Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی: پاکستان گرے لسٹ میں‌ ہی رہے گا:مزیداقدامات کا ہدف دے دیا گیا

    مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی: پاکستان گرے لسٹ میں‌ ہی رہے گا:مزیداقدامات کا ہدف دے دیا گیا

    لاہور:مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی: پاکستان گرے لسٹ میں‌ ہی رہے گا:مزیداقدامات کا ہدف دے دیا گیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان کی تمام محنتوں اورکاوشوں کی پھر بے توقیری کی گئی ہے

    ادھر ذرائع کے مطابق 22 فروری سے ایف اے ٹی آیف کے جاری اجلاس میں جہاں پاکستان یہ امید لگائے بیٹھا تھا کہ پاکستان کی کوششوں کی قدر کی جائے گی ، لیکن پاکستان کو اس وقت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب ایف اے ٹی ایف سرگرم بھارتی ، امریکہ لابی پاکستان کوگرے لسٹ سے نکالنے میں رکاوٹ بننے میں کامیاب ہوگئی

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اس اجلاس میں اس بات کا اعتراف تو کیا گیا ہے کہ پاکستان نے 27 میں 24 نقات پرعمل کردکھایا ہے لیکن 3 نقات پرعمل کرنا ابھی باقی ہے

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق اس اجلاس کے اختتام پر پاکستان کومزید اقدامات کی تاکید کرتے ہوئے جون 2021 تک پھرمہلت دی گئی ہے ،ساتھ ہی یہ کہا گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی میں معاونت روکنے میں ابھی کامیاب نظرنہیں آرہا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ امریکہ اوربھارت نے پچھلے تین دن سے ایف اے ٹی ایف میں‌شامل ممالک کو اپروچ کیا اوردباو ڈالنے میں کامیاب رہے

    ساتھ ہی ساتھ ایف اے ٹی ایف نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے پاکستان کےاقدامات کی تعریف کی ہے۔ حکام کا ‏کہنا ہے کہ پاکستان نے27میں سے 24پوائنٹس پر زبردست کام کیا۔

    ایف اےٹی ایف حکام کے مطابق پاکستان نےکاؤنٹرفنانس ٹیررازم سےمتعلق بہترین کام کیا ہے ‏پاکستان کےقانون نافذ کرنے والےاداروں نے ٹیررفنانس کی نشاندہی کی اور نشاندہی کیساتھ جانچ ‏پڑتال کر کے بھرپور ایکشن بھی لیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نےلسٹڈ افراد اور اثاثوں کو ایک سےدوسری جگہ منتقل ‏ہونےسےروکا جب کہ ایسے لسٹڈافرادکےاثاثوں کواپنی تحویل میں بھی لیا۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان نےتمام ایکشن پلان پرایک جامع لائحہ عمل اپنایا ہے۔ اور اب ایف ‏اےٹی ایف کاآئندہ اجلاس جون2021 میں ہوگا۔

    یاد رہے جون 2018 میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو اپنی گرے لسٹ میں شامل کیا ، اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھانے کے لیے پاکستان کو اکتوبر 2019 تک وقت دیا گیا، جس میں بعد میں مزید چار ماہ توسیع کر دی گئی تھی۔

    واضح رہے ایف اے ٹی ایف کے گرے لسٹ میں جانے کے بعد پاکستان نے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق موجودہ قوانین میں ترامیم کے ساتھ ساتھ بیشتر نمایاں اقدامات اٹھائے ، جن میں کالعدم تنظیموں کے خلاف ایکشن اور گرفتاریاں بھی شامل ہیں

  • جوممالک بیت المقدس میں سفارتخانہ کھولیں گےان کومفت ویکسین    دی جائےگی:اسرائیل نےانسانی جانوں پرسیاست شروع کردی

    جوممالک بیت المقدس میں سفارتخانہ کھولیں گےان کومفت ویکسین دی جائےگی:اسرائیل نےانسانی جانوں پرسیاست شروع کردی

    اسرائیل کورونا وائرس کی عالمی وبا میں بھی انسانیت کے بجائے سفارتکاری کو ترجیح دے رہا ہے۔ اسرائیل نے فلسطینیوں کے بجائے یروشلم میں سفارتی موجودگی کو یقینی بنانے والے اتحادی ملکوں کو ہزاروں کی تعداد میں فاضل ویکسین بھیجنے کا وعدہ بھی کیا ہے اور اعادہ بھی کیا ہے

    اسرائیل وزیراعظم نیتن یاہو نے مقبوضہ بیت المقدس میں سفارت خانے کھولنے والے ممالک کو مفت کورونا ویکسین کی فراہمی کا اعلان کردیا ہے ۔ اسرائیل نے اب تک تین ممالک ہندوراس، گواٹیمالا اور جمہوریہ چیک کو مفت ویکسین فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    گواٹیمالا نے مئی 2019 میں امریکہ کے ساتھ اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کیا تھا جبکہ باقی دونوں ممالک نے سفارت خانہ منتقلی کا وعدہ کیا ہے ۔ نیتن یاہو کے اس اقدام کو اسرائیلی حکومت کی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے ۔

    اسرائیلی وزیردفاع گانٹس نے کہا ہے کہ وزیراعظم ایک جمہوری ملک کے حکمران کے بجائے کسی سلطنت کے فرمان رواں کی طرح فیصلے کررہے ہیں ۔ بیشتر اسرائیلی وزرا نے اس عمل کو کورونا کے ذریعے تجارت قراردیا ہے ۔

    امریکی اور اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے چیک ری پبلک، ہنڈوراس، ہنگری اور گوئٹے مالا کو اضافی ویکسین بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔

    ناقدین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اپنے زیرِ تسلط فلسطینیوں کو ویکسین فراہم کرنے کی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا بلکہ ویکسین کو ہتھیار کی طرح استعمال کر رہا ہے اور یہ کہ اسرائیل اپنی ذمہ داری پوری نہ کرنے کے لیے اوسلو معاہدے کے تحت فلسطینی اتھارٹی کو ملنے والی انتہائی محدود خود مختاری کو جواز بنا رہا ہے۔

    یہ ویکسین سفارتکاری کی تازہ مثال ہے جس میں امیر ممالک غریب ملکوں سے اپنی بات منوانے کے لیے کورونا ویکسین کو بطور ہتھیار استعمل کر رہے ہیں۔
    خیال رہے کہ اسرائیل کورونا ویکسین لگوانے والا دنیا کا پہلا ملک ہے ۔

