Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • عمران خان کی عسکری قیادت سے ملاقات، کیا کھچڑی پک رہی ہے . سنیے مبشرلقمان کا تجزیہ

    عمران خان کی عسکری قیادت سے ملاقات، کیا کھچڑی پک رہی ہے . سنیے مبشرلقمان کا تجزیہ

    عمران خان کی عسکری قیادت سے ملاقات، کیا کھچڑی پک رہی ہے . سنیے مبشرلقمان کا تجزیہ

    باغی ٹی وی :سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ عمران خان ہفتے کو اعتماد کا ووٹ لینے جا رہے ہیں . انہوں نے کہا کہ اس سلسلےمیں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقات بھی کی ہے علم نہیں کہ انہوں نے کہا بات کہی لیکن ان حالات میں یہ ملاقات کوئی عام یا معمولی نہیں‌. ہے

    اصل بات یہ ہے کہ وزیر اعظم کو ان کے ترجمان اور مشیران مروا رہے ہیں ، سندھ کا انتخاب ہو ، نوشہرہ کا ہو یا ڈسکہ کا ہر طرف سے مشیران عمران خان کو لے ڈوبے ہیں. اب عمران خان کو ووٹ آف کنفیڈینس ملتا ہے یا نہیں یہ سطحی بات ہے ، اصل بات یہ ہے کہ اس ملک نے سلامت رہنا ہے اور لوگوں نے آتے جاتے رہنا ہے .

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وزیرا عظم نے خود اعلان کر کے کہ میں ووٹ آف کنفیڈنس لے رہا ہوں تو اس سے ملک کی ساخت متاثر ہوئی ہے . دنیا اور اس کے عالمی ادارے جو پاکستان کو لون دینے جا ارہے ہیں وہ جب دیکھیں گے کہ وزیر اعظم اعتما کا ووٹ لے رہے ہیں. اس صورٹ حال میں دنیا میں پیغام یہ جائے گا. کہ وزیر اعظًم کے صدر آصف علوی نے کہا ہے کہ آپ ووٹ آف کنفیڈنس لیں ، جس کا مطلب ہے کہ وزیر اعطم کی پوزیشن مضبوط نہیں ہے .

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایسا کر کے وزیرا اعظم نے پاکستان عالمی سطح پر امیچ اچھا پیش نہیں کیا . جس سے ایک بار پھر ثابت ہوا کہ وزیرا عظم کو ان کسی مشیر نے اچھا مشورہ نہیں دیا.

  • حکومت چھوڑدوں گا مگراپنی قوم کوکرپٹ،رشوت خوروں کےرحم وکرم پرنہیں چھوڑسکتا: وزیراعظم کا خطاب

    حکومت چھوڑدوں گا مگراپنی قوم کوکرپٹ،رشوت خوروں کےرحم وکرم پرنہیں چھوڑسکتا: وزیراعظم کا خطاب

    اسلام آباد:حکومت چھوڑدوں گا مگراپنی قوم کوکرپٹ،رشوت خوروں کےرحم وکرم پرنہیں چھوڑسکتا: وزیراعظم کا قوم سے خطاب ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان کردیا ہے،

    انہوں نے کہا کہ میں پرسوں ہفتے کوخود اعتما د کا ووٹ لوں گا کیونکہ وہ ”شو آف ہینڈ“ سے ہوگا، مجھ پر اعتماد نہیں ہوگا تورائے کا احترام کروں گا اور کرسی چھوڑ کر اپوزیشن میں بیٹھ جاؤں گا۔

    انہوں نے سرکاری ٹی وی پر براہ راست قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاکستانیو! سینیٹ کا الیکشن ہوا،اس پرقوم سے بات کرنا ضروری ہے ، جس طرح سینیٹ کا الیکشن ہوا اس سے ملک کے مسئلے مسائل جڑے ہوئے ہیں، سب سے پہلے 6سال پہلے تحریک انصاف نے سینیٹ الیکشن میں حصہ لیا، تب مجھے اندازہ ہوا کہ سینیٹ الیکشن میں پیسا چلتا ہے،

    وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ یہ 30سال سے پیسا چل رہا ہے، سینیٹر بننے کیلئے ممبر پارلیمنٹ کو خریدا جاتا ہے، یہ کیسا مذاق ہے ملک کی لیڈرشپ ممبران پارلیمنٹ سے ملک کی لیڈرشپ بنتی ہے، مجھے تب حیرت ہوئی جب رشوت دے کر سینیٹربنتا ہے، دوسری طرف وہ ممبران پارلیمنٹ جو ضمیر بیچ کر ووٹ کرتے ہیں ،

    عمران خان نے کہا کہ میں نے تب کہا کہ اوپن بیلٹ ہونی چاہیے، ہمارے پہلے سینیٹ الیکشن میں ہمارے20ممبران بک گئے تھے،ہم نے ان کوپارٹی سے نکال دیا، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں نے سی اوڈی میں طے کیا سینیٹ الیکشن اوپن ہونا چاہیے، جب ان جماعتوں نے ہماری حمایت نہیں تو ہم سپریم کورٹ میں گئے ، اس دوران ججزصاحبان نے بھی کہا پیسا چلتا ہے، اسی دوران ویڈیو آگئی ، جو کہ الیکشن کمیشن کے خفیہ بیلٹ کے خلاف گئی۔

