Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • علی حیدرگیلانی کےبعد ناصرشاہ کی آڈیو:الیکشن کمیشن کی نااہلی کےسبب سینیٹ الیکشن کالعدم بھی ہوسکتے ہیں

    علی حیدرگیلانی کےبعد ناصرشاہ کی آڈیو:الیکشن کمیشن کی نااہلی کےسبب سینیٹ الیکشن کالعدم بھی ہوسکتے ہیں

    کراچی: علی حیدرگیلانی کے بعد ناصرشاہ کی آڈیو:سینیٹ الیکشن کالعدم ہوسکتے ہیں ،اطلاعات کے مطابق صوبائی وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ کی تحریک انصاف کے 4 اراکین اسمبلی کی خرید و فروخت کی مبینہ آڈیو سامنے آ گئی۔

    ذرائع کے مطابق سینیٹ الیکشن کے سلسلے میں اراکین اسمبلی کی خرید و فروخت عروج پر ہے، اب ایک آڈیو بھی سامنے آ گئی ہے جس میں علی حیدر گیلانی نے ٹیلی فون پر تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی سے وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ کی بات کروائی۔

    تہلکہ خیز آڈیو سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی سینیٹ کے لیے ووٹ مانگ رہی ہے یا خرید رہی ہے.آڈیو میں ناصر حسین شاہ تحریک انصاف کے سندھ کے ایک صوبائی پی ٹی آئی رکن سے بات کر رہے ہیں، ناصر شاہ کہہ رہے ہیں بھائیوں کے جتنے بھی کام ہیں سب میرے ذمے ہیں۔

     

     

    آڈیو میں ایک رکن وزیر اطلاعات سندھ ناصر شاہ سے کہہ رہے ہیں کہ چاروں ارکان سولڈ ہیں، اور خاندانی لوگ ہیں، ناصر شاہ جواب دیتے ہیں کہ بھائیوں کے کام میرے ذمے ہیں۔

    دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ سپریم کورٹ اس حوالے سے سخت ایکشن لے سکتی ہے اوریہ بھی امکان ہے کہ اگرالیکشن کمیشن نے اس موقع پرسپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق اورعوامی امنگوں کی ترجمانی نہ کی تو ہوسکتا ہے کہ الیکشن کالعدم ہوجائیں اوریہ بھی قوی امکان ہے کہ سپریم کورٹ الیکشن کمیشن تحلیل کرنے کا حکم بھی جاری کردے

    اس حوالے سے سوشل میڈیا پرماہرین کا یہ کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے سامنے اب ثبوت آگئے ہیں اوراگراس کے بعد الیکشن کمیشن اس کی روک تھام نہ کرسکا اورایسے شواہد مل گئے کہ پیسہ چل گیا ہے تو سینیٹ الیکشن کالعدم ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا

  • دشمن ایجنسیوں کے ناپاک ارادوں سے باخبر اور پرعزم رہنا ہوگا: آرمی چیف

    دشمن ایجنسیوں کے ناپاک ارادوں سے باخبر اور پرعزم رہنا ہوگا: آرمی چیف

    راولپنڈی: دشمن ایجنسیوں کے ناپاک ارادوں سے باخبر اور پرعزم رہنا ہوگا،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ دشمن ایجنسیاں آپریشن رد الفساد کے نتیجے میں حاصل شدہ فوائد کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں، ہمیں ان کے ناپاک ارادوں سے باخبر اور پرعزم رہنا ہوگا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جنوبی اور شمالی وزیرستان کا اہم دورہ کیا۔ کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔

    اس دورے کے موقع پر فوجی حکام کی جانب سے آرمی چیف کو بارڈر مینجمنٹ، علاقے کے استحکام کے لیے جاری آپریشنز، علاقے کی ترقی سمیت سرحدی راہداریاں کھولنے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے سربراہ نے جنوبی وزیرستان کے علاقوں آسمان منزہ اور میر علی میں مکمل دن گزارا۔ آرمی چیف نے علاقے میں سول انتظامیہ کی رٹ کے قیام کے لیے افسروں اور جوانوں کے تعاون کو بھی سراہا۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاک فوج خطے میں امن واستحکام کیلئے پرعزم ہے۔ پاک فوج قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتیں بڑھانے کیلئے کردار ادا کر رہی ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے میر علی کے قبائلی عمائدین سے بھی ملاقات کی اور دہشتگردی کیخلاف جنگ میں قبائلی عوام کی قربانیوں کو سراہا۔

    اس موقع پر اپنے خطاب میں جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر امن قائم ہو چکا ہے۔ اب قبائلی علاقوں کا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مقامی آبادی کے تعاون سے مکمل امن بحال کیا جائے گا۔

  • الیکشن کمیشن نے علی حیدر گیلانی کی ویڈیو کا نوٹس لے لیا:کیاصرف نوٹس ہی ہوگایاتبدیلی بھی آئے گی:عوم کا سوال

    الیکشن کمیشن نے علی حیدر گیلانی کی ویڈیو کا نوٹس لے لیا:کیاصرف نوٹس ہی ہوگایاتبدیلی بھی آئے گی:عوم کا سوال

    اسلام آباد : الیکشن کمیشن نے علی حیدر گیلانی کی ویڈیو کا نوٹس لے لیا:کیاصرف نوٹس ہی ہوگایاتبدیلی بھی آئے گی:عوم کا سوال ،اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کی ویڈیو کا نوٹس لے لیا۔

    پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) کے انتخابات میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے اسلام آباد سے امیدوار یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کی ووٹ ضائع کرنے کا طریقہ بتانے کی ویڈیو منظرعام پر آئی ہے۔

    ویڈیو میں علی حیدر گیلانی مبینہ طور پر ایک رکن کو ووٹ ضائع کرنے کا طریقہ بتا رہے ہیں جبکہ یہ واضح بھی نہیں کہ ویڈیو میں موجود افراد کون ہیں۔

    اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد تحریک انصاف ریفرنس دائر کرنے کیلئے الیکشن کمیشن آف پاکستان پہنچی تھی۔

    اب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے علی حیدر گیلانی کی ویڈیو کا نوٹس لے لیا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ویڈیو کی میرٹ پر تحقیقات ہوں گی۔

    خیال رہے کہ علی حیدر گیلانی کا اپنی ووٹ ضائع کرنے سے متعلق ویڈیو پر موقف سامنے آیا ہے جس کے مطابق ہم سے تحریک انصاف کے کچھ ارکان اسمبلی نے رابطہ کیا تھا ، جن کا کہنا تھا کہ وہ حفیظ شیخ کے بجائے یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دینا چاہتے ہیں۔

    دوسری طرف ملک بھرسے اہل وطن کی طرف سے الیکشن کمیشن کے نام مختلف پیغامات میں کہاجارہا ہے کہ کیا الیکشن کمیشن اتنے بڑے جرم پر خاص سیاسی جماعت یا سوچ کو بچانے کے لیے کوئی کھیل کھیلے گا یا پھرواقعی اس قوم کی امیدوں کے مطابق فیصلہ کرے گا

    یہ بھی سننے میں‌ آرہا ہے کہ اگرالیکشن کمیشن کی طرف سے قابل عبرت نوٹس نہیں لیا جاتا تو پھرچیف الیکشن کمشنرکی معذولی کےلیے تحریک چلائی جائے گی

  • اگرعمران خان ترقیاتی کاموں کےلیے50کروڑکا فنڈ دے سکتاہےتوہم یہ کام کیوں نہیں کرسکتے:علی ‌گیلانی نےتسلیم کرلیا

    اگرعمران خان ترقیاتی کاموں کےلیے50کروڑکا فنڈ دے سکتاہےتوہم یہ کام کیوں نہیں کرسکتے:علی ‌گیلانی نےتسلیم کرلیا

    لاہور:اگرعمران خان ترقیاتی کاموں کےلیے50کروڑکا فنڈ دے سکتاہےتوہم یہ کام کیوں نہیں کرسکتے:علی ‌گیلانی نےتسلیم کرلیا،اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کی طرف سے برطرف سابق وزیراعظم بیٹے علی گیلانی نے تو ڈھٹائی کی حد ہی کردی ہے

    ذرائع کے مطابق علی گیلانی نے یہ کہا ہے کہ اس سے پہلے وہ ووٹوں کی خریدو فروخت میں کبھی ملوث نہیں ہوئے ، علی گیلانی نے منظرعام پرآنے والی ویڈیو کے بارے میں کہا ہے کہ ہم نے ضمیر کا ووٹ مانگا ہے

    علی گیلانی نے یہ بھی مان لیا ہے کہ جو ویڈیو منظرعام پرآئی ہے اس ویڈیو میں تحریک انصاف کے وہ لوگ ہیں جو کے ساتھ ووٹ کی بات ہورہی تھی

    علی حیدرگیلانی نے اس موقع پر اپنی اس ویڈیو کا جواب اورجواز پیش کرتےہوئے کہا کہ وزیراعظم ارکان اسمبلی کو ترقیاتی کاموں کے لیے 50 کروڑ کا ترقیاتی فنڈ دے رہے ہیں‌ کہ وہ ووٹ کی خریدوفروخت میں نہیں آتا

    علی گیلانی نے ووٹ لینے کے حوالے سے یہ تسلیم کیا کہ یہ کوئی پہلا الیکشن نہیں،اس سے پہلے بھی انتخابی مہم چلائی ہے

    علی حیدرگیلانی اس ویڈیو کے منظرعام پرآنے کے بعد یہ بالآخریہ مان ہی لیتے ہیں کہ یہ ویڈیو میری ہی ہے لیکن میں دوستوں سے بات کررہا ہوں

    ساتھ ہی یوسف رضا گیلانی کے سیاسی جانشین علی حیدرگیلانی یہ بیان بھی داغ دیتے ہیں کہ پوری امید ہے والد جنرل نشست جیتیں گے

    ووٹوں کی خردوفروخت کے ایک سوال کے جواب میں علی حدیر گیلانی کہتےہیں‌کہ میں‌ سینیٹ انتخابات کی مہم کے سلسلےمیں بہت سے لوگوں سے ملتا رہا ہوں،

  • نظام عدل:الیکشن کمیشن اورقوم دیکھ لے کہ عمران خان قوم کی جنگ لڑرہاہے:اب بھی اگراحساس نہ ہوا توپھراللہ حافظ:شہبازگل

    نظام عدل:الیکشن کمیشن اورقوم دیکھ لے کہ عمران خان قوم کی جنگ لڑرہاہے:اب بھی اگراحساس نہ ہوا توپھراللہ حافظ:شہبازگل

    اسلام آباد:نظام عدل:الیکشن کمیشن اورقوم دیکھ لے کہ عمران خان قوم کی جنگ لڑرہاہے:اب بھی اگراحساس نہ ہوا توپھراللہ حافظ:شہبازگل نے قوم کو قوم کے نقصان سے آگاہ کردیا ہے

    اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہبازگل نے آج قوم کے سامنے پریس کانفرنس کرتےہوئے قوم کی امنگوں کوتباہ ہونے کی پوری کہانی بیان کردی

     

    شہبازگل نے قوم کو ان کے ساتھ ہونے والے سلوک سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ قوم نے دیکھ لیا کہ کون قوم کو بیچ رہا ہے اورکون اس قوم کو بچا رہا ہے

    شہبازگل نے قوم کو اپنے پیغام میں بتایا کہ یوسف رضا گیلانی کا بیٹا جس طرح ووٹ خرید رہا ہے یہ ملکی اداروں کے منہ پرطمانچہ ہے جسے یہ ادارے توبرداشت کرلیں گے لیکن قوم یہ برداشت نہیں کرے گی

    شہباز گل نے کہا کہ یوسف رضاگیلانی اوران کی اولاد کے کرائمز کو پوری قوم جانتی ہے اب اس ویڈیو کے منطرعام آنے کے بعد الیکشن کمیشن کو نوٹس لیتے ہوئے یوسف رضا گیلانی کو نااہل کیا جائے اوران کے بیٹوں کو قانون کے مطابق سخت سزادی جائے

    شہاز گل نے کہا کہ اگرپھربھی کوئی ایکشن نہیں لیتا اوراس قوم کی اقدار اورکردار کو پامال ہونے نہیں روکتے توپھراس قوم کا اللہ حافظ

    انہوں نے کہا کہ عمران خان اس قوم کی اصلاح کے لیے آیا ہے قوم کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے لیے کھڑے ہوں اورخود کو اپنی نسلوں کو بچالیں اس مافیا سے

  • سینیٹ الیکشن سے قبل خریدوفروخت کی ایک اور ویڈیو ،مگر کس کی؟  کھلبلی مچ گئی

    سینیٹ الیکشن سے قبل خریدوفروخت کی ایک اور ویڈیو ،مگر کس کی؟ کھلبلی مچ گئی

    سینیٹ الیکشن سے قبل خریدوفروخت کی ایک اور ویڈیو ،مگر کس کی؟ کھلبلی مچ گئی
    سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی حیدر گیلانی کی پاکستان تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی سے ووٹوں کی خریداری کی مبینہ ویڈیو سامنے آگئی۔

    سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی خفیہ کیمرے سے ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ علی حیدر گیلانی پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی سے ملاقات کر رہے ہیں اور ان کا ووٹ خریدنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ علی حیدر گیلانی نے پی ٹی آئی ایم این اے کو ووٹ ضائع کرنے کا طریقہ بھی بتایا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ووٹ خریدنے کی یہ ویڈیو گزشتہ ہفتے کی ہے۔

    اظیر مشوانی نے ویڈیو ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ اس ویڈیو میں آپ واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ PDM کے سینیٹ کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کا بیٹا کم از کم چار MNAs کو سینیٹ انتخابات کے لیے خرید رہا ہے بظاہر گیلانی کے ساتھ ویڈیو میں کراچی کے 2 ایم این ایز فہیم خان اور کیپٹن جمیل ہیں

    خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سینیٹ کی اسلام آباد سے نشست کیلئےاپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے مشترکہ امیدوار ہیں۔ ان کا مقابلہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار عبدالحفیظ شیخ کے ساتھ ہے۔

    قبل ازیں سینیٹ انتخابات کے شفاف انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کی نگران کمیٹی کا پہلا نوٹس سامنے آ گیا

    سینیٹ انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی قائم نگران کمیٹی نے کام شروع کر دیا الیکشن کمیشن کی کمیٹی نے سابق رکن اسمبلی لیاقت جتوئی کے بیان کا نوٹس لے لیا سیف اللہ ابڑو کے مبینہ طور پر 35 کروڑ کے عوض ٹکٹ لینے کانوٹس لے لیا کمیٹی نے لیاقت علی جتوئی کو نوٹس بھیج کر دستاویزی ثبوت طلب کر لیے الیکشن کمیشن میں نگران کمیٹی کا پہلا اجلاس ڈی جی لا کی سربراہی میں ہوا اجلاس میں اسٹیٹ بینک،نیب،ایف آئی اے ،ایف بی آر اور نادرا نمائندوں نے شرکت کی

  • کیا ایمپائر نیوٹرل ہے؟خلائی مخلوق عمران خان کو کیا پیغام دے رہی ہے۔؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    کیا ایمپائر نیوٹرل ہے؟خلائی مخلوق عمران خان کو کیا پیغام دے رہی ہے۔؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    کیا ایمپائر نیوٹرل ہے؟خلائی مخلوق عمران خان کو کیا پیغام دے رہی ہے۔؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان کی عوام کو عرصہ دراز سے بتایا جارہاہے کہ سیاسی اشرافیہ یہ ملک لوٹ کر کھا گئی ہے اور ان کا احتساب بہت ضروری ہے۔ اور اس ملک کے تمام مسائل کی جڑ صرف اور صرف کرپشن ہے جبکہ اس ملک کو مصیبت سے نکالنے کے لیئے صرف اور صرف ایماندار لیڈر شپ کی ضرورت ہے تجربہ نہ بھی ہو تو چل جائے گا کیونکہ جب اوپر سے لیڈر ایماندار ہو گا تو نیچے تک سب ایماندار ہی ایماندار ہوں گے اور دنیا اس قوم کی ایمانداری کے نغمے گائے گی۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ ہو گیا لیکن کیا یہ سچ ثابت ہوا، ہمارے ملک پر ایک ایماندار وزیر اعظم حکومت کر رہا ہے۔کیا دودھ والے نے دودھ میں پانی ملانا چھوڑ دیا ہے کیا پھل اور سبزی فروشوں نے گندی اور گلے سڑے پھل شاپر میں ڈالنے کا داو لگانا چھوڑ دیا ہے۔کیا سرکاری ملازمین عوامی خدمت میں اپنے سڑ دھڑ کی بازی لگا رہے ہیں اور اپنی تنخوا ہ کے علاوہ ایک روپیہ بھی اپنے لیئے حرام سمجھتے ہیں۔رشوت، چوری کو لوگ نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں جبکہ وکیل، صحافی، پولیس۔ ڈاکٹر اور جج بڑی ایمانداری سے کام کر رہے ہیں۔آئی ایم ایف کو ہم نے اس ملک سے دھکے دے کر نکال دیا ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں کسی بھی شخص کے بڑے اور چھوٹے ہونے کا پیمانہ اس کا رتبہ، اسکی بڑی کار اور بنگلہ نہیں رہا بلکہ اس کے خاندانی اقدار ،اخلاقیات، ایمانداری اور روایات بن چکی ہیں۔ نہیں ایسا بلکل بھی نہیں ہوا۔بلکہ لوگ مزید Confuseہو چکے ہیں۔ اور مایوسی کے اس عالم میں آج ان کی بھی باتیں غور سے سن رہے ہیں ۔جن کے والد اس ملک میں تین تین دفعہ وزیر اعظم رہ چکے ہیں ۔۔ جن کے چچا پانچ دفعہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلی۔ جن کے نانا ، جن کی امی وزیر اعظم ، جن کے ابا اس ملک کے صدر اور جن کی پارٹی کے ورکر اس ملک کے وزیر اعظم اور وزیر اعلی بنتے آ رہے ہیں۔ صحیح فیصلہ کرنے کے لیئے ضروری ہے کہ اس ملک کی عوام کے پاس صحیح معلومات بھی ہوں لیکن بدقسمتی سے اس ملک میں جتنی محنت سچ کو چھپانے کے لیئے کی جاتی ہے شاید ہی کسی اور چیز پر کی جاتی ہو۔سیاسی لیڈروں کے لیئے تقریر لکھنے والے سچ اور جھوٹ تولنے کی بجائے یہ کوشش کرتے ہیں کہ عوام کو فریب میں ڈال کر داد کیسے وصول کی جائے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی بالادستی کی جنگ لڑنے والے، ووٹ کو عزت دلوانے کی قسمیں کھانے والے، عوام کے حقوق کی جنگ لڑنے والے، سول سپر میسی کا نعرہ مارنے والے ہر وقت اس تاڑ میں رہتے ہیں کہ
    ایمپائر کی انگلی کھڑی ہے یا بیٹھی۔ایمپائر سوچ رہا ہے یا سو رہا ہے۔ ایمپائر نیوٹرل ہے یا سائیڈ مار رہا ہے۔یہ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ یہاں لیڈر خود ذمہ داری لینے کی بجائے تمام ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی ملبہ آمروں پر ڈالا جاتا ہے تو کبھی سیاسی مخالفین پر۔ کیا کبھی کسی نے یہ کہا ہے کہ یہ مسلئہ میری وجہ سے خراب ہوا ہے۔کون ہے جو موجودہ حکومت کو ادارے مضبوط کرنے سے روک رہا ہے۔کون ہے جو تحرک انصاف کو اس کے کیئے ہوئے وعدے پورے کرنے سے روک رہا ہے۔ کس نے حکمران جماعت کو روکا ہے کہ پنجاب کا وزیر اعلی اپنی پارٹی کا قابل ترین شخص ڈھونڈ کر لگائے۔ہم تو کابینہ سترہ لوگوں سے چلانے جا رہے تھے یہ آدھی سینچری کیسے ہو گئی اور اس میں سے بھی اہم وزارتوں پر کتنے اڑن کھٹولےپر بیٹھ کر آئے ہیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کہاں ہے وہ تجربہ کاروں کی ٹیم جس نے اس ملک میں انقلاب لانا تھااگر شریف خاندان کے رشتہ داروں کو حکومت میں لانے کے تانے لگ سکتے ہین تو عمران خان نے وہ جگہ اپنے دوستوں کو مشیر لگا کر کیوں دی۔ اور اگر یہ سب ٹھیک ہے تو عوام کو بھی بتا دیا جائے کہ حکومت چلانے کے لیئے یہ سب کرنا ضروری ہے اور اپوزیشن چلانے کے لیئے وہ سب باتیں کرنا ضروری تھی۔اس وقت عوام کو یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ سینٹ الیکشن اور ووٹوں کی خریدو فروخت ہے۔اپوزیشن یہ تاثر دے رہی ہے کہ یوسف رضا گیلانی اگر جیت گئے تو حکومت کے دن پورے ہو جائیں گے۔لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ خان صاحب کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ جناب تین سال پورے ہونے والے ہیں، آپ کا احتساب کا بیانیہ دفن ہو چکا ہے، لوگ مہنگائی اور بے روزگاری کی صورت میں آپ سے تنگ ہیں اور عوام کی بیزارئ دیکھتے ہوئے آپ کے ارکان اسمبلی بھی پریشان ہیں کیونکہ ان کی آپ میں دلچسپی اس وقت تک قائم ہے جب تک عوام کی عمران خان میں دلچسپی قائم ہے۔ سیاسی ماحول دیکھ کر پارٹی کا فیصلہ کرنے والے درجنوں صدا بہار MNA. MPA’sاپنا بیگ تھامے اشارے کے لیئے تیار ہیں۔
    خان صاحب یہ سارا کھیل اس لیئے رچایا جا رہا ہے کہ آپ کو یہ اندازہ ہو کہ آپ اب پہلے جیسے مقبول نہیں رہے۔ اور آپ کی باتوں کو لوگوں نے کتابی باتیں کہنا شروع کر دیا ہے جو سننے میں تو بہت اچھی ہیں لیکن کسی ایک پر بھی آج تک عمل ممکن نہیں ہو سکا۔ عوام آپ کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں اور اگر ایمپائر بھی چھوڑ گئے تو بڑا مسئلہ ہو جائے گا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایک دم سے کیا وجہ ہے پی ڈی ایم کے لوگ بھی قسمیں کھا رہے ہیں کہ ایمپائر نیوٹرل ہو گئے ہیں۔بلاول کہتے ہیں اب پیپلز پارٹی کے ایم این ایز کو فون نہیں آ رہے۔ 12ایم این ایز گیلانی صاحب سے ن لیگ کی ٹکٹ کے بدلے ووٹ دینے کے لیئے تیار ہیں۔خان صاحب سارے نام نہاد کرپٹ سیاسی قیدیوں کو ایک ایک کر کے ضمانت دی جا رہی ہے تاکہ آپ کو یہ پتا چلے کہ نہ تو ایسے احتساب ہو گا اور نہ ہی ایسے آٹھارویں ترمیم جیسے مسائل حل ہو گے، نہ ہی آپ کو سینٹ میں اکثریت ملے گی اور نہ ہی قانون سازی کے لیئے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت۔خان صاحب آپ کو یہ بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ سمیت اپوزیشن اس ملک کی سیاسی حقیقت ہیں۔احتساب کا بیانیہ مشرف کے دور میں ہی دفن ہو گیا تھا لیکن آپ اس سے جتنا فائدہ اٹھا سکتے تھے وہ اٹھا چکے اب اسے ووٹ کو عزت دو کےساتھ دفن کریں اور ملک میں خوشحالی، ترقی۔ روزگار اور معاشی ترقی کے بیانیے پر سوار ہو جائیں۔خان صاحب یہ سب کچھ آپ کو یہ یقین دلوانے کے لیئے کیا جا رہا ہے کہ ملکی ترقی کے لیئے نیا سیاسی اتحاد بنانا پڑے گا، اپ کو غیر مقبول مگر حقیقت پر مبنی مشوروں پر کان دھرنے پڑیں گے۔خان صاحب یہ سب کچھ اس لیئے بھی کیا جا رہا ہے کہ آپ کو آئینہ دیکھایا جائے کہ آپ کی عوامی مقبولیت میں ایک دم سے بیس سال بعد کیوں اضافہ ہو گیا تھا،یہ مقبولیت خود بہ خود آپ کی جھولی میں آگری تھی یا ڈالی گئی تھی۔ جب تک آپ کی غلط فہمیاں دور نہیں ہو جاتی آپ پر مصیبتوں کے پہاڑ ہر روز کہیں نہ کہیں سے گرتے رہیں گے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جنہوں نے اپوزیشن کے منت ترلے کر کے دو بجٹ پاس کروائے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تیسرے بجٹ سے پہلے آپ کی اپنی آنکھیں کھل جائیں اور آپ اپنے بل بوتے پر اسے پاس کروانے کی کوشش کریں ورنہ اس بجٹ کے پاس ہوئے بغیر آپ کی اپنی تنخواہ بھی رک جائے گی۔