    اب تک ملک کی آدھی آبادی کو دو مرتبہ جبکہ باقی کو ایک مرتبہ ویکسین لگایا گیا ہے ۔ دوسری مرتبہ لگانے والوں کو گرین کارڈ دیا جاتا ہے جنہیں کیرنٹین ہونے کا کبھی پابند نہیں ہونا پڑے گا ۔

    اسرائیلی حکومت نے امریکی فائزر اورجرمنی بیونٹک لگوائی ہے مگر اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے پاس امریکی کمپنی موڈیرنا کے بھی ایک لاکھ ویکسین پڑے ہیں ۔

  • جہاں ضرورت ہوتی ہے انگلیاں اٹھانے والوں کو جواب دیا جاتا ہے:چائے ضرورپلائیں گے:میجرجنرل بابر افتخار

    جہاں ضرورت ہوتی ہے انگلیاں اٹھانے والوں کو جواب دیا جاتا ہے:چائے ضرورپلائیں گے:میجرجنرل بابر افتخار

    راولپنڈی:جہاں ضرورت ہوتی ہے انگلیاں اٹھانے والوں کو جواب دیا جاتا ہے:چائے ضرورپلائیں گے:اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو چائے کی دعوت برقرار ہے۔ جہاں ضرورت ہوتی ہے انگلیاں اٹھانے والوں کو جواب دیا جاتا ہے۔

    نجی ٹی وی کو انٹرویو کے دوران افواج پاکستان کے ترجمان نے کہا کہ انگلیاں اٹھانے والوں کوجہاں جواب دینے کی ضرورت ہوتی ہے وہاں دیا جاتا ہے۔ انگلیاں اٹھانے والوں کو حکومت اچھے طریقے سے جواب دے رہی ہے۔ بے بنیاد الزامات کا کوئی وجود ہی نہیں ان کا جواب دینے کا کوئی فائدہ نہیں

    ان کا کہنا تھا کہ الحمدللہ عوام اورمیڈیا بڑے اچھے طریقے سے سمجھتے ہیں۔ پاکستان کے عوام اورمیڈیا اپنی فوج اوراداروں سے بہت محبت کرتے ہیں۔ ٹٹ فارٹیٹ صورتحال بنانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اپوزیشن کے لیے چائے کی آفر برقرار ہے۔

    پاک بھارت ڈی جی ایم اوز سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ملٹری ٹو ملٹری جومیکنزم ہے اسی کے تحت پاکستان اور بھارتی ڈی جی ایم اوز کا رابطہ ہوا ہے۔ ڈی جی ایم اوایک پرانا میکنزم ہے۔ میکنزم کے تحت جیسے بھی حالات ہورابطہ جاری رہتا ہے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ایک معاہدہ تھا جس کے تحت ڈی جی ایم اوز میں رابطہ کیا گیا، کوئی ایمرجینسی یا کوئی نئی صورتحال پیدا نہیں ہوئی جس وجہ سے رابطہ ہوا۔ یہ نہیں کہوں گا کسی دباوَ کے تحت یہ بات کی گئی۔

    میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر سیز فائر کا معاہدہ 2003 میں ری نیو ہوا تھا۔ 2014تک معاہدے پر بھر پور عمل کیا گیا۔ 2014ء سے 2021ء تک ایل او سی پر فائرنگ کے واقعات زیادہ ہیں۔

    اس سے قبل پاکستان اور انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) نے ایک دوسرے کے بنیادی معاملات اور تحفظات کو دور کرنے اور ایل او سی پر جنگ بندی پر سختی سے عمل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز نے ہاٹ لائن رابطے کے قائم کردہ طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور دیگر تمام سیکٹرز کی صورتحال کا آزاد، اچھے اور خوشگوار ماحول میں جائزہ لیا۔

    دونوں فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی طرح کی غیر متوقع صورتحال اور غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے موجودہ ہاٹ لائن رابطے کے طریقہ کار اور بارڈر فلیگ میٹنگز کا استعمال کیا جائے گا۔

