Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بھارت کے منہ پر طمانچہ، امریکی ایوانوں میں کشمیر کی گونج

    بھارت کے منہ پر طمانچہ، امریکی ایوانوں میں کشمیر کی گونج

    بھارت کے منہ پر طمانچہ، امریکی ایوانوں میں کشمیر کی گونج
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تاریخ میں پہلی بار امریکی ریاست نیویارک کی اسمبلی میں 5 فروری کو کشمیر ڈے قرار دے دیا گیا۔ اس حوالے سے قانون ساز اسمبلی میں اکثریتی ووٹ کی بنیاد پر قرارداد منظور کی گئی۔

    امریکہ میں کشمیرڈے منظورکرنے پر نیویارک پہلی ریاست بن گئی ،مسئلہ کشمیر کو اندرونی معاملہ قرار دینے والے بھارت کے منہ پر طمانچہ، امریکی ایوانوں میں ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کی گونج سنائی دی۔

    نیویارک میں 5 فروری 2021 کا دن بطور کشمیر امریکن ڈے منانے کی قراردار منظور کر لی گئی، ریاستی اسمبلی اور سینیٹ نے قرارداد کی متفقہ منظوری دی۔امریکہ میں پاکستانی سفیر اسد مجید نے کشمیر ڈے قراردادمنظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ قراردادمنظورکرنے پراسمبلی ممبران کےشکرگزارہیں،

    کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب

    وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان

    یوم یکجہتی کشمیر، پاک فوج نے جاری کیا کشمیریوں سے یکجہتی کے لئے ملی نغمہ "کشمیر ہوں میں”

    یوم یکجہتی کشمیر پر علی امین گنڈا پور نے کی قوم سے بڑی اپیل، کیا کہا؟

    مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں‌ پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ

    کشمیری اکیلے نہیں،ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، غیر متزلزل حمایت جاری رہے گی،آرمی چیف

    مسلح افواج کشمیریوں کے ساتھ ہیں، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا پیغام

    خون کے آخری قطرے تک کشمیریوں کے ساتھ، نیول چیف کا دبنگ اعلان

    یوم یکجہتی کشمیر، سربراہ پاک فضائیہ نے دیا کشمیریوں کو پیغام

    یوم یکجہتی کشمیر، وزیراعظم عمران خان نے جاری کیا کشمیریوں کیلئے خصوصی پیغام

  • کراچی کے مختلف علاقوں میں حادثات، 3 افراد جاں بحق

    کراچی کے مختلف علاقوں میں حادثات، 3 افراد جاں بحق

    کراچی:کورنگی مہران ٹاؤن عالمگیر روڈ کے قریب فائرنگ ایک شخص زخمی۔زخمی ہونے والے شخص کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے جناح ہسپتال منتقل کیاجارہاہے۔زخمی ہونے والے شخص کی شناخت عبدالزاہد ولد بہاؤالدین عمر45سال۔

    کراچی:ایف بی ایریا بلاک 22شاہ ولی اللہ روڈ کے قریب پولیس مقابلہ ایک ڈاکو زخمی عباسی ہسپتال منتقل کیاگیاہے۔زخمی ہونے والے ڈاکو کی شناخت مقصود ولد یاسین عمر22سال۔

    کراچی:گلشن حدید فیز 02ٹیلی فون ایکسچینج کے قریب فائرنگ ایک شخص زخمی جناح ہسپتال منتقل کیاگیاہے۔زخمی ہونے والے شخص کی شناخت فیاض علی ولد قربان علی عمر35سال ۔

    کراچی:ڈیفنس فیز 8 سکینہ مسجد کے قریب سے ایک شخص کی لاش برآمد(وجہ ہلاکت نامعلوم)۔لاش کو چھیپا ایمبولینس کے ذر یعے جناح ہسپتال منتقل کیاگیا۔لاش کی شناخت عابد حسین ولد واحد بخش عمر53سال۔

    کراچی:نارتھ کراچی اجمیر نگری قبرستان کے قریب چھریوں کے وار سے ایک شخص ہلاک۔ہلاک ہونے والے شخص کو چھیپا ایمبولینس کے ذر یعے عباسی ہسپتال منتقل کیاگیا۔ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت جمال الدین ولد علی خان عمر40سال۔