    سپریم کورٹ باربار کہتا تھا اوپن بیلٹ کروانا آپ کی ذمہ داری ہے، اس پر ساری جماعتیں اکٹھی ہوگئیں؟ میں سوال پوچھتا ہوں کہ اب کیوں سب نے زور لگایا کہ اوپن بیلٹ یہ جمہوریت اور آئین کے خلاف ہے، ان کو پہلے نہیں پتا تھا؟ میں قوم کے سامنے رکھتا ہوں کیا ہوا؟ جب سے ہماری حکومت آئی ہے کرپٹ لیڈرز کو خوف ہوگیا کہ اب کہیں ہماری کرپشن کیسز پر آگے نہ بڑھے۔

    وزیراعظم نے مزید کہا کہ جبکہ یہ کیسز ان کے پرانے ہیں، ہمارے دور کے کیسز 5فیصد بھی نہیں ہوں گے، میں نے پہلے دن کہا تھا یہ سب کرپٹ اکٹھے ہوجائیں گے۔ ان کا ایک ہی مقصد ہے مجھ پر اتنا پریشر ڈالیں کہ میں مشرف کی طرح دباؤ میں آکر این آراو دے دوں۔فیٹف نے ہمیں گرے لسٹ میں ڈال دیا، اگر فیٹف کی شرائط پر عمل نہیں کرتے تو وہ ہمیں بلیک لسٹ میں ڈال دیں گے، اس سے پابندیاں لگنے سے روپیہ گرے گا اور مہنگائی بڑھ جائے گی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ بجلی، تیل، دالیں، گھی، گندم ساری چیزیں جو بھی امپورٹ کریں گے تو چیزیں مہنگی ہوجائیں گی۔ ہم فیٹف کیلئے جو قانون بنانا چاہتے تھے انہوں نے اپنے نکات دیے کہ پہلے نیب کو ختم کرو، پھر فیٹف قانون سازی میں حمایت کریں گے۔اسی طرح انہوں نے سپریم کورٹ میں جاکر کہا ہمیں خفیہ بیلٹ چاہیے ، جس کا مقصد پیسے دے کر یوسف رضا گیلانی کو جتوانا اور تاثر دینا تھا کہ عمران خان کی ایوان میں اکثریت نہیں ہے، حفیظ شیخ کو ہرا کردکھانا چاہتے تھے ہماری اکثریت ختم ہوگئی۔

    انہوں نے کہا کہ م یرے پاس جیتنے پیسے تھے میری زندگی کیلئے کافی تھے، مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں تھی سیاست میں آنے کی ، آج سے 55سال پہلے پاکستان کی دنیا میں مثال دی جاتی تھی۔ ہمارے صدر کوامریکا میں امریکن صدر نے ایئرپورٹ پر خود آکرویلکم کہا ، جب 1985ء میں سیاست میں پیسا چلنے لگا تو ہماری قسمت بدلنا شروع ہوگئی۔ جب ہمارا ملک نیچے جانا شروع ہوگیا، فیکٹریاں بنانے کیلئے سیاست کی جاتی۔

    وزیراعظم نے کہاکہ میرا سیاست میں آنے کا مقصد اس سسٹم کو تبدیل کرنا تھا۔ میں نے مغرب میں وقت گزارا، دنیا کے ممالک میں گیا، فرق انصاف ہے جس سے ملک نیچے چلا جاتا ہے، نبی پاک ﷺ نے ریاست مدینہ میں قانون کی بالادستی اور انصاف قائم کیا۔جب ملک کا قانون چور طاقتورکونہیں پکڑتا تو وہ ملک نیچے چلا جاتا ہے، وزیراعظم کی چوری سے ملک کمزور ہوتا ہے جیسا کہ میں وزیراعظم ہوں اور کوئی پاور پراجیکٹ لگادوں، ایک ڈیل میں 30ارب بناسکتا ہوں۔

    عمران خان نے اس حوالے سے قوم کی رہنمائی کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی قیمت عوام ادا کرتے ہیں، کیونکہ 130ارب کے پراجیکٹ لگنے سے بجلی کی قیمت بڑھ جاتی ہے، اور قیمت قوم ادا کرتی ہے۔ سارے غریب ملکوں کی یہی کہانی ہے، ہر سال ایک ہزار ارب ڈالر غریب ملکوں سے امیر ملکوں میں جاتا ہے، جب وزیراعظم اور وزیر کرپشن کرتے توملک کمزور ہوجاتا ہے اور قرضے لینا پڑتے ہیں،جس سے ڈالر لینا پڑتے ہیں اور روپیہ نیچے گر جاتا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ مشرف نے طاقت ہونے کے باوجود پریشر میں آکر این آراو دے دیا، اس این آراو کی وجہ سے قرضے بڑھ گئے ہیں۔ ہم جتنا ٹیکس اکٹھا کرتے ہیں اس میں آدھے پیسے قرضوں کی قسطیں دینے میں چلے جاتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ان کو پتا تھا سینیٹ میں پیسا چلنا ہے، اسی لیے اوپن بیلٹ کیخلاف اکٹھے ہوگئے۔ یوسف رضا گیلانی کا بیٹا پیسے بانٹ رہا تھا لوگوں کے ضمیر خرید رہا تھا ہماری خواتین جو پہلے پی پی کی تھیں انہوں نے بتایا ہمیں فون کر کے 2کروڑ کی آفر کی گئی۔