  • پاکستان اور چین کا ماسٹر سٹروک، گھیرا تنگ، جال بچھ گیا، بھارت کی دوڑیں

    پاکستان اور چین کا ماسٹر سٹروک، گھیرا تنگ، جال بچھ گیا، بھارت کی دوڑیں

    پاکستان اور چین کا ماسٹر سٹروک، گھیرا تنگ، جال بچھ گیا، بھارت کی دوڑیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کیوں عمران خان کا دورہ سری لنکا کے موقع پر پارلیمنٹ سے خطاب کینسل کر دی گیا ہے، خان کے دورہ سری لنکا سے بھارت میں خطرے کی گھنٹیاں کیوں بج رہی ہیں، کیا خان صرف سر ی لنکا کے مسلمانوں کا مسلئہ حل کرنے گئے ہیں یا کہانی کچھ اور ہے۔ چین اور پاکستان بھارت کے گرد کیسے گھیرا تنگ کر رہے ہیں اور یہ وزٹ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
    اس وقت بڑا چرچہ ہے کہ چین نے بھارت کے بارڈر سے اپنی فوجین ہٹا لی ہیں۔ کیا یہ بھارت کی فتح ہے دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان کے دورہ سر ی لنکا اور بھارت چین تنازعہ کا آپس میں کیا تعلق ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس سارے معاملے کو سمجھنے کے لیئے ضروری ہے کہ ہم ا س بات کو سمجھ لیں کہ کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک اس کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات ٹھیک نہ ہوں اگر کوئی ہمسایہ ممالک مسلسل مسائل کھڑا کرتا رہے تو ترقی کا سفر جاری رکھنا مشکل ہو جاتا ہے یا پھر اس میں اتنی رکاوٹیں آ جاتی ہیں کہ دنوں کے کام سالوں پر محیط ہو جاتے ہیں۔ پہلے ہم بات کرتے ہیں چین اور بھارت کے درمیان لداخ میں ہونے والی ڈویلپمنٹ کی ، چین اور بھارت کے درمیان ایک سے زیادہ جگہ پر تنازعات ہیں۔ چین دنیا کی سپر پاور بننا چاہتا ہے جبکہ بھارت امریکہ کی مدد سے خطے کا تائیگر بننے کا خواہش مند ہے۔ ان دونوں کے تعلقات وقتی طور پر تو ٹھیک ہو سکتے ہیں لیکن مکمل امن کے لیئے ضروری ہے کہ دونوں میں سے ایک فریق اپنی ہار مان جائے اور دوسرے کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی نہ کرے۔ اس کے لیئے چین کو اپنے سپر پاور بننے کے خواب کو سائیڈ پر رکھنا پڑے گا جو کسی صورت ممکن نہیں ، اس خواب کے لیئے وہ امریکہ ، یورپ سمیت پوری دنیا سے ٹکرانے کے لیئے تیار ہے تو بھارت کس کھیت کی مولی ہے جبکہ چین پاکستان کو کسی صورت نہیں چھوڑ سکتا پاکستان نے ہر برے وقت میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ چین کا قابل اعتماد ساتھی ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے اپنے ڈیفینس کی ضروریات کو امریکہ سے ہٹا کر پاکستان کے ساتھ وابسطہ کر لیا ہے۔ اور پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر کے ہوتے ہوئے ایک میان میں نہیں آ سکتے۔ جبکہ بھارت چین اور پاکستان کے تعاون کو کسی صورت نظر انداز نہیں کر سکتا اور وہ اس کے راستے میں ہر رکاوٹ کو حائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اس مقصد کے لیئے اس نے روس تک کو ناراض کر کے امریکہ کی گود میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور بھارت اپنے ایشین ٹائیگر بننے کے موقف سے کسی صورت پیچھے ہٹنے کے لیئے تیار نہیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب یہ چیز تو ثابت ہے کہ دونون کسی بھی لحاظ سے پیچھے ہٹنے کے لیئے تیار نہیں ہیں ۔ اور جب تک پیچھے نہیں ہٹیں گے تو تعلقات ٹھیک ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس وقت بھارت اور چین کے درمیان ساڑھے تین ہزار کلومیٹر سرحد پر EasternWestern اور مڈل بارڈر پر جگڑا ہے۔ ایک طرف لداخ ہے تو دوسری طرف سکم جبکہ ارونا چل پردیش کو چین اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔ لداخ والی سائیڈ پر جوwestern border
    کہلاتا ہے وہاں بھی بھارت اور چین کے درمیان چار سے زاہد مقامات پر پھڈا ہے۔ DepsangHot springGogra postکے علاوہ ابھی صرفPanggong lake پر فوجیوں کو پیچھے ہٹا یا گیا ہے اور اس کی بھی ایک وجہ یہ ہے کہ بھارت نے گزشتہ سال اگست کے مہینے میں اہم چوٹیوں پر قبضہ کر لیا تھا جس کی وجہ سے چین کے لیئے فنگر فور کو چھوڑنا فائدے مند تھا جبکہ چین نے بھارت کو اس کے ہی علاقے میں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔اس لیئے دس مسائل میں سے کسی ایک جگہ پر چند کلومیٹر پیچھے ہٹنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معاملہ حل ہو گیا ہے۔ چین کسی بھی صورت اپنے تبت کے علاقے اور سی پیک کو متاثر نہیں ہونے دے گا اور اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر کشمیر میں بھارت کی گردن پر بیٹھا ہے اور اس کے لیئے ہر آئے دن مسائل میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

