بحق ہو گئے۔گجرات میں 4، نارووال میں 3، حافظ آباد میں 2 اور گوجرانوالہ شہر میں ایک شخص جاں بحق ہوئے۔گجرات میں شہبازپور کے مقام پر بند ٹوٹ گیا، 3 بچے ڈوب گئے، مقامی افراد نے 2 بچوں کی لاشیں نکال لیں، ایک کو بچا لیا گیا۔مقامی افراد کے مطابق 100 سے زائد افراد اب بھی سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔وزیرآباد کے بازار اور محلے زیر آب، مکانات اور دکانوں میں پانی داخل ہو گیا ۔سیلابی پانی گوردوارہ کرتارپور دربار اور کوریڈور میں داخل، 1600 ملازمین کو ریسکیو کر لیا گیا۔

    بہاول نگر، قصور، وہاڑی، عارف والا اور اوکاڑہ کے دیہی علاقے بھی زیر آب، کپاس و دھان کی فصلیں تباہ، سڑکیں بہہ گئیں۔ہیڈ قادرآباد پر دباؤ کم کرنے کے لیے منڈی بہاؤالدین اور علی پور چٹھہ میں شگاف ڈالے گئے۔گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، لاہور، فیصل آباد، قصور اور اوکاڑہ میں فوج طلب کر لی گئی۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق بندوں میں شگاف دھماکوں کے ذریعے ڈالے گئے۔دریائے چناب میں ہیڈ خانکی اور قادرآباد پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب، ہیڈ خانکی پر بہاؤ 10 لاکھ کیوسک ریکارڈ۔ہیڈ مرالہ پر 6 لاکھ کیوسک کے ساتھ اونچے درجے کا سیلاب۔دریائے راوی میں جسڑ پر 70 سال اور شاہدرہ پر 37 سال بعد پانی آیا۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے کے مطابق حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب کے باعث ملک بھر میں اب تک 804 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

    سندھ میں ممکنہ سیلاب: مراد علی شاہ کی ہنگامی اقدامات کی ہدایت

    سندھ اسمبلی ارکان کی تنخواہ بڑھ کرساڑھے چار لاکھ روپے مقرر

    وزیراعظم کا چین کا دورہ، ایس سی او اجلاس میں شرکت کریں گے

    کراچی میں پولیس اہلکار ٹارگٹ کلنگ میں جاں بحق

  • بھارت کی انڈس واٹر ٹریٹی کی خلاف ورزی، پاکستان کا شدید احتجاج

    بھارت کی انڈس واٹر ٹریٹی کی خلاف ورزی، پاکستان کا شدید احتجاج

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت نے 24 اگست 2025 کو سیلاب کی اطلاع انڈس واٹر کمیشن کے بجائے سفارتی چینلز کے ذریعے دی، جو انڈس واٹر ٹریٹی کی خلاف ورزی ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک پر لازم ہے کہ پانی سے متعلق معلومات اور ہنگامی صورتحال کی اطلاع براہِ راست انڈس واٹر کمیشن کے ذریعے دی جائے، تاہم بھارت نے اس کی صریحاً خلاف ورزی کی۔ترجمان کے مطابق بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان بھی بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس سے خطے میں امن و استحکام پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان انڈس واٹر ٹریٹی پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کرتا ہے اور بھارت کو یاد دہانی کرائی ہے کہ وہ معاہدے کے تمام تقاضوں کی پابندی کرنے کا پابند ہے۔

    ٹرمپ کی زبانی مودی کی بزدلی،ہندوستان کا پاکستان پر حملہ، نیوی بھی تیار

    سیلاب متاثرین کیلئے سعودی امداداخوت ومحبت کا اظہار .تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ ہر خاندان کی بحالی میرا مشن ہے،وزیراعلیٰ پنجاب

  • ٹرمپ کی زبانی مودی کی بزدلی،ہندوستان کا پاکستان پر حملہ، نیوی بھی تیار

    ٹرمپ کی زبانی مودی کی بزدلی،ہندوستان کا پاکستان پر حملہ، نیوی بھی تیار

    پاکستانی صحافی اور تجزیہ کار مبشر لقمان نے اپنے تازہ وی لاگ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں آنے والا حالیہ تباہ کن سیلاب کسی قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں بلکہ بھارت کا ’’آبی حملہ‘‘ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت نے دریائے راوی، ستلج اور بیاس میں اچانک پانی چھوڑ کر پاکستان کے کئی اضلاع کو برباد کر دیا ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں نارووال، سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور قصور سمیت متعدد علاقے زیرِ آب آگئے ہیں، ہزاروں ایکڑ زرعی زمین تباہ ہو چکی ہے اور سینکڑوں بستیاں متاثر ہوئی ہیں۔

    مبشر لقمان نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ بھارت موسمیاتی تبدیلی کو جواز بنا کر اپنی نااہلی اور جارحانہ حکمتِ عملی کو چھپا رہا ہے، حالانکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بھارت معاہدے کو تسلیم نہیں کرتا تو پھر دریاؤں سے پانی چھوڑ کر پاکستان کو تباہی کا شکار کیوں کرتا ہے؟ ان کے مطابق یہ سراسر ناانصافی ہے کہ خوشحالی کے وقت تو پاکستان کو پانی سے محروم رکھا جاتا ہے لیکن جب سیلاب آتا ہے تو اضافی پانی زبردستی پاکستان کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چاہیے کہ یہ مسئلہ صرف دو طرفہ مذاکرات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ عالمی عدالتوں، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر بھرپور طریقے سے اٹھایا جائے تاکہ بھارت کی ’’آبی جارحیت‘‘ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو۔ مبشر لقمان نے زور دیا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو شنگھائی تعاون تنظیم کے آئندہ اجلاس میں اس مسئلے کو اجاگر کرنا چاہیے تاکہ بھارت کے اس رویے پر عالمی سطح پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔

    مزید برآں، انہوں نے بھارتی فوجی قیادت کے حالیہ بیانات کو بھی خطرناک قرار دیا، جن میں کہا گیا ہے کہ ’’امن کے لیے جنگ ضروری ہے‘‘۔ ان کے مطابق یہ سوچ بھارت کی مسلسل جنگی تیاریوں کو ظاہر کرتی ہے، جس میں میزائل تجربات اور بحری بیڑوں کی شمولیت شامل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت کی اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی فوجی تنصیبات اور اسلحہ محفوظ رکھنے میں بھی ناکام ہے اور اس کی کمزوریاں دنیا کے سامنے آچکی ہیں۔

    مبشر لقمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے خود اعتراف کیا کہ انہوں نے ماضی میں بھارت کو جنگ سے روکنے کے لیے سخت وارننگ دی تھی اور اگر مستقبل میں بھارت نے دوبارہ جنگ چھیڑنے کی کوشش کی تو انہیں ایک بار پھر مداخلت کرنا پڑے گی۔ ان کے مطابق یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کی پالیسیز نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔

    پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ ہر خاندان کی بحالی میرا مشن ہے،وزیراعلیٰ پنجاب

    شہباز شریف سے بیلاروس کے وزیر داخلہ کی ملاقات

    وزیراعظم سے ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر کی ملاقات