    سپریم کورٹ نے موقع دیا کہ اوپن بیلٹ سے کروائیں۔ آپ نے بکنے والے ایم این ایز کو بچا کر جمہوریت کو نقصان پہنچایا۔ہم اپنی نوجوان سوسائٹی کیلئے کیا مثال قائم کررہے ہیں؟جب ملک کی لیڈرشپ رشوت دے گی تو کیا پٹواری ٹھیک ہوجائیں گے۔میں نے الیکشن کمیشن کو باربار کہا کہ ریٹ لگ گئے بولیاں لگ گئی ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جب الیکشن کمیشن کو موقع دیا تو کیا وجہ تھی 1500بیلٹ نہیں بنا سکتے تھے؟ آپ نے پورا موقع دیا،الیکشن کمیشن نے ووٹ چوری کرنے والوں کو بچا لیا، جو کروڑوں روپیہ خرچ کرکے سینیٹر بنے گا وہ حاتم طائی ہے؟ وہ کہاں سے یہ پیسا پورا کرے گا؟ پھر کہتے کرپشن بڑھ گئی ہے، میں پرسوں قومی اسمبلی سے اعتما د کا ووٹ لوں گا ، کیونکہ وہ شو آف ہینڈ سے ہوگا، مجھ پر اعتماد نہیں ہوگا تورائے کا احترام کروں گا اور کرسی چھوڑ کر اپوزیشن میں بیٹھ جاؤں گا۔

  • الیکشن کمیشن نے سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کا موقع دیا:اپنے بچوں‌ کو کیا سبق دیا جارہا ہے: وزیراعظم

    الیکشن کمیشن نے سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کا موقع دیا:اپنے بچوں‌ کو کیا سبق دیا جارہا ہے: وزیراعظم

    اسلام آباد :الیکشن کمیشن نے سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کا موقع دیا:اپنے بچوں‌ کو کیا سبق دیا جارہا ہے: وزیراعظم نے سینیٹ الیکشن کے حوالے سے اپنے خطاب میں‌ قوم سے کہا کہ آپ نے دیکھ لیا کہ یہ ادارے اپنی نسل نو کوکس طرح تباہی کی طرف لے جارہے ہیں‌ :

    اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ قوم سینیٹ الیکشن کو سمجھ جائے تو ملک کے سارے مسائل سمجھ آجائیں گے۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ پر ہوتا توتحریک انصاف کو اتنی ہی سیٹیں ملتی جتنی ملنی تھیں، اپوزیشن نے اسلام آباد سے سینیٹ کی سیٹ پر پیسہ لگایا ۔

    وزیراعظم نے کہا کہ صاف اور شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، سپریم کورٹ نے اپنی رائے کے ذریعے الیکشن کمیشن کو موقع دیا کہ سیکرٹ بیلٹ کرالیں لیکن ووٹ کو قابل شناخت رکھیں،

    وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن کمیشن 1500 بیلٹ پیپرز پر بار کوڈنگ نہیں کرسکتا تھا؟ الیکشن کمیشن نے تو سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کا موقع دیا، سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن میں اوپن بیلٹ کی مخالفت کی۔

    انہوں نے الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ اس نے پیسے باٹنے کی ویڈیو کی تحقیقات نہیں کیں؟ کیا آپ کو نہیں پتہ کہ یہ آپ کی ذمہ داری تھی تحقیق کرنے کی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں پتا چلنا چاہیے کہ ہمارے پندرہ ، سولہ ارکان کون سے ہیں جو بکے ہیں لیکن سیکرٹ بیلٹ کے ذریعے ان کو بچالیا گیا

  • پاکستان کے مسائل کے حل کا مرکزسینیٹ اوراگروہاں ہی سینیٹرزرشوت دے کرآئیں ، جیسا قوم نے دیکھ لیا:پھرقوم کیسے مسائل سے نکلے گی :وزیراعظم کا قوم سے خطاب

    پاکستان کے مسائل کے حل کا مرکزسینیٹ اوراگروہاں ہی سینیٹرزرشوت دے کرآئیں ، جیسا قوم نے دیکھ لیا:پھرقوم کیسے مسائل سے نکلے گی :وزیراعظم کا قوم سے خطاب

    اسلام آباد:پاکستان کے مسائل کے حل کا مرکزسینیٹ اوراگروہاں ہی سینیٹرزرشوت دے کرآئیں ، جیسا قوم نے دیکھ لیا:پھرقوم کیسے مسائل سے نکلے گی :وزیراعظم کا قوم سے خطاب،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان اس وقت قوم سے خطاب کررہے ہیں اورقومی المیے پرقوم کوولولہ دینے کی کوشش کررہے ہیں‌

