Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سینیٹ الیکشن کے مکمل نتائج آگئے:پی ٹی آئی 18،اتحادی11:پی پی 8:ن لیگ5 دیگرپی ڈی ایم اتحادی6:سیٹیں لینے میں کامیاب

    اسلام آباد:سینیٹ الیکشن کے مکمل نتائج آگئے:پی ٹی آئی 18،اتحادی11:پی پی 8:ن لیگ5 دیگرپی ڈی ایم اتحادی6:سیٹیں لینے میں کامیاب، اطلاعات کے مطابق سینیٹ الیکشن کی 48 نشستوں کے مکمل نتائج آگئے ہیں

    قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں خفیہ بیلٹ کے ذریعے ووٹنگ ہوئی۔ اسلام آباد کی 2 نشستوں میں‌ سے ایک پی ڈی ایم اتحاد اورایک پی ٹی آئی جیتنے میں کامیاب رہی ، سندھ اسمبلی کی 11 میں سے 7 پی پی 2 پی ٹی آئی اوردوہی ایم کیوایم نے حاصل کی ہیں‌

    خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی 12 میں سے 10 سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی ، جبکہ دو سیٹیں پی ڈی ایم اتحادی لینے میں کامیاب رہے

    بلوچستان کی 12 میں سے 7 بلوچستان عوامی پارٹی ، دو جے یو آئی ایف ، دو بلوچستان نیشنل پارٹی جبکہ ایک آزاد امیدوار کامیاب ہوا ہے

    دوسری طرف قانونی اورآئینی ماہرین کہتے ہیں کہ بظاہر تو یوسف رضاگیلانی کی سیٹ پرملک بھرمیں بہت زیادہ شورشرابہ تھا ، تاہم جب سینیٹ کی بات ہوگی تو ان کا ایک ہی ووٹ ہے جو تصورکیا جائے گا اس لیے کوئی خاص اچنبہ نہیں ہے

    یہ بھی کہا جارہا ہے کہ عمران خان کی پی ٹی آئی حکومت کوسینیٹ میں مزید نشتیں ملنے سے اب پوزیشن ماضی کی نسبت بہتر ہوگئی ہے

  • حکومت نے یوسف گیلانی کی فتح کا نتیجہ چیلنج کرنے کا اعلان کردیا

    حکومت نے یوسف گیلانی کی فتح کا نتیجہ چیلنج کرنے کا اعلان کردیا

    اسلام آباد:حکومت نے یوسف گیلانی کی فتح کا نتیجہ چیلنج کرنے کا اعلان کردیا،اطلاعات کے مطابق حکومت نے سینیٹ انتخابات میں یوسف رضا گیلانی کی جیت کو چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔

    وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گِل کا کہنا تھاکہ غیر حتمی طور پر 7 ووٹ مسترد ہوئے ہیں اور 5 ووٹ کا فرق ہے۔

    انہوں نے اعلان کیا کہ ابھی اس نتیجہ کو چیلنج کریں گے۔

     

    خیال رہے کہ اسلام آباد کی جنرل نشست پر قومی اسمبلی میں ووٹنگ ہوئی جس میں اپوزیشن امیدوار سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کامیاب قرار پائے۔

    حکومت کی جانب سے دوبارہ ووٹنگ کرائی گئی تاہم دوبارہ ووٹنگ میں بھی یوسف رضا گیلانی کامیاب قرار پائے۔

    یوسف رضا گیلانی حفیظ شیخ کو پانچ ووٹوں سے شکست دے کر اسلام آباد سے سینیٹر منتخب ہوگئے۔

  • اک زرداری سب پر بھاری، پی ٹی آئی شکست

    اک زرداری سب پر بھاری، پی ٹی آئی شکست

    ینیٹ الیکشن میں پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی نے عبدالحفیظ شیخ کو شکست دیدی ہے۔

    عبدالحفیظ شیخ اور یوسف رضا گیلانی کے درمیان مقابلے کو ہی اپوزیشن اور حکومت کے درمیان سب سے بڑا اور اہم مقابلہ قرار دیا جا رہا تھا۔

    سینیٹ کی 37 خالی نشستوں پر انتخابات کے لئے پولنگ پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخواکی صوبائی اسمبلیوں میں ہوئی۔ پولنگ کا عمل صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہا۔

    قومی اسمبلی میں رکن اسمبلی شفیق آرائیں نے پہلا ووٹ جبکہ اس کے بعد فیصل واوڈا نے ووٹ ڈالا۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھی اپنا ووٹ ڈالا جنہوں نے اسمبلی ہال میں آمد کے دوران پاکستان تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے ارکانِ قومی اسمبلی کے ساتھ ملاقات بھی کی۔

    وفاقی دارالحکومت میں پاکستان تحریک انصاف کے عبدالحفیظ شیخ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سید یوسف رضا گیلانی جنرل نشست پر انتخاب لڑ رہے تھے جبکہ خواتین کی نشست پر پاکستان تحریک انصاف کی فوزیہ ارشد اور پاکستان مسلم لیگ ن کی فرزانہ کوثر مدِمقابل آئیں۔

  • یوسف رضا گیلانی کامیاب:اسلام آباد کا نتیجہ آگیا

    یوسف رضا گیلانی کامیاب:اسلام آباد کا نتیجہ آگیا

    اسلام آباد:یوسف رضا گیلانی کامیاب:اسلام آباد کا نتیجہ آگیا اسلام آباد نے نقشہ ہے بدل دیا ،اطلاعات کے مطابق اسلام آباد سے اپوزیشن اتحاد کے یوسف رضا گیلانی کامیاب ہوگئے ہیں‌