ملکی تاریخ میں پہلی دفعہالیکشن کمیشن کی غیرت جاگ چکی ہے، اس نے کسی بھی قسم کے دباو میں آنے سے انکار کرتے ہوئے دھاندلی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے اسی لیئے اپوزیشن کو ڈسکہ الیکشن میں ان کی امید سے زیادہ مل گیا۔ سپریم کورٹ کی طرف سے آپ کو سینٹ میں سیکرٹ بیلٹ سمیت کئی پیغامات مل چکے ہیں۔ ق لیگ اور ایم کیو ایم بھی آپ کو اشارے کناروں میں بتا رہے ہیں کہساڈھے تے نہ رہنا۔۔۔ تے ۔۔۔ جاگ دے رہنا۔اس سارے کھیل کے بعد جو اہم رزلٹ نکلنے کی امید کی جا سکتی ہےاس میں پیپلز پارٹی کی طاقت میں اضافہ ،عمران خان کی کافی ساری غلط فہمیاں دور ہو سکتی ہیں، حکومت کے پانچ سال پورے ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں اور اگلے پانچ سال کے انتہائی معدوم ہو سکتے ہیں۔مولانا اور ن لیگ کو ریلیف کے ساتھ ساتھ اگلے الیکشن میں حصے کی یقین دہانیاں ملیں گی۔ اور عوام کو تسلیاں۔۔ کیا تین مارچ کے بعد عوام کے وسیع تر مفاد میں حکومت سیکرٹ بیلیٹنگ کے معاملے کو اسی جانفشانی کے ساتھ آگے بڑھائے گی جتنا وہ اس سینٹ الیکشن میں اپنی سیٹیں بچانے کے لیئے بڑھا رہی تھی۔تین مارچ کے بعد اب عوام کو کیا 26
    مارچ لانگ مارچ کا نیا لالی پاپ دیا جائے گا، ایک شو ختم ہونے سے پہلے دوسرے شو کی بکنگ شروع ہو چکی ہے۔ہر روز حکومت پر قہر ٹوٹنے کا ماحول اس وقت تک جارہی رہے گا جب تک حکومت کی غلط فہمیاں یا خوش فہمیاں دور نہیں ہو جاتی۔ اور اس کے ساتھ ہی گیلانی صاحب چیئرمین سینٹ بن کر پی ڈی ایم اور حکومت کے تابوت میں آخری کیل ٹھوک دیں گے ۔ اس وقت دیکھاو کچھ۔۔ اور۔۔ کرو کچھ کا کھیل جاری ہے۔ سیاسی اتحاد بے یقینی کی کیفیت میں ایک دوسرے کا انتہائی مشکوک حالت میں ساتھ دے رہے ہیں ۔ جو ان کی اپنی قبر کھودنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اور فطرت کے خلاف ایک دوسرے سے یہ توقع کر رہے ہیں کہ شائد دوسرا ان کے لیئے کوئی قربانی دے اور انہیں کوئی سیاسی فائدہ پہنچاے۔خان صاحب اگر ہم ایک لمحہ کے لیئے یہ سوچ بھی لیں کہ آپ حق پر ہیںآپ باد مخالف سے گھبرانے والے نہیں ہیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آ پ کو سب روائیتی سیاست کرنے پر مجبور کر رہے ہیں، آپ کو اس ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیئے غیر مقبول فیصلے کرنے پڑیں گے تب ہی کچھ بنے گا تو برائے مہربانی ہمیں بتائیں کہ ۔
    آپ نے تعلیم کا نظام ٹھیک کرنے کے لیئے کیا فیصلہ کیا ہے۔ یکساں نظام تعلیم کے نعرے کے علاقہ کوئی ایک پالیسی جو اس قوم کے جوانوں کی تقدیر بدل سکتی ہو۔ اور مڈل کلاس کو بھاری بھرکم فیس بلوں سے بچا سکتی ہو۔
    پنجاب پولیس کو ٹھیک کرنا تھا اس کی اصلاحات کا کیا بنا۔؟کیا صحت کے شعبے میں کوئی تبدیلی آئی یا اگلے چند سالوں میں آنے کی امید ہے۔؟کیا قرضے اور سرکلر ڈیبٹ میں کوئی کمی آئی یا آنے کی امید ہے۔؟
    کیا بے روزگاری میں کوئی کمی آئی یا آنے کی امید ہے؟کیا کرپشن میں کوئی کمی آئی یا آنے کی امید ہے۔؟کیا پاکستان کے سفید ہاتھی سمجھے جانے والےکسی ایک بھی ادارے کو بہتر کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔؟ یا کامیابی کی کوئی دور دور تک امید ہے۔؟خان صاحب جب آپ اقتدار میں نہیں آئے تھے تو اس وقت اس قوم کے پاس ایک امید تھی لیکن بدقسمتی سے اب وہ امید بھی ہم کھو رہے ہیں۔ ترقی نہ سہی مستقبل میں حالات ٹھیک ہونے کی مدلل امید ہی دلوا دیں۔۔؟کم سے کم وہ پلاننگ ہی قوم کے سامنے لے آئیں جو آپ نے اقتدار میں آنے سے پہلے کی ہوئی تھئ جس سے نوے دن میں تبدیلی آنا تھا۔ اگر نہیں تو پھر آپ نے جو اس قوم سے سچ بولنے کی قسم کھائی تھی اس کی لاج رکھیں اور سچ بولتے ہوئے اس قوم کو گھبرانے کی اجازت دیں۔ تاکہ ان کے اندر ہی اندر ، ناکامی اور مایوسی کا لاو ا نہ پکے۔ اللہ تعالی ہمیں حق سننے اور کہنے کی طاقت دے ، آئندہ تک کے لیئے اجازت دیجئے ۔ اللہ حافظ۔

  • ناراضگی اپنی جگہ مگربہترپاکستان کےلیےپاکستان تحریک انصف ہی آخری امید ہے:یارمحمد رندنےمیلہ لوٹ لیا

    ناراضگی اپنی جگہ مگربہترپاکستان کےلیےپاکستان تحریک انصف ہی آخری امید ہے:یارمحمد رندنےمیلہ لوٹ لیا

    کوئٹہ :ناراضگی اپنی جگہ لیکن بہترپاکستان کے لیے پاکستان تحریک انصف ہی آخری امید ہے:یار محمد رند نےمیلہ لوٹ لیا ،اطلاعات کے مطابق سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی نے پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے پارلیمانی لیڈر، وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی اور وزیر تعلیم بلوچستان سردار یار محمد رند سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔

    ملاقات میں ملکی مجموعی سیاسی صورتحال اور سینیٹ انتخابات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔صادق سنجرانی پی ٹی آئی رہنما سردار یار محمد رند کو منانے میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے ان کے بیٹے کو دستبردار کرانے میں راضی کرلیا۔

    اس موقع پرسردار یارمحمد رند نے کہا کہ ناراضگیاں اپنوں سے ہی ہوتی ہیں اورناراضگی کا مقصد معاملات کوبہتری کی طرف لے کرجانا تھا ،

    سردار یارمحمد رند نے کہا کہ میں پھر کہتا ہوں کہ بہترپاکستان کے لیے پاکستان تحریک انصاف ہی آخری امید ہے ، اس لیےپاکستان کی خاطرتمام ناراضگیاں ایک طرف لیکن پاکستان کی ترقی کے اس سفر کو لیکر آگے بڑھنے میں پیچھے نہیں ہٹوں گا

    خیال رہے کہ یار محمد رند کے بیٹے نے ٹکٹ نہ ملنے پر جنرل نشست پربطور آزاد امیدوار کاغذات جمع کرائے تھے۔

  • فتح ہماری ہوگی،سینیٹ انتخابات سے ایک روز قبل وزیراعظم کا اعلان

    فتح ہماری ہوگی،سینیٹ انتخابات سے ایک روز قبل وزیراعظم کا اعلان

    فتح ہماری ہوگی،سینیٹ انتخابات سے ایک روز قبل وزیراعظم کا اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کی جانب سےحکومتی اتحادی ارکان کےاعزاز میں ظہرانہ دیا گیا

    ظہرانے میں پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کے اراکین اسمبلی نے شرکت کی ،تمام اراکین نے حفیظ شیخ کی حمایت کا اعلان کردیا

    وزیراعظم عمران خان نے خوشگوارماحول میں اتحادیوں سے گفتگو کی،تمام اتحادی جماعتوں نے وزیراعظم عمران خان پر اعتماد کا اظہار کیا،

    اس موقع پر وزیراعظم عمران‌ خان کا کہنا تھا کہ ایک طرف پورا مافیا کھڑا ہے ،ہم نظام میں تبدیلی لا رہے ہیں،لوٹ مارکا بازارختم کر کے غریب کے حالات بہترکرنا چاہتے ہیں،سینیٹ ہو یا قومی اسمبلی ترجیح عوامی مفاد ہے،ایک طرف پورا مافیا کھڑا ہے،اسٹیٹس کو اور مافیا کو شکست دینا ہے،انشااللہ فتح ہماری ہوگی ، سینیٹ ہماری آواز ہے، حفیظ شیخ کامیاب ہوں گے،اس بار سینیٹ میں ہماری تعداد زیادہ ہوگی،

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جب ہار کا خوف آجائے تو جیتنے کا موقع ضائع ہوجاتا ہے، جیت اور ہارکی حکمت عملی میں فرق ہوتاہے،جیتنا ہو تو ٹیم سلیکشن اور مائنڈ سیٹ ہی کچھ اور ہوتا ہے،

    دوسری جانب انتخابی مہم کا وقت ختم ہوگیا، سینیٹ انتخابات کیلئے کل میدان لگے گا۔ الیکشن کمیشن نے وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی مہم ختم ہونے کے بعد سیاسی سرگرمیاں غیر قانونی ہوں گی، خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

    اوپن بیلٹ سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت ملتوی، عدالت کا بڑا حکم

    مردوں سے دوقدم آگے بڑھ کریہ کام کرنا ہے، مریم نواز نے خواتین رہنماؤں کو دیئے مشورے

    سب سن لیں،مریم پارٹی کو لیڈ کررہی ہیں،رانا ثناء اللہ، نواز شریف کو بھی دیا مشورہ

    عمران خان اور انکے ساتھی جو الفاظ استعمال کررہے ہیں وہ کشیدگی بڑھا رہی ہے ،قمر زمان کائرہ

    پی ڈی ایم کی تحریک کامیابی کی جانب بڑھنا شروع،حکومتی حلقوں میں تہلکہ

    استعفے لینے والوں کو دینے پڑ گئے، پی ڈی ایم سے پہلا استعفیٰ آ گیا،رکن اسمبلی مستعفی

    سیاسی جلسے جلسوں پر پابندی،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

    مریم نواز نکلیں گی، ہم ہر صورت یہ کام کریں گے، مریم اورنگزیب کا چیلنج

    پی ڈی ایم کو بڑا دھچکا،حکومت نے ایسا کام کر دیا کہ پی ڈی ایم کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا

    سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کا معاملہ،رضا ربانی بھی عدالت پہنچ گئے

    سینیٹ انتخابات کیسے ہوں گے؟ سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

    سینیٹ انتخابات، سپریم کورٹ کے فیصلے پر حکومتی ردعمل آ گیا

    سینیٹ انتخابات میں شبلی فراز نہیں بلکہ کس کو ووٹ ملیں گے؟ شبلی فراز نے سچ بتا دیا

    سینیٹ الیکشن، اپوزیشن کی دو پارٹیوں کی جانب سے تحریک انصاف کے اراکین کو خریدنے کی کوشش

    سینیٹ انتخابات، پنجاب کی طرح باقی صوبوں میں بھی سیٹلمنٹ جاری،وفاقی وزیر کا اہم انکشاف

    سینیٹ انتخابات،مسلم لیگ ن خفیہ بیلٹ کے حق میں ہی تھی،ن لیگی رہنما بول پڑے

    واضح رہے کہ رہے قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اپنی 157 نشستیں ہیں، اتحادیوں میں ایم کیو ایم کی 7، مسلم لیگ ق کی اور بی اے پی کی 5، 5 جی ڈی اے کی 3، شیخ رشید کی آل پاکستان مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کی 1، 1 نشست جبکہ 1 آزاد امیدوا اسلم بھوتانی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس طرح پاکستان تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں 180 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

    دوسری طرف متحدہ اپوزیشن کی جماعتوں میں سے مسلم لیگ ن کی 83، پیپلزپارٹی کی 55، متحدہ مجلس عمل پاکستان کی 15، اے این پی اور جماعت اسلامی کی 1،1 نشست جبکہ 3 آزاد امیدواروں کا ساتھ بھی حاصل ہے۔ متحدہ اپوزیشن کے مجموعی اراکین کی تعداد 161 بن جاتی ہے۔ یوں وفاق کی جنرل نشست پر اپوزیشن کو جیتنے کے لئے حکومتی اتحاد میں سے 10 ووٹ توڑنے ہوں گے۔

    اس وقت قومی اسمبلی کا ایوان 341 اراکین پر مشتمل ہے، اگر تمام ووٹ کاسٹ ہوتے ہیں تو جیتنے والے امیدوار کو 171 ووٹ درکارہوں گے۔ اگر تمام ووٹ کاسٹ نہیں ہو پاتے تو کاسٹ ووٹوں میں سے 51 فیصد ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار فاتح قرار پائے گا

  • بلاول بلاتا رہا، مریم کا انکار، فون پر منتیں، مریم کیوں نہ مانیں؟

    بلاول بلاتا رہا، مریم کا انکار، فون پر منتیں، مریم کیوں نہ مانیں؟

    بلاول بلاتا رہا، مریم کا انکار، فون پر منتیں، مریم کیوں نہ مانیں؟
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نواز سے رابطہ کیا ہے

    بلاول بھٹو نے مریم نواز کو عشائیہ میں شریک ہونے کی دعوت دی، مریم نواز بیٹی کی سالگرہ کے باعث عشائیہ میں شریک نہیں ہو رہیں بلاول بھٹو نے مریم نواز کو شرکت یقینی بنانے کی درخواست کی،مریم نواز نے عشایئے میں شریک ہونے بارے یقین دہانی نہیں کروائی

    دوسری جانب ن لیگی رہنما حمزہ شہباز عشائیے میں شریک ہوں گے، حمزہ شہباز بلاول بھٹو کے عشائیہ میں شرکت کے لیے اسلام آباد روانہ ہو گئے ،بلاول زرداری نے آج پی ڈی ایم رہنماؤں کو عشائیے میں مدعو کیا ہے، عشایئے میں سینیٹ الیکشن کے حوالہ سے بھی مشاورت ہو گی اور سید یوسف رضا گیلانی کی کامیابی اور ووٹ دلوانے کے لئے حتمی لائحہ عمل طے ہو گا

    سینیٹ الیکشن، اپوزیشن کی دو پارٹیوں کی جانب سے تحریک انصاف کے اراکین کو خریدنے کی کوشش

    سینیٹ انتخابات، پنجاب کی طرح باقی صوبوں میں بھی سیٹلمنٹ جاری،وفاقی وزیر کا اہم انکشاف

    سینیٹ انتخابات،مسلم لیگ ن خفیہ بیلٹ کے حق میں ہی تھی،ن لیگی رہنما بول پڑے

    سینیٹ انتخابات کیسے ہوں گے؟ الیکشن کمیشن نے اعلان کر دیا

    جب ہار کا خوف آجائے تو جیتنے کا موقع ضائع ہوجاتا ہے،وزیراعظم سینیٹ الیکشن جیتنے کیلئے پرعزم

    وزیراعظم پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے، اہم شخصیات سے ملاقاتیں

    واضح رہے کہ رہے قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اپنی 157 نشستیں ہیں، اتحادیوں میں ایم کیو ایم کی 7، مسلم لیگ ق کی اور بی اے پی کی 5، 5 جی ڈی اے کی 3، شیخ رشید کی آل پاکستان مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کی 1، 1 نشست جبکہ 1 آزاد امیدوا اسلم بھوتانی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس طرح پاکستان تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں 180 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

    دوسری طرف متحدہ اپوزیشن کی جماعتوں میں سے مسلم لیگ ن کی 83، پیپلزپارٹی کی 55، متحدہ مجلس عمل پاکستان کی 15، اے این پی اور جماعت اسلامی کی 1،1 نشست جبکہ 3 آزاد امیدواروں کا ساتھ بھی حاصل ہے۔ متحدہ اپوزیشن کے مجموعی اراکین کی تعداد 161 بن جاتی ہے۔ یوں وفاق کی جنرل نشست پر اپوزیشن کو جیتنے کے لئے حکومتی اتحاد میں سے 10 ووٹ توڑنے ہوں گے۔

    اس وقت قومی اسمبلی کا ایوان 341 اراکین پر مشتمل ہے، اگر تمام ووٹ کاسٹ ہوتے ہیں تو جیتنے والے امیدوار کو 171 ووٹ درکارہوں گے۔ اگر تمام ووٹ کاسٹ نہیں ہو پاتے تو کاسٹ ووٹوں میں سے 51 فیصد ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار فاتح قرار پائے گا