    وزیر اعظم نے کہا کہ سینیٹ کے انتخابات جس طرح ہوئے ہیں انہی سے ملک کے مسائل کی وجہ سمجھ آجاتی ہے، خیبر پختونخوا میں ہماری پہلی حکومت میں مجھے پتہ چلا کہ سینیٹ کے انتخابات میں پیسہ چلتا ہے اور یہ سلسلہ 30 سے 40 سال سے چل رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے انتخابات سے ملک قیادت آتی ہے، جب ایک سینیٹر رشوت دے کر سینیٹر بن رہا ہے اور ارکان پارلیمنٹ پیسے لے کر اپنے ضمیر بیچ رہے ہیں تب سے میں نے اوپن بیلٹ کی مہم چلانا شروع کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پارلیمنٹ میں بھی اوپن بیلٹ کا بل پیش کیا، جب اس موقف کرنے کی حمایت کرنے والی جماعتوں نے ہمارا ساتھ نہیں دیا تو ہم معاملے کو سپریم کورٹ لے کر گئے، وہاں الیکشن کمیشن نے اس کی مخالفت کی اور عدالت عظمیٰ نے کہا کہ صاف و شفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ جب سے ہماری حکومت آئی ہے تب سے پرانی جماعتوں کی کرپٹ قیادت کو خوف آگیا کہ چونکہ میں نے کرپشن کے خلاف ہی مہم چلائی ہے تو کہیں یہ ہم پر ہاتھ نہ ڈال دیں، میں کہہ چکا تھا کہ جب ان پر ہاتھ پڑے گا تو یہ سب اکٹھے ہوجائیں گے اور ایسا ہی ہوا، انہوں نے مجھ پر ہر طرح سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی

    وزیراعظم نے کہا کہ 2018 کے سینیٹ الیکشن میں ہمارے 20 ارکان نے ضمیر بیچا تو انہیں پارٹی سے نکالا۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کیےکہ اوپن بیلٹ ہونا چاہیے لیکن اس بار سب سیکریٹ بیلٹ کے حق میں ہوگئے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ جب ان جماعتوں نے اوپن بیلٹ کی بات نہیں مانی تو انہیں سپریم کورٹ سے رائے لینی پڑی، سپریم کورٹ نے بھی کہا کہ اس میں پیسہ چلتا ہے۔
    وزیراعظم نے کہا کہ جب سےہماری حکومت ہے پرانی پارٹی میں موجود کرپٹ لوگوں کو خوف آگیا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک فیٹف کی بلیک لسٹ میں گیا تو پابندیاں لگیں گی، جو پابندیاں لگیں گی اس سے ہمارا روپیہ گرنا شروع ہوگا، غربت پھیل جائے گی، مہنگائی کا طوفان آئے گا۔

    انہوں نے کہا کہ اپوزیشن مجھے بلیک میل کررہی تھی کہ میں انہیں این آر او دے دوں، سپریم کورٹ میں سب نے اکٹھے ہو کر کہا کہ ہمیں سینیٹ الیکشن میں خفیہ بیلٹ چاہیے، انہوں نے پلان کیا کہ سینیٹ کے الیکشن میں پیسہ چلائیں، ان کی کوشش تھی کہ مجھ پر عدم اعتماد کی تلوار لٹک جائے اور ان کے دباؤ میں آؤں اور میں این آر او دوں۔

    وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر کہا کہ اپوزیشن کے ہاتھوں نہ بلیک میل ہوں گا نہ این آر او دوں گا۔

  • چیئرمین سینیٹ کےانتخاب میں6 سینیٹرزاہم:صادق سنجرانی کامیاب ہوجائیں گے:وعدے پکے ہوگئے

    چیئرمین سینیٹ کےانتخاب میں6 سینیٹرزاہم:صادق سنجرانی کامیاب ہوجائیں گے:وعدے پکے ہوگئے

    اسلام آباد : چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں 6 سینیٹرزاہم:صادق سنجرانی کامیاب ہوجائیں گے:وعدے پکے ہوگئے ،اطلاعات کے مطابق سینیٹ کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف ایوان بالا کی سب سے بڑی جماعت بن گئی لیکن چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں چھ سینیٹرز ایسے بھی ہیں جو فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔

    تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز ہونے والے سینیٹ انتخاب کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے پاس سینیٹ میں 26 نشستیں ہیں جب کہ پی پی 20 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت قرار پائی ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے پاس سینیٹ میں 17 نشستیں ہیں۔ اس طرح ن لیگ ایوان بالا کی تیسری بڑی جماعت بن گئی ہے۔ دوسری جانب اس وقت سینیٹ میں بلوچستان عوامی پارٹی کی 13 ، جمیعت علمائے اسلام (ف) کی 5 ، ایم کیو ایم کی 3 اور اے این پی اور نیشنل پارٹی کی دو دو نشستیں ہیں۔
    سینیٹ میں ق لیگ، فنکشنل لیگ، جماعت اسلامی، میپ اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے پاس بھی ایک ایک نشستیں موجود ہیں۔