    اطلاعات کے مطابق سینیٹ الیکشن کا معرکہ ، پولنگ کا وقت ختم ہوگیا، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں خفیہ بیلٹ سے ووٹنگ ہوئی۔

    سینیٹ الیکشن کےنتائج آنا شروع ہوگئے ہیں

    قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے مولانا عبدالاکبرچترالی کے سوا تمام 340 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیے۔ بیلٹ پیپر پر دستخط کی وجہ سے شہریار آفریدی کا ووٹ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

    دوسری طرف قومی اسمبلی میں ڈالے گئے ووٹوں میں سے 7 کو الگ کردیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق الگ کیے گئے 7 ووٹوں کے مشکوک ہونے کا امکان ہے۔

    بلوچستان اسمبلی میں تمام 65 اراکین نے ووٹ ڈال دیے۔ سندھ اسمبلی میں 168 میں سے 167 اراکین نے ووٹ ڈالا، جماعت اسلامی کے رکن عبدالرشید نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔

    خیبرپختونخوا میں پولنگ سست روی کا شکار رہی اور وہاں ایک گھنٹہ تاخیر سے تمام 145 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیے۔سینیٹ کی 37 نشستوں پر الیکشن کے لیے صبح 9 بجے سے 5 بجے تک پولنگ جاری رہی۔

    الیکشن کمیشن کے اسٹاف نے اسمبلیوں کا کنٹرول سنبھالا ہوا تھا، قومی اسمبلی کے عملے کا ایوان میں داخلہ بند تھا اور ہال میں صرف الیکشن کمیشن کے عملے اور ارکان ووٹر کو داخلے کی اجازت تھی جب کہ میڈیا کے بھی پریس گیلری میں فون لے جانے پر پابندی عائد تھی۔

    پولنگ کے آغاز پر قومی اسمبلی میں ریٹرننگ افسر نے ووٹ کاسٹ کرنے سے متعلق اعلان کیا اور ووٹ مسترد تصور ہونے سے متعلق بھی بتایا۔ریٹرننگ افسر ظفر اقبال نے کہا کہ خفیہ ووٹنگ کے ذریعے انتخاب ہو رہا ہے ، کوئی بھی شخص ووٹ پر نشان درج نہ کرے ورنہ ووٹ مسترد ہو جائے گا جب کہ دو لوگوں کو پہلی ترجیح دینے پر بھی ووٹ مسترد ہو جائے گا۔

    دوسری طرف غیرسرکاری نتیجے کے مطابق سینیٹ انتخابات میں بلوچستان سے آزاد امیدوار عبدالقادر کامیاب ہوگئے ہیں۔بلوچستان سے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کےامیدوار مولاناعبدالغفورحیدری بھی کامیاب ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے امیدوار محمد قاسم بھی کامیاب قرار پائے ہیں۔

    ادھر اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ سینیٹ کے الیکشن کے لیے قومی اسمبلی میں پہلا ووٹ پی ٹی آئی کے میاں شفیق آرائیں اور دوسرا ووٹ وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کاسٹ کیا۔

    سندھ اسمبلی میں سب سے پہلا ووٹ میر شبیر بجارانی نے کاسٹ کیا۔

    خیبرپختونخوا اسمبلی میں سینیٹ الیکشن کے لیے پہلا ووٹ جے یو آئی (ف) کے رکن ہدایت الرحمان نے کاسٹ کیا۔

    بلوچستان اسمبلی میں سینیٹ انتخابات کے لیے پہلا ووٹ صوبائی وزیر آبپاشی نوابزادہ طارق مگسی نے کاسٹ کیا۔

    سینیٹ انتخابات کا سب سے دلچسپ اور بڑا معرکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جنرل نشست پر ہےجہاں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔

    حکومتی اتحاد کے پاس 181 جب کہ اپوزیشن نشستوں پر موجود جماعتوں کے پاس 160 نشستیں ہیں۔

    یاد رہے کہ پنجاب کی تمام 11نشستوں پر امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں جب کہ آج اسلام آبادکی 2، خیبر پختونخوا کی 12، سندھ کی 11 اور بلوچستان کی 12 نشستوں پر ووٹ ڈالے گئے۔

  • سینیٹ الیکشن، قومی اسمبلی میں 7 مشکوک ووٹ الگ :کے پی میں سازش یا منافقت معاملہ بگڑگیا

    سینیٹ الیکشن، قومی اسمبلی میں 7 مشکوک ووٹ الگ :کے پی میں سازش یا منافقت معاملہ بگڑگیا

    اسلام آباد : سینیٹ الیکشن، قومی اسمبلی میں 7 مشکوک ووٹوں کو الگ کردیا گیا،اطلاعات کے مطابق سینیٹ الیکشن کا معرکہ ، پولنگ کا وقت ختم ہوگیا، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں خفیہ بیلٹ سے ووٹنگ ہوئی۔

    سینیٹ الیکشن کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا، ایوان بالا کی 37 نشستوں کا فیصلہ ہونے میں کچھ دیر کا مزید انتظار ہے۔اسلام آباد کی 2 نشستوں، سندھ اسمبلی کی 11 ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان اسمبلی کی 12،12 نشستوں پر امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کچھ دیر میں ہوگا۔

    قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے مولانا عبدالاکبرچترالی کے سوا تمام 340 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیے۔ بیلٹ پیپر پر دستخط کی وجہ سے شہریار آفریدی کا ووٹ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