    پاکستان اور چین کا ماسٹر سٹروک، گھیرا تنگ، جال بچھ گیا، بھارت کی دوڑیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ چین یہ چاہتا ہے کہ جنگ کی صورت میں اسے کسی بھی قسم کا نقصان نہ ہو اور وہ کم سے کم نقصان میں بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے، چین کی یہ پالیسی ہے کہ جہاں وہ مضبوط ہوتا ہے وہ کمزور نظر آنے کی کوشش کرتا ہے اور جہاں وہ کمزور ہوتا ہے وہاں مضبوط ۔۔ تاکہ دشمن کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو جائے اور اس کی Calculation چین کے خلاف غلط ثابت ہو۔ چین چاہتا ہے کہ اگر بھارت کے پاس تلوار ہو تو وہ نیزا استعمال کرے، اگر بھارت کے پاس بندوق ہو تو چین توپ استعمال کرے اور اگر بھارت کے پاس توپ ہو تو چین جنگی جہاز استعمال کرے اور جنگی قابلیت میں بھارت کو اپنے قریب بھی نہ بھٹکنے دے۔ تاکہ کم سے کم نقصان ہو۔اس مقصد کے لیئے چین نے جنگی بنیادوں پر PLA میں تبدیلیاں کرنا شروع کر دی ہیں اور وہ بیک وقت نہ صرف امریکہ بلکہ خطے میں اس کے اتحادیوں کو بھی کاونٹر کرنے کی Streategy پر گامزن ہے۔ اس حوالے سے بھارت نہ صرف خطے میں بھارت کے اتحادی ہمسایوں کو اس سے دور کر رہا ہے بلکہ زمین، خلا، سمندر اور Cyber کے میدان میں اس کے خلاف جال بچھا رہا ہے۔ بڑے بڑے ڈیم بنا کر بھارت کی خشک سالی کا منصوبہ شروع کر دیا گیا ہے چین اپنی نئی جنگ informationاور Intelligence کی بنیاد پر لڑنے کی تیاری کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیئے اپنیStreategic short coming پر تیزی سے کام شروع کر دیا ہے۔ چین ہمیشہ ایک پالیسی پر گامزی رہتا ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جس کے مطابق اگر وہ بھاگ سکتا ہے تو بھاگتا ہے، اگر وہ چل سکتا ہے تو چلتا ہے اور اگر وہ رینگ سکتا ہے تو رینگتا ہے لیکن وہ کسی بھی صورت ایک جگہ پر کھڑا نہیں ہوتا۔ اور یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے دورہ سری لنکا کو دنیا اسی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ بھارت اور سری لنکا کے آپس میں اچھے تعلقات ہیں لیکن دنیا کو یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ جس طرح بھارت نے سری لنکا میں تامل ناڈو کی علیحدگی پسند تنظیموں کو سپورٹ کیا اور جیسے پاکستان نے سری لنکا کی ان کا قلا کما کرنے مین مدد کی یہ پاکستان کا سری لنکا پر بہت بڑا احسان ہے یہاں تک کہ پاکستان کے جنگی جہازوں اور پائلٹس نے بھی سری لنکا کی اس میں بڑی مدد کی تھی۔ بھارت کے قابل ذکر ہمسایوں میں پاکستان، نیپال، بھوٹان، بنگلہ دیش ، میانمار اور چین شامل ہیں۔ چین اور پاکستان کی بھارت سے محبت کوئی ڈھکی چھپی نہیں۔ بھارت اپنے چھوٹے ہمسایہ ممالک کی
    Arm twisting کے لیئے Regime change جیسے کھیل بھی کھیل رہا تھا اور اس کی ایک بڑی مثال بنگلہ دیش میں حسینہ واجد ہیں ۔ لیکن اب معاملات بدل رہے ہیں، چین نے بنگلہ دیش میں پچیس بلین ڈالر کی انویسٹمنٹ کی ہے
    وہاں BridgesHigh tech parksTank, submarine, ports اور پتا نہیں کیا کیا کر رہا ہے۔ بنگلہ دیش کی 8256اشیا پر ٹیرف پچانوے فیصد سے بھی کم کر دیا ہے، جس کے اثرات ہمیں واضح طور پر نظر آئے اور پاکستان کے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات میں بھی بہتری آئی جبکہ چین نے دریائے برہماپترا پر دنیا کے سب سے بڑے ڈیم کا اعلان کر کے بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں الگ سے کیل ٹھوک دیا ہے۔ اس سے پہلے بھارت اور بنگلہ دیش میں دریائے برہما پترا کے پانی کی تقسیم پر پھڈا چل رہا ہے بھارت اس کا55% جبکہ بنگلہ دیش اس کا 45% پانی استعمال کر رہا ہے۔ اور بنگلہ دیش اسے50\50کرنا چاہتا ہے لیکن چین کے ڈیم کے بعد بھارت بھی اس پر ڈیم بنانے کا منصوبہ بنا رہا ہے جو بنگلہ دیش کو کسی صورت قبول نہیں اور اس سے ان دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہو جائیں گے۔ چین میانمار کے ذریعہ Indian ocean تک پہنچنے کے منصوبے پر کام کر چکا ہے اور چین کے میانمار کے اثرو رسوخ کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ وہان فوج کے حکومت پلٹنے کے پیچے بھی چین کا ہاتھ بتایا جا رہا ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جہاں تک نیپال کی بات ہے تو وہاں بھی چین پاکستان کی مدد سے اسے سی پیک کا حصہ بنا رہا ہے جس کے بعد نیپال کو اپنی برآمدات اور درآمدات کے لیئے بھارت کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ نیپال ایک Landlockedملک ہے۔ بھوٹان پر ابھی تک بھارت کا اثرورسوخ ہے جس پر چین سکم کی طرف سے بڑی تیزی سے کام کر رہا ہے۔ اگر چین اس میں کامیاب ہو گیا تو بھارت کی Siliguri corridor پر گردن دبا کر سات ریاستوں کو الگ کرنا بھی مشکل نہیں ہو گا۔ چین بنگلہ دیش کی طرف سے بھی اس corridor کے ساتھ بھاری انویسٹمنٹ کر رہا ہے۔یہ بات تہہ ہے کہ بھارت کو کشمیر اور ارونا چل پردیش سے ایک نہ ایک دن ہاتھ دھونا پڑے گا۔ اب بات کرتے ہیں سری لنکا کی۔اس وقت پاکستان سمیت دیگر جگہوں پر یہ تاثر دیاجا رہا ہے کہ شائد وزیر اعظم پاکستان کے دورہ سری لنکا کا مقصد سری لنکا میں موجود دو لاکھ کے قریب مسلمانوں کے حقوق دلوانا ہے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان دنیا بھر کے پلیٹ فارمز پر چاہے فرانس کا معاملہ ہو یا توہین رسالت کاIslmaophobiaپر کھل کر بات کرتے آ رہے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ملکی مفاد ہی دور حاضر میں اصل حقیقت ہے۔ اور یہ ہم سعودی عرب اور عرب امارات کے معاملے میں دیکھ چکے ہیں ۔ عمران خان کوشش کریں گے سری لنکا کے مسلمانوں کو ان کے حقوق دلوا سکیں لیکن مسلمان ایغور میں بھی ہیں جنہیں قومی مفاد پر ترجیح نہیں د ی گئی۔ ہمیں افسانوی قصے کہانیوں سے نکل کر دنیا کی تلخ حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ عمران خان کے دورہ سری لنکا کا اصل مقصد بھارت کے تابوط میں آخری کیل ٹھوک کر اسے سری لنکا سے نکالنا ہے۔ اور اس کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ سری لنکا نے اپنی ایک بندرگارHambantota چین کو نناوے سال کی لیز پر دی ہوئی ہے جس سے بھارت کا چین کا سمندری راستہ روکنے کا خواب چکنا چور ہو گیا تھا جبکہ بھارت نے دو ہزار انیس میں سری لنکا میںColombo portپر East Container Terminalبنانے کا معاہدہ کیا تھا جسے سری لنکا نے فارغ کر دیا ہے اور اب بھارت اس پر شور مچا رہا ہے جبکہ عمران خان کے پارلیمنٹ میں خطاب کینسل کرنے کو بھارت کو خوش کرنے سے جوڑا جا رہا ہے اگر سری لنکا کو بھارت کو خوش کرنے کی اتنی ہی ٹینشن ہوتی تو کبھی بھی اس معاہدے کو کینسل کر کے یہ اعلان نہ کیا جاتا کہ اسے اب سری لنکا کی پورٹ اٹھارتی مکمل کرے گئی۔ چین اپنے تعلقات کے ساتھ ساتھ پاکستان اور سری لنکا کے تعلقات کو بھی بھارت کو سبق سیکھانے کے لیئے استعمال کر رہا ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس دورے میںbusiness and investment forumسمیتsports diplomacy پر بھی بات کی جائے گی اور بھارت کو سری لنکا سے نکالنے کے لیئے تمام آپشن پر غور کیا جائے گا۔جبکہ سری لنکا چاہتا ہے کہ اقوام متحدہ میں سری لنکا کے خلاف ہیومن رائٹ کے معاملات میں پاکستانOIC ممالک سے اسے حمایت دلوائے اور اس کے مسائل حل کرے اس کے بدلے میں اگر سری لنکا کے مسلمانوں کے مسائل حل ہوجائیں جو کہ میں سمجھتا ہوں کہ ایک مسلمان کے لیئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتا ہے تو عمران خان کی ایک بڑی اخلاقی اور سفارتی فتح ہو جائے گی۔ لیکن اس دورہ کا اصل مقصد صرف اور صرف بھارت کی ٹانگیں باندھنا اور اسے اس خطے میں تنہا کر نا ہے جس میں پاکستان اور چین 70% سے زیادہ کامیاب ہو چکا ہے۔

  • این اے75 ڈسکہ ضمنی الیکشن،دھاندلی کی شکایت پرالیکشن کمیشن نےبڑوں بڑوں کومعطل کرنے کا حکم جاری کردیا

    این اے75 ڈسکہ ضمنی الیکشن،دھاندلی کی شکایت پرالیکشن کمیشن نےبڑوں بڑوں کومعطل کرنے کا حکم جاری کردیا