    سینیٹ انتخابات کے بعد ایوان بالا میں آزاد سینیٹرز کی تعداد 6 ہو گئی ، جن میں سے چار کا تعلق سابق فاٹا سے ہے اور دو بلوچستان سے منتخب ہوئے ۔ بلوچستان اسمبلی سے ٹیکنوکریٹ کی نشست پرجے یو آئی کے کامران مرتضیٰ ،بلوچستان عوامی پارٹی کے سعید ہاشمی سینیٹرمنتخب ہوئے تھے ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اعداد و شمار کے تحت پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے پاس سینیٹ میں کل 49 نشتیں ہیں جب کہ پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے پاس موجود نشستوں کی تعداد 44 ہے۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آئندہ مرحلے میں جب چئیرمین سینیٹ کا انتخاب ہو گا تو اس وقت 6 سینیٹرز فیصلہ کُن کردار ادا کریں گے۔

    ادھر اسلام آباد سے ذرائع کے مطابق صادق سنجرانی کو6 میں سے پانچ سینیٹرز نے حمایت کا یقین دلادیا ہے اور بھی یقین دہانی کرادی گئی ہے کہ آپ بے فکرہوجائٰیں‌آپ باقی سینیٹرز سے رابطہ مضبوط کریں سینیٹ میں چیئرمین شپ کےلیے آپ سے بہترہمارا کوئی امیدوار نہیں ہوسکتا ا

  • کپتان سے  پہلے وسیم اکرم پلس جائیگا، بلاول کا اعلان، کپتان اور کھلاڑی پریشان

    کپتان سے پہلے وسیم اکرم پلس جائیگا، بلاول کا اعلان، کپتان اور کھلاڑی پریشان

    کپتان سے پہلے وسیم اکرم پلس جائیگا، بلاول کا اعلان، کپتان اور کھلاڑی پریشان
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ الیکشن میں کامیابی کے بعد بلاول نے پنجاب کے حوالہ سے بھی بڑا اعلان کر دیا

    بلاول زرداری نے کہا ہے کہ گزشتہ روز پورے پاکستان میں یوسف رضا گیلانی کی جیت کا جشن منایا گیا،کل رات حکومتی وزرا ڈرامہ کرنے کی کوشش کررہے تھے،وزیراعظم نے کہا تھا اگر ہم سیٹ گئے تو وہ اسمبلیاں تحلیل کردیں گے،وزیراعظم عمران خان الیکشن سے ڈرتے ہیں،عمران خان کی طرف سے اعتماد کا ووٹ بھی ایک ڈرامہ ہے،عمران کےخلاف عدم اعتماد کب ہوگا ہم بتائیں گے،اب یہ کٹھ پتلی تماشہ اور ڈرامے بازی نہیں چلے گی،بہت دیر ہو چکی ہے اب اس حکومت کوئی نہیں بچا سکتا، پی ڈی ایم اب سنجیدگی کے ساتھ فیصلے کرے گی،

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا نے عثمان بزدار کے خلاف پہلے تحریک عدم اعتماد لانے کا عندیہ دے دیا،بلاول کا کہنا تھا کہ پہلے پنجاب کو بچائیں گے، ہرفورم پر حکومت کامقابلہ کریں گے، اب آ پ کو نہیں چھوڑیں گے،ہم اب آپ کو این آر او نہیں دیں گے، ہم نےدنیاکوسینیٹ الیکشن میں بتادیاآپ مستردہوچکےہیں،سینیٹ الیکشن کےبعداخلاقی طورپراپنااستعفیٰ جمع کرادیتے،مل کر حکومت کو ٹف ٹائم دیں گے، پی ڈی ایم مشاورت سے فیصلے کرے گی، ہم فیصلہ کریں گے کب اور کہاں عدم اعتماد کرنا ہے، عمران خان پر عدم اعتماد کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا،پی ڈی ایم میں اتفاق رائےسےجوبھی فیصلہ ہوگاعمل کریں گے،عدم اعتمادکیلئےکون سی حکمت عملی اپنانی ہےپی ڈی ایم فیصلہ کرےگی،عمران خان پیسے لینے اور دینے والے ایم این ایز کو اپنی جماعت سے نکال دیں،

    بلاول زرداری نے کہا ہے کہ اس حکومت کو اب کوئی نہیں بچاسکتا، چیئرمین سینیٹ کےالیکشن سمیت ہرفورم پرمقابلہ کریں گے،سینیٹ الیکشن میں ملنی والی حمایت سے زیادہ اراکین ہمارا ساتھ دیں گے، ہم جانتے ہیں کون اگلاالیکشن تیراورشیرکے نشان سے لڑناچاہتے ہیں،ہم آپ کوچین سےنہیں بیٹھنےدیں گے،عمران خان نےکہاپیسےلینےوالےارکان کاپتہ ہے،چیلنج کرتاہوں ہمت ہےتوان ارکان کوجماعت سےنکالو،جن کوسیاست کا پتہ ہےان کوہماری سیاست کااندازہ ہے،ہم نےپیسوں کی بنیادپر یہ الیکشن نہیں لڑا