    کراچی:سپرہائی وے کوئٹہ ٹاؤن بلال کانٹا کے قریب ٹریفک حادثہ ایک شخص ہلاک۔ہلاک ہونے والے شخص کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے عباسی ہسپتال منتقل کیاگیا۔ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت تاحال نہ ہوسکی عمر45سال۔

  • شہبازشریف پھنس گئے؛الزامات لگائےہیں توثابت کریں: عدالت ضرورثابت کریں گےاپنےدعوے پرقائم ہیں:ڈیلی میل

    شہبازشریف پھنس گئے؛الزامات لگائےہیں توثابت کریں: عدالت ضرورثابت کریں گےاپنےدعوے پرقائم ہیں:ڈیلی میل

    لندن: شہبازشریف پھنس گئے؛الزامات لگائے ہیں تو ثابت بھی کریں ،عدالت:ضرورثابت کریں گے،اپنے دعوے پرقائم ہیں:ڈیلی میل نے چیلنج قبول کرلیا ،ادھر اس حوالے سے برطانوی عدالت نے شہبازشریف کی جانب سے صحافی کے خلاف دائر ہتک عزت مقدمے کی ابتدائی سماعت ہوئی۔

    ذرائع کے مطابق شہبازشریف کے ڈیوڈروز اور برطانوی اخبارپر دائر کے جانے والے ہتک عزت مقدمے کی لندن میں کوئنز بینچ نے سماعت کی۔

    بینج کے جج جسٹس نکلین نے فیصلہ جاری کیا جس میں کہاگیا ہے کہ ’اخبار میں شائع ہونے والے مضمون میں استعمال ہونے والے الفاظ شہباز شریف کی ہتک عزت کا باعث تھے، ڈیلی میل کو شہبازشریف پر عائد کیے گئے الزامات ثابت کرنا ہوں گے‘۔

    عدالت نے کہا کہ ’صحافی ڈیوڈروزکےمضمون کا مرکز شہبازشریف تھے، مضمون میں لگائےگئے الزامات واضح ہیں کیونکہ آرٹیکل میں واضح طور پر شہبازشریف اورعمران علی کو چوری کی رقم کابینفشری لکھاگیا اور یہ بھی تحریر کیا گیا کہ متاثرین میں برطانوی ٹیکس دہندگان شامل ہیں جبکہ مضمون میں سرکاری منصوبوں میں کرپشن اورکک بیکس کا ذکر بھی کیا گیا ہے‘۔

    جسٹس نکلین کا کہنا تھا کہ ’آرٹیکل میں کہا گیا عمران علی بھی کک بیکس،کرپشن سےمستفیدہوئے جبکہ شہبازشریف کو یوکے ڈی ایف آئی ڈی کا پوسٹربوائے لکھا گیا‘۔

    عدالت نے آج ہونے والی سماعت پر فیصلہ جاری کیا جس میں لکھا گیا ہے کہ اخبارمیں لگائےگئےالزامات درست تھے یا غلط،اس بات کا فیصلہ ٹرائل میں ہوگا۔ سماعت کےدوران مضمون میں استعمال الفاظ کے معانی پربحث بھی ہوئی۔

    دوران سماعت ثابت ہوا کہ مضمون میں شہبازشریف اور عمر علی سے متعلق ہتک آمیز الفاظوں کا استعمال کیا گیا جس کی بنیاد پر جج نےہتک عزت کے معیارکا تعین بھی کیا اور بتایا کہ ہتک عزت درجہ اول کا مطلب الزامات شدید نوعیت کے ہیں۔

    سماعت میں اس بات کا تعین کیا گیا کہ ڈیوڈ روز کی خبر میں درج کئے گئے الفاظ ہتک عزت کا باعث بن سکتے ہیں یا نہیں اور کس درجے تک سنگین الفاظ کا استعمال کیا گیا۔ عدالت نے فیصلہ کیا کہ الفاظ ہتک عزت کا باعث بن سکتے ہیں اور اسے درجہ اوّل یعنی سنگین ہتک عزت کے درجے میں رکھا۔ تاہم یہ ہرگز اس بات کا فیصلہ نہیں کہ اخبار میں درج الزامات درست ہیں یا غلط ہیں۔