    اسلام آباد:این اے75 ڈسکہ ضمنی الیکشن،دھاندلی کی شکایت پرالیکشن کمیشن نےبڑوں بڑوں کومعطل کرنے کا حکم جاری کردیا ،اطلاعات کے مطابق الیکشن کمشین نے ڈسکہ ضمنی انتخاب میں دھاندلی سے متعلق اہم حکم سناتے ہوئے بڑے بڑے افسران کو معطل کرنے کا حکم دے دیا

    ذرائع کے مطابق الیکشن کمشین نے اسسٹنٹ کمشنر ، ڈی ایس پی اور ڈی ایس پی سمبڑیال کو معطل کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی معطلی کی رپورٹ جلد جمع کروائی جائے

    ·

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے جاری حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ این اے 75میں کمشنراورآرپی اوکوعہدوں سےہٹادیا جائے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن نے کمشنراورآرپی اوکےخلاف کارروائی کےاحکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یقین دہانی کروائی جائے کہ ان کے خلاف کارروائی شروع ہوگئی ہے

    الیکشن کمیشن نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ اےسی،ایس ڈی پی اوکومعطل کیا جائے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ڈی سی،ڈی پی اوکومعطل کرنے کا حکم جاری کردیا ہے

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے الیکشن کمیشن نے چیف سیکریٹری اورآئی جی پنجاب وضاحت طلب کرلی ہے اوران واقعات پرعمل درآمد کرنے کا حکم بھی جاری کردیا ہے

  • سینیٹ الیکشن، پنجاب سے تمام جماعتوں کے تمام امیدوار بلا مقابلہ کامیاب

    سینیٹ الیکشن، پنجاب سے تمام جماعتوں کے تمام امیدوار بلا مقابلہ کامیاب

    سینیٹ الیکشن، پنجاب سے تمام جماعتوں کے تمام امیدوار بلا مقابلہ کامیاب
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ الیکشن میں پنجاب سے حصہ لینے والے پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق کے تمام امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوگئے۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستانذرائع کے مطابق پنجاب سے سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے والے اضافی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی واپس لینے کی وجہ سے تمام امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوگئے ہیں۔ ان میں پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے پانچ ، پانچ جبکہ مسلم لیگ ق کا ایک امیدوار شامل ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے امیدواروں کی کامیابی کا نوٹیفکیشن تین مارچ کو جاری کیا جائے گا۔ پنجاب سے جنرل نشست پر پاکستان تحریک انصاف کے سیف اللہ نیازی، عون عباس بپی اور اعجاز چوہدری کامیاب قرار پائے ہیں۔ ٹیکنوکریٹ سیٹ پر تحریک انصاف کے علی ظفر جبکہ خواتین کی نشست پر ڈاکٹر زرقا کامیاب ہوئی ہیں۔

    دوسری جانب مسلم لیگ ن کے مشاہد اللہ خان مرحوم کے صاحبزادے ڈاکٹر افنان اللہ خان، عرفان صدیقی اور علامہ ساجد میر جنرل نشست پر بلا مقابلہ کامیاب قرار پائے ہیں۔ ٹیکنو کریٹ کی نشست پر ن لیگ کے اعظم نذیر تارڑ جبکہ خواتین کی نشست پر سعدیہ عباسی کامیاب قرار دی گئی ہیں۔مسلم لیگ ق کے کامل علی آغابھی پنجاب سے بلا مقابلہ سینیٹر منتخب ہوگئے۔

    عظیم الحق منہاس اورسیف الملکوک کھوکھرنےکاغذات نامزدگی واپس لےلیے، سینیٹرزکی کامیابی کا نوٹیفکیشن کل جاری کیا جائے گا،

    دوسری جانب کاغذات نامزدگی واپس لینے کا وقت ختم ہو گیا ہے،سندھ میں سینیٹ کی گیارہ نشتوں پر 17 امیدواروں میں مقابلہ ہوگا۔ سندھ سے سینیٹ انتخابات کیلئے پیپلز پارٹی کے گیارہ امیدوار میدان میں ہیں۔ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی دو، دو جبکہ جی ڈی اے اور ٹی ایل پی کا ایک، ایک امیدوار مقابلے پر ہے۔ٹیکنوکریٹ پر پیپلز پارٹی کے دو، پی ٹی آئی اور ٹی ایل پی کا ایک، ایک امیدوار مقابلے پر ہے۔خواتین کی مخصوص نشست پر پیپلز پارٹی کے دو اور ایم کیو ایم کا ایک امیدوار ہے۔ تحریک انصاف کی طرف سے کوئی خاتون امیدوار نہیں ہے۔

  • بھارت کی جانب سے سیزفائر پر آمادگی خوش آئند ہے،وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی

    بھارت کی جانب سے سیزفائر پر آمادگی خوش آئند ہے،وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پاک بھارت سیز فائر اتفاق کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سیز فائر پر آمادگی خوش آئند اور مستقبل کیلئے ایک اچھا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

    وزیر خارجہ کی جانب سے جاری اہم بیان میں بھارت کو خلوص نیت کیساتھ اس سیز فائر معاہدے کی پاسداری کرنا ہوگی۔ بھارت کے 5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اقدام کے بعد ماحول میں جو بگاڑ پیدا ہوا، اس کی درستگی کیلئے اسے اہم موقع سمجھتا ہوں۔

    پاک بھارت سیز فائر معاہدے کے حوالے سے وزیر خارجہ نے اہم بیان میں کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین جتنے سی بی ایم ہوئے، ان میں سب سے اہم سیز فائر معاہدہ تھا۔ بھارت کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کے خلاف ہم مسلسل احتجاج کرتے رہے۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ میں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو کئی خطوط ارسال کیے اور عالمی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کروائی،ہم نے واضح کیا کہ سیز فائر خلاف ورزیوں سے ہمارے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی سے جہاں خطے میں تنائو بڑھ رہا ہے وہاں امن و امان کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں ۔وزیر خارجہ نے کہا کہ میں آج پاک بھارت سیز فائر اتفاق کو اہم پیش رفت سمجھتا ہوں ،یہ مستقبل کیلئے ایک اچھا آغاز ثابت ہو سکتا ہے بھارت کو خلوص نیت کیساتھ اس سیز فائر معاہدے کی پاسداری کرنا ہو گی۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جب تک ماحول سازگار نہیں ہو گا ہم مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر پیش رفت کیسے کر سکیں گے۔میرا عالمی برادری کیساتھ جب جب رابطہ ہوا میں نے انہیں خطے کے امن وامان کو درپیش خطرات سے آگاہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت سرکار کو اپنی کشمیر پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔کشمیری، دہلی سرکار کی غلط پالیسیوں کے باعث ان سے دور ہو چکے ہیں۔آج کسان بھارت سرکار کے رویے سے نالاں ہیں اور سراپا احتجاج ہیں ۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر بھارت اس معاہدے کی پاسداری کرتا ہے تو یہ آئندہ کی طرف ایک مثبت قدم ہو گا۔بھارت کے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدام کے بعد ماحول میں جو بگاڑ پیدا ہوا اس کی درستگی کیلئے اسے اہم موقع سمجھتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان، ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے ۔میں بھارت کی جانب سے سیز فائر پر آمادگی کو “دیر آید درست آید” سمجھتا ہوں۔

  • این اے 75 ضمنی انتخابات،کون ٹھہرا کامیاب ؟ الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا

    این اے 75 ضمنی انتخابات،کون ٹھہرا کامیاب ؟ الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا

    این اے 75 ضمنی انتخابات،کون ٹھہرا کامیاب ؟ الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق این اے 75 ضمنی انتخابات، الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا

    این اے 75 انتخابات کالعدم قراردے دیئے گئے، این اے 75 میں دوبارہ الیکشن ہوں گے،18 مارچ کو دوبارہ اس حلقے میں انتخابات ہوں گے الیکشن کمیشن نے این اے 75ڈسکہ پر دوبارہ انتخابات کا حکم دے دیا پورے حلقے میں انتخابات سے متعلق مسلم لیگ ن کی درخواست منظورکر لی گئی،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پولنگ اسٹیشنز پر فائرنگ اور قتل و غارت ہوئی، این اے 75ضمنی انتخابات میں ماحول خراب کیا گیا،

    این اے 75 ڈسکہ میں بے ضابطگیوں کے کیس میں الیکشن کمیشن میں سماعت ہوئی۔ ن لیگ کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ کچھ اضافی دستاویزات جمع کرانا چاہتے ہیں، کچھ بڑے ثبوت جمع کرانا چاہتے ہیں۔ جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا آپ گذشتہ سماعت پر دلائل مکمل کرچکے۔سلمان اکرم راجہ نے کمیشن کو بتایا کہ کچھ اضافی چیزوں پر دلائل دینا چاہتا ہوں، الیکشن کمیشن کی پریس ریلیز تاریخی ڈاکیومنٹ ہے، یہ 23 پولنگ سٹیشنز کا نہیں پورے حلقہ کا معاملہ ہے۔

    پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ تاخیر سے پہنچنے کو ٹمپرنگ سمجھنا مفروضہ ہے، الیکشن کمیشن ووٹنگ سے روکنے پر کارروائی کرسکتا ہے، انکوائری ٹرائل الیکشن کمیشن نہیں الیکشن ٹربیونل کا مینڈیٹ ہے۔ ممبر الیکشن کمیشن نثار درانی نے کہا کہ کیا پریذائیڈنگ افسران کا غائب ہونا قانون کی خلاف ورزی نہیں ؟ جس پر علی ظفر نے کہا میرے مطابق پریذائیڈنگ افسران کا غائب ہونا خلاف قانون نہیں تھا، ان پریذائیڈنگ افسران نے وضاحت دے دی ہے۔

    علی ظفر نے کہا کہ نوشین افتخار نے پہلے کہا 23 پولنگ اسٹیشن پر دوبارہ الیکشن کرائیں،باقی اسٹیشن ٹھیک ہیں الیکشن کمیشن کے سامنے 23 پولنگ اسٹیشن کا مسئلہ ہے جہاں نتائج تاخیر سے آئے ،آر او نے فائنل رپورٹ میں کہا کہ ان 20 پولنگ اسٹیشن پر دوبارہ پولنگ کرائیں ، آراو اس نتیجےپر پہنچا کہ پی او کےتاخیر سے پہنچنے پرگمان ہوا کہ وہاں دھاندلی ہوئی آراو نے کہا 6 کے نتائج فارم45 سے میچ ہیں اس لیے ان میں ردوبدل نہیں کرائی گئی

    ممبر پنجاب الطاف ابراہیم قریشی نے علی اسجد ملہی کو ڈانٹ دیا۔ ممبر پنجاب نے کہا کہ آپ نے جرسی اپنے گلے میں لٹکائی ہوئی ہے جو مناسب انداز نہیں، باہر جا کر جرسی اتاریں اور آکر بولیں۔ علی اسجد ملہی نے الیکشن کمیشن سے معذرت کر کے باہر جاکر جرسی اتاری۔

    مسلم لیگ ن کی این اے 75 سے امیدوار نوشین افتخار نے چیف الیکشن کمشنرکو درخواست کی تھی جس پر چیف الیکشن کمشنر نے نتائج روک دیئے،نوشین افتخار کی جانب سے دی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ انتخابات میں 23 پولنگ ا سٹیشن کا عملہ انتخابی نتائج سمیت غائب ہے،اب تک 335 اسٹیشنوں کےنتائج مرتب کیے گئے ہیں،ریٹرننگ افسر نے پریزائیڈانگ افسران اور عملے کی بازیابی پر بے بسی کا اظہارکیا مسنگ نتائج کے حوالے سے شکوک شبہات پائے جاتے ہیں،مسنگ 30 پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج معطل کرکے ان کا فرانزک آڈٹ کروایاجائے،الیکشن کمیشن کی طرف سے پوری صورتحال کے جائزے تک نتیجہ روک دیاجائے،مسنگ 23 اورڈسکہ سٹی کے 36 پولنگ ا سٹیشنوں میں دوبارہ انتخابات کروائے جائیں

    پولنگ ایجنٹس پولنگ بیگ سمیت لا پتہ ہوئے، عمران خان پر مقدمہ ہونا چاہئے،مریم اورنگزیب

    این اے 75 کے337 پولنگ سٹیشنزکے نتائج بدلے یا نہیں؟ دوران سماعت اہم انکشاف

    این اے 75،پی ٹی آئی کی استدعا ، دوران سماعت چیف الیکشن کمشنر کا بڑا اعلان

    ہمارے لوگ شہید ہوئے، کن شہروں سے غنڈوں کو لایا گیا،علی اسجد ملہی کا اہم انکشاف

    ڈی ایس پی نے مجھ پر تشدد کیا اور میری چادر کھینچ لی،یہ لڑائی میری نہیں بلکہ، نوشین افتخار برس پڑی