    سینیٹر یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ سینیٹ انتخابا ت میں میرا 2لاکھ سے بھی کم خرچہ ہوا،جن لوگوں نے ہمیں ووٹ دیا وہ پی ٹی آئی میں اپنا مستقبل محفوظ نہیں سمجھتے،ہم پچھلے سینیٹ الیکشن سے کافی کچھ سیکھ چکے ہیں،

  • پاکستان چاہتا ہے کہ برادراسلامی ملک ساتھ دیں اوردنیا کو واضح پیغام دیں:وزیراعظم عمران خان

    پاکستان چاہتا ہے کہ برادراسلامی ملک ساتھ دیں اوردنیا کو واضح پیغام دیں:وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد:پاکستان چاہتا ہے کہ برادراسلامی ملک ساتھ دیں اوردنیا کو واضح پیغام دیں:وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغان امن عمل خطے کو پائیدار ترقی کی طرف لے جانے میں معاوَن ہوگا

    اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ امیر ملکوں نے کورونا وبا سے بچاوَ کیلئے وسائل کااستعمال کیا،پاکستان میں کورونا ویکسین کی فراہمی شروع کردی گئی ہے،

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پائیدار ترقی کے حصول کے لیے علاقائی تعاون ناگزیر ہے، وزیراعظم نے مزید کہا کہ دہشتگردی کو اسلام سے جوڑنا مسلمانوں کے ساتھ بڑی زیادتی ہے،افغانستان میں قیام امن خطے کیلئے نہایت اہم ہے،

    وزیراعظم عمران خان نے اس موقع پر کہا کہ اسلامو فوبیا کے تدارک کیلئے پاکستان اور ترکی مل کر کاوشیں کررہے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ کورونا وبا سے بچاوَ کیلئے عالمی سطح پر ویکسین کی مساویانہ فراہمی ضروری ہے،

    انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں کورونا کی وجہ سے معیشت کو نقصان پہنچا، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ معاشی مشکلات کے باوجود ہماری حکومت نے غیر معمولی اقدامات کیے، وزیراعظم نے اس موقع پرکہا کہ کورونا بحران پر قابوپانے کیلئے 5نکاتی پروگرام دیا تھا،

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت عوام کو نقد رقوم فراہم کی گئیں، وزیراعظم نے کہاکہ زندگیاں بچانے کے ساتھ معیشت کی بحالی بھی ضروری ہے، انہوں نے کہاکہ کورونا وبا کی وجہ سے معاشی وسماجی مضمرات کا مکمل تخمینہ لگانا ابھی باقی ہے،

    وزیراعظم نے کہا کہ اس اجلاس کا مقصد علاقائی اقتصادی ترقی کے حوالے سے لائحہ عمل پر غور ہے، وزیراعظم نے کہا کہ وہ اس موقع پر ترکمانستان کو آئندہ اجلاس کی صدارت پر مبارک باد پیش کرتے ہیں،

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ سربراہ اجلاس کا افتتاح میرے لیے باعث فخر ہے،

  • ڈر اور کسی خوف میں حکومت نہیں کر سکتا،وزیراعظم کا دبنگ اعلان

    ڈر اور کسی خوف میں حکومت نہیں کر سکتا،وزیراعظم کا دبنگ اعلان

    ڈر اور کسی خوف میں حکومت نہیں کر سکتا،وزیراعظم کا دبنگ اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویزالہیٰ کو ٹیلیفون کیا ہے

    وزیراعظم نے امیدواروں کو بلامقابلہ منتخب کروانے پر پرویزالہیٰ کا شکریہ ادا کیا ، وزیراعظم اور پرویز الہیٰ نے سیاسی صورتحال اور ہفتے کو اعتماد کا ووٹ لینے پر مشاورت کی،وزیراعظم  نے پرویزالہیٰ سے چودھری شجاعت حسین کی خیریت بھی دریافت کی

    اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ بطور اتحادی آپ کے ساتھ ہیں اور رہیں گے،

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ کےامیدوارہوں گے،میں بزدل نہیں ،مقابلہ کرنا جانتا ہوں، ڈر اور کسی خوف میں حکومت نہیں کر سکتا،اقتدار کی خاطر خاموش ہوکر نہیں بیٹھوں گا ،جس کو مجھ پر اعتماد نہیں کھلم کھلا بتائے،

    وزیراعظم عمران خان سے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی ملاقات ہوئی ہے،وزیراعظم اور چیئرمین سینیٹ کی ملاقات میں آیندہ کےلائحہ عمل پر بات چیت کی گئی،