    اس بات کا فیصلہ ٹرائل میں ہو گا اور اگر ڈیلی میل نے یہ ثابت کر دیا کہ الزامات درست تھے تو ہتک عزت کا دعوٰی خارج کر دیا جائے گا۔ دوسری جانب ڈیوڈ روز نے ٹویٹ کے ذریعے تردید کی اور لکھا “آج کا فیصلہ مقدمے کا حتمی نتیجہ نہیں، کچھ پاکستانی چینلز کی خبروں کے برخلاف آج کی سماعت ابتدائی تھی، آج کا فیصلہ ٹرائل کی حدود کا تعین کرتا ہے، مقدمے کا ٹرائل ہونا ابھی باقی ہے‘۔

    دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈیلی میل کے وکیل نے عدالت کے حکم کوقبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے دعوے پرقائم ہیں اورثابت کریں گے کہ شہازشریف نے منی لانڈرنگ کی ہے اورایک ٹیکنیکل چورہے

    اس کے بعد عدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے الزامات ثابت کرنے کے لیے وکیل کو مہلت دے دی

  • اپوزیشن دیکھتی رہ گئی اورسینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کی منظوری ہوگئی

    اپوزیشن دیکھتی رہ گئی اورسینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کی منظوری ہوگئی

    اسلام آباد :اپوزیشن دیکھتی رہ گئی اورسینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کی منظوری ہوگئی ،اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے کابینہ سے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کی منظوری لے لی ہے ۔

    اس سے پہلے سینیٹ انتخابات شو آف ہینڈ سے کرانے کیلئے وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کرنےکا فیصلہ کیا تھا۔

    صدر مملکت عارف علوی نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ اور شو آف ہینڈز کے ذریعے کروانے کے معاملے پر سپریم کورٹ کی رائے طلب کرلی ہے‘پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ سے جاری ایک بیان کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ میں ریفرنس بھجوانے کی وزیر اعظم کی تجویز کی منظوری دیتے ہوئے ریفرنس پر دستخط کر دیے ہیں.

    بیان میں کہا گیا کہ صدر نے وزیر اعظم کی تجویز پر سینیٹ کے الیکشن اوپن بیلٹ یا شو آف ہینڈز کے ذریعے کرانے کے عوامی اہمیت کے معاملے پر سپریم کورٹ کی رائے مانگی ہے بیان کے مطابق سپریم کورٹ کو ارسال کردہ ریفرنس میں آئین میں ترمیم کیے بغیر الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 122 (6) میں ترمیم کرنے پر عدالت عظمیٰ کی رائے مانگی گئی ہے.

    خیال رہے کہ 15 دسمبر کو وفاقی حکومت نے سینیٹ انتخابات فروری میں کروانے اور اوپن بیلٹ کے معاملے پر سپریم کورٹ کا مشاورتی دائرہ کار لاگو کرنے کا فیصلہ کیا تھا یہ انتخابات ایوان بالا کی 52 نشستوں پر ہوں گے کیوں کہ 104 اراکین سینیٹ 11 مارچ کو ریٹائر ہوں گے