    دوسری طرف قومی اسمبلی میں ڈالے گئے ووٹوں میں سے 7 کو الگ کردیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق الگ کیے گئے 7 ووٹوں کے مشکوک ہونے کا امکان ہے۔

    بلوچستان اسمبلی میں تمام 65 اراکین نے ووٹ ڈال دیے۔ سندھ اسمبلی میں 168 میں سے 167 اراکین نے ووٹ ڈالا، جماعت اسلامی کے رکن عبدالرشید نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔

    خیبرپختونخوا میں پولنگ سست روی کا شکار رہی اور وہاں ایک گھنٹہ تاخیر سے تمام 145 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیے۔سینیٹ کی 37 نشستوں پر الیکشن کے لیے صبح 9 بجے سے 5 بجے تک پولنگ جاری رہی۔

    الیکشن کمیشن کے اسٹاف نے اسمبلیوں کا کنٹرول سنبھالا ہوا تھا، قومی اسمبلی کے عملے کا ایوان میں داخلہ بند تھا اور ہال میں صرف الیکشن کمیشن کے عملے اور ارکان ووٹر کو داخلے کی اجازت تھی جب کہ میڈیا کے بھی پریس گیلری میں فون لے جانے پر پابندی عائد تھی۔

    پولنگ کے آغاز پر قومی اسمبلی میں ریٹرننگ افسر نے ووٹ کاسٹ کرنے سے متعلق اعلان کیا اور ووٹ مسترد تصور ہونے سے متعلق بھی بتایا۔ریٹرننگ افسر ظفر اقبال نے کہا کہ خفیہ ووٹنگ کے ذریعے انتخاب ہو رہا ہے ، کوئی بھی شخص ووٹ پر نشان درج نہ کرے ورنہ ووٹ مسترد ہو جائے گا جب کہ دو لوگوں کو پہلی ترجیح دینے پر بھی ووٹ مسترد ہو جائے گا۔

    دوسری طرف غیرسرکاری نتیجے کے مطابق سینیٹ انتخابات میں بلوچستان سے آزاد امیدوار عبدالقادر کامیاب ہوگئے ہیں۔بلوچستان سے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کےامیدوار مولاناعبدالغفورحیدری بھی کامیاب ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے امیدوار محمد قاسم بھی کامیاب قرار پائے ہیں۔

    ادھر اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ سینیٹ کے الیکشن کے لیے قومی اسمبلی میں پہلا ووٹ پی ٹی آئی کے میاں شفیق آرائیں اور دوسرا ووٹ وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کاسٹ کیا۔

    سندھ اسمبلی میں سب سے پہلا ووٹ میر شبیر بجارانی نے کاسٹ کیا۔

    خیبرپختونخوا اسمبلی میں سینیٹ الیکشن کے لیے پہلا ووٹ جے یو آئی (ف) کے رکن ہدایت الرحمان نے کاسٹ کیا۔

    بلوچستان اسمبلی میں سینیٹ انتخابات کے لیے پہلا ووٹ صوبائی وزیر آبپاشی نوابزادہ طارق مگسی نے کاسٹ کیا۔

    سینیٹ انتخابات کا سب سے دلچسپ اور بڑا معرکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جنرل نشست پر ہےجہاں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔

    حکومتی اتحاد کے پاس 181 جب کہ اپوزیشن نشستوں پر موجود جماعتوں کے پاس 160 نشستیں ہیں۔

    یاد رہے کہ پنجاب کی تمام 11نشستوں پر امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں جب کہ آج اسلام آبادکی 2، خیبر پختونخوا کی 12، سندھ کی 11 اور بلوچستان کی 12 نشستوں پر ووٹ ڈالے گئے۔

    دوسری طرف کے پی میں کل 14 ووٹ مسترد ہوئے ہیں جن میں 11 ووٹ حکمران جماعت پی ٹی آئی کے اراکین کے ہیں‌، جس پرعمران خان نے سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے

  • بلوچستان سےآزادممبرعبدالقادر،سندھ سے پی پی کے شہادت اعوان،جے یوآئی کے غفورحیدری سینیٹرمنتخب ہوگئے ہیں‌

    بلوچستان سےآزادممبرعبدالقادر،سندھ سے پی پی کے شہادت اعوان،جے یوآئی کے غفورحیدری سینیٹرمنتخب ہوگئے ہیں‌

    کوئٹہ:بلوچستان سے آزاد ممبرعبدالقادرجیت گئے،اطلاعات کے مطابق بلوچستان سے وہ امیدوار کامیاب ہوگئے جسے عمران خان نے پہلے پسند کیا تھا مگرپھرٹکٹ واپس لے لیا گیا ہے

    ذرائع کے مطابق عبدالقادر کو سینیٹ انتخابات میں بلوچستان اسمبلی میں پولنگ کاعمل مکمل ہوگیا ہے جس میں تمام 65 اراکین نے ووٹ کاسٹ کیے ہیں۔

    غیر سرکاری نتیجےکے مطابق آزاد امیدوار عبدالقادر بلوچستان سے جنرل نشست پر سینیٹر منتخب ہوگئے ہیں، ذرائع کے مطابق انہیں بلوچستان عوامی پارٹی(بی اے پی) کی حمایت حاصل تھی۔

    خیال رہےکہ پہلے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عبدالقادر کو سینیٹ کا ٹکٹ دیا گیا تھا تاہم پی ٹی آئی میں اندرونی مخالفت کے بعد ان سے ٹکٹ واپس لے لیا گیا تھا۔

