Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • عدالت پر دباوَ نہ ڈالیں،نہ ہی کسی کے دباوَ میں  آئے گی،چیف جسٹس

    عدالت پر دباوَ نہ ڈالیں،نہ ہی کسی کے دباوَ میں آئے گی،چیف جسٹس

    عدالت پر دباوَ نہ ڈالیں،نہ ہی کسی کے دباوَ میں آئے گی،چیف جسٹس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں اسلام آباد کچہری میں وکلا چیمبرز گرانے کیخلاف اسلام آبادبار کونسل کی اپیل پر سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ،سپریم کورٹ نے اسلام آباد بار کونسل کی اپیل سماعت کیلئے منظور کرلی اور انتظامیہ کو وکلا کے چیمبرز گرانے سے روک دیا،عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت تک مزید کارروائی نہ کی جائے، عدالت نے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو نوتس جاری کردیئے۔

    چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ عدالت پر دباوَ نہ ڈالیں،نہ ہی کسی کے دباوَ میں آئے گی،روسٹرم سے پیچھے ہٹ جائیں، سب لوگ کیوں آگے آ گئے ہیں،کیا آپ کو آواز نہیں آ رہی،ہم وکیلوں کو اچھی طرح جانتے ہیں،ہم بھی وکیل رہ چکے یہ کام کبھی نہیں کریں گے،وکلا کے کلپ نظر آتے رہتے ہیں وہ عدالتوں کے بارے میں کیا کیا بات کرتے ہیں کوئی عقل اور شعور ہونا چاہیے،جس ادارے کا حصہ ہیں کچھ خیال کریں،ہماری سمجھ سے بالاتر ہے،جہاں کچھ وکیل اکٹھے ہوتے کچھ الٹا بولتے اور کرتے ہیں

    سپریم کورٹ نے منگل تک وکلا کے چیمبرز گرانے سے روک دیا،اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیا،سپریم کورٹ نےایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو نوٹس جاری کر دیئے

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ فٹبال گراوَنڈ پر 3 منزلہ چیمبرز تعمیر کیے گئے، چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ چیمبرز وکلا کے ذاتی ملکیت تصور ہوتے ہیں،بار ایسوسی ایشنز چیمبرز کو لیز پر دیتی ہیں، بار ایسوسی ایشن کو چیمبرز لیز پر دینے کا اختیار کہاں سے آ گیا؟ پبلک کی زمین پر چیمبرز بنانے کا اختیار کہاں سے آ گیا؟ ملک میں کہیں بھی گراوَنڈ میں چیمبرز نہیں بنے، وکیل اسلام آباد بار کونسل نے کہا کہ ملک میں کہیں اور دکانوں میں عدالتیں بھی نہیں لگتی،

  • کراچی میں گیس کا بحران، شہری پریشان

    کراچی میں گیس کا بحران، شہری پریشان

    کراچی میں گیس کا بحران شدت اختیار کرتا جارہا ہے.

    رہائشی علاقوں میں گیس کی قلت سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامناہے جبکہ ضلع وسطی سمیت مختلف علاقوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ سے زندگی اجیرن ہوگئی ہے.

    گیس کی کمی سے چولہے جلانا مشکل ہوگیا ہے، شہری لائن سے گیس نہ ملنے پر ایل پی جی سلنڈر خریدنے پر مجبور ہیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے دفتر چکر لگا لگا کر تھک گئے ہیں مگر کوئی سنوائی نہیں ہے. ایف بی ایریا عزیز آباد بلاک 2 اور 8 کے مکین 5 دن سےگیس بند کی شکایت کررہے ہیں اور شہر کے دیگر کئی علاقوں میں رات کے وقت گیس کی بندش جاری ہے .

  • پاکستان کوزیادہ دیرگرے لسٹ میں نہیں رکھا جاسکتا،اقدامات کئے:مزید بہتری لائیں گے:پاکستان کومحفوظ بنائیں گے:حماد اظہر

    پاکستان کوزیادہ دیرگرے لسٹ میں نہیں رکھا جاسکتا،اقدامات کئے:مزید بہتری لائیں گے:پاکستان کومحفوظ بنائیں گے:حماد اظہر

    اسلام آباد:پاکستان کوزیادہ دیرگرے لسٹ میں نہیں رکھا جاسکتا،اقدامات کئے مزید بہتری لائیں گے:پاکستان کومحفوظ بنائیں گے:اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیرحماد اظہر نے آج ایف اے ٹی ایف کے اعلامیہ پرردعمل دیتے ہوئے کہا ہےکہ پاکستان نے پہلے بھی بہتراقدامات کیے تھے اب بھی کررہا ہے

    آج کے ایف اے ٹی ایف کے اعلامیے پرردعمل دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی طرف سے دئے گئے تمام اہداف حاصل کرلیے ہیں اوراگریہ تنظیم سمجھتی ہے کہ اس میں مزید بہتری کی گنجائش ہے تو ہم یہ بھی کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن پاکستان کو گرے لسٹ میں نہیں دیکھ سکتے

     

    حماد اظہر نے اس موقع پراپنے پیغآم میں کہا ہے کہ حکومت پاکستان ، صوبائی حکومتوں اورتمام ذمہ داران نے بڑی محنت سے پاکستان پرلگائے گئے اعتراض کو ختم کرنے کے لیے دل وجان سے محنت کی میں ان کو سلام پیش کرتا ہوں‌