    وزیراعظم نے ملک بھر کے اراکین قومی اسمبلی کو ٹاسک سونپ دیے، خیبرپختونخوا سے اراکین قومی اسمبلی کا ہنگامی اجلاس پختونخوا ہاؤس میں طلب کر لیا گیا ہے،اجلاس میں ہفتہ کو پارلیمنٹ کے خصوصی سیشن سے متعلق مشاورت ہو گی،وزیراعظم نے تمام اراکین قومی اسمبلی کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے

    اسلام آباد سیٹ سے شکست، وزیراعظم کا ایسا فیصلہ کہ سن کر مریم اور مولانا کی خواہش ہوئی پوری

    وزیراعظم کا اعتماد کاووٹ ،اوپن ہو گا یا سیکرٹ؟ اعلان ہو گیا

    چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ،کن سینیٹرز کا کردار بڑھ گیا، سب کی نگاہیں ان کی طرف

    سینیٹ میں تحریک انصاف اکثریتی پارٹی بن گئی،ن لیگ کونسے نمبر پر؟

    سینیٹ میں شکست کے بعد پی ٹی آئی حکومت کا اخلاقی جواز ختم،سابق وزیراعظم

    کون ہو گا اگلا چیئرمین سینیٹ؟ اپوزیشن نے اعلان کر دیا

    سینیٹ میں شکست کا ذمہ دار کون؟ وزیراعظم نے سب کو بلا لیا

    ایک کے بعد ایک وار،اب کون ہو گا اپوزیشن کا نیا شکار،مبشر لقمان کے انکشاف سے پی ٹی آئی میں کھلبلی مچ گئی

    کیا کپتان انتخابات سے خوف زدہ ہیں؟ وعدہ پورا کریں، بلاول

    کھینچ کے رکھو تان کے رکھو بوریا بستر باندھ کے رکھو،اپوزیشن کے اسمبلی میں نعرے

    سینیٹ میں پی ڈی ایم کی کامیابی، نواز شریف کریں گے آج اہم اعلان

    آصف زرداری کا نواز شریف،مولانا فضل الرحمان سے رابطہ، بڑا فیصلہ کرلیا

    چیئرمین سینیٹ کے انتخاب پر بھی حکومت کو بڑا سرپرائز دیں گے،زرداری متحرک

    اعتماد کا ووٹ،قومی اسمبلی اجلاس کب ہو گا؟ فیصلہ ہو گیا

    مریم نواز کی اسلام آباد میں اہم شخصیت سے ملاقات طے

    ن لیگ کو پنجاب اور پیپلز پارٹی کو سندھ تک محدود کردیا ،ترجمان اسلام آباد سیٹ ہارنے کے باوجود نہال

    یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں چیئرمین سینیٹ کے لئے وزیراعظم نے امیدوار کا کیا اعلان

    چیئرمین سینیٹ کا الیکشن، اگلا بڑا معرکہ کب ہو گا؟ تاریخ کا اعلان کر دیا گیا

    وزیراعظم سے آرمی چیف کے بعد ایک اور اہم شخصیت کی ملاقات، لاہور سے کس کو ہنگامی طور پر طلب کر لیا گیا؟

  • حکومت مخالف اتحادکوکس نے یقین دہانی کرائی کہ الیکشن پرانےطریقہ کارپرہی ہوں گے:کام جاری رکھیں

    حکومت مخالف اتحادکوکس نے یقین دہانی کرائی کہ الیکشن پرانےطریقہ کارپرہی ہوں گے:کام جاری رکھیں

    لاہور:حکومت مخالف اتحادکو کس نے یقین دہانی کرائی کہ الیکشن پرانےطریقہ کارپرہی ہوں گے:گھبرانا نہیں،اطلاعات کے مطابق ایسی خبرگردش کررہی ہیں کہ جن سے واضع ہوجاتا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے تین دن پہلے حکومت مخالف اتحاد کو الیکشن کمیشن کے کسی اہم فرد کی طرف سے یہ پیغام پہنچا دیا گیا تھا کہ گبھرانا نہیں الیکشن پرانے طریقہ کار کے مطابق ہی ہوں‌گے

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے یہ بھی خبریں گردش کررہی ہیں کہ تین دن پہلے لندن والوں کوخوشخبری سنادی گئی تھی اورپھرلندن والوں نے حکومت کوہرانے کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے روایتی انداز کو جاری رکھنے کی نصیحت کی

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ پیغام لندن براہ راست نہیں ،دوسرے ، تیسرے چینل کے ذریعے نہیں بلکہ چوتھی اسٹیج کو استعمال کرکے یہ پیغآم ایک سے دوسرے اورپھر دوسرے سے تیسرے اورتیسرے سے چوتھے چینل تک پہنچی اورچوتھے ذریعہ نے یہ پیغام لندن والوں تک پہنچایا جس کےبعد پی ڈی ایم کو اس بات کا یقین ہوگیا تھا کہ وہ تمام حربے استعمال کرتے ہوئے الیکشن ضرور جیت جائیں گے

    یہ بھی باتیں جاتی امرا میں سننے میں‌ آئیں کہ پی ڈی ایم قیادت کو خاموشی سے رابطے کرنے کی نصیحت کی گئی اوریہ بھی نصیحت کی گئی کہ ایسی غلطی نہ کرنا جس سے معاملات ہاتھ سے نکل جائیں

    سینیٹ الیکشن کے پرانے طریقے کارکی خبرکس نے دی یہ تومعلوم نہیں لیکن یہ معلوم ہوا ہے کہ تین دن پہلے سینیٹ الیکشن پرانے طریقہ کارکے مطابق کرانے کی یقین دہانی کروائی گئی تھی

    یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ الیکشن کمیش کا کوئی اہم ذمہ دارلندن رابطے میں تھا اوریہ رابطہ براہ راست نہیں بلکہ مرحلہ وار قسم کا تھا

    بعض غیرمصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ جب علی حیدر گیلانی کی ویڈیومنظرعام پرآئی تو پھرالیکشن کمشین کی اس شخصیت سے بالواسطہ رابطہ کیا گیا اورمعاملے کو قابومیں رکھنے کی درخواست کی گئی ،

    دوسری طرف یہ بھی سننے کو مل رہا ہے کہ ن لیگ کی قیادت کو الیکشن کمیشن میں ہونے والے ہراجلاس کی خبردی جاتی ہے، یہ خبرکون دیتا ہے اورکیوں خبریں شیئر کی جاتی ہیں اس کے بارے میں ابھی فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا

  • سینیٹ الیکشن ضمیرفروشوں کےبارےمیں اہم انکشافات: بلیک میل کس نےاورکیوں کیا:حقائق منظرعام پرآنےلگے

    سینیٹ الیکشن ضمیرفروشوں کےبارےمیں اہم انکشافات: بلیک میل کس نےاورکیوں کیا:حقائق منظرعام پرآنےلگے

    لاہور:سینیٹ الیکشن ضمیرفروشوں کے بارے میں اہم انکشافات کا سلسلہ شروع،اطلاعات کے مطابق سینیٹ الیکشن میں سپریم کورٹ اورحکومت کی سخت کوششوں کے باوجود ضمیرفروشی کے واقعات سامنے آگئے ہیں ، ادھر اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ ضمیرفروش ، قوم فروش کون تھے اہم معلومات سامنے آنا شروع ہوگئی ہیں‌

    ذرائع کے مطابق سینیٹ الیکشن میں انہی لوگوں‌نے اپنا ضمیر بیچا جنہوں‌ نے 2018 کے الیکشن میں‌ ضمیر فروخت کیا،ان میں سے کے پی سے تو عمران خان نے ضمیرفروشوں کے نام سامنے آنے پران کوپارٹی سے نکال دیا تھا تاہم پنجاب سے ضمیرفروشوں کی شناخت مشکل ہوگئی

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس الیکشن میں خریداروں نے انہی لوگوں سے رابطہ کیا اوران کو قائل کرنےکی کوشش کی لیکن جب ان ضمیرفروشوں کی طرف سے سخت مانیٹرنگ اورپارٹی کی طرف سے سخت ایکشن کی کہانی سنائی تو مبینہ طور پر رابطہ کار نے ضمیرخریدنے والی اہم شخصیت تک یہ پیغام پہنچایا کہ وہ لوگ نہیں مان رہے

    جس پراس شخصیت نے یہ فیصلہ کیا کہ جن لوگوں نے انکار کیا ہے ان کو یہ پیغام دے دیں‌کہ اگروہ معاملات طئے نہیں کریں‌گے تو وہ 2018 میں ہونے والی ڈیل کو منظرعام پرپیش کردیں گے ، پھر آپ جانیں ، یا پارٹی

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس پیغام کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دیا گیا کہ اگرمعاملات طئے کرلیں گے تو فائدے میں رہیں گے ، ہرموقع پرمدد کریں گےاورمشکل وقت پرساتھ دیں‌گے اوراگرآپ پیپلزپارٹی یا ن لیگ کی ٹکٹ پرالیکشن لڑنا چاہیں گے تو اس بات کی بھی گارنٹی دی جاتی ہے کہ ٹکٹ بھی ملیں گے

    پھر اس دوران ساتھ ساتھ 2018 سے دوگنی آفربھی کردی گئی

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ ان ضمیر فروش اراکین نے کچھ وقت مانگا اورپھرتین چار دن بعد رابطہ کرنے پرمثبت اشارہ دیتے ہوئے ضمیرفروشی کا وعدہ کرلیا

    یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان ضمیرفروشوں نے دوبارہ اس لیے ضمیر بیچا کیوں کہ ان کو خریداروں کی طرف سے دھمکی دی گئی تھی کہ اگرمعاملات طئے نہیں کریں‌ گے تو 2018 والے پیسے لینے کے معاملات سامنے لے آئیں گے ، جس پریہ اراکین خوف زدہ ہوگئے اوراس مرتبہ پھرشکار ہوگئے

    یہ تو اطلاعات ہیں کہ معاملات کا مرحلہ اسی طرح طئے ہوا تھا لیکن ان لوگوں‌کے نام ابھی تک سامنے نہیں آئے کہ یہ بلیک میل ہونے والے کون لوگ ہیں‌