  • *کراچی باغی ٹی وی ٹیم کی آزادی کشمیر ریلی*

    *کراچی باغی ٹی وی ٹیم کی آزادی کشمیر ریلی*

    ہر پھول ہے فریادی آنکھوں میں لیے شبنم
    کشمیر کی وادی میں لہرا کے رہو پرچم​
    کراچی میں آج باغی ٹی ٹیم اور بنی پاکیزہ رضاکار کے باہمی تعاون سے اپنے کشمیری بھائیوں سے اظہار تکجہتی ریلی نکالی گئی ریلی کی قیادت بنی پاکیزہ چئیرمین ملک ضمیر الرکن صاحب نے کی،ریلی کے شراکا سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ آج جس طرح وزیراعظم عمران خان نے ہر فورم پر کشمیر کا مسئلہ اٹھایا ہے مجھے پورا یقین ہے کشمیری عوام جلد آزادی کی اس جنگ میں فتح یاب ہوگی۔آج یہاں اتنی بڑی تعداد میں جمع ہوکر ریلی نکالنے کا مقصد صرف دنیا کو بھارتی جارحیت سے آگاہ کرنا ہی نہیں بلکہ اپنی نوجوان نسل کو کشمیر کاذ کی اہمیت سمجھانا بھی ہے، اب ہمارا بس ایک ہی نعرہ ہے….کشمیر بنے گا پاکستان۔
    معزز مہانوں میں سر فیضان رضا،سر اسد احمد خان ،سر غنی اللہ اور میڈم ارم آصف نے اپنے سیکڑوں طلباء اور اساتذہ کے ساتھ مل کر پرجوش طریقے کشمیر کی آزادی حق میں آواز حق بلند کی۔ریلی کے اخیتام پر کشمیر کے شہدا کے لئے دعا اور باغی ٹی وی ٹیم انچارج جناب غنی اللہ اور خورشید بھٹو نے باغی ٹی وی ٹیم کے ساتھ آزادی کشمیر کی یاد میں پودے بھی لگائے۔

  • نوازشریف چورہے:کپتان کا زورہے:مودی کا یارنوازشریف :عمران خان زندہ باد:مریم کےجلسےمیں شریکاں دےنعرے

    نوازشریف چورہے:کپتان کا زورہے:مودی کا یارنوازشریف :عمران خان زندہ باد:مریم کےجلسےمیں شریکاں دےنعرے

    مظفر آباد: نوازشریف چورہے ، کپتان کا زورہے ، عمران خان زندہ باد:مریم نوازکے جلسے میں شریکاں دے نعرے،اطلاعات کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے میں عمران خان زندہ باد کے نعرے لگ گئے۔

    تفصیلات کے مطابق مظفر آباد آزاد کشمیر میں یوم یک جہتی کشمیر کے سلسلے میں پی ڈی ایم کے جلسے میں خواتین نے عمران خان زندہ باد کے نعرے لگائے۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز جب تقریر کرنے لگیں تو انھوں نے عمران خان کے خلاف نعرے لگوائے، جس پر جلسے میں موجود چند خواتین نے عمران خان زندہ باد کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔

    اس دوران کشمیری خواتین نے پورے جوش وجزبے سے نعرے لگائے نوازشریف چورہے کپتان کا زورہے ، مودی کا یارنوازشریف ،عمران خان زندہ باد

    یہ نعرے سن کرمریم نوازپانی پانی ہوگئیں اورپھرجلدی سے اس صورت حال سے توجہ ہٹانے کے لیے بھارت کی طرف سے کشمیرکوہتھیانے کی بات کی اوروہ بھی غلط حوالے دیتی رہیں جس پروہاں صحافی اوردیگر پڑھے لکھے لوگ بڑے مایوس ہوئے کہ یہ کیسی لیڈر ہے جس کو لکھی تقریر بھی پڑھنی نہیں آتی اورغلط تاریخ بیا کررہی ہے

    تقریر کے دوران مریم نواز عمران خان مخالف جب کہ خواتین زندہ باد کے نعرے لگاتی رہیں، جس پر پولیس نے حرکت میں آ کر عمران خان زندہ باد نعرے لگانے والی خواتین کو جلسہ گاہ سے باہر نکال دیا۔

    مریم نواز نے تقریر کے دوران ایک بڑی غلطی بھی کی، اگرچہ ان کی تقریر لکھی ہوئی تھی لیکن وہ ایک اہم تاریخ پھر بھی غلط دہراتی رہیں، بھارت نے کشمیر کا خصوصی درجہ 5 اگست کو تبدیل کیا تھا لیکن مریم نواز تقریر میں پانچ اگست کی بجائے 15 اگست بولتی رہیں۔

    مریم نواز تقریر میں بار بار پندرہ اگست کہتی رہیں، واضح رہے کہ پندرہ اگست کو بھارت یوم آزادی مناتا ہے۔