    سندھ سے پیپلزپارٹی کے شہادت اعوان بھی سینیٹرمنتخب ہوچکے ہیں‌
    اس کے علاوہ بلوچستان سے جمعیت علمائے اسلام کے سیکرٹری جنرل عبدالغفور حیدری بھی جنرل نشست سے سینیٹر منتخب ہوگئے ہیں۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کےامیدوار محمد قاسم بھی جنرل نشست پر کامیاب ہوگئے ہیں ، انہیں اپوزیشن الائنس کی حمایت حاصل تھی

    منظورکاکڑ، اورسرفراز بگٹی بھی سینٹرمنتخب ہوچکے ہیں

  • گنتی کا عمل شروع، خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کے کتنے اراکین نے بیلٹ پیپر ضائع کئے؟

    گنتی کا عمل شروع، خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کے کتنے اراکین نے بیلٹ پیپر ضائع کئے؟

    ‏سینیٹ الیکشن ،پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد گنتی کا عمل شروع ہو گیا ہے

    ریٹرننگ افسر نے ہال کے گیٹ بند کرنے کا حکم دے دیا ،امیدواروں کے ایجنٹس کے سامنے بیکٹ باکسز کی سیلز کھولیں گئیں گنتی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، قومی اسمبلی کے 341 میں سے 340 ووٹ ڈالے گئے قومی اسمبلی، مولاناعبد الاکبر چترالی نےووٹ کاسٹ نہیں کیا ،

    اسلام آبادکی خواتین کی ایک نشست پرفوزیہ ارشدتحریک انصاف کی امیدوارہیں اسلام آبادکی خواتین کی ایک نشست پرفرزانہ کوثر مسلم لیگ ن کی امیدوار ہیں اسلام آباد کی جنرل نشست پریوسف رضا گیلانی اور عبدالحفیظ شیخ میں مقابلہ ہے

    دوسری جانب خیبر پختون خوا اسمبلی میں ووٹ دیتے وقت 13ارکان نے بیلٹ پیپر ضائع کیے ،13 ارکان اسمبلی نے غلط نشان لگانے پر بیلٹ پیپرز واپس کردئیے،درخواست پر الیکشن کمیشن نے دوبارہ بیلٹ پیپرز جاری کر دئیے،غلطی کرنے والے ارکان اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 11 ارکان شامل ہیں جے یو آئی کے ایک رکن نے دوبارہ بیلٹ پیپر لیا،جماعت اسلامی کے ایک رکن نے بھی بیلٹ پیپر تبدیل کرایا 4ایم پی ایز خواتین، 8 ایم پی ایز جنرل اور ایک رکن اسمبلی کا اقلیتی رکن کا بیلٹ پیپر ضائع ہوا

    ‏وفاقی دارالحکومت سے 2 اور سندھ سے 11سینیٹرز منتخب ہوں گے بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے 12،12سینیٹر زمنتخب کیے جائیں گے اسلام آباد کی جنرل نشست پر حفیظ شیخ اور یوسف رضا گیلانی مدمقابل ہیں پنجاب سے سینیٹ کے 11امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں

  • وزیراعظم نے بھی ووٹ غلط کاسٹ کیا،اہم شخصیت کا انکشاف، زرتاج گل کا "نام” بھی آ گیا

    وزیراعظم نے بھی ووٹ غلط کاسٹ کیا،اہم شخصیت کا انکشاف، زرتاج گل کا "نام” بھی آ گیا

    وزیراعظم نے بھی ووٹ غلط کاسٹ کیا،اہم شخصیت کا انکشاف، زرتاج گل کا "نام” بھی آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ الیکشن کے لئے پولنگ جاری ہے

    شہر یار آفریدی نے ووٹ غلط کاسٹ کیا، جس کے بعد اب خبریں آ رہی ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان اور زرتاج گل نے بھی اپنا ووٹ ضائع کیا ہے

    ن لیگی رہنما رنا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ کہ وزیراعظم اور زرتاج گل نے سیریل نمبر کے بجائے ٹک لگایا ہے ،شہر یار آفریدی نے باقاعدہ درخواست دی ہے جس سے تصدیق ہو گئی ہے کہ انکا ووٹ غلط ہو گیا ہے

    زرتاج گل نے کہا ہے کہ مجھ سے کوئی بھی غلطی نہیں ہوئی ہے میں نے صحیح ووٹ کاسٹ کیا ہے مجھ سے کوئی غلطی نہیں ہوئی،شہباز گل نے بھی کہا ہے کہ ‏زرتاج گل کے ووٹ میں کوئی مسئلہ نہیں ہوا،‏زرتاج گل نے ٹھیک ووٹ کاسٹ کیا ہے،

    شہر یار آفریدی نے درخواست میں کہا کہ پریذائیڈنگ آفیسر ووٹنگ کا وقت ختم ہونے سے قبل میری درخواست پر فیصلہ سنائیں مجھے ووٹ ڈالنے کا موقع فراہم کیاجائے ،

    شہر یار آفریدی نے درخواست میں کہا کہ کچھ دن سے میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی الیکشن کی تیاری کے حوالے سے پارٹی اجلاسوں میں شرکت نہیں کرسکاتھا،جب ووٹ کاسٹ کرنے پہنچا تو آپ سے، آپ کے اسٹاف سے پوچھا، آپ کا عملہ مجھے گائیڈ کرنے میں ناکام رہا، مجھے اپنا ووٹ دوبارہ کاسٹ کرنے کی اجازت دی جائے،

    شہریار آفریدی نے وزیراعظم عمران خان اور کابینہ اراکین سے مشاورت کے بعد فوری درخواست داخل کردی ریٹرننگ افسر نے درخواست کی کاپی وصول کرکے فیصلہ سنانے کا عندیہ دیدیا

