Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • چوہوں کی طرح حکومت نہیں کرسکتا،جس کواعتماد نہیں،سامنےآکراظہارکرے:وزیراعظم عمران خان ڈٹ گئے

    چوہوں کی طرح حکومت نہیں کرسکتا،جس کواعتماد نہیں،سامنےآکراظہارکرے:وزیراعظم عمران خان ڈٹ گئے

    اسلام آباد:چوہوں کی طرح حکومت نہیں کرسکتا،جس کواعتماد نہیں،سامنےآکراظہارکرے:وزیراعظم عمران خان ڈٹ گئے،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں چوہوں کی طرح حکومت نہیں کر سکتا، جس کو مجھ پر اعتماد نہیں سامنے آکر اظہار کرے.

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں آنے والی نسلوں کوکرپٹ حکمرانوں کے رحم وکرم پرنہیں چھوڑسکتا

    وزیراعظم کے زیر صدارت حکومتی وزرا اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔ اس اہم اجلاس میں وزیراعظم کو سینیٹ انتخابات کے نتائج پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اجلاس کے شروع میں ہی اعتماد کا ووٹ لینے کے فیصلہ سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اعتماد کا ووٹ لینے کا مقصد اپوزیشن کی پیسہ کی سیاست کو بے نقاب کرنا ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا عبدالحفیظ شیخ پر عدم اعتماد حکومت پر عدم اعتماد ہے۔ فیصلہ کیا ہے کہ اسی ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کروں گا۔ میں چوہوں کی طرح حکومت نہیں کر سکتا، جس کو مجھ پر اعتماد نہیں سامنے آ کر اظہار کرے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے اقتدار عزیز ہوتا تو خاموش ہو کر بیٹھ جاتا۔ وزیراعظم کا عہدہ اہم نہیں، نظام کی تبدیلی میرا مشن ہے۔ اگر عوامی نمائندوں کو مجھ پر اعتماد نہیں تو کھل کر سامنے آئیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج میرے موقف کو مکمل طور پر تقویت ملی ہے۔ ووٹ بیچنے اور خریدنے والوں کو بے نقاب کروں گا۔ شفاف الیکشن کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، شفافیت کے لیے ہر فورم پر جائیں گے۔

  • ایک کے بعد ایک وار،اب کون ہو گا اپوزیشن کا نیا شکار،مبشر لقمان کے انکشاف سے پی ٹی آئی میں کھلبلی مچ گئی

    ایک کے بعد ایک وار،اب کون ہو گا اپوزیشن کا نیا شکار،مبشر لقمان کے انکشاف سے پی ٹی آئی میں کھلبلی مچ گئی

    مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کی میٹنگ سے خفیہ خبریں آئی ہیں، قریشی نے کہہ دیا کہ حکومت اعتماد کا ووٹ لے گی، دو ماہ سے میں یہ کہہ رہا تھا کہ پی ٹی آئی کو سینیٹ الیکشن میں اکثریت ملے گی جب امیدوار سامنے آئے تو مجھے یقین تھا اور میرا تجزیہ درست ثابت ہوا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب بڑا کلیئر ہو گیا ہے، کہ حکومت نے آج یہ مان لیا کہ ووٹ آف کنفیڈنس لینا ہے،زرداری نے جب پی ڈی ایم کو استعفوں سے منع کیا اور کہا کہ ہم حکومت کو سیاسی شہید نہیں بننے دیں گے، سینیٹ میں کھیلیں گے،لانگ مارچ سے حکومت گرتی ہے تو وہ عوام میں مقبول ہی رہے گی کہ ہمیں کام نہیں کرنے دیا گیا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب چیئرمین سینیٹ پی ڈی ایم کا بنے گا، گیلانی بنیں گے، اگلا ٹارگٹ ، پی ڈی ایم اب موو کرے گی، قومی اسمبلی میں دوبارہ ایاز صادق کو لے کر آنا ہے سپیکر قومی اسمبلی، نواز شریف نے نام دیا اور سب اس پر متفق ہو گئے ہیں، یہ سولین سپر میسی کو کلیئر میسج ہے، ایاز صادق اتنے ہی ہر دلعزیز ہیں جتنے گیلانی ہیں ،انکی اپنی گڈ ول ہے،ا یاز صادق بہت سٹرانگ امیدوار بنتے ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ گیلانی کو ووٹ زیادہ مل گئے تو ووٹ آف کنفیڈنس فیل ہو گیا، آج وہ اکثریت تحریک انصاف شروع نہیں کر سکی، ووٹ آف کنفیڈنس کی بات آتی ہے تو حکومت کو جمع کرنے ہین ووٹ، مینگل ساتھ نہین ہیں، اتحادی ناراض ہیں، انکے اپنے ناراض ہیں لوگ دکھی ہیں جنہوں نے آج ووٹ نہیں دیئے، پی ٹی آئی میں بھی دھڑے بنے ہوئے ہیں، دو پارٹیز ہیں، اس میں بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے پی ٹی آئی کی جدوجہد میں مخالفت کی اور پھر وہی فصلی بٹیرے پی ٹی آئی میں آ گئے باہر سے لوگ آ گئے، سوٹ کیس لے کر اور وزارتیں مل گئیں