    ن لیگ جو الیکشن جیتے وہ ٹھیک ہے، جو ہارے وہاں دھاندلی،شبلی فرازبرس پڑے

    معاملہ خراب کرنے کا الزام نہ لگائیں تحقیقات کریں،رانا ثناء اللہ کا چیلنج

    ڈسکہ میں جو کچھ ہوا ہے اس پر مٹی نہ ڈالی جائے،ن لیگی وکیل کے دلائل

    کیا 20 پولنگ کے علاوہ باقی پولنگ اسٹیشن پر آپکی امیدوار جیت نہیں رہی؟ چیف الیکشن کمشنر کا سوال؟

    ن لیگ کے افتخار الحسن عرف ظاہرے شاہ کے انتقال سے خالی ہونیوالی نشست این اے 75 ڈسکہ پر رات ساڑھے چار بجے تک زبر دست مقابلہ چل رہا تھا ، ادھر این اے 75 ڈسکہ میں سارا دن کشیدگی کا ماحول رہا، موٹر سائیکل سوار افراد کھلے عام جدید اسلحہ لیے سڑکوں پر دندناتے رہے، پولنگ کے دوران لڑائی جھگڑے کے واقعات بھی ہوئے اس دوران ایک پولنگ سٹیشن پر جھگڑے کے بعد فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق اور 10 زخمی ہوگئے۔

    پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما احسن اقبال نے ڈسکہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ این اے 75 میں جعلسازی کے ساتھ نتائج بنائے گئے، پریذائیڈنگ آفیسرز کو اغوا کیا گیا، انکوائری ہونے چاہیے کہ کن لوگوں نے یہ کام کیا، ان پولنگ سٹیشنز میں دوبارہ پولنگ ہونی چاہیے۔

  • دیکھا وہی ہوا جس کا ڈرتھا:پاکستانی وزیراعظم نے سری لنکا میں کھل کرمسئلہ کشمیراٹھایا:بھارتی اسٹیبلشمنٹ کا سخت ردعمل آگیا

    دیکھا وہی ہوا جس کا ڈرتھا:پاکستانی وزیراعظم نے سری لنکا میں کھل کرمسئلہ کشمیراٹھایا:بھارتی اسٹیبلشمنٹ کا سخت ردعمل آگیا

    کولمبو: دیکھا وہی ہوا جس کا ڈرتھا:پاکستانی وزیراعظم نے سری لنکا میں کھل کرمسئلہ کشمیراٹھایا:بھارت چیخنے لگا،اطلاعات کے مطابق بھارت میں اس وقت کہرام مچا ہوا ہے اوردہلی سے لیکر واشنگٹن تک اور واشنگٹن سے لیکر تل ابیب تک وزیراعظم عمران خان کے دورہ سری لنکا کے دوران مسئلہ کشمیر اٹھانے پر سخت پریشان ہیں

    بھارتی دفاعی حکام کہتے ہیں کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ہندوستان کے ساتھصرف مسئلہ کشمیر کا تنازعہ ہے اور اسے بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ سری لنکا پاکستان تجارتی اور سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ، خان نے کہا کہ انہوں نے 2018 میں وزیر اعظم منتخب ہونے پر ہندوستان کو امن مذاکرات کرنے کی تجویز پیش کی تھی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔

    خان نے سری لنکا کے وزیر اعظم مہندا راج پکشے کے ساتھ اس کانفرنس کی صدارت کی۔ انہوں نے کہا ، ہمارا تنازعہ صرف کشمیر کے بارے میں ہے اور اس کو بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔اس ماہ کے شروع میں ، ہندوستان نے کہا تھا کہ وہ دہشت گردی ، تشدد اور عدم استحکام سے پاک ماحول میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا چاہتا ہے۔ خان نے کہا ، اقتدار میں آتے ہی میں نے اپنے ہمسایہ ملک ہندوستان سے رابطہ کیا اور وزیر اعظم نریندر مودی سے کہا کہ دونوں ممالک کے اختلافات بات چیت کے ذریعے ہی حل کیے جاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا مجھے کامیابی نہیں ملی لیکن مجھے امید ہے کہ آپ سمجھ گئے ہوں گے۔

    برصغیر میں غربت کا خاتمہ صرف تجارتی تعلقات بڑھا کر کیا جاسکتا ہے۔ہندوستان نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور عدم استحکام سے پاک ماحول کی تشکیل کرنا پاکستان کی ذمہ داری ہے۔کوویڈ 19 کی وبا کے بعد خان سری لنکا کا دورہ کرنے والے پہلے صدر مملکت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں ہمسایہ ممالک کے مابین اچھے تعلقات سیاسی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے کاروباری دوست ماحول پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوںگے جس سے بالآخر عوام کو فائدہ ہوگا۔

    ابتدا میں ، سری لنکا کے مسلم رہنماؤں کو بھی انکار کے بعد خان سے ملنے کی اجازت تھی۔ مسلمانوں کی مرکزی پارٹی ۔سری لنکن مسلم کانگرس کے رہنما راؤف حکیم نے کہا کہ خان کے ساتھ ان کی معنی خیز گفتگو ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نے سری لنکا میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے مسلم رہنماؤں کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کیا۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بھارتی حکام عمران خان کے دورہ سری لنکا کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں اورسری لنکن عوام کے دلوں میں کپتان کی محبت کے اثرات کم کرنے کے لیے سرجوڑ لیئے ہیں‌

  • سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کے‌ صدارتی ریفرنس پر فیصلہ محفوظ

    سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کے‌ صدارتی ریفرنس پر فیصلہ محفوظ

    سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کے‌ صدارتی ریفرنس پر فیصلہ محفوظ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کے صدارتی ریفرنس پر رائے محفوظ کرلی

    سپریم کورٹ میں سینٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت ہوئی۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ چوکیدار کھڑا کریں گے تو وہی بچائے گا۔جسٹس عمر عطا بندیال نے پاکستان بار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ کہنا چاہتے ہیں آرٹیکل 226 کے تحت تمام الیکشن منعقد کئے جاتے ہیں۔وکیل پاکستان بار نے جواب دیا اگر سینٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کیا گیا تو اس کا اثر تمام انتحابات پر ہو گا۔آئین میں کسی الیکشن کو بھی خفیہ بیلٹ کے ذریعے کروانے کا نہیں کہا گیا۔

    چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ عدالت کے سامنے سوال صرف آرٹیکل 226 کے نفاذ کا ہے،کیاوجہ ہے کہ انتخابی عمل سے کرپشن کے خاتمے کیلئے ترمیم نہیں کی جارہی؟انتخابی عمل شفاف بنانے کیلئے پارلیمنٹ میں قراردادیں منظورہوتی ہیں،پیپلزپارٹی دورمیں بھی سینیٹ الیکشن کے حوالے سے موقع تھا۔