    حماد اظہر نے کہاکہ تین نقات پرزوردیا گیا ہے ہم انشا اللہ ان پربھی عمل کردکھائیں گے

    وہ کہتے ہیں کہ اس سے پہلے 2018 میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو اپنی گرے لسٹ میں شامل کیا ، اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھانے کے لیے پاکستان کو اکتوبر 2019 تک وقت دیا گیا، پاکستان نے اس وقت دیئے گئے اہداف کامیابی سےحاصل کرلیئے

    ۔

    حماد اظہر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایف اے ٹی ایف نے یہ تسلیم کیا ہے کہ جو سخت شرائط پاکستان کے لیے وضع کی گئی ہیں وہ آج تک کسی دوسرے ملک کے لیے وضع نہیں کی گئیں اس لیے پاکستان کو اس سلسلے میں بہتر کام کرنےکا موقع دیا جائے

     

    حماد اظہر نے کہاکہ وہ خود بھی ایف اے ٹی ایف حکام سے اس سلسلے میں مسلسل رابطے میں ہیں اور پاکستان کے لیے آسانیاں تلاش کرنے کی فکر میں ہیں

    ·

    حماد اظہر نے پھر پاکستانی اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے وطن کے لیے بہت خلوص سے کام کیا اورپہلے سے بڑھ کراپنے وطن کے لیے محنت کریں گے

     

    حماد اظہر نے کہا کہ وہ کل 11:30 پر اہل پاکستان کو اصل صورت حال سے آگاہ رکھنے کےلیے پریس کانفرنس کریں گے

     

     

    یاد رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کا نام جون تک گرےلسٹ میں برقرار رکھنے ‏کا فیصلہ کرتے ہوئے مزید 4 ماہ کی مہلت دے دی۔

    ایف اے ٹی ایف نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے پاکستان کےاقدامات کی تعریف کی ہے۔ حکام کا ‏کہنا ہے کہ پاکستان نے27میں سے 24پوائنٹس پر زبردست کام کیا۔

    ایف اےٹی ایف حکام کے مطابق پاکستان نےکاؤنٹرفنانس ٹیررازم سےمتعلق بہترین کام کیا ہے ‏پاکستان کےقانون نافذ کرنے والےاداروں نے ٹیررفنانس کی نشاندہی کی اور نشاندہی کیساتھ جانچ ‏پڑتال کر کے بھرپور ایکشن بھی لیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نےلسٹڈ افراد اور اثاثوں کو ایک سےدوسری جگہ منتقل ‏ہونےسےروکا جب کہ ایسے لسٹڈافرادکےاثاثوں کواپنی تحویل میں بھی لیا۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان نےتمام ایکشن پلان پرایک جامع لائحہ عمل اپنایا ہے۔ اور اب ایف ‏اےٹی ایف کاآئندہ اجلاس جون2021 میں ہوگا۔

    یاد رہے جون 2018 میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو اپنی گرے لسٹ میں شامل کیا ، اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھانے کے لیے پاکستان کو اکتوبر 2019 تک وقت دیا گیا، جس میں بعد میں مزید چار ماہ توسیع کر دی گئی تھی۔

    واضح رہے ایف اے ٹی ایف کے گرے لسٹ میں جانے کے بعد پاکستان نے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق موجودہ قوانین میں ترامیم کے ساتھ ساتھ بیشتر نمایاں اقدامات اٹھائے ، جن میں کالعدم تنظیموں کے خلاف ایکشن اور گرفتاریاں بھی شامل ہیں

  • ایف اے ٹی ایف اجلاس میں کیا گفتگو ہوئی اورکیا تحفظات ظاہرکیے گئے؟خصوصی رپورٹ

    ایف اے ٹی ایف اجلاس میں کیا گفتگو ہوئی اورکیا تحفظات ظاہرکیے گئے؟خصوصی رپورٹ

    عالمی واچ ڈاگ کے صدر ڈاکٹر مارکس پلیئر نے ایف اے ٹی ایف اجلاس کے فیصلوں کا اعلان ایک نیوز بریفنگ کے دوران کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی تجاویز پر عمل درآمد کیا ہے تاہم کچھ چیزیں مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

    ایف اے ٹی ایف کے صدر کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان اب بھی زیر نگرانی رہے گا’ اور ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھرپور پیش رفت دیکھائی ہے لیکن اسے مزید سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    ڈاکٹر مارکس پلیئر کا کہنا تھا کہ ‘وہ تمام اقدامات دہشت گردوں کی مالی معاونت سے جڑے ہیں اور 27 میں سے 3 پوائنٹس کو مکمل طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے’۔

    عالمی واچ ڈاگ کے صدر نے پاکستان کی پیش رفت سے متعلق کہا کہ ‘ہم پاکستان پر منصوبے سے متعلق مکمل عمل درآمد کرنے پر زور دیتے ہیں’۔

    ان کا کہنا تھا کہ 4 ماہ بعد پاکستان کی جانب سے ایکشن پلان پر عمل درآمد کی تصدیق کریں گے، پاکستان نے اعلیٰ سطح پر ایکشن پلان پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی ہے، اس لیے اس وقت پاکستان کو بلیک لسٹ میں نہیں ڈالا جاسکتا۔

    پاکستان کے حوالے سے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے جن چار شعبوں کی نشاندہی کی گئی وہ یہ ہیں:

    1) پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کا عملی مظاہرے کریں کہ وہ دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق جرائم کی نشاندہی کر کے نہ صرف اس کی تحقیقات کر رہے ہیں بلکہ ان جرائم میں ملوث افراد اور کالعدم دہشتگرد تنظیموں اور ان کے لیے کام کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

    2) اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ دہشت گردوں کی مالی امداد میں ملوث افراد اور تنظیموں کے خلاف جو قانونی کارروائی کی جائے اس کے نتیجے میں انھیں سزائیں ہوں جس سے ان جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن ہو پائے۔

    3) اقوام متحدہ کی فہرست میں نامزد دہشتگردوں اور ان کی معاونت کرنے والے افراد کے خلاف مالی پابندیاں عائد کی جائیں تاکہ انھیں فنڈز اکھٹا کرنے سے روکا جا سکے اور ان کے اثاثوں کی نشاندہی کر کے منجمد کیا جائے اور ان تک رسائی روکی جائے۔

    4) پاکستان یہ بھی یقینی بنائے کہ دہشت گردی کی معاونت سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں جیسا کہ بینک وغیرہ کو انتظامی اور دیوانی سزائیں ملیں اور اس سلسلے میں صوبائی اور وفاقی ادارے تعاون کریں۔

    ایف اے ٹی ایف کے جاری اجلاس میں ان چار شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد یہ فیصلہ ہوگا کہ آیا پاکستان کو مزید عرصہ گرے لسٹ میں رکھا جائے یا نہیں۔

  • مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی: پاکستان گرے لسٹ میں‌ ہی رہے گا:مزیداقدامات کا ہدف دے دیا گیا

    مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی: پاکستان گرے لسٹ میں‌ ہی رہے گا:مزیداقدامات کا ہدف دے دیا گیا

    لاہور:مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی: پاکستان گرے لسٹ میں‌ ہی رہے گا:مزیداقدامات کا ہدف دے دیا گیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان کی تمام محنتوں اورکاوشوں کی پھر بے توقیری کی گئی ہے

    ادھر ذرائع کے مطابق 22 فروری سے ایف اے ٹی آیف کے جاری اجلاس میں جہاں پاکستان یہ امید لگائے بیٹھا تھا کہ پاکستان کی کوششوں کی قدر کی جائے گی ، لیکن پاکستان کو اس وقت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب ایف اے ٹی ایف سرگرم بھارتی ، امریکہ لابی پاکستان کوگرے لسٹ سے نکالنے میں رکاوٹ بننے میں کامیاب ہوگئی

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اس اجلاس میں اس بات کا اعتراف تو کیا گیا ہے کہ پاکستان نے 27 میں 24 نقات پرعمل کردکھایا ہے لیکن 3 نقات پرعمل کرنا ابھی باقی ہے

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق اس اجلاس کے اختتام پر پاکستان کومزید اقدامات کی تاکید کرتے ہوئے جون 2021 تک پھرمہلت دی گئی ہے ،ساتھ ہی یہ کہا گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی میں معاونت روکنے میں ابھی کامیاب نظرنہیں آرہا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ امریکہ اوربھارت نے پچھلے تین دن سے ایف اے ٹی ایف میں‌شامل ممالک کو اپروچ کیا اوردباو ڈالنے میں کامیاب رہے

    ساتھ ہی ساتھ ایف اے ٹی ایف نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے پاکستان کےاقدامات کی تعریف کی ہے۔ حکام کا ‏کہنا ہے کہ پاکستان نے27میں سے 24پوائنٹس پر زبردست کام کیا۔

    ایف اےٹی ایف حکام کے مطابق پاکستان نےکاؤنٹرفنانس ٹیررازم سےمتعلق بہترین کام کیا ہے ‏پاکستان کےقانون نافذ کرنے والےاداروں نے ٹیررفنانس کی نشاندہی کی اور نشاندہی کیساتھ جانچ ‏پڑتال کر کے بھرپور ایکشن بھی لیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نےلسٹڈ افراد اور اثاثوں کو ایک سےدوسری جگہ منتقل ‏ہونےسےروکا جب کہ ایسے لسٹڈافرادکےاثاثوں کواپنی تحویل میں بھی لیا۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان نےتمام ایکشن پلان پرایک جامع لائحہ عمل اپنایا ہے۔ اور اب ایف ‏اےٹی ایف کاآئندہ اجلاس جون2021 میں ہوگا۔

    یاد رہے جون 2018 میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو اپنی گرے لسٹ میں شامل کیا ، اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھانے کے لیے پاکستان کو اکتوبر 2019 تک وقت دیا گیا، جس میں بعد میں مزید چار ماہ توسیع کر دی گئی تھی۔

    واضح رہے ایف اے ٹی ایف کے گرے لسٹ میں جانے کے بعد پاکستان نے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق موجودہ قوانین میں ترامیم کے ساتھ ساتھ بیشتر نمایاں اقدامات اٹھائے ، جن میں کالعدم تنظیموں کے خلاف ایکشن اور گرفتاریاں بھی شامل ہیں

  • جوممالک بیت المقدس میں سفارتخانہ کھولیں گےان کومفت ویکسین    دی جائےگی:اسرائیل نےانسانی جانوں پرسیاست شروع کردی

    جوممالک بیت المقدس میں سفارتخانہ کھولیں گےان کومفت ویکسین دی جائےگی:اسرائیل نےانسانی جانوں پرسیاست شروع کردی