    قبل ازیں سابق صدر آصف زرداری نے ووٹ کاسٹ کرلیا تا ہم پہلی بار سابق صدر آصف علی زرداری کا بیلٹ پیپر ضائع ہو گیا،آصف زرداری کودوبارہ بیلٹ پیپر جاری کیا گیا،

    آصف زرداری کی غلطی سے بیلٹ پیپر خراب ہوا جس کے بعد آصف زرداری نے ریٹرننگ افسر کو بیلٹ پیپر دوبارہ جاری کرنے کی گزارش کی، درخواست پر دوسرا بیلٹ پیپر جاری کردیاگیا، سابق صدر نے اپنا ووٹ کاسٹ کردیا۔

    وفاق اور صوبوں میں جنرل نشستوں پر 39 امیدوار آمنے سامنے ہیں، خواتین 18، ٹیکنو کریٹ 13 اور اقلیتی نشستوں پر 8 امیدوار مدمقابل ہیں۔ آئین کے مطابق سینیٹ انتخابات خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہوں گے

  • سینیٹ الیکشن، نمبر گیم کیا ہے؟ کون آگے، کون پیچھے؟ مبشر لقمان نے سب بتا دیا

    سینیٹ الیکشن، نمبر گیم کیا ہے؟ کون آگے، کون پیچھے؟ مبشر لقمان نے سب بتا دیا

    سینیٹ الیکشن، نمبر گیم کیا ہے؟ کون آگے، کون پیچھے؟ مبشر لقمان نے سب بتا دیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج سینیٹ کے انتخابات ہیں اور اس وقت تقریباً تمام پارٹیوں کے سربراہان اور سرکردہ رہنما اسلام آباد میں موجود ہیں ۔ آصف زرداری ، حمزہ ، بلاول ، مولانا سب اسلام آباد میں اپنی اپنی چالیں چل رہے ہیں ۔ خوب سیاسی گہما گہمی کا ماحول ہے ۔ کیونکہ اسلام آباد میں حفیظ شیخ بمقابلہ یوسف رضا گیلانی ایک بڑا معرکہ ہونے جا رہا ہے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں یہ الیکشن اتنی اہمیت اختیار کر چکا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنی سرکاری مصروفیات منسوخ کر کے گزشتہ روز سے تقریباً 3 درجن اراکین اسمبلی سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کر چکے ہیں ۔آج انھوں نے اراکین قومی اسمبلی کے لیے ظہرانے کی میزبانی بھی کی ۔ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی ان ملاقاتوں میں ہمراہ رہے ۔ کچھ اراکین اسمبلی نے وزیراعظم سے علیحدہ جبکہ کچھ نے گروپس کی شکل میں ملاقات کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تمام صوبائی گورنروں اور صدر مملکت عارف علوی کو 3 مارچ کے لیے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش سے روک دیا تھا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ۔ تمام تفصیلات یہ ہیں ۔ کہ تمام صوبوں سے 50 فی صد ارکان کا انتخاب ہو گا۔ سینیٹ کے 104 اراکین میں سے 52 اراکین اپنی 6 سالہ مدت ختم ہونے کے بعد 11 مارچ کو ریٹائر ہوجائیں گے جس میں قبائلی اضلاع کے 8 میں سے 4 سینیٹرز بھی شامل ہیں اور اب قبائلی اضلاع کے خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کی وجہ سے یہ چار نشستیں پُر نہیں کی جاسکتیں جس سے سینیٹ کی مجموعی نشستیں کم ہو کر 100 رہ جائیں گی۔48 اراکین سینیٹ کو منتخب کرنے کے لیے پولنگ کل یعنی 3 مارچ کو ہوگی جس میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے 12، 12 سینیٹرز، پنجاب اور سندھ سے 11،11 جبکہ اسلام آباد سے 2 سینیٹرز کو منتخب کیا جائے گا۔پولنگ میں چاروں صوبوں سے عام نشستوں پر 7 اراکین، 2 نشستوں پر خواتین، 2 نشستوں پر ٹیکنوکریٹس کو چُنا جائے گا جبکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے اقلیتی نشست پر ایک، ایک رکن منتخب ہوگا۔۔ سندھ کی 11 نشستوں کیلئے ارکان اسمبلی کو
    3،3 بیلٹ پیپرز دیئے جائیں گے، خیبرپختونخوا، بلوچستان کی 12،12 نشستوں کیلئے 4،4 بیلٹ پیپرز دیئے جائیں گے۔۔ خیبرپختونخواسے سینیٹ کی خالی 12 نشستوں کے لیےچناوَ ہوگا نشستوں میں 7جنرل،2 ٹیکنو کریٹ،2 خواتین اور ایک اقلیتی ہوگا خیبرپختونخوا اسمبلی کے 145 اراکین سینیٹ امیدواروں کا چناو َکریں گے حکومتی اتحاد میں 94 پی ٹی آئی اراکین اور بلوچستان عوامی پارٹی کے 4 اراکین کا حجم ہے،اپوزیشن میں جے یو آئی 15،اے این پی 12