  • کون ہو گا اگلا چیئرمین سینیٹ؟ اپوزیشن نے اعلان کر دیا

    کون ہو گا اگلا چیئرمین سینیٹ؟ اپوزیشن نے اعلان کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کے الیکشن میں اسلام آباد سیٹ پر سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی منتخب ہو چکے ہیں، انہوں نے پی ٹی آئی کے حفیظ شیخ کو شکست دی ہے

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات پر پاکستان کے عوام کو مبارک باد پیش کرنا چاہتا ہوں۔ گیلانی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار ہوں گے،

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ حکومت ہار چکی ہے اور پاکستان کے عوام جیت چکے ہیں اورت پارلیمان کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ پی ڈی ایم کی تمام قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ پی ڈی ایم کے لیے اسلام آباد کی جنرل نشست بہت اہم تھی۔ اسلام آباد کی جنرل نشست پر پی ڈی ایم کوکامیابی حاصل ہوئی ہے۔ آج جمہوریت، پارلیمنٹ اور پی ڈی ایم کی فتح ہوئی ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ عمران خان کا اپنی ہی اسمبلی سے ہارنا پی ڈی ایم کی فتح ہے۔ ضمنی اور سینیٹ الیکشن میں حکومت کوچیلنج کر کے ناکام کیا۔ یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ منتخب ہوں گے۔ جلد ہی اس ظالم حکومت کو گھر بھیج دیں گے۔ ناکامی پر وزیراعظم عمران خان کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ پاکستان کے جمہوری سفر کا ایک نیا دور شروع ہونے جارہا ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ڈی ایم کا مستقبل روشن ہے۔ پی ڈی ایم میں تمام فیصلے مشاورت سے ہوتے ہیں۔ کٹھ پتلی حکومت کےخلاف جنگ جاری رکھیں گے۔ کامیابی اور ناکامی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ پی ڈی ایم آئندہ کا لائحہ عمل مشاورت سے طے کرے گی۔ چاہتے ہیں کہ ہر ادارہ اپنے دائرہ اختیار میں کام کرے۔ چاہتے ہیں کہ جمہوریت فعال ہو اور معیشت چلے۔ پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی گزشتہ 3سال سے عوام کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ کٹھ پتلی نظام کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ آج ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری ہے۔ حکومت نہ مہنگائی میں کمی کررہی ہے اور نہ بے روزگاری میں۔ جانتے ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہوتی ہے لیکن پھر بھی الیکشنز میں حصہ لیتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ صاف شفاف انتخابات ہوں۔ تحریک انصاف کو پہلے سے ہی پتہ تھا کہ ان کا امیدوار ناکام ہوگا۔

  • چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ،کن سینیٹرز کا کردار بڑھ گیا، سب کی نگاہیں ان کی طرف

    چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ،کن سینیٹرز کا کردار بڑھ گیا، سب کی نگاہیں ان کی طرف

    سینیٹ کے ہونے والے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف ایوان بالا کی سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے لیکن چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں چھ سینیٹرز فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔

    پی ٹی آئی کے پاس ایوان بالا میں 26 نشستیں ہیں جب کہ پی پی 20 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت قرار پائی ہے۔ مسلم لیگ ن کے پاس سینیٹ میں 17 نشستیں ہیں۔ اس طرح ن لیگ ایوان بالا کی تیسری بڑی جماعت بن گئی ہے۔

    اس وقت سینیٹ میں بلوچستان عوامی پارٹی کی 13 ، جے یو آئی (ف) کی5 ، ایم کیو ایم کی 3 اور اے این پی و نیشنل پارٹی کی دو دو نشستیں ہیں۔ سینیٹ میں ق لیگ، فنکشنل لیگ، جماعت اسلامی، میپ اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے پاس بھی ایک ایک نشستیں موجود ہیں۔

    سینیٹ انتخابات کے بعد ایوان بالا میں آزاد سینیٹرز کی تعداد 6 ہو گئی ہے جن میں سے چار کا تعلق سابق فاٹا سے ہے اور دو بلوچستان سے منتخب ہوئے ہیں۔

    اعداد و شمار کے تحت پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے پاس سینیٹ میں کل 49 نشتیں ہیں جب کہ پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے پاس موجود نشستوں کی تعداد 44 ہے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق آئندہ مرحلے میں جب چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہو گا تو پی ڈیم ایم کے پاس اکثریت ہے اسکے باوجود اس وقت 6 سینیٹرز فیصلہ کن کردار ادا کریں گے جو آزاد ہیں، اگر وہ حکومتی کشتی پر سوار ہوئے تو حکومت چیئرمین سینیٹ بنا لے گی ، بصورت دیگر تحریک انصاف کو چیئرمین سینیٹ کے لئے بھی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا

  • وزیراعظم کا اعتماد کا ووٹ، قومی اسمبلی اجلاس طلب کرنیکا فیصلہ ہو گیا

    وزیراعظم کا اعتماد کا ووٹ، قومی اسمبلی اجلاس طلب کرنیکا فیصلہ ہو گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں سینیٹ نشست ہارنے کے بعد حکومت نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے سمری کل صدر کو بھیجی جائے گی۔ وزیر اعظم عمران خان قومی اسمبلی اجلاس میں اعتماد کا ووٹ لیں گے، اسمبلی اجلاس کے لیے صدر کو سمری آرٹیکل 91 کے تحت بھیجی جائے گی۔

    دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان نے پارٹی رہنماؤں کا بھی اہم اجلاس کل طلب کر لیا، یہ اجلاس کل سہ پہر وزیر اعظم ہاؤس میں طلب کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ سینیٹ انتخابات میں بڑے اپ سیٹ کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان کیا ہے، اسلام آباد کی جنرل نشست پر پاکستان پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی نے پی ٹی آئی کے امیدوار حفیظ شیخ کو شکست دی۔

    وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ اعتماد کا ووٹ اوپن ہوگا۔ وفاقی وزرا کی پریس کانفرنس کے دوران شفقت محمود نے بتایا کہ وزیر اعظم کیلئے اعتماد کا ووٹ اوپن ہوگا، اس میں پتہ چل جائے گا کہ کون کس کے ساتھ کھڑا ہے، اگر کوئی باضمیر ہے تو اس میں الگ ہوجائے۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم اپنے نظریے پر قائم ہیں ،یہ یکجا ہوگئے ہیں ، یہ فرار کی سیاست کرتے ہیں ہم اس فرار کی سیاست کو دفن کرکے دم لیں گے ،وزیراعظم کا حوصلہ ہے ارکان کی باتیں سنتےہیں ،اگرارکان ناراض تھے تو کھل کر چلےجاتے،

  • سینیٹ انتخابات،وہ ہو گیا جس کا کسی کو یقین نہ تھا، پی ڈی ایم بازی لے گئی

    سینیٹ انتخابات،وہ ہو گیا جس کا کسی کو یقین نہ تھا، پی ڈی ایم بازی لے گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ الیکشن نے پاکستان کی سیاست کا رخ موڑ دیا

    پی ڈی ایم کی تحریک، اپوزیشن کا اتحاد، عوامی جلسے، ضمنی الیکشن میں اپوزیشن کی کامیابی کے بعد آج ایک بار پھر حکومت کو نہ صرف اسلام آباد سیٹ بلکہ سینیٹ الیکشن میں مجموعی طور پر شکست ہوئی ہے

    آج ہونے والے سینیٹ الیکشن میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نے نہ صرف قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کردی بلکہ سینیٹ میں بھی اکثریت حاصل کرلی ہے

    آج ہونے والے انتخاب کے بعد سینیٹ میں اپوزیشن اتحاد کے پاس سینیٹرز کی تعداد 53 ہوگئی ہے جبکہ حکومتی اتحاد کے سینیٹرز کی تعداد 47 ہے۔ اپوزیشن اتحاد کو حکومتی اتحاد پر سینیٹ میں چھ ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔

    سینیٹ کا الیکشن مجموعی طور پر 48 نشستوں پر ہوا جس میں سے پنجاب کی 11 نشستوں کا پہلے ہی بلا مقابلہ فیصلہ ہوگیا تھا۔ان میں سے پانچ نشستیں حکومتی پارٹی، پانچ مسلم لیگ ن اور ایک نشست مسلم لیگ ق کو ملی تھی،اب آج مکمل الیکشن ہونے پر 48 میں سے حکومتی اتحاد کو 28 نشستیں ملی ہیں جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ نے مجموعی طور پر 20 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔

    ایوان بالا یعنی سینیٹ میں پاکستان تحریک انصاف 26 ارکان کے ساتھ سینیٹ میں اکثریتی پارٹی بن گئی ہے پاکستان پیپلزپارٹی کے 20 اور پاکستان مسلم لیگ ن کے 17 ارکان ہوں گے۔ بلوچستان عوامی پارٹی 13 سینیٹرز کے ساتھ سینیٹ میں چوتھے نمبر پر جبکہ جے یو آئی کے 5 اور ایم کیو ایم کے 3 سینیٹر ہوں گے۔ مسلم لیگ ق نے بھی سینیٹ میں ایک سیٹ حاصل کر لی ہے.

    قومی اسمبلی میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے عبدالحفیظ شیخ کو پانچ ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ انہوں نے 169 ووٹ لئے جبکہ حکومتی امیدوار کے حصے میں 164 ووٹ آئے۔ سینیٹ الیکشن میں ٹوٹل 340 ووٹ ڈالے گئے جن میں سے 7 ووٹ مسترد کر دیئے گئے۔

    دوسری جانب قومی اسمبلی میں خواتین کی نشست پر تحریک انصاف کی امیدوار فوزیہ ارشد نے 174 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ مسلم لیگ ن کی امیدوار فرزانہ کوثر نے 161 ووٹ لئے، اس انتخاب میں 5 ووٹ ضائع ہوئے۔

    پیپلز پارٹی سندھ سے سینیٹ انتخاب میں 11 میں سے 7 نشستیں اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے حصہ میں دو، دو سیٹیں آئیں۔ انتخابی دوڑ میں شامل جی ڈی اے اور ٹی ایل پی کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

    سندھ اسمبلی کے ایوان میں موجود 168 میں سے 167 ارکان نے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ شیری رحمان، سلیم مانڈوی والا، تاج حیدر، جام مہتاب اور شہادت اعنوان کامیاب قرار پائے۔

    ایم کیو ایم کے فیصل سبزواری اور پی ٹی آئی کے فیصل واوڈا بھی جنرل نشست پر کامیاب ہو گئے۔ بائیس، بائیس ووٹ ہونے پر شیری رحمان اور فیصل سبزواری کے مابین ٹاس پر فیصلہ کیا گیا۔

    شیری رحمان ٹاس جیتنے پر سرفہرست قرار پائیں جبکہ وفاق میں اتحادی جماعت جی ڈی اے کے رکن پیر صدر الدین راشدی کو جنرل نشست پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

    سندھ سے ٹیکنو کریٹ کی دو نشست پر پیپلز پارٹی کے فاروق ایچ نائیک اور پی ٹی آئی کےسیف اللہ ابڑو سینیٹرز منتخب ہو گئے جبکہ خواتین کی دو مخصوص نشستوں پر پیپلز پارٹی کی پلوشہ خان اور ایم کیو ایم کی خالدہ اطیب کامیاب ہوئیں۔

    خواتین نشستوں پر 4، جنرل پر 6 اور ٹیکنوکریٹ کی نشست پر 3 ووٹ مسترد ہوئے۔ کامیابی پر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنان نے اسمبلی احاطے میں جشن بھی منایا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بھی امیدواروں کی کامیابی پر مبارکباد دی۔

  • کرونا ویکسین لگوانے کے باوجود طبی عملہ کرونا کا شکار

    کرونا ویکسین لگوانے کے باوجود طبی عملہ کرونا کا شکار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین سے پاکستان لائی جانے والی کرونا ویکسین لگوانے کے بعد بھی طبی عملہ کرونا کا شکار ہو نے لگا

    پاکستان نے چین سے ویکسین منگوائی تھی اور پاکستان نے اعلان کیا تھاکہ ویکسین سب سے پہلے طبی عملے کو لگائی جائے گی بعد ازاں زیادہ عمر والے افراد کی لگائی جائے گی، ویکسینیشن کا عمل پاکستان کے مختلف شہروں میں جاری ہے اور طبی عملے کو کرونا ویکسین لگائی جا رہی ہے

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں سکول ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن سپروائیز عاطف کو کرونا ویکسین لگائی گئی تا ہم کرونا ویکسین لگوانے کے باوجود انہیں چند دنوں بعد کرونا کی علامات ظاہر ہوئیں تو انہوں نے کرونا ٹیسٹ کروایا جو مثبت آیا،کرونا ویکسین لگوانے کے باوجود کرونا ہونے پر طبی عملے میں پریشانی کی لہر دوڑی ہوئی ہے

    ایک طرف حکومت طبی عملے کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ کرونا ویکسین لگوائیں ورنہ انہیں نوکریوں سے فارغ کر دیا جائے گا دوسری جانب کرونا ویکسین لینے کے باوجود طبی عملہ کرونا کا شکار ہو رہا ہے

    یہ پہلا واقعہ نہیں ،اس سے قبل میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے سرکاری میو ہسپتال ذرائع کے حوالےسے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہسپتال کے ڈاکٹر آفتاب کو 23 فروری کو ویکسین لگائی گئی تھی اور ان میں 5 دن بعد کرونا کی علامات ظاہر ہوئیں جب کہ ہیڈ نرس عصمت اور وارڈ انچارج تنویر بھٹی کو کورونا ویکسین کے افتتاح کے موقع پر انجیکشن لگائے گئے تھے، ان دونوں میں 15 دن بعد کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہوئیں۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ میوہسپتال میں اب تک 1100 ہیلتھ ورکرز کو کرونا ویکسین لگائی جاچکی ہے،دوسری جانب ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کا کہنا ہے کہ کرونا ویکسین کی پہلی خوراک لگنے کے 14 دن بعد اینٹی باڈیز بننا شروع ہوتی ہیں لہٰذا ویکسین لگنے کا عمل مکمل ہونے کے بعد بھی احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد ضروری ہے.

  • اسلام آباد سیٹ سے شکست، وزیراعظم کا ایسا فیصلہ کہ سن کر مریم اور مولانا کی خواہش ہوئی پوری

    اسلام آباد سیٹ سے شکست، وزیراعظم کا ایسا فیصلہ کہ سن کر مریم اور مولانا کی خواہش ہوئی پوری

    اسلام آباد سیٹ سے شکست، وزیراعظم کا ایسا فیصلہ کہ سن کر مریم اور مولانا کی خواہش ہوئی پوری
    وزیراعظم عمران خان نے سینیٹ الیکشن میں شکست کے بعد قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اسلام آباد میں وفاقی وزرا اور پارٹی رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ عمران خان ایوان سے اعتماد کا ووٹ لیں گے ۔ جن کو ہمارے حلیفوں کو نظریہ اچھا لگے گا وہ ان کے ساتھ کھڑے ہونگے ہم اپنے نظریے کیساتھ کھڑے ہیں۔ الیکشن کمیشن شفافیت برقرار رکھنے میں ناکام رہا ہے۔پہلے بھی الیکشنز میں ایسا ہوتا رہا ہے،مگر ہم نے اس پر ایکشن لیا اور 20 اراکین اسمبلی کو باہر نکالا۔ ہم چاہتے تھے کی خرید وفروخت کی سیاست سے ہمیں چھٹکارا مل جائے ، ہم نے آئینی ترمیم کی کوشش کی ، ہم رہنمائی کے لیے سپریم کورٹ بھی گئے۔ خواتین کی نشست پر اپوزیشن کو دلچسپی نہ تھی۔ الیکشن سے پہلے جو ویڈیو اور آڈیو سامنے آئی اس پر فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن سے رابطہ کرنا چاہا تو وہاں کوئی بھی موجود نہ تھا۔

    انکا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن پر شفاف انتخابات کی ذمہ داری زیادہ عائد ہوتی ہے۔ہم چاہتے تھے ٹیکنالوجی سے انتخاب کو شفاف بنایا جائے، مگر ایسا نہ ہوسکا۔یہ حق اور باطل کی لڑائی ہے، عمران خان نے سیاسی کلچر کو بدلنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ ہماری یہ لڑائی جاری رہے گی، یزیدی قوتوں کو اپنی فتح نظر آسکتی ہے مگر فتح حق کی ہوگی۔ آج کا دن جمہوریت کے لیے افسوسناک دن ہے۔ آج جمہوری قدروں کو روندا اور قتل کیا گیا ہے۔

  • سینیٹ الیکشن میں پی ٹی آئی کو زبردست ناکامی ، حکومت کے لیے خطرے گھنٹی بج گئی ، سنیے مبشر لقمان کا وی لاگ

    سینیٹ الیکشن میں پی ٹی آئی کو زبردست ناکامی ، حکومت کے لیے خطرے گھنٹی بج گئی ، سنیے مبشر لقمان کا وی لاگ

    سینیٹ الیکشن میں پی ٹی آئی کو زبردست ناکامی ، حکومت کے لیے خطرے گھنٹی بج گئی ، سنیے مبشر لقمان کا وی لاگ

    باغی ٹی وی : سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ سینٹ الیکشن میں دھماکہ ہوگیا . سینٹ میں اب جو صورت حال پیدا ہوئی ہے . اس کے بعد حکومت اخلاقی حیثیت کھو بیٹھی ہے . کیا وہ رہنا چاہتی ہے ، نئے الیکشن کرانا چاہتی ہے . جانا چاہتی ہے لیکن حکومت کی قانونی جواز پر سوال اٹھتے ہیں.

    انہوں نے کہا ہے کہ میں نے اپنے اسی وی لاک کے اندر کہا تھا کہ یوسف رضا جیت رہے ہیں. حفیظ شیخ ہار رہے ہیں. اس سلسلے میں تجزیہ نکار محسن بیگ نے کہا ہے کہ آج عمران‌ خاں اور ان کی پارٹی کو وہ کچھ ملا ہے جو انہوں نے تین سال تک ڈلور کیا ہے . ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے اپنے ایم این اے ایم پی اے اپنی اپنی حلقوں لوگوں کا سامنا نہیں کر سکتے تھے . مہنگائی ، بد امنی اور دیگر گورننس کے مسائل نے ان کا اپنے نمائندوں کا اعتماد کھو دیا تھا .

    مبشر لقمان نے کہا کہ کیا حفیظ شیخ کی شکست کو ہم آئی ایم ایف کی شکست کہہ سکتے ہیں .تواس پر اتفاق کرتے ہوئے محسن بیگ نے کہا کہ بالکل آج ائی ایم ایف کےنمائندے کو شکست ہوئے ہے . حفیظ شیخ جو اس ملک میں رہتے نہیں ہیں اور ان کے مشیر خزانہ لگنے تک عمران خان ان سے ملے تک نہیں .

    ان کی وجہ سے اب تک ملک میں مہنگائی بہت عروج پر ہے . مہنگائی کے اندر صرف دو ماہ میں آٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے . جب ایسے افراد ہوں جن کی کارکردگی ایسی ہو جس سے ملک ان حالات میں پہنچا ہوتب بھلا کیسے وہ جیت سکتے ہیں.

    یہ خاں صاحب کو بتاتے کچھ اور تھے اور نکلتا کچھ اور تھا .میرا نہیں‌ خیال کہ اب ان کا کوئی فیوچر اس ملک میں‌رہا ہے . ان کا کہنا تھا کہ اب وہ اخلاقی اور آئینی طور پر اپنی جگہ کھو چکے ہیں . اب پی ڈی ایم چاہے تو وہ درخواست کر سکتی ہے کہ وزیراعظًم اب اعتماد کا ووٹ لیں. اب حکومت کا رہنا مشکل ہو جائے گا.

    مبشر لقمان نے سوال کیا کہ اسی طرح فارن فنڈنگ کیس بھی کھلنے والا ہے ، جس پر محسن بیگ نے کہا کہ پی ٹی آئی سٹے پر سٹے لے کر اس بچتی آئی ہے .جب یہ بہت ہی کلئیر کسی ہے جس میں‌ پارٹی ٹسلیم کر چکی ہے کہ اس کے اکاؤنٹس ہیں . اور ان سے کروڑوں ڈالر آتے رہے ہیں.

    اس طرح مبشر لقمان نے کہا کہ کیا زرداری کی بات سچ ثابت نہ ہوئی کہ احتجاج کی بجائے پارلیمنٹ میں آؤاور جمہوری انداز میں ووٹ آف نو کانفیڈنس کرو. جس سے حکومت چلی جائے گی اور ان کی یہ بات سچ ثابت ہوئی ہے . حکومت اب مشکلات کا شکار ہے ، پی ڈی ایم کو اب یہ کچھ کرنا ہوگا جس کیطرف زرداری کہہ چکے ہیں.

  • اسلام آباد سے پی ٹی آئی کوخوشخبری مل گئی :پی ٹی آئی کی امیدوار174 ووٹ لیکرکامیاب

    اسلام آباد سے پی ٹی آئی کوخوشخبری مل گئی :پی ٹی آئی کی امیدوار174 ووٹ لیکرکامیاب

    اسلام آباد :اسلام آباد سے پی ٹی آئی کوخوشخبری مل گئی :پی ٹی آئی کی امیدوار174 ووٹ لیکرکامیاب،اطلاعات کے مطابق سینیٹ الیکشن، حفیظ شیخ کی شکست کے باوجود حکومت قومی اسمبلی سے خواتین کی نشست پر فتح حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیں ہیں ۔

    تفصیلات کے مطابق سینیٹ الیکشن کے سلسلے میں قومی اسمبلی سے خواتین کی نشست پر ہونے والے الیکشن کے نتائج بھی سامنے آگئے۔ تحریک انصاف کی فوزیہ ارشد 174 ووٹ حاصل کر کے 13 ووٹوں کی برتری سے کامیاب قرار پائیں۔جبکہ مسلم لیگ ن کی فرزانہ کوثر کو 161 ووٹ ملے۔

    دوسری جانب قومی اسمبلی سے جنرل نشست پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی نے5 ووٹوں سے حفیظ شیخ کو شکست دی۔

    یوسف رضا گیلانی کو 169 اور تحریک انصاف کے حفیظ شیخ کو164 ملے جبکہ الیکشن میں 6 ووٹ مسترد ہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ آج سینیٹ کی 37 نشستوں پر الیکشن ہوا جس کے لیے پولنگ کا عمل صبح 9 بجے شروع ہوا، پولنگ کا عمل 5 بجے تک جاری رہا۔

    اسلام آباد کی 2 نشستوں پر ارکان قومی اسمبلی نے ووٹ کاسٹ کیا۔ اسلام آباد کی جنرل نشست پر پی ٹی آئی کے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے یوسف رضا گیلانی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوا، اب کامیاب امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا ہے،

    سینیٹ الیکشن کے نتائج کے مطابق سینیٹ انتخابات میں یوسف رضا گیلانی نے حفیظ شیخ کو شکست دے دی ہے، یوسف رضا گیلانی سینیٹر منتخب ہوگئے ہیں