    اسرائیل کورونا وائرس کی عالمی وبا میں بھی انسانیت کے بجائے سفارتکاری کو ترجیح دے رہا ہے۔ اسرائیل نے فلسطینیوں کے بجائے یروشلم میں سفارتی موجودگی کو یقینی بنانے والے اتحادی ملکوں کو ہزاروں کی تعداد میں فاضل ویکسین بھیجنے کا وعدہ بھی کیا ہے اور اعادہ بھی کیا ہے

    اسرائیل وزیراعظم نیتن یاہو نے مقبوضہ بیت المقدس میں سفارت خانے کھولنے والے ممالک کو مفت کورونا ویکسین کی فراہمی کا اعلان کردیا ہے ۔ اسرائیل نے اب تک تین ممالک ہندوراس، گواٹیمالا اور جمہوریہ چیک کو مفت ویکسین فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    گواٹیمالا نے مئی 2019 میں امریکہ کے ساتھ اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کیا تھا جبکہ باقی دونوں ممالک نے سفارت خانہ منتقلی کا وعدہ کیا ہے ۔ نیتن یاہو کے اس اقدام کو اسرائیلی حکومت کی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے ۔

    اسرائیلی وزیردفاع گانٹس نے کہا ہے کہ وزیراعظم ایک جمہوری ملک کے حکمران کے بجائے کسی سلطنت کے فرمان رواں کی طرح فیصلے کررہے ہیں ۔ بیشتر اسرائیلی وزرا نے اس عمل کو کورونا کے ذریعے تجارت قراردیا ہے ۔

    امریکی اور اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے چیک ری پبلک، ہنڈوراس، ہنگری اور گوئٹے مالا کو اضافی ویکسین بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔

    ناقدین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اپنے زیرِ تسلط فلسطینیوں کو ویکسین فراہم کرنے کی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا بلکہ ویکسین کو ہتھیار کی طرح استعمال کر رہا ہے اور یہ کہ اسرائیل اپنی ذمہ داری پوری نہ کرنے کے لیے اوسلو معاہدے کے تحت فلسطینی اتھارٹی کو ملنے والی انتہائی محدود خود مختاری کو جواز بنا رہا ہے۔

    یہ ویکسین سفارتکاری کی تازہ مثال ہے جس میں امیر ممالک غریب ملکوں سے اپنی بات منوانے کے لیے کورونا ویکسین کو بطور ہتھیار استعمل کر رہے ہیں۔
    خیال رہے کہ اسرائیل کورونا ویکسین لگوانے والا دنیا کا پہلا ملک ہے ۔

    اب تک ملک کی آدھی آبادی کو دو مرتبہ جبکہ باقی کو ایک مرتبہ ویکسین لگایا گیا ہے ۔ دوسری مرتبہ لگانے والوں کو گرین کارڈ دیا جاتا ہے جنہیں کیرنٹین ہونے کا کبھی پابند نہیں ہونا پڑے گا ۔

    اسرائیلی حکومت نے امریکی فائزر اورجرمنی بیونٹک لگوائی ہے مگر اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے پاس امریکی کمپنی موڈیرنا کے بھی ایک لاکھ ویکسین پڑے ہیں ۔

  • جہاں ضرورت ہوتی ہے انگلیاں اٹھانے والوں کو جواب دیا جاتا ہے:چائے ضرورپلائیں گے:میجرجنرل بابر افتخار

    جہاں ضرورت ہوتی ہے انگلیاں اٹھانے والوں کو جواب دیا جاتا ہے:چائے ضرورپلائیں گے:میجرجنرل بابر افتخار

    راولپنڈی:جہاں ضرورت ہوتی ہے انگلیاں اٹھانے والوں کو جواب دیا جاتا ہے:چائے ضرورپلائیں گے:اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو چائے کی دعوت برقرار ہے۔ جہاں ضرورت ہوتی ہے انگلیاں اٹھانے والوں کو جواب دیا جاتا ہے۔

    نجی ٹی وی کو انٹرویو کے دوران افواج پاکستان کے ترجمان نے کہا کہ انگلیاں اٹھانے والوں کوجہاں جواب دینے کی ضرورت ہوتی ہے وہاں دیا جاتا ہے۔ انگلیاں اٹھانے والوں کو حکومت اچھے طریقے سے جواب دے رہی ہے۔ بے بنیاد الزامات کا کوئی وجود ہی نہیں ان کا جواب دینے کا کوئی فائدہ نہیں

    ان کا کہنا تھا کہ الحمدللہ عوام اورمیڈیا بڑے اچھے طریقے سے سمجھتے ہیں۔ پاکستان کے عوام اورمیڈیا اپنی فوج اوراداروں سے بہت محبت کرتے ہیں۔ ٹٹ فارٹیٹ صورتحال بنانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اپوزیشن کے لیے چائے کی آفر برقرار ہے۔

    پاک بھارت ڈی جی ایم اوز سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ملٹری ٹو ملٹری جومیکنزم ہے اسی کے تحت پاکستان اور بھارتی ڈی جی ایم اوز کا رابطہ ہوا ہے۔ ڈی جی ایم اوایک پرانا میکنزم ہے۔ میکنزم کے تحت جیسے بھی حالات ہورابطہ جاری رہتا ہے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ایک معاہدہ تھا جس کے تحت ڈی جی ایم اوز میں رابطہ کیا گیا، کوئی ایمرجینسی یا کوئی نئی صورتحال پیدا نہیں ہوئی جس وجہ سے رابطہ ہوا۔ یہ نہیں کہوں گا کسی دباوَ کے تحت یہ بات کی گئی۔

    میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر سیز فائر کا معاہدہ 2003 میں ری نیو ہوا تھا۔ 2014تک معاہدے پر بھر پور عمل کیا گیا۔ 2014ء سے 2021ء تک ایل او سی پر فائرنگ کے واقعات زیادہ ہیں۔

    اس سے قبل پاکستان اور انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) نے ایک دوسرے کے بنیادی معاملات اور تحفظات کو دور کرنے اور ایل او سی پر جنگ بندی پر سختی سے عمل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز نے ہاٹ لائن رابطے کے قائم کردہ طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور دیگر تمام سیکٹرز کی صورتحال کا آزاد، اچھے اور خوشگوار ماحول میں جائزہ لیا۔

    دونوں فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی طرح کی غیر متوقع صورتحال اور غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے موجودہ ہاٹ لائن رابطے کے طریقہ کار اور بارڈر فلیگ میٹنگز کا استعمال کیا جائے گا۔

  • پاکستان اور چین کا ماسٹر سٹروک، گھیرا تنگ، جال بچھ گیا، بھارت کی دوڑیں

    پاکستان اور چین کا ماسٹر سٹروک، گھیرا تنگ، جال بچھ گیا، بھارت کی دوڑیں

    پاکستان اور چین کا ماسٹر سٹروک، گھیرا تنگ، جال بچھ گیا، بھارت کی دوڑیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کیوں عمران خان کا دورہ سری لنکا کے موقع پر پارلیمنٹ سے خطاب کینسل کر دی گیا ہے، خان کے دورہ سری لنکا سے بھارت میں خطرے کی گھنٹیاں کیوں بج رہی ہیں، کیا خان صرف سر ی لنکا کے مسلمانوں کا مسلئہ حل کرنے گئے ہیں یا کہانی کچھ اور ہے۔ چین اور پاکستان بھارت کے گرد کیسے گھیرا تنگ کر رہے ہیں اور یہ وزٹ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
    اس وقت بڑا چرچہ ہے کہ چین نے بھارت کے بارڈر سے اپنی فوجین ہٹا لی ہیں۔ کیا یہ بھارت کی فتح ہے دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان کے دورہ سر ی لنکا اور بھارت چین تنازعہ کا آپس میں کیا تعلق ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس سارے معاملے کو سمجھنے کے لیئے ضروری ہے کہ ہم ا س بات کو سمجھ لیں کہ کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک اس کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات ٹھیک نہ ہوں اگر کوئی ہمسایہ ممالک مسلسل مسائل کھڑا کرتا رہے تو ترقی کا سفر جاری رکھنا مشکل ہو جاتا ہے یا پھر اس میں اتنی رکاوٹیں آ جاتی ہیں کہ دنوں کے کام سالوں پر محیط ہو جاتے ہیں۔ پہلے ہم بات کرتے ہیں چین اور بھارت کے درمیان لداخ میں ہونے والی ڈویلپمنٹ کی ، چین اور بھارت کے درمیان ایک سے زیادہ جگہ پر تنازعات ہیں۔ چین دنیا کی سپر پاور بننا چاہتا ہے جبکہ بھارت امریکہ کی مدد سے خطے کا تائیگر بننے کا خواہش مند ہے۔ ان دونوں کے تعلقات وقتی طور پر تو ٹھیک ہو سکتے ہیں لیکن مکمل امن کے لیئے ضروری ہے کہ دونوں میں سے ایک فریق اپنی ہار مان جائے اور دوسرے کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی نہ کرے۔ اس کے لیئے چین کو اپنے سپر پاور بننے کے خواب کو سائیڈ پر رکھنا پڑے گا جو کسی صورت ممکن نہیں ، اس خواب کے لیئے وہ امریکہ ، یورپ سمیت پوری دنیا سے ٹکرانے کے لیئے تیار ہے تو بھارت کس کھیت کی مولی ہے جبکہ چین پاکستان کو کسی صورت نہیں چھوڑ سکتا پاکستان نے ہر برے وقت میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ چین کا قابل اعتماد ساتھی ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے اپنے ڈیفینس کی ضروریات کو امریکہ سے ہٹا کر پاکستان کے ساتھ وابسطہ کر لیا ہے۔ اور پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر کے ہوتے ہوئے ایک میان میں نہیں آ سکتے۔ جبکہ بھارت چین اور پاکستان کے تعاون کو کسی صورت نظر انداز نہیں کر سکتا اور وہ اس کے راستے میں ہر رکاوٹ کو حائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اس مقصد کے لیئے اس نے روس تک کو ناراض کر کے امریکہ کی گود میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور بھارت اپنے ایشین ٹائیگر بننے کے موقف سے کسی صورت پیچھے ہٹنے کے لیئے تیار نہیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب یہ چیز تو ثابت ہے کہ دونون کسی بھی لحاظ سے پیچھے ہٹنے کے لیئے تیار نہیں ہیں ۔ اور جب تک پیچھے نہیں ہٹیں گے تو تعلقات ٹھیک ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس وقت بھارت اور چین کے درمیان ساڑھے تین ہزار کلومیٹر سرحد پر EasternWestern اور مڈل بارڈر پر جگڑا ہے۔ ایک طرف لداخ ہے تو دوسری طرف سکم جبکہ ارونا چل پردیش کو چین اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔ لداخ والی سائیڈ پر جوwestern border
    کہلاتا ہے وہاں بھی بھارت اور چین کے درمیان چار سے زاہد مقامات پر پھڈا ہے۔ DepsangHot springGogra postکے علاوہ ابھی صرفPanggong lake پر فوجیوں کو پیچھے ہٹا یا گیا ہے اور اس کی بھی ایک وجہ یہ ہے کہ بھارت نے گزشتہ سال اگست کے مہینے میں اہم چوٹیوں پر قبضہ کر لیا تھا جس کی وجہ سے چین کے لیئے فنگر فور کو چھوڑنا فائدے مند تھا جبکہ چین نے بھارت کو اس کے ہی علاقے میں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔اس لیئے دس مسائل میں سے کسی ایک جگہ پر چند کلومیٹر پیچھے ہٹنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معاملہ حل ہو گیا ہے۔ چین کسی بھی صورت اپنے تبت کے علاقے اور سی پیک کو متاثر نہیں ہونے دے گا اور اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر کشمیر میں بھارت کی گردن پر بیٹھا ہے اور اس کے لیئے ہر آئے دن مسائل میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