    ، ن لیگ 7،پیپلزپارٹی6 اراکین شامل ہیں ،سینیٹ انتخابات میں جماعت اسلامی کے 3 اور3 آزاد اراکین اہم کردار ادا کریں گے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب عمران‌ خان کا تو کہنا ہے کہ انشااللہ فتح ہماری ہوگی حفیظ شیخ کامیاب ہوں گے ۔ اس بار سینیٹ میں ہماری تعداد زیادہ ہوگی ۔۔ پر یوسف رضا گیلانی کو سینیٹر بنانے کیلئے حمزہ شہباز بھی متحرک ہوگئے ہیں ۔ انھوں نے ارکان قومی اسمبلی کو قائد حزب اختلاف کی رہائش گاہ طلب کر لیا ہے ۔ ۔ جبکہ پارٹی ذرائع کے مطابق نواز شریف نے سینٹ الیکشن میں لیگی اراکین قومی اسمبلی کی 100 فیصد حاضری یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ یوسف رضا گیلانی پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار ہیں ان کی جیت پارٹی کی جیت ہے۔ یوسف رضا گیلانی کی جیت کے کیے تمام ممکنہ پارٹی وسائل بروئے کار لائیں جائیں۔ تو دوسری طرف ذرداری بڑی راز داری کے ساتھ اپنے کارڈز کا استعمال کررہے ہیں بلکہ وہ تو اعلان کر چکے ہیں کہ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی ہی ہوں گے تو مولانا فضل الرحمان افہام وتفہیم کرنے اور کروانے میں لگے ہوئے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اگر دیکھا جائے تو قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی اپنی 157 نشستیں ہیں، اتحادیوں میں ایم کیو ایم کی 7، مسلم لیگ ق کی اور بی اے پی کی 5، 5 جی ڈی اے کی 3، شیخ رشید کی آل پاکستان مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کی 1، 1 نشست جبکہ 1 آزاد امیدوا اسلم بھوتانی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس طرح پاکستان تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں 180 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔۔ دوسری طرف متحدہ اپوزیشن کی جماعتوں میں سے مسلم لیگ ن کی 83، پیپلزپارٹی کی 55، متحدہ مجلس عمل پاکستان کی 15، اے این پی اور جماعت اسلامی کی 1،1 نشست جبکہ 3 آزاد امیدواروں کا ساتھ بھی حاصل ہے۔ متحدہ اپوزیشن کے مجموعی اراکین کی تعداد 161
    بن جاتی ہے۔ یوں وفاق کی جنرل نشست پر اپوزیشن کو جیتنے کے لئے حکومتی اتحاد میں سے 10 ووٹ توڑنے ہوں گے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت قومی اسمبلی کا ایوان 341 اراکین پر مشتمل ہے، اگر تمام ووٹ کاسٹ ہوتے ہیں تو جیتنے والے امیدوار کو 171 ووٹ درکارہوں گے۔ اگر تمام ووٹ کاسٹ نہیں ہو پاتے تو کاسٹ ووٹوں میں سے
    51 فیصد ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار فاتح قرار پائے گا۔ ۔ فی الحال یہ کہا جا رہا ہے کہ بازی چاہے نہ پلٹے ۔ اور حکومت بچ بھی جائے پھر بھی حکومت کا عروج ختم ہو چکا ہے اور اب یہ زوال کی جانب گامزن ہے۔ ۔ کل سینیٹ انتخابات کے نتائج جو بھی ہوں لیکن ان نتائج کے اثرات اپوزیشن پر کم اور حکومت پر زیادہ پڑیں گے۔۔ اگر حفیظ شیخ جیت جاتے ہیں تو اپوزیشن اپنے پلان کے مطابق اس مہینے مزید شدت اور زور کے ساتھ لانگ مارچ کرے گی اور اسلام آباد میں دھرنا دے گی۔ اگر ہار جاتے ہیں تو سب کو معلوم ہی ہے کہ پھر عمران خان کے خلاف تو تحریک عدم اعتماد ہر حال میں ہی آئے گی ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اصل میں سینیٹ الیکشن میں ووٹوں کے اتار چڑھائو کے بعد اگلی سیاست شروع ہو گی۔ ظاہر ہے اپوزیشن کی کوشش ہو گی کہ حکومت کو یا تو اتار دیا جائے یا کمزور کیا جائے جبکہ حکومت کو ایسی حکمتِ عملی بنانی ہے کہ ایک تو وہ اپنی مدت پوری کرے دوسرا اگلے الیکشن کے لئے اپنے مہرے اور اپنی گیم تیار کرے، فی الحال پی ٹی آئی کی کارکردگی ایسی نہیں کہ وہ اگلے اڑھائی سال لوگوں کو مطمئن رکھ سکے۔ اگلے الیکشن کے حوالے سے امیدیں باندھنا تو بہت دور کی کوڑی لانے کے مترادف دکھائی دیتا ہے۔ یہ طے ہے کہ پی ٹی آئی کو اس سال سیاسی دھچکے لگیں گے، بازی بےشک نہ پلٹے قلابازیاں ضرور لگیں گی۔