  • کر لو بات، بس یہی ہونا باقی تھا،صورتحال کنٹرول سے باہر، تہلکہ خیز انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    کر لو بات، بس یہی ہونا باقی تھا،صورتحال کنٹرول سے باہر، تہلکہ خیز انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    کر لو بات، بس یہی ہونا باقی تھا،صورتحال کنٹرول سے باہر، تہلکہ خیز انکشافات مبشر لقمان کی زبانی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آپ سب نے بچپن سے لیکر آج تک ایسی بہت سی کہانیاں سینں ہوں گی جس میں بتایا جاتا ہے کہ ایک باپ کے دو بیٹے تھے اس نے مرتے وقت اپنی جائیداد دونوں میں برابر تقیسم کر دی اب ان دونوں میں سے ایک بیٹا بہت ہی سمجھدار تھا جبکہ دوسرا بہت ہی شاہ خرچ مزاج کا تھا۔ سمجھدار بیٹے کو جو کچھ ورثے میں ملا اس نے اسے بہت دیکھ بھال کر استعمال کیا اور اسے ایسے کاموں میں لگایا جس سے وہ اپنی آمدن بڑھا سکے جبکہ دوسرے بیٹے نے پہلے پہل تو خوب عیاشی کی اس کے بعد جیسے جیسے پیسے ختم ہونے لگتے ہیں اس کا ہاتھ تنگ ہونا شروع ہو جاتا ہے پھر وہ لوگوں سے ادھار لینا شروع کر دیتا ہے لیکن کچھ عرصے بعد جب وہ پہلے والا ادھار واپس نہیں کر پاتا تو لوگ اس کو ادھار دینا بھی بند کر دیتے ہیں اور نوبت فاقوں تک پہنچ جاتی ہے جس کے بعد یا تو وہ حالات سے تنگ آکر خودکشی کر لیتا ہے یا پھر سبق حاصل کرکے دوبارہ محنت مزدوری پر لگ کر اپنے حالات بہتر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس مثال کو ہم اس دنیا پر اپلائی کریں تو یہاں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ جن ملکوں نے اپنے وسائل کو ٹھیک سے استعمال کیا وہ ترقی کر گئے لیکن دوسری طرف پاکستان جیسا ملک ہے جس نے نہ تو اپنے وسائل کو ٹھیک سے استعمال کیا پھر جو یہاں وسائل پر قابض ہیں انہوں نے تو خوب مال بنایا اور ترقی کرتے گئےلیکن غریب یہاں غریب سے غریب تر ہی ہوتا چلا گیا۔ حکومتوں نے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے آمدن بڑھانے کی بجائے قرضے لینے شروع کر دئیے پہلے پہل تو قرضے مل گئے لیکن جب وہ قرض وقت پر ادا نہیں ہوئے تو پھر قرض دینے والے اداروں نے شرط و شرائط لگانا شروع کر دیں اور اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ہم اپنے اثاثے بھی گروی رکھوا رہے ہیں۔ لیکن مسائل وہیں کے وہیں ہیں وہی بجلی کے بڑھتے ہوئے ریٹس، پٹرول کی قیمتوں میں اضافے، سبزی مہنگی، روٹی مہنگی، دوائیاں مہنگی، اور بے روزگاری الگ۔۔۔ یہ حقیقت ہے کہ یہ مسائل کوئی ایک یا دو سال سے نہیں بلکہ ان مسائل نے پچھلے کئی سالوں سے ہمیں گھیرا ڈالا ہوا ہے لیکن اب وبا کی وجہ سے یہ معاملات بہت ہی سنگین ہو گئے ہیں اور کچھ ہماری حکومت کی نااہلی کہہ لیں کہ صورتحال اب کنٹرول سے باہرہوتی جا رہی ہے۔
    یہ سب مسائل تو وہ ہیں جو کہ ہم ابھی برداشت کر رہے ہیں لیکن ایک مسئلہ ایسا ہے جس کی طرف ہماری توجہ ہی نہیں ہے اور وہ آہستہ آہستہ ہماری جڑوں کو کھوکھلا کرتا جا رہا ہے اور وہ مسئلہ ہمارے بچوں کی تعلیم کا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ غریب طبقے کے تو بچے پہلے ہی زیادہ تر سکولوں سے باہر تھے کیونکہ پرائیوٹ سکولوں میں اپنے بچوں کو پڑھانے کی حیثیت نہیں تھی اور سرکاری سکولوں کا معیار ایسا تھا کہ وہ سوچتے تھے کہ وہاں بھیجنے سے بہتر ہے کہ ہم ان کو کسی کام میں لگائیں کچھ ہنر بھی سیکھ لیں اور ساتھ ہی گھر میں آمدن بھی آئے۔اس حوالے سے UNICEF کی ایک رپورٹ موجود ہے جس کے مطابق 17.6 فیصد پاکستانی بچے اپنے گھروں کا چولہا جلانے کے لئے تعلیم کی قربانی دیتے ہیں۔ہاں مڈل کلاس میں ہمیشہ یہ شوق رہا ہے کہ وہ جیسے کیسے اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو تعلیم دلوائیں تاکہ ان کا مستقبل روشن ہو سکے۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ جیسے پٹرول کی قیمت میں اضافے کے ساتھ ہی کرایوں، کھانے پینے اور ضرورت کی تمام چیزوں کے ریٹس بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں ویسا ہی حال کچھ ہمارے سکولوں کا ہے ان کا سسٹم تو automaticہے آندھی طوفان وبا جو مرضی آ جائے ان کو فرق نہیں پڑتا ان کی فیسیں اپنے مقررہ وقت پر بڑھنی ہی بڑھنی ہیں۔ اور بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچ چکی ہیں کہ یہ پرائیوٹ سکولز مڈل کلاس کی پہنچ سے بھی دور ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ والدین کی کمر ٹوٹ چکی ہے فیسیں دے دے کر۔ پچھلے کچھ سالوں سے والدین اس بات پر احتجاج کر رہے تھے کہ خدارا ان سکول سسٹمز کو لگام ڈالی جائے عدالتوں نے حکم بھی سنا دیا لیکن یہ سکولز اتنا بڑا مافیا بن چکے ہیں کہ ان کا عدالتیں بھی کچھ نہیں بگاڑ سکیں تھیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی وہ جھگڑا تو ختم نہیں ہوا تھا کہ ہمیں وبا نے جکڑ لیا۔ جس کی وجہ سے پچھلے سال مارچ میں سکولز بند ہو گئے لیکن جیسے میں نے آپ کو پہلے بتایا کہ ان سکولز کا تو
    Automaticسسٹم ہے اس لئے سکولزبند ہونے کے باوجود بھی فیسوں کو سسٹم چلتا رہا۔ بچے سکول نہیں گئے لیکن ان کے Fee vouchersوالدین کے پاس پہنچ جاتے تھے۔ ٹیچرز کی تنخواہوں کی آڑ لیتے ہوئے ان سکولوں نے اپنی فیسوں میں کوئی خلل نہیں پڑنے دیا۔ تو آپ سوچیں جب وبا میں روزگار محدود ہونے یا چھن جانے کی وجہ سے لوگوں کو اپنے بچوں کا پیٹ پالنا ہی مشکل ہوا ہوا تھا تو وہ ان فیسوں کو کیسے افورڈ کرتے۔ والدین نے پھرسے احتجاج کیا کہ جب بچے سکول نہیں جا رہے تو پوری فیس کیوں ادا کی جائے۔ تو ان سکولز نے فیس میں کمی نہیں کی البتہ آن لائن ایجوکیشن کا ڈرامہ ضرور شروع کر دیا گیا۔ جس کا مطلب تھا کہ والدین سکولوں کو فیس بھی دیں ساتھ ہی اپنے بچوں کو آن لائن کلاسز کے لئے کمپیوٹر، لیب ٹاپ یا ٹیبلیٹ لے کر دیں اس کے بعد ان کو انٹرنیٹ کا پیکج بھی کروا کر دیں۔ اور پھر بچوں کو پڑھانے کے لئے محنت اور وقت بھی خود لگائیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب آپ خود سوچیں کہ یہ تمام چیزیں ایک غریب مڈل کلاس پاکستانی کیسے برداشت افورڈ کر سکتا ہے۔ تو پھر اس کا یہی رزلٹ ہوا کہ لوگوں نے مجبورا اپنے بچوں کو سکولز سے ہٹا لیا۔ اور یہ بات خود ہمارے ایجوکیشن منسٹر بھی اپنی پریس کانفرنس میں تسلیم کر چکے ہیں کہ کورونا کے دوران آٹھ ماہ سکول بند رہنے سے بہت سے بچے سکول چھوڑ گئے ہیں۔۔۔اور یہ تعداد سینکڑوں یا ہزاروں میں نہیں لاکھوں میں ہے۔ اور اس کے لئے ہماری حکومت نے ٹارگٹ سیٹ کیا ہے کہ اگلے پانچ ماہ میں سکولوں میں ایک ملین بچے داخل کرینگے۔۔۔۔لیکن میرا سوال ہے کہ یہ کیسے کریں گے؟؟؟اس وقت جو مہنگائی کے حالات آپ نے کر دئیے ہیں پٹرول آپ ایک ماہ میں دو بار بڑھا رہے ہیں، بجلی آپ نے مہنگی کر دی ہے، کھانے پینے کی اشیاء ایک سال میں کئی گنا بڑھ چکی ہیں، اپنے اثاثوں کے بارے میں آپ سوچ رہے ہیں کہ اسلام آباد کلب گروی رکھوائیں یا ایف نائن پارک۔۔۔ روزگار لوگوں کا چھنتا جا رہا ہے تو آپ مجھے بتائیں ان فیسوں کے ساتھ لوگ کیسے اپنے بچوں کو سکولز بھیجیں۔ نہ تو آپ سے اپنی اپوزیشن قابو آ رہی ہے نہ سکول مافیا۔۔۔ تو ایسے میں آپ کیسے ملک کو دوسرے ملکوں کے مقابلے میں ترقی کروائیں گے۔ آج جب دنیا biological, physical and digital technologyکی طرف جا رہی ہے جس میں artificial intelligence یعنی مصنوعی مشینی ذہانت، بغیر ڈرائیور کے چلنے والی خودکار گاڑیاں، جدید ڈرونز، تھری ڈی پرنٹنگ، کوانٹم مکینکس اور کوانٹم کمپیوٹرز، جدید کرنسی اور انٹرنیٹ کیساتھ ساتھ بائیو ٹیکنالوجی اور نینو ٹیکنالوجی پر مشتمل ایسی ڈیوائسز شامل ہیں پوری دنیا ان پر کام کر رہی ہے۔ اور دوسری طرف ہمارے یہ حالات ہیں کہ پاکستان ان 12 ملکوں کی فہرست میں شامل ہے جہاں GDP کا 2 فیصد سے بھی کم حصہ تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے۔ تو آج جو لاکھوں بچے ان حالات کی وجہ سے سکولز چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں کل کو وہ کیسے اس ٹیکنالوجی کے دور میں دوسرے ملکوں کے بچوں کا مقابلہ کریں گے۔ کیا آپ کو احساس ہے کہ ان سکولز مافیا کے ہاتھوں بلیک میل ہو کرآپ ان بچوں کو آگے بڑھنے میں مدد کرنے کی بجائے مزید پیچھے دھکیل رہے ہیں۔ یہ بچے جو آج مہنگائی کی وجہ سے سکولز چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں یہ کل کو ڈاکٹر، انجینئر یا سائنسدان بنیں گے یا مزدوری کرنے پر مجبور ہوں گے۔ تو یہ ہمارا تعلیمی نظام جو ہماری جڑوں کو مضبوط کرنے کی بجائے کھوکھلا کر رہا ہے اس پر دھیان دیں۔

    کر لو بات، بس یہی ہونا باقی تھا،صورتحال کنٹرول سے باہر، تہلکہ خیز انکشافات مبشر لقمان کی زبانی