    پاکستان اور چین کا ماسٹر سٹروک، گھیرا تنگ، جال بچھ گیا، بھارت کی دوڑیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ چین یہ چاہتا ہے کہ جنگ کی صورت میں اسے کسی بھی قسم کا نقصان نہ ہو اور وہ کم سے کم نقصان میں بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے، چین کی یہ پالیسی ہے کہ جہاں وہ مضبوط ہوتا ہے وہ کمزور نظر آنے کی کوشش کرتا ہے اور جہاں وہ کمزور ہوتا ہے وہاں مضبوط ۔۔ تاکہ دشمن کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو جائے اور اس کی Calculation چین کے خلاف غلط ثابت ہو۔ چین چاہتا ہے کہ اگر بھارت کے پاس تلوار ہو تو وہ نیزا استعمال کرے، اگر بھارت کے پاس بندوق ہو تو چین توپ استعمال کرے اور اگر بھارت کے پاس توپ ہو تو چین جنگی جہاز استعمال کرے اور جنگی قابلیت میں بھارت کو اپنے قریب بھی نہ بھٹکنے دے۔ تاکہ کم سے کم نقصان ہو۔اس مقصد کے لیئے چین نے جنگی بنیادوں پر PLA میں تبدیلیاں کرنا شروع کر دی ہیں اور وہ بیک وقت نہ صرف امریکہ بلکہ خطے میں اس کے اتحادیوں کو بھی کاونٹر کرنے کی Streategy پر گامزن ہے۔ اس حوالے سے بھارت نہ صرف خطے میں بھارت کے اتحادی ہمسایوں کو اس سے دور کر رہا ہے بلکہ زمین، خلا، سمندر اور Cyber کے میدان میں اس کے خلاف جال بچھا رہا ہے۔ بڑے بڑے ڈیم بنا کر بھارت کی خشک سالی کا منصوبہ شروع کر دیا گیا ہے چین اپنی نئی جنگ informationاور Intelligence کی بنیاد پر لڑنے کی تیاری کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیئے اپنیStreategic short coming پر تیزی سے کام شروع کر دیا ہے۔ چین ہمیشہ ایک پالیسی پر گامزی رہتا ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جس کے مطابق اگر وہ بھاگ سکتا ہے تو بھاگتا ہے، اگر وہ چل سکتا ہے تو چلتا ہے اور اگر وہ رینگ سکتا ہے تو رینگتا ہے لیکن وہ کسی بھی صورت ایک جگہ پر کھڑا نہیں ہوتا۔ اور یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے دورہ سری لنکا کو دنیا اسی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ بھارت اور سری لنکا کے آپس میں اچھے تعلقات ہیں لیکن دنیا کو یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ جس طرح بھارت نے سری لنکا میں تامل ناڈو کی علیحدگی پسند تنظیموں کو سپورٹ کیا اور جیسے پاکستان نے سری لنکا کی ان کا قلا کما کرنے مین مدد کی یہ پاکستان کا سری لنکا پر بہت بڑا احسان ہے یہاں تک کہ پاکستان کے جنگی جہازوں اور پائلٹس نے بھی سری لنکا کی اس میں بڑی مدد کی تھی۔ بھارت کے قابل ذکر ہمسایوں میں پاکستان، نیپال، بھوٹان، بنگلہ دیش ، میانمار اور چین شامل ہیں۔ چین اور پاکستان کی بھارت سے محبت کوئی ڈھکی چھپی نہیں۔ بھارت اپنے چھوٹے ہمسایہ ممالک کی
    Arm twisting کے لیئے Regime change جیسے کھیل بھی کھیل رہا تھا اور اس کی ایک بڑی مثال بنگلہ دیش میں حسینہ واجد ہیں ۔ لیکن اب معاملات بدل رہے ہیں، چین نے بنگلہ دیش میں پچیس بلین ڈالر کی انویسٹمنٹ کی ہے
    وہاں BridgesHigh tech parksTank, submarine, ports اور پتا نہیں کیا کیا کر رہا ہے۔ بنگلہ دیش کی 8256اشیا پر ٹیرف پچانوے فیصد سے بھی کم کر دیا ہے، جس کے اثرات ہمیں واضح طور پر نظر آئے اور پاکستان کے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات میں بھی بہتری آئی جبکہ چین نے دریائے برہماپترا پر دنیا کے سب سے بڑے ڈیم کا اعلان کر کے بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں الگ سے کیل ٹھوک دیا ہے۔ اس سے پہلے بھارت اور بنگلہ دیش میں دریائے برہما پترا کے پانی کی تقسیم پر پھڈا چل رہا ہے بھارت اس کا55% جبکہ بنگلہ دیش اس کا 45% پانی استعمال کر رہا ہے۔ اور بنگلہ دیش اسے50\50کرنا چاہتا ہے لیکن چین کے ڈیم کے بعد بھارت بھی اس پر ڈیم بنانے کا منصوبہ بنا رہا ہے جو بنگلہ دیش کو کسی صورت قبول نہیں اور اس سے ان دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہو جائیں گے۔ چین میانمار کے ذریعہ Indian ocean تک پہنچنے کے منصوبے پر کام کر چکا ہے اور چین کے میانمار کے اثرو رسوخ کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ وہان فوج کے حکومت پلٹنے کے پیچے بھی چین کا ہاتھ بتایا جا رہا ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جہاں تک نیپال کی بات ہے تو وہاں بھی چین پاکستان کی مدد سے اسے سی پیک کا حصہ بنا رہا ہے جس کے بعد نیپال کو اپنی برآمدات اور درآمدات کے لیئے بھارت کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ نیپال ایک Landlockedملک ہے۔ بھوٹان پر ابھی تک بھارت کا اثرورسوخ ہے جس پر چین سکم کی طرف سے بڑی تیزی سے کام کر رہا ہے۔ اگر چین اس میں کامیاب ہو گیا تو بھارت کی Siliguri corridor پر گردن دبا کر سات ریاستوں کو الگ کرنا بھی مشکل نہیں ہو گا۔ چین بنگلہ دیش کی طرف سے بھی اس corridor کے ساتھ بھاری انویسٹمنٹ کر رہا ہے۔یہ بات تہہ ہے کہ بھارت کو کشمیر اور ارونا چل پردیش سے ایک نہ ایک دن ہاتھ دھونا پڑے گا۔ اب بات کرتے ہیں سری لنکا کی۔اس وقت پاکستان سمیت دیگر جگہوں پر یہ تاثر دیاجا رہا ہے کہ شائد وزیر اعظم پاکستان کے دورہ سری لنکا کا مقصد سری لنکا میں موجود دو لاکھ کے قریب مسلمانوں کے حقوق دلوانا ہے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان دنیا بھر کے پلیٹ فارمز پر چاہے فرانس کا معاملہ ہو یا توہین رسالت کاIslmaophobiaپر کھل کر بات کرتے آ رہے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ملکی مفاد ہی دور حاضر میں اصل حقیقت ہے۔ اور یہ ہم سعودی عرب اور عرب امارات کے معاملے میں دیکھ چکے ہیں ۔ عمران خان کوشش کریں گے سری لنکا کے مسلمانوں کو ان کے حقوق دلوا سکیں لیکن مسلمان ایغور میں بھی ہیں جنہیں قومی مفاد پر ترجیح نہیں د ی گئی۔ ہمیں افسانوی قصے کہانیوں سے نکل کر دنیا کی تلخ حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ عمران خان کے دورہ سری لنکا کا اصل مقصد بھارت کے تابوط میں آخری کیل ٹھوک کر اسے سری لنکا سے نکالنا ہے۔ اور اس کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ سری لنکا نے اپنی ایک بندرگارHambantota چین کو نناوے سال کی لیز پر دی ہوئی ہے جس سے بھارت کا چین کا سمندری راستہ روکنے کا خواب چکنا چور ہو گیا تھا جبکہ بھارت نے دو ہزار انیس میں سری لنکا میںColombo portپر East Container Terminalبنانے کا معاہدہ کیا تھا جسے سری لنکا نے فارغ کر دیا ہے اور اب بھارت اس پر شور مچا رہا ہے جبکہ عمران خان کے پارلیمنٹ میں خطاب کینسل کرنے کو بھارت کو خوش کرنے سے جوڑا جا رہا ہے اگر سری لنکا کو بھارت کو خوش کرنے کی اتنی ہی ٹینشن ہوتی تو کبھی بھی اس معاہدے کو کینسل کر کے یہ اعلان نہ کیا جاتا کہ اسے اب سری لنکا کی پورٹ اٹھارتی مکمل کرے گئی۔ چین اپنے تعلقات کے ساتھ ساتھ پاکستان اور سری لنکا کے تعلقات کو بھی بھارت کو سبق سیکھانے کے لیئے استعمال کر رہا ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس دورے میںbusiness and investment forumسمیتsports diplomacy پر بھی بات کی جائے گی اور بھارت کو سری لنکا سے نکالنے کے لیئے تمام آپشن پر غور کیا جائے گا۔جبکہ سری لنکا چاہتا ہے کہ اقوام متحدہ میں سری لنکا کے خلاف ہیومن رائٹ کے معاملات میں پاکستانOIC ممالک سے اسے حمایت دلوائے اور اس کے مسائل حل کرے اس کے بدلے میں اگر سری لنکا کے مسلمانوں کے مسائل حل ہوجائیں جو کہ میں سمجھتا ہوں کہ ایک مسلمان کے لیئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتا ہے تو عمران خان کی ایک بڑی اخلاقی اور سفارتی فتح ہو جائے گی۔ لیکن اس دورہ کا اصل مقصد صرف اور صرف بھارت کی ٹانگیں باندھنا اور اسے اس خطے میں تنہا کر نا ہے جس میں پاکستان اور چین 70% سے زیادہ کامیاب ہو چکا ہے۔

  • این اے75 ڈسکہ ضمنی الیکشن،دھاندلی کی شکایت پرالیکشن کمیشن نےبڑوں بڑوں کومعطل کرنے کا حکم جاری کردیا

    این اے75 ڈسکہ ضمنی الیکشن،دھاندلی کی شکایت پرالیکشن کمیشن نےبڑوں بڑوں کومعطل کرنے کا حکم جاری کردیا

    اسلام آباد:این اے75 ڈسکہ ضمنی الیکشن،دھاندلی کی شکایت پرالیکشن کمیشن نےبڑوں بڑوں کومعطل کرنے کا حکم جاری کردیا ،اطلاعات کے مطابق الیکشن کمشین نے ڈسکہ ضمنی انتخاب میں دھاندلی سے متعلق اہم حکم سناتے ہوئے بڑے بڑے افسران کو معطل کرنے کا حکم دے دیا

    ذرائع کے مطابق الیکشن کمشین نے اسسٹنٹ کمشنر ، ڈی ایس پی اور ڈی ایس پی سمبڑیال کو معطل کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی معطلی کی رپورٹ جلد جمع کروائی جائے

    ·

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے جاری حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ این اے 75میں کمشنراورآرپی اوکوعہدوں سےہٹادیا جائے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن نے کمشنراورآرپی اوکےخلاف کارروائی کےاحکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یقین دہانی کروائی جائے کہ ان کے خلاف کارروائی شروع ہوگئی ہے

    الیکشن کمیشن نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ اےسی،ایس ڈی پی اوکومعطل کیا جائے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ڈی سی،ڈی پی اوکومعطل کرنے کا حکم جاری کردیا ہے

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے الیکشن کمیشن نے چیف سیکریٹری اورآئی جی پنجاب وضاحت طلب کرلی ہے اوران واقعات پرعمل درآمد کرنے کا حکم بھی جاری کردیا ہے

  • سینیٹ الیکشن، پنجاب سے تمام جماعتوں کے تمام امیدوار بلا مقابلہ کامیاب

    سینیٹ الیکشن، پنجاب سے تمام جماعتوں کے تمام امیدوار بلا مقابلہ کامیاب

    سینیٹ الیکشن، پنجاب سے تمام جماعتوں کے تمام امیدوار بلا مقابلہ کامیاب
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ الیکشن میں پنجاب سے حصہ لینے والے پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق کے تمام امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوگئے۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستانذرائع کے مطابق پنجاب سے سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے والے اضافی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی واپس لینے کی وجہ سے تمام امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوگئے ہیں۔ ان میں پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے پانچ ، پانچ جبکہ مسلم لیگ ق کا ایک امیدوار شامل ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے امیدواروں کی کامیابی کا نوٹیفکیشن تین مارچ کو جاری کیا جائے گا۔ پنجاب سے جنرل نشست پر پاکستان تحریک انصاف کے سیف اللہ نیازی، عون عباس بپی اور اعجاز چوہدری کامیاب قرار پائے ہیں۔ ٹیکنوکریٹ سیٹ پر تحریک انصاف کے علی ظفر جبکہ خواتین کی نشست پر ڈاکٹر زرقا کامیاب ہوئی ہیں۔

    دوسری جانب مسلم لیگ ن کے مشاہد اللہ خان مرحوم کے صاحبزادے ڈاکٹر افنان اللہ خان، عرفان صدیقی اور علامہ ساجد میر جنرل نشست پر بلا مقابلہ کامیاب قرار پائے ہیں۔ ٹیکنو کریٹ کی نشست پر ن لیگ کے اعظم نذیر تارڑ جبکہ خواتین کی نشست پر سعدیہ عباسی کامیاب قرار دی گئی ہیں۔مسلم لیگ ق کے کامل علی آغابھی پنجاب سے بلا مقابلہ سینیٹر منتخب ہوگئے۔

    عظیم الحق منہاس اورسیف الملکوک کھوکھرنےکاغذات نامزدگی واپس لےلیے، سینیٹرزکی کامیابی کا نوٹیفکیشن کل جاری کیا جائے گا،

    دوسری جانب کاغذات نامزدگی واپس لینے کا وقت ختم ہو گیا ہے،سندھ میں سینیٹ کی گیارہ نشتوں پر 17 امیدواروں میں مقابلہ ہوگا۔ سندھ سے سینیٹ انتخابات کیلئے پیپلز پارٹی کے گیارہ امیدوار میدان میں ہیں۔ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی دو، دو جبکہ جی ڈی اے اور ٹی ایل پی کا ایک، ایک امیدوار مقابلے پر ہے۔ٹیکنوکریٹ پر پیپلز پارٹی کے دو، پی ٹی آئی اور ٹی ایل پی کا ایک، ایک امیدوار مقابلے پر ہے۔خواتین کی مخصوص نشست پر پیپلز پارٹی کے دو اور ایم کیو ایم کا ایک امیدوار ہے۔ تحریک انصاف کی طرف سے کوئی خاتون امیدوار نہیں ہے۔