  • بازی پلٹ گئی یا اپوزیشن بھٹک گئی، نواز شریف مطمئن،ہواؤں کا رخ کیسے بدلا؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    بازی پلٹ گئی یا اپوزیشن بھٹک گئی، نواز شریف مطمئن،ہواؤں کا رخ کیسے بدلا؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    بازی پلٹ گئی یا اپوزیشن بھٹک گئی، نواز شریف مطمئن،ہواؤں کا رخ کیسے بدلا؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کیا ہواوں کا رخ بدل چکا ہے۔؟کیا اپوزیشن لانگ مارچ کی منزل سے بھٹک کر سینٹ پر پڑاو کر چکی ہے۔؟ کیا شہباز اور حمزہ کے باہر آتے ہی مریم ملک سے باہر جانے کی تیاری کر رہی ہیں۔؟ حکومتی حلقوں میں اضطراب اور بے چینی کیوں ہے۔؟آصف زرداری ایک دم سے پھر سب پر بھاری کیسے ہو گئے۔؟ نواز شریف مطمئن اور خاموش کیوں نظر آ رہے ہیں۔؟کیا ایمپائر نیوٹرل ہو چکا ہے، ؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کیا ایمپائر نیوٹرل ہونے کا امتحان اسی صورت پاس کریں گے جب حکومت اپوزیشن کے خفیہ ووٹ نہ توڑے جبکہ اپوزیشن کھلے عام حکومتی لوگوں کو ٹکٹوں کے وعدے کر کے فتح اپنا مقدر بنا لے اور اگر پھر بھی اپوزیشن کامیاب نہ ہوئی تو ایمپائر کے نیوٹرل ہونے کی گواہی کون دے گا۔؟سینٹ انتخابات کے بعد اور لانگ مارچ سے پہلے اور کیا کیا ہو گا۔؟کوئی شارٹ سیٹ اپ کے بعد شفاف انتخابات کا خواب سجائے بیٹھا ہے تو کوئی ان ہاوس تبدیلی کا۔۔ کوئی وفاق سے پہلے پنجاب میں تبدیلی کا خواہشمند ہے۔ تو کوئی چیئرمین سینٹ کو بدلنے کا۔ہر کوئی اپنی خواہشات کو ملک کی منزل تصور کیئے بیٹھا ہے۔ کوئی یہ تعویلات پیش کر رہا ہے کہ حکومت کی کشتی بیچ منجدھار میں پھنس چکی ہے اب صرف انہیں مشورے مل رہے ہیں اپنی مدد حکومت نے آپ کرنی ہے۔ اعتدال پسندEstablishmentہی ملکی مفاد میں ہے۔ سیانے کہتے ہیں کئی دفعہ ڈوبتے کو بچانے والے خود بھی ڈوب جاتے ہیں، عوامی ردعمل، بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری، اداروں کا کردار، سپریم کورٹ کا ردعمل اور سیاسی جماعتوں کا گھٹ جوڑ اور ان سب سے بڑھ کر عوامی غصہ واضح طور پر پیغام دے رہا ہے کہ اب مزید کمک دینے والے طوفان کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ایک ایک کر کے وہ تمام لوگ ہمت ہار رہے ہیں جو یہ سمجھتے تھے کہ عمران خان دوسرے حکمرانوں سے مختلف ہے، وہ موروثی سیاست کو دفن کر دے گا، وہ اپنے کسی دوست یا رشتے دار کو خام خواہ میں کردار نہیں دے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا‘ ایماندار لوگوں کی ٹیم بنائے گا‘ اہل افراد پر مشتمل کابینہ تشکیل دے گا‘ اداروں کو درست کر دے گا‘ چھوٹی کابینہ بنائے گا‘پرانے چوروں اور لٹیروں سے اپنی پارٹی کو محفوظ رکھے گا‘ میرٹ کا بول بالا ہو گا‘ عوام کو مختلف حیلوں بہانوں سے لوٹنے کا نظام دفن کردیا جائے گا‘ وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ہو گا‘ غلط بات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہو گا‘ کسی کے آگے جھکے گا نہیں اور کسی بھی صورت نظریہ ضرورت کا شکار نہیں ہو گا۔ یہ کیا ہو رہا ہے کیا کسی نے کبھی سوچنے کی کوشش کی ہے۔ پورا سینٹ الیکشن ایک طرف اور اسلام اباد کی جنرل سیٹ ایک طرف۔ اور اس جنرل سیٹ پر حکومت کا وہ امیدوار جس کا اس جماعت سے تعلق نہیں ہے، جو پیرا شوٹ پر بیٹھ کر آیا تھا اور حکومت کے جانے کے بعد پہلی فلائٹ پر جائے گا۔ اگر حفیظ شیخ اس ملک کی معیشت کے لیے اتنا قیمتی ہے تو کہاں ہے عمران جان کے معاشی جادوگر جن کے زریعے عمران خان نے اس ملک کی تقدیر بدلنی تھی۔ ؟ کیا اس صورتحال میں جب ہر چیز نوشتہ دیوار ہے۔۔عمران خان سے نا امید ہونے والے ابھی بھی خطا پر ہیں،؟ کیا ابھی بھی عمران خان کے ووٹروں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ عمران خان نے ان لوگوں کو تبدیلی کی امید دلا کر دوبارہ مایوس کر دیاہے۔ کیا ابھی بھی وہ کبوتر کی طرح تباہی دیکھ کر آنکھیں بند کر لیں۔؟