    اوپن بیلٹ سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت ملتوی، عدالت کا بڑا حکم

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ چوکیدار کھڑا کریں گے تو ہی بچائے گا،کیا آپ کہناچاہتے ہیں آرٹیکل 226 کے تحت تمام الیکشن منعقد کیے جاتے ہیں؟ وکیل پاکستان بار نے کہا کہ اگر سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کیا گیا تو اس کا اثر تمام انتحابات پر ہو گا،آئین میں کسی الیکشن کو بھی خفیہ بیلٹ کےذریعے کروانے کا نہیں کہا گیا، درحقیقت الیکشن کا مطلب ہی سیکریٹ بیلٹ ہے،

    چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی جماعت سینیٹ الیکشن میں کرپٹ پریکٹس کو تسلیم کررہی ہے، آپ نے ویڈیو بھی دیکھی ہیں کیا آپ دوبارہ وہی کرنا چاہتے ہیں؟ سب کرپٹ پریکٹس کو تسلیم بھی کررہے ہیں ،خاتمےکےلیےاقدامات نہیں کررہے ہرجماعت شفاف الیکشن چاہتی ہے لیکن بسم اللہ کوئی نہیں کرتا،

    وکیل خرم چغتائی نے کہا کہ وفاقی حکومت کوعدالت سے رائے مانگنے کا اختیار نہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا ہم صدرکوبلا کر پوچھیں کہ انہیں سوال کیوں عوامی اہمیت کا لگا؟ وکیل نے کہا کہ اٹارنی جنرل وفاقی حکومت کے وکیل ہوتے ہیں صدر کے نہیں،ریفرنس سے پہلےہرزاویے سے جائزہ لینے کا فیصلہ جسٹس فائزکیس میں دیاہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جسٹس فائزعیسیٰ کیس کے خلاف نظرثانی کیس زیرسماعت ہے،وکیل نے کہا کہ الیکشن ایکٹ بنانے سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں سے رائے لی گئی،شیخ رشید،عارف علوی،شبلی فرازبھی الیکشن ایکٹ کمیٹی میں تھے،صدر عارف علوی خود آئینی اصلاحاتی کمیٹی کے ممبر تھے،کابینہ میں بیٹھے ہوئے اکثر وزرا بھی آئینی اصلاحاتی کمیٹی کےممبر تھے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اس وقت صدرایم این اے تھےاورانفرادی حیثیت میں کمیٹی کے رکن تھے،چیف جسٹس نے خرم چغتائی کو ہدایت کی کہ آپ صرف اٹھائے گئے سوالات تک محدود رہیں، جس پر خرم چغتائی نے کہا کہ عدالت خود تو 17دن حکومتی موقف سنتی رہی اورہمیں سننا بھی گوارا نہیں،اراکین اسمبلی کو عام شہریوں کے مقابلے میں خصوصی حیثیت حاصل ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ خصوصی حیثیت صرف اسمبلی میں حاصل ہے باہر وہ عام شہری ہی ہیں،

    وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل225 الیکشن معاملے پرٹریبونل بنانے کا اختیار دیتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کہنا چاہ رہےہیں سینیٹ الیکشن ٹریبونل میں چیلنج نہیں ہوسکتے،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کہہ چکے موجودہ قانون میں ترمیم تک الیکشن سیکرٹ بیلٹ سے ہی ہوں گے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم نےالیکشن کمیشن کوکہا جاگ جائیں،آپ نےکہا نہیں ہمیں سونے دیں،

    قبل ازیں سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے حوالے سے بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے ، صدر مملکت عارف علوی نے معاملے پر سپریم کورٹ کی رائے حاصل کرنے کیلئے صدارتی ریفرنس پر دستخط کر دیئے ہیں

    ایوان صدر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعےکرانے کیلئے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت ریفرنس سپریم کورٹ بھجوانے کی وزیرِاعظم کی تجویزکی منظوری دے دی ہے۔

    وفاقی کابینہ سے مشاورت کے ساتھ ہی سینیٹ انتخابات شوآف ہینڈسےکرانے کا فیصلہ ہوگیا

    ریفرنس میں آئین میں ترمیم کے بغیر الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن (6) 122 میں ترمیم کرنے پر سپریم کورٹ کی رائے مانگی گئی ہے۔وفاقی کابینہ اس معاملے پر 15 دسمبر کو سپریم کورٹ سے رائے لینے کی منظوری دے چکی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے اور انتخابات میں شفافیت کے لئے ایوان بالا کے آئندہ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کی خواہاں ہے۔

    پی ڈی ایم لاہور جلسے کو کامیاب بنانے کیلئے مریم نواز نے کس کو طلب کر لیا؟

    مردوں سے دوقدم آگے بڑھ کریہ کام کرنا ہے، مریم نواز نے خواتین رہنماؤں کو دیئے مشورے

    سب سن لیں،مریم پارٹی کو لیڈ کررہی ہیں،رانا ثناء اللہ، نواز شریف کو بھی دیا مشورہ

    عمران خان اور انکے ساتھی جو الفاظ استعمال کررہے ہیں وہ کشیدگی بڑھا رہی ہے ،قمر زمان کائرہ

    لاہور جلسہ سے قبل پی ڈی ایم کو سرپرائز دینگے ، فردوس عاشق اعوان

    پی ڈی ایم کی تحریک کامیابی کی جانب بڑھنا شروع،حکومتی حلقوں میں تہلکہ

    مریم نواز نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا

    استعفے لینے والوں کو دینے پڑ گئے، پی ڈی ایم سے پہلا استعفیٰ آ گیا،رکن اسمبلی مستعفی

    لاہور جلسہ سے قبل پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس اسلام آباد میں طلب،اہم فیصلے متوقع

    سیاسی جلسے جلسوں پر پابندی،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

    مریم نواز نکلیں گی، ہم ہر صورت یہ کام کریں گے، مریم اورنگزیب کا چیلنج

    13 دسمبر کو ہر ہاتھ میں جھنڈا اورہر جھنڈے میں ڈنڈا ہوگا، قمر زمان کائرہ

    شاہدرہ جلسے میں حملہ کیسے ہوا اور کس نے کیا؟ مریم نواز نے خود بتا دیا

    استعفے منظور کرنے ہیں یا نہیں؟ پرویز الہیٰ نے بڑا فیصلہ کر لیا

    پی ڈی ایم کو بڑا دھچکا،حکومت نے ایسا کام کر دیا کہ پی ڈی ایم کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا

    سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کا معاملہ،رضا ربانی بھی عدالت پہنچ گئے