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب لوگ تبدیلی کے نعرے پر یقین نہیں کریں گے اور دوبارہ اس انتخابی نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے گھر بیٹھے رہیں گے یا انہی چوروں اور لٹیروں کی طرف لوٹ جائیں گے جن سے جان چھڑوانے کی امید انہیں خان کی طرف لائی تھی۔عثمان بزدار اور محمود خان کو دیکھ کر میرٹ پر ترس آتا ہے۔ نظریہ ضرورت کو حکمت کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں اخلاق کی اعلی مثالیں دینے والے جب جھوٹ کی وجہ سے اپنے کراچی کے ایم این اے فیصل واڈا کے متوقع تور پر فارغ ہونے کی صورت میں اسے ہر صورت اقتدار میں رکھنے کے لیئے سینٹ کا ٹکٹ دے دیتے ہیں تو عقل ورطہ حیرت ہے۔۔آخر کیون۔۔؟ کیونکہ ان کی پارٹی کے لیئے بڑی خدمات ہیں، تو کہاں گئی وہ اخلاق کی اعلی مثالیں جو ہمیں سنائی گئی تھی۔لیکن اس سب کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پی ڈی ایم کے قافلے کے سالار اس وقت اپنی منزل اور پڑاو میں تزبزب کا شکار ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی میٹنگز میں اب لانگ مارچ کی بجائے سینٹ الیکشن ڈسکس ہوتا ہے۔ کیا پی ڈی ایم کا مقصد صرف سینٹ الیکشن اور عدم اعتماد کی کوشش تھا، کہاں ہے وہ جمہوریت کی بقا کی جنگ، کیا سول سپرمیسی کا مقصد حاصل کر لیا گیا ہے۔کیا ووٹ کو عزت مل چکی ہے، کیا کشمیر آزاد ہو چکا ہے، پاکستان کے خارجہ تعلقات میں انقلاب آ چکا ہے ملک کی معیشت ٹھیک ہو چکی ہے، عوامی مسائل ختم ہو چکے ہیں کیا ہر چیز سستی ہو چکی ہے اور مہنگائی کا قلعہ قمع ہو چکا ہے۔ اگر نہیں تو پھر کہاں ہے پی ڈی ایم کی تحریک۔ پھر کیا ہم یہ سوچنے پر حق بجانب نہیں ہیں کہ جب ان کی دم پر پیر رکھا جائے گا تو ہی انہیں عوام کے دکھ نظر آئیں گے۔ جب ان کی عدالتوں مین روزانہ پیشیاں ہوں گی جب ہی انہیں ووٹ کی عزت یاد آئے گی، جب ان پر نیب کے نئے ریفرنس بنیں گے تب ہی انہیں سول سپرمیسی اور عوامی مشکلات کا اندازہ ہو گا، بدقسمتی سے ہمارے رہنماوں کا شعور منزل ہی دھندلایا ہوا ہے۔ اور بس حالات کے بھروسے پر کسی سیاسی بہار کی امید لگائے بیٹھے ہیں ۔اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اگر یوسف رضا گیلانی قومی اسمبلی کے ووٹوں سے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کے مقابلے میں جیت جاتے ہیں تو پھر پارلیمنٹ میں وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد نہ صرف پیش کی جا سکتی ہے بلکہ کامیاب بھی کرائی جا سکتی ہے۔ لیکن یوسف رضا گیلانی کے سنجیدہ و فکرمند چہرے کو پڑھنے والے اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کہیں وہ اپنی عزت کھو جانے کے ڈر سے پریشان تو نہیں ۔ خیبر پختونخوا میں جماعت اسلامی اور پی ڈی ایم کے درمیان معاملات کے طے پاجانے سے اب کے پی میں جماعت اسلامی اپوزیشن کے امیدواروں کو ووٹ دے گی
    یوں سینیٹ میں جماعت اسلامی دو میں سے ایک رہ جانے والی سیٹ کو ایک بار پھر دو بنا سکتی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی میں ایک دوسرے کو عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کا طعنہ دینے والے سیاسی شطرنچ پر کھیل جیتنے کے لیئے دوبارہ ایک ساتھ بیٹھ جاتے ہیں۔ لیکن جب انہیں پتا چلتا ہے کہ سینٹ میں بیٹھنے کے بعد کابینہ میں بیٹھنا مشکل ہو جائے گا تو واپسی کا سلسہ شروع ہو جاتا ہے۔پی ٹی آئی کی اندرونی بے چینی اور خانہ جنگی اپوزیشن کو بہت فائدہ پہنچا سکتی ہے لیکن اس سے زیادہ ضروری یہ سمجھا جا رہا ہے کہ عارضی خوشی دے کر پی ڈی ایم کو اس کی منزل سے گمراہ کرنا ہی حکومت کی اصل کامیابی ہے۔ لانگ مارچ کا حدف حاصل کرنا اپوزیشن کے لیے ایک بڑا امتحان ہو گا۔ اور دھرنے کا تو آپ ابھی سوچ بھی نہیں سکتے۔ جو لوگ یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ راتوں رات بازی پلٹ جائے گی اس بات کے امکانات بہت کم ہیں۔ حکومت پانچ سال پورے کرےگی ، نہ اسے نکالا جائے گا اور نہ ہی طاقت ور حلقے اس کو نکالنے کی کسی کوشش کا حصہ بنیں گے۔ اس ملک کی جمہوریت کے لیئے یہ فیصلہ بہت پہلے کر لیا گیا تھا کہ کسی بھی قسم کے جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے کا حصہ نہیں بنا جائے گا۔اس ملک اور اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ کے مفادات مشترک ہیں۔لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ تحریک انصاف کے لیئے ہر آنے والا دن اب نئی مشکلات لے کر آئے گا، حکومت اپنے Grace period سے زیادہ وقت لے چکی ہے، اور بدقسمتی سے یہ وقت کسی بھی قسم کے عوامی مفاد کی منصوبہ بندی کے بجائے احتساب کے کھوکھلے نعروں کی نظر ہو چکا ہے۔ اپوزیشن کا مقصد یا تو حکومت کو گھر بیجھنا ہے یا پھر اس کے لیئے اتنی مشکلات کھڑی کرنا ہے کہ اس کی صفوں میں انتشار اور ٹھوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہو جائے ۔ لیکن راتوں رات بازی پلٹے جانے کے امکانات بہت کم ہیں۔

    بازی پلٹ گئی یا اپوزیشن بھٹک گئی، نواز شریف مطمئن،ہواؤں کا رخ کیسے بدلا؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی